پشاور سے نوشہرہ 32 کلومیٹر اور کوہاٹ 70 کلومیٹر ہے یہ چول میں نے پہلی بار سنی ہے
اپنے ملک میں خود اپنے والدین اور بہن بھائیوں کو پیسے کی خاطر چھوڑ کر اورجو یہاں گوشت نہیں کھاتے وہ باہر جا کر سوکھی روٹی کھا کر کہتے ہیں باہر انسان کی بہت قدر ہے۔
اب اس کا کیا کرنا ہے
Replying to @MaryamNSharif
جس دن تمہارے سر سے بوٹ کا سایہ اٹھے گا اپ کا فارم 47 کی لاسٹک والا شلوار اتاری جائے گا اس کے بعد 11 ارب روپے جہاز کا جواب دو گے اس کے بعد بدبودار لوٹ مار کا جواب دو گے
شعور کا کیڑا
1055 دنوں سے گرفتار پاکستان تحریک انصاف بانی چیئرمین عمران خان کا گناہ کیا ؟
@ImranKhanPTI @PTIofficial
دعوت نامہ بھی شیئر کریں کہ مل کر سب ان کو گالیاں دیں
@MeenakhanAfridi
پشاور ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود مجھے آئیرپورٹ پر ایف ائی اے امیگرشن والوں نے روک کر جانے نہیں دیا ۔مجھے یونیورسٹی اف ٹوبنگن جرمنی کے دعوت پر مدعوں کیا گیا تھا۔ انکے ساتھ خیبر پختونخوا کے جامعات اور طلبا و طالبات کے لیے کئی چیزوں پر پش رفت ہوئی تھی- جسے حتمی شکل دینا تھی- افسوس اس بات پر ہے کہ ایک ھائی کورٹ کے حکم کو نہیں مانا جاتا اور دوسرا خیبر پختونخوا کے نوجوانوں کے ساتھ ذیادتی کی جا رہی ہے-
عبادات کا قبول ہونا یا نہ ہونے کا اختیار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں تھا تو یہ مولی صاحب کون ہے اللہ تعالیٰ اس سے پوچھ کر فیصلہ کرے گا،
This quoted post is unavailable.
عوام کا نہیں سرکاری ملازمین کا پیسہ ، سب سے زیادہ اور سب سے پہلے ٹیکس کٹوتی کی جاتی ہے
پاکستان میں یہ تاثر عام ہے کہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے۔کیا آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ گزشتہ 25 برس کے دوران ٹیکس کلیکشن میں کتنا اضافہ ہوا ہے؟ ایک بار آپ تخیل کے گھوڑے دوڑا لیں پھر میں اعداد وشمار شیئر کرتا ہوں۔سن 2000 میں جب سینٹر بورڈ آف ریونیو یعنی CBR ہوا کرتا تھاتو سالانہ 392 ارب روپے ٹیکس کی مختلف مدات میں جمع کیئے جاتے تھے اور 2023-24 میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو یعنی FBRنے عوام کی رگوں سے 9252 ارب روپے نچوڑ لیئے۔ کتنے گنا اضافہ ہوا،خود ہی حساب لگالیں۔مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے،پریشانی یہ ہے کہ جو لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں ،سارا بوجھ ان پر ہی ڈالا جاتا ہے یا پھر ان ڈائریکٹ ٹیکس کی مد میں عام آدمی کی زندگی اجیرن کردی جاتی ہے۔جیسا کہ اب دیگر پیٹرول پر دیگر ڈیوٹیز کے علاوہ فی لیٹر 117.5 روپے لیوی وصول کی جارہی ہے
کیا آپ کی نظر میں کم از کم بیس کروڑ والے فلیٹ کے مالکان مڈل کلاس ہے پھر تو پاکستان میں غریب کوئی نہیں
ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کی چھت پر کُچھ عرصہ پہلے بنائی گئی اس تصویر میں موجود اور چند غیر موجود افراد کےدرمیان جو کُچھ بھی طے ہوا، یا ابھی ہو نہیں پا رہا، اس کی سزا اپنی زندگی کی جمع پُونجی بچا کر پراپرٹی بنانے والوں کو دینا جائز ہے؟
یہ سوال اُن لوگوں سے جن کا کندھا استعمال کر کے اس مُلک میں رئیل اسٹیٹ سکینڈل جنم لیتے ہیں اور وہ مڈل کلاس جو اپنی بچت مُلک سے باہر لے جانے کی بجائے یہاں انویسٹ کرتی ہے سزا پاتی ہے۔






















