Independent Software Consultant

Joined July 2009
Include

Only show posts containing:

Exclude

Hide posts containing:

Time range
-
Minimum likes
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
*جب ہنری فورڈ نے ایک بار کہا شہر کا سب سے سستا ہوٹل کہاں ہے؟لوگ حیران رہ گئے۔* وہ ابھی انگلینڈ پہنچے ہی تھے — پہلے سے ارب پتی، پہلے سے دنیا کے مشہور ترین افراد میں شامل۔ لیکن عیش و عشرت کا مطالبہ کرنے کے بجائے وہ سکون سے ایئرپورٹ کے انفارمیشن ڈیسک پر گئے اور پوچھا: "سب سے سستا رہنے کا انتظام کہاں مل سکتا ہے؟" کلرک کچھ لمحے رکا۔ پرانا کوٹ، عام سا سوٹ کیس، دھیمی آواز۔ پھر اچانک اسے احساس ہوا — یہ ہنری فورڈ ہیں! وہی ہنری فورڈ، جو ہر اخبار کی سرخیوں میں تھے۔ کلرک نے حیرانی سے کہا: "سر… کیا آپ ہی مسٹر فورڈ ہیں؟" فورڈ نے مسکرا کر سر ہلایا: "ہاں، میں ہی ہوں۔" کلرک اب بھی حیران تھا: "آپ کا بیٹا تو ہمیشہ بہترین ہوٹلوں میں ٹھہرتا ہے، سب سے قیمتی سوٹ پہنتا ہے۔ اور آپ…؟ آپ یہاں سب سے سستا کمرہ پوچھ رہے ہیں، ایک ایسا کوٹ پہنے ہوئے جو آپ سے بھی پرانا لگتا ہے۔ کیوں؟" فورڈ نے نرمی سے مسکرا کر کہا: "کیونکہ مجھے صرف سونے کی جگہ چاہیے۔ میں جہاں بھی رہوں… میں ہنری فورڈ ہی رہوں گا۔ اور یہ کوٹ میرے والد کا ہے، یہ مجھے گرم رکھتا ہے۔ میرے لیے یہ کافی ہے۔" پھر آہستہ سے بولے: "میرا بیٹا اب بھی اس بات کی فکر کرتا ہے کہ لوگ کیا سوچیں گے۔ لیکن میں نے دوسروں کی منظوری کے لیے جینا چھوڑ دیا ہے۔ میں خرچ کر کے نہیں امیر ہوا، میں یہ سمجھ کر امیر ہوا کہ اصل اہمیت کس چیز کی ہے اور کس کی نہیں۔" ایک خاموش سبق، عاجزی میں لپٹا ہوا: اصل دولت اس میں نہیں کہ آپ کیا دکھاتے ہیں — اصل دولت اس میں ہے کہ آپ کیا سمجھتے ہیں۔ آپ آپ کے ہوٹل، آپ کے کوٹ یا آپ کے بینک بیلنس نہیں ہیں۔ آپ وہ ہیں جو آپ ہیں — چاہے آپ کہیں بھی ہوں۔ منقول ─────••●◎●••─────
6
64
2
384
20,085
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
اس ویڈیو کلپ کو سننے کے بعد میرا سب سے سوال ہے کہ مرد اگر خاک ہے تو یہ سوچ کہاں سے اتری ہے؟ اگر مرد کو "خاک برابر" ہی سمجھنا ہے، تو یہ باتیں کرنے والی خود کون سی عرش سے اتری ہوئی مخلوق ہیں؟ یہ بھی تو اسی مرد کے وجود اور نطفے سے پیدا ہونے والی مخلوق ہیں آج کل ڈیجیٹل میڈیا اور خصوصاً پوڈکاسٹس کی دنیا کو دیکھا جائے تو یوں لگتا ہے جیسے معاشرتی اصلاح کا پردہ اوڑھ کر خاندانی نظام اور باہمی رشتوں کی جڑوں پر کلہاڑی چلائی جا رہی ہے. گزشتہ دنوں عدنان فیصل کے پوڈکاسٹ کا ایک کلپ نظر سے گزرا جس کا عنوان تھا "سرے مرد خاک برابر". شو میں بیٹھ کر جس ہلکے پھلکے انداز میں مردوں کے وجود، ان کی محنت اور ان کے کردار کی تضحیک کی گئی, اس نے مجھے یہ تحریر لکھنے پر مجبور کر دیا۔ ​جب میں اس طرح کی گفتگو سنتا ہوں تو دل میں چند تلخ لیکن انتہائی سنجیدہ سوالات جنم لیتے ہیں: کیا مرد کوئی کھلونہ یا مشین ہے جس کے کوئی جذبات، احسانات یا قربانیاں نہیں؟ کیا اس معاشرے میں تمام تر برداشت اور معصومیت صرف ایک صنف کا حصہ ہے اور مرد سراپا ظالم یا بے حس ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر مرد کو "خاک برابر" ہی سمجھنا ہے، تو یہ باتیں کرنے والی خود کون سی عرش سے اتری ہوئی مخلوق ہیں؟ یہ بھی تو اسی مرد کے وجود اور نطفے سے پیدا ہونے والی مخلوق ہیں! ​ہمارے میڈیا اور نام نہاد دیسی لبرل حلقوں میں یہ یکطرفہ بیانیہ بڑی چالاکی سے بیچنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ صرف عورت ہی سارا بوجھ اٹھاتی ہے اور وہی قربانی دیتی ہے. میں عورت کے احترام اور اس کی قربانیوں کا منکر نہیں، لیکن کیا مرد کی قربانیوں کو یوں لمحوں میں نفی کر دینا انصاف ہے؟ صبح کے دھندلکے سے لے کر رات کے اندھیرے تک، کڑی دھوپ، گرمی اور سخت حالات میں اپنے بچوں کی روٹی اور ان کی مسکراہٹ کی خاطر پسینہ بہانے والا مرد کیا انسان نہیں؟ گھر کے باہر سو طرح کے لوگوں کی تلخ باتیں، دفتری یا کاروباری دباؤ، اور معاشرتی رویوں کو خاموشی سے جھیل کر جب وہ گھر لوٹتا ہے، تو کیا اس کی اس برداشت کا کوئی وجود نہیں؟ ​افسوس کی بات یہ ہے کہ دن بھر کی تھکن اور باہر کا ذہنی دباؤ سمیٹ کر جب ایک مرد گھر آتا ہے اور کوئی چھوٹی سی بات بھی کر دے، تو آگے سے احترام اور ہمدردی کے بجائے طعنوں اور دس باتوں کا طوفان کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ پھر بھی وہی مرد چپ چاپ سب سہہ کر اگلے دن دوبارہ اسی جدوجہد میں نکل پڑتا ہے۔ کیا یہ برداشت نہیں؟ ​پوڈکاسٹس کے ان مائیکروفونز کے سامنے بیٹھ کر آج کی نوجوان نسل سے مخاطب ہونا اور ان کے ذہنوں میں ایک دوسرے کے خلاف زہر گھولنا کون سی تربیت ہے؟ کیا لبرل ازم یہی ہے کہ اپنے ہی گھر، اپنے ہی باپ، بھائی اور شوہر کے وجود کی تضحیک کی جائے؟ سستی شہرت، کلکس اور ویوز کی اس اندھی دوڑ میں ہمارے میڈیا پلیٹ فارمز نے معاشرے کو جوڑنے کے بجائے توڑنے کا ٹھیکا لے رکھا ہے. اس قسم کی یکطرفہ، غیر متوازن اور منفی گفتگو سے کوئی اصلاح نہیں ہو رہی، بلکہ نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے درمیان خلیج، نفرت اور غلط فہمیاں بڑھ رہی ہیں. ​کوئی بھی گھرانہ یا رشتہ کسی ایک کی برتری یا کسی دوسرے کی تضحیک سے نہیں چلتا. خاندانی نظام ایک گاڑی کے دو پہیوں کی مانند ہے جہاں مرد اور عورت کا اپنا اپنا مقام، اپنی ذمہ داریاں اور اپنی قربانیاں ہیں. ہمیں اپنے شوز، اپنے میڈیا اور اپنی سوچ میں توازن پیدا کرنے کی شدید ضرورت ہے. مرد کو حقیر یا "خاک" سمجھنے کے بجائے اس کی ان کٹھن کوششوں کا اعتراف کیجیے جو وہ روزانہ خاموشی سے اپنوں کی خاطر کرتا ہے۔ سستی شہرت کے لیے رشتوں کا تماشہ بنانا بند ہونا چاہیے۔ #GenderDynamics #CriticalThinking
2
5
29
5,687