Positive Thinker (@behappyfirst1) profile picture
Joined April 2019
Photo by Positive Thinker (@behappyfirst1)Photo by Positive Thinker (@behappyfirst1)Photo by Positive Thinker (@behappyfirst1)Photo by Positive Thinker (@behappyfirst1)Photo by Positive Thinker (@behappyfirst1)Photo by Positive Thinker (@behappyfirst1)Photo by Positive Thinker (@behappyfirst1)Photo by Positive Thinker (@behappyfirst1)Photo by Positive Thinker (@behappyfirst1)Photo by Positive Thinker (@behappyfirst1)
Positive Thinker retweeted
پنجاب میں ایک وزیراعلیٰ ایسا بھی آیا چوہدری پرویز الٰہی نے تمام اساتذہ جماعتوں کو الحمراء ہال لاہور میں بلایا مطالبات سنے ٹیچرز پیکج دیا اور اتنی بڑی تعداد میں اساتذہ کو چائے بھی پلائی یہ چھوٹی بات نہیں — استاد کو عزت دینا ہر کسی کے بس کی بات نہیں آج کے حکمران؟
9
34
3
92
5,426
Positive Thinker retweeted
اساتذہ کی تنخواہ اس لیے سب سے کم بڑھائی گئی ہے کیونکہ وہ پنکھے اور ٹونٹیاں چوری کر کے کافی گزارا کر لیتے ہیں "وچلے ذرائع" 😂 #UstadSays #UstadSays #PunjabTeachers #Teachersof𝕏 #اساتذہ_کے_حقوق #ActiveTeachersForce #SEDfamily #تعلیم_پاکستان #SarkariMulazim #RanaSikandarHayat
3
26
39
949
Positive Thinker retweeted
خوشامد سے نہیں ملتی کسی کو عزتِ دائم یہ وہ زینہ ہے جو اکثر گرا دیتا ہے انسان کو۔ یہ ہیں وہ سوغاتیں جنکا مشغلہ ہے چاپلوسی اور اسی بناء پر انہیں ملتی ہے منسٹر کی شاباشی۔
11
11
1
59
1,804
Positive Thinker retweeted
جب اساتذہ متحد نہ ہوں اور رزق کے معاملے میں اللہ سے ڈرنے کی بجائے ایک بدتمیز اور بدتہذیب شخص سے ڈریں تو ایسے الزامات پر انہیں حیران نہیں ہونا چاہیے !! متحد ہوں یا پھر مظلوم بن کر اللہ کے فیصلے کا انتظار کریں۔ #RemoveEducationMinisterPunjab
1
39
2
77
825
Positive Thinker retweeted
1
28
1
53
370
Positive Thinker retweeted
منسٹر آف ایجوکیشن کو اس کے عہدے سے ہٹانے کا ٹرینڈ اس وقت ٹیوٹر پر موجود ہے #RemoveEducationMinisterPunjab
1
63
3
112
900
ایک وزیر نے تعلیمی سرگرمیوں میں سب سے اہم رکن اساتذہ کو تضحیک آمیز جملے کسے اور پھر اس پر فرعونی درباریوں نے قہقہے کے لگائے صد افسوس کہ کوئی حکومتی اہلکار اس کو رد نہ کر سکا #RemoveEducatioMinisterPunjab
ایک وزیر نے تعلیمی سرگرمیوں میں سب سے اہم رکن اساتذہ کو تضحیک آمیز جملے کسے اور پھر اس پر فرعونی درباریوں نے قہقہے کے لگائے صد افسوس کہ کوئی حکومتی اہلکار اس کو رد نہ کر سکا #RemoveEducatioMinisterPunjab
3
10
146
Positive Thinker retweeted
منسٹر صاحب کے اساتذہ پر پنکھے چوری کے الزام کے حوالے سے مکمل وضاحت کے ساتھ جواب۔۔۔ منسٹر صاحب کی کائنڈ انفارمیشن کے لیے عرض ہے کہ جو سرکاری سکول PEF کے حوالے کیے جاتے ہیں، اُن کے پنکھے، فرنیچر اور دیگر سرکاری سامان اساتذہ کرام چوری کرکے اپنے گھروں میں نہیں لے جاتے۔ یہ تمام سامان محکمانہ قواعد و ضوابط کے تحت انتظامی ضرورت کے مطابق قریبی سکول، متعلقہ مرکز، یا اسی تحصیل کے ایسے سرکاری سکول یا آفس میں منتقل کیا جاتا ہے جہاں اس کی ضرورت ہو۔۔یہ سب متعلقہ افسران اپنی مرضی سے کرواتے ہیں۔۔یہ سب زبانی کلامی احکامات پر ہوتا ہے۔۔اس لیے اسکا آفیشل ریکارڈ نہیں بنایا جاتا۔۔ لہٰذا اس محکمانہ انتظام کو اساتذہ کے کھاتے میں ڈالنا حقائق کے منافی ہے۔ سکولوں کے وسائل کی منتقلی ایک باقاعدہ انتظامی عمل ہوتا ہے جس کا مقصد سرکاری املاک کا تحفظ اور مؤثر استعمال یقینی بنانا ہوتا ہے۔ منسٹر صاحب سے گزارش ہے کہ اساتذہ پر بے بنیاد الزامات عائد کرنے سے پہلے متعلقہ حقائق اور محکمانہ طریقہ کار کی مکمل تحقیق کر لیا کریں۔ عوامی عہدوں پر بیٹھے افراد کی باتوں میں سنجیدگی، ذمہ داری اور حقائق کی پاسداری ہونی چاہیے، کیونکہ غیر ذمہ دارانہ بیانات نہ صرف اساتذہ کی تضحیک کا باعث بنتے ہیں بلکہ محکمہ تعلیم کے لاکھوں ملازمین کی دل آزاری بھی کرتے ہیں۔۔ ہمارا کام ہے مکمل تحقیق کے ساتھ حقائق عوام تک پہنچانا۔۔میں نے یہ بات پوری ذمہ داری سے کی ہے۔۔منسٹر صاحب کسی بھی ایسے PEF سکول کی انکوائری کروا کر دیکھ لیں۔۔حقائق یہی ہی ہوں گے۔۔ تمام اساتذہ کرام اسے فوری طور پر منسٹر صاحب تک پہنچائیں اور منسٹر صاحب غیر مناسب بیان پر تمام اساتذہ کرام سے فوری طور پر معافی مانگیں۔۔ To Rana Sikandar Hayat (Copied)
9
35
4
98
4,022
Positive Thinker retweeted
جناب نے سرکاری سکولز کی ساکھ برباد کردی صرف ایک جملے سے #UstadSays #PunjabTeachers #SEDfamily #تعلیم_پاکستان #AmjadAliJaved #Teachers #اساتذہ_کے_حقوق #SEDfamily #تعلیم_پاکستان #SarkariMulazim #June #جون #ranasikandarhayat Rana Sikandar Hayat
1
17
3
32
1,093
Positive Thinker retweeted
Hi dear @MaryamNSharif Remove Education Minster Punjab @RanaSikandarH because he always blames to teachers and clerks. Infect he failed as a education minister. @georgegalloway @AGEGA_ @UstadSays @timesofindia @IndiaToday #ResignEducationMinister #RemoveEducationMinisterPunjab
6
43
1
73
559
Positive Thinker retweeted
صوبائی وزیر تعلیم کی جانب سے سرکاری ٹیچرز کی تضحیک بعد دنیا بھر سے مزمتی بیانات کا سلسلہ شروع اساتذہ کے حوالے سے وزیر تعلیم پنجاب کا یہ بیان بلاشبہ انتہائی افسوسناک، غیر ذمہ دارانہ اور قابلِ مذمت ہے اس قسم کے بیانات نہ صرف اساتذہ کی تذلیل کا باعث بنتے ہیں بلکہ معاشرے میں استاد اور شاگرد کے تقدس کو بھی مجروح کرتے ہیں **1. استاد کا مقام و مرتبہ** اساتذہ کسی بھی قوم کے "ماسٹر پلر" (Master Pillars) ہوتے ہیں۔ وہ نہ صرف علم کے محافظ ہیں بلکہ نسلِ نو کی اخلاقی، علمی اور ذہنی آبیاری کرنے والے معمار بھی ہیں۔ ایسے افراد کے بارے میں عمومی نوعیت کے الزامات تراشی کرنا پورے شعبہ تدریس کی توہین ہے **2. ایک عوامی نمائندے کی ذمہ داری** ایک وزیر تعلیم، جو کہ ایک پبلک فگر ہے، اس سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی زبان اور الفاظ کے چناؤ میں انتہائی محتاط رہے گا۔ جب ایک حکومتی عہدیدار اساتذہ جیسے محترم طبقے کے لیے "پنکھے اور ٹوٹیاں چوری کرنے" جیسے القابات استعمال کرتا ہے، تو یہ اس کے منصب کی وقار کو کم کرتا ہے اور اس کی اپنی اخلاقی و انتظامی بصیرت پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ **3. عمومی الزام تراشی کا نقصان** کسی بھی پیشے کے چند افراد کی غلطی کو پوری برادری سے منسوب کرنا ایک غیر منطقی اور غیر منصفانہ عمل ہے ایسی گفتگو سے: * **اساتذہ کا مورال ڈاؤن ہوتا ہے:** جو اساتذہ پوری دیانتداری سے قوم کو سنوارنے میں لگے ہیں، ان کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ **4. تنقید کا طریقہ کار** اگر محکمہ تعلیم میں کوئی مسائل یا بدعنوانی ہے، تو اس کے لیے احتساب کا قانونی اور ادارہ جاتی نظام موجود ہونا چاہیے۔ "Below the belt" طعنہ زنی اور تضحیک آمیز رویہ مسائل کا حل نہیں بلکہ یہ محض ایک غیر سنجیدہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔
28
136
2
259
3,934
Positive Thinker retweeted
5
132
6
262
2,269
Positive Thinker retweeted
Replying to @MuradRaasMR
کوئی شک نہیں مراد راس پنجاب کی تاریخ کا بہترین وزیر تعلیم تھا، میرٹ پر آن لائن تبادلہ جات سسٹم کا آغاز، اساتذہ کی لیو کو آن لائن کرنا، ACRs آن لائن، بلاوجہ کے غیر تدریسی کاموں سے اساتذہ کو دور رکھنا، تمام اساتذہ ذہنی سکون کے ساتھ بچوں کو پڑھاتے تھے کیونکہ منسٹر ان کی بیک پہ تھا
3
1
24
920
Positive Thinker retweeted
Teachers are kind and honourable. Rana sb. Please take care of them . They are our Asset. They should be our first priority.
101
90
19
459
44,807
منسٹر اور فورس ہمارے سکول اور کالجز کی آئی ڈی سے یہ ہیش ٹیگ چل رہا ہے۔۔۔ وہ جو مرضی چلائیں آپ نے چلانا ہے #RemoveEducationMinisterPunjab
1
26
1
49
640
“ Consider this Day EIGHT — this post will keep appearing daily until the Education Minister breaks the silence. ” سزا اور جزا کہاں گئی؟ @RanaSikandarH پاکستان کے سکولوں میں اصل مسئلہ واضح ہے: SS کیڈر۔ محکمانہ قوت، سیکریٹریٹ تک گرفت، اور سکول کی سطح پر کھلا ڈسپلن بریک—سب ایک ہی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں۔ گرمی ہو یا سردی، یہ حضرات 9 بجے کے بعد آتے ہیں اور 12 سے پہلے چلتے بنتے ہیں۔ آنے کی حاضری اتنی لمبی بیان کرتے ہیں کہ جانے والا وقت ڈالنے کی نہ جگہ بنتی ہے اور نہ یہ کبھی departure time ڈالتے ہیں۔ ہیڈ ماسٹر انہیں کسی ذمہ داری میں engage کرنے سے قاصر—کیونکہ “اوپر” کی ڈھال موجود ہے۔ جب پرنسپل دفتر سے باہر ہو یا رخصت پر ہو، قانوناً سینئر استاد کو اُس دن کا چارج ملتا ہے؛ مگر SS حضرات چارج لینے سے انکار کر دیتے ہیں—نہ وقت پر آ سکتے، نہ چھٹی تک رک سکتے۔ کلاس ورک؟ الٹا منظر! ان کی اپنی کلاسیں بھی ہم جیسے اساتذہ پڑھاتے ہیں کیونکہ سٹاف شارٹیج ہے۔ پرنسپل اور یہ لاڈلے گیارہویں/بارہویں میں ہر کیٹگری میں داخلہ کرا کے “ہائیر سیکنڈری پورشن” زندہ رکھتے ہیں تاکہ پرنسپل کی گریڈ 19 والی سیٹ اور SS کی اپنی پوسٹنگ محفوظ رہے۔ ان اضافی کلاسز میں ان صاحبان کے بمشکل “دو، دو پیریڈ”—باقی سارا بوجھ نچلے کیڈر پر۔ اضافی فرائض سے مکمل لا تعلقی: نہ ڈینگی ڈیوٹی، نہ NSB، نہ FTF، نہ اسمبلی، نہ مسئلہ حل کرنے میں شرکت، نہ ساتھیوں کو برابری کی نظر سے دیکھنا۔ انکوائری؟ شاذونادر۔ اگر کبھی ہو بھی تو دفاتر میں “عزت سے” بٹھا کر دھوئیں کی پڑدہ داری—اصل احتساب کہیں نہیں۔ نتیجہ؟ A+ کیٹگری کے سکولوں کی reputation تباہ؛ نئے داخلے کم؛ معاشرے میں بداعتمادی؛ والدین کی نظر میں محنتی اساتذہ بھی مشکوک۔ ایک تازہ واقعہ: شکایت اوپر پہنچی تو ایک سخت مزاج افسر کو “سیٹ کرنے” بھیجا گیا۔ موسمِ گرما کی چھٹیاں کینسل؛ مینٹیننس اور داخلہ مہم کے نام پر پورے سٹاف کو مہینے بھر لگا دیا۔ جس SS پر ایکشن لینا تھا، وہ پورا وقت ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا—ایک کام نہیں کیا۔ ہم سب پسینے میں، وہ صاحب مسکراہٹ میں۔ سسٹم کی جڑ کہاں ہے؟ یہ کیڈر ضلعی انتظامیہ اور سیکریٹریٹ تک پھیلا ہوا ہے—ڈیٹا انجینئرنگ سے لے کر فائلوں کے کھیل تک۔ اسی لیے اساتذہ آواز نہیں اٹھاتے: آج بولیں تو کل پرنسپل کے تبادلے/ترقی کے بعد باگ ڈور انہی کے ہاتھ؛ پھر وہی انتقام، وہی دباؤ۔ نتیجہ: زبانیں بند، دل اندر سے جلتے رہیں۔ پروموشن کا کھیل — اصل ناانصافی: یہ واحد کیڈر ہے جس کی ہر سال ترقی۔ گریڈ 17 میں آتے ہیں اور سیدھا گریڈ 20 تک دوڑتے ہیں۔ ادھر نچلے کیڈر کے استاد 25–30 سال بعد، وہ بھی اکثر ریٹائرمنٹ کے وقت بمشکل پروموشن دیکھتے ہیں۔ یہ کھلا تضاد حوصلہ توڑ دیتا ہے۔ “سفید ہاتھی”—یہ تشبیہ برمحل ہے: یہی سفید ہاتھی کبھی ضلع کے افسر، کبھی تحصیل کے افسر؛ کبھی ایلیمنٹری ونگ، کبھی سیکنڈری ونگ؛ کبھی ڈویژن میں امتحانی بورڈز کے چیئرمین۔ PEC انہی ہاتھوں چلا—اور انہی ہاتھوں تعلیمی نظام کا بیڑہ غرق ہوا۔ کرسی ادھر خالی ہوئی تو دوسری کرسی وہاں حاضر؛ چہرے بدلتے ہیں، مزاجِ اقتدار نہیں۔ یہ سب پڑھ کر سوال تیز ہوتا ہے: کیا سزا اور جزا صرف کمزور استاد کے لیے ہے؟ SS کیڈر کو کون سی گِڈر سنگھی ملی ہے کہ یہ ریاست کے اندر ریاست؟ آمد و رفت، پیریڈ لوڈ اور اضافی فرائض کا شفاف، قابلِ نگرانی نظام کیوں نافذ نہیں کیا جا رہا؟ گیارہویں/بارہویں داخلوں کو سیٹ بچاؤ مہم بنانے کا سلسلہ کب رکے گا؟ ڈیمانڈ—سیدھی اور دو ٹوک: 1. ڈیجیٹل آمد و رفت (arrival + departure) لازمی؛ جعلی اندراج پر فوری معطلی۔ 2. پیریڈ لوڈ اور ڈیوٹی روسٹر پبلک ڈسپلے—ہر استاد کے ذمے کتنے پیریڈ؟ واضح۔ 3. ہائیر سیکنڈری داخلوں کا آزاد آڈٹ—“سیٹ بچاؤ” اسکیم ختم۔ 4. دوہری کرسیوں پر پابندی—سفید ہاتھی ماڈل بند؛ ضلعی/تحصیلی/بورڈ عہدوں کی شفاف، اوپن میرٹ سے تعیناتی۔ 5. پروموشن لنکڈ ٹو کارکردگی—17 سے 20 کی ایکسپریس لین ختم؛ نچلے کیڈر کے لیے ٹائم باؤنڈ پروموشن۔ 6. انکوائری = کٹہرا، نہ کہ کمرۂ تعیش—“دفتر میں عزت” والا ڈرامہ بند۔ آخری بات: یہ پوسٹ جذبات نہیں، روزمرہ کی گواہی ہے۔ ہم نے سالہا سال یہ سب دیکھا، سہا اور برداشت کیا۔ اگر وزیرِ تعلیم خاموش ہیں تو یہ خاموشی ہی ہمارا ثبوت ہے۔ اور یاد رکھیں —Today is Day 8 . کل Day 9 ہوگا —until you break the silence.
“ Consider this Day SEVEN — this post will keep appearing daily until the Education Minister breaks the silence. ” سزا اور جزا کہاں گئی؟ @RanaSikandarH پاکستان کے سکولوں میں اصل مسئلہ واضح ہے: SS کیڈر۔ محکمانہ قوت، سیکریٹریٹ تک گرفت، اور سکول کی سطح پر کھلا ڈسپلن بریک—سب ایک ہی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں۔ گرمی ہو یا سردی، یہ حضرات 9 بجے کے بعد آتے ہیں اور 12 سے پہلے چلتے بنتے ہیں۔ آنے کی حاضری اتنی لمبی بیان کرتے ہیں کہ جانے والا وقت ڈالنے کی نہ جگہ بنتی ہے اور نہ یہ کبھی departure time ڈالتے ہیں۔ ہیڈ ماسٹر انہیں کسی ذمہ داری میں engage کرنے سے قاصر—کیونکہ “اوپر” کی ڈھال موجود ہے۔ جب پرنسپل دفتر سے باہر ہو یا رخصت پر ہو، قانوناً سینئر استاد کو اُس دن کا چارج ملتا ہے؛ مگر SS حضرات چارج لینے سے انکار کر دیتے ہیں—نہ وقت پر آ سکتے، نہ چھٹی تک رک سکتے۔ کلاس ورک؟ الٹا منظر! ان کی اپنی کلاسیں بھی ہم جیسے اساتذہ پڑھاتے ہیں کیونکہ سٹاف شارٹیج ہے۔ پرنسپل اور یہ لاڈلے گیارہویں/بارہویں میں ہر کیٹگری میں داخلہ کرا کے “ہائیر سیکنڈری پورشن” زندہ رکھتے ہیں تاکہ پرنسپل کی گریڈ 19 والی سیٹ اور SS کی اپنی پوسٹنگ محفوظ رہے۔ ان اضافی کلاسز میں ان صاحبان کے بمشکل “دو، دو پیریڈ”—باقی سارا بوجھ نچلے کیڈر پر۔ اضافی فرائض سے مکمل لا تعلقی: نہ ڈینگی ڈیوٹی، نہ NSB، نہ FTF، نہ اسمبلی، نہ مسئلہ حل کرنے میں شرکت، نہ ساتھیوں کو برابری کی نظر سے دیکھنا۔ انکوائری؟ شاذونادر۔ اگر کبھی ہو بھی تو دفاتر میں “عزت سے” بٹھا کر دھوئیں کی پڑدہ داری—اصل احتساب کہیں نہیں۔ نتیجہ؟ A+ کیٹگری کے سکولوں کی reputation تباہ؛ نئے داخلے کم؛ معاشرے میں بداعتمادی؛ والدین کی نظر میں محنتی اساتذہ بھی مشکوک۔ ایک تازہ واقعہ: شکایت اوپر پہنچی تو ایک سخت مزاج افسر کو “سیٹ کرنے” بھیجا گیا۔ موسمِ گرما کی چھٹیاں کینسل؛ مینٹیننس اور داخلہ مہم کے نام پر پورے سٹاف کو مہینے بھر لگا دیا۔ جس SS پر ایکشن لینا تھا، وہ پورا وقت ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا—ایک کام نہیں کیا۔ ہم سب پسینے میں، وہ صاحب مسکراہٹ میں۔ سسٹم کی جڑ کہاں ہے؟ یہ کیڈر ضلعی انتظامیہ اور سیکریٹریٹ تک پھیلا ہوا ہے—ڈیٹا انجینئرنگ سے لے کر فائلوں کے کھیل تک۔ اسی لیے اساتذہ آواز نہیں اٹھاتے: آج بولیں تو کل پرنسپل کے تبادلے/ترقی کے بعد باگ ڈور انہی کے ہاتھ؛ پھر وہی انتقام، وہی دباؤ۔ نتیجہ: زبانیں بند، دل اندر سے جلتے رہیں۔ پروموشن کا کھیل — اصل ناانصافی: یہ واحد کیڈر ہے جس کی ہر سال ترقی۔ گریڈ 17 میں آتے ہیں اور سیدھا گریڈ 20 تک دوڑتے ہیں۔ ادھر نچلے کیڈر کے استاد 25–30 سال بعد، وہ بھی اکثر ریٹائرمنٹ کے وقت بمشکل پروموشن دیکھتے ہیں۔ یہ کھلا تضاد حوصلہ توڑ دیتا ہے۔ “سفید ہاتھی”—یہ تشبیہ برمحل ہے: یہی سفید ہاتھی کبھی ضلع کے افسر، کبھی تحصیل کے افسر؛ کبھی ایلیمنٹری ونگ، کبھی سیکنڈری ونگ؛ کبھی ڈویژن میں امتحانی بورڈز کے چیئرمین۔ PEC انہی ہاتھوں چلا—اور انہی ہاتھوں تعلیمی نظام کا بیڑہ غرق ہوا۔ کرسی ادھر خالی ہوئی تو دوسری کرسی وہاں حاضر؛ چہرے بدلتے ہیں، مزاجِ اقتدار نہیں۔ یہ سب پڑھ کر سوال تیز ہوتا ہے: کیا سزا اور جزا صرف کمزور استاد کے لیے ہے؟ SS کیڈر کو کون سی گِڈر سنگھی ملی ہے کہ یہ ریاست کے اندر ریاست؟ آمد و رفت، پیریڈ لوڈ اور اضافی فرائض کا شفاف، قابلِ نگرانی نظام کیوں نافذ نہیں کیا جا رہا؟ گیارہویں/بارہویں داخلوں کو سیٹ بچاؤ مہم بنانے کا سلسلہ کب رکے گا؟ ڈیمانڈ—سیدھی اور دو ٹوک: 1. ڈیجیٹل آمد و رفت (arrival + departure) لازمی؛ جعلی اندراج پر فوری معطلی۔ 2. پیریڈ لوڈ اور ڈیوٹی روسٹر پبلک ڈسپلے—ہر استاد کے ذمے کتنے پیریڈ؟ واضح۔ 3. ہائیر سیکنڈری داخلوں کا آزاد آڈٹ—“سیٹ بچاؤ” اسکیم ختم۔ 4. دوہری کرسیوں پر پابندی—سفید ہاتھی ماڈل بند؛ ضلعی/تحصیلی/بورڈ عہدوں کی شفاف، اوپن میرٹ سے تعیناتی۔ 5. پروموشن لنکڈ ٹو کارکردگی—17 سے 20 کی ایکسپریس لین ختم؛ نچلے کیڈر کے لیے ٹائم باؤنڈ پروموشن۔ 6. انکوائری = کٹہرا، نہ کہ کمرۂ تعیش—“دفتر میں عزت” والا ڈرامہ بند۔ آخری بات: یہ پوسٹ جذبات نہیں، روزمرہ کی گواہی ہے۔ ہم نے سالہا سال یہ سب دیکھا، سہا اور برداشت کیا۔ اگر وزیرِ تعلیم خاموش ہیں تو یہ خاموشی ہی ہمارا ثبوت ہے۔ اور یاد رکھیں —Today is Day 7 . کل Day 8 ہوگا —until you break the silence.
2
4
1
9
1,276
پنجاب حکومت کے پاس ان دریاؤں سے نمٹنے کا ایک حل ہے...ان کو آؤٹ سورس کر دیا جائے... منقول 😀😁😀😁😀😁😀😁
2
4
1
24
644