A.R.Dar retweeted
ایک دفعہ میرے ایک پرانے دوست نے مجھے اپنے فارم ہاؤس پر بلایا‘ جو اس نے نیا نیا خریدا تھا۔ اس کے فارم کے باہر اتنی زیادہ قیمتی گاڑیاں کھڑی تھیں کہ مجھے پارکنگ کیلئے جگہ نہیں مل رہی تھی۔
میں بہت دور گاڑی پارک کر کے دس منٹ پیدل چلتا ہوا فارم تک گیا تو راستے میں پارک شدہ گاڑیوں کے ماڈلز دیکھ کر حیران ہوتا گیا کہ اتنی مہنگی اور نئے ماڈلز کی گاڑیاں بھی اس ملک میں لوگوں کے پاس ہیں۔ لوگوں کے پاس کتنی دولت ہے!
خیر‘ جب اندر گیا تو وہاں ایک اور دنیا آباد تھی۔ وہاں چند لوگ‘ جو مجھے جانتے تھے‘ میرے پاس آ کر بیٹھ گئے اور ملکی معیشت اور حالات پر بات کرنے لگے۔
میں اکثر اس طرح کے ہجوم میں خاموشی سے باتیں سنتا رہتا ہوں اور اپنی دانشوری کو قابو میں رکھتا ہوں۔ کبھی کوئی مجھے کہتا تھا کہ سنائیں جی! ملک کے کیا حالات ہیں‘ ملک کدھر جا رہا ہے‘ ہمارا کیا بنے گا‘ تو میں پوری ایمانداری اور سنجیدگی سے اپنی دانشوری شروع کر دیتا۔ ایک آدھ منٹ کے بعد وہ مجھے ٹوک کر کہتے کہ آپ رکیں‘ ہم بتاتے ہیں۔ پھر مجھے احساس ہوا کہ وہ میری بات نہیں سننا چاہتے تھے بلکہ مجھے متوجہ کرنے کیلئے ویسے ہی سرسری طور پر پوچھ لیتے کہ بتائیں کیا چل رہا ہے۔ مجھے دیر سے سمجھ آئی کہ دراصل وہ اپنی سنانا چاہتے ہیں۔ اب میں خاموش ہو کر ان کی سنتا ہوں۔
اُس محفل میں بھی یہی ہوا۔ جب انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا چل رہا ہے تو میں نے اُلٹا ان سے کہا کہ آپ بتائیں‘ آپ سب کاروباری لوگ ہیں۔
پھر انہوں نے ملک اور معیشت کی وہ تصویر پیش کی کہ بندے کا دل کرے کہ بس دنیا ابھی ختم ہو جائے۔ کتنی بری زندگی یہ سب گزار رہے ہیں!
میں نے کچھ دیر تک ان کا یہ منظرنامہ برداشت کیا اور پھر کہا کہ اگر پاکستان اتنا ہی برا ہے یا اکانومی تباہ ہو گئی ہے تو یہ سب پیسہ آپ نے کہاں سے کمایا ہے؟
میرے اس دوست نے‘ جس کے فارم ہاؤس پر ہم بیٹھے ہیں اور جس کی قیمت کم از کم ایک ارب روپے ہو گی‘ یہ پیسہ کہاں سے کمایا ہے؟ آپ لوگوں کی سینکڑوں لگژری گاڑیاں جو باہر پارک ہیں‘ آپ نے کہاں سے خریدی ہیں؟ پاکستانیوں نے دبئی میں دس ارب ڈالرز کی جائیدادیں خریدیں‘ یہ سب پیسہ کہاں سے آیا؟
خواجہ آصف کے بقول‘ آج کل پاکستانی افسر پرتگال میں جائیدادیں خرید رہے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر اچکزئی نے تو اسمبلی میں کہا ہے کہ تیس ہزار افسروں نے بیرونِ ملک شہریت لے رکھی ہے۔ کینیڈا پاکستانی افسران اور ان کے بچوں سے بھرا پڑا ہے۔ یہ سب پیسہ کہاں سے آیا جو انہوں نے باہر منتقل کیا؟
میں آپ سب کو جانتا ہوں۔ آپ ارب پتی نہیں تو کروڑ پتی ضرور ہیں۔ دس کروڑ سے کم قیمت کی گاڑی باہر نہیں کھڑی۔ آپ سب کی گاڑیوں میں سب سے پرانی گاڑی میری ہے‘ وہ بھی دفتر کی دی ہوئی ہے۔ اس کے باوجود آپ سب لوگ اس ملک اور اس کی معیشت سے مایوس ہیں؟ حیرت ہے! اور ناشکری کسے کہتے ہیں‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کہا ہے کہ انسان ناشکرا ہے۔ جو گفتگو آپ کر رہے ہیں یہ ناشکری ہے۔
تھوڑی دیر کیلئے وہاں خاموشی سی چھا گئی اور وہ سب مجھے اکیلا چھوڑ گئے۔ پھر کسی نے نہ پوچھا کہ اس ملک کا کیا بنے گا۔
یہ تین سال پہلے کی بات ہے۔ تین سالوں میں وہ سب دوست مزید اربوں کما کر بھی یہی گفتگو کرتے ہوں گے کہ ملک تباہ ہو گیا‘ رہنے کے قابل نہیں رہا۔
مکمل کالم لنک
dunya.com.pk/index.php/autho…
@DunyaNews @roznamadunya
A.R.Dar retweeted
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان اور وزیراعظم شہباز شریف کی اس ہفتے ملاقات کا امکان
حکومت اور جماعت اسلامی کی مذاکراتی کمیٹیوں کی میٹنگ بھی متوقع
پیٹرولیم لیوی پر اہم فیصلے کا امکان
A.R.Dar retweeted
Hindutva gang throwing stones at a bus traveling from New Delhi to Srinagar and injuring an old Kashmiri man in Haryana - They want Kashmir but hate Kashmiris!
A.R.Dar retweeted
بیورو کریسی میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ موجود ہیں
اپنے بچوں کی گریجویشن لندن میں کریں گے
لیکن یہ قوم کے بچوں کو جاہل بنائیں گے
#BanoQabil #HafizNaeem
A.R.Dar retweeted
کراچی کے 9 ماڈل ٹاؤنز — پورے پاکستان کے لیے امید کی کرن!🇵🇰
اگر جماعت اسلامی کو ملک کا اختیار ملا تو پاکستان کی تقدیر کیسے بدلے گی؟
اس کا عملی ثبوت کراچی کے 9 ٹاؤنز کی بے مثال کارکردگی ہے!
محدود وسائل اور انتظامی رکاوٹوں کے باوجود، جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئرمینز نے امانت، دیانت اور اختیار سے بڑھ کر عوام کی خدمت کر کے دکھائی ہے۔
اکتوبر، نومبر، دسمبر اور جنوری کے دوران کراچی کے 9 ٹاؤنز میں روزانہ کی بنیاد پر ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح کیے جائیں گے اور ساڑھے تین سال کی کارکردگی عوام کے سامنے رکھی جائے گی۔
بڑے اور مرکزی منصوبوں کا افتتاح امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن خود فرمائیں گے۔
اگر جماعت اسلامی صرف 9 ٹاؤنز کے محدود وسائل میں کراچی کی تقدیر بدل سکتی ہے، تو سوچئے اگر اس باصلاحیت اور ایماندار قیادت کو پورے پاکستان کا اختیار ملے تو یہ ملک کتنا خوشحال اور ترقی یافتہ بن سکتا ہے!
کراچی کی اس مثال کو پورے پاکستان تک پہنچانے کے مشن کا حصہ بنیں۔
جماعت اسلامی کی اس عوامی و تعمیری جدوجہد میں ہمارا ساتھ دیں!
A.R.Dar retweeted
کیا یہ آپکو گورنمنٹ اسکول لگ رہا ہے ؟؟
آپ یقیناً کہیں گے کہ یہ کوئی مہنگا ترین پرائیویٹ اسکول ہے ؟؟
لیکن ایسا نہیں ہے، یہ کراچی گلبرگ ٹاؤن میں موجود ایک سرکاری اسکول ہے جسے جماعت اسلامی کے گلبرگ ٹاؤن چئیرمین نے کھنڈر سے ایک مثالی اسکول میں تبدیل کردیا ہے
الحمد للہ!! امانت، دیانت، خدمت، کارگردگی جماعت اسلامی کا استعارہ ہے!!
#Karachi #KarachiWorks
A.R.Dar retweeted
ہم اس ملت کےمعالج نہیں تیماردار ہیں۔معالج کسی بھی وقت علاج چھوڑ سکتا ہے۔مگرتیمار دار تیمارداری نہیں۔
#اقوال_مودودی
A.R.Dar retweeted
اپنے کاروبار اور لین دین کے معاملات میں ہمیشہ دیانت داری کا راستہ اختیار کریں
امیر جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن کی بنو قابل گجرات کے گریجویٹس کو نصیحت
#BanoQabil #HafizNaeem
A.R.Dar retweeted
الخدمت بنو قابل گجرات کی پہلی گریجویشن تقریب آج منعقد ہوگی
بنو قابل گجرات کے 1334 طلبہ و طالبات میں کورسز کی تکمیل پر اسناد تقسیم کی جائیں گی
نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ و طالبات میں مفت لیپ ٹاپ تقسیم کیے جائیں گے
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن بنو قابل گجرات کی تقریب کے مہمانِ خصوصی ہوں گے
بنو قابل گجرات کے طلبہ و طالبات کو 9 مختلف کورسز کروائے گئے
گجرات میں الخدمت بنو قابل کے 6 مراکز قائم ہیں
بنو قابل نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنے کا اہم منصوبہ ہے
الخدمت بنو قابل نوجوانوں کو ہنرمند بنا کر باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے
#BanoQabilGujrat
A.R.Dar retweeted
یہ سال 1995 کی بات ہے جب سخت سردیوں کے دن چل رہے تھے۔
صوبہ پنجاب کے ضلع شیخوپورہ کے علاقے فاروق آباد میں مقامی لوگوں نے ایک سفید کار دیکھی۔۔
کار بہت تیزی میں آئی رکی۔۔اور کچھ پھینک کر تیزی کے ساتھ نکل گئی۔
گاؤں والے تجسس میں دوڑتے ہوئے وہاں پہنچے۔۔یہ دیکھنے کے لئے کہ کار والے نے کیا پھیکا ہوگا۔۔!!
جب موقع پر پہنچتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں۔۔۔ سانسیں لیتی ہوئی نیلے رنگ کی فراک میں ملبوس حضرت حوا کی ایک بیٹی۔۔۔
جسکی عمر تقریبا دو سال تک تھی۔۔بھیڑ میں سے ایک نیک دل انسان نے بچی کو اٹھاکر ہر طرف سے دیکھا خیریت دریافت کی اور گلے سے لگاکر کار کی طرف دیکھ کر پیچھا کرنے کا سوچا لیکن تب تک کار اپنی تیزی سے اٹھنے والی دھول میں گم نظروں سے اوجھل ہوگئی تھی۔
سو منہ اور سو باتیں ہورہی تھیں۔۔۔لیکن وہ نیک دل انسان بچی اپنے گھر لایا۔۔اسکی اچھی پرورش کی۔۔اس گھر میں جوان ہوئی اور گھر بس گیا۔۔ پرورش کرنے والے بہت ساری نیکیاں لیکر دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اب بنت حوا کا امتحان شروع ہوا۔
پرورش کرنے والے والدین دنیا سے رخصت ہوگئے۔۔اپنے ماں باپ کون تھے کیسے تھے؟ابھی کہاں کس حال میں ہونگے؟ بہن بھائی کیسے ہونگے؟ یہ سوالات اندر سے کھائے جارہے تھے۔
دوسری طرف بات بات پر گندے خون اور لاوارث جیسے الفاظ کے طعنے بھی ملنا شروع ہوگئے اللہ اس بہن پر رحم فرمائے۔
ہمیں یہ اسٹوری سن کر غالب گمان ہے کہ یہ اغ*واء کا کیس ہوگا۔ کسی نے کہیں سے اٹھاکر راستے میں بچی کو پھینک دیا ہوگا۔
آپ تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ اپنی اس بہن کے دکھ درد کا احساس کرتے ہوئے اس پوسٹ کو دنیا بھر میں خوب عام کریں۔
بچی کی جو تصویر دی گئی ہے یہ اس کے ملنے کے کچھ عرصے بعد کی ہے گھر والے دیکھ کر ضرور پہچانیں لیں گے۔
آپکا ایک شئیر ایک لاچار بہن کو اپنوں سے ملانے کا سبب بن سکتا ہے۔ خوب زیادہ شئیر کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
یہ پوسٹ 16 اکتوبر 2026 کو بوقت صبح حرم مکی میں بیٹھ کر لکھی ہے۔خاندان ملنے کی دعا کے ساتھ ساتھ آپ سب کے لئے بھی بہت ساری دعائیں۔
#waliullahmaroof





















