فیکٹ فوکس کی نئی تحقیقاتی رپورٹ (پارٹ#1)
👈تین دہائیاں، تین کردار، تین راستے، ایک سوال
31 اگست, 2026 by قندیل عظیم
📍 پانچ مئی 2025 کو حکومت پنجاب کے محکمہ داخلہ کے سکریٹری نورالامین مینگل نے ایک درخواست مسترد کر دی۔ درخواست ایک ایسے شخص کی تھی جس کا نام برسوں سے دہشت گردی سے متعلق ایک سرکاری فہرست، یعنی فورتھ شیڈول، میں شامل ہے۔ اس شخص نے مؤقف اختیار کیا کہ اب اس کا کالعدم تنظیم لشکرِ جھنگوی سے تعلق نہیں، اس لیے اس کا نام فہرست سے نکال دیا جائے۔
📍نورالامین مینگل، جنہوں نے خود اس شخص کا نام 24 جون 2024 کو فورتھ شیڈول میں ڈالا تھا، ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد یہ درخواست مسترد کر دی۔ سرکاری فیصلے میں انہوں نے قرار دیا کہ درج وجوہات اور موجود شواہد کے مطابق درخواست گزار کا نام فورتھ شیڈول سے نہیں نکالا جا سکتا۔
📍یہ فیصلہ صرف ایک انتظامی کارروائی نہیں تھا۔ اس نے تقریباً تین دہائیوں پر محیط ایک ایسے ریکارڈ کی طرف دوبارہ توجہ دلائی جس میں فرقہ وارانہ شدت پسندی، دہشت گردی کے مقدمات، کالعدم تنظیموں سے تعلق اور بعد کے برسوں میں سامنے آنے والی نئی سرگرمیاں ایک ہی سلسلے کی مختلف کڑیاں دکھائی دیتی ہیں۔
📍 اسی کہانی کے تین مرکزی کردار ہیں، جن میں دو سگے بھائی ہیں۔
📍لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس چودھری عبدالعزیز جنہوں نے عبداللہ شاہ قتل کیس پر اثر انداز ہونے کے حوالے سے فیکٹ فوکس کی فروری 2025 کی تحقیقاتی خبر شائع ہونے کے فوراً بعد استعفٰی دے دیا تھا، اس کہانی کے پہلے مرکزی کردار ہیں۔ وہ آج بھی بڑے زور و شور سے مختلف پلیٹ فارمز پر بلاسفیمی کے کاروبار کی سہولت کاری کر رہے ہیں۔
📍دوسرے کردار، راؤ حبیب الرحمان، جن کے خلاف 1990 کی دہائی سے لے کر اب تک مختلف اوقات میں دہشت گردی، قتل، اقدام قتل، اشتعال انگیزی اور دیگر سنگین نوعیت کے مقدمات درج ہوتے رہے۔ ان کا نام پاکستان کی تاریخ کے دہشت گردی کے سب سے بڑے کیسز میں آیا، سرکاری ریکارڈ کے مطابق ان کا نام آج بھی فورتھ شیڈول میں شامل ہے۔ اور حال ہی میں اسی فورتھ شیڈول سے نام نکلوانے کی ان کی درخواست پنجاب کی وزارت داخلہ نے مسترد کر دی۔
📍وہ بدنام زمانہ دہشت گرد تنظیم لشکر جھنگوی کے مرکزی رہنماؤں میں سے ہیں اور ایک لمبا عرصہ اسی دہشت گرد تنظیم کے ضلع وہاڑی کے صدر رہے۔
📍یاد رہے کہ پاکستان نے لشکر جھنگوی کو 14 اگست 2001 کو کالعدم قرار دیا تھا ، جبکہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے 2003 میں اسے القاعدہ اور طالبان سے تعلق کی بنیاد پر کالعدم قرار دیا۔ اس سب کے باوجود راؤ حبیب الرحمان اب آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں اور اپنے کاروبار وغیرہ کو دیکھ رہے ہیں۔
📍تیسرے کردار راؤ حبیب الرحمان کے چھوٹے بھائی ایڈووکیٹ راؤ عبدالرحیم، جوخود کو اسلام آباد میں قائم ایک تنظیم لیگل کمیشن آن بلاسفیمی کا سربراہ بتاتے ہیں مگر پچھلے دو سالوں میں فیکٹ فوکس نے مسلسل اپنی تحقیقاتی رپورٹنگ کے ذریعے انکی تنظیم کی اصلیت کو عیاں کیا اور ثابت کیا کہ راؤ عبدالرحیم در اصل " بلاسفیمی بزنس گروپ" کے سربراہ ہیں۔
📍فیکٹ فوکس نے پنجاب پولیس کی اسپیشل برانچ کی ایک ایسی کلاسیفائیڈ رپورٹ کو بھی جاری کیا جس میں راؤ عبدالرحیم کے بلاسفیمی سے متعلق اسی ایڈونچر کو " بلاسفیمی بزنس گروپ " کے نام سے ہی پکارا گیا تھا۔
📍میڈیا کے دیگر حلقے اور صحافی انکی تنظیم کو " بلاسفیمی گینگ " پکارتے ہیں۔ ان موصوف کاروبار بھی عروج پر ہے اور موجودہ حکومت کے اہم ترین وزرا سے انکا رابطہ رہتا ہے اور وہ باآسانی پارلیمنٹ کی ہر طرح کی کاروائی کا حصہ بھی بنتے ہیں۔
فیکٹ فوکس کی یہ رپورٹ سرکاری ریکارڈ، ایف آئی آرز، تحقیقاتی رپورٹس، عدالتی دستاویزات، محکمہ داخلہ کے احکامات، دیگر سرکاری دستاویزات اور ناقابل تردید ثبوتوں کی بنیاد پر گزشتہ تین دہائیوں کے دوران مختلف اوقات میں پیش آنے والے واقعات کو ایک ٹائم لائن کی صورت میں سامنے لاتی ہے۔
📍اس ٹائم لائن سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی جیسے جرائم میں ملوث افراد اور دہشت گرد تنظیموں سے وابستہ عناصر نہ صرف موجودہ نظام میں محفوظ رہتے ہیں بلکہ اپنے فرسودہ اور انتہاپسندانہ نظریات اور مقاصد کو جاری رکھنے کے لیے اپنی سابقہ تنظیموں کو نئے ناموں اور بدلے ہوئے طریقہ کار کے ساتھ دوبارہ منظم کر لیتے ہیں۔ حالات اور ماحول کے مطابق تنظیم کا نام اور کام کرنے کا انداز بدل جاتا ہے، مگر مقاصد وہی رہتے ہیں۔
📍یوں گزشتہ تین دہائیوں میں مذہبی انتہاپسند اور دہشت گرد تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد مزید طاقتور ہوئے، انہوں نے نئے محاذ کھولے اور نت نئے ایڈونچر شروع کیے، جبکہ عام اور غریب لوگوں، خصوصاً پڑھے لکھے نوجوانوں کی زندگیاں مزید اجیرن ہوتی گئیں۔
(جاری ہے 👇)
📍 غیر قانونی سمز کہاں سے ملتی تھیں ؟
📍 کون رجسٹرڈ کرتا تھا ؟
📍یہ استعمال ہی کیوں کرتے تھے کس اتھارٹی کے تحت اور کس غلط مقصد کے لئے ؟
📍ان سمز پر بنے واٹس ایپ اکاؤنٹس اور ان کے ذریعے بنائے گئے گروپس کا کیا مقصد تھا ؟
📍ہنی ٹریپنگ ٹیمز کے ارکان بشمول لڑکوں اور لڑکیوں کے کیوں فیک آئی ڈیز اور خفیہ غیر قانونی سمز کے ذریعے نوجوانوں کو کال میں پھنسا کر انکا شکار کرتے تھے ؟
👈آج تک جواب نہ مل سکے
🚨🔵 حیرانگی کی بات ہے بلاسفیمی بزنس گروپ ان ویڈیوز سے ڈرتا کیوں ہے ؟
پہلے انہیں تحقیقاتی کمیشن سے خوف آتا تھا
اور اب ویڈیوز سے بھی خوف آنے لگا گیا ہے ۔ ؟
آخر کیا وجہ ہوسکتی ہے ..؟؟؟
🚨📍 بلاسفیمی بزنس گروپ کا اجتماعی شعور مکمل طور پر جاہلیت میں ڈوب چکا ہے۔
📍 اسلام آباد ہائی کورٹ کی لائیو سٹریمنگ کی گئی ویڈیوز کو
👈خود درخواست دے کر
👈منت سماجت کرکے
👈ترلے مار کے
👈اور تعلقات استعمال کرکے
پوری کی پوری لائیو سٹریمنگ کی ویڈیوز کو ہائی کورٹ کے یوٹیوب چینل سے "پبلک" سے ہٹا کر "پرائیویٹ" کرواکر خوش ہورہے ہیں۔
🔵 پہلے یہ تحقیقاتی کمیشن سے ڈرتے تھے اور اب تو لائیو سٹریمنگ کی ویڈیوز سے بھی ڈرتے ہیں ۔ اور ویڈیوز ہٹانے پر بھی جیسے ان کی جان میں جان آگئی ہو ۔ اتنے کم ظرف ہیں کہ پہلے اسی عدالت میں درخوست دے کر ویڈیوز ہٹواتے ہیں اور پھر اس عدالت اور اسی عدالت کے جج کے خلاف نفرت انگیز مہم چلاتے ہیں اور ساتھ میں خوش بھی ہوتے ہیں مکمل طور پر بوکھلا گئے ہیں۔
450 لوگوں کے جیتے جاگتے بچے کھائے ہیں تم لوگوں نے ، لوگوں کی زندگیاں برباد کرنے والوں کو ویڈیوز سے بھی ڈر لگتا ہے کمال ہے ۔
🔵 یہ اپنے منہ سے اپنے واٹس ایپ گروپس اورسوشل میڈیا پیجز پر بول رہے ہیں کہ مدعیان نے درخواست لگا کر منت ترلہ کرکے ویڈیوز اسلام آباد ہائی کورٹ کے یوٹیوب چینل سے "پرائیویٹ" کروئی ہیں۔
پھر یہ گدھے اسی پر خوشیاں منا رہے ہیں یہ اتنے ہی جاہل اور عقل و شعور سے عاری ہوچکے ہیں یا پھر اپنے جاہل فالورز کو جھوٹی تسلیاں دینے کے لیے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا رہے ہیں کہ ہم نے ویڈیوز پرائیویٹ کرواکے بڑا معرکہ مارا ہے اور ہم قوم کی کمر عدالتوں میں نہیں لگنے دیں گے ۔ جاہلیت کی کوئی لمٹ نہیں ہوتی ویسے ۔
🔵 کوئی بھی ذی شعور انسان اب تو باآسانی سمجھ سکتا ہے کہ ان کو یہ جاہل یوٹیوبر لے ڈوبے گا اپنا گند ان کو حلوہ بنا کر بیچ رہا ہے اور بلاسفیمی بزنس گروپ خوشی سے خرید رہا ہے ۔ جس کا دامن صاف ہوتا ہے وہ ویڈیوز سے خوف نہیں کھاتا ، مگر یہ تو ویڈیوز سے بھی خوفزدہ ہیں ۔
🔵 عوام بہت باشعور ہوچکی ہے، عوام مان نہیں رہی ان کا جھوٹ خرید نہیں رہی اور گینگ کی دال نہیں گل رہی اور کوئی منجن نہیں بک رہا تو اب یہ چھوٹی چھوٹی حرکتیں کرنے خود کو مزید ننگا کر رہے ہیں ۔ جن کا دامن صاف ہو وہ ویڈیوز سے نہیں ڈرتے اور نہ ہی تحقیقاتی کمیشن سے ڈرتے ہیں۔۔۔
🚨📍 پطرس مسیح ہم شرمندہ ہیں۔
📍ایک مسیحی ، 16 سال کی عمر ، کرکٹ کھیلتے محمد اویس سے جھگڑا ہوا اور پھر اس اویس نے اس کرسچیئن لڑکے سے ایسا انتقام لیا کہ توہین رسالت لگوا کر اس کی زندگی برباد کردی ۔
📍 پطرس کی کہانی دل چیر دینے والی ہے۔
💔 ذرا سوچیں، اگر یہی ظلم کسی دوسرے ملک میں کسی مسلمان کے ساتھ ہو تو ہماری غیرت جاگ اٹھے، آسمان سر پر اٹھا لیں۔
📍 لیکن افسوس! اپنے ہی ملک پاکستان میں ہم دوسرے انسانوں کے درد سے اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ کسی کی چیخیں، کسی ماں کے آنسو اور کسی خاندان کی بربادی ہمیں جھنجھوڑتی تک نہیں۔ آخر ہمارا ضمیر کب جاگے گا؟ 💔
📍 اسلام تو سب سے پہلے عرب میں آیا تھا تو اب ان کے اسلام کے حساب سے چلنا ہے یا برصغیر کے چند ملاؤں کے حساب سے۔۔۔ ؟
سعودی عرب نے مولویوں کو ناراض کردیا؟
سعودی حکومت نے ایک سری لنکن شہری جس نے فیس بک پر توہین آمیز مواد شئیر کیا تھا اس کو سزائے موت دینے کے بعد معاف کردیا۔ سری لنکن شہری نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے معافی طلب کی تھی۔ اس خبر سے پاکستان میں لاتعداد مولوی اور ہالینڈ سے پاکستان آیا ہوا اپنے آپ کو مستری قرار دینے والا شخص شدید غصے میں ہے اور امکان ہے کہ وہ آج سعودیوں کو شاید دائرہ اسلام سے خارج کردے۔ اس کے ویڈیو پیغام کا شدت سے انتظار ہے۔
🚨📍 بریکنگ: سعودی عرب میں توہین رسالت کے الزام پر دی گئی سزائے موت منسوخ قرار دے دی گئی ۔ ۔ بی بی سی 👇
bbc.com/urdu/articles/c9p8gx…
🚨📍 انتہا پسندی اور حق اختلاف
انتہا پسندی کے بارے میں عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ نقطہ اعتدال سے ہٹ کر ایک انتہائی راستے کو اختیار کرنے کا نام ہے۔ یہ بات کسی درجے میں درست ہے، مگر انتہا پسندی کو ایک مسئلہ بنا دینے والی اصل چیز یہ ہے کہ اس مرض میں مبتلا لوگ دوسروں کا حق اختلاف سلب کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
ایسے لوگ کسی معاملے میں ایک انتہائی رائے قائم ہی نہیں کرتے بلکہ خود کو مکمل حق اور دوسروں کو مکمل باطل قرار دینے کی بھی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ اس سے آگے بڑھ کر ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ ان کے نقطہ نظر کے علاوہ معاشرے میں کوئی نقطہ نظر باقی نہ رہے۔ کوئی اختلاف رائے کرے تو اس کے خلاف نکتہ آفرینی، جھوٹا پروپیگنڈا، الزام و بہتان کی مہم شروع ہوجاتی ہے۔
یہی وہ انتہا پسندی ہے جو فرقہ واریت اورعلمی جمود پیدا کرتی ہے ۔ یہی انتہا پسندی آگے بڑھتی ہے اور تکفیر اور دہشت گردی کا راستہ اختیار کر لیتی ہے۔ آپ کسی بھی فرقہ پرست یا دہشت گردوں کے کسی بھی حمایتی کی کوئی بھی تحریر پڑھ لیں یا تقریر سن لیں۔ آپ کو معلوم ہو گا کہ یہ لوگ خود کو آخری حق اور دوسروں کو باطل محض سمجھتے ہیں۔ (یہ شخص وکٹم فیملیز کے وکیل آصف علی تمبولی کی تکفیر کرچکا ہے)
حقیقت یہ ہے کہ معاشرے سے اگر دہشت گردی اور فرقہ واریت کو ختم کرنا ہے تو اس کے لیے انتہا پسندانہ سوچ کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ اور انتہا پسندی کو ختم کرنا ہے تو اس کا ایک ہی راستہ ہے۔ لوگوں کا حق اختلاف تسلیم کیا جائے۔ انسانوں کو اپنے سے مختلف نقطہ نظر کو اختیار کرنے اور اسے پھیلانے کا حق دیا جائے۔
یہ وہ حق ہے جسے دے کر اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں بھیجا ہے۔ جب کبھی کوئی فرد یا گروہ اس حق کو چھینتا ہے تو وہ معاشرے میں انتہا پسندی کو فروغ دیتا ہے۔
Voice of the Victims of Blasphemy Business Group retweeted
اِس ساری بھونڈی گُفتگو میں تمہارے گند اُگلنے والے منہ سے ایک لفظ بھی عثمان وڑائچ کے سوال کے جواب میں نہیں نکلا۔۔۔
تُم ہو کون؟؟؟
تمہاری اوقات کیا ہے کہ سینٹ کمیٹی جیسا فورم تمہیں فراہم کیا جائے؟؟؟
ایوان بالا کیا اتنا گِر چُکا ہے کہ ایک غلیظ پروپیگینڈسٹ کو مدعو کرے!!!!
🔵 جب موقع دیا گیاتھا کہ آپ کیا چاہتے ہیں تو کوئی دلیل نہیں تھی ۔
صرف آئیں بائیں شائیں ۔۔
جج بھی کنفیوز کی آخر آپ چاہتے کیا ہیں مجھے سمجھا دیں ۔۔۔۔ !
Voice of the Victims of Blasphemy Business Group retweeted
"فیکٹ فوکس سٹوری (پارٹ#3)
📍 یہی نہیں اقوام متحدہ کی طرف سے دہشت گرد قرار دی گئی بدنام زمانہ تنظیم لشکر جھنگوی کے دہشت گردوں کے بھی وکیل بنے۔ یہاں تک کہ ایک مرحلے پر وہ اسی کہانی کے دوسرے کردار اور لشکر جھنگوی کے اہم رہنما راؤ حبیب الرحمان کے وکیل بھی بنے۔
📍جسٹس (ر) چودھری عبدالعزیز ایک انتہا پسند مذہبی ایکٹیوسٹ ہیں، جواپنے مقاصد کے حصول کیلیے پہلے وکیل بنے اور پھر شدت پسند حلقوں میں اپنے کنکشنز استعمال کرتے ہوئے ہائیکورٹ کے جج تک بن گئے۔ وہ بلاسفیمی بزنس گروپ کے نظریاتی اور روحانی باپ ہیں ۔"
کاپی_پیست || کریڈٹ @VictimsofB_Gang
Replying to @VictimsofB_Gang
فیکٹ فوکس سٹوری (پارٹ#3)
📍 یہی نہیں اقوام متحدہ کی طرف سے دہشت گرد قرار دی گئی بدنام زمانہ تنظیم لشکر جھنگوی کے دہشت گردوں کے بھی وکیل بنے۔ یہاں تک کہ ایک مرحلے پر وہ اسی کہانی کے دوسرے کردار اور لشکر جھنگوی کے اہم رہنما راؤ حبیب الرحمان کے وکیل بھی بنے۔
📍جسٹس (ر) چودھری عبدالعزیز ایک انتہا پسند مذہبی ایکٹیوسٹ ہیں، جواپنے مقاصد کے حصول کیلیے پہلے وکیل بنے اور پھر شدت پسند حلقوں میں اپنے کنکشنز استعمال کرتے ہوئے ہائیکورٹ کے جج تک بن گئے۔ وہ بلاسفیمی بزنس گروپ کے نظریاتی اور روحانی باپ ہیں ۔
📍 جب 2022 میں بلاسفیمی گینگ کے سربراہ راؤ عبدالرحیم کے خلاف عبداللہ شاہ کا قتل کیس اسلام آباد پولیس نے حل کر لیا تو یکدم جسٹس چودھری عبدالعزیز نے لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی کے بنچ سے سنسنی خیز اور مشکوک احکامات جاری کرنا شروع کر دیے، ایف آئی اے کے افسران کی بیانات کی حد تک کھچائی شروع کر دی، ایف آئی اے کے سائبر کرائمز ونگ میں ایمرجنسی بنیادوں پر "بلاسفیمی سیل” قائم کرنے کے انتہائی مضحکہ خیز احکامات جاری کیے۔
📍بالکل اسی لمحے ایف آئی اے افسران مقتول عبداللہ شاہ کے والد عامر شاہ کے خلاف بھی توہین رسالت کا جھوٹا مقدمہ درج کر کے اسے پیغام دے چکے تھے کہ اب انکی اور انکے باقی دو بچوں کی زندگی راؤ عبدالرحیم کے خلاف اپنے مقتول بیٹے عبداللہ شاہ کا مقدمہ قتل واپس لینے پر ہی منحصر ہے اور اسی صورت میں عامر شاہ کا نام توہین رسالت کے مقدمے سے نکل سکتا ہے۔ یوں جسٹس چودھری عبدالعزیز کی سربراہی میں چلنے والے نیٹ ورک کے ذریعے بلاسفیمی گینگ کو مسلسل اور مکمل تحفظ فراہم کیا جاتا رہا۔
📍یہی نہیں جب ایڈوکیٹ راؤ عبدالرحیم کی قیادت میں چلنے والا بلاسفیمی گینگ چند ہنی ٹریپنگ والی لڑکیوں اور اس وقت کے ایف آئی اے کے سائبر کرائمز ونگ کے ملازمین کے ساتھ مل کر نوجوان بچوں کو توہین مذہب کے کیسز میں پھنسا رہا تھا، عین اسی وقت راؤ عبدالرحیم ایک درخواست لے کر جسٹس چودھری عبدالعزیز کی عدالت میں گئے کہ ایف آئی اے سائیبر کرائمز ونگ کے ملازمین کی ملازمت کو مستقل کیا جائے کیونکہ بہت بڑی بڑی خدمت سر انجام دے رہے ہیں۔
📍جسٹس چودھری ایکٹیوژم کے اس لیول پر تھے کہ انہوں نے راؤ عبدالرحیم کے کہنے پر بطور جج لاہور ہائیکورٹ یہ حکم بھی جاری کر دیا۔
📍پنجاب پولیس کی سپیشل برانچ کی رپورٹ آئی تو بلاسفیمی گینگ اسے بھی لے کر لاہور ہائیکورٹ میں اسی من پسند جج کے پاس پہنچ گیا۔ مگر کسی وجہ سے کچھ عرصے کیلیے جسٹس چودھری کا تبادلہ ملتان بنچ ہو گیا۔ اس پر بلاسفیمی گینگ نے بھی معاملے کی پیروی روک دی۔
📍 بعد ازاں جسٹس چودھری ملتان سے واپس آئے تو راؤ عبدالرحیم نے پھر سے درخواست کی پیروی کی نامعلوم وجوہات کی بنا پر وہ درخواست واقعی جسٹس چودھری کی عدالت میں لگ گئی۔ اور اس مرتبہ بھی جوڈیشیل گاؤن پہنے ایک ایکٹیوسٹ جسٹس چودھری عبدالعزیز نے بلاسفیمی گینگ کی درخواست قبول کرتے ہوئے اسپیشل برانچ کی رپورٹ کی بنیاد پر اس گینگ کے خلاف اداروں کو سخت ایکشن لینے سے روک دیا۔ اگرچہ یہ حکم بعد میں قائم نہ رہ سکا۔
(جاری ہے 👇)
450 انسانی زندگیاں داؤ پر ہیں ، سینکڑوں خاندانوں زندگیاں خطرے میں ڈالنے والا شخص کون ہے ؟
جب یہ کچھ بھی نہیں تو اسے اتنا پروٹوکول کون دلوا رہا ہے ؟
سوال تو بنتا ہے ۔۔۔۔!
ہمارے بچوں کی زندگیاں مذاق نہیں اور نہ ہی ہمارے بچے کیڑے مکوڑے ہیں جنہیں یہ زومبیز حلوہ سمجھ کر کھا جائیں گے۔ ایسے نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔۔
Voice of the Victims of Blasphemy Business Group retweeted
کتنے گھر اجاڑ دیئے ان کالی بھیڑوں نے 🐉
@SenatorMumtaz
@AllamaRajaNasir
@AbidSherAli
@SyedAliZafar1
@SMasroorAhsan
@Anny_Marri
@AkMashal
@PoonjoM
@BBCUrdu
@BBC
@BBCWorld
Voice of the Victims of Blasphemy Business Group retweeted
Replying to @SenatorMumtaz
@SenatorMumtaz
@AllamaRajaNasir
@AbidSherAli
@SyedAliZafar1
@SMasroorAhsan
@Anny_Marri
@AkMashal
@PoonjoM انسانی حقوق کی کمیٹی اب بلاسفیمی گینگ کے قصائی قیصر راجہ کواپنا سٹیج دے رہی ہے جو کہ مسلمانوں کو اپنی مخالفت میں قادیانیت کا ٹیگ لگا کر انکی زندگیاں خطرے میں ڈالتا ہے 🔥 👇
Voice of the Victims of Blasphemy Business Group retweeted
بریکنگ نیوز
ٹرانسجینڈر / خواجہ سرا کمیونٹی کو ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کر چیرنے کی دھمکیاں دینے والا یہ شخص سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں بطور ’’ایکسپرٹ‘‘ مدعو کیا جا رہا ہے۔
@SenatePakistan @HRCPakistan @HRCP87 @amnestysasia
🚨🚨🚨📍 انتہائی تشویشناک:
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں قیصر احمد راجہ بطور ’’ایکسپرٹ‘‘ مدعو؟
👈 جی آپ نے درست سنا "انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی میں"
مظلوم خاندانوں کے زخموں پر نمک پاشی!
📍قیصر احمد راجہ نامی یوٹیوبر کو 15 اکتوبر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں بلاسفیمی بزنس گروپ کے بنائے گئے کیسز پر بطور ’’ماہر‘‘ رائے دینے (Expert Opinion) کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔
کیا ہی شاندار انتخاب ہے ایک ماہر کا! آخر یہ کر کون رہا ہے ؟ سمجھ آرہا ہے آپ کو ؟؟؟؟؟
📍وہ شخص جس نے زیرِ سماعت مقدمات کے ملزمان کو بلاسفیمَر قرار دیا،
📍وہ شخص جس نے ان کے والدین کے خلاف نفرت انگیز مہم چلائی،
📍 وہ شخص جس نے ان مقدمات کی سماعت کرنے والے ججز کو نفرت کا نشانہ بنایا۔
📍 وہ شخص جس نے ہمارے وکیل جناب حافظ آصف علی تمبولی صاحب کو کافر قرار دے کر ان کے نکاح پر سوال اٹھائے۔
📍وہ شخص جس کے طرزِ عمل سے انجینئر محمد علی مرزا سمیت دیگر افراد کی زندگیاں خطرے میں پڑیں۔
📍 وہ شخص جس نے ایک نابینا زیرِ حراست ملزم کا میڈیا ٹرائل کیا،
📍 وہ شخص جس نے ہائی کورٹ میں سماعتوں سے ٹھیک ایک دو دن قبل کیسز کو سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی سے اچھالنے کی کوشش کی تاکہ ججز پر پریشر ڈالا جائے ۔
📍وہ شخص جس نے ہائی کورٹ کے بریت کے فیصلوں کو ’’تاریخ کے سیاہ ترین فیصلے‘‘ قرار دیا،
📍وہ شخص جس نے ججز کو قانون سکھانے کی بات کی،
📍وہ شخص جس نے عوام کو اشتعال دلانے کے لیے زیرِ سماعت مقدمات کی فائلیں شائع کیں،
📍وہ شخص جس نے ضمانت دینے والے ججز کو ہراساں کیا،
📍 وہ شخص جس نے وردی میں ملبوس ایک نوجوان کیڈٹ کی شناخت ظاہر کرکے اس کے خلاف فحش اور تضحیک آمیز الزامات پھیلائے۔
📍 وہ شخص جس نے وفات پا جانے والے مظلوموں کی بھی توہین کی۔
🔵اور دوسری طرف اصل متاثرین آج بھی انصاف کے منتظر ہیں!
🔵وہ خاندان جن کے بیٹے جیلوں میں بند ہیں۔
وہ پانچ خاندان جن کے بچے قتل ہوچکے ہیں۔ وہ جو زندگی سلامت صحنت مند حالت میں گھروں سے ہنی ٹریپ کرکے اغوا کئے گئے تھے جو قتل ہوچکے اور اب کبھی اپنے گھروں کو واپس نہیں آئیں گے۔
🔵وہ والدین جو اپنے نوجوان بیٹوں کی واپسی کا انتظار کرتے کرتے دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر ان کے بچے انہیں واپس نہ ملے۔
🔵وہ خاندان جو طویل حراست، تشدد اور سالہا سال سے انصاف کے لیے دربدر ہیں، لیکن انہیں کمیٹی کے اجلاس میں بلانا تو دور، ملنے تک کا موقع نہیں دیا گیا۔
🔵 یہ کیسی انسانی حقوق کی کمیٹی ہے؟
🔵 ایک ایسے شخص کو ماہر بنا کر بلایا جا رہا ہے جس پر زیرِ سماعت ملزمان، ان کے خاندانوں، وکلا اور ججز کے خلاف نفرت پھیلانے کے سنگین الزامات ہیں، جبکہ ان مقدمات سے تباہ ہونے والے خاندانوں کو سنا تک نہیں جا رہا!
🔵قیصر احمد راجہ نہ ان مقدمات کا مدعی ہے، نہ ان کا وکیل، نہ جج ، نہ کوئی سرکاری اہلکار نہ عہدیدار نہ پارٹی اور نہ ہی ان مقدمات میں کسی قانونی حیثیت سے فریق ہے۔ پھر اسے کس بنیاد پر یہ پلیٹ فارم دیا جا رہا ہے؟ اور یہ فیصلہ کون کر رہا ہے؟
🔵 اگر اسے اپنی رائے پیش کرنے کا حق دیا جا رہا ہے تو مظلوم خاندانوں کو بھی اپنی شہادتیں، ثبوت اور اپنی داستانِ الم پیش کرنے کا برابر موقع دیا جائے۔ اگر ہمیں سننے کے لیے نہیں بلایا جاتا تو پھر اسے بھی یہ خصوصی موقع نہ دیا جائے۔
🔵 اگر آپ انصاف اور برابری کا سلوک نہیں کرسکتے تو براہِ کرم اپنی کمیٹی کے نام سے ’’انسانی حقوق‘‘ کے الفاظ ہٹا دیں!
🔵انسانی حقوق کے تحفظ کا دعویٰ کرنے والے ادارے نفرت کے فروغ کے الزامات کا سامنا کرنے والوں کو بار بار پلیٹ فارم کیسے دے سکتے ہیں، جبکہ انصاف مانگنے والے خاندانوں کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے؟
🔵یہ انتہائی دکھ، تکلیف اور ناانصافی کا معاملہ ہے۔ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے کہ اس کی مخلوق کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے۔ اور انسانی حقوق والے کیا کر رہے ہیں۔ کون اللہ کی بجائے اس کی مخلوق اور زومبیز کے جتھوں سے ڈر رہا ہے ۔
🔵🚨📍 ہمارا مطالبہ واضح ہے: مظلوم خاندانوں کو برابر نمائندگی، منصفانہ سماعت اور انصاف فراہم کیا جائے!
#JusticeFor450 #450LivesMatter
#JusticeForAbdullahShah
#WeAreNotInsects
#Blasphemy
@UNHumanRights
@nchrofficial
@HRCPakistan
@HRCP87
@SenatePakistan
@amnestysasia
@amnesty
اناللہ وانا الیہ راجعون ۔۔
ایک اور مسیحی کا گھر نذر آتش ؟
یہ نفرت کہاں سے آتی ہے ؟
اس نفرت کے پرچارک کون ہیں ؟
وہ جو دوسروں کو اشتعال دلاتے ہیں اور بعد میں کہتے ہیں کہ ہم نے تو نہیں کہا تھا کہ یہ کرو ۔۔۔۔
اس نفرت کو روکنا ہوگا ورنہ یہ ہمارے پورے معاشرے کو کھا جائے گی کوئی بھی محفوظ نہیں نہ اقلیت نہ اکثریت ۔۔۔۔۔
Voice of the Victims of Blasphemy Business Group retweeted
Replying to @VictimsofB_Gang
If such radicals are going to be in invited in Senate’s human rights committee, atleast other side should be invited to present their case too @Anny_Marri @FarhatullahB @AbidSherAli
Voice of the Victims of Blasphemy Business Group retweeted
یہ تو حد ہی ہو گئی ہے ۔ انسانی حقوق کی کمیٹی انسانی حقوق کے خلاف کام کرنے والے لوگوں کو مدعو کر رہی ہے؟
اس حکومت کو شرم سے ڈوب مرنا چاہیے
🚨🚨🚨📍 انتہائی تشویشناک:
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں قیصر احمد راجہ بطور ’’ایکسپرٹ‘‘ مدعو؟
👈 جی آپ نے درست سنا "انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی میں"
مظلوم خاندانوں کے زخموں پر نمک پاشی!
📍قیصر احمد راجہ نامی یوٹیوبر کو 15 اکتوبر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں بلاسفیمی بزنس گروپ کے بنائے گئے کیسز پر بطور ’’ماہر‘‘ رائے دینے (Expert Opinion) کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔
کیا ہی شاندار انتخاب ہے ایک ماہر کا! آخر یہ کر کون رہا ہے ؟ سمجھ آرہا ہے آپ کو ؟؟؟؟؟
📍وہ شخص جس نے زیرِ سماعت مقدمات کے ملزمان کو بلاسفیمَر قرار دیا،
📍وہ شخص جس نے ان کے والدین کے خلاف نفرت انگیز مہم چلائی،
📍 وہ شخص جس نے ان مقدمات کی سماعت کرنے والے ججز کو نفرت کا نشانہ بنایا۔
📍 وہ شخص جس نے ہمارے وکیل جناب حافظ آصف علی تمبولی صاحب کو کافر قرار دے کر ان کے نکاح پر سوال اٹھائے۔
📍وہ شخص جس کے طرزِ عمل سے انجینئر محمد علی مرزا سمیت دیگر افراد کی زندگیاں خطرے میں پڑیں۔
📍 وہ شخص جس نے ایک نابینا زیرِ حراست ملزم کا میڈیا ٹرائل کیا،
📍 وہ شخص جس نے ہائی کورٹ میں سماعتوں سے ٹھیک ایک دو دن قبل کیسز کو سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی سے اچھالنے کی کوشش کی تاکہ ججز پر پریشر ڈالا جائے ۔
📍وہ شخص جس نے ہائی کورٹ کے بریت کے فیصلوں کو ’’تاریخ کے سیاہ ترین فیصلے‘‘ قرار دیا،
📍وہ شخص جس نے ججز کو قانون سکھانے کی بات کی،
📍وہ شخص جس نے عوام کو اشتعال دلانے کے لیے زیرِ سماعت مقدمات کی فائلیں شائع کیں،
📍وہ شخص جس نے ضمانت دینے والے ججز کو ہراساں کیا،
📍 وہ شخص جس نے وردی میں ملبوس ایک نوجوان کیڈٹ کی شناخت ظاہر کرکے اس کے خلاف فحش اور تضحیک آمیز الزامات پھیلائے۔
📍 وہ شخص جس نے وفات پا جانے والے مظلوموں کی بھی توہین کی۔
🔵اور دوسری طرف اصل متاثرین آج بھی انصاف کے منتظر ہیں!
🔵وہ خاندان جن کے بیٹے جیلوں میں بند ہیں۔
وہ پانچ خاندان جن کے بچے قتل ہوچکے ہیں۔ وہ جو زندگی سلامت صحنت مند حالت میں گھروں سے ہنی ٹریپ کرکے اغوا کئے گئے تھے جو قتل ہوچکے اور اب کبھی اپنے گھروں کو واپس نہیں آئیں گے۔
🔵وہ والدین جو اپنے نوجوان بیٹوں کی واپسی کا انتظار کرتے کرتے دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر ان کے بچے انہیں واپس نہ ملے۔
🔵وہ خاندان جو طویل حراست، تشدد اور سالہا سال سے انصاف کے لیے دربدر ہیں، لیکن انہیں کمیٹی کے اجلاس میں بلانا تو دور، ملنے تک کا موقع نہیں دیا گیا۔
🔵 یہ کیسی انسانی حقوق کی کمیٹی ہے؟
🔵 ایک ایسے شخص کو ماہر بنا کر بلایا جا رہا ہے جس پر زیرِ سماعت ملزمان، ان کے خاندانوں، وکلا اور ججز کے خلاف نفرت پھیلانے کے سنگین الزامات ہیں، جبکہ ان مقدمات سے تباہ ہونے والے خاندانوں کو سنا تک نہیں جا رہا!
🔵قیصر احمد راجہ نہ ان مقدمات کا مدعی ہے، نہ ان کا وکیل، نہ جج ، نہ کوئی سرکاری اہلکار نہ عہدیدار نہ پارٹی اور نہ ہی ان مقدمات میں کسی قانونی حیثیت سے فریق ہے۔ پھر اسے کس بنیاد پر یہ پلیٹ فارم دیا جا رہا ہے؟ اور یہ فیصلہ کون کر رہا ہے؟
🔵 اگر اسے اپنی رائے پیش کرنے کا حق دیا جا رہا ہے تو مظلوم خاندانوں کو بھی اپنی شہادتیں، ثبوت اور اپنی داستانِ الم پیش کرنے کا برابر موقع دیا جائے۔ اگر ہمیں سننے کے لیے نہیں بلایا جاتا تو پھر اسے بھی یہ خصوصی موقع نہ دیا جائے۔
🔵 اگر آپ انصاف اور برابری کا سلوک نہیں کرسکتے تو براہِ کرم اپنی کمیٹی کے نام سے ’’انسانی حقوق‘‘ کے الفاظ ہٹا دیں!
🔵انسانی حقوق کے تحفظ کا دعویٰ کرنے والے ادارے نفرت کے فروغ کے الزامات کا سامنا کرنے والوں کو بار بار پلیٹ فارم کیسے دے سکتے ہیں، جبکہ انصاف مانگنے والے خاندانوں کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے؟
🔵یہ انتہائی دکھ، تکلیف اور ناانصافی کا معاملہ ہے۔ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے کہ اس کی مخلوق کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے۔ اور انسانی حقوق والے کیا کر رہے ہیں۔ کون اللہ کی بجائے اس کی مخلوق اور زومبیز کے جتھوں سے ڈر رہا ہے ۔
🔵🚨📍 ہمارا مطالبہ واضح ہے: مظلوم خاندانوں کو برابر نمائندگی، منصفانہ سماعت اور انصاف فراہم کیا جائے!
#JusticeFor450 #450LivesMatter
#JusticeForAbdullahShah
#WeAreNotInsects
#Blasphemy
@UNHumanRights
@nchrofficial
@HRCPakistan
@HRCP87
@SenatePakistan
@amnestysasia
@amnesty
Voice of the Victims of Blasphemy Business Group retweeted
Replying to @juipakofficial
یہ کیسا انصاف ہے؟ انسانی حقوق کمیٹی ایسے شخص کو کیوں مدعو کر رہی ہے جس کے کردار، بیانات اور مبینہ سرگرمیوں پر اتنے سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں؟
یہ انتہائی افسوس ناک اور تشویش ناک معاملہ ہے کہ ایک طرف انسانی حقوق کی بات کی جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف ایسے شخص کو دعوت دی جا رہی ہے جس پر الزام ہے کہ وہ ایسے گروہوں کی حمایت میں ساتھ ہوتا ہے جن کے حوالے سے بچوں کو مبینہ طور پر پھنسائے جانے، ان کے خلاف مقدمات بننے اور ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے سنگین خدشات سامنے آتے رہے ہیں۔
🚨🚨🚨📍 انتہائی تشویشناک:
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں قیصر احمد راجہ بطور ’’ایکسپرٹ‘‘ مدعو؟
👈 جی آپ نے درست سنا "انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی میں"
مظلوم خاندانوں کے زخموں پر نمک پاشی!
📍قیصر احمد راجہ نامی یوٹیوبر کو 15 اکتوبر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں بلاسفیمی بزنس گروپ کے بنائے گئے کیسز پر بطور ’’ماہر‘‘ رائے دینے (Expert Opinion) کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔
کیا ہی شاندار انتخاب ہے ایک ماہر کا! آخر یہ کر کون رہا ہے ؟ سمجھ آرہا ہے آپ کو ؟؟؟؟؟
📍وہ شخص جس نے زیرِ سماعت مقدمات کے ملزمان کو بلاسفیمَر قرار دیا،
📍وہ شخص جس نے ان کے والدین کے خلاف نفرت انگیز مہم چلائی،
📍 وہ شخص جس نے ان مقدمات کی سماعت کرنے والے ججز کو نفرت کا نشانہ بنایا۔
📍 وہ شخص جس نے ہمارے وکیل جناب حافظ آصف علی تمبولی صاحب کو کافر قرار دے کر ان کے نکاح پر سوال اٹھائے۔
📍وہ شخص جس کے طرزِ عمل سے انجینئر محمد علی مرزا سمیت دیگر افراد کی زندگیاں خطرے میں پڑیں۔
📍 وہ شخص جس نے ایک نابینا زیرِ حراست ملزم کا میڈیا ٹرائل کیا،
📍 وہ شخص جس نے ہائی کورٹ میں سماعتوں سے ٹھیک ایک دو دن قبل کیسز کو سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی سے اچھالنے کی کوشش کی تاکہ ججز پر پریشر ڈالا جائے ۔
📍وہ شخص جس نے ہائی کورٹ کے بریت کے فیصلوں کو ’’تاریخ کے سیاہ ترین فیصلے‘‘ قرار دیا،
📍وہ شخص جس نے ججز کو قانون سکھانے کی بات کی،
📍وہ شخص جس نے عوام کو اشتعال دلانے کے لیے زیرِ سماعت مقدمات کی فائلیں شائع کیں،
📍وہ شخص جس نے ضمانت دینے والے ججز کو ہراساں کیا،
📍 وہ شخص جس نے وردی میں ملبوس ایک نوجوان کیڈٹ کی شناخت ظاہر کرکے اس کے خلاف فحش اور تضحیک آمیز الزامات پھیلائے۔
📍 وہ شخص جس نے وفات پا جانے والے مظلوموں کی بھی توہین کی۔
🔵اور دوسری طرف اصل متاثرین آج بھی انصاف کے منتظر ہیں!
🔵وہ خاندان جن کے بیٹے جیلوں میں بند ہیں۔
وہ پانچ خاندان جن کے بچے قتل ہوچکے ہیں۔ وہ جو زندگی سلامت صحنت مند حالت میں گھروں سے ہنی ٹریپ کرکے اغوا کئے گئے تھے جو قتل ہوچکے اور اب کبھی اپنے گھروں کو واپس نہیں آئیں گے۔
🔵وہ والدین جو اپنے نوجوان بیٹوں کی واپسی کا انتظار کرتے کرتے دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر ان کے بچے انہیں واپس نہ ملے۔
🔵وہ خاندان جو طویل حراست، تشدد اور سالہا سال سے انصاف کے لیے دربدر ہیں، لیکن انہیں کمیٹی کے اجلاس میں بلانا تو دور، ملنے تک کا موقع نہیں دیا گیا۔
🔵 یہ کیسی انسانی حقوق کی کمیٹی ہے؟
🔵 ایک ایسے شخص کو ماہر بنا کر بلایا جا رہا ہے جس پر زیرِ سماعت ملزمان، ان کے خاندانوں، وکلا اور ججز کے خلاف نفرت پھیلانے کے سنگین الزامات ہیں، جبکہ ان مقدمات سے تباہ ہونے والے خاندانوں کو سنا تک نہیں جا رہا!
🔵قیصر احمد راجہ نہ ان مقدمات کا مدعی ہے، نہ ان کا وکیل، نہ جج ، نہ کوئی سرکاری اہلکار نہ عہدیدار نہ پارٹی اور نہ ہی ان مقدمات میں کسی قانونی حیثیت سے فریق ہے۔ پھر اسے کس بنیاد پر یہ پلیٹ فارم دیا جا رہا ہے؟ اور یہ فیصلہ کون کر رہا ہے؟
🔵 اگر اسے اپنی رائے پیش کرنے کا حق دیا جا رہا ہے تو مظلوم خاندانوں کو بھی اپنی شہادتیں، ثبوت اور اپنی داستانِ الم پیش کرنے کا برابر موقع دیا جائے۔ اگر ہمیں سننے کے لیے نہیں بلایا جاتا تو پھر اسے بھی یہ خصوصی موقع نہ دیا جائے۔
🔵 اگر آپ انصاف اور برابری کا سلوک نہیں کرسکتے تو براہِ کرم اپنی کمیٹی کے نام سے ’’انسانی حقوق‘‘ کے الفاظ ہٹا دیں!
🔵انسانی حقوق کے تحفظ کا دعویٰ کرنے والے ادارے نفرت کے فروغ کے الزامات کا سامنا کرنے والوں کو بار بار پلیٹ فارم کیسے دے سکتے ہیں، جبکہ انصاف مانگنے والے خاندانوں کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے؟
🔵یہ انتہائی دکھ، تکلیف اور ناانصافی کا معاملہ ہے۔ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے کہ اس کی مخلوق کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے۔ اور انسانی حقوق والے کیا کر رہے ہیں۔ کون اللہ کی بجائے اس کی مخلوق اور زومبیز کے جتھوں سے ڈر رہا ہے ۔
🔵🚨📍 ہمارا مطالبہ واضح ہے: مظلوم خاندانوں کو برابر نمائندگی، منصفانہ سماعت اور انصاف فراہم کیا جائے!
#JusticeFor450 #450LivesMatter
#JusticeForAbdullahShah
#WeAreNotInsects
#Blasphemy
@UNHumanRights
@nchrofficial
@HRCPakistan
@HRCP87
@SenatePakistan
@amnestysasia
@amnesty
Voice of the Victims of Blasphemy Business Group retweeted
Replying to @VictimsofB_Gang
Agreed. Both sides should be heard. And I’m confident the committee Chair will agree as well.

























