Central information Secretary PML N Youth wing ,Central President YMT ( Youth Media Team) 🇵🇰

Peshawar, Pakistan
Joined June 2010
My Inspiration My Pride My Leader With @MaryamNSharif – at Islamabad, Pakistan
274
551
31
1,921
181,212
ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں بڑی کمی – at Rawalpindi, Pakistan
3
7
21
440
Khadim Ali khan Yousaf zai retweeted
یہ پشاور میں نا جائز تجاوزات کے خلاف کیے جانے والے آج کے دن کی جھلک ہے ۔ تیرا سالوں میں ان ناجائز تجاوزات کے عوض تحریک انصاف کے کرپٹ ٹولے نے اربوں روپے کا مال بنایا ۔ اندازہ کریں کیسے خیبر پختونخوا کو لوٹا گیا ۔ سڑکوں کے آدھے آدھے حصے پر یہ تجاوزات موجود تھی جنہیں اب مسمار کیا جا رہا ہے
111
127
27
471
19,556
Khadim Ali khan Yousaf zai retweeted
پختون محبت، عزت، مہمان نوازی اور وفاداری کی پہچان ہیں۔ ان کے کردار میں انسانیت کی خوبصورتی جھلکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پښتانه د مینې، درناوي، مېلمه‌پالنې او وفادارۍ نښه دي. د دوی په کردار کې د انسانیت ښکلا ځلېږي. مکمل پوڈکاسٹ دیکھنے اور سننے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں ۔ youtu.be/rTfqwtV-Pak?si=pKmD… #pukhtoonkhwa #culture #nang #kpk #pukhtoonculture #peshawar #pukhtoonhistroy #socialmediainfluencers
4
19
19
424
📢 اہم اعلان ، پاکستان مسلم لیگ (ن) یوتھ ونگ ​پاکستان مسلم لیگ (ن) یوتھ ونگ خیبر پختونخوا ​پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا کے صدر انجنئیر امیر مقام سے باہمی مشاورت کے بعد ارباب افضل حیات کو صدر یوتھ وِنگ پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا مقرر کر دیا گیا ہے۔ ​اس حوالے سے مرکزی سیکرٹری جنرل عقیل نجم ہاشمی نے تقرری کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ ​یوتھ ونگ خیبر پختونخوا کے دیگر عہدیداروں اور اراکین کی تقرری بھی باہمی مشاورت کے ساتھ جلد کی جائے گی۔ ​جاری کردہ: خادم علی خان یوسفزئی مرکزی سیکرٹری اطلاعات، پاکستان مسلم لیگ (ن) یوتھ ونگ ​#PMLNYouthWing #PMLN #KPK #ArbabAfzalHayat #AmirMuqam – at Rawalpindi, Pakistan
5
29
112
2,224
📢 اہم اعلان | پاکستان مسلم لیگ (ن) یوتھ ونگ ​پاکستان مسلم لیگ (ن) یوتھ ونگ پنجاب ​تنظیم نو کے تمام امور کی دیکھ بھال اور یوتھ ونگ کو فعال بنانے کے لیے خرم روحیل اصغر کو پاکستان مسلم لیگ (ن) یوتھ ونگ پنجاب کا چیف آرگنائزر مقرر کر دیا گیا ہے۔ ​اس حوالے سے مرکزی سیکرٹری جنرل عقیل نجم ہاشمی نے تقرری کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ جاری کردہ: خادم علی خان یوسفزئی مرکزی سیکرٹری اطلاعات، پاکستان مسلم لیگ (ن) یوتھ ونگ پاکستان – at Rawalpindi, Pakistan
8
32
1
136
2,572
پاکستان مسلم لیگ ن یوتھ ونگ کے مرکزی آرگنائزیشن کو مزید فعال اور متحرک بنانے کے لیے وقاص احمد قریشی کو پاکستان مسلم لیگ (ن) یوتھ ونگ پاکستان کے سیکرٹری جنرل کا کوارڈینیٹر مقرر کر دیا گیا ہے۔ ​اس حوالے سے مرکزی سیکرٹری جنرل عقیل نجم ہاشمی نے تقرری کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ ​جاری کردہ: خادم علی خان یوسفزئی مرکزی سیکرٹری اطلاعات، پاکستان مسلم لیگ (ن) یوتھ ونگ – at Rawalpindi, Pakistan
3
18
75
926
صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) یوتھ ونگ اور مرکزی قیادت کی حتمی منظوری کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) یوتھ ونگ پنجاب کا تمام موجودہ تنظیمی ڈھانچہ فوری طور پر تحلیل کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق صوبائی، ڈویژنل، ضلعی، تحصیلی اور سٹی سطح کی تمام تنظیموں کے ساتھ ساتھ تمام عبوری انتظامات پر بھی فوری طور پر ہوگا۔ تنظیم نو کے عمل کو مؤثر بنانے کے لیے 60 دن کی مدت کے لیے چیف آرگنائزر کا مقرر کیا جائے گا جو تمام تر امور کی نگرانی کرے گا۔ تمام سابقہ عہدیداروں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اپنے سابقہ عہدوں اور ٹائٹلز کا استعمال فوری طور پر بند کر دیں۔ یہ اقدام پارٹی میں نظم و ضبط کو مضبوط بنانے اور یوتھ ونگ کو مزید متحرک بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ جاری کردہ: خادم علی خان یوسفزئی مرکزی سیکرٹری اطلاعات پاکستان مسلم لیگ (ن) یوتھ ونگ #PMLNYouthWing #PMLN #Punjab – at Rawalpindi, Pakistan
12
40
76
1,482
Khadim Ali khan Yousaf zai retweeted
مولانا فضل الرحمان صاحب آپکا اصل مسئلہ کیا ہے؟ آپکو ووٹ نہیں ملے تو غصہ نکال رہے ہیں ۔ دکھائیں وہ معدنیات کے پرمٹ جو حکومت نے جاری کئے۔۔آپ مستقل اپنے مفادات کی خاطر سیکیورٹی فورسز پر تنقید کر رہے ہیں ۔ آپ دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال ہیں اور کے پی کی عوام کو بھی یرغمال بنایا ہوا ہے۔ بلوچستان اور کے ہی میں فرق ہے بلوچستان کی حکومت اسلام آباد پر چڑھائی نہیں کرتی ۔۔سارا مسئلہ سمگلنگ بند ہونے کا ہے ۔ کے پی میں اخری دہشت گرد ختم ہونے تک گورنر راج بھی رہے گا ایمرجنسی بھی رہے گی۔ حنیف عباسی کی پارلیمنٹ میں مولانا فضل الرحمان کے رویہ پر دھواں دھار تقریر ۔۔
66
277
15
1,134
23,764
اصلاحات کے نتائج سامنے آنے لگے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیرِ صدارت جائزہ اجلاس میں بتایا گیا کہ ٹیکس گیپ 6 سے کم ہو کر 5 فیصد رہ گیا ہے، آڈٹ کی استعداد چار گنا بڑھی ہے اور صوابدیدی اختیارات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ اصلاحات ہر صورت جاری رہیں گی۔ – at Rawalpindi, Pakistan
3
28
161
2,033
ٹیکنالوجی سے شفافیت کی جانب ایک اور قدم 🇵🇰 وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ایف بی آر اجلاس میں بتایا گیا کہ ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے افسران کے صوابدیدی اختیارات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ وزیراعظم نے ٹیکس وصولی کے تمام شعبوں میں فیس لیس نظام کا نفاذ تیز کرنے کی ہدایت کی۔ – at Rawalpindi, Pakistan
8
20
655
خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے طلباء گورنر راج سے مطمئن ہیں، کیونکہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہو چکی تھی۔ طلباء پُرامید ہیں کہ اب امن بحال ہوگا اور خیبر پختونخوا میں بھی ترقیاتی و تعلیمی کام آگے بڑھیں گے۔ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے 306 طلباء کو ہونہار اسکالرشپ فراہم کی، جس پر ہم انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ افسوس کہ اپنے صوبے کی حکومت کی جانب سے ہمیں ایسی کوئی اسکالرشپ نہیں ملی جو ہماری تعلیم جاری رکھنے میں مددگار ثابت ہو، جبکہ پنجاب حکومت خیبر پختونخوا کے بچوں کو بھی تعلیمی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ اب امید ہے کہ خیبر پختونخوا میں بھی تعلیم، امن اور ترقی کے حوالے سے عملی اقدامات ہوں گے۔ خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے طلباء کی آراء اور تاثرات جانیے، آج صبح کی اس خصوصی رپورٹ میں۔ – at Rawalpindi, Pakistan
4
39
109
989
خیبر پختونخوا کے پہاڑ سونے، ماربل، کوئلے اور دیگر قیمتی معدنیات کے علاوہ تیل و گیس جیسے اہم وسائل سے مالامال ہیں، لیکن اصل کامیابی صرف ان ذخائر کی مالیت بتانے میں نہیں بلکہ یہ دیکھنے میں ہے کہ ان سے صوبے کو کتنی صنعت اور روزگار ملا، مقامی لوگوں کے حقوق کس حد تک محفوظ ہوئے اور قدرتی وسائل پر لڑائیوں یا بدامنی میں کتنی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ مئی 2016 میں جب کراچی میں پختون صنعت کاروں نے ماربل کارخانے بند ہونے اور خیبر پختونخوا سے زیارت وائٹ ماربل کی سپلائی معطل ہونے کی شکایت کی تو اس وقت کے گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا نے مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی کرائی، لیکن واپسی پر بریفنگ لینے پر معلوم ہوا کہ یہ محض تجارت کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے برسوں سے جاری قبائلی تنازعات، ملکیت کے جھگڑے اور خونریزی کی ایک تلخ داستان ہے۔ مہمند میں ماربل کی کانوں کی ملکیت اور درہ آدم خیل میں کوئلے کی کانوں پر قبائلی تصادم نے نسل در نسل خاندانی دشمنیوں کو جنم دیا، جبکہ معدنی، ڈیمز اور تیل و گیس کے وسائل تلاش کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں کے انجینئرز اور ماہرین کو بھی ہدف بنایا گیا۔ پولینڈ کی کمپنی (Geofizyka Krakow) کے انجینئر پیٹر اسٹانچک کو اٹک کے علاقے جنڈ سے اغوا کر کے درہ آدم خیل میں ذبح کیا گیا اور ان کے سکیورٹی گارڈ و ڈرائیورز سمیت تین پاکستانی ساتھی مارے گئے، ہنگری کی کمپنی MOL کے قافلے پر لاچی (کوہاٹ) میں حملہ کر کے انجینئر اور ڈرائیور کو اغوا کیا گیا اور ایف سی اہلکاروں سمیت چھ افراد جاں بحق ہوئے، گومل زام ڈیم پر دو چینی انجینئرز کے اغوا کے بعد ایک کو ذبح کر دیا گیا، داسو ڈیم منصوبے کے قافلے پر خودکش حملے میں چینی باشندے اور پاکستانی ڈرائیور جاں بحق ہوئے، جبکہ چینی کمپنی PJP کے ملازمین سمیت مقامی گیس و آئل سروے عملے کو بھی متعدد بار اغوا و تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ​اگر معدنیات اور توانائی کے وسائل نکالنا اتنا ہی آسان ہوتا تو مقامی لوگ اپنی ہی زمین پر جانیں نہ گنواتے۔ جب تک ملکیت، لیز، مقامی رضامندی، امن و امان اور آمدن کی مساوی تقسیم پر اتفاق نہ ہو، سرمایہ کاری رک جاتی ہے اور دشمنیاں بڑھتی ہیں۔ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ صرف مہمند اور درہ ادام خیل میں سینکڑوں افراد جاں بحق ہوئے، ، نوشہرہ کے جبی نظام پور میں کوہاٹ کے شکر درہ میں میں بھی کئی افرادکو مارا گیا ، 2010 میں 18ویں ترمیم کے بعد معدنیات کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہوا اور 2018 میں فاٹا کے انضمام کے بعد قبائلی اضلاع بھی صوبائی نظام میں شامل ہو گئے۔ یہ صوبے کے لیے جدید کان کنی، شفافیت اور تنازعات کے حل کا ایک بڑا موقع تھا۔ ​اگرچہ 2017 میں مہمند ماربل سٹی کو سی پیک کے صنعتی زون میں شامل کیا گیا، مگر اس منصوبے پر پی ٹی ائی حکومت نے کام نہیں کیا ، صوبے میں معدنیات کے شعبے کو سب سے بڑا نقصان غیر مؤثر پالیسیوں اور ناقص انتظام سے پہنچا، جہاں بڑی لیزیں منسوخ کر کے معدنی علاقوں کو چھوٹے ٹکڑوں میں بانٹ دیا گیا اور شفاف مسابقت کے بجائے سیاسی من پسند افراد کو نوازنے کے الزامات سامنے آئے، جس سے صنعتی سرمایہ کاری متاثر ہوئی اور غیر قانونی کان کنی کو فروغ ملا۔ خیبر پختونخوا اسمبلی کی معدنیات سے متعلق قائمہ کمیٹی کو پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق صوبے کی تقریباً 4,917 لیزوں میں سے صرف 2,000 فعال ہیں جبکہ 765 منسوخ کی جا چکی ہیں، جس کی بڑی وجہ بدامنی اور قانونی پیچیدگیاں بتائی جاتی ہیں۔ ​اس تمام تر انتظامی ناکامی، بدامنی اور سیاسی بیانیوں کی زد میں جہاں ایک طرف بیرونی سرمایہ کاری اور نجی شعبہ متاثر ہوا، وہاں دوسری طرف عسکری اداروں کے خلاف معدنیات پر قبضے کا بیانیہ بھی گردش میں لایا گیا۔ تاہم سرکاری اور آئینی ریکارڈ کی حقائق پر مبنی چھان بین کی جائے تو تصویر کا ایک دوسرا رخ سامنے آتا ہے۔ پاک فوج 2003ء سے قبائلی اضلاع میں موجود ہے، مگر ان 23 سالوں میں نہ تو عسکری اداروں نے فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو کسی دوسری الاٹمنٹ کی درخواست دی اور نہ ہی صوبائی محکمہ معدنیات میں کوئی ایسی درخواست جمع کرائی۔ خیبر پختونخوا کے کل منرل لائسنسوں میں سے 4,916 نجی اور سیاسی افراد کے پاس ہیں، جبکہ عسکری ادارے (FWO) کے پاس پورے صوبے میں صرف 1 واحد لائسنس ہے جو 2016 میں کھلی بولی اور تمام طے شدہ قانونی مراحل کے بعد الاٹ ہوا تھا۔ یہ واحد منصوبہ "محمد خیل کاپر پروجیکٹ" (بویا، شمالی وزیرستان) تھا، جس پر سوشل میڈیا پر 9 لاکھ ٹن کاپر کا غیر مصدقہ ادعا کیا گیا، لیکن اس تلخ حقیقت سے انحراف ممکن نہیں کہ جو کمپنیاں گیس، تیل، ڈیمز یا انفراسٹرکچر بنانے آئیں انہیں دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا، اور دوسری جانب انتظامی ناکامیوں اور سیاسی نعرے بازی نے صوبے کی معاشی ترقی کو روکے رکھا۔ ان تمام حقائق سے یہ بات واضح ہوتی ہے 1/2 – at Rawalpindi, Pakistan
12
45
2
66
1,394
ک اصل مسئلہ نعروں اور الزامات کا نہیں، بلکہ شفاف پالیسی سازی، سکیورٹی کی فراہمی، انتظامی نااہلی کے خاتمے اور حقائق پر مبنی فیصلوں کا ہے تاکہ خطے کے وسائل اور انسانی جانیں دونوں محفوظ رہ سکیں۔ ​اس تمام تر سکیورٹی بحران، سیاسی پروپگینڈے اور مقامی تنازعات کے بیچ سب سے بڑا اور تلخ سوال یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی تقدیر آخر کس طرح بدلے گی؟ اس پوری صورتِ حال کا احاطہ باجوڑ کی ایک پرانی لوک کہانی بہترین انداز میں کرتی ہے۔ کہتے ہیں کہ باجوڑ میں ایک انتہائی غریب خاندان کے شخص کو زمین کی کھدائی کے دوران سونے کی ایک اینٹ ملی۔ اس نے خوشی اور حیرت سے اپنے بیٹے کو آواز دی، لڑکا سونا دیکھ کر نہال ہو گیا کہ ان کی فقر و فاقے کی زندگی اب بدل جائے گی۔ لیکن اگلے ہی لمحے باپ نے حکم دیا کہ گھر میں مزید گہرا گڑھا کھودو۔ جب لڑکے نے تین فٹ نیچا گڑھا کھود لیا تو باپ نے وہ سونے کی اینٹ اس میں واپس دبا دی اور ساتھ میں مٹی کی ایک عام اینٹ بھی دفن کر دی۔ بیٹے کے سارے ارمان خاک میں مل گئے، مگر باپ نے ایک تلخ حقیقت کا درس دیتے ہوئے کہا کہ جب تک ہم اس سونے کو اپنے استعمال میں نہ لا سکیں، اس سے اپنی زندگی نہ بدل سکیں اور اس پر صرف خوف، خطرہ اور دباؤ منڈلاتا رہے، تب تک ہمارے لیے سونے کی یہ اینٹ اور مٹی کی اینٹ دونوں برابر ہیں۔ آج خیبر پختونخوا کے عوام کا المیہ بھی یہی ہے، ان کے پہاڑوں میں سونا، کوئلہ اور تیل و گیس دبا پڑا ہے، مگر پروپگینڈے، خونریز تنازعات اور انتظامی نااہلی نے ان بے بہا قدرتی خزانوں کو مٹی کی اینٹ بنا کر رکھ دیا ہے۔ 2/2 – at Rawalpindi, Pakistan
2
5
5
181
Khadim Ali khan Yousaf zai retweeted
Then the scene of the container will be something like this.
ابھی تو ہم نے پی ٹی آئی والوں کو صرف بھائی بولا ہے اسپر اتنی تکلیف یہ جبکہ پی ٹی آئی اور جے یوآئی ایک کنٹینر پر ہوگی تک کیا بنےگا
14
85
2
338
8,664
Khadim Ali khan Yousaf zai retweeted
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی اس وقت ختم ہو گی جب ہم اسے ختم کریں گے وگرنہ ساری دنیا میں ہم ہی بدنامی کے طعنے سہتے رہیں گے۔ صوبے کا سافٹ امیج تب ہی سامنے آئے گا جب ہم یہاں کھیلوں کی سرگرمیاں شروع کریں گے۔ کبھی بیس پچیس برس قبل یہاں بھی غیر ملکی ٹیمیں آیا کرتی تھیں لیکن طویل عرصے سے بین الاقوامی کھیلوں کی سرگرمیاں ختم ہو چکی ہیں۔کرکٹ کو تو رہنے دیں، کوریا کی ہاکی ٹیم کے تمام میچز اسلام آباد میں ہوئے اب چین کی ہاکی ٹیم پاکستان کے دورے پر ہے اسلام آباد اور لاہور کے علاوہ ناروال اور گوجرہ میں بھی میچز شیڈول ہیں لیکن پشاور سمیت کے پی جہاں 15 آرٹیفیشل ٹرف لگ چکے ہیں ہم کسی غیر ملکی ٹیم کے منتظر ہیں۔ اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
4
6
20
1,120
تحریک انصاف کا ایک اور بڑا ڈرامہ بے نقاب پی ٹی آئی 13 سال پروپیگنڈہ کرتی رہی کہ پنجاب ہمیں گندم کم دیتا یہ پنجاب اور وفاق کو پروپیگنڈے کے ذریعے بلیک میل کر کے زیادہ گندم لیتے تھے اور وہ گندم افغانستان اسمگل کر دیتے تھے اُس گندم کی جگہ سرکاری کھاتے میں مٹی اور ریت بوریوں میں بھر دیتے تھے نوشہرہ اضاخیل میں گندم کے سرکاری گودام پر چھاپہ جہاں گندم کی بجائے مٹی اور ریت ہی ملی ہے – at Rawalpindi, Pakistan
3
41
2
79
1,257
Khadim Ali khan Yousaf zai retweeted
Swat
7
81
8
472
11,469
Khadim Ali khan Yousaf zai retweeted
فرق صاف ظاہر ہے ۔ حکومت بدلتے ہی پشاور میں 13 سال سے پھلائی جانے والی غلاظت کا خاتمہ شروع
187
142
34
606
28,175
پشاور صرف 8 دن میں بدلتا نظر آ رہا ہے، ماشاءاللہ! چمکتا، صاف ستھرا اور روشن پشاور، کام وہی جو نظر آئے اور عوام کو محسوس ہو۔ ویلڈن ثمر بلور صاحبہ، ماشاءاللہ – at Rawalpindi, Pakistan
فرق صاف ظاہر ہے ۔ حکومت بدلتے ہی پشاور میں 13 سال سے پھلائی جانے والی غلاظت کا خاتمہ شروع
10
43
2
130
1,553
Khadim Ali khan Yousaf zai retweeted
Daanish School a beacon of equity for the less privileged where equal opportunity empowers bright minds to break barriers and leave their mark on the world. #DaanishSchoolIslamabad #TaleemSeTameerTak
4
3
61