Precious World retweeted
اگر آپ کا واٹس ایپ ہیک ہو جائے تو گھبرانے کے بجائے درست اقدام اٹھائیں۔ چند آسان مراحل کے ذریعے اپنا واٹس ایپ اکاؤنٹ دوبارہ فعال کیا جا سکتا ہے۔
مزید آگاہی کے لئے ویڈیو ملاحظہ کریں، خود کو محفوظ رکھیں اور دوسروں کو بھی باخبر کریں۔
#WhatsAppSafety #StaySafeOnline #CyberAwareness #PublicAdvisory #DigitalSecurity #Pakistan
Precious World retweeted
سال نو آتا ہے تو محفوظ کر لیتا ہوں میں
کچھ پرانے سے کلینڈر ذہن کی دیوار پر
آزاد گلاٹی
#اردو
السلام علیکم و رحمة اللّہ💐
محبانِ اردو
آج کی بزمِ اردو کا موضوع ہے
❤ نئے سال پر اشعار ❤️
اپنی پسند کے معیاری اشعار قطعات اور دیگر ادبی اصناف (بزم اردو) پر تحریر فرمائیں
#اردو
اور
@urdu_bazm
کو ٹیگ کریں اور شاعر کا نام ضرور لکھیں
Precious World retweeted
پھر سے تین سو پینسٹھ پَر کا ایک پرندہ اُترے گا
پھر دل کی دیوار پہ پچھلے سال کے پَر رہ جائیں گے
Precious World retweeted
غموں میں ڈوبنا کیسا ؟
مجھے ساحل بنا لو تم
جو تیرے واسطے دھڑ کے
مجھے وہ دل بنا لو تم
تیری آنکھوں میں بس جائے
مجھے وہ تصویر بنا لو تم
سنو ! اک بات کہنی ہے
مجھے اپنے دل میں بسا لو تم
@_itsjarry15
Precious World retweeted
20 نومبر 1916 یومِ پیدائش
احمد ندیم قاسمی
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا
تیرا در چھوڑ کے میں اور کدھر جاؤں گا
گھر میں گھر جاؤں گا صحرا میں بکھر جاؤں گا
تیرے پہلو سے جو اٹھوں گا تو مشکل یہ ہے
صرف اک شخص کو پاؤں گا جدھر جاؤں گا
اب ترے شہر میں آؤں گا مسافر کی طرح
سایۂ ابر کی مانند گزر جاؤں گا
تیرا پیمان وفا راہ کی دیوار بنا
ورنہ سوچا تھا کہ جب چاہوں گا مر جاؤں گا
چارہ سازوں سے الگ ہے مرا معیار کہ میں
زخم کھاؤں گا تو کچھ اور سنور جاؤں گا
اب تو خورشید کو گزرے ہوئے صدیاں گزریں
اب اسے ڈھونڈنے میں تا بہ سحر جاؤں گا
زندگی شمع کی مانند جلاتا ہوں ندیمؔ
بجھ تو جاؤں گا مگر صبح تو کر جاؤں گا
Precious World retweeted
کاش عمر رواں ٹھہر جائے
کوئی مڑ مڑ کے دیکھتا ہے مجھے
اختر شمار
17 اپریل 1960.... یومِ پیدائش
منتخب اشعار
.................
میں تو اس واسطے چپ ہوں کہ تماشا نہ بنے
تو سمجھتا ہے مجھے تجھ سے گلا کچھ بھی نہیں
......
ابھی سفر میں کوئی موڑ ہی نہیں آیا
نکل گیا ہے یہ چپ چاپ داستان سے کون
.......
وہ مسکرا کے کوئی بات کر رہا تھا شمارؔ
اور اس کے لفظ بھی تھے چاندنی میں بکھرے ہوئے
......
مدتوں میں آج دل نے فیصلہ آخر دیا
خوبصورت ہی سہی لیکن یہ دنیا جھوٹ ہے
......
اب تو ہاتھوں سے لکیریں بھی مٹی جاتی ہیں
اس کو کھو کر تو مرے پاس رہا کچھ بھی نہیں
......
تو نے ایک عمر کے بعد پوچھا ہے حال دل
وہی درد و غم وہی حسرتیں مرے ساتھ ہیں
.....
میں زندگی کے سفر میں تھا مشغلہ اس کا
وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کے مجھ کو گنوا دیا کرتا
......
پہاڑ بھانپ رہا تھا مرے ارادے کو
وہ اس لیے بھی کہ تیشہ مجھے اٹھانا تھا
......
میری رسوائی اگر ساتھ نہ دیتی میرا
یوں سر بزم میں عزت سے نکلتا کیسے
.......
میں گھر کو پھونک رہا تھا بڑے یقین کے ساتھ
کہ تیری راہ میں پہلا قدم اٹھانا تھا
.......
مری نگاہ کی وسعت بھی اس میں شامل کر
مری زمین پہ تیرا یہ آسماں کم ہے
..........
Precious World retweeted
شبنم آلود پلک یاد آئی
گلِ عارض کی جھلک یاد آئی
پھر سلگنے لگے یادوں کے کھنڈر
پھر کوئی تاکِ صنک یاد آئی
کبھی زلفوں کی گھٹا نے گھیرا
کبھی آنکھوں کی چمک یاد آئی
پھر کسی دھیان نے ڈیرے ڈالے
کوئی آوارہ مہک یاد آئی
پھر کوئ نغمہ گلو گیر ہوا
کوئی بت نام کسک یاد آئی
ذرّے پھر مائلِ رَم ہیں ناصر
پھر اُنھیں سیرِ فلک یاد آئی
― ناصر کاظمی
Precious World retweeted
گلابوں کی طرح دل اپنا شبنم میں بھگوتے ہیں
محبت کرنے والے خوبصورت لوگ ہوتے ہیں
کسی نے جس طرح اپنے ستاروں کو سجایا ہے
غزل کے ریشمی دھاگوں میں یوں موتی پروتے ہیں
پرانے موسموں کے نام نامی مٹتے جاتے ہیں
کہیں پانی کہیں شبنم کہیں آنسو سے دھوتے ہیں
یہی انداز ہے میرا سمندر فتح کرنے کا
مری کاغذ کی کشتی میں کئی جگنو بھی ہوتے ہیں
سنا ہے بدرؔ صاحب محفلوں کی جان ہوتے تھے
بہت دن سے وہ پتھر ہیں نہ ہنستے ہیں نہ روتے ہیں
Precious World retweeted
آج خوشبوؤں کی شاعرہ پروین شاکر کا یومِ پیدائش ہے۔۔
تو مرا کچھ نہیں لگتا ہے مگر جان حیات...
جانے کیوں تیرے لیے دل کو دھڑکتا دیکھوں...
پروین شاکر 24 نومبر 1952ء کو کراچی میں پیدا ہوئی تھیں۔ دورانِ تعلیم وہ مباحثوں اور مشاعروں میں حصہ لیتی رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ریڈیو پاکستان کے مختلف علمی ادبی پروگراموں میں شرکت کرتی رہیں۔ انگریزی ادب اور لسانیات میں جامعہ کراچی سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ پروین شاکر استاد کی حیثیت سے درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہیں اور پھر بعد میں آپ نے سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔ سرکاری ملازمت شروع کرنے سے پہلے نو سال شعبہ تدریس سے منسلک رہیں۔ پھر 1986ء میں کسٹم ڈیپارٹمنٹ، سی۔بی۔آر اسلام آباد میں سیکرٹری دوئم کے طور پر اپنی خدمات انجام دینے لگیں۔ 1990ء میں ٹرینٹی کالج امریکہ سے تعلیم حاصل کی اور 1991ء میں ہاورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔
شاعری میں آپ کو احمد ندیم قاسمی صاحب کی سرپرستی حاصل رہی۔ آپ کا بیشتر کلام اُن کے رسالے فنون میں شائع ہوتا رہا۔ پروین شاکر کی شاعری کا موضوع محبت اور عورت ہے۔ 1977ء میں ان کا پہلا مجموعۂ کلام "خوشبو” شائع ہوا۔ اس مجموعے کی غیر معمولی پذیرائی ہوئی اور پروین شاکر کا شمار اردو کے صف اول کے شعرا میں ہونے لگا۔ خوشبو کے بعد پروین شاکر کے کلام کے کئی اور مجموعے "صد برگ”، "خود کلامی” اور "انکار” شائع ہوئے۔ ان کی زندگی میں ہی ان کے کلام کی کلیات "ماہِ تمام” بھی شائع ہو چکی تھی جبکہ ان کا آخری مجموعہ کلام "کفِ آئینہ” ان کی وفات کے بعد شائع ہوا۔
پروین شاکر نے کئی اعزازات حاصل کئے تھے جن میں ان کے مجموعۂ کلام "خوشبو” پر دیا جانے والا آدم جی ادبی انعام، "خود کلامی” پر دیا جانے والا اکادمی ادبیات کا ہجرہ انعام اور حکومت پاکستان کاصدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی شامل ہیں۔
26 دسمبر 1994ء کی صبح پروین شاکر اسلام آباد میں اپنے دفتر جا رہی تھیں کہ ان کی کار اسلام آباد کے ظفر چوک پر سامنے سے آتی ہوئی ایک تیز رفتار بس سے ٹکرا گئی۔ اس حادثے کے نتیجے میں پروین شاکر شدید زخمی ہوئیں، انہیں فوری طور پر اسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔ پروین شاکر اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
ان کی لوح مزار پر انہی کے یہ اشعار تحریر ہیں.
یا رب مرے سکوت کو نغمہ سرائی دے
زخمِ ہنر کو حوصلۂ لب کشائی دے
شہرِ سخن سے روح کو وہ آشنائی دے
آنکھیں بھی بند رکھوں تو رستا سجھائی دے...
Precious World retweeted
سناتا ہے کوئی بھولی کہانی
مہکتے میٹھے دریاوں کا پانی
یہاں جنگل تھے آبادی سے پہلے
سنا ہے میں نے لوگوںکی زبانی
یہاں اک شہر تھا شہرِ نگاراں
نہ چھوڑی وقت نے اس کی نشانی
میں وہ دل ہوں دبستانِ الم کا
جسے روئے گی صدیوں شادمانی
تصور نے اُسے دیکھا ہے اکثر
خرد کہتی ہے جس کو لا مکانی
خیالوں ہی میں اکثر بیٹھے بیٹھے
بسا لیتا ہوں اک دنیا سہانی
ہجومِ نشّۂ فکرِ سخن میں
بدل جاتے ہیں لفظوں کے معانی
بتا اے ظلمتِ صحرائے امکاں
کہاں ہوگا مرے خوابوںکا ثانی
اندھیری شام کے پردوں میں چھپ کر
کسے روتی ہے چشموں کی روانی
کرن پریاں اترتی ہیں کہاں سے
کہاں جاتے ہیں رستے کہکشانی
پہاڑوں سے چلی پھر کوئی آندھی
اُڑے جائے ہیں اوراقِ خزانی
نئی دنیا کے ہنگاموں میں ناصر
دبی جاتی ہیں آوازیں پرانی
― ناصر کاظمی
Precious World retweeted
روز تاروں کی نمائش میں خلل پڑتا ہے
چاند پاگل ہے اندھیرے میں نکل پڑتا ہے
ایک دیوانہ مسافر ہے مری آنکھوں میں
وقت بے وقت ٹھہر جاتا ہے چل پڑتا ہے
روز پتھر کی حمایت میں غزل لکھتے ہیں
روز شیشوں سے کوئی کام نکل پڑتا ہے
اس کی یاد آئی ہے سانسو ذرا آہستہ چلو
دھڑکنوں سے بھی عبادت میں
Precious World retweeted
روزِمحشر ------- خدا سے لپٹ کر کہوں گا
میں تیرے ماننے والوں کو جھیل کر آیا ہوں
کھیلا میرے خلوص سے لوگوں نے اس قدر
لہجے میں شوخیوں کی جگہ سوز رہ گیا
۔۔۔۔۔۔۔
ہر شخص ہی مفاد سے وابستہ ہے یہاں
ہر ربط دل نشین، سبق آموز رہ گیا
Precious World retweeted
میرےہم نفس میرےہم نوا
مجھےدوست بن کے دغانہ دے
میں ہوں دردعشق سےجاں بہ لب
مجھےزندگی کی دعا نہ دے
میرےداغ دل سےہےروشنی
اسی روشنی سےہےزندگی
مجھےڈر ہے اےمرےچارہ گر
یہ چراغ تو ہی بجھا نہ دے
مجھےچھوڑ دےمرےحال پر
ترا کیابھروسہ ہےچارہ گر
یہ تری نوازش مختصر
مرا درداور بڑھانہ دے
Precious World retweeted
ﺁﺝ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﺑﺲ ﺗﻤﺎﺷﺎ ﺗﮭﺎ
ﻭﮦ ﺗﻌﻠﻖ ﺟﻮ ﺑﮯ ﺗﺤﺎﺷﺎ ﺗﮭا
ﮨﻢ ﺍﺳﯽ ﺑﺖ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﭨﻮﭦ ﮔﺌﮯ
جو تخیل میں خود تراشا تھا






















