"ذہنی طور پر عمران خان آپ لوگوں سے زیادہ مضبوط ہے، لڑ کر مر جائے گا، ذہنی طور پر نہیں ٹوٹے گا۔ آپ لوگوں کا عمران خان پر غصہ بجا، مگر آپ پاکستان کی خاطر اپنا غصہ تھوک پائیں گے، بظاہر ناممکن ہے، کیونکہ آپ لوگ بھی اپنی انا اور عناد کے حصار میں ہیں۔ عمران خان اپنی سیاسی مقبولیت کے عروج پر ہے، مقبولیت ساتویں آسمان پر ہے۔ ماننے میں شرم و حیا مانع نہ ہو تو وطنی تاریخ میں پہلا پاکستانی، جو بلوچستان، سندھ، فاٹا، کشمیر اور گلگت بلتستان کے گاؤں گاؤں، قریہ قریہ، پہاڑوں، گھاٹیوں، صحراؤں اور کچے کی دلدلوں میں بدرجۂ اتم موجود ہے، غیر معمولی مقبولیت کے جھنڈے گاڑھے ہوئے ہے"۔ حفیظ اللہ نیازی
@hafeezullah_k
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں
Stephen Rox retweeted
ہمارا زمینی بارڈر بند ہے، اسی طرح سے چائنہ کے ساتھ بھی موسم کی وجہ سے بند ہو جائے گا۔ ایک ملک جس کے چاروں طرف سے بارڈر بند ہو جائیں، کیا وہ اقتصادی طور پر آگے بڑھ سکتا ہے؟ ہم افغانستان سے سینٹرل ایشیا تک جا سکتے ہیں اور ایران کے ذریعے کہاں تک جا سکتے ہیں، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان کو چاروں طرف سے بند کر دیا گیا ہے۔ اس سے پاکستان، جو پہلے ہی معاشی طور پر بحران کا شکار ہے، کیا کامیاب ہو جائے گا؟
کیا یہ حل ہے کہ آپ آئیں، ایم این ایز (MNAs) کو اٹھائیں، سینیٹرز کو اٹھائیں، اسی طرح سے ایم پی ایز (MPAs) کو اٹھائیں، لوگوں کو جیلوں میں ڈالیں، جیلوں میں جو قیدی ہیں ان کو ان کے حقوق نہ دیں، جو سیاستدان ہیں ان کی بہنوں کو، بیویوں کو، سب کو اٹھائیں، اور بہانہ یہ رکھیں کہ پہلے فلاں جگہ ہمارے ساتھ ایسا کیا گیا تھا، اب ہم ایسا کر رہے ہیں؟ یہ کون سا جواز ہے؟ اگر وہ ظلم تھا تو آپ ظلم کیوں کر رہے ہو؟ اگر وہ لاقانونیت تھی تو تم یہ لاقانونیت کیوں کر رہے ہو؟ کیا جواز ہے آپ کے پاس؟
بالآخر ہم آئین کے سامنے بھی، قانون کے سامنے بھی، عوام کے سامنے بھی اور خدا کے سامنے بھی جواب دہ ہیں۔ قرآن خود کہتا ہے:
"فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ، وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ"۔
قیامت کے دن جان نہیں چھوٹے گی؛ جو دیکھتے ہیں ان سے بھی، جو بولتے ہیں ان سے بھی، سب سے۔ سب خدا کی بارگاہ میں جواب دہ ہیں، کوئی معصوم نہیں ہے، ہم سب سے غلطیاں اور گناہ ہو سکتے ہیں۔ ہم سب خدا کی بارگاہ میں جواب دہ ہیں، لیکن یہ جو اس ملک کے اندر ہوا ہے، خدا گواہ ہے کہ یہ تباہی اور بربادی ہوئی ہے۔
ایک پورے صوبے کو آپ نے دیوار کے ساتھ لگا دیا ہے اور آپ ان کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ باہر کیوں نہیں نکلتے ہو، کہاں چلے گئے ہو؟ لوگوں کا خاموش ہو جانا بھی بہت خطرناک ہوتا ہے۔ جب وہاں کے جوان یہ سمجھیں گے کہ الیکشن کے ذریعے ہم اپنے حقوق حاصل نہیں کر سکتے، کورٹ سے حاصل نہیں کر سکتے، احتجاج نہیں کر سکتے، تو پھر وہ کہاں جائیں گے اور کیا کریں گے؟ آئندہ کے پی کے (KPK) کے اندر جو بھی تباہی و بربادی ہو گی، بدامنی بڑھے گی، یا جو کچھ بھی ہو گا، اس کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس کے حق میں ووٹ دیا ہے اور جا کر وہاں بیٹھ گئے ہیں۔
پہلے بھی پاکستان میں کئی جگہ آپ گئے؛ اب جی بی آپ کے پاس چلا گیا، کشمیر چلا گیا، بلوچستان چلا گیا، سندھ چلا گیا، پنجاب چلا گیا۔ یہ بھی رہ گیا تھا، یہ بھی آپ نے نگل لیا ہے، کھا لیا ہے، لیکن یہ گلے کی ہڈی بنے گی۔ تم سمجھتے ہو کہ تم نے نگل لیا ہے، لیکن یہ گلے کی ہڈی ہے، نہ نگل سکو گے اور نہ اگل سکو گے۔
میں جو کہہ رہا ہوں اپنے ضمیر اور وجدان کے مطابق کہہ رہا ہوں، کیونکہ یہ میرا مادرِ وطن ہے۔ ہم نے پاکستان سے باہر نہیں چلے جانا، نہ ہمارے پاکستان سے باہر بینک بیلنس ہیں۔ اس لیے پاکستان کے ساتھ کھلواڑ اور تباہی کی گئی ہے۔ دسمبر 1970ء میں پاکستان کا الیکشن ہوا، آپ نے عوام کے مینڈیٹ کو قبول نہیں کیا اور آپ کا پاکستان ٹوٹ گیا، بنگالی جدا ہو گئے۔ دیکھ لیں، یہ بہت خطرناک ہے۔
وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان، قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس
Stephen Rox retweeted
فوج کی یہی سب سے بڑی غلطی ہے جس نے سوشل میڈیا پر اسکے خلاف نفرت کو ملٹی پلائی کیا ۔سوشل میڈیا پر اظہار رائے سے اختلاف پر اسکے گھر والوں کو اٹھاتے ہیں ،ڈراتے دھمکاتے ہیں اور پھر وہ نفرت پورے خاندان تک پھیل جاتی ہے پھر لوگ گمنام ہو کر دس مخلتف اکاونٹس سے فوج سے نفرت کا کھل کر اظہار کرتے ہیں پھر عوام انکے جنازوں پر بھی ہنسنے والے ایموجیز کمنٹ کرتے ہیں اسکے پیچھے یہی واقعات ہوتے ہیں ۔
Stephen Rox retweeted
ایم این اے مولانا نسیم شاہ کی گرفتاری افسوسناک ہے۔ عوامی نمائندوں کو اس طرح تضحیک آمیز انداز میں گرفتار کرنا جمہوری اقدار اور عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے۔
Stephen Rox retweeted
عمران خان ہمارے معاشرے کی ساخت کو سمجھ گئے تھے جب ان سے ایک بار کسی نے پوچھا کہ آپ نے پارٹی میں کچھی ایسے لوگ لے لئے ہیں جن پہ سوالات اٹھ رہے ہیں تو انہوں نے کہا تھا فرشتے کہاں سے لاؤں؟ ہم عام لوگ ڈر جاتے ہیں یا ہمیں خواہشات فتح کرلیتی ہیں عمران خان ایک ہی ہے!
Stephen Rox retweeted
یہ جو بنا وارنٹ کے پی چادر چاردیواری کا تقدس پامال کر رہیں ہیں یہ اگر عوام نے آگے سے کچھ کردیا تو پھر کیا یہ شہید ہونگیں؟
یہ کے پی میں جو کرہیں ہیں وہ بلوچستان ہی بنے گا اگلا۔۔۔۔
Stephen Rox retweeted
اس کے پاس بھی لگتا ہے مریم نواز کی طرح لوگوں کی ویڈیوز ہیں
مشال یوسفزئی کا فتنہ فساد فتور پارٹی کو ڈبو رہا ہے
یہ کورکمیٹی کی میٹنگ کے دوران اپنے زاتی صحافی اور چند ہمدرد اکاونٹس کے زریعے جھوٹا پراپیگنڈہ کرتی ہے، یہ پارٹی کی تمام اندرونی کہانی منظر عام پر لاتی ہے اور اس کہانی کی حقیقت بتانے کی بجاۓ اپنی زاتی پسند ناپسند اور خواہشات کو شامل کر کے پوسٹ کرواتی ہے، اس کی ایسی اوچھی اور نیچ حرکتوں کیوجہ سے کور کمیٹی کی حقیقی کہانی ہمیں سامنے لانا پڑتی ہے
یہ تھوڑے میں زیادہ ڈھل گیا ہے، اسے اس کی اوقات، قابلیت اور اہلیت سے کہیں بڑھ کر مقام مل گیا ہے، یہ گلی محلے میں لڑنے والی ایک فتنہ فساد پھیلانی والی عیار مکار خاتون ہے جس نے PTI اور اپنے عہدے کو سرکس بنا کر رکھ دیا ہے
کل کور کمیٹی کی میٹنگ کو اس نے مکمل سیاق و سباق سے ہٹ کر اپنے زاتی صحافی اور ہمدرد اکاونٹس کے زریعے PTI کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈہ کروایا
آج اس عورت نے PTI کے اکاونٹس کے خلاف کیسز کرنے اور ان کے پاکستان میں لنکس کو انجام تک پہنچانے تک کی دھمکی دی، جب اس کے باس جرنیل ان کا کچھ نہیں بیگاڑ سکے تو یہ فتنہ کیا بیگاڑ لے گی
اس فتنہ کے جھوٹ اور سازشوں کی لمبی لسٹ ہے، جیسے اس نے ارسلان بلوچ کے اکاؤنٹ کو شہباز گل کا اکاؤنٹ اور وقار خان کو خدیجہ شاہ کا اکاؤنٹ قرار دے کر اپنا بغض نکالا، یہ اپنی ہر زاتی خواہش اور مفاد کو جھوٹ کے لبادے میں اوڑھ کر سچ بنا کر بیچنے کی کوشش کرتی ہے
Stephen Rox retweeted
اہم پیغام
فیس بک پر ہنسنے والی ایموجیز ( 😂 )کے سیلاب نے فوج کو بہت زیادہ زچ کردیا ہے۔ اس کے ہنگامی جوابات تیار کیے جارہے ہیں ۔ اس سے جان چھڑانے کے مختلف طریقے سوچے جارہے ہیں۔ اپنی ویڈیوز ، ولاگز ، پوسٹس میں اسکی بار بار نشاندہی کریں۔ یہ عوامی ردعمل کے اظہار کا بہترین طریقہ ہے۔ جتنے زیادہ لوگ اس ایکٹویٹی میں شریک ہوں گے فوج کے لیے انکو ٹارگٹ کرنا مشکل ہوجائے گا۔
اس ردعمل کو ووٹ بنا دیجیے ، اسے آئینہ بنا دیجیے ، اسے بائیکاٹ جیسی مہم بنا دیجیے۔ پاکستان میں 100 ملین یعنی دس کروڑ لوگ فیس بک استعمال کرتے ہیں۔ یہ پاکستان میں کل کاسٹ ہونے والے ووٹس سے بھی ڈبل تعداد ہے۔ ہر فوجی ، ہر افسر اسکے خاندان کا ایک ایک شخص فیس بک دیکھتا ہے۔ ان کو اپنے جذبات دکھائیں ۔ ٹریس ہونے کا خطرہ ہے تو متبادل اکاونٹس بنا لیں لیکن حصہ ضرور ڈالیں شکریہ۔
Stephen Rox retweeted
🚨پہاڑوں کے اندر یہ دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں!! جن کا سودا کرنے کے لیے اتنا بڑا کھیل رچایا گیا... یہ قیمتی پتھر سونے اور چاندی سے زیادہ ویلیو رکھتے ہیں
Stephen Rox retweeted
Exclusive Breaking 🚨🚨🚨🚨
کور کمانڈر پشاور کی آدھی رات ہنگامی میٹنگ۔ پختون خوآہ کے معدنیات پر حیران کن واردات۔
Stephen Rox retweeted
"KP اور بلوچستان میں فرق صرف تابعداری کا ہے، اگر آپ سرفراز بگٹی کی طرح سر جھکائے ہاتھ باندھے جی حضوری کرینگے تو چاہے آپکا صوبہ جلتا رہے، لاشیں گرتی رہیں اور شہروں پر قبضہ ہو جائے تو پھر بھی وہ سب قابل قبول ہے، کیوں، کیونکہ آپ ہاتھ باندھے سر جھکائے کھڑے ہیں، اب دہشتگردی بھی good اور bad میں بدل چکی ہے، بلوچستان کی دہشتگردی اس لئے قابل قبول ہے کیونکہ وہاں کی حکومت فرمانبردار اور ہاں میں ہاں ملاتی ہے جبکہ کام ٹکے کا نہیں کرتے اور کرپشن کی کہانیاں ہیں لیکن وہ سب قابل قبول ہے کیونکہ معاملہ دہشتگردی یا نالائقی کا نہیں بلکہ تابعداری کا ہے، اقتدار کی بلندی پر آکسیجن کم ہو جاتی ہے اور عقل کام کرنا چھوڑ دیتی ہے اور اسوقت یہی ہو رہا ہے"
سینئر صحافی @majidsnizami
@DRTPakistan
youtu.be/CP9gSa7aYKc
Stephen Rox retweeted
انہوں نے اس پولیس کو عوامی نمائندؤں کیخلاف لگانا شروع کردیا ہے جو دہشتگردی کیخلاف فرنٹ پر لڑ رہے ہیں۔ یہی عوامی نمائندے اور عوام شہداء کی جنازوں میں شرکت کرتے تھے۔
اگر خیبرپختونخوا پولیس کا یہ رویہ اختیار کر رہے ہیں عوامی نمائندے کیساتھ تو کیا عوام دہشتگردی کی جنت میں اپنی پولیس کیساتھ کھڑی ہوگی؟ یہ رویے تو ہمارے دلوں میں نفرت بو رہی ہے۔ جن کے شہادتوں پر خفا ہوتے ہیں۔ انکے کیلئے ہماری دلوں میں کیا درد رہ جائے گا؟
#گورنر_راج_نامنظور
Stephen Rox retweeted
کیونکہ اکثر لوگوں کی یاداشت کمزور ہے تویاددہانی ضروری ہے۔ فوج اور ذہنی مریض کے مسلط ہونے سے پہلے عمران خان کی حکومت میں
پاکستان کا گروتھ ریٹ چھ فیصد تھا
پاکستان کی ایکسپورٹس میں نو ارب ڈالرز کا اضافہ ہوا تھا
پاکستان میں ڈرون حملے ختم ہوچکے تھے
پاکستان میں دہشتگردی پچھلی چار حکومتوں میں سب سے کم تھی
پاکستان میں نئی یونیورسٹیز اور نئے ہسپتال بن رہے تھے
ایک قتل ایک اغواء پر ایک زیادتی پر کہرام مچ جاتا تھا
تین سال میں روزگار کے ساٹھ لاکھ مواقع پیدا ہوئے تھے
قبائلی علاقوں کو پختونخواہ میں ضم کیا گیا تھا
آزاد لوگ ججز لگائے جارہے تھے
تاحیات استثنی کی بجائے صحت قانون اور پولیس ایکٹ جیسے قانون بن رہے تھے
سڑکوں کی فی کلومیٹر لاگت کم ہوئی تھی
کرپشن پر اپنی پارٹی کے لوگوں کا احتساب ہورہا تھا
Stephen Rox retweeted
فرانس میں اب تک مظاہرین نے تمام بڑی بلڈنگوں پر قبضہ کرلیا، سٹور لوٹ لیے، پولیس کو سرینڈر تک کرنا پڑا لیکن فرانس کا صدر اسے ٹرمپ کی ایران پر جنگ کو زمہ دار ٹھہرا رہا ہے اپنی عوام کو دہشت گرد نہیں کہہ رہا، فرانس کا آرمی چیف یا فوج میدان میں گولیاں چلاتے نظر نہیں آرہی
Stephen Rox retweeted
یہ بندہ پہلے ہی پریس کانفرنس کرچکا ہے جب پارٹی کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت تھی، یہ اس معیار کا جھوٹا ہے کہ عمران خان کے سامنے ایک افغان خاتون رو رو کر فریاد کر رہی تھی تو خان صاحب کو اسنے غلط ترجمہ بتایا کہ تعریفیں کر رہی ہے، بہت خوش ہے۔
اسکو کور کمیٹی میں کیوں رکھا ہے؟
Stephen Rox retweeted
بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا پندرہ میٹنگز ہوئی مگر کسی ایک میٹنگ میں بھی وفاقی حکومت نے دہشتگردی پر بات نہیں کی،
مگر جب انکو پتہ چلا کہ سہیل آفریدی کسی بھی طریقے سے لانگ مارچ ملتوی نہیں کرتے تو اچانک وفاقی وزراء ٹی وی پر بیٹھ کے کہتے ہیں کہ تحریک انصاف دہشتگردوں کا بی ٹیم ہے اور پھر دہشتگردی کو جواز بنا کر ساڑھے چار کروڑ عوام کے مینڈیٹ کو پیروں تلے روند ڈالا

























