Sohail Ahmad retweeted
Feeling truly grateful to Professor @KatAdeney for her generous endorsement of my book on @SenatePakistan and her continued support and encouragement since my research visit to Scotland.
@IlhanNiaz @Razarumi @LordNortonLouth
Sohail Ahmad retweeted
निर्मल बाबा का चेला आ गया मार्केट में 🤣
“प्रमाण दे रहा हूँ दर्द नहीं हो रहा हे मशीन लगा ली जाये”🤣
मम्मी, मेरा चमड़ा वाला जूती देना तो..
Sohail Ahmad retweeted
Deeply grateful to dear @asmashirazi for her generous words and for taking the time to engage with my book on @SenatePakistan published by @BloomsburyPub
دلاور حسین ایک اُستاد اور بہترین لکھاری ہیں حال ہی میں اُن کی کتاب سینٹ آف پاکستان The senate of Pakistan and regional representations ایک معتبر عالمی پبلشنگ ادارے نے چھاپی ہے۔ اس کتاب میں سینٹ کے پارلیمانی جمہوریت اور پارلیمان میں کردار، تاریخ اور اہمیت پر زبردست تحقیقی کام کیا گیا ہے۔ دلاور صاحب کو اس اعلی پائے کی کتاب پر بہت مبارک ہو ۔
Sohail Ahmad retweeted
ایک نہایت اعلیٰ کتاب
ہمارے دوست پروفیسر دلاور حسین کی کتاب
(سینیٹ آف پاکستان اور علاقائی نمایندگی) شائع ہورہی ہے جس میں فاضل دوست نے سینیٹ کی تاریخ اور ایوان بالا کے طور پر اس میں علاقائی نمائندگی کے نہایت اہم موضوع پر تحقیق کی ہے۔کتاب بینی کے بغیر تشکیل پانے والے سماج میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ اپنے دانش وروں اور محققین کی کاوشوں کو سراہا جائے اور نوجوان نسل کو مطالعہ کی طرف لایا جائے تاکہ زومبی ساز فیکٹریوں کا کچھ تو مقابلہ کیا جاسکے۔
Sohail Ahmad retweeted
اس ظلم کا حساب بھی ہو گا ۔
کیچ سے اغواہ ہونیوالے والی خاتون کی لاش برآمد۔
07-09-2026
کل رات نامعلوم گاڑی سواروں نے تربت کے علاقے کلگ میں ایک گھر میں گھس کر تیس سالہ ماه گل زوجہ صول محمد نامی خاتون کو اغواہ کرکے ساتھ لے گئے۔ پھر آج صبح کے وقت اسکی گولیوں سے چھلنی لاش تربت یونیورسٹی کے قریب ملی ہے۔
#Turbat #Kech #Balochistan
Sohail Ahmad retweeted
In Tando Allahyar, minor girls Sita and Rupi, reportedly aged 13 and 14 and belonging to the Kachhi Kolhi community, appeared before the court in a case involving forced marriage and religious conversion. During the proceedings, they reportedly expressed their clear wish to + 1/4
Sohail Ahmad retweeted
to return to their parents, saying: “We want to go home.” Their voices, safety, and informed consent must be respected.
No decision affecting them should be made without ensuring that they understand the process and can express their wishes freely.
2/4
Sohail Ahmad retweeted
یہ بدنصیب انسان جنید حفیظ ہے، جو بہاءالدین ذکریا یونیورسٹی ملتان میں لیکچرر تھا. انتہائی ذہین اور تعلیمی کوالیفیکیشن نہایت شاندار کارکردگی، تقریباً آٹھ سال قبل اس بدقسمت نے یونیورسٹی میں ایک سیمینار کروایا جس کے بعد چند طلباء نے اس پر گستاخی رسول کا الزام لگایا اور اسے گرفتار کر لیا گیا.
جنید کا تعلق راجن پور سے ہے اور ایف ایس سی میں امتیازی پوزیشن حاصل کرنے کے بعد اسے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور میں داخلہ مل گیا، لیکن اسے انگلش لٹریچر سے دلچسپی تھی، لہٰذا اس نے میڈیکل کے فرسٹ پروفیشنل کے بعد کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج چھوڑ کر بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی ملتان میں انگلش لٹریچر میں داخلہ لے لیا اور بی اے آنرز میں 38 سالہ ریکارڈ توڑتے ہوئے 3.99 GPA سکور کیا. جنید پاکستان بھر کے ان 5 طلباء میں شامل تھا، کہ جن کو شاندار کارکردگی کی بنیاد پر Prestigious فل برایئٹ سکالرشپ پر امریکہ میں ماسٹرز کی ڈگری کے لیئے منتخب کیا گیا تھا.
جنید نے امریکہ کی جیکسن سٹیٹ یونیورسٹی سے امریکی لٹریچر، فوٹوگرافی اور تھیٹر میں ماسٹرز ڈگری امتیازی نمبروں سے حاصل کی اور اپنا ایم فِل کرنے پاکستان واپس آ گیا، گویا اس نے لاعلمی میں بدقسمتی کی جانب سفر اختیار کر لیا. پاکستان پہنچ کر اسے بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی میں لیکچر منتخب کر لیا گیا.
یونیورسٹی میں بحیثیت مجموعی کنزرویٹیو ماحول تھا، تاہم انگلش ڈیپارٹمینٹ کی سربراہ شیریں زبیر کی بدولت ڈیپارٹمینٹ کا ماحول خاصا ریلیکسڈ اور پرسکون تھا. جنید عموماً خواتین کے حقوق کے Activists کو لیکچر کے لیئے بلا کر سیمینار کرواتا تھا، تاکہ ان کا طلباء کے ساتھ interaction بھی ہو سکے.
پھر وہ دن آن پہنچا جس دن بدقسمتی نے جنید حفیظ کے در پر دستک دی. جنید نے وائس چانسلر سے اجازت لے کر ایک سیمینار کروایا، جس میں معروف ویمن ایکٹیوسٹ قیصرہ شاہراز کو مدعو کیا. قیصرہ PTV کے لئے ایک ایوارڈ یافتہ سیریل بعنوان "دل ھی تو ہے" بھی لکھ چکی تھیں.
قیصرہ کے لیکچر کے اختتام پر چند طلباء نے قیصرہ اور جنید پر چند گستاخانہ کلمات کی ادایئگی کا الزام لگایا. ان الزامات پر جنید حفیظ کو فوری گرفتار کر لیا گیا، جبکہ ڈیپارٹمینٹ کی سربراہ شیریں زبیر اورقیصرہ شاہراز کی قسمت اچھی نکلی اور وہ فوری بیرون پاکستان منتقل ہو گئی. ابتدائی سماعت میں استغاثہ نے ایک گواہ پیش کیا، اس گواہ نے سیمینار کے حوالہ سے تو کچھ نہیں کہا، البتہ جنید کی بعض تحریروں میں گستاخانہ مواد کا الزام لگایا. ان تحریروں میں ردوبدل کیا گیا تھا، کیونکہ جنید نے چند کلمات کی خود سے منسوب ہونے کی سختی سے تردید کی ہے، دلچسپ بات یہ ہے، کہ جب گواہ سے کہا گیا کہ وہ تحریریں پڑھ کر سنائے اور گستاخانہ مواد کی نشاندہی کرے، تو گواہ نے اعتراف کیا، کہ تحریریں چونکہ انگریزی میں ہیں اور وہ انگریزی نہ تو پڑھ سکتا ہے اور نہ سمجھ سکتا ہے.
بہرحال پولیس نے جنید کو لاھور سے گرفتار کیا اور ملتان لائے، پھر اسے ساہیوال جیل منتقل کر دیا گیا. اس کا کمپیوٹر ضبط کر لیا گیا اور اس سے بغیر کسی عدالتی حکم کے زبردستی اس کا پاس ورڈ اگلوایا گیا. اس کے خلاف پہلے ذکر کردہ Doctored دستاویزات کی روشنی میں پینل کوڈ کی دفعہ 295 سی کے تحت بلاسفیمی کا مقدمہ درج کر لیا گیا، یہ مارچ سن 2013 کا احوال ہے. انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس اور معروف وکلاء کی رائے میں جنید کے خلاف پیش کردہ مواد کی روشنی میں بلاسفیمی کا مقدمہ بنتا ہی نہیں ہے. بہرحال اصل بدقسمتی کا آغاز جنید کی گرفتاری کے بعد ہوا.
جنید کو ساہیوال جیل میں گزشتہ قریب ساڑھے سات سال سے رکھا گیا ہے. اسے بستر وغیرہ کی کوئی سہولت نہیں اور سنگلاخ فرش پر سوتا ہے، گرمیوں میں شدید گرمی اور سردیوں میں سخت سردی کا سامنا کرتا ہے. سب سے اذیت ناک بات یہ ہے، کہ اس کے کیس میں تاریخوں پر تاریخیں پڑتی جا رہی ہیں اور بحث کی نوبت ہی نہیں آتی ہے. اس کی فیملی اور والدہ بیٹے کی گرفتاری سے تاحال گھر سے باہر نہیں نکل سکتیں، کسی شادی بیاہ یا تقریب میں نہیں جا سکتیں، جبکہ اس کے ضعیف والد ہر ہفتے 200 میل کا سفر کر کے بیٹے سے ملنے جاتے ہیں، جن سے جیل سٹاف نہایت بدتمیزی سے پیش آتا ہیں اور کبھی انہیں بیٹے سے ملنے دیا جاتا ہے اور کبھی بنا ملے واپس بھیج دیا جاتا ہے. بوڑھا آدمی کہتا ہے، اب میں تھکتا جا رہا ہوں، لیکن کیا کروں بیٹے کو بے یارو مددگار تو نہیں چھوڑ سکتا ہوں ___!!!
جیل میں جنید کو قید تنہائی میں رکھا گیاراشد نہایت کامپیٹینٹ وکیل تھے، انہوں نے کیس کا مکمل مطالعہ کیا، یونیورسٹی کیمپس جا کر چھان بین بھی کی تھی اور کیس مکمل سمجھ لیا تھا مگر راشد کو بھی ان کے چمبر میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا اب کوئی وکیل ڈر کے مارے جنید کا کیس لینے کو ہی تیار نہیں
محسن علی گودارزی
جنید حفیظ کی کہانی
نوجوان پروفیسر جنید حفیظ 12 سال سے قید تنہائی میں
مگر بے حِس نظام خاموش تماشائی
حقائق ٹی وی پر قندیل عظیم انٹرویو کر رہی ہیں جنید کے وکیل ایڈوکیٹ سیف الملوک کا!
حقائق کے چینل پر
@HaqaiqDotCom
@QindeelAzeem
@FactFocusFF
@z_majoka
بوجھل دل سے یہ پوسٹ لکھ رہا ہوں۔
ڈاکٹر اسما مشتاق کی اسپانٹک پر موت بوجہ (altitude sickness ) پر گہری تعزیت۔
آج صبح سے سوشل میڈیا پر مسلسل خبر یں آرہی ہے کے ان کا جسد خاکی مل گیا ہے۔ لیکن اُن کو نیچے لانے کے لئے بہت زیادہ قیمت مانگی جارہی ہے۔ میں اس لین دین کے معاملے پر اپنی رائے اپنے تک ہی محدود رکھوں گا۔
لیکن ایک گزرش کرنا چاہتا ہوں یہ گزارش ان تمام دوستوں سے ہے جو دور دراز پہاڑی سلسلوں میں کوہ پیمائ یا ہائیکنگ کا شوق رکھتے ہیں۔ وہ جو دنیا کے کسی بھی ملک میں جاکر اپنا یہ شوق پورا کرنے کے لئے دس ہزار فٹ سے بیس پچیس ہزار فٹ تک جانا چاہتے ہیں۔ وہ جو پاکستانی بیرون ملک رہتے ہیں۔ اور جو اندرون ملک پاکستانی ہیں۔ کوں پیمائ اور بین الالقوامی ہائیکنگ مہنگا شوق ہے۔ لوگ ایک مہم جوئی پر ہزاروں ڈالر یا لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں۔ یہ جان جوکھوں کا کام ہے۔ کوئ حادثہ ہو سکتا ہے۔ قدرتی آفت۔ زخمی ہو جانا۔ بیمار ہو جانا یا altitude sickness کا شکار ہوجانا۔ ان میں سے کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کے مہم کی پلاننگ کرتے ہوئے Rescue Insurance لیا جائے۔ جہاں ہزاروں ڈالر یا لاکھوں روپے خرچ ہوئے ہیں وہاں چند ہزار روپے یا دو تین سو ڈالر مزید سہی۔ یہ ضروری خرچہ ہے۔ دو تین انشورنس کپنی پوری دنیا میں اپنے local vendor کے ذریعے rescue فراہم کرتی ہیں۔ پاکستان میں ریسکیو فوج کا ہیلی کاپٹر کرتا ہے اور اس کا بل انشرنس کمپنی ڈائریکٹ فوج کو ادا کرتی ہے۔ مہم جو افراد ہائیکنگ شروع کرنے سے پہلے اپنے انشورنس کی تمام معلومات اپنے لوکل گائڈ کی ٹیم کو دیں تاکہ ایمرجنسی کی صورت میں فوراً انشورنس کمپنی کو فون کیا جائے اور انشورنس کمپنی فوراً لوکل ریسکیو سے رابطہ کرکے انخلا کا انتظام کرے۔ اگر سیٹلائٹ فون ساتھ میں ہو تو اور بھی اچھی بات ہے۔ کیونکہ اس سے وقت مزید بچ سکتا ہے اور rescue جلدی پہنچ سکتا ہے۔ زندگی اور موت کا وقت الللہ نے طے کیا ہوا ہے۔ اگر موت آنی ہے تو چاہے ریسکیو کتنی ہی جلدی پہنچے موت آجائے گی۔ لیکن ہم انسان اپنی کوشش ضرور کریں۔ انشورنس کے اس خرچے کو اپنے بجٹ میں شامل کریں۔ اگر خدا نخواستہ موت ہوجاتی ہے تب بھی ریسکیو لاش کو نیچے لانے کی ذمہ دار ہے۔ اس طرح رنجیدہ خاندان والوں کو تو تھوڑا سکون آئے گا۔
انشورنس فی ٹرپ کے حساب سے بھی لی جاسکتی ہے سالانہ میمبرشپ کا آپشن بھی موجود ہے۔ میں پانچ چھ سالوں سے سالانہ انشورنس لے رہا ہوں۔ اب تک استعمال کی نوبت نہیں آئی ہے اور اُمید ہے کے یہ نوبت کبھی بھی نہ آئے۔ لیکن یہ ضروری خرچہ ہے۔ بیرون ملک پاکستانی اندرون ملک کے مہم جو افراد کی بشتر تعداد اس خرچہ کو afford کرسکتے ہیں اور ان کو کرنا بھی چاہیئے۔ نمونے کے طور پر اپنا انشرنس کارڈ بھی پوسٹ کرہا ہوں۔
تحریر لمبی ہوگئ ہے اس لئے آخر تک پڑھنے کا شکریہ۔
Sohail Ahmad retweeted
Remember how I said that Pakistan needs to nab head honchos of TTP and BLA and humiliate them on camera? Yah, well, TTP is doing exactly that and embarrassing the hell out of the Pakistani state!
Shadow governor of TTP for Kurma Ahmed Kazim handing over cash for travel expense to surrender police personnel xitter.cf/HaroonRasheedi3/status…
Sohail Ahmad retweeted
پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے طالبعلم رہنما مجیب اکبر Mujeeb Akber کو مبینہ طو رپر لاہور سے اغواء کر لیا گیا ہے۔ روزنامہ جدوجہد کے مطابق ان کی اہلیہ فائزہ خان نے بتایا کہ جمعہ (17جولائی) کی دوپہر کو تقریباً 2بجے ایجوکیشن ٹاؤن، وحدت روڈ لاہور میں واقع ان کے فلیٹ سے چند اہلکاروں نے مجیب اکبر کو حراست میں لیا۔
فائزہ خان نے ’جدوجہد‘ کو بتایا کہ ان کے دروازے پر دستک ہوئی تو دروازہ کھولنے پر کم از کم 5 اہلکار اندر داخل ہوئے، جن میں سے دو نے کالی وردیاں پہن رکھی تھیں اور وہ مسلح تھے، جبکہ دیگر اہلکار سول کپڑوں میں ملبوس تھے اور اپنا تعلق سرکاری ادارے سے ظاہر کر رہے تھے۔
انکا کہنا تھا کہ وہ ان کے شوہر کا موبائل فون اور لیپ ٹاپ بھی اپنے ساتھ لے گئے۔
فائزہ خان کا کہنا تھا کہ وہ مجیب اکبر کو اپنے ساتھ پیدل سڑک پر تھوڑی دور تک لے کر گئے اور پھر آگے جا کر وہ ایک ایمبولینس پر سوار ہو گئے، جو ان کے پیچھے ہی تھی۔
Sohail Ahmad retweeted
I had the privilege of participating in a photoshoot with Ankita Jaiswal, Founder of Brio Art House, celebrating India's rich textile heritage. Wearing a handcrafted sari showcasing the timeless weaving traditions of Varanasi, complemented by the intricate Aari and Zardozi craftsmanship of Lucknow, was a memorable experience. For Sri Lankans, Varanasi and nearby Sarnath hold a special place in our shared civilizational and Buddhist heritage. Moments like these remind us that culture, craftsmanship, and shared heritage continue to strengthen the enduring bonds of friendship between #SriLanka and #India 🇱🇰🤝🇮🇳
Sohail Ahmad retweeted
As Dr. Mahrang’s sister and a lawyer in Balochistan, I am watching our justice system be completely weaponized against her, Sibghatullah Shah Ji, and other BYC’s leaders. I need the world to see the facts of how this system is working together to silence us.
For 16 months, BYC leaders have been detained and slapped with over 50 fabricated cases. They were put through 28 days of unconstitutional faceless trials in an Anti-Terrorism Court (ATC). My sister and other BYC leaders boycotted this secret trial, so the state forced its own lawyers on them against their will and handed down a baseless life imprisonment sentence.
But look at how the courts actually played us,
On June 20, 2026, our lawyers filed a Constitutional Petition in the High Court. We challenged the severe bias of the ATC Judge, Muhammad Mubeen. We asked the court to immediately stop the secret trials, remove this judge, and move the cases to an open court.
We pleaded for an urgent hearing on June 22. Instead of listening, the Chief Justice hastily rejected our urgent plea, leaving a note saying "there is no urgency," and pushed the date to June 29.
Shockingly, just 30 minutes after the Chief Justice rejected our plea, Judge Mubeen rushed to announce the life sentences!
It gets worse. When our defense lawyers reached the High Court on June 29 for the rescheduled hearing, they found out our petition was quietly removed from the list entirely. Without giving a single reason, the court delayed our petition by two whole months.
What does this two months delay mean? It means the exact same biased judge we challenged is being given complete freedom to continue running secret trials for the remaining cases! We have absolutely zero trust in him.
This is no longer just a legal dispute. It is crystal clear that the state and the judicial system are working hand-in-hand to punish the BYC leadership at any cost. They are using the disguise of the law to crush human rights and political resistance in Balochistan because they are terrified of how united and aware our people have become.
We will not be silenced by this judicial oppression. I urge international human rights organizations and the world to stop turning a blind eye to Balochistan. Please raise your voices against this mockery of justice!
#ReleaseBYCLeaders
Sohail Ahmad retweeted
Sri Govind Dev Temple (Vrindavan) built by general Raja Man Singh of Amer w support from by Akbar, who donated red sandstone. Rani Kanakvati built
Jagat Shiromani Temple at Amer. Two more temples Madan Mohan Temple and Yashoda Nandan Temple were built in Braj w a
Sati Burj.
Sohail Ahmad retweeted
No one chooses to become a refugee. People flee because conflict, persecution, violence, and insecurity leave them with no safe alternative. On World Refugee Day, we reaffirm that seeking safety is a human right and that refugees must be treated with dignity, protected from discrimination, and given access to the rights and opportunities needed to rebuild their lives.
For Pakistan, this means signing the 1951 Refugee Convention and its 1967 protocol, and respecting the principle of non-refoulement on humanitarian grounds so that no refugee is returned forcibly to their country of origin.
#worldrefugeeday
Sohail Ahmad retweeted
The families of detained BYC leaders continued their peaceful protest outside Hudda Jail today, rejecting closed and faceless trial proceedings that undermine the principles of justice and due process. Their demands remain clear: transparent court hearings, fair legal proceedings, and an impartial judiciary.
Silencing defendants and restricting public scrutiny weakens confidence in the justice system. We call on legal professionals, and human rights advocates to stand in solidarity with the families and support their call for accountability and fairness.
#EndUnfairTrailOfBYCLeaders
Sohail Ahmad retweeted
Umar Khalid's first book launches June 27. Until then, you can read it free on Kindle.
How do you get the book?
Download the Kindle edition from amzn.to/4fMVyCm for ₹0 from 20-27 June only
Reshare, spread the word, and show solidarity!
Sohail Ahmad retweeted
They stood for truth now truth itself is behind bars.
Six months of unlawful silence.
No justice. No accountability.
Stand up,speak up,break the silence
#EndUnfairTrailOfBYCLeaders
#ReleaseBYCLeaders
Sohail Ahmad retweeted
Just finished "A Time of Madness" by Salman Rashid sahib. A deeply moving, raw memoir of a grandson returning to Jalandhar to uncover his family's 1947 Partition tragedy. It’s a brutal look at history, yet beautifully rooted in healing & forgiveness.
@odysseuslahori
Undercover deputies from the Kent County Sheriff’s Office arrested a man in Michigan during a sting operation involving an alleged scam to defraud an elderly woman out of $700,000.
The sheriff’s department was originally alerted to the alleged scam when a coin shop owner reported that a 79-year-old woman had come in seeking to convert her life savings into gold coins.
Following his arrest, the scammer was detained at the Kent County jail, with a $100,000 bond and an ICE detainer in place.






































