Dr. Barjeece Bashir retweeted
یہ شخص ٹیچر عثمان ہے، جس نے اکیلے پچھلے 4 سالوں میں ماحولیاتی آلودگی اور پانی بچانے پر وہ کام کیا ہے، جو ہماری وزارت ماحولیات وسائل کے باوجود نا کرسکی۔
میری حکومت سے گزارش ہے کہ اس شخص کی خدمات پر سول ایوارڈ دیا جائے، ایسے لوگوں کو ضائع نہیں کرنا چاہئے۔
Dr. Barjeece Bashir retweeted
While the U.S. Navy’s Sikorsky MH-60R Seahawk was operating in international waters, 100+ miles away from Pakistan’s territorial waters, a Pakistan Navy ATR aircraft was also airborne, monitoring the activity.
CC @BlackStorks53
Dr. Barjeece Bashir retweeted
Marandi has a foreign policy of his own, he still believes that spreading propaganda against other countries will help the Iranian cause however on the contrary it only damages Iranian position & image globally.
90% of Iran's current problems are due to people like Marandi.
Dr. Barjeece Bashir retweeted
𝐅𝐚𝐜𝐭 𝐂𝐡𝐞𝐜𝐤 | 𝐌𝐢𝐧𝐢𝐬𝐭𝐫𝐲 𝐨𝐟 𝐈𝐧𝐟𝐨𝐫𝐦𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 & 𝐁𝐫𝐨𝐚𝐝𝐜𝐚𝐬𝐭𝐢𝐧𝐠
◼️ Fabricated propaganda by a North America based account and questingly proliferated further, that the US Navy is somehow operating from Pakistani territory against Iran, with alleged Pakistani approval, is baseless and part of wider agenda of sowing confusion, misperceptions and chaos.
◼️ Such social media posts actually deserve no attention by any serious minded observer and need to be categorised and treated as propaganda only.
𝐓𝐫𝐮𝐭𝐡 𝐏𝐫𝐞𝐯𝐚𝐢𝐥𝐬 𝐨𝐯𝐞𝐫 𝐅𝐚𝐥𝐬𝐞𝐡𝐨𝐨𝐝
وزیرستان کاپر منصوبے سے 987,000 ٹن کاپر نکالنے اور 34.5 ارب روپے رائلٹی کا دعویٰ تکنیکی وضاحت کا متقاضی ہے۔
FWO کے مطابق پلانٹ کی یومیہ صلاحیت 1,500 ٹن خام دھات پراسیس کرنے کی ہے، جبکہ کاپر کنسنٹریٹ کی پیداوار تقریباً 15 ٹن روزانہ بتائی جاتی ہے۔ 1/3
پچھلے دو سال سے میں رکن صوبائی اسمبلی کے حثیت سے صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی ماینز اینڈ منرل کا ممبر ہو، اور محکمہ معدنیات پختونخوا کا ریکارڈ ھمارے ساتھ کمیٹی میں ڈسکس کیا جاتا رہا، اور تقریباً یہ سب مندرجہ ذیل باتیں ھمارے ریکارڈ کا حصہ ہیں،
محکمہ معدنیات پختونخوا نے لارج اسکیل لائسنس 4 چار جاری کی ہیں، جس میں ایک لارج اسکیل لائسنس ایف ڈبلیو او کے پاس ہے، وزیرستان میں کاپر کی کان کنی ہورہی ہیں، 2016 میں یہ لاسینس ایف ڈی ایم اے کے پاس تھا جس کیساتھ ایف ڈبلیو او نے جائنٹ وینچر کرکے حاصل کیا ہے، 2017 میں پختونخوا ماینز اینڈ منرل ایکٹ بنا، اب ایک ہی لارج اسکیل لائسنس فنکشنل ہے اور وہ وزیرستان میں کاپر کی ہے ایف ڈبلیو او کے پاس ہے،
اس کا رقبہ 30 مربع کلومیٹر یعنی 7,410 ایکڑ ہے، جو 37 عام لیزوں کے برابر ہے۔ مقامی عوام کو صرف 50 سے 500 ایکڑ دیا جاتا ھے
محکمہ معدنیات کے ریکارڈ کے مطابق وہاں سے 2016 سے 2024 تک 987,000 ٹن کاپر نکالا گیا، جس میں پچھلے دو سال کا ریکارڈ شامل نہیں 2025,26 کا، اسکے باوجود ایف ڈبلیو او نے 10 لاکھ ٹن کاپر اوپن بولی کے ذریعے فروخت اور ایکسپورٹ کیا۔
اب اسکے پراسیسنگ کرکے 25٪ سے لیکر 30 فی صد کاپر تیار کرکے مارکیٹ میں بیچھتے ھیں، اج انٹرنیشنل مارکیٹ میں 25٪ کاپر کا ریٹ 9500 ڈالر جبکہ 30٪ کاپر کا ریٹ 11500 ڈالر فی ٹن ھے،
اب اس کاپر کی مالیت صحافی حامد میر کے بیان کردہ 7 لاکھ روپے فی ٹن نرخ کے حساب کے مطابق اس نکالی گئی کاپر کی مجموعی مالیت تقریباً 6.9 کھرب روپے بنتی ہے۔
اب پختونخوا کی محکمہ معدنیات ایکٹ 2017 کے معدنی قانون کے مطابق 5٪ رائلٹی کے حساب لگا کر تقریباً 34.5 ارب روپے بنتے ہیں، جبکہ محکمہ معدنیات کی ریکارڈ کے مطابق محکمہ معدنیات کو صرف 16.9 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔
جب مجھ سمیت دیگر ممبران اسمبلی احمد کریم کنڈی، ایم پی اے عدنان خان سمیت دیگر سیکٹری معدنیات، ڈی جی معدنیات سے اس حوالے سوال اٹھائے کہ کیوں پورا حساب کتاب نہیں دیا جارہا ہیں، تو بچارے خاموش ہو جاتے اور اکثر کہتے ہیں کہ سر ھم کچھ نہیں کرسکتے۔ یہ سب باتیں کمیٹی ریکارڈ کا حصہ ہیں، اور ھمارے پاس ڈاکومنٹس کی شکل میں بھی موجود ہیں،
بشرط یہ کہ اگر اب اس گورنر راج اور ایمرجنسی کی مارشلائئ دور میں محمکہ معدنیات کی ریکارڈ میں ردوبدل نا کریں۔۔
اب آتے ہیں احتساب کے طرف، کہ سب سے پہلے کس کا؟ جب صوبے کی 4000 زیادہ چھوٹے لیز ہولڈرز کی مجموعی سالانہ آمدن تقریباً 14 ارب روپے تک پہنچ چکا ہیں، تو دوسری طرف صرف ل اس ایک لیز ( وزیرستان کاپر ) کی مبینہ رائلٹی 33 ارب روپے بنتی ہے اور ادائیگی صرف 16.9 کروڑ دیکر باقی رقم نہیں دیتے،تو ائیں سب سے پہلے اس کا شفاف آڈٹ اور احتساب تو کریں۔؟
ہاں میں مانتا ہوں کہ پی ٹی آئی کی ناقص حکمرانی کے ساتھ ھمارا اختلاف تھا اور رہے گا، کیونکہ اسکے دور حکومت میں اقربا پروری، کرپشن سب کچھ ہو رہا تھا، ھم بھی اسکے ساتھ اختلاف رکھتے ہیں،
لیکن ریکارڈ کو دروست رکھنے کیلے یہ لمبی تحریر لکھنا پڑھ رہا ہیں، تاکہ پنجاب کی سول ملٹری اشرافیہ نے جس طرح پچھلے دو دنوں سے عوام کو گمراہ کرنے کی مذموم کوشش شروع کر رکھے ہیں، اسکے آڑ میں پختونخوا کی موجودہ تمام چھوٹے لیز ہولڈرز کی لایسینز مشکوک کرکے ختم کرنے کی سازش ہورہی تاکہ اسے ختم کرکے کمپنی سرکار اپنے لیے لارج اسکیل لائسنس کا اجراء کرکے ھمارے وسائل پر قبضہ جمانے کی کوشش ہورہی ہیں،
اب آتے موجود چھوٹے لائسنس کی اجراء کے بارے میں بات کرکے ہیں،
محمکہ معدنیات پختونخوا نے آن لائن پورٹل 2017 میں رسالپور میں سیکیورٹی ادارے نے محکمہ معدنیات کو تربیت دے کر شفاف آن لائن پورٹل نظام تیار کروایا، جس سے شہری گھر بیٹھے لائسنس کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
2024 میں مائن اونرز ایسوسی ایشن نے میڈیا اور اداروں کو بتایا کہ فیسیں اور کاغذات مکمل ہونے کے باوجود 7000 درخواستوں پر لائسنس جاری نہیں ہوئے۔
اس ایشو کو کمپنی سرکار کی حکم پر نیب نے نوٹس لیا، اور اکتوبر 2024 میں نیب نے مشترکہ پریوینشن کمیٹی کے ذریعے جانچ پڑتال کی اور زیرِ التوا لائسنسوں کا معاملہ فوری حل کرنے پر زور دیا۔
نیب اعلامیے کے بعد محکمہ معدنیات کی اس وقت کی ڈائریکٹر جنید خان نے درخواستوں کی پراسیسنگ شروع کی اور قانونی تقاضے پورے کرنے والوں کو لائسنس جاری کیے۔ اور کمیٹی میں باقاعدہ رپورٹ پیش کیا،
ان 4000 سے زیادہ لیز ہولڈرز میں مختلف سیاسی جماعتوں کے افراد، ریٹائرڈ فوجی افسران اور پاکستان بھر کے شہری شامل ہیں۔ اور یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہیں،
اس حوالے سے ھمارا موقف بڑا واضح ہیں کہ ان لیزوں میں بے ضابطگیاں اور بی قاعدگیاں ہوئیں ہیں تو ان کی تحقیقات ضرور ہونا چاہیے، اور ـــــــ 1/2
اگر 987,000 ٹن خام دھات تھی تو اسے 25–30 فیصد کنسنٹریٹ یا خالص کاپر کی قیمت پر فروخت شدہ ظاہر کرنا غلط ہے۔
اس لیے 6.9 کھرب روپے مالیت اور 34.5 ارب روپے رائلٹی کا حساب ثابت نہیں ہوتا۔ احتساب ضرور کریں، مگر خام دھات، کنسنٹریٹ اور خالص کاپر کا فرق سمجھ کر! 3/3
جرمن رپورٹ: FWO وزیرستان میں روزانہ صرف 15 ٹن کاپر کنسنٹریٹ بناتا ہے۔ پھر 987,000 ٹن کا دعویٰ کیسے؟
Link: gtai.de/de/trade/pakistan/br…
🤣
Replying to @DefenceMinIndia @rajnathsingh
Have you taken permission from Trump?
Anyways Gyanesh Kumar has to resign.
Dr. Barjeece Bashir retweeted
افسوس ہوا۔ آپکی یہ باتیں پڑھ کر۔ میں سمجھتا تھا آپ کبھی تعصب کی بات نہیں کرو گے۔ مگر آپ بھی۔
میں لاہور میں ہو۔ کل ایک زنانہ مارکیٹ میں بیگم کے ساتھ گیا۔ majority پشتون دکانداروں کی تھی۔ میں چونکہ خود اس قوم سے تعلق رکھتا ہوں حیران رہ گیا کہ کوئ تعصب والی بات نہیں۔ میرے کوئٹہ کا ایک دوست یہیں رہائش پذیر ھے۔ اس نے کہا کہ آج تک کسی پنجابی سے کوئ تعصب کی بات نہیں سنی۔
یہ صرف آپ لوگ پشتونوں پر اپنی لیڈری جمانے کیلیئے انہیں دوسرے زبان سے نفرت دلاتے ہیں۔
آپکے تو دادا مرحوم نے بھی پاکستان میں دفنانے سے منع کردیا تھا۔
"ون یونٹ کی خفیہ دستاویز میں چودھری محمد علی نے لکھا : پنجاب؛ سرحد کی بجلی، بلوچستان کے کوئلے و گیس اور سندھ کے وسائل کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اس لئے پاکستان پر حکمرانی پنجاب کی ہونی چاہیے ـ
اگر آپ نے یہ خفیہ دستاویز نہیں پڑھی تو مجھے بتا دیں میں اس کی ایک فوٹو اسٹیٹ کاپی آپ کو بھیج دوں گا ـ پاکستان ٹوٹنے کے باوجود پنجابیوں کی یہ ذہنیت آج بھی برقرار ہے اور وہ ابھی بھی پاکستان کے مامے بننے کی کوشش کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے"
ولی خان کا حنیف رامے کے نام کھلا خط
جولائی 1987 ـ روزنامہ جنگ لاہور۔
Dr. Barjeece Bashir retweeted
چوہدری محمدعلی نے یہ ون یونٹ بنانے کے دلائل میں لکھا تھا ان کے دلائل کے اقتباس کے اصل الفاظ یہ ہیں
سرحد (NWFP) کے بجلی کے وسائل پنجاب کی صنعت کو سہارا دیں گے۔
• بلوچستان اور قبائلی علاقوں کی معدنی دولت سے مجموعی خوشحالی بڑھے گی۔
• سندھ اور بہاولپور کی زرعی زمینوں پر قبائلی آباد کیے جا سکیں گے اور وسائل مشترکہ ہوں گے۔
ایک حوالے میں لکھا ہے: “The electric resources of the Frontier must sustain the industry of the Punjab, the capital accumulation of the Punjab must bring about equalization of prosperity through development in Balochistan and Tribal regions, the resources of Sindh and Bahawalpur must fortify the sturdy warriors in the North.”
یہ پنجاب ان وسائل کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا والے الفاظ کی بےغیرتی تم نے اپنی طرف سے ڈالی ھے گینڈے ۔۔۔
"ون یونٹ کی خفیہ دستاویز میں چودھری محمد علی نے لکھا : پنجاب؛ سرحد کی بجلی، بلوچستان کے کوئلے و گیس اور سندھ کے وسائل کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اس لئے پاکستان پر حکمرانی پنجاب کی ہونی چاہیے ـ
اگر آپ نے یہ خفیہ دستاویز نہیں پڑھی تو مجھے بتا دیں میں اس کی ایک فوٹو اسٹیٹ کاپی آپ کو بھیج دوں گا ـ پاکستان ٹوٹنے کے باوجود پنجابیوں کی یہ ذہنیت آج بھی برقرار ہے اور وہ ابھی بھی پاکستان کے مامے بننے کی کوشش کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے"
ولی خان کا حنیف رامے کے نام کھلا خط
جولائی 1987 ـ روزنامہ جنگ لاہور۔
Dr. Barjeece Bashir retweeted
عوام بے بنیاد افواہوں پر کان نہ دھریں، باڑہ میں صورتحال مکمل قابو میں ہے۔
باڑہ میں کسی پولیس اہلکار کے اغواء کی خبر بے بنیاد ہے۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بدامنی پھیلانے والے تقریباً 50 شرپسند عناصر کو گرفتار کر لیا ہے۔
سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور امن و امان خراب کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
Dr. Barjeece Bashir retweeted
کریم ذات آپ لوگوں کو وہاں خوش و آباد رکھیں۔۔۔ ہمیں اپنے حال پر چھوڑ دیں اور پشتونوں کے ہی مساجد اور علاقوں میں پھٹنے سے توبہ تائب ہوجائے۔۔ یہ ہم پاکستانی پشتونوں پر آپ بھائیوں کا احسان عظیم ہوگا
Dr. Barjeece Bashir retweeted
Not sure who needs to hear this, but using the Palestine cause to justify killing pilgrims at an airport is NOT the morality you think it is.
You don't honour Palestine by killing Muslims on their way to Makkah.
Dr. Barjeece Bashir retweeted
Delhi is once again flooded with people standing up to save democracy.
If Modi thinks taking away Jantar Mantar will put an end to protests, he is mistaken.
Jantar Mantar is not just a location but a spirit of resistance that nobody can ever take away.
Thousands gather to join Opposition leaders march from Barakhamba Road to the Supreme Court in Delhi
LIVE updates: indianexpress.com/article/de…
Dr. Barjeece Bashir retweeted
Waging war against your own countrymen.
You’re showing the country exactly what you are: a fascist dictator, @narendramodi.
Dr. Barjeece Bashir retweeted
Today, Modi denotified Jantar Mantar as a designated protest site.
Tomorrow, he will denotify democracy itself.
The dictator’s problem was never the protest site. It was the very idea of people protesting.





























