𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
*جب ہنری فورڈ نے ایک بار کہا شہر کا سب سے سستا ہوٹل کہاں ہے؟لوگ حیران رہ گئے۔*
وہ ابھی انگلینڈ پہنچے ہی تھے — پہلے سے ارب پتی، پہلے سے دنیا کے مشہور ترین افراد میں شامل۔
لیکن عیش و عشرت کا مطالبہ کرنے کے بجائے وہ سکون سے ایئرپورٹ کے انفارمیشن ڈیسک پر گئے اور پوچھا:
"سب سے سستا رہنے کا انتظام کہاں مل سکتا ہے؟"
کلرک کچھ لمحے رکا۔
پرانا کوٹ، عام سا سوٹ کیس، دھیمی آواز۔
پھر اچانک اسے احساس ہوا — یہ ہنری فورڈ ہیں!
وہی ہنری فورڈ، جو ہر اخبار کی سرخیوں میں تھے۔
کلرک نے حیرانی سے کہا:
"سر… کیا آپ ہی مسٹر فورڈ ہیں؟"
فورڈ نے مسکرا کر سر ہلایا:
"ہاں، میں ہی ہوں۔"
کلرک اب بھی حیران تھا:
"آپ کا بیٹا تو ہمیشہ بہترین ہوٹلوں میں ٹھہرتا ہے، سب سے قیمتی سوٹ پہنتا ہے۔
اور آپ…؟
آپ یہاں سب سے سستا کمرہ پوچھ رہے ہیں، ایک ایسا کوٹ پہنے ہوئے جو آپ سے بھی پرانا لگتا ہے۔ کیوں؟"
فورڈ نے نرمی سے مسکرا کر کہا:
"کیونکہ مجھے صرف سونے کی جگہ چاہیے۔
میں جہاں بھی رہوں… میں ہنری فورڈ ہی رہوں گا۔
اور یہ کوٹ میرے والد کا ہے، یہ مجھے گرم رکھتا ہے۔
میرے لیے یہ کافی ہے۔"
پھر آہستہ سے بولے:
"میرا بیٹا اب بھی اس بات کی فکر کرتا ہے کہ لوگ کیا سوچیں گے۔
لیکن میں نے دوسروں کی منظوری کے لیے جینا چھوڑ دیا ہے۔
میں خرچ کر کے نہیں امیر ہوا،
میں یہ سمجھ کر امیر ہوا کہ اصل اہمیت کس چیز کی ہے اور کس کی نہیں۔"
ایک خاموش سبق، عاجزی میں لپٹا ہوا:
اصل دولت اس میں نہیں کہ آپ کیا دکھاتے ہیں —
اصل دولت اس میں ہے کہ آپ کیا سمجھتے ہیں۔
آپ آپ کے ہوٹل، آپ کے کوٹ یا آپ کے بینک بیلنس نہیں ہیں۔
آپ وہ ہیں جو آپ ہیں — چاہے آپ کہیں بھی ہوں۔
منقول
─────••●◎●••─────
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
اس ویڈیو کلپ کو سننے کے بعد میرا سب سے سوال ہے کہ مرد اگر خاک ہے تو یہ سوچ کہاں سے اتری ہے؟
اگر مرد کو "خاک برابر" ہی سمجھنا ہے، تو یہ باتیں کرنے والی خود کون سی عرش سے اتری ہوئی مخلوق ہیں؟ یہ بھی تو اسی مرد کے وجود اور نطفے سے پیدا ہونے والی مخلوق ہیں
آج کل ڈیجیٹل میڈیا اور خصوصاً پوڈکاسٹس کی دنیا کو دیکھا جائے تو یوں لگتا ہے جیسے معاشرتی اصلاح کا پردہ اوڑھ کر خاندانی نظام اور باہمی رشتوں کی جڑوں پر کلہاڑی چلائی جا رہی ہے. گزشتہ دنوں عدنان فیصل کے پوڈکاسٹ کا ایک کلپ نظر سے گزرا جس کا عنوان تھا "سرے مرد خاک برابر". شو میں بیٹھ کر جس ہلکے پھلکے انداز میں مردوں کے وجود، ان کی محنت اور ان کے کردار کی تضحیک کی گئی, اس نے مجھے یہ تحریر لکھنے پر مجبور کر دیا۔
جب میں اس طرح کی گفتگو سنتا ہوں تو دل میں چند تلخ لیکن انتہائی سنجیدہ سوالات جنم لیتے ہیں: کیا مرد کوئی کھلونہ یا مشین ہے جس کے کوئی جذبات، احسانات یا قربانیاں نہیں؟ کیا اس معاشرے میں تمام تر برداشت اور معصومیت صرف ایک صنف کا حصہ ہے اور مرد سراپا ظالم یا بے حس ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر مرد کو "خاک برابر" ہی سمجھنا ہے، تو یہ باتیں کرنے والی خود کون سی عرش سے اتری ہوئی مخلوق ہیں؟ یہ بھی تو اسی مرد کے وجود اور نطفے سے پیدا ہونے والی مخلوق ہیں!
ہمارے میڈیا اور نام نہاد دیسی لبرل حلقوں میں یہ یکطرفہ بیانیہ بڑی چالاکی سے بیچنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ صرف عورت ہی سارا بوجھ اٹھاتی ہے اور وہی قربانی دیتی ہے. میں عورت کے احترام اور اس کی قربانیوں کا منکر نہیں، لیکن کیا مرد کی قربانیوں کو یوں لمحوں میں نفی کر دینا انصاف ہے؟ صبح کے دھندلکے سے لے کر رات کے اندھیرے تک، کڑی دھوپ، گرمی اور سخت حالات میں اپنے بچوں کی روٹی اور ان کی مسکراہٹ کی خاطر پسینہ بہانے والا مرد کیا انسان نہیں؟ گھر کے باہر سو طرح کے لوگوں کی تلخ باتیں، دفتری یا کاروباری دباؤ، اور معاشرتی رویوں کو خاموشی سے جھیل کر جب وہ گھر لوٹتا ہے، تو کیا اس کی اس برداشت کا کوئی وجود نہیں؟
افسوس کی بات یہ ہے کہ دن بھر کی تھکن اور باہر کا ذہنی دباؤ سمیٹ کر جب ایک مرد گھر آتا ہے اور کوئی چھوٹی سی بات بھی کر دے، تو آگے سے احترام اور ہمدردی کے بجائے طعنوں اور دس باتوں کا طوفان کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ پھر بھی وہی مرد چپ چاپ سب سہہ کر اگلے دن دوبارہ اسی جدوجہد میں نکل پڑتا ہے۔ کیا یہ برداشت نہیں؟
پوڈکاسٹس کے ان مائیکروفونز کے سامنے بیٹھ کر آج کی نوجوان نسل سے مخاطب ہونا اور ان کے ذہنوں میں ایک دوسرے کے خلاف زہر گھولنا کون سی تربیت ہے؟ کیا لبرل ازم یہی ہے کہ اپنے ہی گھر، اپنے ہی باپ، بھائی اور شوہر کے وجود کی تضحیک کی جائے؟ سستی شہرت، کلکس اور ویوز کی اس اندھی دوڑ میں ہمارے میڈیا پلیٹ فارمز نے معاشرے کو جوڑنے کے بجائے توڑنے کا ٹھیکا لے رکھا ہے. اس قسم کی یکطرفہ، غیر متوازن اور منفی گفتگو سے کوئی اصلاح نہیں ہو رہی، بلکہ نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے درمیان خلیج، نفرت اور غلط فہمیاں بڑھ رہی ہیں.
کوئی بھی گھرانہ یا رشتہ کسی ایک کی برتری یا کسی دوسرے کی تضحیک سے نہیں چلتا. خاندانی نظام ایک گاڑی کے دو پہیوں کی مانند ہے جہاں مرد اور عورت کا اپنا اپنا مقام، اپنی ذمہ داریاں اور اپنی قربانیاں ہیں. ہمیں اپنے شوز، اپنے میڈیا اور اپنی سوچ میں توازن پیدا کرنے کی شدید ضرورت ہے. مرد کو حقیر یا "خاک" سمجھنے کے بجائے اس کی ان کٹھن کوششوں کا اعتراف کیجیے جو وہ روزانہ خاموشی سے اپنوں کی خاطر کرتا ہے۔ سستی شہرت کے لیے رشتوں کا تماشہ بنانا بند ہونا چاہیے۔
#GenderDynamics #CriticalThinking
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
ایک بار ایک انٹرویو میں نصیر الدین شاہ نے کہا تھا کہ امیتابھ بچن کا معیاری سنیما میں کوئی خاص کردار نہیں ہے کیونکہ وہ خالصتاً کمرشل اداکار ہیں۔
اس کے بعد ایک صحافی نے امیتابھ بچن کو اس بیان کے بارے میں بتایا اور ان کا ردعمل چاہا۔
بچن نے کہا، "جب نصیر الدین شاہ جیسا بین الاقوامی سطح پر مانا ہوا اداکار کوئی بات کہے تو انسان کو ردعمل دینے کے بجائے اپنے اندر جھانکنا چاہیے۔"
کچھ عرصہ پہلے، ایک صحافی نے دلیپ کمار کو بتایا کہ راج کپور نے ان کے بارے میں کوئی بیان دیا ہے اور پوچھا کہ دلیپ کمار اس پر کیا کہنا چاہیں گے۔
دلیپ کمار نے کہا کہ راج ان کے بہت عزیز دوست ہیں اور وہ دلیپ کمار کے بارے میں کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔
ایک بار کسی نے گلزار صاحب سے ان کے پانچ پسندیدہ نغمہ نگاروں کے نام پوچھے تو گلزار صاحب نے پانچ نغمہ نگاروں کے نام لیے اور ان میں جاوید اختر کا نام شامل نہیں تھا۔
اس کے بعد کیا ہوا؟ ایک صحافی نے جاوید اختر کو یہ بات بتائی اور ان کا ردعمل پوچھا۔
جاوید اختر نے کہا، "اس معاملے میں میں صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ گلزار صاحب کی فہرست میں جگہ بنانے کے لیے مجھے ابھی اور محنت کرنے کی ضرورت ہے۔"
بولنا اور ردعمل دینا لازمی ہے، لیکن ضبط اور شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔
برداشت اسی کا نام ہے۔
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
میں نے یہ ویڈیو دیکھی اور سچ کہوں تو ڈاکٹر دعا اظہر کی باتیں سن کر میرے ہوش اڑ گئے۔ وہ بتا رہی ہیں کہ بل گیٹس اور پاکستان کے وزیراعظم کی اقوام متحدہ میں جو ملاقات ہوئی ہے، اس کا اصل مقصد پاکستان میں زراعت اور بیجوں کے نظام پر قبضہ کرنا ہے۔ وہ کہہ رہی ہیں کہ ہمارے دیسی بیجوں کی بجائے زبردستی جینیاتی طور پر تبدیل شدہ یعنی جی ایم او (GMO) بیج لائے جا رہے ہیں، جنہیں اگانے کے لیے ایک خطرناک کیمیکل گلائفوسیٹ کی ضرورت پڑتی ہے جو کہ کینسر کی بہت بڑی وجہ ہے اور سبزیوں یا پھلوں کو دھونے سے بھی نہیں نکلتا۔
ویڈیو میں یہ بات سن کر واقعی ڈر لگتا ہے کہ ان بیجوں سے پیدا ہونے والے پھل اور سبزیاں سیڈلیس یعنی بغیر بیج کے ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے کسان خود اگلی فصل کے لیے بیج محفوظ نہیں کر پائیں گے۔ انہیں ہر بار یہ مہنگے بیج باہر کی کمپنیوں سے ہی خریدنے پڑیں گے، اور سارا کنٹرول انہی کے ہاتھ میں ہوگا۔ دعا اظہر یہ بھی پوچھ رہی ہیں کہ اگر یہ سب اتنا ہی اچھا ہے تو سعودی عرب اور یورپ نے اس پر پابندی کیوں لگائی ہے؟ ان کا یہ کہنا بالکل خوفناک ہے کہ اگر ہم ان جی ایم او بیجوں کے عادی ہو گئے اور کل کو کسی جنگ یا اختلاف کی وجہ سے ہمیں بیج دینے سے انکار کر دیا گیا، تو صرف چھ مہینے میں ہمارے ملک میں قحط آ سکتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے وہ یہ مشورہ دے رہی ہیں کہ ابھی سے اپنے پاس دیسی بیج محفوظ کرنا شروع کر دو اور جہاں بھی تھوڑی بہت زمین ملے، اپنی سبزی اور گندم خود اگاؤ۔
اس سب کے بعد جب میں نے دیکھا کہ ہمارے شوبز ستارے اس پر کیا ردعمل دے رہے ہیں، تو عمران عباس نے تو ڈاکٹر دعا کا شکریہ ادا کیا ہے کہ انہوں نے اس اہم مسئلے پر آواز اٹھائی، اور ماریہ بی نے بھی ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بل گیٹس کے اس گیم کو سمجھنے کے لیے واقعی عقل کی ضرورت ہے۔
اور جب میں نے تحقیق کی اور مختلف آرٹیکل پڑھے تو یہ بات سامنے آئی کہ گلائفوسیٹ (Glyphosate) کے استعمال اور جی ایم او بیجوں کے حوالے سے دنیا بھر میں پہلے ہی کافی بحث اور مخالفت موجود ہے۔ بہت سی سائنسی رپورٹس میں اس کیمیکل کو صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ کسانوں کے حقوق اور بڑی کارپوریشنز کے اجارہ دارانہ معاہدوں (جیسے کہ بیجوں کاپی رائٹ اور بار بار خریدنے کی پابندی) پر بھی بین الاقوامی سطح پر تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو فوڈ سیکیورٹی اور خود انحصاری کے حوالے سے اٹھائے جانے والے یہ خدکات مکمل طور پر بے بنیاد نہیں ہیں۔
#BillGates #GMOSeeds
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
You’re building your future… but are you taking care of the mind running it?
Your brain powers every thought decision and action.
It’s the engine behind everything you do.
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
تین فاتح، ایک ہی انجام
دوسری جنگ عظیم نے 7 کروڑ لاشیں چھوڑیں
اس جنگ کے بعد دنیا کا نقشہ 3 آدمیوں نے بنایا تھا
واشنگٹن میں روزویلٹ، لندن میں چرچل اور ماسکو میں سٹالن۔ دنیا انہیں "بگ تھری" کہتی تھی
جن 3 ہاتھوں نے دنیا بانٹی، ان کا خاتمہ ایک ہی ہتھیار سے ہوا
1👈
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
ایک دن فیملی کورٹ میں جا کر بیٹھو۔ پھر شادی کی حقیقت تمہیں سمجھ آئے گی۔
بس ایک دن۔
پچھلی قطار میں جا کر بیٹھو اور دیکھو کہ جب رشتے میں دراڑ آتی ہے اور کاغذی کارروائی شروع ہوتی ہے تو کیا ہوتا ہے۔
تمہیں وہاں ایک بھی عورت محبت واپس مانگتی ہوئی نظر نہیں آئے گی نہ بچوں کا سوچتی ہوئی نظر آئے گی۔
تم ایک بھی عورت کو یہ کہتے نہیں سنو گے مجھے میرا شوہر واپس چاہیے، مجھے میرا خاندان واپس چاہیے ہم اپنا رشتہ ٹھیک کر لیں گے۔
وہاں خرچوں کی بات ہو رہی ہوگی۔
ایک ایک خرچہ گنا جا رہا ہوگا۔
بچوں کا ماہانہ خرچہ
نان نفقہ
فیس اور سکول کے اخراجات
’میڈیکل اور دوسرے اخراجات
ماہانہ کتنی رقم
پچھلے بقایاجات
سب کچھ مرد ادا کرے پھر بھی اس سے الگ رہنا ہے۔
اور پھر اسی عدالت کے دوسرے کونے میں بیٹھے ان مردوں کو دیکھو۔
ٹوٹے ہوئے۔ خاموش۔ ہاتھ کانپ رہے ہیں۔ آنکھیں خالی۔ پھر بھی محبت میں۔ پھر بھی یہ سمجھنے کی کوشش میں کہ جس عورت کے گرد اس نے اپنی پوری زندگی کھڑی کی، جس کے لیے وہ اپنی آخری سانس تک دینے کو تیار تھا وہ آج ایک وکیل کے ساتھ بیٹھی اس کی زندگی کا حساب ایسے لگا رہی ہے جیسے کوئی کاروباری لین دین ہو۔
یہ منظر تمہیں ہمیشہ کے لیے بدل دے گا۔
کیونکہ اسی کمرے میں تم شادی کے بارے میں وہ سب سے تلخ حقیقت سیکھتے ہو جو جوانی میں کوئی تمہیں نہیں بتاتا۔
مرد محبت کرتے ہیں۔
عورتیں حساب لگاتی ہیں۔
محبت میں ڈوبا مرد سب کچھ کھو دے گا اور پھر بھی اسی کی فکر کرے گا۔
نفرت میں بیٹھی عورت سب کچھ لے لے گی اور پھر بھی خود کو مظلوم بنائے گی۔
ایک مرد وہاں بیٹھ کر اپنا گھر، اپنی جمع پونجی، اپنے بچے، اپنا سکون سب کھو دے گا، اور اس کے دماغ میں پھر بھی یہی چل رہا ہوگا کہ میں تو اس سے محبت کرتا تھا، ہم یہاں تک کیسے پہنچ گئے؟‘
ایک عورت وہاں بیٹھ کر گھر لے گی، جمع پونجی لے گی، بچے لے گی، اس کا مستقبل لے گی، اور اس کے ذہن میں یہی ہوگا کہ میں اس سے زیادہ کی حقدار ہوں۔
شادی زندگی کا وہ فیصلہ ہے جو زندگی کے ہر چیز سے زیادہ سوچ سمجھ اور دیکھ بھال کی متقاضی ہے۔ یہ آپ کی تعلیم، کریئر اور صحت سے بھی زیادہ اہم ہے۔
تم صرف ایک پارٹنر کا انتخاب نہیں کر رہے۔ تم یہ فیصلہ کر رہے ہو کہ کس کو تمہاری توانائی، تمہارے مقصد، تمہاری محنت، تمہارے پسینے اور آنسوؤں تک رسائی ملے گی۔ تم یہ فیصلہ کر رہے ہو کہ کس کے ہاتھ میں یہ طاقت ہوگی کہ دس سال میں بنائی ہوئی تمہاری ہر چیز کو دس منٹ میں ایک ایسے جج کے سامنے ختم کروا دے جو تمہیں نہیں جانتا، تمہاری محبت کی کہانی سے اسے کوئی سروکار نہیں اسے صرف کاغذات سے مطلب ہے۔
غلط رشتہ صرف تمہارا دل نہیں توڑتا۔
یہ تم سے تمہارا سکون چھین لے گا یہاں تک کہ رات کو نیند نہیں آئے گی۔
یہ تمہارا وقت لے لے گا یہاں تک کہ دوبارہ زندگی بنانے میں سال گزر جائیں گے۔
یہ تمہاری مالی حالت تباہ کر دے گا یہاں تک کہ تمہیں دوبارہ صفر سے شروع کرنا پڑے گا۔
یہ تمہارا مستقبل لے لے گا یہاں تک کہ جس آدمی کے روپ میں تمہیں آگے چل کر بننا تھا وہ بن ہی نہیں پائے گا۔
ایک غلط عورت یہ سب کر سکتی ہے۔
ایک غلط فیصلہ سب کچھ مٹا سکتا ہے۔
اس لیے انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرو۔ اپنی آنکھوں سے نہیں۔ ہوس میں نہیں۔ تنہائی میں نہیں۔
سمجھداری سے انتخاب کرو۔ مستقبل کو سامنے رکھ کر انتخاب کرو۔ ایسے انتخاب کرو جیسے تمہارا سکون، تمہارا وقت، تمہارا پیسہ اور تمہاری آنے والی نسلوں کی میراث داؤ پر لگی ہو۔
فیملی کورٹ ایک دن میں تمہیں وہ سکھا دے گا جو دس سال کا رشتہ بھی نہیں سکھا سکتا۔
مرد محبت میں پڑتے ہیں اور آخر تک محبت میں رہتے ہیں۔
عورتیں اپنی انٹرسٹ سے محبت کرتی ہیں اور تم یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھو گے۔
علی قیصرانی
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
معزز ٹیکس گزار! اپنے ٹیکس کی ادائیگی میں قانونی طریقے سے بچت کریں
قانون آپ کو کئی سہولتیں دیتا ہے جن سے آپ کا ٹیکس کم ہو سکتا ہے:
پنشن اسکیم میں بچت
رضاکارانہ پنشن اسکیم (VPS) میں رقم جمع کروائیں تو ٹیکس کریڈٹ ملتا ہے۔ اپنی قابلِ ٹیکس آمدنی کے 20 فیصد تک کی رقم پر یہ فائدہ ملتا ہے۔ یعنی مستقبل کی بچت بھی اور آج ٹیکس میں کمی بھی۔
(سیکشن 63، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے مطابق)
بچوں کی ٹیوشن فیس
اگر آپ کی سالانہ قابلِ ٹیکس آمدنی 15 لاکھ روپے سے کم ہے تو بچوں کی ٹیوشن فیس کا 5 فیصد آپ کی آمدنی سے منہا ہو گا، ہر بچے کے لیے زیادہ سے زیادہ 60 ہزار روپے تک۔ یہ سہولت والدین میں سے فیس ادا کرنے والے کسی ایک کو ملے گی۔
(سیکشن 60D، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے مطابق)
گھر کے لیے قرض
اگر آپ نے بینک یا کسی مالیاتی ادارے سے قرض لے کر اپنا گھر خریدا یا بنایا ہے تو اس قرض پر ادا کیے گئے منافع پر ٹیکس کریڈٹ ملتا ہے۔ یہ سہولت ایک ذاتی گھر (2500 مربع فٹ رقبے تک) یا ایک فلیٹ (2000 مربع فٹ تک) کے لیے ہے، اور ایک بار حاصل کرنے کے بعد اگلے 15 سال تک کسی دوسرے گھر یا فلیٹ پر یہ سہولت نہیں ملے گی۔
(سیکشن 63A، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے مطابق)
خیرات اور عطیات
منظور شدہ فلاحی اداروں، سرکاری اسپتالوں، اسکولوں یا یونیورسٹیوں کو دیے گئے عطیات پر ٹیکس کریڈٹ ملتا ہے، بشرطیکہ نقد عطیہ کراسڈ چیک کے ذریعے دیا گیا ہو۔
(سیکشن 61، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے مطابق)
زکوٰۃ
زکوٰۃ و عشر آرڈیننس 1980 کے تحت ادا کی گئی زکوٰۃ آپ کی قابلِ ٹیکس آمدنی سے منہا ہو جاتی ہے۔
(سیکشن 60، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے مطابق)
میڈیکل الاؤنس
اگر آپ کا ادارہ مفت علاج یا علاج کے اخراجات کی واپسی کی سہولت نہیں دیتا تو بنیادی تنخواہ کے 10 فیصد تک میڈیکل الاؤنس ٹیکس سے مستثنیٰ ہے۔
(دوسرا شیڈول، حصہ اول، شق (139)(b)، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے مطابق)
سب سے اہم بات:
پنشن اسکیم اور عطیات کی رسیدیں اپنے ادارے کو دیں تاکہ ہر مہینے تنخواہ سے کم ٹیکس کٹے۔ باقی سہولیات کا دعویٰ انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرتے وقت کریں۔
(سیکشن 149، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے مطابق)
ان ٹیکس سہولیات سے فائدہ اٹھائیں اور اپنا انکم ٹیکس گوشوارہ جلد از جلد جمع کروائیں۔
نوٹ: مذکورہ بالا تمام سہولیات کا حصول متعلقہ سیکشنز میں درج شرائط اور حدود سے مشروط ہے۔ (شرائط لاگو ہیں)
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
پرانی بات ہے ایک کمزور سے لڑکے کو کچھ عجیب ہذیان زدہ دورہ پڑا
اُس کی ماں اسے کیا قابو کرتی ہم چار لڑکوں سے وہ کنٹرول نہیں ہو رہا تھا
لگتا تھا جیسے کوئی جناتی قوت اُس میں آگئی ہو
وہ ہمارے قابو میں ہی نہیں آرہا تھا
کچھ دیر میں جب دورہ کچھ کم ہوا تو وہ پرسکون ہوتا چلا گیا
1👈
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
ایک شخص اپنی بیوی پر بدکاری کا الزام لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا۔
اس کے پاس چار گواہ نہیں تھے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’ثبوت پیش کرو، ورنہ تم پر حد ہوگی۔‘‘
وہ شخص حیران ہوا اور عرض کیا:
’’یا رسول اللہ ﷺ! اگر ہم میں سے کوئی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھ لے تو کیا وہ چار گواہ تلاش کرنے چلا جائے؟‘‘
رسول اللہ ﷺ نے پھر فرمایا:
’’ثبوت پیش کرو، ورنہ تم پر حد ہوگی۔‘‘
یہ شخص حضرت ہلال بن اُمیہؓ تھے، اور انہوں نے اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ بدکاری کا الزام لگایا تھا۔
پھر ہلالؓ نے کہا:
’’اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، میں سچ کہہ رہا ہوں۔ اللہ ضرور ایسی وحی نازل فرمائے گا جو مجھے اس سزا سے بچا دے گی۔‘‘
چنانچہ حضرت جبرئیلؑ وحی لے کر آئے اور سورۂ نور کی آیات 6 تا 9 نازل ہوئیں۔
یہی وہ آیات ہیں جن میں لعان کا طریقہ بیان کیا گیا:
شوہر چار مرتبہ اللہ کی قسم کھائے کہ وہ سچا ہے، اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اگر وہ جھوٹا ہے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔
اور بیوی کو بھی اپنا دفاع کرنے کا حق دیا گیا:
وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھائے کہ شوہر جھوٹا ہے، اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اگر شوہر سچا ہے تو اس پر اللہ کا غضب ہو۔
ذرا رک کر اس واقعے کو دیکھیں۔
شوہر تھا، مگر اس کا دعویٰ خود بخود ثبوت نہیں بن گیا۔
غصہ ثبوت نہیں۔
شک ثبوت نہیں۔
بدگمانی ثبوت نہیں۔
اور محض الزام کسی عورت کو مجرم نہیں بنا دیتا۔
اسلام نے یہاں ایک انتہائی سخت راستہ رکھا۔
لعان۔
یعنی معاملہ لوگوں کی افواہوں کے حوالے نہیں کیا گیا، بلکہ دونوں فریقوں کو اللہ کو گواہ بنا کر قسمیں کھانے کے مرحلے تک پہنچایا گیا۔
رسول اللہ ﷺ نے دونوں کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ:
’’اللہ جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے ایک جھوٹا ہے، کیا تم میں سے کوئی توبہ کرنا چاہتا ہے؟‘‘
پانچویں قسم کے وقت عورت کچھ دیر جھجکی۔
لوگوں نے اسے متنبہ کیا کہ یہ بہت سنگین قسم ہے۔
پھر اس نے اپنی قسم پوری کی۔
اور اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے دونوں کے درمیان جدائی کرا دی۔ صحیح بخاری میں اس جدائی کا واضح ذکر موجود ہے۔
یہاں اسلام کا ایک انتہائی گہرا اصول سامنے آتا ہے:
ازدواجی تعلق کسی انسان کو دوسرے کی عزت پامال کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔
اگر الزام ہے تو ثبوت چاہیے۔
اگر چار گواہ نہیں تو شوہر کے لیے بھی معاملہ محض دعوے پر ختم نہیں ہوتا۔
اور عورت کو بھی صرف الزام کی بنیاد پر مجرم قرار نہیں دیا جاتا۔
آج کے زمانے میں اس سبق کی اہمیت شاید پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
ایک جھوٹا میسج،
ایک ایڈٹ شدہ تصویر،
ایک بے بنیاد پوسٹ،
ایک افواہ،
اور کسی انسان کی برسوں کی عزت چند گھنٹوں میں تباہ ہو سکتی ہے۔
اس لیے کسی کی پاک دامنی، کردار یا عزت کے بارے میں زبان کھولنے سے پہلے رک جائیں۔
کیا آپ کے پاس حقیقت ہے، یا صرف گمان؟
کیونکہ دنیا کے سامنے انسان اپنی بات منوا سکتا ہے۔
اپنے خاندان کو دھوکا دے سکتا ہے۔
لوگوں کو قائل کر سکتا ہے۔
مگر اللہ کو نہیں۔
لعان کا سب سے بڑا سبق شاید یہی ہے:
کسی انسان کی عزت کے بارے میں ایسا لفظ نہ کہو جس کا جواب تمہیں ایک دن اللہ کے سامنے دینا پڑے۔
ماخذ: سورۂ نور، 24:6–9؛ صحیح بخاری، 4747، 5313، 5314۔
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
اگر آپ نے جلدی بوڑھا ہونا ہے، چہرے پر جھریاں لانی ہیں، اپنے دل گردے جگر پتے کو جلدی ختم کرنا ہے تو ایک کام کیجئے۔ جتنا ہوسکے میٹھی چیزیں کھائیں۔ چینی کھائیں۔ گڑ کھائیں۔ (جعلی) شہد کھائیں۔ آئیس کریم اور کیک کھائیں۔ فریش جوس پیں۔ پیپسی سے لطف اندوز ہوں۔ حلوہ کھائیں۔ کھیر چخیں۔ جلیبیاں نوش جان فرمائیں۔ آپ جلد اپنا ہدف حاصل کر لیں گے۔ اور آسانی سے پندرہ بیس سال آگے چلے جائیں گے۔
دنیا کی مشہور گلوکوز ماہر sugar expert، فرانسیسی بائیو کیمسٹ جیسی انچاوسپے Jessie Inchauspé کی گفتگو کا خلاصہ
یقین کریں مجھے اس کا کوئی اندازہ نہيں تھا کہ میٹھا اتنا تباہ کن ہے۔
😢😢😢😢😢
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
اپنی بیٹی کو یہ 6 باتیں آج ہی بتا دیں ....
دنیا باہر اس کا امتحان لے گی۔
اور اس امتحان میں رزلٹ نہیں، عزت اور زندگی کا سوال ہو گا۔
صرف محبت کافی نہیں ہے۔
انہیں عملی طور پر یہ 6 اصول سکھانا ہوں گے 👇
**1. رات کسی کے گھر نہ رکیں**
"پارٹی ہے، گھر ہی سو جاتے ہیں"
نہیں۔
اپنی بیٹی کا گھر ہی اس کی سب سے محفوظ جگہ ہے۔
**2. انجان کے ساتھ گاڑی میں نہ بیٹھیں**
چاہے وہ کتنا ہی "اچھا" کیوں نہ لگے۔
چاہے وہ دوست کا دوست ہی کیوں نہ ہو۔
Rule سیدھا ہے:
جانتے نہیں = ساتھ نہیں۔
**3. اپنا گلاس نظر سے اوجھل نہ ہونے دیں**
اگر پانی کا گلاس، جوس یا کافی چھوڑ کر اٹھیں...
واپس آ کر نیا لیں۔
چھوڑا ہوا کبھی دوبارہ نہ پئیں۔
**4. مردوں سے تحفے ہوشیاری سے لیں**
ہر مفت چیز مہنگی پڑتی ہے۔
تحفہ، مدد، تعریف... ہر چیز کے پیچھے نیت دیکھیں۔
"Carelessly" قبول کرنا سب سے بڑی غلطی ہے۔
**5. ہر کمزور شخص مدد کا مستحق نہیں**
کچھ لوگ "بیچارہ" بن کر قریب آتے ہیں۔
ہمدردی اچھی ہے، لیکن اندھا اعتماد خطرناک ہے۔
پہلے سوچیں، پھر مدد کریں۔
**6. برے لوگوں کے حلقے میں شامل نہ ہوں**
اگر آپ کی دوست غلط سنگت میں ہے...
تو اسے بچانے کے چکر میں خود نہ ڈوب جائیں۔
Circle بدلنا پڑے تو بدل لیں۔ عزت پہلے ہے۔
---
بیٹیاں کمزور نہیں ہوتیں۔
بس انہیں دنیا کے اصول پہلے سے بتا دیں۔
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
شادی شدہ لوگ ذرا یہ ضرور پڑھیں۔ ❤️ گھر ::: ایک جنت
✍️
ایک خاتون مصنفہ ویلنسیا لکھتی ہیں کل رات میرے شوہر سے کچن میں ایک گلاس گر گیا اور وہ ٹوٹ گیا۔
مجھے زور سے آواز آئی، مگر میں نے دیکھا نہیں کہ کیا ہوا۔ انہوں نے صفائی کی، جھاڑو دیا، ٹوٹے ہوئے شیشے سمیٹے اور اطمینان کر کے سو گئے۔
رات کو جب میری آنکھ کھلی تو میں کسی کام سے کچن میں گئی۔
وہاں مجھے فرش پر شیشے کے دو تین ٹکڑے نظر آئے۔
پہلا احساس غصہ تھا۔
دل میں آیا
"اتنی سی بات بھی ٹھیک سے نہیں کر سکتے؟ اگر بچے ننگے پاؤں آ جاتے تو؟"
میں سوچ رہی تھی کہ انہوں نے کتنی لاپرواہی کی ہے، مگر پھر اندر سے ایک سوال آیا
"کیا تم اس کی شریکِ حیات نہیں ہو؟"
میں رک گئی۔
میں نے دوبارہ جھاڑو اٹھایا۔
فرش صاف کیا۔
ہر کونے کو دیکھا کہ کہیں شیشے کا کوئی ٹکڑا باقی نہ رہ گیا ہو۔
اور پھر مجھے ایک بات سمجھ آئی۔
یہی تو شادی ہے۔
شادی میں ہمیشہ یہ نہیں دیکھا جاتا کہ دوسرے نے کیا غلط چھوڑ دیا۔
کبھی یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ اس نے اپنی پوری کوشش کی، لیکن کچھ کمی رہ گئی۔
اور جہاں اس کی کمی ہو، وہاں آپ اس کا ہاتھ پکڑ کر وہ کمی پوری کر دیں۔
وہ ہمیشہ کامل نہیں ہوگا۔
آپ بھی ہمیشہ کامل نہیں ہوں گی۔
کبھی آپ تھک جائیں گی، وہ آپ کا سہارا بنے گا۔
کبھی وہ غلطی کرے گا، آپ اسے سنبھال لیں گی۔
کبھی وہ کوئی کام ادھورا چھوڑ دے گا، آپ اسے مکمل کر دیں گی۔
اور کبھی آپ سے کوئی چیز چھوٹ جائے گی، وہ بغیر شکایت کے اسے ٹھیک کر دے گا۔
سچا شریکِ حیات وہ نہیں جو ہر وقت دوسرے کی غلطیاں گنے۔
سچا شریکِ حیات وہ ہے جو دیکھے کہ کہاں کمی رہ گئی ہے اور خاموشی سے اسے پورا کر دے۔
ہر وقت شکایت کرنے کا وقت نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی شادی میں شکایت نہیں، کمی کو پورا کرنا محبت ہوتا ہے۔ ❤️
کیونکہ گھر میں "میں نے اپنا کام کر دیا، اب باقی تم جانو" والی سوچ رشتوں کو کمزور کرتی ہے۔
مگر یہ سوچ کہ
"جہاں تم سے رہ گیا، وہاں میں سنبھال لوں گا۔"
یہی سوچ گھر کو صرف مکان نہیں بلکہ گھر بناتی ہے۔
شادی دو پرفیکٹ انسانوں کا نام نہیں۔
شادی دو نامکمل انسانوں کا ایک دوسرے کی کمی پوری کرنے کا نام ہے۔
اگر آپ شادی شدہ ہیں تو یہ پوسٹ اپنے شریکِ حیات کو بھیجیں۔ ❤️
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
ڈاکٹر ثمرینہ آپ بھی اس شعبہ سے ہیں ۔پلیز اس کیس کے حوالے سے اپنی رائے دیجیئے ۔ کیا ایسا ممکن ہے جو یہ ڈاکٹر کہہ رہی ہے ؟
@samrinahashmi
🔹 یہ بےرحم لیڈی ڈاکٹر خود بھی ماں ہوگی لیکن کس قدر روانی سے جھوٹ بول رہی ہے ۔
🔹ایک عورت کا حاملہ ہونا نو مہینے کا پراسس ہے ، کئ بار ڈاکٹر لے پاس جانا ہوتا ہے ، الٹرا ساؤنڈ ہوتے ہیں ، دوائیں یا وٹامنز دیئےجاتے ہیں۔
🔹 گیس نو مہینے تک ایک توازن کے ساتھ پیٹ میں نہیں رہتی ۔۔ اگر کوئ مہذب مُلک ہوتا تو اس ڈاکٹر کا لائسنس کینسل ہو جاتا اور جیل میں ہوتی ۔
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
میرا ماموں پیشاب والی جگہ کبھی پیچھے ڈالتا تھا
قوم کی معصوم بیٹی 😭😭
پاکستان میں بڑھتے ہوئے بچوں کے ساتھ Incest کے کیس پر ماریہ بی کا والدین اور قوم کے نام بہترین پیغام
آو سب مل کر اس ناسور سے مل کر مقابلہ کریں اور اس کو پاکستان سے باہر پھینک دیں
xitter.cf/RealMariaButt/status/2…
We have to protect our kids ourselves!!! Crime against children is rising on a daily basis and a lack of accountability and punishment is making it worse. Our society is full of predators... please 🙏 talk to your children, watch over them, Take their phones away and raise awareness about family ra*e and m*lestati*n... May Allah protect our children from this rampant Evil . Ameen
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
اللہ بندے کو سزا کیوں دیتا ہے؟
مجھے اس سوال کا ایسا جواب ملا کہ آج تک مطمئن ہوں
ہمارے ویٹنری ڈپارٹمٹ کے پروفیسر ہوا کرتے تھے ____ میرے اُن سے اچھے مراسم تھے
یہ یو نیورسٹی میں میرا تیسرا سال تھا
ایک دفعہ میں انکے دفتر گیا۔
مجھ سے کہنے لگے: مہرعلی اک مزے کی بات سناؤں تمہیں؟ ؟
جی سر ضرور
پچھلے ہفتے کی بات ہے
میں اپنے دفتر میں بیٹھا تھا
اچانک اک غیر معمولی نمبر سے مجھے کال آئی:
"پندرہ منٹ کے اندر اندر اپنی سراونڈگنز کی کلیئرنس دیں!""________
ٹھیک پندرہ منٹ بعد پانچ بکتر بند گاڑیاں گھوم کے میرے آفس کے اطراف میں آکر رکیں
سول وردی میں ملبوس تقریباً حساس اداروں کے لوگ دفتر میں آئے
ایک آفیسر آگے بڑھا _____
" """'"امریکہ کی سفیر آئی ہیں ____
انکے کتے کو پرابلم ہے اسکا علاج کریں ___""""
تھوڑی دیر بعد اک فرنگی عورت
انکے ساتھ انکا ایک اعلی' نسل کا کتا بھی تھا __
کہنے لگیں ____
میرے کتے کے ساتھ عجیب و غریب مسئلہ ہے
میرا کتا نافرمان ہوگیا ہے ____
اسے میں پاس بلاتی ہوں یہ دور بھاگ جاتا ہے
خدارا کچھ کریے یہ مجھے بہت عزیز ہے اسکی بےاعتنائی مجھ سے سہی نہیں جاتی
میں نے کتے کو غور سے دیکھا ___
پندرہ منٹ جائز لینے کے بعد میں نے کہا
میم!!
یہ کتا ایک رات کے لیے میرے پاس چھوڑ دیں میں اسکا جائزہ لے کے حل کرتا ہوں
اس نے بے دلی سے حامی بھرلی _______
سب چلے گئے ____
میں نے کمدار کو آوز لگائی
فیضو اسے بھینسوں والے باڑے میں باندھ کے آ۔۔۔
سن اسے ہر آدھے گھنٹے بعد چمڑے کے لتر مار۔۔
ہر آدھے گھنٹے بعد صرف پانی ڈالنا ___ جب پانی پی لے تو پھر لتر مار______!!!
کمدار جٹ آدمی تھا۔ ساری رات کتے کے ساتھ لتر ٹریٹ منٹ کرتا رہا ______
صبح میں پورا عملہ لیئے میرے آفس کے باہر
سفیر زلف پریشاں لیئے آفس میں آدھمکی
________Sir what about my pup ?
I said ___Hope your pup has missed you too .....
کمدار کتے کو لے آیا ____
جونہی کتا کمرے کے دروازے میں آیا
چھلانگ لگا کے سفیر کی گود میں آبیٹھا
لگا دم ہلانے منہ چاٹنے ________!!!
کتا مُڑ مڑ تشکر آمیز نگاہوں سے مجھے تکتا رہا _____
میں گردن ہلا ہلا کے مسکراتا رہا_____
سفیر کہنے لگی: سر آپ نے اسکے ساتھ کیا کیا کہ اچانک اسکا یہ حال ہے _____؟؟؟
میں نے کہا:
ریشم و اطلس ، ایئر کنڈیشن روم، اعلی پائے کی خوراک کھا کھا کے یہ خودکو مالک سمجھ بیٹھا تھا اور اپنے مالک کی پہچان بھول گیا ____بس
اسکا یہ خناس اُتارنے کے لیئے اسکو ذرا سائیکولوجیکل + فیزیکل ٹریٹمنٹ کی اشد ضروت تھی ____وہ دیدی۔۔۔ ناؤ ہی از اوکے
Now he is ok
Apart from the humour, Now read the first sentence again to understand the message
اللہ بندے کو سزا کیوں دیتا ہے؟
مجھے اس سوال کا ایسا جواب ملا کہ آج تک مطمئن ہوں
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
اگر آپ کی بھی بیٹیاں ہیں ۔ تو آیت نور کے والد کی آواز بنیں ۔ وہ ہاتھ جوڑ کر کتنے کرب سے کہہ رہا ہے کہ میں غریب ہوں میرا ساتھ دیں ۔ میری بیٹی 14 روز سے لاپتہ ہے ۔ مجھے نیند بھی نہیں آرہی ۔
آپ تمام لوگوں سے اپیل ہے کہ آواز ٹھائیں ۔
#JusticeForAyatNoor
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
“ ناپاک معاشرہ “
راولپنڈی 14 ماہ کے بچے کی لاش کیساتھ بیٹھی ماں،جس کا ریپ ہوا،بچے کو تشدد کرکے مارا گیا. تھانہ چونترہ کی حدود میں سفاک شخص کے ہاتھوں چاقو کے وار سے شدید زخمی ہونے والی خاتون نسیم بی بی ہسپتال میں دم توڑ گئیں__
اگر آپ اس شیطان صفت معاشرے میں رہتے ہوئے ایسے ظلم کو روک سکتے ہیں اور نہیں روک رہے، اس کے کیخلاف بول سکتے ہیں اور بول نہیں رہے، آپ اس برائی اور گناہ کے مذمت بھی نہیں کر رہے تو پھر “کلمہ پڑھ لیں” __ لعنت ہے ایسے معاشرے پہ لعنت ہے ایسی انسانیت پہ لعنت ہے ایسے قانون پہ اور لعنت ہے ایسے انصاف پہ __
جب یہ عزت لٹی ہوئی ماں اپنے ۱۴ ماہ کے بچے کیساتھ اللّہ پاک کے حضور پیش ہوگی تو اللّہ پاک کے جلال اور قہر سے اس پاک سر زمین اور اس میں بسنے والی عالیشان قوم کو اللّہ پاک کے عذاب سے کون بچا سکے گا؟؟؟؟
گزشتہ امتوں کی انتہا سے ڈر نہیں لگتا
یہ کیسے لوگ ہیں جن کو خدا سے ڈر نہیں لگتا
😢💔
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
ڈسٹرکٹ سینٹرل کے علاقے لیاقت آباد پولیس اسٹیشن میں تعینات شاہین فورس کے حرام خوروں نے انکوکھا طریقہ واردات ڈھونڈ نکالا۔
گلیوں میں گھوم کر گلی میں بیٹھے نوجوان نسل کو اپنی دوستی میں پھنسا کر ان کے ہاتھوں میں *سرکاری اسلحہ* تھما دیتے ہیں جن کی خفیہ طور پر وڈیوز بنا لی جاتی ہیں تاکہ ان نوجوان لڑکوں کو بلیک میل کیا جاسکے۔ جعلی مقدمات کا خوف دلا کر ان سے ہزاروں روپے منگوا لئے جاتے ہیں جن سے ان کی جیبیں گرم ہوتی رہتی ہیں۔شاہین فورس کے یہ حرام خور کئی نوجوانوں کو لوٹ چکے ہیں۔ جس سے علاقہ مکینوں میں شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔
ایک طرف شہر کراچی میں اسٹریٹ کرائم عروج پر ہے، لوگ مر رہے ہیں ۔اغوا ہو رہے ہیں ، شہریوں کی نعشیں مل رہیں ،شہریوں کا خون سستا ہو چکا ہے، اور دوسری طرف عوام کے ٹیکسوں پر پلنے والے یہ حرام خور شہریوں کا تحفظ کرنے کے بجائے خود ڈاکو بن کر ان کی جیبوں پر ڈاکے ڈال رہے ہیں۔
آئی جی سندھ سب سے بڑا حرام خور اپنی پریس کانفرنسوں میں "سب اچھا ہے" کا راگ الاپ کر شہریوں کے زخموں پر نمک چھڑکتا ہے !
شہر میں جرائم کا گراف آسمان سے باتیں کر رہا ہے، تھانوں میں بیٹھے حرام خور اہلکار خود ڈکیتی اور بلیک میلنگ ، شارٹ ٹرم کڈنیپنگ ، اغوا برائے تاوان ، منشیات فروشوں کی سرپرستی کا دھندا چلا رہے ہیں، اور اعلیٰ حکام کی بے حسی اور نااہلی کا یہ عالم ہے کہ انہیں کراچی کی سسکیاں نظر ہی نہیں آ رہیں۔

























