karim tarakai retweeted
ہم سب نے یہاں اکٹھے ہو کر مولانا فضل الرحمان صاحب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
جس مذموم انداز میں مولانا صاحب کی کردار کشی کی جا رہی ہے اور ان پر رکیک حملے کیے جا رہے ہیں، ہم اس صریح زیادتی کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ یہ ہتھکنڈے اب مزید نہیں چلیں گے۔
karim tarakai retweeted
"پہلی بات تو یہ ہے کہ ایمانداری اور پوری دیانت داری سے ہمیں یہ حکومت بتائے کہ ان کی عمران خان کے متعلق کیا رائے ہے؟ جو ہم سن رہے ہیں، وہ تو خطرناک بات ہے کہ عمران خان کو فارغ کر دو۔ اگر یہ ہے، تو ہم اخیر حد تک اس سوچ کی مخالفت کریں گے، پھر جو کچھ ہوتا ہے ہوتا رہے۔
دوسری بات،
یہ کوشش کی جائے کہ عمران خان کو مائنس کیا جائے، تو اس کی بھی ہم سخت الفاظ میں مخالفت کرتے ہیں۔
ہر الیکشن میں چاہے اس کا چاچا آئے، چاہے اس کی ممانی آئے، چاہے اس کی بیوی آئے، یا چاہے اس کا بھتیجا آئے، ہم اس کو سپورٹ نہیں کریں گے۔
مائنس عمران خان نہیں ہوگا۔
عمران خان کروڑوں انسانوں کا لیڈر ہے۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی"
karim tarakai retweeted
ایک پختون شہری کا بیان: ’’افغانستان جانے سے ڈر نہیں لگتا اپنے ہی ملک میں خوف محسوس ہوتا ہے‘‘
ایک پختون شہری نے اپنے ملک میں عدم تحفظ کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان جانے سے خوف محسوس نہیں ہوتا، لیکن اپنے ہی ملک میں یہ خدشہ رہتا ہے کہ کب اور کہاں سے گولی آ جائے اور انسان کو خبر تک نہ ہو۔
ماخذ: پختون شہری کا بیان
Rashid Khan's spectacular bowling powered Afghanistan to victory against Bangladesh 😮💨 💪
📸: @ACBofficials
📝: icc-cricket.com/matches/2746…
Afghanistan wrap up the UAE ODI tri-series in style with a comprehensive victory over Zimbabwe in the final 💪
📸: @ACBofficials
📝: icc-cricket.com/matches/2746…
karim tarakai retweeted
اسلام کی تاریخ میں پڑھتا بھی ہوں اور دیکھتا بھی ہوں۔ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سخت گرمی میں تبوک کی طرف جانے کا فیصلہ کیا۔ سخت گرمی تھی اور حالت انتہائی کٹھن تھی، لیکن چونکہ اعلانِ جنگ ہو چکا تھا، اس لیے ہر اچھے مسلمان پر یہ فرض تھا کہ وہ اس میں شامل ہو۔ کچھ لوگ لیت و لعل سے کام لیتے رہے۔ ان میں تین افراد شامل تھے: کعب بن مالک، ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع۔
کعب بن مالک اس وقت اسلام لائے تھے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس سال کی محنت کے بعد صرف چار افراد کو اپنا بنا چکے تھے: حضرت ابوبکر، حضرت خدیجہ، حضرت علی اور حضرت زید بن حارثہ۔ اس کے بعد دو مرتبہ مدینہ کے لوگ آئے۔ پہلی مرتبہ چار آدمیوں نے اسلام قبول کیا، اور دوسری مرتبہ ستر افراد نے۔ ان ستر افراد میں کعب بن مالک بھی شامل تھے، جو انصار میں سے تھے۔ اسلام کی تمام جنگوں میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شانہ بشانہ لڑتے رہے۔ باقی دو صحابہ غزوہ بدر کے مجاہدین تھے۔ لیکن تبوک کے موقع پر وہ نہ جانے کیوں پیچھے رہ گئے۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے، تو بہت سے لوگوں نے عذر پیش کیے، اور یہ تینوں بھی حاضر ہوئے۔ انہیں سب سے آخر میں معافی ملی۔ ان کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا۔ وہ خود بیان کرتے ہیں کہ ہمارے لیے زمین تنگ ہو گئی تھی۔ ہماری بیویوں اور بھائیوں کو حکم دیا گیا تھا کہ ہم سے کوئی رشتہ نہ رکھیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ہم مسجدِ نبوی میں آتے اور بیٹھتے تھے، لیکن نہ کوئی ہمارے سلام کا جواب دیتا تھا اور نہ کوئی ہم سے بات کرتا تھا۔ یہ سختی اس لیے تھی کہ جب اعلانِ جنگ ہو چکا تھا اور آپ اس جماعت کی قیادت کا حصہ تھے، تو اس وقت آپ کہاں تھے اور کس بل میں چھپے ہوئے تھے؟"
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
karim tarakai retweeted
ICYMI: WHAT A GRAB, @MohammadNabi007! 🙌🔥
#AFGvBAN | #GloriousNationVictoriousTeam | #ThreeTeamsOneSpirit
karim tarakai retweeted
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی گاڑی کہاں تھی اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے معاون ریاض خان کس کے تحویل میں تھا ریاض خان کے ساتھ کیا ہوا تھا
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کا انکشاف اس وڈیو میں
karim tarakai retweeted
ایک تحریک انصاف کا کارکن ہے جو عمران خان سے محبت کرتا ہے اور ان کے لیے سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہے۔
دوسری طرف ان کی ایک مصلحت پسند قیادت ہے، جو اس خوف کے ساتھ عمران خان کے ساتھ ہے کہ خدانخواستہ کل وہ یہ نہ کہہ دیں کہ محمود ایم این اے نہیں ہوگا، یا فلاں سینیٹر نہیں ہوگا۔
ان دو قوتوں نے تحریک انصاف میں مسائل پیدا کیے ہیں۔
لاکھوں لوگ عمران خان سے ان کے نظریات کی وجہ سے محبت کرتے ہیں۔ انہوں نے کیا کہا تھا؟ انہوں نے کہا تھا کہ میں یہاں موجود ظلم کے نظام کے خلاف آیا ہوں، میں نے کرپشن نہیں چھوڑنی، میں نے فلاں کام نہیں کرنا۔
میں کسی کا نام نہیں لیتا، لیکن جب قیادت مصلحت پسند لوگوں کے ہاتھ میں ہو، تو وہ تذبذب کی حالت میں رہتے ہیں۔ جب اعلانِ جنگ ہو جائے، جب آپ کی پارٹی اور آپ کے لشکر پر حملہ ہو، تو پھر ان لوگوں کو جو رہبری کے منصب پر ہوتے ہیں، انہیں سوچنا نہیں پڑتا بلکہ انہیں میدان میں کودنا پڑتا ہے۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
karim tarakai retweeted
"کوئی مجھ سے بات کرتا تھا، یہ اس لیے کہ بھائی اعلانِ جنگ ہو چکا ہے۔ آپ اس پارٹی کی لیڈرشپ ہیں، کہاں ہیں آپ؟ کس بل میں چھپے ہوئے ہیں آپ؟
دیکھیں، سہیل آفریدی غریب کیا کہہ رہا تھا؟ یہ بڑے ظالم لوگ ہیں، ہماری بات سمجھنے کی کوشش نہیں کر رہے۔ میں کوئٹہ میں تھا۔ ایک مطالبہ تھا۔ سہیل آفریدی یہ کہہ رہا تھا کہ اچھا اعلان کیا ہے یا برا، ہم اعلان کر چکے ہیں۔ اب آپ کہتے ہیں کہ اس کو سسپینڈ کر دو یا ختم کر دو، تو ہمیں اپنے لیڈر سے ملنے دیا جائے۔
دنیا کا قانون ہے، دو متحارب لشکر ہیں، دو متحارب پارٹیاں ہیں۔ ایک میں اتحادی شامل ہیں، ان کے لیڈر، ان کے دیگر لوگ اور ان کو اوپر سے سپورٹ کرنے والے سب صبح و شام سرگرم رہتے ہیں۔ دوسری طرف ایک پارٹی کا لیڈر جیل میں ہے، اس سے پوچھے بغیر کون یہ فیصلے کر سکتا ہے؟
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
karim tarakai retweeted
سنٹرل کرم کے حالات
ضلع کرم میں لواحقین نے شہید ہونے والے پانچ بچوں کی میتوں کو چھاؤنی گیٹ پہ رکھ کر احتجاج شروع کر دیا ہے
معدنیات کے اس جنگ کا تاوان عوام کیوں بھریں ؟؟
ذہنی مریض بالکل ہی پاگل ہو چکا ہے
karim tarakai retweeted
په روسیه کې د افغانستان سفیر ګل حسن حسن زنده باد!
ګل حسن مولوي صیب نن د افغانستان حق پر ځای کړ او په ډېره مېړانه او جراعت یې د افغانستان په تړاو د شریر دښمن پاکستان له مردارو کړنو پرده اوچته کړه.
حس مولوي صاحب د منځنۍ اسیا او افغانستان د امنیتي مسایلو په اړه د ټولیز امنیت تړون سازمان، د خپلواکو هېوادونو ټولنې او شانګهای همکاریو سازمان په ګډ امنیتي کنفرانس کې د پاکستان اوړه ور په مالګه کړل.
karim tarakai retweeted
تمپ: ھیر آباد میں پاکستانی فورسز نے گھروں کو نذر آتش کردیا۔ متاثرہ گھروں میں گل محمد اور خلیل کے گھر شامل ہیں۔
علاقائی ذرائع کے مطابق دو روز قبل فورسز نے دوران آپریشن ایک گھر کو نذر آتش کیا جبکہ گذشتہ شب فوج کی حمایت یافتہ 'ڈیتھ اسکواڈ' ارکان نے ایک گھر کو نذرآتش کردیا۔
گل محمد کے گھر پر اس سے قبل بھی حکومتی حمایت یافتہ مسلح گروہ نے دستی بموں سے حملہ کیا تھا۔
karim tarakai retweeted
MISSING, NOT FORGOTTEN - 17th October 2026 - Day 340
International human rights law protects the right to liberty and security, prohibits torture and protects every person's recognition before the law.
Enforced disappearance threatens these fundamental rights by concealing a person's fate or whereabouts and placing them outside the protection of the law.
The UN International Convention for the Protection of All Persons from Enforced Disappearance states in Article 1 that no one shall be subjected to enforced disappearance. It also makes clear that political instability or a public emergency cannot justify it.
These protections exist because no authority should be beyond the law.
Noorullah Tareen and Hanif Pashteen remain missing after 340 days.
Their whereabouts must be established. Their rights must be respected.
#EndEnforcedDisappearances #HumanRights #WhereIsPTMDelegation #WhereIsNoorUllahTareen #WhereIsHanifPashteen
karim tarakai retweeted
یہ دہشتگرد نہیں بلکہ وہ محب وطن پاکستانی ہیں جو گورنرراج کےخلاف ضلع خیبرمیں احتجاج کررہےتھےانہیں پزنجیروں میں جکڑکرجانوروں کی طرح عدالت پیش کیاگیاکھانا تک ان کو نہیں دیا گیا تھا
#گورنرراج_بہانہ_معدنیات_نشانہ
karim tarakai retweeted
آپ کی یہ حکومت قاتل حکومت ہے جس نے سینکڑوں لوگ مارے ہیں۔ تحریک لبیک کے احتجاج میں چھوٹے بچے شامل تھے، لیکن آپ نے سیدھا ان کے سروں میں گولیاں ماریں۔ خیبر پختونخوا میں جو کچھ ہو رہا ہے، خدارا اس ملک پر رحم کریں۔
عمران خان پر دنیا کے کس قانون کے تحت پابندی لگائی گئی ہے اور ملاقات سے روکا گیا ہے؟ دنیا کا ایسا کون سا قانون ہے جو آپ کو اس بات کی اجازت دیتا ہے؟
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
karim tarakai retweeted
دنیا کا سب سے بڑا خطرناک دہشتگرد، دنیا کہتی ہے کہ آپ کے پاس ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ نہیں توبہ، ہم تو مسلمان لوگ ہیں، ہم دہشتگردی کے مخالف ہیں۔ پھر کیا ہوا دو ہیلی کاپٹر۔۔ دو ہیلی کاپٹر آئے۔ وزیرِ قانون صاحب! آپ سے عرض کر رہا ہوں۔ دو ہیلی کاپٹر آئے۔ ہماری ان باتوں کی وجہ سے کہ ہم کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں۔ دو ہیلی کاپٹر آئے، انہوں نے ہماری خود مختاری کی، سوورینٹی کی دھجیاں اڑائیں۔ ایک خراب ہوا، ہم سب چوبیس کروڑ پاکستانی، افواجِ پاکستان سمیت گھر میں بیٹھے رہے۔ پھر بھی ہم نے توبہ نہ کی، پھر بھی ہم نے توبہ نہ کی۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی



















