A united front of Pakistan’s political parties, committed to upholding and restoring the Constitution of Pakistan.

Islamabad, Pakistan
Joined April 2025
نئے صوبوں کے قیام پر تحریک تحفظ آئین پاکستان کا پالیسی بیان: ​ "جہاں تک نئے صوبوں کے قیام کا تعلق ہے آئینِ پاکستان میں صوبوں کی تشکیل کا طریقہ کار پوری صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس، محض انتظامی احکامات (ایگزیکٹو آرڈر) کے ذریعے اضلاع کی طرز پر صوبے بنانا، پاکستان کی اساس پر براہِ راست حملہ تصور کیا جائے گا۔ ​ہم ان قوتوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ کسی بھی ایسے غیر آئینی اقدام کی صورت میں عوامی ردِعمل کو روکنا ممکن نہیں رہے گا اور پوری قوم سراپا احتجاج بن کر سڑکوں پر نکل آئے گی۔ پاکستان اب مزید کسی ایسے بحران یا مہم جوئی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ​— قائدِ حزبِ اختلاف، محمود خان اچکزئی #LongMarchOnSeptember27th
2
77
242
13,321
جنہیں آپ حوثی کہتے ہیں، 'حوث' تو ایک گاؤں کا نام ہے۔ جیسے لاڑکانہ ایک جگہ کا نام ہے؛ پیپلز پارٹی کا صدر لاڑکانہ سے تھا تو یہ لاڑکانہ کی پارٹی نہیں بلکہ پاکستان کی پارٹی ہے۔ ان کا اصل نام 'انصار اللہ' ہے اور حوث ان کا گاؤں، ٹاؤن یا ضلع ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان آگے آئے، بیٹھے، ثالثی کرے اور صلح کا کردار اپنائے؛ یہ پاکستان کا حق بنتا ہے اور ایسا ہونا چاہیے۔ اگر دو مسلمانوں میں لڑائی ہو تو صلح کروانی چاہیے، کسی ایک فریق کی پارٹی نہیں بننا چاہیے۔ ہماری اقتصادی اور معاشی مشکلات ضرور ہیں، لیکن ایسے فیصلے نہ کریں جن کے نتیجے میں ہم بہت تباہ و برباد ہو جائیں، خدا کے لیے اس طرف نہ جائیں۔ ​ میری گزارش ہے کہ یمن اور پاکستان کے جو بارڈرز بند کر دیے گئے ہیں، ان کے بارے میں باقاعدہ ایک جوائنٹ سیشن اور ان کیمرہ اجلاس ہونا چاہیے۔ ہمیں بتایا جائے کہ کیا ہو رہا ہے؟ آپ نے کس وجہ سے ایران کا بارڈر بند کیا ہے؟ افغانستان کا بارڈر بھی بند ہے؛ پہلے ہی پاکستان کے لوگ کہتے ہیں کہ افغانستان کے ذریعے سینٹرل ایشیا تک ہماری 1.7 بلین ڈالر کی تجارت تھی جو آج بند ہے۔ جب مہنگائی ہو گی، پیسے نہیں ہوں گے اور کاروبار نہیں ہوں گے تو لوگ کیا کریں گے اور کدھر جائیں گے؟ خدا کے لیے چیزوں کو سمجھنا چاہیے اور اس طرف توجہ دینی چاہیے۔ ​بہرحال، 8 فروری کو جو کچھ بھی ہوا اور اس کے بعد جوائنٹ سیشن میں بیٹھ کر جس طرح اس کی توثیق کی گئی، یہ قابلِ مذمت ہے اور پاکستان سے دشمنی ہے۔ آپ عمران خان سے اس طرح صوبہ اور مینڈیٹ چھین کر انہیں غیر متعلقہ نہیں کر سکتے اور نہ ہی ان سے اپنی جان چھڑا سکتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم اس طرف جائیں اور انہیں نشانِ عبرت بنائیں، تو انہیں نشانِ عبرت بناتے بناتے آپ پاکستان کو اور اپنے آپ کو نشانِ عبرت بنا لیں گے؛ خدا کے لیے ایسا نہ کریں۔ ہر ایک میں صلاحیت ہے، آپ میں اور ان میں، ہر ایک کی صلاحیت سے پاکستان کے لیے فائدہ اٹھائیں۔ یہ پاکستان کے بیٹے ہیں، کوئی غیر یا پاکستان کے دشمن نہیں ہیں۔ اس لیے اپنے لوگوں کو پہچانیں اور ان سے استفادہ کریں۔ ​وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان, قائد حزب اختلاف سینٹ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس
14
49
1,733
پاکستان کا بارڈر چاروں طرف سے بند ہے اور اس خطے پر دوبارہ سے جنگ کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کا مسئلہ آگے بڑھنے والا ہے، دنیا میں باتیں ہو رہی ہیں کہ حملہ شروع ہونے والا ہے، اور یمن اور سعودی عرب کی لڑائی بہت خطرناک ہے۔ ​ہم اس میں بھی چلے گئے ہیں اور پارلیمنٹ کو کوئی پتا نہیں ہے۔ کوئی اِن کیمرہ جوائنٹ سیشن نہیں ہوا اور ہمیں نہیں بتایا گیا کہ کن شرائط کی بنیاد پر اور کیوں ہم وہاں گئے ہیں؟ اسی پارلیمنٹ کے اندر جوائنٹ سیشن میں 2015 میں متفقہ طور پر قرارداد پاس کی گئی تھی کہ ہم نے وہاں نہیں جانا، جنگ کا حصہ نہیں بننا اور اس تنازعے کا حصہ نہیں بننا ہے۔ اس قرارداد کی خلاف ورزی کیسے کی گئی اور ہم نے کس سے پوچھا ہے؟ یمن کے لوگ بھی مسلمان ہیں۔ ​یمن کی جنگ کے بارے میں یہاں صحیح طرح سے بتایا جائے اور ہمیں یمن اور سعودی عرب کے حوالے سے اِن کیمرہ باقاعدہ بریفنگ دی جائے۔ میں اس حوالے سے دو باتیں کرنا اپنی شرعی ذمہ داری سمجھتا ہوں۔ وہ حسنی سادات ہیں، آپ بھی حسنی سید ہیں۔ وہ امام حسن علیہ السلام کی اولاد ہیں، یعنی جنابِ امام علی علیہ السلام، جنابِ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا اور رسولِ پاک ﷺ کی اولاد ہیں۔ وہ امام حسن علیہ السلام کے بیٹے حسن مثنیٰ کی اولاد ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان علاقوں میں 1962 تک ایک ہزار سال حکومت کی ہے۔ وہ باغی نہیں ہیں، وہ سارے سادات ہیں، وہ غیر مسلم نہیں بلکہ مسلمان ہیں۔ ہم جس کو چاہیں غیر مسلم کہیں اور جس کو چاہیں مسلمان کہیں؟ آپ کون ہوتے ہیں رسولِ پاک ﷺ کی اولاد کو غیر مسلم اور باغی کہنے والے؟ وہ باغی نہیں ہیں، وہ اپنے وطن میں ہیں اور ان پر حملہ ہوا ہے۔ ​وہ بات چیت کرنا چاہتے ہیں اور پاکستان سے درخواست کرتے ہیں۔ میں نے وزیراعظم صاحب کو بھی خط لکھا ہے کہ ثالثی کریں، اور وزیرِ خارجہ صاحب سے بھی کہا ہے کہ ثالثی کریں کیونکہ وہ مصالحت کی باتیں کرتے ہیں۔ ہمیں یہ زیب دیتا ہے کہ ہم ثالثی کا کردار ادا کریں اور اس جنگ کو رکوائیں۔ ہمیں یہ زیب نہیں دیتا کہ ہم دو مسلمان ملکوں کے درمیان جنگ کا حصہ بنیں۔ ہم جنگ کا حصہ نہیں بن سکتے، خدانخواستہ اگر ہم جنگ کا حصہ بنے تو تباہی و بربادی کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا۔ ​یہاں کسی سے پوچھا ہی نہیں جاتا، پتا نہیں خارجہ پالیسی کون بنا رہا ہے؟ نہ پارلیمنٹ کو پتا ہے، نہ سینیٹ کو، نہ قومی اسمبلی کو اور نہ ہی ہمیں پتا ہے۔ لہٰذا میری گزارش یہ ہے کہ یہ ایک حساس مسئلہ ہے۔ پاکستان کے بارڈر پہلے ہی بند ہیں اور ہم معاشی بربادی کی طرف جا رہے ہیں۔ سیاسی بحران، امن و امان کا بحران اور معاشی بحران بد سے بدتر ہوتا چلا جا رہا ہے اور ہم ایک اور جنگ کا حصہ بننے جا رہے ہیں۔ وہاں مت جائیں، میری گزارش ہے کہ خدا کے لیے اس جنگ کا حصہ نہ بنیں۔ کوئی خانہ کعبہ اور مکہ و مدینہ پر حملہ نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی کوئی کرے گا۔ وہ رسولِ پاک ﷺ کی اولاد ہیں، وہ سادات ہیں، وہ کبھی یہ جرم نہیں کریں گے۔ وہ کعبہ کے محافظ ہیں، ان کی تاریخ پڑھیں، وہ سینتیس نسلوں اور سینتیس سلسلوں سے ہیں۔ ​وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان، قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس
3
20
825
قوموں کو دیوار کے ساتھ مت لگاؤ۔ آپ نے بنگالیوں کا مینڈیٹ چھینا، بنگال آپ سے جدا ہو گیا۔ وہ بھی ایک قوم تھے نا! قوموں کو دیواروں کے ساتھ مت لگاؤ۔ پاکستان ایک رضاکارانہ فیڈریشن ہے، جہاں لوگوں نے خود اپنی مرضی سے کہا کہ ہم اس آئین کی روشنی میں پاکستان کا حصہ بنیں گے۔ یہ پاکستان وہ نہیں ہے جو 1947ء میں بنا تھا، یہ 1972ء والا پاکستان ہے جو ٹوٹا ہوا پاکستان ہے۔ افسوس کہ ہم نے عبرت حاصل نہیں کی اور اپنی غلطیوں سے نہیں سیکھا۔ آج پھر ہم وہی کام کر رہے ہیں جو ہم نے 1970ء اور 1971ء میں کیے تھے، اور پھر اسی طرف چلے گئے ہیں۔ ​1971ء کے بعد 1972ء میں جو پاکستان بنا ہے، اس کا ایک باقاعدہ آئین بنایا گیا جس کے تحت ہم رضاکارانہ طور پر ایک فیڈریشن بنے۔ بلوچستان کے لوگ ہزاروں سال سے یہاں آباد ہیں، وہ پاکستان بننے سے پہلے سے ہیں۔ اسی طرح سندھی، پنجابی، بلوچ اور پختون سب پہلے سے موجود ہیں۔ دوستو! ان کی اپنی ایک تاریخ، روایت، کلچر، تہذیب اور زبان ہے؛ اس حقیقت کو سمجھو۔ ​ آپ ہمارے لیے یہاں کلاسز اور کورسز رکھتے جہاں ہمیں جیو پولیٹکس، معاشروں کی سائیکی اور نفسیات، سوشیالوجی، تاریخ اور کلچر پڑھایا جاتا۔ تاکہ جب ہم قانون سازی کر رہے ہوں تو ہمیں آگا ہی ہوتی کہ اس کے معاشرے، جوانوں، سیاست، معیشت اور وطن کے اوپر کتنے نقصانات ہوں گے۔ ہمیں تو کچھ پتا ہی نہیں ہے، ہم ایسے سمجھتے ہیں جیسے بس ایک سائن کر دیا، "یس" کر دیا اور کافی ہے، حالانکہ بعض اوقات آپ کا ایک "یس" تباہی و بربادی لے کر آتا ہے۔ کاش ہمیں یہاں پڑھایا جاتا تو ہم پاکستان کی جیو پولیٹکس، اس کی اسٹریٹجک لوکیشن اور پاکستان کو درپیش خطرات کو پڑھتے؛ اپنے اطراف اور دنیا کو پڑھتے کہ ہم کس حال میں رہ رہے ہیں۔ ​بغیر پڑھے اور سمجھے بل کو ایسے ہی آ کر "یس" کر دینا، ابھی بھی بالکل ایسا ہی ہوا ہے۔ کسی نے بل پڑھے ہی نہیں اور "یس" ہو گیا، یہ دیکھا ہی نہیں کہ اس کے پیچھے کیا ہے۔ جناب چیئرمین! آپ کو اس روایت کو روکنا چاہیے۔ اب ہم نے جو بھی ترامیم یا فیصلے کیے ہیں، اس میں سب نے مل کر اسلام آباد میں ہمارے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا اور ہمارے صوبے پر حملہ کیا گیا ہے۔ ​اور اب کہتے ہیں کہ بولتے کیوں نہیں ہو، بلوں سے نکلو، فلاں جگہ سے نکلو۔ کیا سیاستدانوں کی یہ زبان ہوتی ہے؟ جنہیں عوام نے منتخب کیا ہے ان سے اس طرح بات کی جاتی ہے اور ایسے لوگوں کو ابھارا جاتا ہے؟ خدانخواستہ جب لوگ باہر نکل آئے تو پھر تم کہاں جاؤ گے؟ پہلے ہی بلوچستان تم سے نہیں سنبھالا جا رہا اور اب آپ صوبہ خیبر پختونخوا کے ساتھ بھی ایسا کرنا چاہتے ہو، تاکہ پورے ملک کے اندر آگ لگے اور تباہی و بربادی ہو؟ ​ اس ایوان کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔ دنیا کے بدلتے ہوئے حالات کو دیکھیں، آج پاکستان کا بارڈر چاروں طرف سے بند ہے۔ ​وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان, قائد حزب اختلاف سینٹ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس
1
11
34
1,152
ہمارا زمینی بارڈر بند ہے، اسی طرح سے چائنہ کے ساتھ بھی موسم کی وجہ سے بند ہو جائے گا۔ ایک ملک جس کے چاروں طرف سے بارڈر بند ہو جائیں، کیا وہ اقتصادی طور پر آگے بڑھ سکتا ہے؟ ہم افغانستان سے سینٹرل ایشیا تک جا سکتے ہیں اور ایران کے ذریعے کہاں تک جا سکتے ہیں، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان کو چاروں طرف سے بند کر دیا گیا ہے۔ اس سے پاکستان، جو پہلے ہی معاشی طور پر بحران کا شکار ہے، کیا کامیاب ہو جائے گا؟ ​کیا یہ حل ہے کہ آپ آئیں، ایم این ایز (MNAs) کو اٹھائیں، سینیٹرز کو اٹھائیں، اسی طرح سے ایم پی ایز (MPAs) کو اٹھائیں، لوگوں کو جیلوں میں ڈالیں، جیلوں میں جو قیدی ہیں ان کو ان کے حقوق نہ دیں، جو سیاستدان ہیں ان کی بہنوں کو، بیویوں کو، سب کو اٹھائیں، اور بہانہ یہ رکھیں کہ پہلے فلاں جگہ ہمارے ساتھ ایسا کیا گیا تھا، اب ہم ایسا کر رہے ہیں؟ یہ کون سا جواز ہے؟ اگر وہ ظلم تھا تو آپ ظلم کیوں کر رہے ہو؟ اگر وہ لاقانونیت تھی تو تم یہ لاقانونیت کیوں کر رہے ہو؟ کیا جواز ہے آپ کے پاس؟ ​بالآخر ہم آئین کے سامنے بھی، قانون کے سامنے بھی، عوام کے سامنے بھی اور خدا کے سامنے بھی جواب دہ ہیں۔ قرآن خود کہتا ہے: "فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ، وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ"۔ قیامت کے دن جان نہیں چھوٹے گی؛ جو دیکھتے ہیں ان سے بھی، جو بولتے ہیں ان سے بھی، سب سے۔ سب خدا کی بارگاہ میں جواب دہ ہیں، کوئی معصوم نہیں ہے، ہم سب سے غلطیاں اور گناہ ہو سکتے ہیں۔ ہم سب خدا کی بارگاہ میں جواب دہ ہیں، لیکن یہ جو اس ملک کے اندر ہوا ہے، خدا گواہ ہے کہ یہ تباہی اور بربادی ہوئی ہے۔ ​ایک پورے صوبے کو آپ نے دیوار کے ساتھ لگا دیا ہے اور آپ ان کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں کہ باہر کیوں نہیں نکلتے ہو، کہاں چلے گئے ہو؟ لوگوں کا خاموش ہو جانا بھی بہت خطرناک ہوتا ہے۔ جب وہاں کے جوان یہ سمجھیں گے کہ الیکشن کے ذریعے ہم اپنے حقوق حاصل نہیں کر سکتے، کورٹ سے حاصل نہیں کر سکتے، احتجاج نہیں کر سکتے، تو پھر وہ کہاں جائیں گے اور کیا کریں گے؟ آئندہ کے پی کے (KPK) کے اندر جو بھی تباہی و بربادی ہو گی، بدامنی بڑھے گی، یا جو کچھ بھی ہو گا، اس کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس کے حق میں ووٹ دیا ہے اور جا کر وہاں بیٹھ گئے ہیں۔ ​پہلے بھی پاکستان میں کئی جگہ آپ گئے؛ اب جی بی آپ کے پاس چلا گیا، کشمیر چلا گیا، بلوچستان چلا گیا، سندھ چلا گیا، پنجاب چلا گیا۔ یہ بھی رہ گیا تھا، یہ بھی آپ نے نگل لیا ہے، کھا لیا ہے، لیکن یہ گلے کی ہڈی بنے گی۔ تم سمجھتے ہو کہ تم نے نگل لیا ہے، لیکن یہ گلے کی ہڈی ہے، نہ نگل سکو گے اور نہ اگل سکو گے۔ ​میں جو کہہ رہا ہوں اپنے ضمیر اور وجدان کے مطابق کہہ رہا ہوں، کیونکہ یہ میرا مادرِ وطن ہے۔ ہم نے پاکستان سے باہر نہیں چلے جانا، نہ ہمارے پاکستان سے باہر بینک بیلنس ہیں۔ اس لیے پاکستان کے ساتھ کھلواڑ اور تباہی کی گئی ہے۔ دسمبر 1970ء میں پاکستان کا الیکشن ہوا، آپ نے عوام کے مینڈیٹ کو قبول نہیں کیا اور آپ کا پاکستان ٹوٹ گیا، بنگالی جدا ہو گئے۔ دیکھ لیں، یہ بہت خطرناک ہے۔ ​وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان، قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس
36
1
80
1,476
میں حیران ہوتا ہوں کہ میرے ساتھ بلوچستان کے جو ساتھی بیٹھے ہیں، ان کا وجدان اور ضمیر بھی یہی کہتا ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال انتہائی بدتر ہے، لیکن آپ پھر بھی پسند و ناپسند سے کام لیتے ہیں، آخر کیوں؟ یہ کہا جاتا ہے کہ ہمیشہ سیاستدانوں نے پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے؛ نہیں! سیاستدانوں نے اس وقت نقصان پہنچایا جب وہ اپنی مرضی اور اپنا ارادہ کھو بیٹھے اور روبوٹ بن گئے۔ ​اس لیے خیبر پختونخوا کے اندر یہ جو کچھ ہوا ہے، سراپا ظلم ہے۔ ہم ہر روز یہاں اس کے خلاف کھڑے ہوں گے اور آواز اٹھائیں گے کیونکہ ہمارا اس بات پر پختہ ایمان اور اعتقاد ہے کہ اس نقصان سے بچا جا سکتا تھا۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے ان لوگوں کو عوام پر زبردستی مسلط کر دیا جنہیں عوام نے ووٹ نہیں دیا، جو منتخب نہیں ہیں اور جن کے پاس عوامی مینڈیٹ نہیں ہے۔ جب عوام کا ساتھ ہی نہیں ہوگا تو کیا آپ کی ایمرجنسی اور آپ کے آپریشن کامیاب ہو جائیں گے؟ کیا عوام کو ناراض کر کے اور ان کے دلوں میں نفرت ڈال کر آپ صوبے کو اکٹھا رکھ سکیں گے؟ ​اس وقت پورا پاکستان سراپا احتجاج ہے اور نفرت کا اظہار کر رہا ہے۔ آپ پاکستان کے اندر جا کر آزادانہ طور پر عوامی رائے چیک کر لیں، پاکستان کی 90 فیصد عوام اس کو مسترد کرے گی۔ آپ نے ایسے فیصلے کیے ہیں جنہیں عوام پاؤں کی ٹھوکر پر رکھتی ہے۔ میں حیران ہوں کہ ہم کس طرح خود کو سیاستدان بھی کہلاتے ہیں اور آئین و قانون کو کوئی حرمت نہیں دیتے، اور عوامی مینڈیٹ کو بھی کوئی اہمیت نہیں دیتے بلکہ اسے پاؤں کی ٹھوکر پر رکھتے ہیں۔ ​ اس وقت پاکستان اپنی تباہی و بربادی کی طرف جا رہا ہے۔ اس وقت پاکستان کے دونوں ایوان صحیح طرح سے فعال نہیں ہیں جیسا کہ ہونا چاہیے تھا۔ میں حیران ہوں کہ حکومتی بنچوں سے ایک بندہ بھی جتنے بل یا ترامیم آتی ہیں، حتیٰ کہ یہ جو ایمرجنسی لگی ہے، اس کے خلاف بات نہیں کرتا اور نہ ہی انکار کرتا ہے۔ عجیب بات ہے! کیا یہ معصوم ہیں یا یہ سب کچھ خدا کی طرف سے آتا ہے کہ اس کے خلاف بات ہی نہیں کر سکتے؟ آپ نے 26ویں اور 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کی آزادی و خودمختاری ختم کر دی اور عدلیہ کو تماشا بنا دیا، لیکن سب صرف ہاں میں ہاں ملاتے ہیں۔ ​اس کے علاوہ جنابِ چیئرمین! اس وقت ہمارا پاکستان تین طرف سے بند ہے اور سنا ہے کہ موسم کی خرابی کی وجہ سے چین کے ساتھ چوتھی طرف سے بھی بند ہونے والا ہے۔ ​وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان، قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس
7
34
1,108
11 اکتوبر سے پاکستان کے عوام اور ان کے مینڈیٹ پر جو حملہ شروع ہوا، اس کے نتیجے میں آپ نے آخری کلنجر قلعہ بھی فتح کر لیا ہے۔ ایک ہی جگہ رہ گئی تھی جہاں عوام کی دو تہائی اکثریت سے منتخب حکومت موجود تھی، وہ بھی آپ کی آنکھوں میں کھٹکتی تھی اور آپ کو برداشت نہیں تھی، چنانچہ آپ نے اسے بھی گرا دیا۔ ​اس اقدام کے لیے آئین اور قانون کا بہانہ بنایا گیا۔ 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور باقی 25 اضلاع میں گورنر راج لگا دیا گیا۔ یوں ایک صوبے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے؛ اس کی انتظامیہ، سنبھالنے والے اور ذمہ داران سب الگ ہو گئے ہیں۔ ​بعض مقامات پر مقامی سطح پر جو کمیٹیاں بنائی گئی ہیں، انہیں دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے کہ عوام کے منتخب نمائندوں کو ایک طرف پھینک کر، آپ نے ان مخصوص لوگوں کو اپنی کمیٹیوں کا حصہ بنا لیا ہے جو ہمیشہ سے چاپلوسی کی آخری حدوں تک گرے ہوئے ہیں، اور اب آپ ان کے ذریعے کام چلائیں گے۔ عوام کے منتخب نمائندوں کو بالکل بے وقعت کر دیا گیا ہے۔ ​ہم خیبر پختونخوا کی حکومت اور عوام کے ساتھ ہونے والے اس ظلم کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ ہم ہر روز اس پر آواز اٹھائیں گے اور اسے ہرگز ہضم نہیں ہونے دیں گے۔ 8 فروری 2024 کو آپ نے عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا، اسے لوٹا اور اس کے بعد اپنی حکومت بنا لی۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج وزیر صاحب خود اعتراف کر رہے ہیں کہ پاکستان کا سسٹم مکمل طور پر بیٹھ چکا ہے۔ ​وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان، قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس
10
47
1,872
کل سے فرانس میں لاکھوں لوگ مہنگائی کے خلاف نکلے ہیں۔ فرانس کی سب سے بڑی، بلکہ دنیا کی بہت بڑی عجوبہ روزگار عمارت ایفل ٹاور کو آگ لگا دی گئی۔ لاکھوں لوگ نکلے ہیں اور کل برلن کے لوگوں نے بھی اعلان کیا کہ ہم فرانس کے لوگوں کا ساتھ دیں گے۔ ​آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ اور صحیح جمہوری الیکشن، یہ ہمارا مطالبہ ہے۔ نہ آپ سے ہمیں کوئی سکیمیں چاہئیں۔ ​قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
53
165
2,448
پاکستان تحریک انصاف کاعمران خان ایڈیشن سے اسٹیبلشمنٹ خوفزدہ ہے،یہی لوگ مزاحمت کا پرچم اٹھائے رکھے ہوئے ہیں یہ ایڈیشن اسٹیبلشمنٹ کو ناقابل قبول ہے اس لئے پاکستان تحریک انصاف کا اسٹیبلشمنٹ پسندیدہ ایڈیشن تیار کرنے کی کوشش میں ہیں،یہ مشرف دور کی ق لیگ کی طرح عسکری لیبارٹری میں تیار شدہ ٹیسٹ ٹیوب پارٹی ہوگی اسی لئے سہیل آفریدی نشانے پر ہیں،پاکستان تحریک انصاف کے مخلص،وفادار ممبران پارلیمنٹ، لیڈرشپ کی اغواء، گرفتاری اور جبری گمشدگی کا سلسلہ جاری ہے۔اس وقت پاکستان کا پورا سیاسی سپیکٹرم بوٹوں کے سامنے جھک چکا ہے۔۔مزاحمت کا چراغ جیل میں قید عمران خان اور اس کے خاندان نے جلائے رکھا ہے اور معاشر میں تحریک انصاف کے مخلص وفادا پارلیمنٹرینز اور لیڈرشب نے۔۔۔مجھے یقین ہے کی عمران خان کا مخلص اور قربانی دینے والا ورکر اسٹیبلشمنٹ کی اس جمہوریت دشمن کوشش کو ناکام بنا دے گا اور یہ ٹابت کردے گا کہ پاکستان تحریک انصاف مسلم لیگ ن نہیں ہے بلکہ یہ ایک حقیقی مزاحمتی پارٹی ہے اور جیل میں موجود اپنے قائد سے مخلص اور وفادار ہے۔ سینئر رہنما تحریک تحفظ آئین پاکستان، سربراہ پاکستان رائٹس موومنٹ سینیٹر مشتاق احمد خان
6
26
787
پاکستان تحریک انصاف کاعمران خان ایڈیشن سے اسٹیبلشمنٹ خوفزدہ ہے،یہی لوگ مزاحمت کا پرچم اٹھائے رکھے ہوئے ہیں یہ ایڈیشن اسٹیبلشمنٹ کو ناقابل قبول ہے اس لئے پاکستان تحریک انصاف کا اسٹیبلشمنٹ پسندیدہ ایڈیشن تیار کرنے کی کوشش میں ہیں،یہ مشرف دور کی ق لیگ کی طرح عسکری لیبارٹری میں تیار شدہ ٹیسٹ ٹیوب پارٹی ہوگی اسی لئے سہیل آفریدی نشانے پر ہیں،پاکستان تحریک انصاف کے مخلص،وفادار ممبران پارلیمنٹ، لیڈرشپ کی اغواء، گرفتاری اور جبری گمشدگی کا سلسلہ جاری ہے۔اس وقت پاکستان کا پورا سیاسی سپیکٹرم بوٹوں کے سامنے جھک چکا ہے۔۔مزاحمت کا چراغ جیل میں قید عمران خان اور اس کے خاندان نے جلائے رکھا ہے اور معاشر میں تحریک انصاف کے مخلص وفادا پارلیمنٹرینز اور لیڈرشب نے۔۔۔مجھے یقین ہے کی عمران خان کا مخلص اور قربانی دینے والا ورکر اسٹیبلشمنٹ کی اس جمہوریت دشمن کوشش کو ناکام بنا دے گا اور یہ ٹابت کردے گا کہ پاکستان تحریک انصاف مسلم لیگ ن نہیں ہے بلکہ یہ ایک حقیقی مزاحمتی پارٹی ہے اور جیل میں موجود اپنے قائد سے مخلص اور وفادار ہے۔
61
715
20
2,272
44,782
Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan retweeted
Proud to join opposition alliance in challenging Governor's rule in KP. Peshawar High Court will hear our petition tomorrow. All avenues must be used to resist the dictatorship. Special thanks to @SameerKhosa @zainabstan @KhalidYChaudry & Sardar Haseeb for filing the petition.
4
57
196
4,038
ہم عمران خان کو کبھی غیر متعلق (Irrelevant) نہیں ہونے دیں گے اور نہ ہی کبھی 'مائنس عمران خان' کی سازش کامیاب ہونے دیں گے۔ موجودہ کوششیں اسی سمت میں ہیں کہ عمران خان، سہیل آفریدی اور محمود خان کو مائنس کر دیا جائے تاکہ 'سنجیاں ہو جان گلیاں تے وچ مرزا یار پھرے' کے مصداق یہ خالی میدان میں اپنی من مانیاں کر سکیں۔ ہم عمران خان کو کسی صورت مائنس نہیں ہونے دیں گے اور آخر تک ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔ خدانخواستہ اگر ان کی اپنی جماعت بھی انہیں تنہا چھوڑ دے، تب بھی ہم جواں مردوں کی طرح ان کا ساتھ دیں گے۔ وہ ہرگز اکیلے نہیں ہیں، ہم سب ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان, قائد حزب اختلاف سینٹ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس
46
148
2,201
جب انسان فتح کے جشن میں ہو تو وہ ایسی باتیں کرتا ہے اور ہوش میں نہیں ہوتا،ہم عمران خان کو کبھی پس پشت نہیں ڈال سکتے،پہلے مائنس عمران خان پھر مائنس سہیل آفریدی اور پھر مائنس محمود اچکزئی کوششیں ہو رہی ہے، ہم عمران خان کو مائنس نہیں ہونے دیں گے، علامہ ناصر عباس
15
42
1,025
🚨 قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کی تقریر شروع ہوتے ہی قومی اسمبلی کی لائیو آسٹریمنگ بند ہو گئی ۔
2
19
1
40
1,013
کہاں ہے شہباز شریف کا غزہ پیس بورڈ؟ 100 سے زائد عالمی تنظیموں، جن میں ایمنسٹی انٹرنیشنل، سیو دی چلڈرن، آکسفیم اور ناروے کی پناہ گزین کونسل شامل ہیں، کے مشترکہ بیان کے مطابق 10 اکتوبر 2025ء کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں کم از کم 1,471 فلسطینی شہید اور 5,189 زخمی ہو چکے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ غزہ میں جنگ بندی کے ایک سال بعد بھی اسرائیلی فوج کی پرتشدد کارروائیاں، حملے، شہادتیں اور امدادی پابندیاں جاری ہیں۔ امدادی سامان، ادویات، ایندھن اور تعمیرِ نو کے مواد کی قلت نے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جبکہ غزہ کے تمام 36 اسپتال بھی مکمل صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر رہے۔ غزہ پیس بورڈ فراڈ ہے۔۔ غزہ کو مت بھولو۔۔ سینئر رہنما تحریک تحفظ آئین پاکستان، سربراہ پاکستان رائٹس موومنٹ سینیٹر مشتاق احمد خان
5
10
869
No major country including China, Russia, UK, France , Germany, South Korea, Japan, Canada and other important countries joined this Gaza Peace Board but Pakistani PM Shahbaz Sharif was so enthusiastic not for the Palestinians but only to please Trump. Now total embarrassment Economic Spokesperson Tehreek e Tahafuz e Ayin e Muhammad Zubair Umar
2
1
743
کہاں ہے شہباز شریف کا غزہ پیس بورڈ؟ 100 سے زائد عالمی تنظیموں، جن میں ایمنسٹی انٹرنیشنل، سیو دی چلڈرن، آکسفیم اور ناروے کی پناہ گزین کونسل شامل ہیں، کے مشترکہ بیان کے مطابق 10 اکتوبر 2025ء کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں کم از کم 1,471 فلسطینی شہید اور 5,189 زخمی ہو چکے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ غزہ میں جنگ بندی کے ایک سال بعد بھی اسرائیلی فوج کی پرتشدد کارروائیاں، حملے، شہادتیں اور امدادی پابندیاں جاری ہیں۔ امدادی سامان، ادویات، ایندھن اور تعمیرِ نو کے مواد کی قلت نے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جبکہ غزہ کے تمام 36 اسپتال بھی مکمل صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر رہے۔ غزہ پیس بورڈ فراڈ ہے۔۔ غزہ کو مت بھولو۔۔
6
282
3
668
7,939
Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan retweeted
No major country including China, Russia, UK, France , Germany, South Korea, Japan, Canada and other important countries joined this Gaza Peace Board but Pakistani PM Shahbaz Sharif was so enthusiastic not for the Palestinians but only to please Trump. Now total embarrassment
کہاں ہے شہباز شریف کا غزہ پیس بورڈ؟ 100 سے زائد عالمی تنظیموں، جن میں ایمنسٹی انٹرنیشنل، سیو دی چلڈرن، آکسفیم اور ناروے کی پناہ گزین کونسل شامل ہیں، کے مشترکہ بیان کے مطابق 10 اکتوبر 2025ء کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں کم از کم 1,471 فلسطینی شہید اور 5,189 زخمی ہو چکے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ غزہ میں جنگ بندی کے ایک سال بعد بھی اسرائیلی فوج کی پرتشدد کارروائیاں، حملے، شہادتیں اور امدادی پابندیاں جاری ہیں۔ امدادی سامان، ادویات، ایندھن اور تعمیرِ نو کے مواد کی قلت نے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جبکہ غزہ کے تمام 36 اسپتال بھی مکمل صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر رہے۔ غزہ پیس بورڈ فراڈ ہے۔۔ غزہ کو مت بھولو۔۔
2
42
1
162
2,943
"میں طارق فضل چوہدری صاحب کو آپ کے توسط سے یہ چیلنج کرتا ہوں کہ آپ وہ نام بھی سامنے لے کر آئیں۔ محض خیالی باتوں سے کچھ نہیں ہوتا، یہ تو میں بھی کہہ سکتا ہوں کہ مسلم لیگ (ن) میں 50 دھڑے موجود ہیں، لیکن آپ نام سامنے لائیں کہ کون محمود خان اچکزئی سے خوش نہیں ہے۔ ہمیں ان ناموں کا انتظار ہے کہ وہ نام سامنے لائے جائیں۔ ​ ان بیانات میں واضح تضاد موجود ہے۔ طارق فضل چوہدری صاحب نے جو بیان دیا تھا، اس میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے ساتھ ہمارے مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں اور اپوزیشن جہاں بھی ہم سے ملنا چاہے، ہم تیار ہیں۔ اب ہم ان کی بات کو درست مانیں یا رانا ثناء اللہ صاحب کی بات کو؟ اسی کمرے کے اندر جہاں یہ انٹرویو ہو رہا ہے، طارق فضل چوہدری، اعظم نذیر تارڑ اور رانا ثناء اللہ صاحب نے دونوں اپوزیشن لیڈران کے ساتھ یہ کمٹمنٹ کی تھی (اور اس میٹنگ میں، میں خود موجود تھا) کہ یہ ملاقات کانسٹیٹیوشنل روم میں ہی ہوگی۔ ​آپ اپنی کمٹمنٹ سے کیوں پیچھے ہٹ رہے ہیں؟ کشمیر کے حوالے سے آپ اپنی کمٹمنٹ سے پیچھے ہٹ گئے، پی ٹی آئی کے ساتھ اپنی کمٹمنٹ سے پیچھے ہٹ گئے، اور پھر مولانا فضل الرحمان جیسی قدآور شخصیت کے ساتھ بھی آپ لوگ اپنی کمٹمنٹ سے پیچھے ہٹ گئے۔ اب اپوزیشن لیڈر سے ملاقات کے معاملے میں بھی ایسا ہی کر رہے ہیں۔ اس کا واضح مطلب یہ نکلتا ہے کہ ان کے اختیار میں کچھ نہیں ہے، بلکہ ان کی ڈوریاں کوئی اور ہلا رہا ہے اور انہیں جیسے اشارے مل رہے ہیں، یہ بالکل اسی طرح چل رہے ہیں۔" ​ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی
1
7
26
1,987
اپوزیشن لیڈر سے متعلق بیان سنا طارق فضل چوہدری کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ نام بھی سامنے لے آئیں، ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخوانزادہ حسین یوسفزئی
19
92
1,378
بنوں سے پی ٹی آئی ایم این اے مولانا نسیم علی شاہ کوگورنر سرکار اور ان کے سرپرستوں نےاغوا کیا ،یہ فاشزم ہے،منتخب ممبران اسمبلی کو گرفتار،اغواء اور جبری گمشدہ کرنا یہ جمہوریت نہیں فسطائیت ہے۔۔۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو یہ قرض چکانا ہوگا۔۔۔ عظیم ہیں وہ لوگ جو امتحان اور آزمائش کے اس دور میں حسینی راستے پر ثابت قدم رہتے ہیں اور یزید وقت کے ہاتھ پر بیعت نہیں کرتے۔۔۔ جمہوریت زندہ باد مزاحمت زندہ باد آمریت مردہ باد
18
699
10
1,811
10,087