Umar Hussain retweeted
غریب ہونا اس دنیا کا سب سے بڑا جرم ہے ،ایک پندرہ سالہ مزدور بچے کو سرعام قتل کردیا گیا جہنم کا معاشرہ اور کسے کہتے ہیں ۔
Umar Hussain retweeted
اس لڑکی کو نظام پر بھروسہ نہیں تھا ،وہ جانتی تھی کہ اس کی سنوائی کہیں نہیں ھوگی،اس کو ایک دفتر سے دوسرے دفتر میں ذلیل کیا جائے گا،افسران اس سے رشوت مانگیں گے،اس کو سب سے پہلے ان دفاتر کے راشی افسران کو یہ یقین دلانا پڑے گا کہ جو پیسہ اس کے والد نے حلال کماکر اپنی لائق بیٹی کو مزید پڑھانے کے لئے دیا،جو لوٹ لیا گیا وہ اس کا اپنا حلال کا پیسہ تھا۔آپ کسی بھی جماعت کو نظریاتی طور پر سپورٹ کرتے ھو آج کی تاریخ کا سچ یہ ھےکہ ایچ ای سی سے لیکر موفا،نادرا سے لیکر پاسپورٹ آفس،پٹوارخانے سے پولیس ،ھر جگہ کھلے عام دھڑلے سے رشوت خوری پہلے کی طرح عام ھے۔کاش نظام ایسا ھوتا کہ اس طالبہ کو یقین رھتا کہ اس کے باپ کا حلال پیسہ اس نظام کے لوگ اس کو واپس دلائینگے تو وہ خود کشی جیسا قدم نہیں اٹھاتی۔
Wasda rehy Punjab ..... Gareeb da Allah hi hai bus
یہ ہے ہمارا مستقبل۔۔۔۔💔
میرے ساتھ ہونیوالے فراڈ کامیرے والد کو نا بتانا،وہ مرجائیں گے ۔۔یہ ہے وہ آخری میسج جو اس طالبہ نے اپنے ماموں کو کیا ۔۔۔
اسلام آباد کی اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی کی طالبہ لائبہ نے گزشتہ روز مبینہ طور پر خود کشی کر لی جسکی لاش جی ٹین اتوار بازار کے قریب سے برآمد ہوئی۔۔۔ پولیس کا کہنا ہے کہ طالبہ لائبہ جی ٹین میں رہائش پذیر تھی کل تقریباً 2 بجے گھر سے نکلی تھی۔۔۔اہلخانہ کہتے ہیں کہ لائبہ نے اسلامی یونیورسٹی سے گولڈ میڈل کیساتھ بی ایس کیا،مزید پڑھائی کیلئے بیرون ملک جانا چاہتی تھی ، ایک کنسلٹنٹ نے امریکی یونیورسٹی میں داخلہ کروانے کیلئے 70 لاکھ روپے مانگے۔۔غریب باپ موٹرسائیکل پر دودھ فروخت کرکے بچوں کو پڑھا رہا تھا۔خود کرایے کے فلیٹ پر رہنے والے والد نے پلاٹ بیچ کر 21 لاکھ کیش ایجنٹ کو دیا۔۔باقی رقم کا انتظام کرنے کیلئے طالبہ کی والدہ کا زیور بینک میں رکھوایا گیا۔۔طالبہ نےیونیورسٹی میں داخلے کے ڈاکومنٹس چیک کروائے تو سب جعلی نکلے۔۔۔
اس ایجنٹ کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ کوئی اور اپنے ادھورے خوابوں اور بھاری دل کے ساتھ اس دنیا سے رخصت نہ ہو ۔۔۔
Umar Hussain retweeted
یہ اس مظلوم کیڈٹ کی ماں ہے
دی بلیک ہول پر میں نے اس مجبور ماں کو مدعو کیا تھا جہاں انہوں نے اپنی کہانی سنائی، یہ خاندان اس مقدمے پر اپنی تمام جمع پونجی خرچ کرچکا ہے اور بیٹا جیل کی کوٹھڑی میں بھی اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہے۔اس کا خاندان چار برس سے مشکل ترین وقت گزار رہا ہے اور گینگ والوں کو بددعائیں دے رہا ہے۔
#BlasphemyBusinessGang
Ab ic Ka kya matlb howa
ناموافق لوگ
تحریر: سر وسیم الطاف
قرۃ العین حیدر، اردو کے عظیم ترین ناول ’’آگ کا دریا‘‘ کی خالق، 1949ء میں پاکستان آئیں۔ اس وقت تک وہ ایک عالمی پایے کی ادیبہ بن چکی تھیں۔ انہوں نے محکمۂ اطلاعات و مطبوعات میں ملازمت اختیار کی اور خاصا عرصہ وہاں خدمات انجام دیں۔ 1959ء میں ان کا شہرۂ آفاق ناول ’’آگ کا دریا‘‘ شائع ہوا۔ اس ناول نے تقسیمِ ہند کے حوالے سے کئی بنیادی سوالات اٹھائے اور دو قومی نظریے کو مسترد کیا۔ شاید کسی اور بات سے زیادہ یہی حقیقت تھی جس نے پاکستان میں ان کا مزید قیام ناممکن بنا دیا۔ چنانچہ وہ ہندوستان واپس چلی گئیں اور مستقل طور پر وہیں آباد ہو گئیں۔
ساحر لدھیانوی اردو کے بہترین رومانوی شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ 1943ء میں لاہور آئے اور یہاں متعدد ادبی رسائل سے وابستہ رہے۔ سب کچھ بخوبی چل رہا تھا، لیکن تقسیم کے بعد رسالہ ’’سوویرا‘‘ میں ان کی اشتعال انگیز تحریروں، خصوصاً ان کے کمیونسٹ خیالات اور نظریات، نے حکومتِ پاکستان کو ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے پر مجبور کر دیا۔ 1949ء میں ساحر ہندوستان چلے گئے اور پھر کبھی پلٹ کر نہیں دیکھا۔
سجاد ظہیر معروف ترقی پسند ادیب، مارکسی مفکر اور انقلابی تھے۔ تقسیم کے بعد پاکستان آئے، مگر انہیں راولپنڈی سازش کیس میں ملوث کر دیا گیا اور بالآخر 1954ء میں ہندوستان واپس بھیج دیا گیا۔
استاد بڑے غلام علی خان پاکستانی شہری تھے اور برصغیر کے عظیم ترین کلاسیکی گلوکاروں میں شمار ہوتے تھے۔ لیکن ان کے فن اور شخصیت کے ساتھ روا رکھی جانے والی بے اعتنائی نے انہیں اس قدر دل برداشتہ کیا کہ 1957-58ء میں انہوں نے ہندوستان کا مستقل امیگریشن ویزا حاصل کرنے کے لیے درخواست دی، جو منظور کر لی گئی۔ وہ ہندوستان چلے گئے اور باقی زندگی وہاں نسبتاً سکون اور خوش حالی کے ساتھ گزاری۔
مذکورہ تمام شخصیات نے ہندوستان میں پُرامن اور خوشحال زندگی گزاری اور حکومتِ ہندوستان کی جانب سے متعدد قومی اعزازات سے نوازے گئے۔
اب ذرا ریڈکلف لائن کے دوسری طرف کا منظر بھی دیکھ لیتے ہیں۔
سعادت حسن منٹو، برصغیر کے عظیم افسانہ نگار، 1947ء کے بعد پاکستان منتقل ہوئے۔ یہاں ان کی تحریروں میں فحاشی کے الزام میں تین مرتبہ مقدمات چلائے گئے۔ بالآخر وہ دل شکستہ اور مالی مشکلات کا شکار ہو کر صرف 42 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو گئے۔
2005ء میں ان کی پچاسویں برسی کے موقع پر حکومتِ پاکستان نے ان کے اعزاز میں یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ پھر 14 اگست 2012ء کو حکومتِ پاکستان نے انہیں نشانِ امتیاز، ملک کا اعلیٰ ترین سول اعزاز، عطا کیا—یعنی ان کی وفات کے 57 برس بعد۔
ضیا سرحدی مارکسی نظریات سے وابستہ کارکن اور فلم ساز تھے۔ انہوں نے ’’فٹ پاتھ‘‘ اور ’’ہم لوگ‘‘ جیسی یادگار فلمیں بنائیں اور بمبئی کی فلمی دنیا میں ایک معروف نام تھے۔ جب وہ پاکستان منتقل ہوئے تو یہاں ان کی پہلی فلم ’’راہگزار‘‘ ہی ان کی آخری فلم ثابت ہوئی۔
جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے زمانے میں فوج نے انہیں گرفتار کر لیا اور انتہائی نامساعد حالات میں قیدِ تنہائی میں رکھا۔ ان پر غداری اور مارکسزم کی طرف میلان جیسے الزامات عائد کیے گئے۔ رہائی کے بعد وہ ملک چھوڑ کر مستقل طور پر برطانیہ جا بسے اور پھر کبھی واپس نہ آئے۔
فیض احمد فیض، بیسویں صدی کے عظیم ترین اردو شاعروں میں سے ایک، 1951ء میں سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار ہوئے اور راولپنڈی سازش کیس میں نامزد کیے گئے۔ بعد ازاں انہیں چار سال سے زائد عرصہ جیل میں گزارنا پڑا۔
پروفیسر عبدالسلام، عالمی شہرت یافتہ پاکستانی ماہرِ طبیعیات، کو ان کے اپنے ملک نے ان کے مذہبی عقائد کی بنیاد پر مسترد کر دیا۔ وہ اٹلی چلے گئے اور وہیں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ جس شخص کو اس کے اپنے وطن میں اس کے عقیدے کی وجہ سے خطرہ لاحق ہو سکتا تھا، اسی شخص کو مغرب نے نظری طبیعیات کے میدان میں اس کی خدمات کے اعتراف میں نوبیل انعام سے نوازا۔
ادھر ربوہ، جسے اب چناب نگر کہا جاتا ہے، میں ان کی قبر کے کتبے تک کو ایک مقامی مجسٹریٹ کی نگرانی میں مسخ کر دیا گیا۔
ایک عظیم پاکستانی سائنس دان کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ہمارا انداز ملاحظہ فرمائیے
Umar Hussain retweeted
پاکستان کو اپنا مستقبل سنوارنا ہے تو سب سے پہلے اسکول اور کالج میں پسماندہ قبائلی ذھنیت کے اساتذہ سے پاک کرنا ہو گا، پھر لڑکیوں کو پڑھانا سب سے اہم چیلنج ہے صرف ماؤں کو صحیح تعلیم دے کر معاشرے کی تشکیل ہو سکتی ہے،
ilm hr aik ka haq
ایم بی بی ایس کے آخری سال کے افغان طالب علم آمین ہیں، جنہیں پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔
پانچ بین الاقوامی اسکالرشپس کی پیشکش کے باوجود انہوں نے علامہ اقبال اسکالرشپ کے تحت پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دی۔
ان کے پاس درست ویزا اور تمام مطلوبہ دستاویزات موجود ہیں، مگر اس کے باوجود ان کا مستقبل خطرے میں ہے۔اور ان کو بقیہ افغان طلبہ کی طرح واپس جانے کا کہا گیا ہے۔
خدارا کچھ تو رحم کریں ان بیچاروں پر ویسے ہی آپ اپنے آپ کو امن کا سفیر ملک اور پتہ نہیں کیا کیا کہتے رہتے ہوں
مگر آپ کے کوئی داخلہ خارجہ پالیسی نہیں پتہ نہیں اس ملک کا کیا ہوگا،
#PMDC
#AfghanStudents
Umar Hussain retweeted
ہم نے اپنی زندگی میں بہت سیاسی اتار چڑھاؤ دیکھے ۔ہم نے ووٹر ٹوٹتے بھی دیکھا اور ووٹر چپ کرکے گھر بیٹھتے بھی دیکھا
الحمداللہ یہ پہلی بار ہے کہ ن لیگ کا ووٹر ٹوٹا نہیں بلکہ پارٹی کی ماں بہن ایک کرنے پر اتر آیا ہے اس کا سارا کریڈٹ جناب اویس لغاری اور علی ملک کے سر جاتا ہے 🖐️🖐️
Umar Hussain retweeted
تھوڑی دیر کو زمین پر بیٹھے اس غریب باپ کی جگہ خود کو رکھ کر یہ سن لیجئے چار سال بعد اس کو اللہ نے بیٹا دیا اور اس نے اسے بچانے کو جان لڑا دی نرسری کو تالے لگا کر عملہ غائب تھا اب ان کو بچوں کی لاشیں تک نہی دے رہے ہیں
اللہ ذمہ داروں کی نسلیں مٹا دے آمین
Umar Hussain retweeted
حاصلِ زندگی، حسرت کے سِوا، کچھ بھی نہیں
یہ کِیا نہیں، وہ ہُوا نہیں، یہ مِلا نہیں، وہ رہا نہیں
Umar Hussain retweeted
شعیب اختر: لوگ کہتے ہیں میں نے 400 وکٹیں نہیں لیں۔۔۔۔ اگر عمران خان میرا کپتان ہوتا تو۔۔۔۔۔
تابش ہاشمی: آپ بھی اندر ہوتے۔۔😄
YEH HAZRAT KYA KEH RAHAY HAIN
جو انسانیت سوز سلوک کبھی امریکہ میں ریڈ انڈینز کے ساتھ ھوا تھا آج فوج کے کرنل حوالدار ھمارے ساتھ کر رھے ھیں۔
فوج ھماری زرعی زمینوں پہ قبضےکروا رھی ھے۔ چولستان، بہاولپور میں ھم سے تمام رقبےچھین لئےگئے ہیں۔
پورے علاقے کا پانی ایک جنرل کی زمینوں واسطے مختص ہے۔
ھمارے لوگوں کو فوج کان پکڑا کر جوتے مارتے ھیں۔
چھاؤنی والی زمینوں پہ شادی ہال بن رہے ہیں عوام کے دِل میں فوج کیلئے نفرت بڑھ رہی ہے ریاض پیرزادہ
اتنا کڑوا سچ اور وہ بھی پارلیمان میں یااللہ خیر کریں🙏
میں چھ بار اس ایوان کا رکن منتخب ہوا ہوں۔
ایسا میں نے زندگی میں نہیں دیکھا ہے۔
جو لوگ آٹھ سو سال سے میرے حلقہ میں کھیتی باڑی کرتے ہیں، انہیں ریٹائرڈ کرنل اور حوالدار مارتے پیٹتے ہیں، انہیں کہا جاتا ہے کہ یہاں سے بھاگ جاؤ
کروڑوں اربوں روپے کی زمینوں کی بندر بانٹ کی جارہی ہے، اور کہا جارہا ہے کہ پیسے دو یا یہاں سے نکل جاؤ۔
کل ہی میرے ایک زمیندار کا ٹریکٹر پکڑ کر لے گئے
اور جب وہ کینٹ لینے گیا تو کہا گیا
کینٹ کے اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔
ملک ریاض کے خلاف کارروائی ہوئی ٹھیک
لیکن ہزاروں ایکڑ کے رقبہ پر قبضہ کرکے ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے والوں کے خلاف کب کاروائی ہوگی۔۔؟
میری اس تقریر کے بعد شاید جس طرح میرے والد کو تیس روپے کی کلاشنکوف کی گولی سے ماردیا گیا تھا۔
اب وہ گولی شاید تین سو کی ہوگئی ہوگی، مجھے تین سو کی کلاشنکوف کی گولی سے ماردیا جائے۔
میاں ریاض حسین پیرزادہ
Derived from Munawwar Bu Aliy
پانچ برس پرانی شیئرنگ
Umar Hussain retweeted
دنیا میں دو ہی لوگ کبھی بوڑھے نہیں ہوتے... ایک فلموں کے ہیرو، اور دوسرے ہم خود۔۔۔۔۔
دل آج بھی اٹھارہ سال کا ہے... مگر کیا کریں، گھٹنے ہر صبح پاسپورٹ دکھا دیتے ہیں۔۔۔۔۔
اگر آپ بھی خود کو ابھی تک جوان سمجھتے ہیں... تو یہ ویڈیو آپ ہی کے لئیے ہے۔۔۔
ڈاکٹر یونس بٹ کی لاجواب وڈیو 👇


























