الف (@Ah_855) header
الف (@Ah_855) profile picture

۞إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۞ 🌹 #اردو_زبان🌹 https://xitter.cf/t.co/viXD1qhwyQ

🇪🇺
Joined June 2021
Photo by الف (@Ah_855)Photo by الف (@Ah_855)Photo by الف (@Ah_855)Photo by الف (@Ah_855)Photo by الف (@Ah_855)Photo by الف (@Ah_855)Photo by الف (@Ah_855)Photo by الف (@Ah_855)Photo by الف (@Ah_855)Photo by الف (@Ah_855)
الف retweeted
جو لوگ اللہ تعالی کی ربوبیت میں شک کرتے ہیں انہیں سمجھ لینا چاہیے تمام کائنات میں موجود ہر چیز کو پیدا کرنے والی ذات صرف اللہ ہے جبکہ اللہ تعالی کے شریک کچھ بھی حتی کہ مکھی کا پر بھی بنانے پر قادر نہیں ہیں۔ #سارہ #اردو_زبان
19
15
1
69
830
اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں #اردو_زبان
8
4
51
خوش رہنے کے لیے ہمیشہ بہت کچھ ہونا ضروری نہیں ہوتا کبھی کسی بہت اپنے کا ساتھ تھوڑی سی توجہ اور بے غرض محبت ہی زندگی کا سب سے قیمتی تحفہ بن جاتی ہے۔ #اردو_زبان
6
6
101
کارل مارکس کے والد کا مارکس کے لیے بولے گیا جملہ کاش کہ تم بھی شب بیداری اور تنہائی چھوڑ کر آرام کے ساتھ کچھ وقت گزار لو کچھ لوگوں کی آنکھیں اور صورت تعلیم اور خدمت انسانیت کی جدوجہد میں صرف ہو کر رہ جاتی ہیں #کارل_مارکس #لیاقت #اردو_زبان
3
16
جب مجھے 23 سال کی عمر میں پہلی تنخواہ ملی تو میرے والد نے مجھ سے کہا: ”ہر مہینے مجھے 100 بھیج دیا کرنا۔“ میں نے پوچھا: ”ابو، کیوں؟“ انہوں نے جواب دیا: ”تمہاری پرورش کے بدلے۔“ میں ہنس پڑا، لیکن وہ نہیں ہنسے۔ اس دن سے ہر مہینے کی 27 تاریخ کو، جب میری تنخواہ آتی، میں انہیں 100 بھیج دیتا۔ اور رقم بھیجتے وقت ٹرانزیکشن کے ریفرنس میں لکھتا: ”آپ کی پرورش کے بدلے۔“ اور ہر بار ان کا جواب ہوتا: ”وصول ہوگئے۔ اللہ تمہیں رزق عطا فرمائے۔“ وہ کبھی اس کے علاوہ ایک لفظ بھی نہیں کہتے تھے۔ میں نے غیر شادی شدہ ہونے کے زمانے میں بھی پیسے بھیجنا جاری رکھا۔ شادی کے مہینے میں بھی بھیجے، حالانکہ میرے سر پر قرضوں کا بوجھ تھا۔ میرے بیٹے کی پیدائش کے مہینے میں بھی بھیجے، جب میرے اکاؤنٹ میں صرف 140 باقی بچے تھے۔ میری بیوی پوچھتی: ”آپ کے والد ریٹائر ہو چکے ہیں اور ان کا اپنا گھر بھی ہے، انہیں ان 100 کی کیا ضرورت ہے؟“ میرے دوست مذاق اڑاتے ہوئے کہتے: ”کیا تمہارے والد نے تم پر کوئی ٹیکس لگا رکھا ہے؟“ میں بس اتنا کہتا: ”میرے والد ایسے ہی ہیں، ان کے اپنے ہی کچھ طریقے ہیں۔“ ایک مرتبہ مجھ سے رقم بھیجنے میں ایک دن کی تاخیر ہوگئی۔ صبح سات بجے والد کا فون آیا اور انہوں نے پوچھا: ”سب خیریت تو ہے؟“ میں نے پیسے بھیج دیے اور دل ہی دل میں ہنستے ہوئے سوچا: ”واقعی، پیسوں کے معاملے میں تو بہت پابند ہیں۔“ یہ سلسلہ پورے 12 سال جاری رہا۔ تین ماہ پہلے کمپنی نے مجھے ملازمت سے فارغ کر دیا۔ میں نے کسی کو کچھ نہیں بتایا، یہاں تک کہ اپنی بیوی کو بھی نہیں۔ ہر روز صبح سات بجے میں اپنا ثوب پہنتا، گھر سے نکلتا اور ایک کافی شاپ کے قریب اپنی گاڑی میں بیٹھا رہتا۔ دوپہر تک وہیں گزارتا، پھر گھر واپس آ جاتا، جیسے دفتر سے لوٹ رہا ہوں۔ پھر 27 تاریخ آ گئی، لیکن اس بار تنخواہ نہیں آئی۔ 12 سال میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ میں نے اپنے والد کو پیسے نہیں بھیجے۔ رات کے کھانے کے بعد میرا فون بجا۔ والد تھے۔ انہوں نے کہا: ”پیسے نہیں آئے۔“ میں نے جواب دیا: ”ابو، بھول گیا تھا۔ ان شاء اللہ، کل بھیج دوں گا۔“ وہ کچھ لمحوں کے لیے خاموش رہے، پھر بولے: ”ابھی میرے پاس آؤ، اکیلے۔“ میں ان کے مجلس میں داخل ہوا تو دیکھا کہ وہ بیٹھے ہیں اور ان کے سامنے ایک پرانی نوٹ بک اور ایک لفافہ رکھا ہے۔ انہوں نے نوٹ بک میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا: ”اسے کھولو۔“ نوٹ بک کے ہر صفحے پر ایک تاریخ، رقم ”100“ اور میرا نام درج تھا۔ ہر اندراج کے ساتھ یہ بھی لکھا تھا کہ وہ رقم کہاں خرچ کی گئی: ”واٹر کولر۔“ ”ایک یتیم بچے کی کفالت۔“ ”رمضان کا راشن پیکج۔“ ”مزدوروں کے لیے پانی کا انتظام۔“ کل 144 اندراجات تھے۔ انہوں نے کہا: ”تمہاری بھیجی ہوئی رقم کا ایک ریال بھی کبھی میری اپنی جیب میں نہیں گیا۔“ پھر انہوں نے اپنا فون مجھے دیا۔ اس میں مسجد کے باہر لگے ایک واٹر کولر کی تصویر تھی۔ اس پر لگی ایک چھوٹی سی تختی پر لکھا تھا: ”میرے بیٹے کی طرف سے صدقہ، اللہ اسے سلامت رکھے۔“ میں نے اسے فوراً پہچان لیا۔ یہ وہی واٹر کولر تھا جو میری جائے ملازمت کے قریب مسجد کے باہر لگا ہوا تھا۔ وہی جس سے میں ہر روز دوپہر کو پانی پیا کرتا تھا۔ برسوں سے میں اپنے والد کے دیے ہوئے صدقے کا پانی پی رہا تھا، اور مجھے اس بات کا ذرا بھی علم نہیں تھا۔ پھر انہوں نے لفافہ میری طرف بڑھایا اور کہا: ”اور یہ میری طرف سے ہے۔“ میں نے لفافہ کھولا تو اس میں 72,000 کی رقم تھی۔ انہوں نے بتایا: ”جب سے تمہیں پہلی تنخواہ ملی تھی، میں ہر مہینے 500 روپے الگ رکھتا رہا ہوں۔“ ”مجھے معلوم تھا کہ ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب تمہاری طرف سے پیسے نہیں آئیں گے، اور اس دن تمہیں میری ضرورت ہوگی۔“ میں نے پوچھا: ”ابو، آپ کو کیسے معلوم تھا؟“ انہوں نے جواب دیا: ”12 سال تک تم نے کبھی رقم بھیجنے میں ناغہ نہیں کیا، سوائے آج کے۔ مجھے کسی سے پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔“ میرے پاس کہنے کے لیے کوئی لفظ نہیں تھا۔ انہوں نے مزید کہا: ”مجھے کبھی ان 100 کی ضرورت تھی ہی نہیں۔“ ”میں تو بس ہر مہینے یہ جاننا چاہتا تھا کہ تم خیریت سے ہو۔ میں تم سے پوچھے بغیر یہ جاننا چاہتا تھا کہ تم ٹھیک ہو یا نہیں۔ بس تم خود مجھے یہ کہہ دیا کرو کہ ’میں ٹھیک ہوں‘، چاہے حقیقت میں تم ٹھیک نہ بھی ہو۔“ دو ماہ بعد مجھے ایک نئی ملازمت مل گئی۔ 27 تاریخ کو، جب مجھے پہلی تنخواہ ملی، تو میں نے والد کو 100 بھیجے اور ساتھ لکھا: ”آپ کی پرورش کے بدلے۔“ ان کا جواب آیا: ”وصول ہوگئے۔ اللہ تمہیں بے حساب رزق عطا فرمائے۔“ ایک منٹ بعد، ان کی طرف سے پہلی بار دوسرا پیغام بھی آیا: ”اور آئندہ مجھ سے کوئی بات مت چھپانا۔“😌
6
2
38
الف retweeted
جانے والے ہماری محفل سے چاند تاروں کو ساتھ لیتا جا ہم خزاں سے نباہ کر لیں گے تو بہاروں کو ساتھ لیتا جا ساغر صدیقی #اردو_زبان
6
2
52
الف retweeted
دل کو خیال یار نے مخمور کر دیا ساغر کو رنگ بادہ نے پر نور کر دیا حسرتؔ موہانی #اردو_زبان
3
1
50
تُو بھی اُلفت میں گرفتار رہا،جُھوٹ کہا مُحبتوں میں بـے قرار رہا،جُھوٹ کہا بڑے سکوں سے مُجھے چھوڑ دیا،توڑ دیا پھر مرے بعد سوگوار رہا،جُھوٹ کہا کٸ رُتوں سے مرا حال تک نہیں پوچھا تُو رابطے کا طلبگار رہا،جھوٹ کہا #اردو_زبان
1
5
10
161
اسلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ اپنی صبح کا آغاز تلاوت و ترجمعہ سے کریں آج سورہ الانعام آیت 29 پڑھیں اور سنیں گے
5
2
35
یہ ایک لمحے کی دوری بہت ہے میرے لیے تمام عمر ترا انتظار کرنے کو #اردو_زبان
3
21
الف retweeted
مرے اس اولیں اشک محبت پر نظر کر یہ موتی سیپ میں پھر عمر بھر آتا نہیں ہے خورشید رضوی #اردو_زبان
3
2
48
یہ مال و دولت دنیا یہ رشتہ و پیوند بتان وھم و گماں لا الہ الا اللہ خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زناری نہ ہے زماں نہ مکاں لا الہ الا اللہ یہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں پابند بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ #اردو_زبان
8
4
46
جو جنگ آپ جیت نہیں سکتے وہ شروع ہی نہیں کرنی چاہئیے Sun Tzu Chinese General And Strategist #لیاقت #اردو_زبان
5
5
38
#اردو_زبان السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ آج کی آیات کریمہ ترجمے اور تفسیر کے ساتھ ۔۔ سورۃ البقرۃ، دوسرا پارہ ہے أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيم اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿173﴾ ترجمہ :- اِنَّمَا در حقیقت حَرَّمَ حرام کیا عَلَيْكُمُ تم پر الْمَيْتَةَ مردار وَالدَّمَ اور خون وَلَحْمَ اور گوشت الْخِنْزِيْرِ سور وَمَآ اور جو اُهِلَّ پکارا گیا بِهٖ اس پر لِغَيْرِ اللّٰهِ اللہ کے سوا فَمَنِ پس جو اضْطُرَّ لاچار ہوجائے غَيْرَ بَاغٍ نہ سرکشی کرنے والا وَّلَا اور نہ عَادٍ حد سے بڑھنے والا فَلَا تو نہیں اِثْمَ گناہ عَلَيْهِ اس پر اِنَّ بیشک اللّٰهَ اللہ غَفُوْرٌ بخشنے والا رَّحِيْمٌ رحم کرنے والا ہے اس نے تم پر مرا ہوا جانور اور لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے حرام کردیا ہے ہاں جو ناچار ہوجائے (بشرطیکہ) خدا کی نافرمانی نہ کرے اور حد (ضرورت) سے باہر نہ نکل جائے اس پر کچھ گناہ نہیں۔ بےشک خدا بخشنے والا (اور) رحم کرنے والا ہے تفسیر مختصر :- مسئلہ مردار کا دودھ اور اس کے انڈے جو اس میں ہوں نجس ہیں امام شافعی کا یہی مذہب ہے اس لئے کہ وہ بھی میت کا ایک جزو ہے، امام مالک رحمتہ اللہ سے ایک روایت میں ہے کہ تو وہ پاک لیکن میت میں شامل کی وجہ سے جنس ہوجاتا ہے، اسی طرح مردار کی کھیس (کھیری) بھی مشہور مذہب میں ان بزرگوں کے نزدیک ناپاک ہے گو اس میں اختلاف بھی ہے، صحابہ ؓ کا مجوسیوں کا پنیر کھانا گو بطور اعتراض ان پر ہوسکتا ہے مگر اس کا جواب قرطبی نے یہ دیا ہے کہ دودھ بہت ہی کم ہوتا ہے اور کوئی بہنے والی ایسی تھوڑی سی چیز اگر کسی مقدار میں زیادہ بہنے والی میں بڑ جائے تو کوئی حرج نہیں نبی ﷺ سے گھی اور پنیر اور گور خر کے بارے میں سوال ہوا تو آپ نے فرمایا حلال وہ ہے جسے اللہ نے اپنی کتاب میں حلال بتایا اور حرام وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حرام قرار دیا اور جس کا بیان نہیں وہ سب معاف ہیں۔ پھر فرمایا تم پر سور کا گوشت بھی حرام ہے خواہ اسے ذبح کیا ہو خواہ وہ خود مرگیا ہو، سور کی چربی کا حکم بھی یہی ہے اس لئے کہ چونکہ اکثر گوشت ہی ہوتا ہے اور چربی گوشت کے ساتھ ہی ہوتی ہے پس جب گوشت حرام ہوا تو چربی بھی حرام ہوئی، دوسرے اس لئے بھی کہ گوشت میں ہی چربی ہوتی ہے اور قیاس کا تقاضا بھی یہی ہے۔ پھر فرمایا کہ جو چیز اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کے نام پر مشہور کی جائے وہ بھی حرام ہے جاہلیت کے زمانہ میں کافر لوگ اپنے معبودان باطل کے نام پر جانور ذبح کیا کرتے تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا، ایک مرتبہ ایک عورت نے گڑیا کے نکاح پر ایک جانور ذبح کیا تو حسن بصری نے فتویٰ دیا کہ اسے نہ کھانا چاہئے اس لئے کہ وہ ایک تصویر کے لئے ذبح کیا گیا، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے سوال کیا گیا کہ عجمی لوگ جو اپنے تہوار اور عید کے موقعہ پر جانور ذبح کرتے ہیں اور مسلمانوں کو بھی اس میں سے ہدیہ بھیجتے ہیں ان کا گوشت کھانا چاہئے یا نہیں ؟ تو فرمایا اس دن کی عظمت کے لئے جو جانور ذبح کیا جائے اسے نہ کھاؤ ہاں ان کے درختوں کے پھل کھاؤ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ضرورت اور حاجت کے وقت جبکہ کچھ اور کھانے کو نہ ملے ان حرام چیزوں کا کھا لینا مباح کیا ہے اور فرمایا جو شخص بےبس ہوجائے مگر باغی اور سرکش اور حد سے بڑھ جانے والا نہ ہو اس پر ان چیزوں کے کھانے میں گناہ نہیں اللہ تعالیٰ بخشش کرنے والا مہربان ہے باغ اور عاد کی تفسیر میں حضرت مجاہد فرماتے ہیں، ڈاکو راہزن مسلمان بادشاہ پر چڑھائی کرنے والا سلطنت اسلام کا مخالف اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں سفر کرنے والا سبھی کے لئے اس اضطرار کے وقت بھی حرام چیزیں حرام ہی رہتی ہیں، غیر باغ کی تفسیر حضرت مقاتل بن حبان یہ بھی کرتے ہیں کہ وہ اسے حلال سمجھنے والا نہ ہو اور اس میں لذت اور مزہ کا خواہشمند نہ ہو، اسے بھون بھان کر لذیذ بنا کر اچھا پکا کر نہ کھائے بلکہ جیسا تیسا صرف جان بچانے کے لئے کھالے اور اگر ساتھ لے تو اتنا کہ زندگی کے ساتھ حلال چیز کے ملنے تک باقی رہ جائے جب حلال چیز مل گئی اسے پھینک دے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اسے خوب پیٹ بھر کر نہ کھائے، حضرت مجاہد فرماتے ہیں جو شخص اس کے کھانے کے لئے مجبور کردیا جائے اور بےاختیار ہوجائے اس کا بھی یہی حکم ہے، مسئلہ ایک شخص بھوک کے مارے بےبس ہوگیا ہے اسے ایک مردار جانور نظر پڑا اور کسی دوسرے کی حلال چیز بھی دکھائی دی جس میں نہ رشتہ کا ٹوٹنا ہے نہ ایذاء دہی ہے تو اسے اس دوسرے کی چیز کو کھا لینا چاہئے مردار نہ کھائے، پھر آیا اس چیز کی قیمت یا وہی چیز اس کے ذمہ رہے گی یا نہیں اس میں دو قول ہیں ایک یہ کہ رہے گی دوسرے یہ کہ نہ رہے گی۔ نہ رہنے والے قول کی تائید میں یہ حدیث ہے جو ابن ماجہ میں ہے، حضرت عباد بن شرحبیل غزی کہتے ہیں ہمارے ہاں ایک سال قحط سالی پڑی میں مدینہ گیا اور ایک کھیت میں سے کچھ بالیں توڑ کر چھیل کر دانے چبانے لگا اور تھوڑی سی بالیں اپنی چادر میں باندھ کر چلا کھیت والے نے دیکھ لیا اور مجھے پکڑ کر مارا پیٹا اور میری چادر چھین لی، میں آنحضرت ﷺ کے پاس گیا اور آپ سے واقعہ عرض کیا تو آپنے اس شخص کو کہا اس بھوکے کو نہ تو تو نے کھانا کھلایا نہ اس کے لئے کوئی اور کوشش کی نہ اسے کچھ سمجھایا سکھایا یہ بیچارہ بھوکا تھا نادان تھا جاؤ اس کا کپڑا واپس کرو اور ایک وسق یا آدھا وسق غلہ اسے دے دو ، (ایک وسق چار من کے قریب ہوتا ہے) ایک اور حدیث میں ہے کہ درختوں میں لگے ہوئے پھلوں کی نسبت حضور ﷺ سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا جو حاجت مند شخص ان سے میں کچھ کھالے لیکر نہ جائے اس پر کچھ جرم نہیں۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ اضطراب اور بےبسی کے وقت اتنا کھا لینے میں کوئی مضائقہ نہیں جس سے بےبسی اور اضطرار ہٹ جائے، یہ بھی مروی ہے کہ تین لقموں سے زیادہ نہ کھائے غرض ایسے وقت میں اللہ کی مہربانی اور نوازش ہے یہ حرام اس کے لئے حلال ہے حضرت مسروق فرماتے ہیں اضطرار کے وقت بھی جو شخص حرام چیز نہ کھائے اور مرجائے وہ جہنمی ہے، اس سے معلوم ہوا کہ ایسے وقت ایسی چیز کے کھانی ضروری ہے نہ کہ صرف رخصت ہی ہو، یہی بات زیادہ صحیح ہے جیسے کہ بیمار کا روزہ چھوڑ دینا وغیرہ۔ Tafseer Ibn-e-Kaseer 2:173 equranlibrary.com/tafseer/ib…
#اردو_زبان السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ آج کی آیات کریمہ ترجمے اور تفسیر کے ساتھ ۔۔ سورۃ البقرۃ، دوسرا پارہ ہے أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيم یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ﴿172﴾ ترجمہ :- يٰٓاَيُّهَا اے الَّذِيْنَ جو لوگ اٰمَنُوْا ایمان لائے كُلُوْا تم کھاؤ مِنْ سے طَيِّبٰتِ پاک مَا رَزَقْنٰكُمْ جو ہم نے تم کو دیا وَاشْكُرُوْا اور شکر کرو لِلّٰهِ اللہ کا اِنْ كُنْتُمْ اگر تم ہو اِيَّاهُ صرف اسکی تَعْبُدُوْنَ بندگی کرتے ہو اے اہل ایمان جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا فرمائیں ہیں ان کو کھاؤ اور اگر خدا ہی کے بندے ہو تو اس (کی نعمتوں) کا شکر بھی ادا کرو تفسیر مختصر :- Tafseer · Tafseer Ibn-e-Kaseer حلال اور حرام کیا ہے ؟ اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ تم پاک صاف اور حلال طیب چیزیں کھایا کرو اور میری شکر گزاری کرو، لقمہ حلال دعا عبادت کی قبولیت کا سبب ہے اور لقمہ حرام عدم قبولیت کا، مسند احمد میں حدیث ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں لوگوں اللہ تعالیٰ پاک ہے وہ پاک چیز کو قبول فرماتا ہے اس نے رسولوں کو اور ایمان والوں کو حکم دیا کہ وہ پاک چیزیں کھائیں اور نیک اعمال کریں فرمان ہے آیت (يٰٓاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا) 23۔ المؤمنون :51) اور فرمایا آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَاشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ) 2۔ البقرۃ :172) پھر آپ نے فرمایا کہ ایک شخص لمبا سفر کرتا ہے وہ پراگندہ بالوں والا غبار آلود ہوتا ہے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھاکر دعا کرتا ہے اور گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے لیکن اس کا کھانا پینا لباس اور غذا سب حرام کے ہیں اس لئے اس کی اس وقت کی ایسی دعا بھی قبول نہیں ہوتی حلال چیزوں کا ذکر کرنے کے بعد حرام چیزوں کا بیان ہو رہا ہے کہ تم پر مردار جانور جو اپنی موت آپ مرگیا ہو جسے شرعی طور پر ذبح نہ کیا گیا ہو حرام ہے خواہ کسی نے اس کا گلا گھونٹ دیا ہو یا لکڑی اور لٹھ لگنے سے مرگیا ہو کہیں سے گرپڑا ہو اور مرگیا ہو یا دوسرے جانوروں نے اپنے سینگ سے اسے ہلاک کردیا ہو یا درندوں نے اسے مار ڈالا ہو یہ سب میتہ میں داخل ہیں اور حرام ہیں لیکن اس میں سے پانی کے جانور مخصوص ہیں وہ اگرچہ خود بخود مرجائیں تو بھی حلال ہیں۔ آیت (اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ) 5۔ المائدہ :96) اس کا پورا بیان اس آیت کی تفسیر میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ عنبر نامی جانور کا مرا ہوا ملنا اور صحابہ کا اسے کھانا پھر حضور ﷺ کو اس کی خبر ہونا اور آپ کا اسے جائز قرار دینا یہ سب باتیں حدیث میں ہیں۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے، ایک اور حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں دو مردے اور دو خون ہم پر حلال ہیں مچھلی اور ٹڈی کلیجی اور تلی، سورة مائدہ میں اس کا بیان تفصیل وار آئے گا۔ انشاء اللہ۔
12
19
1
24
642
Good morning.. Today is a brand new day, a fresh start full of opportunities and blessings. Forget about what happened yesterday and in the past. Focus on the blessings and positivity of today.. Wish you all a blessed day #اردو_زبان
🤖 Made with AI
6
9
16
251
الف retweeted
کیا بتاؤں تجھے اسباب جئے جانے کے مجھ کو خود بھی نہیں معلوم کہ کیوں زندہ ہوں اپنے ہونے کی خبر کس کو سناؤں ساغر کوئی زندہ ہو تو میں اس سے کہوں زندہ ہوں ساغر صدیقی #اردو_زبان
5
1
1
91
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ صبح بخیر زندگی اے کائنات کے خالق و مالک! ہم اس صبح کا آغاز تیری پاک ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے اور تجھی سے مدد مانگتے ہوئے کرتے ہیں۔ ہمارے تمام الجھے ہوئے معاملات، مشکلات اور پریشانیوں کو اپنے کن فیکون کے حکم سے آسان فرما دے۔ #اردو_زبان
65
50
126
738
الف retweeted
Replying to @RealBaaghi7
@RealBaaghi7 زمانہ بھول جاتے ہے تیری اک دید کی خاطر خیالوں سے نکلتے ہے تو صدیاں بیت جاتی ہے #اردو_زبان
4
9
"رات کی خاموشی اور چاند 🌕 کی روشنی کے درمیان مجھے ایک ایسی چیز ملی جو مجھ سے ملتی جلتی تھی۔۔۔۔🤍💐 #اردو_زبان
7
7
58
تم کبھی شام کے کچھ بعد کا منتظر دیکھ سرخ آنکھوں کے کناروں پر سمندر دیکھو کتنے غمگین ہیں باہر سے یہ ہسننے والے وقت پاؤ تو کبھی جھانک کے اندر دیکھو #اردو_زبان
5
7
100