abdulrasheed retweeted
مصور نبی کریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ایک " صاع " پانی سے غسل فرما لیتے تھے
ایک " صاع" پانی کتنا ہوتا ہے اس وڈیو میں دیکھیں👇
abdulrasheed retweeted
حضورﷺمیری ساری بہار آپ سے ہے۔۔۔ ❤️🌙
میری روح کا سکون آپ ﷺ کے ذکر سے ہے، میرے دل کا اجالا آپ ﷺ کے نور سے ہے، میری زندگی کی رونق آپ ﷺ کی محبت سے ہے، میری ہر خوشی، ہر دعا، ہر آرزو میرے آقا ﷺ کی نسبت سے ہے۔ 🥹💚
یا رسول اللہ ﷺ! آپ کی محبت ہی میرے دل کی سب سے حسین بہار ہے 😻🌸
abdulrasheed retweeted
Do you want 220+ new Mutuals right now?
Just say HELLO 👋
I will give you a shootout here.✨✨✨✨
abdulrasheed retweeted
Want 30k active followers Shootout?
Say HELLO 👋
The First 100 accounts will get a Boost.🔥🔥
abdulrasheed retweeted
If you need 2k+ followers this Afternoon?
Say " GOOD AFTERNOON ☺️
We will f0ll0w you massively 💯💯🔥
abdulrasheed retweeted
💐السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ💐
🌷🌸🪷جمعہ مبارک🪷🌸🌷
الصلوۃ والسلام علیک یارسول اللہ🌷
الصلوۃ والسلام علیک یاحبیب اللہ🌷
الصلوۃ والسلام علیک یاکریم اللہ🌷
الصلوۃ والسلام علیک یانُور اللہ🌷
الصلوۃ والسلام علیک یاجدالحسن والحسین🌷
الصلوۃ والسلام علیک یا نبی المحتشم🌷
abdulrasheed retweeted
اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(56)
abdulrasheed retweeted
یہ آخر چل کیا رہا ھے؟؟
لاہور کے علاقے ٹاؤن شپ اور لٹن روڈ میں انسانیت سوز واقعہ پیش آیا ہے، جہاں دو نوجوان خواتین، 18 سالہ انمول بی بی اور 20 سالہ آمنہ، پولیس حراست کے دوران مبہم حالات میں جاں بحق ہو گئیں۔ یہ دونوں خواتین آپس میں نند اور بھاوج تھیں، چھوٹے بچوں کی مائیں تھیں، اور انتہائی غربت کے باعث بازاروں میں پنسلیں بیچ کر اپنے خاندان کا پیٹ پالتی تھیں۔
اہل خانہ کے مطابق، دونوں خواتین شام کو گھر واپس نہیں لوٹیں۔ رات بھر تلاش کے بعد لاہور پولیس نے فون کر کے بتایا کہ بچیاں تھانے میں ہیں۔ خاندان ابھی تھانے پہنچا ہی نہیں تھا کہ دوبارہ فون آیا کہ "جناح ہسپتال پہنچیں، آپ کی بچیاں فوت ہو چکی ہیں"۔
پولیس کا کہنا ہے کہ 6 لاکھ مالیت کی سونے کی چین چوری کے الزام میں انہیں حراست میں لیا گیا تھا، لیکن چوری کی ایف آئی آر (FIR) میں ان دونوں لڑکیوں کے نام سرے سے شامل ہی نہیں تھے۔ لواحقین نے سنگین الزام عائد کیا ہے کہ دونوں خواتین کے جسموں پر شدید تشدد کے نشانات موجود تھے، جو پولیس گردی کا واضح ثبوت ہے۔ ظلم کی انتہا یہ کہ ہسپتال سے لے کر تدفین تک، پولیس نے لاشوں کو اپنی کسٹڈی میں رکھا اور سوگوار خاندان کو جنازوں کے پاس جانے یا آخری دیدار تک کی اجازت نہیں دی!
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ تو کہتی تھیں کہ "خواتین میری ریڈ لائن ہیں"۔ آج ایک خاتون وزیراعلیٰ کے ہوتے ہوئے پولیس کی حراست میں غریب خواتین کا اس بے دردی سے استحصال ہو رہا ہے کہ ہر دوسرے دن کوئی نیا واقعہ سننے کو ملتا ہے۔ آخر یہ کیسی "ریڈ لائن" ہے جہاں ماؤں کی چادر اور چار دیواری بھی محفوظ نہیں؟ خدارا اسکا نوٹس لیا جائے۔
غریب ہونا گناہ بن چکا ہے، جہاں شک کی بنیاد پر اٹھا کر جان لے لی جاتی ہے اور پھر طبعیت خرابی کا بہانہ بنا دیا جاتا ہے۔ عوام اس ظلم پر شدید سراپا احتجاج ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ ملوث پولیس اہلکاروں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔۔۔
abdulrasheed retweeted
پاک پتن کی غریب بچیاں ۔۔تھانے صحیح سلامت جاتی ہیں اور پھر ان کی لاشیں ان کو ورثاء ملتی ہیں۔۔ ان کے لیے وہ اواز کیوں نہیں اٹھائی جا رہی جو نور مقدم کے لیے اٹھائی گئی ۔۔۔ان کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کروایا جائے ۔۔۔اخر کیسے دونوں کا اکٹھا دل بند ہو گیا
#JusticeForAminaAndAnmol
تھانہ ٹاؤن شپ لاہور پولیس حراست میں
دونوں لڑکیوں کی موت حرکت قلب بند ہونے کے باعث ھو گئی
جان بحق ہونے والی دونوں لڑکیوں انمول اور آمنہ کو آبائی علاقہ پاکپتن میں سپردخاک کردیا
ہماری بچیاں شام کو واپس نہیں آئیں رات بھی گزر گئی تو لاہور پولیس نے فون کیا کہ آپکی بچیاں یہاں تھانے میں ہیں،
ہم ابھی جا ہی رہے تھے کہ دوبارہ فون آیا کہ آپ جناح اسپتال جائیں آپکی بچیاں فوت ہوگئی
وہاں سے پولیس اپنی کسٹڈی میں جسد خاکی لیکر آئی جب تدفین کر رہے تھے تب بھی ہمیں جنازوں کے پاس نہیں جانے دیا گیا..
یہ ویڈیو ایک ٹی وی چینل نے چلائی ہے جس میں بچیوں کے اہل خانہ کا یہ بیان ہے....
abdulrasheed retweeted
زم زم کا پانی پینے کے قابل نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1971 میں ایک مصری ڈاکٹر نے یورپی پریس کو خط لکھ کر دعویٰ کیا کہ زمزم کا پانی پینے کے قابل نہیں، کیونکہ خانہ کعبہ کا علاقہ سطح سمندر سے نیچا ہے اور شہر کا گندا پانی نالیوں کے ذریعے کنویں میں شامل ہو جاتا ہے۔
یہ خبر جب اخبارات کے ذریعے پھیلی تو مسلمانوں کے دلوں میں بےچینی پیدا ہو گئی۔
یہ بات جب سعودی عرب کے اس وقت کے فرمانروا شاہ فیصل تک پہنچی تو انہیں شدید غصہ آیا۔ ایک مسلمان بادشاہ کے لیے یہ بات ناقابلِ برداشت تھی کہ اسلام کے سب سے مقدس مقام کے پانی پر انگلی اٹھائی جائے۔ چنانچہ شاہ فیصل نے فوری طور پر وزارتِ زراعت و آبی وسائل کو حکم دیا کہ حقیقت جانچی جائے اور زمزم کے پانی کے نمونے یورپ کی معتبر لیبارٹریوں میں بھجوائے جائیں تاکہ سائنسی طور پر اس دعوے کو غلط ثابت کیا جا سکے۔
وزارت نے یہ اہم ذمہ داری جدہ کے پاور اینڈ ڈی سیلینیشن پلانٹس کے سپرد کی، جہاں موئن الدین احمد نامی ایک انجینئر کام کرتے تھے، جن کا کام سمندری پانی کو کیمیائی طریقوں سے پینے کے قابل بنانا تھا۔ انہیں چنا گیا کہ وہ مکہ جا کر خود اس معمے کی تہہ تک پہنچیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود موئن الدین احمد کے مطابق، جب وہ اس سفر پر روانہ ہوئے تو انہیں یہ تک اندازہ نہیں تھا کہ زمزم کا کنواں دیکھنے میں کیسا ہوگا۔
جب وہ خانہ کعبہ پہنچے اور حکام کو اپنے دورے کا مقصد بتایا تو ایک شخص کو ان کی مدد کے لیے مقرر کیا گیا۔ کنویں کے قریب پہنچ کر انہیں حیرت ہوئی، کیونکہ جس کنویں سے صدیوں سے لاکھوں حاجیوں کی پیاس بجھائی جا رہی تھی، وہ دراصل ایک چھوٹے سے تالاب جیسا تھا، بمشکل اٹھارہ فٹ لمبا اور چودہ فٹ چوڑا۔ انہوں نے کنویں کی پیمائش کی اور اس شخص سے کہا کہ گہرائی معلوم کرنے کے لیے پانی میں اترے۔ وہ شخص نہا کر پانی میں اترا اور سیدھا کھڑا ہو گیا، پانی اس کے کندھوں تک آ رہا تھا، جبکہ اس کا قد پانچ فٹ آٹھ انچ تھا۔
اب اصل تلاش شروع ہوئی، وہ شخص کنویں کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک کھڑا کھڑا چلتا رہا (سر پانی میں ڈبونے کی اجازت نہیں تھی) تاکہ کوئی پائپ یا سوراخ ڈھونڈ سکے جہاں سے پانی آ رہا ہو۔ مگر دیر تک تلاش کے باوجود کچھ نہ ملا۔ موئن الدین احمد نے پھر ایک ترکیب سوچی، انہوں نے کنویں پر نصب بڑے پمپ سے تیزی سے پانی نکلوانا شروع کیا تاکہ سطح نیچے آئے اور پانی کے داخلے کی جگہ ظاہر ہو جائے۔ حیرت انگیز طور پر پہلی بار کچھ نظر نہ آیا۔
مگر انجینئر نے ہمت نہ ہاری، انہوں نے دوبارہ یہ عمل دہرایا، اس بار اس شخص کو ہدایت کی کہ ایک جگہ ساکت کھڑا رہے اور غور سے دیکھے کہ کیا ہو رہا ہے۔ کچھ دیر بعد وہ شخص اچانک اپنے ہاتھ اٹھا کر خوشی سے چلایا، الحمدللہ، مل گیا، ریت میرے پاؤں تلے ناچ رہی ہے، پانی زمین کے اندر سے چھن چھن کر ابل رہا ہے۔ پھر وہ کنویں میں گھومتا رہا اور ہر جگہ یہی منظر دیکھنے کو ملا، پانی ہر طرف سے یکساں مقدار میں زمین کی تہہ سے رس رہا تھا، یہی وجہ تھی کہ کنویں کی سطح ہمیشہ ایک ہی رہتی تھی۔
اپنا مشاہدہ مکمل کرنے کے بعد موئن الدین احمد نے پانی کے نمونے یورپی لیبارٹریوں کے لیے اکٹھے کیے۔ خانہ کعبہ سے نکلنے سے پہلے انہوں نے مکہ کے دیگر کنوؤں کے بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ سب کے سب خشک پڑے تھے، صرف زمزم ہی صدیوں سے مسلسل بہہ رہا تھا۔
جب یہ رپورٹ اور یورپی لیبارٹریوں کے نتائج شاہ فیصل کے سامنے پیش ہوئے تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ نتائج نے صاف ظاہر کیا کہ زمزم کا پانی نہ صرف مکمل طور پر پینے کے قابل ہے، بلکہ اس میں کیلشیم اور میگنیشیم کی مقدار عام پانی سے کچھ زیادہ ہے، جو شاید تھکے ہارے حاجیوں کو تازگی بخشنے کی وجہ ہو۔ اس کے علاوہ اس میں فلورائیڈ کی موجودگی بھی پائی گئی جو جراثیم کش خاصیت رکھتا ہے۔ یوں مصری ڈاکٹر کا دعویٰ سراسر غلط ثابت ہوا، اور شاہ فیصل نے یورپی پریس میں اس کی باقاعدہ تردید شائع کروائی۔
(حوالہ: موئن الدین احمد)
abdulrasheed retweeted
Champions #España
#FifaWorldCup




























