Pinned Tweet
We now live in a nation where doctors destroy health, lawyers destroy justice, universities destroy knowledge, governments destroy freedom, the press destroys information, religion destroys morals, and our banks destroy the economy.
ح_قی_می retweeted
ایران امریکہ جنگ نے “ آپریشن رجیم چینج “ کے اندر موجود تضادات کو ابھارا ہے اور اس جنگ کا اگلا راؤنڈ ان تضادات کو خطرناک حد تک ابھُار دے گا۔ لہذا ضروری ہے کہ “ رجیم چینج آپریشن “ پہ دوبارہ سے طائرانہ نظر ڈالی جائے کہ کہاں سے شروع ہوا تھا ؟ کن توقعات پہ اور کیا نتائج برآمد ہوئے اور اب یہ آپریشن کس مرحلے پہ ہے ؟
یہ آپریشن جنرل عاصم منیر نہیں بلکہ جنرل باجوہ نے شروع کیا تھا، آئیڈیا یہ تھا کہ عمران تو ابراہام اکارڈ اور غزہ پہ پرامن قبضہ کے لئے فوج بھیجنے پہ راضی نہیں تو مذکورہ آپریشن کی مدد سے اقتدار ن لیگ اور پی پی کو دیا جائے جو اس کے حمایتی تھے۔ مصر کو ملنے والے ڈالر دیکھ کر جرنیلوں کی بھی رال ٹپک رہی تھی اور جو جرنیل اس کو سرانجام دیتا وہ لمبے عرصے تک حکومت کر سکتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ نجم سیٹھی بھی کہہ رہا تھا کہ بس آپ ہان کردیں پندرہ بیس ارب ڈالر تو راہ جاتے ہی مل جائیں گے اور سب کھائیں گے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے آپریشن کی کامیابی پہ یہ نشاندھی کی کہ ڈالر نیچے گیا اور سٹاک مارکیٹ اوپر گئی
ڈالر کیوں نہ ملے ؟ ڈالر امریکہ نے دینے تھے اتنا امریکیوں کو بھی علم ہے تھا کہ اتنے بڑے فیصلہ پہ کوئی بھی فوج تبھی عملدرآمد کر سکتی ہے جب عوام کی بڑی تعداد اس کے ساتھ ہو، امریکہ کو یقین دلایا گیا تھا کہ عمران غیر مقبول ہوچکا جبکہ عوام ہمیشہ پاک فوج کے ہی ساتھ رہتی ہے۔ لیکن آپریشن پہ عوامی ردعمل دیکھ کر امریکی مشکوک ہوگیے بلکہ سخت مشکوک اور انہوں نے پہلے پیسے دینے کا رسک نہ لیا۔ یہ سوال امریکہ پہنچنے پہ بلاول سے امریکی میڈیا نے بار بار کیا کہ آپ کہتے ہیں عمران مقبول نہین جبکہ وہاں عوام اسکے کہے بغیر سڑکوں پہ اس کے حق میں نکل آئے
آپریشن کے اندر موجود تضاد کیا ہے ؟
ایک ابتدائی تضاد شروع سے ہی تھا یہ پراجیکٹ امریکی برین چائلڈ نہیں تھا بلکہ جنرل باجوہ اور عرب ممالک کا تھا خصوصاً متحدہ عرب امارات اور اسے امریکہ میں فروخت کرنے والے برطانیہ اور اسرائیل تھے جنکے مقامی اتحادی عرب امارات اور انڈیا ہیں نہ کہ پاکستان اور سعودیہ۔ اور یہی وہ تضاد ہے جو پچھلے سال کی ایران اسرائیل جنگ اور موجودہ ایران امریکہ جنگ کے بعد تیزی سے اُبھر کر سامنے آرہا ہے۔ مارکو روبیو نے اپنے اس دورہ انڈیا میڻ امارات ، انڈیا اور اسرائیل کے اتحاد کی باقاعدہ سرپرستی کا اعلان کردیا ہے اور امارات انڈیا سے دفاعی معاہدہ کر چکا ہے۔
لیکن “ آپریشن رجیم چینج “ کے کنڈکٹ یعنی عملدرآمد کے دوران ایک شدید اندرونی تضاد بھی پیدا ہوگیا جس کا ذمہ دار جنرل عاصم منیر ہے نہ کہ جنرل باجوہ۔ جنرل عاصم منیر کو اس آپریشن کی کمان نواز شریف نے اس وقت دی جب امریکی پاکستان کی اس میں شمولیت کے بارے میں دلچسپی ختم کرتے جا رہے تھے کیونکہ ابراہام اکارڈ کی کامیابی اور غزہ میں فوج بھیجنے کے لئے پاکستانی فوج نہ تو انکی مجبوری تھی اور نہ انکے لئے لازمی ، پاکستان ابراہام اکارڈ کو نہ بھی تسلیم کرے تو انکی صحت پہ کیا فرق ؟ فوج نہ بھی بھیجے تو بھی بے شمار دوسری فوجوں کی چوائس انکے پاس تھی۔ عوامی رویہ دیکھ کر وہ پہلے ہی مایوس تھے پھر وہ اتنا مہنگا سودا کیوں خریدیں ؟ جبکہ نواز سمیت پڈم اتحاد کی یہ مجبوری بن چکی تھی اور امارات انڈیا اور اسرائیل اپنے مفاد کی وجہ سے اس کے حامی تھے۔
یوں جنرل عاصم منیر نے آپریشن کی قیادت سنبھالی اور اسے یقین دلا دیا گیا کہ جو مرضی قتل و غارت کرو عالمی برادری کو صیہونی لابی سنبھال لے گی کوئی نہیں ہوگا پوچھنے والا اور ہوا بھی یہی۔ جنرل عاصم منیر نے جس بربریت کا مظاہرہ کیا اس کے نتیجے میں پاکستانی مڈل اور لوئر کلاس فوج کی نفرت میں مبتلا ہو چکی ہے جس پہ فوج یہ کہہ کر پردہ ڈالنے میں مصروف ہے کہ صرف پی ٹی آئی اس کی مخالف ہے۔ یہ اندرونی تضاد فوج کے جنگ لڑنے کی صلاحیت کو سلب کر چکا ہے اور جی ایچ کیو کی بطور اسٹیبلشمنٹ فیصلہ سازی کو۔ بلوچستان اس کی ایک مثال ہے وہاں تو پی ٹی آئی ہے ہی نہیں پھر فوج کس سے جنگ میں ہار رہی ہے ؟ بلوچ عوام کس جانب کھڑے ہیں ؟ وہ تو پی ٹی آئی کے ووٹر ہیں ہی نہیں ؟
جاری ہے 👇
ح_قی_می retweeted
Bodies can be detained
But
Souls are always free
&
#VoicesCantBeJailed
ح_قی_می retweeted
مسئلہ ان پڑھ ہونا نہیں
مسئلہ اس قوم میں غیرت، عزت نفس اور خودداری کا جہاں فقدان ہے، وہیں یہ انتہائی سست، کاہل، کام چور ثابت ہوئے، ہمیشہ شاٹ کٹ کے درپے رہتے ہیں۔
ایک موٹر سائیکل کے لئے اتنی ذلت سے بہتر ڈوب کے مر جانا چاہیے تھا
ٹک ٹاکر پتلو کی شادی میں شرکت کے لیے امڈ آنے والا یہ جمِ غفیر ہمارے معاشرے کی اجتماعی سوچ، ترجیحات اور فکری پستی کی ایک واضح تصویر پیش کرتا ہے۔ افسوس اس بات کا نہیں کہ وہاں اَن پڑھ لوگ موجود ہیں، افسوس تو یہ ہے کہ پڑھے لکھے لوگ بھی اپنی ترجیحات کا تعین کرتے ہوئے کہیں پیچھے دکھائی دیتے ہیں۔
شاید ہم نے تعلیم تو حاصل کر لی، مگر شعور، مقصدِ زندگی اور وقت کی قدر کرنا ابھی نہیں سیکھا۔ سوال پتلو کا نہیں، سوال ہماری اجتماعی ذہنیت کا ہے!
یا شاید میری ہی سوچ غلط ہے؟ 🤔
ح_قی_می retweeted
پاکستان میں اس وقت یہ دجالی فتنہ(ہالووین) عروج پہ ہے۔ اور ہمارے ادارے سب جانتے ہوئے بھی آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں۔
ایک چھوٹی سی ویڈیو میں اس فتنے کی حقیقت کو جانیں۔
ویڈیو کریڈٹ۔
@AskImtinan
ح_قی_می retweeted
ایک غلط دعویٰ پر کہ "NCCIA کسی کے بھی موبائل میں موجود فحش مواد اور ویڈیوز دیکھ سکتی ہے اور گرفتار کر لے گی" لوگ ڈر کے مارے اپنے موبائل صاف کر رہے ہیں
مگر
جو سچ میں سب دیکھتا ہے اس کے ڈر سے عمل ٹھیک کرتے ہیں نہ نیت ؟
انسان بھی کیا احمق چیز ھے
ح_قی_می retweeted
پنجاب میں سینکڑوں مقدمات میں ہزاروں گرفتار ہوئے ۔ درجنوں گھر ٹوٹے۔ سب سے زیادہ سزائیں ہوئیں ۔ لوگ 3 سے 10 سال قید بھگت رہے ہیں۔
لوگوں کے کاروبار تباہ کئے گئے۔ فارم 47 کا فراڈ سب سے زیادہ پنجاب میں کرنا پڑا۔ کسی اور صوبے نے وہ نہیں بھگتا جو پنجاب نے بھگتا
"پھر بھی کہا جاتا ہے کہ پنجاب نے کچھ نہیں کیا"
کمپرومائز لیڈرشپ کے معاملے میں پنجاب اور باقی صوبوں میں بھی کوئی کمال نظر نہیں آیا۔
درحقیقت ہم من حیث القوم ابھی تک ناکام ہیں
ح_قی_می retweeted
12 ربیع الاول کا جلوس۔ اس میں بنگالی پاکستانی اور انڈین سبھی شامل ہیں۔ دوسرے ملکوں میں کمائی کرنے کے بجائے لاؤڈ سپیکر پکڑ کر غل غپاڑہ کرتے ہیں تو پھر شکایت کس بات کی کہ گورے ہم سے نفرت کرتے ہیں۔
پاکستان میں تیسرے درجے کے غلام شہری انگلینڈ میں اپنے حقوق لینے چلے ہیں۔
#شعور
ح_قی_می retweeted
یہ سچ ہے کہ
نہ شہباز شریف نے ایک دھیلے کی کرپشن کی
نہ مریم نواز نے ایک پائی ادھر ادھر کی
دھیلا اور پائی پرانی اور چھوٹی کرنسیاں ہیں
دھندے میں بڑے لوگ چھوٹا چھوٹا کام نہیں کرتے
ح_قی_می retweeted
دنیا کے بے شمار ممالک دیکھے، لگ بھگ 38 سال کی پردیسی زندگی گزر گئی، ایک ہی سبق سیکھا۔
دنیا وہاں آگے ہے جہاں عام آدمی سوال کر سکتا ہے۔
جہاں پولیس تھانے میں
عدالتیں انصاف دیتی ہیں،
بلدیہ محلے میں جوابدہ ہے،
روزگار ضلع میں بنتا ہے۔
ہمارا مسئلہ وسائل کا نہیں، اختیار کے بجا استعمال یا ارتکاز کا ہے۔ جب سارے فیصلے ایک جگہ ہوں گے تو نوجوان فیصلہ باہر جانے کا کرے گا۔
آج کا نوجوان باغی نہیں، مایوس ہے، اس نے فون میں بہتر دنیا دیکھ لی ہے۔اس لیے ہمیں لگتا ھے، یہ کسی۔کی سنتا نہیں جبکہ اس کو دینے کے لیے ہمارے پاس کچھ نہیں ہوتا۔
ہمیں طاقتور نہیں، جوابدہ ادارے چاہئیں، پولیس تھانوں میں کام کرئے
فوج سرحد پر مضبوطی کرئے،
سیاست عوام میں جوابدہ،
معیشت ضلع میں آزاد،
تبھی ملک محفوظ بھی ہوگا، روشن بھی
ح_قی_می retweeted
اس کی ضرورت نہیں
کیونکہ بم بنا کے جن کی حفاظت میں دئیے وہ کسی اور کے گھر کے دروازے پہ بندھے ہوتے ہیں تو پھر کسی کو اتنا کشٹ اٹھانے کی۔کیا ضرورت ہے
ح_قی_می retweeted
پانی کا سب سے زیادہ تذکرہ ریگستان میں ہوتا ہے
جہاں پانی نہیں ملتا
اسی لئے پاکستان اور اس کی اسمبلی میں سب سے زیادہ تذکرہ آئین کا ہوتا ہے
سپریم کورٹ سے بھی اوپر آئینی عدالت بھی صرف پاکستان میں ہی ہے ۔
ح_قی_می retweeted
پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی
ایران افغانستان اور بھارت مخالف ۔۔ چین ناراض
پاکستان کی کامیاب معیشت
کاروبار تو دور کی بات ہے اب کوئی ادھار بھی نہیں دیتا
پھر بھی دعویٰ ہے کہ پاکستان اڑنے کو تیار ہے
اب پتہ نہیں اڑنے کا کیا مطلب ہے
ویسے اس پر سکھ اور طوطے کا لطیفہ یاد آ جاتا ہے
ح_قی_می retweeted
مسئلہ ہی سارا بیریئرز کا ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ جو بیرئیر انہوں نے لگا رکھے ہیں وہ کوئی ہٹانے کی جرات کرے
ایمان مزاری اور انکے شوہر ہادی علی چٹھہ کو سڑک پر لگے بیریئر ہٹانے پر دس دس سال قید
جج بھی بیریئرز کا ہی ایک لازمی حصہ ہیں
ح_قی_می retweeted
کشمیر میں جو ہو رہا ہے
اس پر بات کریں
وہ ہمارے جسم ہمارے خون کا حصہ ہیں
انہیں جبر کے سامنے اکیلے مت چھوڑیں
جبر کہیں بھی ہو ناقابل قبول ھے
ح_قی_می retweeted
اپنے ہی کشمیر میں یہ شاید پہلا ڈرون حملہ ہے جو جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے شکدر خان کے گھر پر کیا گیا جس میں ان کا پورا خاندان شہید ہو گیا۔
کشمیر میں گزشتہ چند ماہ میں جیسی کاروائیاں کی گئی ہیں ان کے بعد اگر وہاں بھارتی مقبوضہ کشمیر جیسے sentiments پیدا ہوتے ہیں تو اس کا قصور وار کون ہو گا ؟
ح_قی_می retweeted
مبارک ہو
محسن نقوی صاحب!
اڈیالہ جیل ہو، کوٹ لکھپت جیل ہو یا کوئی اور جیل، جیلیں وہی رہتی ہیں قیدی بدلتے رہتے ہیں، آپ جس طرح کے کام کر رہے ہیں اور جیسی کارکردگی دکھا رہے ہیں
کہنے کو دل نہیں چاہ رہا، لیکن جب وقت بدلے گا تو آپ جیل جائیں گے یہ بات طے ہے جیسی کرنی، ویسی بھرنی!
یہ بات ذہن میں رکھیں کہ نومبر اور دسمبر بہت اہم مہینے ہیں، وہ وقت دور نہیں جب عمران خان اور تحریکِ انصاف ایک بار پھر ریلیونٹ ہونگے
ح_قی_می retweeted
خیبرپختونخوا کو گورنر راج ملا، مگر پشتون عوام کو امن، تعلیم اور علاج کب ملے گا؟
آئین کا آرٹیکل 245 فوج کو دفاع اور قانون کے تابع سول اقتدار کی مدد کی ذمہ داری دیتا ہے؟؛ معدنی وسائل پر اختیار کا سوال الگ ہے۔
اگر آپریشنوں میں لوگ گھر چھوڑنے پر مجبور ہوں، اور پھر معدنی ٹھیکوں کی شفافیت پر سوال اٹھیں، تو عوام پوچھیں گے ان کے وسائل اور ان کے مستقبل کا فیصلہ کون کر رہا ہے؟
پشتونوں کو بندوق کے سائے سے زیادہ تحفظ، خالی گھروں سے زیادہ آباد بستیاں، اور وعدوں سے زیادہ اسکول و ہسپتال چاہئیں۔
یہ امن کی حکمتِ عملی ہے یا وسائل اور اختیار کی سیاست؟
ح_قی_می retweeted
کل سے ہمارے کچھ دوست پریشان ہیں کہ ٹینڈے کونسے ہیں اور توری کونسی ہے ؟
مدد کر دیں پلز۔
@shafqatmm1
@AloneInMist
@MianPuri_925
@lajjpal
@Urooj_Tawlks
@ahned_14
@MrProPk
@Sohail2nice
@1_DXB2
@Sha_7610
@FaqirAhmedSher














