Precious World (@Precious20244) profile picture
Punjab, Pakistan
Joined November 2023
Photo by Precious World (@Precious20244)Photo by Precious World (@Precious20244)Photo by Precious World (@Precious20244)Photo by Precious World (@Precious20244)Photo by Precious World (@Precious20244)Photo by Precious World (@Precious20244)Photo by Precious World (@Precious20244)
ایک اُمّید بسر کرتے ہوئے عُمر کٹے پھر اچانک سے وہ اُمّید ہی مَر جائے تو؟ شوزب حکیم
5
297
Precious World retweeted
اگر آپ کا واٹس ایپ ہیک ہو جائے تو گھبرانے کے بجائے درست اقدام اٹھائیں۔ چند آسان مراحل کے ذریعے اپنا واٹس ایپ اکاؤنٹ دوبارہ فعال کیا جا سکتا ہے۔ مزید آگاہی کے لئے ویڈیو ملاحظہ کریں، خود کو محفوظ رکھیں اور دوسروں کو بھی باخبر کریں۔ #WhatsAppSafety #StaySafeOnline #CyberAwareness #PublicAdvisory #DigitalSecurity #Pakistan
21
1,169
17
2,094
109,626
Precious World retweeted
سال نو آتا ہے تو محفوظ کر لیتا ہوں میں کچھ پرانے سے کلینڈر ذہن کی دیوار پر آزاد گلاٹی #اردو
السلام علیکم و رحمة اللّہ💐 محبانِ اردو آج کی بزمِ اردو کا موضوع ہے ❤ نئے سال پر اشعار ❤️ اپنی پسند کے معیاری اشعار قطعات اور دیگر ادبی اصناف (بزم اردو) پر تحریر فرمائیں #اردو اور @urdu_bazm کو ٹیگ کریں اور شاعر کا نام ضرور لکھیں
5
7
175
پھر سے تین سو پینسٹھ پَر کا ایک پرندہ اُترے گا پھر دل کی دیوار پہ پچھلے سال کے پَر رہ جائیں گے
6
22
45
1,383
Precious World retweeted
غلطیاں برداشت ہو جاتیں ہیں ہور سنا ہور سنا برداشت نہیں ہوتا 😏
14
3
1
10
322
Precious World retweeted
غموں میں ڈوبنا کیسا ؟ مجھے ساحل بنا لو تم جو تیرے واسطے دھڑ کے مجھے وہ دل بنا لو تم تیری آنکھوں میں بس جائے مجھے وہ تصویر بنا لو تم سنو ! اک بات کہنی ہے مجھے اپنے دل میں بسا لو تم @_itsjarry15
5
3
6
233
20 نومبر 1916 یومِ پیدائش احمد ندیم قاسمی کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا تیرا در چھوڑ کے میں اور کدھر جاؤں گا گھر میں گھر جاؤں گا صحرا میں بکھر جاؤں گا تیرے پہلو سے جو اٹھوں گا تو مشکل یہ ہے صرف اک شخص کو پاؤں گا جدھر جاؤں گا اب ترے شہر میں آؤں گا مسافر کی طرح سایۂ ابر کی مانند گزر جاؤں گا تیرا پیمان وفا راہ کی دیوار بنا ورنہ سوچا تھا کہ جب چاہوں گا مر جاؤں گا چارہ سازوں سے الگ ہے مرا معیار کہ میں زخم کھاؤں گا تو کچھ اور سنور جاؤں گا اب تو خورشید کو گزرے ہوئے صدیاں گزریں اب اسے ڈھونڈنے میں تا بہ سحر جاؤں گا زندگی شمع کی مانند جلاتا ہوں ندیمؔ بجھ تو جاؤں گا مگر صبح تو کر جاؤں گا
19
145
2
595
45,175
کاش عمر رواں ٹھہر جائے کوئی مڑ مڑ کے دیکھتا ہے مجھے اختر شمار 17 اپریل 1960.... یومِ پیدائش منتخب اشعار ................. میں تو اس واسطے چپ ہوں کہ تماشا نہ بنے تو سمجھتا ہے مجھے تجھ سے گلا کچھ بھی نہیں ...... ابھی سفر میں کوئی موڑ ہی نہیں آیا نکل گیا ہے یہ چپ چاپ داستان سے کون ....... وہ مسکرا کے کوئی بات کر رہا تھا شمارؔ اور اس کے لفظ بھی تھے چاندنی میں بکھرے ہوئے ...... مدتوں میں آج دل نے فیصلہ آخر دیا خوبصورت ہی سہی لیکن یہ دنیا جھوٹ ہے ...... اب تو ہاتھوں سے لکیریں بھی مٹی جاتی ہیں اس کو کھو کر تو مرے پاس رہا کچھ بھی نہیں ...... تو نے ایک عمر کے بعد پوچھا ہے حال دل وہی درد و غم وہی حسرتیں مرے ساتھ ہیں ..... میں زندگی کے سفر میں تھا مشغلہ اس کا وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کے مجھ کو گنوا دیا کرتا ...... پہاڑ بھانپ رہا تھا مرے ارادے کو وہ اس لیے بھی کہ تیشہ مجھے اٹھانا تھا ...... میری رسوائی اگر ساتھ نہ دیتی میرا یوں سر بزم میں عزت سے نکلتا کیسے ....... میں گھر کو پھونک رہا تھا بڑے یقین کے ساتھ کہ تیری راہ میں پہلا قدم اٹھانا تھا ....... مری نگاہ کی وسعت بھی اس میں شامل کر مری زمین پہ تیرا یہ آسماں کم ہے ..........
15
64
2
286
18,860
شبنم آلود پلک یاد آئی گلِ عارض کی جھلک یاد آئی پھر سلگنے لگے یادوں کے کھنڈر پھر کوئی تاکِ صنک یاد آئی کبھی زلفوں کی گھٹا نے گھیرا کبھی آنکھوں کی چمک یاد آئی پھر کسی دھیان نے ڈیرے ڈالے کوئی آوارہ مہک یاد آئی پھر کوئ نغمہ گلو گیر ہوا کوئی بت نام کسک یاد آئی ذرّے پھر مائلِ رَم ہیں ناصر پھر اُنھیں سیرِ فلک یاد آئی ― ناصر کاظمی
2
15
1,040
Precious World retweeted
گلابوں کی طرح دل اپنا شبنم میں بھگوتے ہیں محبت کرنے والے خوبصورت لوگ ہوتے ہیں کسی نے جس طرح اپنے ستاروں کو سجایا ہے غزل کے ریشمی دھاگوں میں یوں موتی پروتے ہیں پرانے موسموں کے نام نامی مٹتے جاتے ہیں کہیں پانی کہیں شبنم کہیں آنسو سے دھوتے ہیں یہی انداز ہے میرا سمندر فتح کرنے کا مری کاغذ کی کشتی میں کئی جگنو بھی ہوتے ہیں سنا ہے بدرؔ صاحب محفلوں کی جان ہوتے تھے بہت دن سے وہ پتھر ہیں نہ ہنستے ہیں نہ روتے ہیں
1
1
2
86
آج خوشبوؤں کی شاعرہ پروین شاکر کا یومِ پیدائش ہے۔۔ تو مرا کچھ نہیں لگتا ہے مگر جان حیات... جانے کیوں تیرے لیے دل کو دھڑکتا دیکھوں... پروین شاکر 24 نومبر 1952ء کو کراچی میں پیدا ہوئی تھیں۔ دورانِ تعلیم وہ مباحثوں اور مشاعروں میں حصہ لیتی رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ریڈیو پاکستان کے مختلف علمی ادبی پروگراموں میں شرکت کرتی رہیں۔ انگریزی ادب اور لسانیات میں جامعہ کراچی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ پروین شاکر استاد کی حیثیت سے درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہیں اور پھر بعد میں آپ نے سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔ سرکاری ملازمت شروع کرنے سے پہلے نو سال شعبہ تدریس سے منسلک رہیں۔ پھر 1986ء میں کسٹم ڈیپارٹمنٹ، سی۔بی۔آر اسلام آباد میں سیکرٹری دوئم کے طور پر اپنی خدمات انجام دینے لگیں۔ 1990ء میں ٹرینٹی کالج امریکہ سے تعلیم حاصل کی اور 1991ء میں ہاورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ شاعری میں آپ کو احمد ندیم قاسمی صاحب کی سرپرستی حاصل رہی۔ آپ کا بیشتر کلام اُن کے رسالے فنون میں شائع ہوتا رہا۔ پروین شاکر کی شاعری کا موضوع محبت اور عورت ہے۔ 1977ء میں ان کا پہلا مجموعۂ کلام "خوشبو” شائع ہوا۔ اس مجموعے کی غیر معمولی پذیرائی ہوئی اور پروین شاکر کا شمار اردو کے صف اول کے شعرا میں ہونے لگا۔ خوشبو کے بعد پروین شاکر کے کلام کے کئی اور مجموعے "صد برگ”، "خود کلامی” اور "انکار” شائع ہوئے۔ ان کی زندگی میں ہی ان کے کلام کی کلیات "ماہِ تمام” بھی شائع ہو چکی تھی جبکہ ان کا آخری مجموعہ کلام "کفِ آئینہ” ان کی وفات کے بعد شائع ہوا۔ پروین شاکر نے کئی اعزازات حاصل کئے تھے جن میں ان کے مجموعۂ کلام "خوشبو” پر دیا جانے والا آدم جی ادبی انعام، "خود کلامی” پر دیا جانے والا اکادمی ادبیات کا ہجرہ انعام اور حکومت پاکستان کاصدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی شامل ہیں۔ 26 دسمبر 1994ء کی صبح پروین شاکر اسلام آباد میں اپنے دفتر جا رہی تھیں کہ ان کی کار اسلام آباد کے ظفر چوک پر سامنے سے آتی ہوئی ایک تیز رفتار بس سے ٹکرا گئی۔ اس حادثے کے نتیجے میں پروین شاکر شدید زخمی ہوئیں، انہیں فوری طور پر اسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔ پروین شاکر اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ ان کی لوح مزار پر انہی کے یہ اشعار تحریر ہیں. یا رب مرے سکوت کو نغمہ سرائی دے زخمِ ہنر کو حوصلۂ لب کشائی دے شہرِ سخن سے روح کو وہ آشنائی دے آنکھیں بھی بند رکھوں تو رستا سجھائی دے...
69
123
25
818
83,394
سناتا ہے کوئی بھولی کہانی مہکتے میٹھے دریاوں کا پانی یہاں جنگل تھے آبادی سے پہلے سنا ہے میں نے لوگوں‌کی زبانی یہاں اک شہر تھا شہرِ نگاراں نہ چھوڑی وقت نے اس کی نشانی میں وہ دل ہوں دبستانِ الم کا جسے روئے گی صدیوں شادمانی تصور نے اُسے دیکھا ہے اکثر خرد کہتی ہے جس کو لا مکانی خیالوں ہی میں‌ اکثر بیٹھے بیٹھے بسا لیتا ہوں اک دنیا سہانی ہجومِ نشّۂ فکرِ سخن میں بدل جاتے ہیں لفظوں کے معانی بتا اے ظلمتِ صحرائے امکاں کہاں ہوگا مرے خوابوں‌کا ثانی اندھیری شام کے پردوں میں‌ چھپ کر کسے روتی ہے چشموں کی روانی کرن پریاں اترتی ہیں کہاں سے کہاں جاتے ہیں رستے کہکشانی پہاڑوں سے چلی پھر کوئی آندھی اُڑے جائے ہیں اوراقِ خزانی نئی دنیا کے ہنگاموں میں‌ ناصر دبی جاتی ہیں آوازیں پرانی ― ناصر کاظمی
2
13
972
روز تاروں کی نمائش میں خلل پڑتا ہے چاند پاگل ہے اندھیرے میں نکل پڑتا ہے ایک دیوانہ مسافر ہے مری آنکھوں میں وقت بے وقت ٹھہر جاتا ہے چل پڑتا ہے روز پتھر کی حمایت میں غزل لکھتے ہیں روز شیشوں سے کوئی کام نکل پڑتا ہے اس کی یاد آئی ہے سانسو ذرا آہستہ چلو دھڑکنوں سے بھی عبادت میں
1
148
روزِمحشر ------- خدا سے لپٹ کر کہوں گا میں تیرے ماننے والوں کو جھیل کر آیا ہوں
6
22
170
6,134
آپ اُس رات سوئے کیسے جب آپکو معلوم ہو چُکا کہ آپکا متبادل بھی موجود ہے•
1
6
32
1,809
کھیلا میرے خلوص سے لوگوں نے اس قدر لہجے میں شوخیوں کی جگہ سوز رہ گیا ۔۔۔۔۔۔۔ ہر شخص ہی مفاد سے وابستہ ہے یہاں ہر ربط دل نشین، سبق آموز رہ گیا
1
31
میرےہم نفس میرےہم نوا مجھےدوست بن کے دغانہ دے میں ہوں دردعشق سےجاں بہ لب مجھےزندگی کی دعا نہ دے میرےداغ دل سےہےروشنی اسی روشنی سےہےزندگی مجھےڈر ہے اےمرےچارہ گر یہ چراغ تو ہی بجھا نہ دے مجھےچھوڑ دےمرےحال پر ترا کیابھروسہ ہےچارہ گر یہ تری نوازش مختصر مرا درداور بڑھانہ دے
1
3
67
ﺁﺝ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺑﺲ ﺗﻤﺎﺷﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺗﻌﻠﻖ ﺟﻮ ﺑﮯ ﺗﺤﺎﺷﺎ ﺗﮭا ﮨﻢ ﺍﺳﯽ ﺑﺖ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﭨﻮﭦ ﮔﺌﮯ جو تخیل میں خود تراشا تھا
20
2
1
40
743
ہم گداگر نہیں ، بس یونہی تمھارے آگے ہاتھ پھیلایا ہوا، آنکھ جھکائی ہوئی ہے ظفر اقبال
14
32
1
412
20,388