ہر انسان کا اخلاقی فریضہ ہے کہ وہ ظلم، ناانصافی کے خلاف بلا خوف و خطر ڈٹ جاۓ.

Peshawar, Pakistan
Joined April 2022
جوانی، دن و رات، بھاگ دوڑ، محبت، جنون، جذبہ ،کھٹن رستے اور ایک مسلسل جدوجہد۔ پارٹی سیاست، ووٹنگ مہم، سوشل میڈیا، طلبہ سیاست، آئی ایس ایف، گراؤنڈ سیاست، اپنے لیڈر کا پیغام عوام تک پہنچانے کی کوشش، جلسے، جلوس، دھرنے، پختونخوا، کشمیر، راولپنڈی، پنجاب، اسلام آباد اور ڈی چوک۔ بارش ہو یا طوفان، سختیاں ہوں یا مشکلات، چھاپے ہوں یا ایف آئی آرز، مخالفت ہو یا مفاہمت ، نرمی ہو یا سختی، مقدمات ہوں یا اغواء یا گرفتاریاں مزاحمت ، مزاحمت مزاحمت الحمدللہ آج بھی اللہ کے فضل سے اپنے لیڈر عمران خان صاحب کے ساتھ بغیر کسی لالچ اور ذاتی مفاد کے کھڑا ہوں۔
14
40
2
256
16,782
ایم این اے مولانا نسیم شاہ کی گرفتاری افسوسناک ہے۔ عوامی نمائندوں کو اس طرح تضحیک آمیز انداز میں گرفتار کرنا جمہوری اقدار اور عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے۔
7
233
6
525
9,736
اللہ کرے کہ میں غلط ثابت ہوں، لیکن معذرت کے ساتھ مجھے کیوں ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ہمارے اپنے ہی کچھ بااثر لوگوں نے ایک بڑی سازش کے تحت وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کو دیوار سے لگانے کی یہ کوشش کی ہو ؟ اور یہ وہی لوگ ہو سکتے جن کو پہلے عمران خان کے حوالے سے بھی شاید واضح کہا گیا ہو کہ مائنس عمران اور انہی اندرونی لوگوں کو بھی یہی کہا ہوگا کہ بعد کی باتیں بعد میں لیکن فلحال مائنس سہیل ( اس کے ساتھ چلنا مشکل ہے ) ؟
38
117
4
590
9,475
اس تحریر کو ذرا غور سے دوبارہ پڑھیں۔ یہ جون 2025 کی تحریر ہے ۔ اُس وقت بھی میں نے یہی بات محسوس کی تھی کہ گراؤنڈ میں موجود ورکر اور باہر بیٹھ کر باتیں کرنے والے ورکر میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ گراؤنڈ ورکرز وہ لوگ ہیں جو اپنے خاندانوں سمیت اپنی عزت، سکون اور جانوں کو خطرے میں ڈال کر ہر طرف سے مشکلات کا مقابلہ کرتے ہیں۔ ہم مسلسل میدان میں موجود رہتے ہیں، عمران خان کا نعرہ لگاتے ہیں اور اُن کا نظریہ کونے کونے تک پہنچانے کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں۔ آج افسوس کے ساتھ دیکھ رہا ہوں کہ مینا خان آفریدی صاحب، شاہد خٹک صاحب اور خود وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی صاحب کو بھی مشکوک بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اُس وزیراعلیٰ کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جس نے مسلسل ایک سال تک عمران خان کا پیغام عوام تک پہنچانے کے لیے دن رات محنت کی، جس نے نہ دن دیکھا نہ رات، نہ آرام کیا نہ گھر بیٹھا، بلکہ ہر خطرے اور ہر مشکل کے باوجود اپنے قائد کے نظریے کی جنگ لڑتا رہا۔ خدا کے بندو! آخر یہ کیسی سیاست ہے؟ یہ کیسے رویے ہیں کہ جو لوگ میدان میں موجود ہیں، جو عمران خان کے لیے ہر قسم کے خطرات مول لے رہے ہیں، آج انہی کو مشکوک بنایا جا رہا ہے؟ اگر سوال کرنے ہیں تو اُن سے کریں جنہوں نے گورنر راج لگانے کی بات کی، اُن سے پوچھیں جنہوں نے ہمارے وزیراعلیٰ کو اغوا کیا، اُن سے سوال کریں جنہوں نے مینا خان آفریدی اور خٹک صاحب جیسے عوامی نمائندوں اور صوبائی وزراء کے لیے خطرات پیدا کیے۔ اُن لوگوں سے جواب طلب کریں جو عمران خان کی جدوجہد اور عوامی مینڈیٹ کے راستے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ لیکن یہ کون سا انصاف ہے کہ ہر سوال کا رخ اُن لوگوں کی طرف موڑ دیا جائے جو آج بھی میدان میں کھڑے ہیں؟ اُن کے خلاف باتیں کی جائیں جو گلی گلی، محلے محلے عمران خان کا نظریہ پہنچا رہے ہیں؟ اُن پر شک کیا جائے جنہوں نے اپنے سروں پر خطرات منڈلاتے ہوئے بھی اپنے قائد کا ساتھ نہیں چھوڑا، جو 18، 20 سالوں سے عمران خان صاحب کے ساتھ سفر شروع کرکے یہاں پہنچنے ہے ، جو آج بھی لڑ رہے ہیں اور کل بھی لڑیں گے ؟ خدارا، گراؤنڈ ورکرز کے جذبات نہ توڑیں، اُن کے حوصلے پست نہ کریں اور اُن کی قربانیوں کو مشکوک نہ بنائیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہر طرف سے دباؤ، خطرات اور مشکلات برداشت کرنے کے باوجود عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ان کے لیے یہ جدوجہد محض سیاست نہیں، بلکہ ایک نظریہ، ایک عہد اور اپنے قائد سے وفاداری کا نام ہے۔ یاد رکھیں! جب میدان میں کھڑے لوگوں کے حوصلے توڑے جاتے ہیں تو صرف چند افراد کی دل آزاری نہیں ہوتی، پوری تحریک کمزور ہوتی ہے۔ اختلاف ضرور کریں، سوال ضرور اٹھائیں، لیکن اُن لوگوں کو نشانہ نہ بنائیں جو ہر مشکل وقت میں سب سے آگے کھڑے ہو کر تحریک کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ گراؤنڈ ورکرز کی قدر کریں، اُن کی قربانیوں کا احترام کریں اور اپنے ہی لوگوں کو مشکوک بنانے کے بجائے اُن قوتوں سے سوال کریں جو عمران خان کی جدوجہد کو کمزور کرنا چاہتی ہیں۔لیکن آگر یہی رویہ جاری رہا کہ بستروں میں بیٹھے لوگ عمران خان صاحب کے پر اعتماد ساتھیوں کو مشکوک بنانے کی کوشش کریں، اپنے آقاؤں کے کہنے پر عمران خان صاحب کی ساتھیوں کے خلاف باریک واردات بنانے میں لگے ہے تو پھر ہر گراؤنڈ ورکر کو بھی باریک وارداتیوں کو بے نقاب کرنے کا طریقہ آتا ہے۔ رہنما انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن عامر خان چمکنی
کیا خیال ہے ؟ عمران خان صاحب کے جانشین سمجھنے والے یہ نوجوان جو 18 سالوں سے عمران خان صاحب کے ساتھ آرہے ہیں جہاں ان میں دو صوبائی وزراء اور ایک قومی اسمبلی کا ممبر ہے جہاں انہوں نے جوانیاں لٹا کے خان صاحب کے ساتھ مل کے عوام کی آواز بن کر یہ کامیابیاں حاصل کی ہے تو کیا خیال ہے ان لوگوں کے پاس کتنا پیسہ ہوگا ؟ ان لوگوں کے پاس کتنی گاڑیاں ہوگی ؟ کتنی مراعات ہونگے ؟ پاکستان کی سیاست جو ہمیشہ منفی رہی ہے ، اکثریت لوگ نام اور پیسہ بنانے آجاتے ہیں أس سیاست میں ان لوگوں نے کیا حاصل کیا ہوگا ؟ کبھی ان نوجوانوں پر پیسے کی بات آئی ہے ؟ کرپشن کی بات آئی ہے ؟ 18 سال کے اس طویل سفر میں ان لوگوں پر کبھی بدتمیزی ، بدتہذیبی ، بد اخلاقی کی بات آئی ہے ؟ یا کوئی مائی کا لال ان جیسے عظیم نوجوانوں پر محض غداری کے نامعلوم فتووں کی علاؤہ کچھ ثابت کر سکتے ہے ؟ نہیں تو فتوے لگانے کا کیا خیال ہے کہ محض ایک ٹویٹ یا ایک نامعلوم فتوے کی وجہ سے لوگ ان کو غلط تسلیم کریں گے ہز گز نہیں ، یہ لشکروں والے نوجوان ہے یہ بیداری والے نوجوان ہے یہ مزاحمت کی علامتیں ہے، یہ تبدیلی کی علامتیں ہے ، یہ انصاف کی علامتیں ہے اور یہ وفا کی علامتیں ہے جہاں میری زندگی میں میرے سامنے ایک ایک لمحہ گواہ ہے ، میرے اسی کیمرے کے مناظر گواہ ہے کہ کس طرح یہ سب نوجوانوں کے لشکریں اپنے ساتھ نکال کے لاہور جلسہ ، سنگجانی جلسہ ، 4 اکتوبر اور 26 نومبر میں موجود تھے ۔ کس طرح فرنٹ پر جا کے نوجوانوں کو لوگوں کو حوصلہ دیا کرتے ہیں ، کس طرح اللّٰہ نے اپنے فضل سے کئی بار موت سے بچایا ، جس میں سہیل آفریدی صاحب کا بذات خود گواہ ہوں جہاں ایک نوجوان ہمارے سامنے ریاستی بربریت سے شہید ہو گیا ۔ ہمیشہ یہ نوجوان ہر مشکل کا مقابلہ کرتے نظر آئے ہے ان نوجوانوں کے پاس بلٹ پروف گاڑیاں ، بلٹ پروف جیکٹس نہیں ہے ، زمینی و ہوائی ٹیکنالوجی نہیں ہے جن کی وجہ سے بڑے لوگوں کی طرح ، باقی سیاستدانوں کی طرح ہر جگہ اپنے آپ کو بچائیں ، فرنٹ پر نکلے ہیں ، فرنٹ پر لڑے ہے جہاں آج بھی پختونخوا کے ہزاروں نوجوان ان کو اپنے لیڈرز مانتے ہیں ان نوجوانوں کے پاس عمران خان صاحب کے اعتماد کے علاؤہ باقی کوئی سرمایہ نہیں ، جہاں یہ سب ابھی تک مکمل نبھا رہے ہیں ، عہدے ، حکومتیں آنی جانی چیزیں ہے ، ہم نے انہیں ہمیشہ صف اوّل میں پایا ہے چاہے وہ صف عہدے کے ساتھ ہو یا عہدے کے بغیر ، حکومت کے ساتھ ہو یا حکومت کے بغیر ۔ مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے.
6
18
128
3,581
پارٹی کے وٹس ایپ گروپ میں پیغام ارسال کرتے ہوئے شاہ فرمان نے واضح کیا کہ پوری پارٹی کو ایک ذہنی مریض کنٹرول کررہا ہے اور ہم خاموش بیٹھے ہیں سابق گورنر شاہ فرمان نے سابق وفاقی وزیر مرادسعید کو ذہنی مریض قرار دیدیا افسوس ہوا ! پاکستان تحریک انصاف کو اس وقت ایک دوسرے پر تنقید کرنے کے بجائے متحد رہنا چاہیے۔ ذرائع @MeFaheem
45
55
6
344
14,574
یہ لوگ بھی کل کو کہی بیٹھ کر آئین، قانون، دستور اور پختون ولی پر بات کریں گے۔
35
231
9
1,063
13,421
Amir Khan Chamkani ISF retweeted
Miss you @SohailAfridiISF kuch bhi acha ni lag raha 🥹
1
5
75
یہ دیکھو @MaryamNSharif عظمیٰ بخاری آپ کی ٹرولنگ کررہی ہے۔
یہ پنجاب ہے یہاں پر کسی کی "افسر شاہی" نہیں چلی گی، جب عوام کے "ووٹ" سے آتے ہیں تو ایسے عوام کی تکلیف کے ساتھ تکلیف ہوتی ہے لیڈر کو بھی۔ 👇
1
5
44
1,065
Amir Khan Chamkani ISF retweeted
وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کے پاس دو راستے تھے! وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کے پاس دو راستے تھے۔ پہلا راستہ یہ تھا کہ وہ عمران خان کے نظریے اور اُس مؤقف پر سمجھوتہ کر لیتے، جس کی بنیاد پر عمران خان گزشتہ تین سال سے مسلسل قید میں ہیں۔ وہ اپنے نظریاتی مؤقف سے پیچھے ہٹ جاتے تو صوبائی حکومت بھی برقرار رہ سکتی تھی۔ دوسرا راستہ مشکل تھا، لیکن نظریاتی سیاست کا تقاضا بھی یہی تھا کہ ہر صورت احتجاج کیا جائے، دباؤ بڑھایا جائے اور عمران خان کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی جدوجہد جاری رکھی جائے، چاہے اس کی قیمت صوبائی حکومت کی قربانی ہی کیوں نہ ہو۔ سہیل آفریدی پہلے دن سے واضح کر رہے تھے کہ وہ اپنی تمام کشتیاں جلا کر میدان میں اتریں گے۔ ہم چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ حکومت ختم ہو جائے، گرفتاریاں ہوں یا کوئی بھی مشکل پیش آئے، مطالبات کی منظوری کے بغیر واپس نہیں آئیں گے۔ آج سہیل آفریدی نے ثابت کر دیا کہ نظریہ اقتدار سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی قربانی تو دے دی، لیکن عمران خان کو جیل میں رکھنے والی پالیسی اور اپنے قائد کے نظریے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ تحریک اب بھی جاری ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف صرف ایک حکومت کا نام نہیں، بلکہ ایک نظریے، ایک جماعت اور اس سے وابستہ ذیلی تنظیموں کے وسیع نیٹ ورک کا نام ہے۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، لیکن نظریات اور تحریکیں زندہ رہتی ہیں۔ شہباز گل جیسے لوگوں کو نظرانداز کریں اور انتظار کریں۔ قوم کو خود سمجھ آنے دیں کہ گورنر راج کیا ہوتا ہے اور یہ کوئی ایسی بلا نہیں جس سے ڈر کر اپنے اصولوں سے دستبردار ہو جایا جائے۔ ماضی میں بھی ایسے حالات دیکھے جا چکے ہیں، لیکن اس مرتبہ مخالفین معاملے کو گولی چلانے تک لے آئے ہیں۔ ان شاء اللہ، ہم پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر واپس آئیں گے۔ قوم کو یقین ہے کہ جب تک عمران خان کے کھلاڑی میدان میں موجود ہیں، وہ قوم کے مفادات اور اپنے نظریے پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔ ہمارے مشران نے بھی مشکل حالات میں اپنے قائد کے مؤقف کا ساتھ دے کر یہی ثابت کیا ہے۔ عمران خان ایک سیاسی قیدی ہیں، اور سیاسی قیدی عموماً اپنے نظریے اور سیاسی مؤقف کی وجہ سے قید کیے جاتے ہیں۔ ہمارے قائد نے جس نظریے اور پالیسی کی خاطر قربانی دی، ہم اسے سرنڈر نہیں کریں گے۔ قربانی اقتدار کی ہو یا آزادی کی، نظریے پر سمجھوتہ ہماری سیاست کا راستہ نہیں ہو سکتا۔ مائنس عمران خان کسی بھی فارمولے پر رضامندی تحریکِ انصاف کے لیے سیاسی موت کے مترادف ہوگی۔ عمران خان تک رسائی اور ان کی رائے کے بغیر ہونے والے مذاکرات کی کوئی حقیقی سیاسی معنویت نہیں۔ مذاکرات اسی وقت بامعنی ہوں گے جب ہمارے قائد کو اعتماد میں لیا جائے اور ان کے ساتھ براہِ راست رابطے کی راہ ہموار ہو۔ یہ جنگ اقتدار کی نہیں، نظریے کی ہے۔ یہ جدوجہد کسی عہدے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے قائد، اپنے مؤقف اور قوم کے مستقبل کے لیے ہے۔ ہم نے پہلے بھی کہا تھا، آج بھی کہتے ہیں: عمران خان پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا! مراد خان
6
30
126
1,849
میرے قائد عمران خان صاحب @ImranKhanPTI اور ہمارے فخر، انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن @SohailAfridiISF وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی صاحب! آپ اکیلے نہیں ہیں۔ چاہے سب آپ سے منہ موڑ لیں، آپ کو اکیلا چھوڑنے کی کوشش کریں، لیکن ہم آپ کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔ آخری سانس تک آپ کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ ہم خاموش نہیں رہیں گے، ہم نکلیں گے، بار بار نکلیں گے اور اپنا آئینی حق مانگیں گے۔چاہے جو بھی ہو جائے ہم نوجوانوں کے ساتھ لائحہ عمل کی تیاری کرکے سامنے آئینگے۔ انشاء اللّٰہ
انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن وزیرستان کے جانب سے گورنر راج کے خلاف بھرپور احتجاجی مظاہرہ انشاءاللہ انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن جلد یہ سرگرمیاں پوری خیبر پختونخوا میں کرنے والی ہے ۔ہم سرپرائز تیار کر رہے ہیں کچھ چیزیں بتا نہیں سکتے لیکن انشاءاللہ جلد ان کو ایسا گھیر لیا جائے گا جس کا ان کو کوئی پتہ نہیں چلے گا مراد خان
8
92
411
3,477
یہ الزامات پہلی بار نہیں، شفیع جان صاحب @ShafiJanPTI نے پہلے بھی نہایت مہذب لہجے میں بتایا تھا کہ ہمیں دہشتگرد نہ کہیں، دہشتگردی کی وجہ سے مراد سعید ز شفیع جان جیسے نوجوان سینکڑوں جنازے اپنے ہاتھوں سے أٹھائے ۔ ہمارے جسم آج بھی دہشتگردی کی وجہ سے زخمی ہے ، قربانی بھی ہم دے رہے ہے اوپر سے الزامات طعنے بھی ہم سن رہے ہے، 🥲
🚨🚨🚨BREAKING NEWS | بریکنگ نیوز طویل روپوشی کے بعد مراد سعید کے ٹھکانے کے حوالے سے سنسنی خیز تفصیلات سامنے آ گئیں سابق وفاقی وزیر مراد سعید کی پکتیکا، افغانستان میں موجودگی کی مصدقہ اطلاعات مراد سعید افغانستان میں ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈروں کے ساتھ مقیم ہیں: ذرائع مراد سعید پکتیکا میں ٹی ٹی پی کمانڈر قاری زلمے محسود کے ٹھکانے پر موجود ہیں: 🚨 تحریک انصاف کے رہنما کو پکتیکا میں کمانڈر اسد اللہ وزیر کی سیکیورٹی بھی حاصل ہونے کا انکشاف مراد سعید ٹی ٹی پی کے مقامی کمانڈر میران شاہ شنواری کے ساتھ بھی مسلسل رابطے میں ہیں مراد سعید پکتیکا سے خیبر پختونخوا کے سیاسی اور احتجاجی معاملات کی نگرانی کر رہے ہیں مراد سعید خارجی زلمے محسود کو خیبر پختونخوا میں دہشت گرد حملوں کے ٹارگٹ کی نشان دہی کرتا ہے
3
75
239
2,353
15 اکتوبر 2025ء سے 15 اکتوبر 2026ء تک ایک سال، ایک جدوجہد، ایک مڈل کلاس وزیراعلیٰ کی کہانی! یہ کہانی ہے عمران خان کے ایک مڈل کلاس وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی، جو پہلے دن نامزد ہوئے تو دہشت گرد کا الزام لگا، چرس فروش سمیت گھٹیا ترین طریقے سے ان کی کردار کشی کی گئی۔ یہاں تک کہ اسی وزیراعلیٰ کی 15 سال پرانی یونیورسٹی میں کچھ لوگ گئے کہ شاید اس بندے کا کوئی پرانا افیئر مل جائے، مگر وہ مڈل کلاس وزیراعلیٰ صرف ایک ہی جواب دیتے گئے کہ میں نے اپنے گھر کے سینکڑوں جنازے اپنے ہاتھ سے اٹھائے ہیں، اوپر سے الزامات بھی ہمارے لوگوں پر، تو خدارا پاکستان کو اس طرف نہ لے کے جائیں جہاں سے واپسی ناممکن ہو۔ وہ وزیراعلیٰ جنہوں نے پاکستان کے مشکل ترین سیاسی دور میں صرف ایک سال کے اندر وہ سفر طے کیا جس کے لیے کئی زندگیاں بھی کم پڑ جاتی ہیں۔ خیبر پختونخوا کے ہر ضلع، ہر شہر، ہر تحصیل اور تمام قبائلی اضلاع سے لے کر ہر صوبے، پنجاب، سندھ، کراچی، گلگت بلتستان اور کشمیر تک، جہاں راستے آسان تھے وہاں بھی گئے، جہاں راستے خطرناک تھے وہاں بھی پہنچے۔ اپنے لیڈر عمران خان کا پیغام لے کر نکلے اور جگہ جگہ عوام کے سمندر جمع کیے۔ ہر علاقے میں خان کا نظریہ پہنچایا، لوگوں کے دلوں سے خوف نکالنے کی کوشش کی اور مایوس کارکنوں کو پھر سے کھڑا کیا۔ ایک نوجوان وزیراعلیٰ، ایک طرف صوبے کے انتظامی معاملات، عوامی مسائل اور ترقیاتی کام، ایک بڑا سیاسی دباؤ، دوسری طرف سیاسی جدوجہد، کارکنوں کی حوصلہ افزائی اور اپنے قائد کی رہائی کی آواز۔ اتنے دباؤ کے باوجود وہ مسلسل میدان میں رہے۔ جب ایک دن میں نے سہیل صاحب کو اپنی انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کی بہتری کے حوالے سے بتایا تو جواب میں کہا کہ خدا کے بندے، یہ سب تو آپ لوگ بھی کر سکتے ہو، آپ لوگ کرو، میں کس کس طرف توجہ دوں؟ آج بھی صبح 6 بجے سویا ہوں، صبح 9 بجے جاگا ہوں۔ نیند سے بھری آنکھوں کے ساتھ یہ الفاظ تھے سہیل صاحب کے۔ یہ سب کرنا گراؤنڈ پر موجود رہنا اوپر سے پوری مشینری، پورا میڈیا پیڈ سوشل میڈیا اسی وزیر اعلیٰ کے خلاف بولتا رہا۔ آگے پھر اپنے قائد عمران خان کی طرح اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا۔ جس طرح عمران خان نے وزیرستان سے لانگ مارچ شروع کیا تھا، اسی طرح سہیل آفریدی نے لکی مروت سے اپنے سفر کا آغاز کیا۔ خیبر پہنچے تو دن عوام کے درمیان گزرتا، رات قیادت کے ساتھ وزیراعلیٰ ہاؤس میں اجلاسوں میں گزرتی۔ معمول کے مطابق جب وہ مردان سے پشاور آئے تو اگلے دن پھر اسی نظام نے اسی دن گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔أسی گھنٹے سے لیکر اب تک کیا کیا نہیں ہوا ؟ مخالفین ہماری ترقیاتی کاموں کے تختیاں اکھاڑنے لگے سوچئے اسی سہیل آفریدی سے ان کو کتنی تکلیف ہوئی ہوگی۔ یاد رکھیے، یہ سب کچھ صرف ایک سال کے عرصے کی کہانی ہے۔ ایک ایسا وزیراعلیٰ جس نے اپنی حیثیت، اپنے وسائل اور اپنی بساط کے مطابق عوام کے درمیان رہ کر جدوجہد کی، آج خود مشکل سیاسی حالات سے دوچار ہے۔ ان کے بارے میں مختلف الزامات بھی لگائے جا رہے ہیں۔ یہ سب ہونے سے پہلے بھی صوبے کے وزراء تک کو اٹھایا گیا، چھاپے شروع ہو گئے اور اب گورنر راج کے بعد، ایمرجنسی لگنے کے بعد، ایک صوبے کے وزیراعلیٰ سمیت سینکڑوں لوگ اغوا ہیں، سینکڑوں ورکرز مشکلات کا شکار ہیں۔ یقین جانئے کہ یہ تمام الفاظ ایک گراؤنڈ کا ورکر ہی سمجھ سکتا ہے، وہ ورکر جو 24 گھنٹے گراؤنڈ پر موجود ہو جس کے سامنے سب آنکھوں دیکھا حال ہو۔ اور پھر یہ سب برداشت کرنا بھی کسی کی بس کی بات نہیں۔ جو سہیل آفریدی نے برداشت کر لیا، وہ سب اوپر الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ گورنر راج لگا ، 11 قبائلی اضلاع میں ایمرجنسی لگی ، آپ اگر اس پر بات نہیں کررہے، ایک منتخب وزیر اعلیٰ کے اغواء ہونے پر بات نہیں کررہے، ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کی بازیابی کی بات نہیں کر رہے، اغواء ہوئے وزراء کی بات نہیں کر رہے، سینکڑوں کارکنان اغواء ہے، سینکڑوں طلباء اغواء ہے، سینکڑوں گرفتار ہے، 4 دنوں سے ہر گھٹنے پاکستان تحریک انصاف کے ہر شخص کے گھر پر غیر قانونی چھاپے ہے، عورتوں سے جیل میں زبردستی استعفے لئے جا رہے ہے ، پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز ہسپتالوں میں پڑے ہے ، پھر بھی آگر آپ کو صرف اسی سہیل آفریدی سے مسئلہ ہے تو صاحب، پھر غلط فہمیوں سے بھرے اپنے عینک اتار دیجئے اور حقیقی عینک لگا کر لوگوں کو متحد رہنے کا پیغام دیں۔ جیت ہوگی، ہار ہوگی، یہ بات بعد میں ہوگی۔ فی الحال وفا ہوگی، وفاداری ہوگی اور سرعام ہوگی۔ تحریر : عامر چمکنی
14
69
2
185
2,555
نہ عمران خان صاحب بکا نہ أس کا سپاہی وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل خان آفریدی۔ سوال پوچھیں اپنوں سے بھی اور عدالت سے بھی کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اس وقت کہاں ہے ؟ #FreeCmSohailAfridi #Freeimrankhan
16
63
2
184
2,293
آگر آپ کے گھر آٹا نہیں ہے، بچے بھوکے ہے نا کوئی انتظامیہ جانتا ہے نہ ہی حکومت آور اگر آپ کے گھر یا گھر کے آس پاس پاکستان تحریک انصاف والا کوئی ہو تو حکومت سب جانتی ہے۔ حکومت پاکستان !
2
33
192
1,887
عمران خان زندہ باد ❤️
زبان ء خلق کو نقارہ ء خدا سمجھو عمران خان کی عوام کا گورنر راج والوں کے لیے کھلا پیغام" عمران خان زندہ آباد".
1
37
206
1,670
آج بچوں نے آپ کے سامنے پشتو میں کیا کہا؟ @SamarHBilour پختونخوا والوں کے سامنے بتانا چاہوگی؟
8
100
2
386
4,528
Amir Khan Chamkani ISF retweeted
سہیل آفریدی درست یا غلط سہیل آفریدی کو حکومت ملی تو جو کام سہیل آفریدی کو کرنا چاہیے تھا وہ اس نے نہیں کیا۔ تحریک انصاف کے اندر سے باہر سے اور صحافیوں نے اور دیگر کچھ لوگوں نے اسے امیدیں دلائیں کہ جلد حالات بہتر ہوجائیں گے۔ فلاں مہینے تک سب ٹھیک ہوجائے گا۔ ان جھوٹے وعدوں اور لاروں پر یقین کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ عمران خان طویل مدت تک قید تنہائی میں رکھا گیا ، بیماری کی خبریں آئیں تو اسے علاج تک کی سہولت نہ ملی۔ پھر ایک وقت آیا کہ حالات بہتر ہونے کی امیدیں مرنے لگیں ، سہیل آفریدی پر دباؤ بڑھنے لگا ، اور بالآخر اس نے تمام تر کشتیاں جلا دیں۔ اگر سہیل آفریدی نہ ہوتا تو یقیننا تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی ان دستاویزات پر دستخط کردیتی جہاں تحریک انصاف اور پختونخواہ حکومت کو دہشتگرد اور انکا ہمدرد ٹھہرایا جارہا تھا۔ سہیل آفریدی نے پورے صوبے میں عوام کو موبلائز کیا۔ ہفتوں تک پریشر بنائے رکھا۔ میڈیا پر ہائپ بنائی۔ انٹرنیشنل میڈیا انگیج کیا۔ دو سال کے سقوط کو توڑا اور لانگ مارچ کیا۔ اس سے زیادہ وہ کیا کرسکتا تھا ؟ اپنی حکومت قربان کردی۔ اپنا سیاسی مستقبل داؤ پر لگادیا بلکہ ایک دفعہ تو ختم کردیا۔ اب معلوم نہیں وہ کن حالات میں ہے اور اس کے ساتھ کیا سلوک ہورہا ہے۔ لیکن اب یہ کہنا کہ یہ سب سکرپٹڈ تھا اور اسے کسے بڑے پلان کے لیے تیار کیا جارہا ہے، اب جب وہ قید میں ہے اسے مشکوک بنانا سمجھ سے باہر ہے۔ اگر ایسی ہی ڈاٹ کنیکٹنگ کرنی ہے تو پھر کرتے ہیں شروع ۔ ادارہ ہذا یعنی میں فوج کا ایجنٹ ہوں۔ میرا کام فوج کے خلاف نفرت پھیلانا ہے تاکہ اسے دیکھ دیکھ کر فوج کے اندر تحریک انصاف کے لیے نفرت پیدا ہوجائے۔ مراد سعید کو فوج نے عمران خان کے قتل کے بعد ہیرو بنانے اور عمران خان کا جانشین بنانے کے لیے خود چھپایا ہوا ہے۔ اوورسیز یوٹیوبرز سارے پاک بھارت چند روزہ جنگ میں پاک فوج کے حمایتی اور ہمدرد بن گئے تھے ان سب کے پاس وہی ڈیل ہے جو جاوید ہاشمی کو دی گئی تھی کہ جب ہماری ضرورت ہو ہمارے ساتھ مل جاؤ باقی ہم پر جب چاہے جتنی چاہے تنقید کرو۔ کیسا؟ یعنی دیکھا آپ نے؟ کسی کے بارے میں شک پھیلانا کتنا آسان کام ہے؟ اور ان مشکل حالات میں جب کوئی تحریک نہیں اٹھ رہی تھی ، جب کوئی شخص سڑک پر نہیں آرہا تھا ہم ان حالات میں ہزاروں لوگوں کو سڑک پر لانے والے کو مشکوک بنا دیں؟ ہم سے یہ ظلم نہیں ہوگا۔ ہم یہ ظلم کرنے والوں کو روکیں گے۔ اگر یہ سلسلہ چل نکلا تو پھر کل کو جو کوئی بھی احتجاج کرے گا ، جو کوئی بھی قید کیا جائے گا اسے ہم مشکوک بناتے چلے جائیں گے؟ چار سال سے شاہ محمود جیل میں ہے۔ سب سے زیادہ اسے مشکوک بنایا گیا۔ کیا چار سال میں اس سے متعلق کسی کا اندازہ درست ثابت ہوا؟ بس کردیں اور جانے دیں۔ جو لائن سے ہٹتا ہے وہ خود ہی مروت اور گنڈاپور ہوجاتا ہے۔ جو لائن پر آتا ہے اسے کوئی چاہ کر بھی گنڈاپور یا مروت نہیں بنا سکتا۔ نوٹ ؛ لانگ مارچ کے یوں اچانک خاتمے کے بعد ایسی لڑائی ہونا مایوس کن ہے۔ لیکن اگر ایسی لڑائی شروع ہوجائے تو اس میں کودنا ناگزیر۔ وما علینا الا البلاغ المبین
205
852
27
3,403
114,927
Amir Khan Chamkani ISF retweeted
میرے گھر سے میرے بھائی اور میرے بزرگ، بوڑھے چچا کو اٹھائے ہوئے تین دن گزر چکے ہیں، لیکن تاحال ان کا کوئی پتا نہیں کہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں میرا قصور صرف اتنا ہے کہ میں عمران خان کے ساتھ کھڑا ہوں۔ آخر ہمارے گھر والوں کا کیا قصور ہے سابقہ صدر نصیر خانو آئی ایس ایف درگئی
1
2
54
Part 2 4۔ سہیل آفریدی ہر رات سی ایم ہاؤس کیوں جاتے تھے ؟ آپ بار بار پوچھ رہے ہیں کہ سہیل آفریدی لانگ مارچ چھوڑ کر سی ایم ہاؤس کیوں گئے۔ تو میں آپ کو بتا دوں کہ وہ ہر رات سی ایم ہاؤس واپس آتے تھے۔ جب لانگ مارچ خیبر پہنچا تو وہاں سے بھی وہ سی ایم ہاؤس آئے۔ پشاور کے کبوتر چوک سے بھی واپس آئے، چارسدہ سے بھی آئے اور مردان سے بھی واپس آئے۔ یہ معمول تھا، کسی ایک رات کی بات نہیں تھی۔ وہ سی ایم ہاؤس اپنی نیند پوری کرنے کے لیے نہیں جاتے تھے، بلکہ وہاں سینئر قیادت کے ساتھ اجلاس ہوتے تھے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بات چیت ہوتی تھی۔ وہ وزیراعلیٰ بھی ہیں، ان کی اپنی ذمہ داریاں ہیں۔ ہر وقت سڑک پر رہ کر حکومتی معاملات اور قیادت کے اجلاس چلانا ممکن نہیں تھا۔ اس لئے مردان سے واپسی بھی معمول کا حصہ تھی جہاں أسی رات بھی ہماری پاکستان تحریک کے 6 لوگ جو سنیئر قیادت کے ہو وہ اجلاس میں موجود تھے۔ 5۔ کیا وہ کارکنوں کو چھوڑ کر چلے جاتے تھے ؟ یہ بات بھی درست نہیں کہ سہیل آفریدی کارکنوں کو چھوڑ کر اپنی جان چھڑاتے تھے۔ لانگ مارچ جس شہر میں رکتا، وہاں کارکنوں کے کھانے پینے، کیمپوں اور دوسری ضروریات کا بندوبست کیا جاتا تھا کیونکہ ہم خود ہی گواہ ہے ہم نے خود ہر کیمپ میں راتیں گزارے ہے کارکنان کی حفاظت کھانے پینے سے لیکر کنٹینر کی حفاظت سے وہ سب کچھ ایک ساتھ سنبھال لیتے ۔ وہ ان انتظامات کو دیکھتے اور پھر سی ایم ہاؤس واپس آتے تھے تاکہ قیادت کے ساتھ اجلاس اور مشاورت کر سکیں۔ جس رات وہ مردان سے واپس آئے، اس رات بھی سینئر قیادت کے لوگ اجلاس میں موجود تھے۔ کچھ لوگ رات کو واپس چلے گئے، جبکہ جو لوگ وہاں رہ گئے، انہیں اگلے دن تقریباً بارہ بجے گرفتار کر لیا گیا۔ 6۔ اصل سوال: سہیل آفریدی کا پلان کہاں ہے ؟ بلال بھائی، اس سوال پر میں بھی آپ کے ساتھ ہوں۔ میرا بھی یہی سوال ہے کہ آخر سہیل آفریدی کا پلان کیا تھا اور اب وہ کہاں ہے؟ آگے کی حکمت عملی کیا ہے اور کارکنوں کو کب اعتماد میں لیا جائے گا؟ ممکن ہے کہ موجودہ حالات میں کسی حکمت عملی کے تحت پلان ابھی سامنے نہ لایا جا رہا ہو۔ یہ بھی خدشہ ہو سکتا ہے کہ اگر پہلے ہی دن عوام بڑی تعداد میں نکل آتے تو کوئی ان کے جذبات سے فائدہ اٹھا کر خدانخواستہ کوئی اور 9 مئی جیسا سانحہ کروا دیتا۔ لیکن یہ میرا اپنا خیال ہے، کوئی تصدیق شدہ بات نہیں۔ آخر میں بلال بھائی، میں نے آپ کے تمام سوالات کے جواب اپنے علم اور معلومات کے مطابق دے دیے ہیں۔ میں آپ کو غلط نہیں سمجھتا اور نہ آپ کی نیت پر شک کرتا ہوں۔ آپ کا سوال بھی اپنی جگہ درست ہے کہ پلان کہاں ہے اور آگے کیا کرنا ہے۔ میرا صرف اتنا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی سے سوال ضرور کریں، ان کی حکمت عملی پر تنقید بھی کریں، لیکن ان پر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ انڈرسٹینڈنگ کا کہنا میرے رائے کے مطابق غلط ہے ۔ کیونکہ ایک جوان کا سال بھر سب کرنا جو ہم چاہتے تھے جو کارکنان چاہتے تھے اور آخر میں جب سہیل آفریدی صاحب پر سختی آگئی تو ہمیں اس ظلم کے خلاف آواز أٹھانا چاہیے اور سہیل آفریدی صاحب کو عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔
بلال کے سخت اہم ضروری مخلص سوالات۔ جن میں بہت دم ہیں۔ ایک جمہوری سیاسی پارٹی میں ورکر عوام کے سوالات سنے جاتے ہیں۔ سمجھے جاتے ہیں۔ ان پر غور کیا جاتا ہے۔ بلال کے سوالات بہت اہم ہیں۔ انکو سنیں سمجھیں اور بلال کو گالی دئیے بغیر انکا منطق سے جواب دیں۔
30
66
1
255
16,419
بلال بھائی کی ویڈیو میں اٹھائے گئے سوالات کے جواب شہباز گل صاحب سمیت سب کے سامنے۔ بلال بھائی، آپ نے اپنی ویڈیو میں سہیل آفریدی، لانگ مارچ، گرفتاری، گورنر راج اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ انڈرسٹینڈنگ کے حوالے سے کئی سوالات کیے۔ میں آپ کی نیت پر شک نہیں کرتا اور نہ ہی آپ کو غلط سمجھتا ہوں۔ آپ نے جو سوالات اٹھائے ہیں، ان کے جواب میں چند باتیں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ 1۔ کیا سہیل آفریدی کی سیاست ختم ہو رہی تھ ی؟ بلال بھائی، آپ کہہ رہے ہیں کہ جولائی 2026 میں یا أس سے پہلے سہیل آفریدی کی عزت اور ساکھ ختم ہو رہی تھی اور ان کی سیاست کا گراف نیچے آ رہا تھا، اسی لیے انہوں نے لانگ مارچ کا اعلان کیا۔ لیکن میرے خیال میں ایسا نہیں تھا۔ گورنر راج لگتی ہی سہیل آفریدی کے دور کا ایک سال مکمل ہوگیا۔آپ مئی اور جولائی کے سہیل آفریدی کو دیکھیں۔ وہ مسلسل جلسوں، احتجاج اور عوام کو متحرک کرنے میں مصروف تھے۔ وہ کراچی تک گئے اور تحریک کو دوسرے صوبوں تک پھیلانے کی کوشش کرتے رہے۔ انہوں نے اپنی بساط سے بڑھ کر کام کیا۔ سہیل آفریدی کو آئے زیادہ وقت نہیں ہوا تھا۔ لوگوں کو معلوم تھا کہ وہ ابھی اپنی ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں ، اور انہیں کام کرنے کے لیے وقت دینا چاہیے۔ ہر کام ایک سال میں مکمل نہیں ہو سکتا۔ عام لوگوں کا بھی یہی خیال تھا کہ وہ اپنی طرف سے بہتر کوشش کر رہے ہیں۔ کیونکہ سب دیکھ رہے تھے کہ سہیل آفریدی خاموش نہیں بیٹھا بلکہ اکیلا پورے ملک کے ہر صوبے، ہر شہر، ہر ضلع بلکہ ہر مقام تک وہ عوام کو عمران خان صاحب کے لئے موبالائز کرتا رہا۔ أس کے ساتھ ہی صوبے کے سینکڑوں وہ مسائل، پختونخوا میں آپریشنز، ترقیاتی کاموں سمیت سب سنھبالنا مشکل تھا لیکن جوان نے کر دکھایا ۔ 2۔ کیا سہیل آفریدی کو اپنی گرفتاری کا یا موجودہ حالات کا پہلے سے علم تھا ؟ جی ہاں، گرفتاری کا ، حالات کا خدشہ ضرور تھا۔ قیادت میں یہ بات زیرِ بحث تھی کہ صوابی کے بعد سہیل آفریدی جو لائحہ عمل دیں گے، اس کے نتیجے میں گرفتاری، گورنر راج یا ایمرجنسی لگنے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ لیکن کسی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ مردان سے رات کو واپس آنے کے بعد صبح اچانک انہیں گرفتار کر لیا جائے گا اور حالات اس طرح بدل جائیں گے۔ گرفتاری کا خدشہ ہونا الگ بات ہے اور اس طرح اچانک حالات بدل جانے کی توقع رکھنا الگ بات ہے۔ 3۔ کیا سہیل آفریدی کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ انڈرسٹینڈنگ تھی ؟ بلال بھائی، میرے خیال میں یہ الزام بغیر ثبوت کے نہیں لگانا چاہیے۔ اگر سہیل آفریدی صرف سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتے تو ان کے پاس عوام کے سامنے گرفتاری دینے کے کئی مواقع تھے۔ وہ ڈی چوک، اسلام آباد یا لانگ مارچ کے دوران بھی گرفتاری دے سکتے تھے، جس سے انہیں مزید عوامی پذیرائی مل سکتی تھی۔ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ سارا سال وہ اسٹبلشمنٹ کے ہر پالیسی کے خلاف بولتا رہا، آواز أٹھاتا رہا چاہیے وہ اپنی ہی گاؤں تیراہ میں ہو یا دور پنجابی بھائیوں میں ۔ Part 1 ( دوسرا حصّہ دوسری ٹویٹ میں )
بلال کے سخت اہم ضروری مخلص سوالات۔ جن میں بہت دم ہیں۔ ایک جمہوری سیاسی پارٹی میں ورکر عوام کے سوالات سنے جاتے ہیں۔ سمجھے جاتے ہیں۔ ان پر غور کیا جاتا ہے۔ بلال کے سوالات بہت اہم ہیں۔ انکو سنیں سمجھیں اور بلال کو گالی دئیے بغیر انکا منطق سے جواب دیں۔
8
29
94
5,026