Adil Sultan retweeted
Replying to @Alikhanyzai
اگر عوامی نمائندوں نے اس وقت لوگوں کے کاروبار تباہ کرنے سے روکا تھا جو عوامی مینڈیٹ کا بنیادی مقصد ہے اگر کوئی تجاوزات ہیں یا تھی تو باقاعدہ قانونی اور اخلاقی طریقہ کار اپناتے، بجائے اسکوبھی پنجاب کی مسلط حکومت کی طرح تباہ کرنا ہے۔
Adil Sultan retweeted
How State of Pakistan treat with the elected members of Parliament.. – at Abbottabad, Pakistan
Adil Sultan retweeted
More than a week has passed, and there is still no official confirmation of the whereabouts of the elected Chief Minister and Speaker of the Khyber Pakhtunkhwa Assembly.
The people of KP deserve answers, not silence.
Their elected representatives have simply disappeared from public view.
Adil Sultan retweeted
انڈین ہائیکورٹ کی پروسیڈنگ کی اس گیارہ منٹس کی ویڈیو کو پاکستان کی عدلیہ کے تمام ججز کو دیکھنا چاہئے اور تھوڑا بھی اپنے عہدوں کا آئین کا قانون کا پاس ہو تو شرم بھی کرنی چاہئے
ایک پولیس کے سب انسپکٹر کے ساتھ ایک گاؤں میں بدتمیزی ہوئی گاؤں کے چند لوگ پولیس اسٹیشن کے باہر اکٹھے ہوئے پولیس نے رات کے ایک بجے گاؤں میں گھروں پر ریڈ کیا جس پر گاؤں والوں نے ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی
مکالمہ ضرور سنیں۔ اور پھر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حالت زار دیکھیں
Adil Sultan retweeted
قومیں صرف اس وقت غریب نہیں ہوتیں جب ان کے خزانے خالی ہوں، بلکہ اس وقت بھی کمزور ہونے لگتی ہیں جب ان کے باصلاحیت لوگ اپنا مستقبل کہیں اور تلاش کرنے لگیں۔
آئی ایم ایف کی تحقیق کے مطابق مشرقی یورپ سے نوجوانوں اور ہنرمندوں کی بڑے پیمانے پر ہجرت نے معاشی ترقی کو سست کیا اور پیداواری صلاحیت کو نقصان پہنچایا۔
پاکستان کے لیے سوال صرف یہ نہیں کہ بیرونِ ملک جانے والے کتنے ڈالر بھیجیں گے، بلکہ یہ بھی ہے کہ ان کے ساتھ ملک سے کتنی صلاحیت، جدت، قیادت اور مستقبل کی ترقی کے امکانات رخصت ہو رہے ہیں۔
ترسیلاتِ زر سے زرِمبادلہ تو واپس آ سکتا ہے، مگر قوم کا کھویا ہوا اعتماد واپس لانے کے لیے انصاف، میرٹ اور امید بحال کرنا پڑتی ہے۔/3
Adil Sultan retweeted
ذرا سوچئے : "یہ برین ڈرین نہیں، برین گین ہے!"
یعنی ڈاکٹر، انجینئر اور آئی ٹی پروفیشنلز باہر جا کر دوسروں کی جی ڈی پی بڑھا رہے ہیں… اور ہم کہہ رہے ہیں "شکریہ، ہماری تعلیم و تربیت اور ٹریننگ کامیاب رہی!"
جو جا رہے ہیں، زیادہ تر وہ پڑھے لکھے ہیں۔
جو رہ رہے ہیں، وہ موقع کا انتظار کر رہے ہیں۔
Adil Sultan retweeted
جب کسی ملک کے باصلاحیت لوگ اچھی ملازمتوں کے باوجود وطن چھوڑنے لگیں تو یہ محض ذہانت کا انخلا نہیں، بلکہ ملک کے مستقبل پر اعتماد کے فقدان کا اظہار ہے۔
پاکستانی صرف بہتر تنخواہوں کی تلاش میں ملک نہیں چھوڑ رہے۔ وہ عزتِ نفس، میرٹ، انصاف اور اپنے بچوں کے محفوظ مستقبل کے خواہاں ہیں۔
المیہ یہ نہیں کہ لوگ وطن چھوڑ رہے ہیں، المیہ یہ ہے کہ وطن میں رہنے کی امید چھوڑ رہے ہیں۔ قوموں کا اصل زوال تب شروع ہوتا ہے جب ان کے باصلاحیت لوگ ملک چھوڑنے سے پہلے اس کے مستقبل پر یقین چھوڑ دیتے ہیں۔ /2
ایمل ولی اور جماعت اسلامی ہمیشہ اس وجہ سے سیاست میں یا عوام میں غیر مقبول اور دوغلے پن سے مشہور پارٹیاں یاد ہوتی ہیں۔ – at Abbottabad, Pakistan
ایمل ولی کے اندر کا دوغلا پن کھل کر سامنے آ گیا، پرسوں اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہوکر کہہ رہا تھا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی غیر آئینی غیر قانونی ہے ہم اسکی مخالفت کرتے ہیں مگر آج جب گورنر سے ملاقات ہوئی تو یکدم جذبات بدل گئے خیالات بدل گئے سوچ بدل گئی اور کہتا ہے کہ ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں ہمیں ان لوگوں سے امید ہے ان کو جو ذمہ داری ملی ہے وہ ایک قومی بقا کی ذمہ داری ہے!!!😂
Adil Sultan retweeted
محترم خادم صاحب !
ایک تو تحریر پورا پڑھ لیا کریں،تاکہ غلط فھمی نا رہے، اور اپ بھی مردان کی ایک پختون ہے اور پختونخوا کی معدنیات ھم سب کا قومی میراث ہیں، خدارا سیاسی تعصب میں جھوٹ دفاع ہرگز مت کریں، میں خود صوبائی حکومت کی پالیسیوں کیساتھ شدید اختلاف رکھتا ہو، انکی ناقص حکمرانی، کرپشن ، بدعنوانیو اور اقربا پروری پر میں نے ھمیشہ فلور پر اور میڈیا اسکو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہیں، میں ہرگز انکی دفاع نہیں کرتا، لیکن جھوٹ اور پروپیگنڈا کو ایکسپوز کرنا ضروری تھا،
میں نے لکھا ہے کہ یہ لارج اسکیل لائسنس ایف ڈی اے کے پاس تھا، جس کیساتھ ایف ڈبلیو او نے جائنٹ وینچر کیا، اور نیچے دیے گئے ڈاکومنٹس کو غور سے پڑھ لیں۔
وزیرستان کاپر معاھدہ میں واضح لکھا ھے کہ کمپنی رائلٹی،رنٹ کے علاوہ 10 ٪ منرلز ڈیپارٹمنٹ کو منافع میں بھی دیگا۔ سی ایس ار کی مد میں22٪ دیگا اور قومی کمیشن الگ سے 18٪ دیگا ۔تو اج انٹرنیشنل ریٹ کی بجائے اگر صرف صحافی حامد میر کے کمزور ریٹ مبلغ 7 لاکھ روپے فی ٹن بھی حساب کریں تو میرے صوبہ کی فی رائلٹی صرف 35000 فی ٹن بنتی ھے جبکہ کمپنی نے جو کل 16.9 کروڑ ادائیگی کی ھے وہ تو 198 روپے فی ٹن بنتی ھے ۔ اسکے علاوہ صوبہ کا 10 فی صد منافع، اینول رنٹ، سی ایس ار اعر اور مقامی کمیشن یہ سب کدھر ہیں ؟؟؟
میں نے پوری تحریر میں لکھا ہے کہ یہ ریکارڈ محمکہ معدنیات ھمیں فراہم نہیں کر پارہے تھے، اور سب باتیں کمیٹی میٹنگز کی ریکارڈ کا حصہ ہیں، لیز منرلز ڈیپارٹمنٹ کی ملکیت ھے کمپنی کا نہیں، منرلز ڈیپارٹمنٹ 10 فی صد کا حصہ دار پارٹنر اور ریگولٹر بھی ہے۔ کمپنی ڈیولپر ھے۔ کمپنی نے اج تک اپنے پارٹنر اور ریگولٹر کو کبھی پراجیکٹس کے اندر گھسنے بھی نہیں دیا ہے، کہ یہ معلوم کرے کہ وہ تانبے کے علاؤہ اور کون کونسے منرلز صاف کرکے بیچھ رہے ھیں ؟
آپ کی سوال کے مطابق اگر رائلٹی خام مال پر اگر دیتے ھو تو پھر حساب کرو، 9 لاکھ ٹن کو 25 سے 30 فی صد مال بنانے کے لیئے کتنا خام نکال کر لایا ہوگا ؟ خود حساب کرو اگر ایک فی صد کاپر کو 25٪ فی صد بنانے کے لیئے 1×25 کے حساب سے 9 لاکھ ٹن کے لیئے 2 کروڑ 25 لاکھ ٹن خام مال کی ضرورت ھے۔ تو اس حساب خام مال کی رائلٹی کا حساب لگالو پھر کتنی رقم بنتی ھیں ؟
میرے صوبہ کی تانبے کی رائلٹی صرف 33 ارب بنتی ھے، کمپنی تو معدنیات صاف کرکے گولڈ، سلور اور دیگر ریئر ارتھ الگ سے صاف کرکے لے جارہے ھیں جو کہ لاکھوں روپے گرام کے حساب سے قیمت ھے انکا تو حساب دیتے بھی نہیں ھو۔ صوبہ کا منافع قومی کمیشن یہ سب کا احتساب کروانا ضروری ہیں۔۔۔۔۔!!
نوٹ!! مجھے پی ٹی آئی کیساتھ کوئی ہمدردی نہیں، تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے پچھلے 29 مہینوں سے میرے حلقے کی فنڈز نہیں دی۔ دونوں وزیر اعلیٰ گنڈاپور اور سہیل آفریدی نے میرے فنڈز مجھے نہیں دی، بلکہ پی ٹی آئی کی اپنے سابقہ پارلیمنٹرین اور اپنے شکست خوردہ امیدوار کو میرے حلقے کی فنڈز جاری کی، اور ہاں آج کل آپ لوگوں کا جس مقتدرہ کیساتھ ہے، انہوں نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔۔۔۔۔
لیکن گورنر راج اور ایمرجنسی کیخلاف ھمارے پارٹی کا موقف بڑا کلیر ہے کہ ھم اس غیر جمہوری عمل کی شدید مخالفت کرتے ہیں، اور ھم اسکے خلاف ہے، ھمارے مرکزی صدر @AimalWali
نے دو ٹوک الفاظ میں اسکی بھرپور مخالفت کی ہیں، اور گورنر راج اور ایمرجنسی کی نفاذ کی پس پردہ جو مذموم مقاصد نظر آرہے ہیں اسکی بھی کھل کر نشاندھی کی ہیں۔۔۔
محترم نثار باز صاحب، آپ کو حقائق کا علم نہیں ہے یا پھر آپ دانستہ طور پر حقائق کو مسخ کر رہے ہیں۔ آپ کو بتا دوں کہ خیبر پختونخوا حکومت نے ایف ڈبلیو او (FWO) کو یہ لیز جاری ہی نہیں کی، بلکہ فاٹا کے انضمام سے تین سال قبل 2016 میں فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے کھلی بولی اور مکمل قانونی اور شفاف عمل کے تحت یہ منصوبہ FWO کو دیا تھا، جس کی آمدنی کا سب سے بڑا حصہ بھی مقامی قبائل اور صوبائی خزانے کو ملتا ہے۔ انتہائی مشکل اور خونخوار دور میں، جب اس علاقے میں دہشت گردی کا راج تھا اور کسی بھی نجی ادارے یا انفرادی فرد، میں ایک روپیہ لگانے کی ہمت نہیں تھی، اس وقت FWO نے وہاں جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی، جدید پروسیسنگ پلانٹ لگایا، اور نہ صرف مقامی لوگوں کو روزگار فراہم کیا بلکہ وہاں کی تقدیر بدلنے کے لیے شاندار سڑکیں، اسکول، ہسپتال اور دیگر منصوبے مکمل کیے۔ آپ جس 6.9 کھرب روپے کی خیالی رقم کا حساب جوڑ کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ منرل اکنامکس کے بنیادی اصولوں سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے کیونکہ رائلٹی ہمیشہ خام مال (Ore) پر دی جاتی ہے نہ کہ پروسیسڈ اور صاف شدہ فائنل مارکیٹ پروڈکٹ پر، جس پر اربوں روپے کی پروسیسنگ اور نقل و حمل کے اخراجات آتے ہیں۔
محمد خیل کاپر پراجیکٹ درحقیقت شمالی وزیرستان اور ارد گرد کے علاقوں کی تقدیر بدلنے والا ایک انقلاب آفریں منصوبہ ہے۔ FWO نے اس منصوبے کے ذریعے مقامی قبائل کی 70 فیصد سے زائد آبادی کو باعزت روزگار فراہم کیا ہے، جہاں ملازمین کو پرکشش تنخواہوں کے ساتھ ساتھ مفت معیاری رہائش اور بہترین کھانے کی سہولیات میسر ہیں۔ اس منصوبے کی سب سے بڑی تکنیکی کامیابی یہ ہے کہ خام مال کو باہر لے جانے کے بجائے موقع پر ہی جدید بینیفیکشن پروسیسنگ پلانٹ لگایا گیا جس سے وزیرستان میں مقامی صنعتی بنیاد رکھی گئی، اور تانبے کی شفاف برآمد و فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک خطیر حصہ مقامی قبائل کی فلاح و بہبود اور صوبائی و قومی خزانے میں باقاعدگی سے جمع ہو رہا ہے۔
Adil Sultan retweeted
Replying to @IftikharFirdous
Previously, trade b/w Pak & Iran did not involve payments made through any banking channels;instead both sides relied on a barter system. Trade b/w the two countries is ongoing and will continue, but payments have never been—& will nt be processed through banking channels. – at Abbottabad, Pakistan
Adil Sultan retweeted
Replying to @K4anSh3r
Same claims you did it in past now again come with filthy 😡 mouth..
Adil Sultan retweeted
Replying to @khannisar930
Good 👍 response to this habitual liars who's always open mouth against KP..keep it up if any one else could be open mouth u against KP response like this...
Adil Sultan retweeted
خواجہ آصف آپ نے بات چھیڑ دی، تو پھر لو جی کچھ ریکارڈ درست کردیں۔
یہ سوال بھی جناب احمد کنڈی صاحب نے جمع کیا تھا، جس کا جواب محمکہ معدنیات نے کمیٹی میں پیش کیا۔۔۔۔ FWO شمالی وزیرستان کاپر مائننگ!!!!
پچھلے دو سال سے میں رکن صوبائی اسمبلی کے حثیت سے صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی ماینز اینڈ منرل کا ممبر ہو، اور محکمہ معدنیات پختونخوا کا ریکارڈ ھمارے ساتھ کمیٹی میں ڈسکس کیا جاتا رہا، اور تقریباً یہ سب مندرجہ ذیل باتیں ھمارے ریکارڈ کا حصہ ہیں،
محکمہ معدنیات پختونخوا نے لارج اسکیل لائسنس 4 چار جاری کی ہیں، جس میں ایک لارج اسکیل لائسنس ایف ڈبلیو او کے پاس ہے، وزیرستان میں کاپر کی کان کنی ہورہی ہیں، 2016 میں یہ لاسینس ایف ڈی ایم اے کے پاس تھا جس کیساتھ ایف ڈبلیو او نے جائنٹ وینچر کرکے حاصل کیا ہے، 2017 میں پختونخوا ماینز اینڈ منرل ایکٹ بنا، اب ایک ہی لارج اسکیل لائسنس فنکشنل ہے اور وہ وزیرستان میں کاپر کی ہے ایف ڈبلیو او کے پاس ہے،
اس کا رقبہ 30 مربع کلومیٹر یعنی 7,410 ایکڑ ہے، جو 37 عام لیزوں کے برابر ہے۔ مقامی عوام کو صرف 50 سے 500 ایکڑ دیا جاتا ھے
محکمہ معدنیات کے ریکارڈ کے مطابق وہاں سے 2016 سے 2024 تک 987,000 ٹن کاپر نکالا گیا، جس میں پچھلے دو سال کا ریکارڈ شامل نہیں 2025,26 کا، اسکے باوجود ایف ڈبلیو او نے 10 لاکھ ٹن کاپر اوپن بولی کے ذریعے فروخت اور ایکسپورٹ کیا۔
اب اسکے پراسیسنگ کرکے 25٪ سے لیکر 30 فی صد کاپر تیار کرکے مارکیٹ میں بیچھتے ھیں، اج انٹرنیشنل مارکیٹ میں 25٪ کاپر کا ریٹ 9500 ڈالر جبکہ 30٪ کاپر کا ریٹ 11500 ڈالر فی ٹن ھے،
اب اس کاپر کی مالیت صحافی حامد میر کے بیان کردہ 7 لاکھ روپے فی ٹن نرخ کے حساب کے مطابق اس نکالی گئی کاپر کی مجموعی مالیت تقریباً 6.9 کھرب روپے بنتی ہے۔
اب پختونخوا کی محکمہ معدنیات ایکٹ 2017 کے معدنی قانون کے مطابق 5٪ رائلٹی کے حساب لگا کر تقریباً 34.5 ارب روپے بنتے ہیں، جبکہ محکمہ معدنیات کی ریکارڈ کے مطابق محکمہ معدنیات کو صرف 16.9 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔
جب مجھ سمیت دیگر ممبران اسمبلی احمد کریم کنڈی، ایم پی اے عدنان خان سمیت دیگر سیکٹری معدنیات، ڈی جی معدنیات سے اس حوالے سوال اٹھائے کہ کیوں پورا حساب کتاب نہیں دیا جارہا ہیں، تو بچارے خاموش ہو جاتے اور اکثر کہتے ہیں کہ سر ھم کچھ نہیں کرسکتے۔ یہ سب باتیں کمیٹی ریکارڈ کا حصہ ہیں، اور ھمارے پاس ڈاکومنٹس کی شکل میں بھی موجود ہیں،
بشرط یہ کہ اگر اب اس گورنر راج اور ایمرجنسی کی مارشلائئ دور میں محمکہ معدنیات کی ریکارڈ میں ردوبدل نا کریں۔۔
اب آتے ہیں احتساب کے طرف، کہ سب سے پہلے کس کا؟ جب صوبے کی 4000 زیادہ چھوٹے لیز ہولڈرز کی مجموعی سالانہ آمدن تقریباً 14 ارب روپے تک پہنچ چکا ہیں، تو دوسری طرف صرف ل اس ایک لیز ( وزیرستان کاپر ) کی مبینہ رائلٹی 33 ارب روپے بنتی ہے اور ادائیگی صرف 16.9 کروڑ دیکر باقی رقم نہیں دیتے،تو ائیں سب سے پہلے اس کا شفاف آڈٹ اور احتساب تو کریں۔؟
ہاں میں مانتا ہوں کہ پی ٹی آئی کی ناقص حکمرانی کے ساتھ ھمارا اختلاف تھا اور رہے گا، کیونکہ اسکے دور حکومت میں اقربا پروری، کرپشن سب کچھ ہو رہا تھا، ھم بھی اسکے ساتھ اختلاف رکھتے ہیں،
لیکن ریکارڈ کو دروست رکھنے کیلے یہ لمبی تحریر لکھنا پڑھ رہا ہیں، تاکہ پنجاب کی سول ملٹری اشرافیہ نے جس طرح پچھلے دو دنوں سے عوام کو گمراہ کرنے کی مذموم کوشش شروع کر رکھے ہیں، اسکے آڑ میں پختونخوا کی موجودہ تمام چھوٹے لیز ہولڈرز کی لایسینز مشکوک کرکے ختم کرنے کی سازش ہورہی تاکہ اسے ختم کرکے کمپنی سرکار اپنے لیے لارج اسکیل لائسنس کا اجراء کرکے ھمارے وسائل پر قبضہ جمانے کی کوشش ہورہی ہیں،
اب آتے موجود چھوٹے لائسنس کی اجراء کے بارے میں بات کرکے ہیں،
محمکہ معدنیات پختونخوا نے آن لائن پورٹل 2017 میں رسالپور میں سیکیورٹی ادارے نے محکمہ معدنیات کو تربیت دے کر شفاف آن لائن پورٹل نظام تیار کروایا، جس سے شہری گھر بیٹھے لائسنس کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
2024 میں مائن اونرز ایسوسی ایشن نے میڈیا اور اداروں کو بتایا کہ فیسیں اور کاغذات مکمل ہونے کے باوجود 7000 درخواستوں پر لائسنس جاری نہیں ہوئے۔
اس ایشو کو کمپنی سرکار کی حکم پر نیب نے نوٹس لیا، اور اکتوبر 2024 میں نیب نے مشترکہ پریوینشن کمیٹی کے ذریعے جانچ پڑتال کی اور زیرِ التوا لائسنسوں کا معاملہ فوری حل کرنے پر زور دیا۔
نیب اعلامیے کے بعد محکمہ معدنیات کی اس وقت کی ڈائریکٹر جنید خان نے درخواستوں کی پراسیسنگ شروع کی اور قانونی تقاضے پورے کرنے والوں کو لائسنس جاری کیے۔ اور کمیٹی میں باقاعدہ رپورٹ پیش کیا،
ان 4000 سے زیادہ لیز ہولڈرز میں مختلف سیاسی جماعتوں کے افراد، ریٹائرڈ فوجی افسران اور پاکستان بھر کے شہری شامل ہیں۔ اور یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہیں،
اس حوالے سے ھمارا موقف بڑا واضح ہیں کہ ان لیزوں میں بے ضابطگیاں اور بی قاعدگیاں ہوئیں ہیں تو ان کی تحقیقات ضرور ہونا چاہیے، اور ـــــــ 1/2
Adil Sultan retweeted
پچھلے دو سال سے میں رکن صوبائی اسمبلی کے حثیت سے صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی ماینز اینڈ منرل کا ممبر ہو، اور محکمہ معدنیات پختونخوا کا ریکارڈ ھمارے ساتھ کمیٹی میں ڈسکس کیا جاتا رہا، اور تقریباً یہ سب مندرجہ ذیل باتیں ھمارے ریکارڈ کا حصہ ہیں،
محکمہ معدنیات پختونخوا نے لارج اسکیل لائسنس 4 چار جاری کی ہیں، جس میں ایک لارج اسکیل لائسنس ایف ڈبلیو او کے پاس ہے، وزیرستان میں کاپر کی کان کنی ہورہی ہیں، 2016 میں یہ لاسینس ایف ڈی ایم اے کے پاس تھا جس کیساتھ ایف ڈبلیو او نے جائنٹ وینچر کرکے حاصل کیا ہے، 2017 میں پختونخوا ماینز اینڈ منرل ایکٹ بنا، اب ایک ہی لارج اسکیل لائسنس فنکشنل ہے اور وہ وزیرستان میں کاپر کی ہے ایف ڈبلیو او کے پاس ہے،
اس کا رقبہ 30 مربع کلومیٹر یعنی 7,410 ایکڑ ہے، جو 37 عام لیزوں کے برابر ہے۔ مقامی عوام کو صرف 50 سے 500 ایکڑ دیا جاتا ھے
محکمہ معدنیات کے ریکارڈ کے مطابق وہاں سے 2016 سے 2024 تک 987,000 ٹن کاپر نکالا گیا، جس میں پچھلے دو سال کا ریکارڈ شامل نہیں 2025,26 کا، اسکے باوجود ایف ڈبلیو او نے 10 لاکھ ٹن کاپر اوپن بولی کے ذریعے فروخت اور ایکسپورٹ کیا۔
اب اسکے پراسیسنگ کرکے 25٪ سے لیکر 30 فی صد کاپر تیار کرکے مارکیٹ میں بیچھتے ھیں، اج انٹرنیشنل مارکیٹ میں 25٪ کاپر کا ریٹ 9500 ڈالر جبکہ 30٪ کاپر کا ریٹ 11500 ڈالر فی ٹن ھے،
اب اس کاپر کی مالیت صحافی حامد میر کے بیان کردہ 7 لاکھ روپے فی ٹن نرخ کے حساب کے مطابق اس نکالی گئی کاپر کی مجموعی مالیت تقریباً 6.9 کھرب روپے بنتی ہے۔
اب پختونخوا کی محکمہ معدنیات ایکٹ 2017 کے معدنی قانون کے مطابق 5٪ رائلٹی کے حساب لگا کر تقریباً 34.5 ارب روپے بنتے ہیں، جبکہ محکمہ معدنیات کی ریکارڈ کے مطابق محکمہ معدنیات کو صرف 16.9 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔
جب مجھ سمیت دیگر ممبران اسمبلی احمد کریم کنڈی، ایم پی اے عدنان خان سمیت دیگر سیکٹری معدنیات، ڈی جی معدنیات سے اس حوالے سوال اٹھائے کہ کیوں پورا حساب کتاب نہیں دیا جارہا ہیں، تو بچارے خاموش ہو جاتے اور اکثر کہتے ہیں کہ سر ھم کچھ نہیں کرسکتے۔ یہ سب باتیں کمیٹی ریکارڈ کا حصہ ہیں، اور ھمارے پاس ڈاکومنٹس کی شکل میں بھی موجود ہیں،
بشرط یہ کہ اگر اب اس گورنر راج اور ایمرجنسی کی مارشلائئ دور میں محمکہ معدنیات کی ریکارڈ میں ردوبدل نا کریں۔۔
اب آتے ہیں احتساب کے طرف، کہ سب سے پہلے کس کا؟ جب صوبے کی 4000 زیادہ چھوٹے لیز ہولڈرز کی مجموعی سالانہ آمدن تقریباً 14 ارب روپے تک پہنچ چکا ہیں، تو دوسری طرف صرف ل اس ایک لیز ( وزیرستان کاپر ) کی مبینہ رائلٹی 33 ارب روپے بنتی ہے اور ادائیگی صرف 16.9 کروڑ دیکر باقی رقم نہیں دیتے،تو ائیں سب سے پہلے اس کا شفاف آڈٹ اور احتساب تو کریں۔؟
ہاں میں مانتا ہوں کہ پی ٹی آئی کی ناقص حکمرانی کے ساتھ ھمارا اختلاف تھا اور رہے گا، کیونکہ اسکے دور حکومت میں اقربا پروری، کرپشن سب کچھ ہو رہا تھا، ھم بھی اسکے ساتھ اختلاف رکھتے ہیں،
لیکن ریکارڈ کو دروست رکھنے کیلے یہ لمبی تحریر لکھنا پڑھ رہا ہیں، تاکہ پنجاب کی سول ملٹری اشرافیہ نے جس طرح پچھلے دو دنوں سے عوام کو گمراہ کرنے کی مذموم کوشش شروع کر رکھے ہیں، اسکے آڑ میں پختونخوا کی موجودہ تمام چھوٹے لیز ہولڈرز کی لایسینز مشکوک کرکے ختم کرنے کی سازش ہورہی تاکہ اسے ختم کرکے کمپنی سرکار اپنے لیے لارج اسکیل لائسنس کا اجراء کرکے ھمارے وسائل پر قبضہ جمانے کی کوشش ہورہی ہیں،
اب آتے موجود چھوٹے لائسنس کی اجراء کے بارے میں بات کرکے ہیں،
محمکہ معدنیات پختونخوا نے آن لائن پورٹل 2017 میں رسالپور میں سیکیورٹی ادارے نے محکمہ معدنیات کو تربیت دے کر شفاف آن لائن پورٹل نظام تیار کروایا، جس سے شہری گھر بیٹھے لائسنس کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
2024 میں مائن اونرز ایسوسی ایشن نے میڈیا اور اداروں کو بتایا کہ فیسیں اور کاغذات مکمل ہونے کے باوجود 7000 درخواستوں پر لائسنس جاری نہیں ہوئے۔
اس ایشو کو کمپنی سرکار کی حکم پر نیب نے نوٹس لیا، اور اکتوبر 2024 میں نیب نے مشترکہ پریوینشن کمیٹی کے ذریعے جانچ پڑتال کی اور زیرِ التوا لائسنسوں کا معاملہ فوری حل کرنے پر زور دیا۔
نیب اعلامیے کے بعد محکمہ معدنیات کی اس وقت کی ڈائریکٹر جنید خان نے درخواستوں کی پراسیسنگ شروع کی اور قانونی تقاضے پورے کرنے والوں کو لائسنس جاری کیے۔ اور کمیٹی میں باقاعدہ رپورٹ پیش کیا،
ان 4000 سے زیادہ لیز ہولڈرز میں مختلف سیاسی جماعتوں کے افراد، ریٹائرڈ فوجی افسران اور پاکستان بھر کے شہری شامل ہیں۔ اور یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہیں،
اس حوالے سے ھمارا موقف بڑا واضح ہیں کہ ان لیزوں میں بے ضابطگیاں اور بی قاعدگیاں ہوئیں ہیں تو ان کی تحقیقات ضرور ہونا چاہیے، اور ـــــــ 1/2
خیبر پختونخوا میں معدنیات کے لائسنسز کی حقیقت (سرکاری اعداد و شمار کے مطابق):
قیام پاکستان سے 2010 تک خیبر پختونخوا میں معدنیات کے صرف 482 لائسنس/ٹائٹلز جاری ہوئے تھے۔
پی ٹی آئی کی صوبائی حکومتوں کے دور میں یہ تعداد تیزی سے بڑھی۔ 2020 تک 1,762، فروری 2024 تک 3,962، اور موجودہ وقت میں کل 4,917 مائننگ لائسنسز جاری ہو چکے ہیں۔ ان میں سے 4,133 آباد اضلاع میں اور 784 ضم شدہ اضلاع میں ہیں
اس پورے عرصے میں عسکری ادارے FWO کو صرف ایک لائسنس ملا، جو 2015 میں شمالی وزیرستان کے بویا علاقے میں دیا گیا تھا، جہاں FWO تعمیراتی اور بحالی کے کاموں میں مصروف رہا
اس وقت 500 سے زائد نئی درخواستیں زیر غور ہیں، جن میں سے کوئی بھی عسکری ادارے کی جانب سے نہیں ہے
مختصر یہ کہ معدنیات کے لائسنسز کی بڑی تعداد پی ٹی آئی دورِ حکومت میں جاری ہوئی، جبکہ عسکری اداروں کا اس شعبے میں براہِ راست حصہ سرے سے تھا ہی نہیں.
Adil Sultan retweeted
اس حوالے میں نے ہر میٹنگ میں یہی بات کی ہیں،کہ پورے محکمے اور 4000 لیز ہولڈرز کو ایک مخصوص جماعت کیساتھ جوڑ کر روزگار چھیننا کہاں کا انصاف ہے؟ اس مطلب پھر صاف ہیں، کہ کسی طرح تمام لیز ہولڈرز کو مشکوک بناکر پروپیگنڈا کرکے عوامی رائے کو ہموار کرکے اسے ختم کردیں اور حوالدار صاحب گورنر راج اور ایمرجنسی کا فایدہ اٹھا کر اس پر لارج اسکیل لائسنس اپنے جاری کرکے قبضہ کرلیں، اور جس طرح امریکی بہادر سے بات پہلے جو کی جاچکی ہیں اس مقصد کو پورا کردیں،
مگر ھم ایسا ہرگز نہیں ہونے دینگے، پچھلے سال 2025 جس طرح گنڈا پور سرکار نے SIFC کے طرف سے بھیجی گئے ڈرافٹ کو کابینہ سے منظور کرکے اس بل کو اسمبلی میں ٹیبل کیا، اور اس منرلز ایکٹ 2017 میں تبدیل کرنے اور مسلط کرنے کی کوشش ہوئی، تو سب سے پہلے میں نے اسے پختونخوا کے عوام کے سامنے ایکسپوز کیا اور اسمبلی فلور پر اسکی بھرپور مخالفت کی، اور پختون قوم کی میراث پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو عوام کے سامنے ننگا کیا، اس وقت عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت نے اس ایشو پر جسطرح پوری قوم کو متحد کیا اور جرگے منعقد کی، سیمینارز، ال پارٹیز کانفرنس سمیت مظاہرے بھی کیے جس کی بدولت اس صوبائی حکومت کو مجبور کرکے اس بل کو ڈرافٹ آؤٹ کیا،
میں ہرگز صوبائی حکومت کا دفاع نہیں کرنا چاہتا مگر حقائق کے منافی ریاستی پروپیگنڈا ٹیک نہیں،
احتساب ضرور کریں، مگر ثبوت، قانون اور حقائق کی بنیاد پر، ھم خود چاہتے ہیں کہ احتساب ہو اور سرعام ہو۔محکمہ معدنیات میں جہاں خامیاں ہیں،انہیں درست کیا جائے، جہاں کرپشن ہے اسے بے نقاب کیا جائے۔ لیکن پختونخوا کی وسائل پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش ہرگز نا کریں۔ یہ اس پختونخوا کی عوام کا مشترکہ میراث ہیں، اور اسکا دفاع ہرصورت میں کرینگے۔
احتساب کی مخالف نہیں۔ اگر کسی بھی معدنی لیز میں حکومتی دباؤ، اقرباپروری، رشوت، اختیارات کے ناجائز استعمال یا قانون شکنی کے شواہد موجود ہیں، تو ان کی مکمل تحقیقات ضرور ہونی چاہیئں اور ذمہ داروں کے خلاف بلاامتیاز سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔
لیکن اسکی پس پردہ اگر کوئی اور منصوبہ بندی ہورہی ہیں تو ھم اسکو ایکسپوز کرتے رہینگے۔!!!
نثار باز خان
Adil Sultan retweeted
مُہروں کو احکامات بجا لانے کے لیے کیا کیا کرنا پڑتا ھے۔ ایسی ذلت سے سیاست چھوڑ دینا بہتر ہے! وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کا اہم بیان
مولانا فضل الرحمٰن جیسے سینئر سیاستدان، جو خود دہشت گردی کا شکار رہے ہیں، ان سے دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والوں کی حمایت کی توقع نہیں تھی۔ نااہلی، نالائقی اور کرپشن سے خیبر پختونخوا کی بربادی کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے بجائے ان کی حمایت میں بات کرنا نہایت افسوسناک ہے۔
جن کی حمایت میں بیانات جاری ہو رہے ہیں، ان سے پوچھا جائے کہ کیا تیرہ سال میں وہ کسی ایک شہید کے جنازے میں بھی شریک ہوئے؟ الٹا دہشت گردوں کو پناہ دی، انہیں پالا پوسا اور پاکستان پر حملہ آور ہونے کے لیے وسائل، پناہ گاہیں اور اپنے صوبے کی زمین فراہم کی۔
یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے خیبر پختونخوا میں نااہلی کے انبار لگا دیے، وہاں کے عوام کی زندگیاں تباہ و برباد کر دیں اور انہیں دہشت گردی کی نذر کر دیا۔ صوبے کے قیمتی وسائل دھرنوں اور احتجاجوں پرخرچ کر دیے، اور تیرہ قیمتی سال کرپشن اور نالائقی کی نذر کر دیے۔
جس سپہ سالار نے معرکۂ حق میں ملک کو تاریخی فتح سے ہمکنار کیا اور جس کی قیادت میں پاکستان کو حرمین شریفین کے تحفظ کا اعزاز ملا، اس کے بارے میں مولانا صاحب کے الفاظ نے ہر محبِ وطن پاکستانی کا دل دکھایا ہے۔
پاک فوج کے افسر اور جوان آج بھی دہشت گردی کا ناسور ختم کرنے کے لیے سینوں پر گولیاں کھا رہے ہیں۔ ہر روز کسی ماں کا لختِ جگر، کسی بہن کا بھائی اور کسی کا شوہر سبز ہلالی پرچم میں لپٹ کر گھر آتا ہے۔ان شہیدوں کے لہو کو سلام پیش کرنے اور اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے دہشت گردی کے خاتمے کی راہ میں رکاوٹ بننے والوں کا ساتھ دینا آپ کے شایانِ شان نہیں۔
آپ کی جماعت نے خود دہشت گردی کے زخم سہے ہیں، آپ کے ساتھیوں نے شہادتیں دی ہیں۔ اور جن کی حمایت میں آج آپ کھڑے ہیں، کل یہی آپ کے بارے میں انتہائی ناشائستہ زبان استعمال کرتے اور ذاتی حملے کرتے رہے ہیں۔ دہشت گردی کے متاثرین کا دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والوں کے ساتھ کھڑا ہونا کم از کم میری سمجھ سے باہر ہے۔
خیبر پختون خواہ میں میں اپنی حکومت کے خاتمے کا ذمہ دار اور کوئی نہیں تحریک انصاف خود ہے۔
Sir, do all politicians pull the ears of bureaucrats like this whenever there is a shortcoming in their work? Or is this something that only the Sharif or Zardari-Bhutto families can do—given that the CM of KPK couldn't even say a word to an SHO?
@ansukhera @prideinservice – at Abbottabad, Pakistan
























