§.•´¨'°÷•..× 🎀 ڈوگر صاحب 🎀 ×..•÷°'¨´•.§ retweeted
سورج کی دھوپ مفت تھی انہوں نے سن سکرین بیچ کر تمہیں وٹامن ڈی کی کمی کے چکر میں ڈال دیا۔
نیند قدرتی تھی انہوں نے نیند پوری کرنے کے لیے ایپس گولیاں اور کلائی پر باندھنے والے مہنگے گیجٹس بیچنے شروع کر دیے جو تمہیں بتاتے ہیں کہ تمہاری نیند ہی خراب ہے۔
پیدل چلنا مفت تھا انہوں نے ٹریڈمل فٹنس ٹریکر اور لاکھوں کے جوتے بیچ کر تمہیں فٹنس کے نام پر کاروبار بنا دیا۔
ٹھنڈا پانی مفت تھا انہوں نے لاکھوں کا کولڈ پلنج ٹب بیچ دیا اور اس پر پوڈکاسٹ بھی چلا دیا۔
خاموشی مفت تھی انہوں نے سکون پانے کے لیے مراقبے کی ایپ بیچ دی اور اس میں بھی پیسے دے کر پریمیم پیکج لینے کی شرط لگا دی۔
جانوروں کی چربی سستی تھی انہوں نے تمہیں بیجوں کے تیل کھلائے پھر انہی غذائی اجزا کی کمی پوری کرنے کے لیے مہنگے سپلیمنٹس بھی بیچنے لگے۔
گوشت کبھی عام آدمی کی خوراک تھا اب تمہیں یہی سمجھایا جا رہا ہے کہ گوشت کھانا ہی چھوڑ دو۔
بیسویں صدی میں انسان کو اُن قدرتی چیزوں سے دور کیا گیا جن سے جسم تندرست رہتا تھا۔
اکیسویں صدی میں وہی چیزیں نئی پیکنگ میں ڈال کر واپس بیچی جا رہی ہیں ہر مہینے پیسے دو تبھی سہولت ملے گی۔
اپنی پڑدادے کو یاد کرو۔
اُن کے پاس نہ مہنگی سن سکرین تھی نہ نیند کی ایپ نہ فٹنس ٹریکر نہ سپلیمنٹس کی فوج اور نہ جلد پر لگانے والی درجنوں بوتلیں
مگر قدرت کی دی ہوئی نعمتیں اُن کے پاس تھیں۔
آج ہمارے پاس پراڈکٹس کی بھرمار ہے مگر قدرت کی سادہ نعمتوں سے ہمارا رشتہ ٹوٹتا جا رہا ہے۔
§.•´¨'°÷•..× 🎀 ڈوگر صاحب 🎀 ×..•÷°'¨´•.§ retweeted
37 سال کی عمر میں مچل اسٹارک ٹیسٹ میچز کے لمبے اسپیلز میں 150 کی اسپیڈ پر بولنگ کر رہے ہیں! جی ہاں، جہاں اکثر اس فارمیٹ میں انہیں دن میں 15-20 اوورز یعنی ٹیسٹ میچ میں 30 سے 35 اوورز تک کرنے پڑتے ہیں۔ اور اسٹارک پوری جان اور انرجی کے ساتھ یہ کر گزرتا ہے۔ کوئی بہانہ نہیں بناتا!
حالانکہ ریکارڈ ساز 450 سے زائد ٹیسٹ وکٹ، 250 کے قریب ون ڈے وکٹ، ورلڈ کپ جیتنے میں کلیدی کردار ادا کرنے والے پلئیر کو اور کیا ثابت کرنا ہے؟
مگر یہ passion کی بات ہے اپنی ٹیم، اپنی legacy اور ملک کے لئے۔ ہمارے ہاں اسٹارک سے 10 سال کم عمر پھاسٹ بولرز ابھی 135 کی رفتار پر ہی اکتفا کرتے نظر آتے ہیں۔ فرق صاف ظاہر ہے!
- باسط سبحانی
§.•´¨'°÷•..× 🎀 ڈوگر صاحب 🎀 ×..•÷°'¨´•.§ retweeted
پاسداران باندران اور عمران باندران کا پالتو کتا جمی کھٹمل ایک فیک تصویر Ai سے بناتا ہے شیر کرتا ہے
زلیل ہوتا ہے اور اس پر وضاحت دیتا ہے جی وہ تخیلات پر مبنی تھی.
ایسے ہی کربلا پر کہانیاں انکا مذہب ہے.
تقریباً در فٹے منہ جمی 🤦🤦
§.•´¨'°÷•..× 🎀 ڈوگر صاحب 🎀 ×..•÷°'¨´•.§ retweeted
کیا سوچ کر بچے پیدا کرتے ہی چلے جاتے ہیں، آٹھویں کی جگہ بیٹا ہو بھی جاتا تو وہ غریب ساری عمر بوجھ تلے دبا رہتا.
آٹھوں میں سے تین چار تو کم از کم سترہ اٹھارہ سال کی. تو کوئی کام کیوں نہیں کرتیں. بوڑھا باپ واحد کفیل کیوں؟
بہت سے سوال ذہن میں کلبلاتے ہیں.
ہاے غربت گھر میں راشن نہیں 8 بیٹیاں گھر میں بھوکی ہیں واحد کفیل بوڑھا باپ بیماری کی وجہ سے بستر پر ہے محنت مزدوری کرنے والا بزرگ علاج نہ ہونے کی وجہ سے بسترپے اور علاج کے لئے پیسے نہیں ہیں تمہیں اللّه کا واسطہ ہے ہماری مدد کرو وزیر اعلی پنجاب خدارا اس طرف دیکھ لیں @MaryamNSharif
§.•´¨'°÷•..× 🎀 ڈوگر صاحب 🎀 ×..•÷°'¨´•.§ retweeted
Replying to @78ds2
چھنکنا بجانے کی تنخواہ ملتی تھی انہیں
§.•´¨'°÷•..× 🎀 ڈوگر صاحب 🎀 ×..•÷°'¨´•.§ retweeted
جب سوسائٹیز بنتی ہیں پلاٹ کٹتے ہیں تب سارے ادارے سو رہے ہوتے ہیں۔ جب کوئی انوسٹمنٹ کرلے تو پھر اس کو توڑنے پہنچ جاتے ہیں۔ نا پراپرٹی ڈیلر کی پکڑ، نا اشتہار چلانے والے کی ذمہ داری، نا کوئی اہلکار ذمہ دار۔۔ عوام رو پیٹ کر خود ہی کچھ انتظام کرلے پھر
§.•´¨'°÷•..× 🎀 ڈوگر صاحب 🎀 ×..•÷°'¨´•.§ retweeted
این سی سی آئی کے چائلڈ پورنو گرافی کے نیٹ ورک پکڑنے کے بعد یہ بات تو طے ہے کہ معاشرے میں زیادتی کے واقعات صرف اخلاقیات کی کمی کی وجہ سے نہیں ہوتے بلکہ اس میں اب ڈھیر سارا پیسہ بھی انوالو ہے۔جب سوسائٹی میں مادیت کو درجہ ملے،تعلیم،ہنر، کی جگہ نا ہو وہاں پھر ایسے کرشمے ہی ہوتے ہیں
§.•´¨'°÷•..× 🎀 ڈوگر صاحب 🎀 ×..•÷°'¨´•.§ retweeted
ماشاء اللہ سے اب الباکستانی اسرائیلی سیاست میں بھی دلچسپی دکھا رہے ہیں۔
§.•´¨'°÷•..× 🎀 ڈوگر صاحب 🎀 ×..•÷°'¨´•.§ retweeted
بابر اعظم کی پرفارمنس پر تنقید کریں، انہیں ٹیم سے ڈراپ کرنے کی بات کریں، اسکواڈ سے باہر کرنے یا پلیئنگ الیون سے نکالنے کا مطالبہ کریں، یہ سب آپ کا حق ہے۔ لیکن ٹی وی پر بیٹھ کر ان کی ذاتی زندگی کو موضوعِ بحث بنانا اور ان کے خاندان کو تنازع میں گھسیٹنا نہ صحافت ہے، نہ اخلاقیات تنقید کھیل پر ہونی چاہیے، کسی کی ذاتی زندگی پر نہ
§.•´¨'°÷•..× 🎀 ڈوگر صاحب 🎀 ×..•÷°'¨´•.§ retweeted
یہ جب میں فیس بک استمعال کرتا تھا پانچ سال پہلے تب میں نے پوسٹ کی تھی آج ہارڈ ڈسک کی تلاشی لے رہا تھا تو نکل آئ
اب سوچا ادھر بھی پوسٹ کر دوں
کیونکہ
ادھر بھی یہی حال ہے
§.•´¨'°÷•..× 🎀 ڈوگر صاحب 🎀 ×..•÷°'¨´•.§ retweeted
Pakistan Sets the Target of 111 😬
Most Top Scores for Pakistan
108 - Babar*
99 - Inzamam
93 - Miandad
85 - Yousaf
#PAKvSL #PakistanCricket
§.•´¨'°÷•..× 🎀 ڈوگر صاحب 🎀 ×..•÷°'¨´•.§ retweeted
Replying to @78ds2
بابر اعظم اتنا اہم اور ناگزیر کیوں ہے؟ ایک کھلاڑی مستقل اتنا فلاپ چلاآرہاہے پرفارمنس نہیں دے رہا ہے تو نکال باہر کرو کسی نئے لڑکے کو موقع دو باصلاحیت کھلاڑیوں کی کمی تھوڑی ہے۔
§.•´¨'°÷•..× 🎀 ڈوگر صاحب 🎀 ×..•÷°'¨´•.§ retweeted
Wow…. That’s why I praised my team for what they accomplished in India. India is a dangerous team. #justwow
1. Smaller boundaries
2. Batting paradise pitches
3. Wet ball for bowlers
§.•´¨'°÷•..× 🎀 ڈوگر صاحب 🎀 ×..•÷°'¨´•.§ retweeted
بابر اعظم کے ساتھ ٹیکنکل مسائل کے ساتھ نفسیاتی ایشوز لگ رہے ہیں
ٹھیک کھیلتے کھیلتے اچانک بیک فٹ پر پکڑا جاتا ہے لائن ہی مس کر دیتا ہے اس لائن پر بابر اعظم پہلے آؤٹ نہیں ہوتا تھا
محمد یوسف نے جو ایشو بتایا ہے اسکو دیکھنا چاہیے
#PAKvSL
§.•´¨'°÷•..× 🎀 ڈوگر صاحب 🎀 ×..•÷°'¨´•.§ retweeted
Replying to @78ds2
جمہوریت کے نام پر عوام سے جھوٹ بولا جاتا ہے فراڈ اور دھوکہ کیا جاتا ہے
مزے کی بات یہ ہے کہ میڈیا اور صحافی بھی پارٹیوں میں جمہوریت لانے پر بات نہیں کرتے نہ سوشل میڈیا کے مہاتما اس پر بات کرتے ہیں 🙏❤️
§.•´¨'°÷•..× 🎀 ڈوگر صاحب 🎀 ×..•÷°'¨´•.§ retweeted
Replying to @78ds2
بہت بڑے بڑے افلاطون بھی جمہور کی رائے پر فرد واحد کی رائے مسلط کرنے کے حق میں بھاشن دیتے ہیں اور اس پر کمال یہ کہ اسے آ گئی پھیلانے کا نام دیتے ہیں
§.•´¨'°÷•..× 🎀 ڈوگر صاحب 🎀 ×..•÷°'¨´•.§ retweeted
ایک لڑکی کی نئی نئی شادی ہوئی ایک دن ہمسائی اس کے گھر آئی اور اس نے آ کر بتایا کہ تیرے شوہر نے شادی سے پہلے ایک کام والی رکھی ہوئی تھی لیکن شادی کے بعد اس کو ہٹا دیا۔
چونکہ بیوی اکیلی گھر کے تمام کام کر کے تھک جاتی تھی، اس لیے جب خاوند گھر آیا تو اس نے پوچھے بغیر نہ رہا۔ اس نے کہا کہ مجھے پتہ چلا ہے کہ تم نے کام والی رکھی ہوئی تھی؟ شوہر نے بے ساختہ اقرار کرتے ہوئے کہا، "ہاں، رکھی ہوئی تھی۔"
بیوی نے تجسس سے پوچھا کہ اس کا نام کیا تھا؟ شوہر نے جواب دیا، "رانی۔"
بیوی نے فوراً اگلا سوال کیا کہ پھر تم نے اسے ہٹا کیوں دیا؟ شوہر نے مسکرا کر کہا، "پھر تم جو آ گئیں۔"
یہ سن کر بیوی نے شکوہ کیا کہ شادی سے پہلے تم نے مجھے یہ بات بتائی کیوں نہیں؟ اس پر شوہر نے ایسا لاجواب جواب دیا کہ بیوی دنگ رہ گئی، بولا، "بتایا تو تھا کہ تمہیں رانی بنا کر رکھوں گا!"
§.•´¨'°÷•..× 🎀 ڈوگر صاحب 🎀 ×..•÷°'¨´•.§ retweeted
انسان مکان بدلتا ہے، رشتے بدلتا ہے، دوست بدلتا ہے. لیکن پھر بھی دُکھی رہتا ہے. کیونکہ.. وہ اپنا رویّہ نہیں بدلتا
§.•´¨'°÷•..× 🎀 ڈوگر صاحب 🎀 ×..•÷°'¨´•.§ retweeted
ایک بار ایک پینٹ پہنے ہوئے شیخ سے ایک شخص نے پوچھا:
آپ کی یہ پینٹ کِتنے دِن چل جاتی ہے ..؟
شیخ نے جواب دیا:
کچھ خاص نہیں، میں اِسے ایک سال پہنتا ہوں.
اِس کے بعد میری بیوی اِسکو کاٹ کر بیٹے کے سائز کا بنا دیتی ہے.
پھر بیٹا اِسے ایک سال پہنتا ہے.
اِس کے بعد بیوی اِسکو کاٹ چھانٹ کر تکیے کے کور بنا لیتی ہے.
پھر ایک سال بعد اِس کو گھر کی جھاڑو پونچھے میں اِستعمال کرتے ہیں. "
دوسرا شخص بولا:
پھر پھینک دیتے ہوں گے ..؟
شیخ نے پھر کہا:
نہیں نہیں اس کے بعد 6 ماہ تک میں اِس سے اپنے جوتے صاف کرتا ہوں
اور اگلے 6 ماہ تک موٹر سائیکل کا مفلر چمكاتا ہوں.
بعد میں بچوں کے کھیلنے کے لیے اسے گیند بنا لیتے ہیں.
آخر میں چولہا سلگانے کے کام میں لیتے ہیں اور چولہے کی راکھ برتن مانجھنے کے کام میں آجاتی ہے ۔
اور آخر میں شیخ صاحب شکوہ کرتے ہوئے بولے .....
.بس جی کیا کریں آجکل چیزوں کی کوالٹی ہی کم ہو گئی ہے, ہر چیز جلد ختم ہو جاتی ہے ۔🤣😁😂😬🫣
§.•´¨'°÷•..× 🎀 ڈوگر صاحب 🎀 ×..•÷°'¨´•.§ retweeted
جب مجھے 23 سال کی عمر میں پہلی تنخواہ ملی تو میرے والد نے مجھ سے کہا:
”ہر مہینے مجھے 100 بھیج دیا کرنا۔“
میں نے پوچھا: ”ابو، کیوں؟“
انہوں نے جواب دیا: ”تمہاری پرورش کے بدلے۔“
میں ہنس پڑا، لیکن وہ نہیں ہنسے۔
اس دن سے ہر مہینے کی 27 تاریخ کو، جب میری تنخواہ آتی، میں انہیں 100 بھیج دیتا۔ اور رقم بھیجتے وقت ٹرانزیکشن کے ریفرنس میں لکھتا:
”آپ کی پرورش کے بدلے۔“
اور ہر بار ان کا جواب ہوتا:
”وصول ہوگئے۔ اللہ تمہیں رزق عطا فرمائے۔“
وہ کبھی اس کے علاوہ ایک لفظ بھی نہیں کہتے تھے۔
میں نے غیر شادی شدہ ہونے کے زمانے میں بھی پیسے بھیجنا جاری رکھا۔
شادی کے مہینے میں بھی بھیجے، حالانکہ میرے سر پر قرضوں کا بوجھ تھا۔
میرے بیٹے کی پیدائش کے مہینے میں بھی بھیجے، جب میرے اکاؤنٹ میں صرف 140 باقی بچے تھے۔
میری بیوی پوچھتی: ”آپ کے والد ریٹائر ہو چکے ہیں اور ان کا اپنا گھر بھی ہے، انہیں ان 100 کی کیا ضرورت ہے؟“
میرے دوست مذاق اڑاتے ہوئے کہتے: ”کیا تمہارے والد نے تم پر کوئی ٹیکس لگا رکھا ہے؟“
میں بس اتنا کہتا: ”میرے والد ایسے ہی ہیں، ان کے اپنے ہی کچھ طریقے ہیں۔“
ایک مرتبہ مجھ سے رقم بھیجنے میں ایک دن کی تاخیر ہوگئی۔
صبح سات بجے والد کا فون آیا اور انہوں نے پوچھا:
”سب خیریت تو ہے؟“
میں نے پیسے بھیج دیے اور دل ہی دل میں ہنستے ہوئے سوچا: ”واقعی، پیسوں کے معاملے میں تو بہت پابند ہیں۔“
یہ سلسلہ پورے 12 سال جاری رہا۔
تین ماہ پہلے کمپنی نے مجھے ملازمت سے فارغ کر دیا۔
میں نے کسی کو کچھ نہیں بتایا، یہاں تک کہ اپنی بیوی کو بھی نہیں۔
ہر روز صبح سات بجے میں اپنا ثوب پہنتا، گھر سے نکلتا اور ایک کافی شاپ کے قریب اپنی گاڑی میں بیٹھا رہتا۔ دوپہر تک وہیں گزارتا، پھر گھر واپس آ جاتا، جیسے دفتر سے لوٹ رہا ہوں۔
پھر 27 تاریخ آ گئی، لیکن اس بار تنخواہ نہیں آئی۔
12 سال میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ میں نے اپنے والد کو پیسے نہیں بھیجے۔
رات کے کھانے کے بعد میرا فون بجا۔
والد تھے۔
انہوں نے کہا:
”پیسے نہیں آئے۔“
میں نے جواب دیا:
”ابو، بھول گیا تھا۔ ان شاء اللہ، کل بھیج دوں گا۔“
وہ کچھ لمحوں کے لیے خاموش رہے، پھر بولے:
”ابھی میرے پاس آؤ، اکیلے۔“
میں ان کے مجلس میں داخل ہوا تو دیکھا کہ وہ بیٹھے ہیں اور ان کے سامنے ایک پرانی نوٹ بک اور ایک لفافہ رکھا ہے۔
انہوں نے نوٹ بک میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا:
”اسے کھولو۔“
نوٹ بک کے ہر صفحے پر ایک تاریخ، رقم ”100“ اور میرا نام درج تھا۔
ہر اندراج کے ساتھ یہ بھی لکھا تھا کہ وہ رقم کہاں خرچ کی گئی:
”واٹر کولر۔“
”ایک یتیم بچے کی کفالت۔“
”رمضان کا راشن پیکج۔“
”مزدوروں کے لیے پانی کا انتظام۔“
کل 144 اندراجات تھے۔
انہوں نے کہا:
”تمہاری بھیجی ہوئی رقم کا ایک ریال بھی کبھی میری اپنی جیب میں نہیں گیا۔“
پھر انہوں نے اپنا فون مجھے دیا۔ اس میں مسجد کے باہر لگے ایک واٹر کولر کی تصویر تھی۔ اس پر لگی ایک چھوٹی سی تختی پر لکھا تھا:
”میرے بیٹے کی طرف سے صدقہ، اللہ اسے سلامت رکھے۔“
میں نے اسے فوراً پہچان لیا۔
یہ وہی واٹر کولر تھا جو میری جائے ملازمت کے قریب مسجد کے باہر لگا ہوا تھا۔ وہی جس سے میں ہر روز دوپہر کو پانی پیا کرتا تھا۔
برسوں سے میں اپنے والد کے دیے ہوئے صدقے کا پانی پی رہا تھا، اور مجھے اس بات کا ذرا بھی علم نہیں تھا۔
پھر انہوں نے لفافہ میری طرف بڑھایا اور کہا:
”اور یہ میری طرف سے ہے۔“
میں نے لفافہ کھولا تو اس میں 72,000 کی رقم تھی۔
انہوں نے بتایا:
”جب سے تمہیں پہلی تنخواہ ملی تھی، میں ہر مہینے 500 روپے الگ رکھتا رہا ہوں۔“
”مجھے معلوم تھا کہ ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب تمہاری طرف سے پیسے نہیں آئیں گے، اور اس دن تمہیں میری ضرورت ہوگی۔“
میں نے پوچھا:
”ابو، آپ کو کیسے معلوم تھا؟“
انہوں نے جواب دیا:
”12 سال تک تم نے کبھی رقم بھیجنے میں ناغہ نہیں کیا، سوائے آج کے۔ مجھے کسی سے پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔“
میرے پاس کہنے کے لیے کوئی لفظ نہیں تھا۔
انہوں نے مزید کہا:
”مجھے کبھی ان 100 کی ضرورت تھی ہی نہیں۔“
”میں تو بس ہر مہینے یہ جاننا چاہتا تھا کہ تم خیریت سے ہو۔ میں تم سے پوچھے بغیر یہ جاننا چاہتا تھا کہ تم ٹھیک ہو یا نہیں۔ بس تم خود مجھے یہ کہہ دیا کرو کہ ’میں ٹھیک ہوں‘، چاہے حقیقت میں تم ٹھیک نہ بھی ہو۔“
دو ماہ بعد مجھے ایک نئی ملازمت مل گئی۔
27 تاریخ کو، جب مجھے پہلی تنخواہ ملی، تو میں نے والد کو 100 بھیجے اور ساتھ لکھا:
”آپ کی پرورش کے بدلے۔“
ان کا جواب آیا:
”وصول ہوگئے۔ اللہ تمہیں بے حساب رزق عطا فرمائے۔“
ایک منٹ بعد، ان کی طرف سے پہلی بار دوسرا پیغام بھی آیا:
”اور آئندہ مجھ سے کوئی بات مت چھپانا۔“😌






















