Anchor @geonews_urdu , breakfast show host @geopakistantv . RTs are not endorsements. https://xitter.cf/t.co/uUaRbBXfdT

Global
Joined May 2009
Abdullah Sultan retweeted
Finally some hope —-📊 Hope to make this time 🔥🏗️
🔴 Proposal presented today by the Pakistani army chief to senior Iranian officials has received American approval and has already received preliminary agreement from Iran. - Israel's Channel 12 News
1
1
3
590
Abdullah Sultan retweeted
ملتان میں بچے کو مارنے والے سفاک قاتل توقیر کا ویڈیو بیان سنیں اس کے ساتھ سرخ کپڑوں میں ملبوس شخص یتیم خانہ چلاتا ہے اس نے بچے کے بارے میں کیا کہا۔ اللہ جانتا ہے بچے کی باڈی کی ویڈیو دیکھنے لائق نہیں 🥲
192
1,010
44
2,294
300,508
Abdullah Sultan retweeted
Don’t cry! This is Daanish Schools, an initiative by PM Shehbaz Sharif that provides free, quality education, meals, and accommodation to underprivileged students. This is the change Pakistan needed! #DaanishSchoolIslamabad #TaleemSeTameerTak
8
68
1
66
1,174
Abdullah Sultan retweeted
Brilliant 👏👏
9
120
13
568
62,657
Abdullah Sultan retweeted
مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ میرا ذاتی تعلق عزت و احترام پر مبنی ہے اور میں ان کی سیاسی بصیرت اور تجربے کا احترام کرتا ہوں۔ تاہم، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کا موازنہ کرتے ہوئے، خصوصاً دہشت گردی، قومی سلامتی اور قومی و عسکری قیادت کے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے وقت زمینی حقائق، ریاست کو درپیش چیلنجز اور دہشت گردی کے خلاف جاری جدوجہد کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ مسلمہ حقیقت ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن اور ان کی جماعت خود دہشت گردی کے واقعات کا نشانہ بنتے رہے ہیں، اس لیے توقع ہے کہ وہ اس حساس قومی مسئلے پر رائے قائم کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف ریاستی کوششوں اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو بھی ملحوظ رکھیں گے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے دونوں صوبوں میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات، سیاسی قیادت کے طرزِ عمل اور عملی عزم کو سامنے رکھنا چاہیے۔ بلوچستان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی اختلافات کے باوجود دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف قومی مفاد کو ترجیح دینے کی اہم مثال ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی، اہم فیصلوں اور متعلقہ معاملات پر اپوزیشن کو اعتماد میں لیا جاتا ہے اور حکومت تمام پارلیمانی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری مختلف مواقع پر اس طرزِ عمل کا اعتراف کر چکے ہیں، جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے پارلیمانی لیڈر میر جہانزیب مینگل کی اسمبلی میں حالیہ تقریر بھی اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ صوبے کی سیاسی قیادت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی ذمہ داری اور کردار کو تسلیم کرتی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام، نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) اور دیگر پارلیمانی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف رکھتی ہیں۔ یہ سیاسی ہم آہنگی اس بات کا اظہار ہے کہ بلوچستان میں امن و امان اور قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھنے کی ضرورت تسلیم کی جاتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ محض بیانات یا سیاسی دعوؤں کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ریاست اور پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے سنگین خطرے کے خاتمے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہا ہے اور اس جنگ میں پاک فوج سمیت تمام سیکیورٹی اداروں کے افسران اور جوان بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں۔ ہر شہادت کے پیچھے ایک خاندان کا دکھ، والدین کی جدائی اور ادھورے خوابوں کی داستان ہوتی ہے۔ ان قربانیوں کا تقاضا ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے اور دہشت گردی کے خلاف قومی جدوجہد کو سیاسی اختلافات کی نذر نہ ہونے دیا جائے۔ مولانا فضل الرحمٰن سینئر سیاست دان ہیں اور ان کی جماعت دہشت گردی کے باعث خود بھی جانی و سیاسی نقصانات برداشت کر چکی ہے۔ ایسے میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کا موازنہ کرتے ہوئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ دونوں صوبوں میں دہشت گردی کے خلاف عملی اقدامات کیا ہیں، سیاسی قیادت کس حد تک مشترکہ حکمت عملی اختیار کر رہی ہے اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کی صورت حال کیا ہے۔ دہشت گردی کے معاملے پر غیر واضح مؤقف یا حقائق سے صرفِ نظر قومی مفاد کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ بلوچستان کی سیاسی قیادت اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ پائیدار امن کے بغیر ترقی، عوامی فلاح اور معاشی استحکام کے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ اسی لیے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافِ رائے کے باوجود دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف کو اہمیت دی جاتی ہے۔ یہ طرزِ عمل اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ سیاسی اختلافات جمہوری عمل کا حصہ ہیں، لیکن قومی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے معاملات پر اتفاقِ رائے اور تعاون ناگزیر ہیں۔ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے اور اس کے سیاسی و انتظامی نتائج پر بحث ہو یا بلوچستان کی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ، ہر معاملے میں حقائق، عملی اقدامات اور عوام کو فراہم کیے گئے نتائج کو معیار بنانا چاہیے۔ سیاسی جماعتوں اور حکومتوں پر تنقید جمہوری حق ہے، تاہم دہشت گردی جیسے حساس قومی مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے ریاست کو درپیش چیلنجز، سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کے دکھ کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ میرا مؤقف واضح ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی وابستگیوں اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھا جانا چاہیے۔ قومی یکجہتی، سیاسی قیادت کی ذمہ دارانہ گفتگو، ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون اور زمینی حقائق کی بنیاد پر مؤقف اختیار کرنا ہی وہ راستہ ہے جس سے ملک میں پائیدار امن کے قیام کی کوششوں کو تقویت دی جا سکتی ہے۔ قومی سلامتی سیاست سے بالاتر ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر خدارا ریاست کو سیاست کی نذر نہ کیجیے!
200
249
118
657
101,069
Abdullah Sultan retweeted
I've been watching a fake news story spread across my timeline, claiming General Asim Munir and Maryam Nawaz took a three and a half hour flight over Nanga Parbat. I think we need to talk about it properly. It's fake. Completely fabricated. There was no such trip. Look at how it spread, because the mechanism matters. It appears to have started with Dr Shahbaz Gill, who has 4.7 million followers on X, putting out a verbal story about the flight. An AI generated video then appeared, which looks like it was made by PTI supporters to illustrate that story. Then Waqar Khan, President of PTI in the USA, shared it with his 173,000 followers and said India TV had run the report. India TV did not run this report. Anyone can check that in two minutes. So a story was told, a fake video was made to back it up, and a real broadcaster's name was attached to make it look legit. These are not small accounts. This is how a fabrication gets built and laundered into something that looks like news. I'm not here to argue politics. You can dislike either of them, that's your right. Criticise policy, question decisions, hold power to account. But making up a story and passing it off as real is a different thing altogether. And this is not free speech. In the US, free speech protects opinion, criticism and satire. It does not protect false statements of fact about real people. That is an allegation, and publishing a false allegation is what defamation law is for. A defamation claim needs a false statement of fact, publication to others, fault, and harm to reputation. Because Field Marshal Munir and Maryam Nawaz are public figures, they would also have to show actual malice. Under New York Times v. Sullivan, that means the publisher knew it was false or recklessly ignored the truth. Harte-Hanks v. Connaughton says that can be shown through circumstantial evidence, like ignoring obvious red flags or not bothering to verify. Now look at the facts. An invented story. A fake video made to back it up. A false claim that India TV aired it. All of it published to millions of people. So ask yourself the obvious questions. Did they check the source? Did they check whether India TV actually aired it? And if people told them it was fake, why was it left up? Anyone posting this from the US can be taken to a US court for defamation if the evidence shows they knew it was false or didn't care. With audiences this size, that's publication at scale, not a private chat. Anyone in Pakistan who creates or spreads it can be reported to the NCCIA at complaint.nccia.gov.pk, which can assess it under Section 26A of PECA. That covers spreading information known or believed to be false that is likely to cause panic or unrest. The affected parties should keep everything. The original video, links, screenshots with timestamps, every repost, proof India TV never aired it, and any record of people being told it was fake and what they did next. Having a big following doesn't mean you get to skip the truth. The bigger the audience, the bigger the responsibility. Free speech doesn't come free. It comes with a responsibility to be honest, and when you knowingly publish falsehoods about real people, there are consequences. People should know that.
148
104
18
281
177,201
Abdullah Sultan retweeted
میں نے اتنی تعریفیں کبھی میراثیوں سے بھی نہیں سنی جتنی میں نے عمران خان سے جنرل باجوہ کی سنیں ہیں 😄
26
257
11
784
10,743
Abdullah Sultan retweeted
سچ سن لیں
3
132
4
421
37,575
Abdullah Sultan retweeted
اصل فیصلہ ساز مراد سعید، سہیل آفریدی کو کیا ڈکٹیشن دیتا رہا؟ محسن نقوی نے ایوان میں راز کھول دیا #samaatv
8
145
6
464
47,458
Abdullah Sultan retweeted
مجھے لگتا ہے 2022 کے بعد جیسے وفاق اور پنجاب میں PTI کو واپس نہیں آنے دیا گیا اس طرح اب خیبرپختونوا میں بھی ان کی حکومت واپس نہیں آئے گی۔پنجاب میں پرویز الہی کا سال باقی تھا لیکن پرویز الہی کی جگہ خالی کرائی گئی تو اگلوں نے محسن نقوی کو وزیراعلی کرسی پر بٹھا دیا اور پرویز الہی جیل میں بیٹھے تھے۔ عمران خان زمان پارک میں محاصرے میں تھے۔ یہی اب وزیراعلی سہیل آفریدی کے ساتھ ہوا ہے۔ ویسے تو کل کا کچھ پتہ نہیں لیکن اگر ماضی میں پی ٹی آئی کے سیاسی فیصلے اور ان کے بھیانک نتائج دیکھے جائیں جن کا فائدہ سیاسی مخالفین/اسٹیبلشمنٹ نے اٹھایا، مجھے تو 2029 تک پی ٹی آئی خیبرپختونوا میں واپس آتی نظر نہیں آ رہی۔۔ ؟ 👇 youtu.be/DNOiOy5TNpU
244
105
25
810
198,350
بانی ایم کیو ایم کی وہ تقریر سب کو یاد ہو گی، جس کے بعد پیدا ہونے والے حالات نے اس جماعت کے کیلئے بہت کچھ تبدیل کر دیا، کیا سہیل آفریدی کی جھڈے اور قومی ترانے کا حوالہ دیتے ہوئے تازہ تقریر پی ٹی آئی کے لیئے بھی کسی ایسی اوور ہالینگ کا موجب بن سکتی ہے؟
18
47
4
263
6,428
Abdullah Sultan retweeted
کاش سہیل آفریدی ایسے الفاظ منہ سے نکالنے سے پہلے کچھ سوچ لیتے۔ وہ ایک صوبہ کے حکمران ہیں اور سیاسی رہنماؤں کا کام مشکل ترین حالات میں بھی جذبات کا اظہار بردباری اور ملکی مفاد کو مقدم رکھ کر کیا جانا چاہئے
195
266
26
832
26,492
کے پی میں ایمرجنسی کا نفاذ
1
1
50
1,221
Abdullah Sultan retweeted
"اتنا کروجتنا برداشت کر سکو " علی امین کا سہیل آفرید ی کے فکس میچ الزام پر ردعمل۔ مبینہ آڈیو لیک
1
3
1
10
1,069
Abdullah Sultan retweeted
If the many many decent Israelis are wondering why their country is sinking in global popularity, it’s because of people like this… 👇
Do not fuck with us. 🇮🇱
10,867
7,684
640
58,783
3,107,262
Abdullah Sultan retweeted
خان صاحب کو میڈیکل گراؤنڈز پر رعایت ملنی چاہئے۔ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل اور پھر بنی گالہ میں نظر بندی جیسے آپشن بھی زیر غور آسکتے ہیں سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا مگر رواداری کا مظاہرہ حکومت وقت پر فرض ہے۔
5
2
16
2,494
Abdullah Sultan retweeted
پی ٹی آئی قیادت کو دہشت گردی یاد تب آئی جب اقتدار ہاتھ سے گیا، ورنہ آخر وقت تک اس پوری سہولت کاری میں برابر کے شریک رہے۔ یکم جولائی 2021 کی نیشنل سیکیورٹی بریفنگ کی ریکارڈنگ پبلک کی جائے، اس وقت ان کی اپنی حکومت تھی۔ سب کو پتہ چل جائے گا کہ مخالفت کی تھی یا سہولت کاری۔
342
417
59
1,185
173,877
Abdullah Sultan retweeted
The Establishment could not have wished for a better opponent-friend than Suhail Afridi. By acting like an unguided missile he has brought the situation exactly where all final actions in KP look not just imminent but also justified. He has single-handedly hijacked the party's leadership, scuttled the PTI negotiating team and brought the PML-N and the PPP on the same page. His public rants are a thin veil for his hatchet job against his party's interests. And he has done all this in the name of Imran Khan. Amazing character!
415
111
1,786
140,727
Abdullah Sultan retweeted
This may have been his draft, circulated around midnight in what appeared to be an attempt to derail the drafts already agreed by both sides. However, the negotiating teams finalized a separate draft with us, which both sides agreed to, in addition to the KP Terrorism Related Implementation Plan.
مزاکراتی کمیٹی کو میرا بھیجا گیا ڈرافٹ یہ ہے جسے میں اپنی قوم کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ پوری قوم کو یہ علم ہونا چاہئیے کہ ان میں سے ایک ڈیمانڈ بھی غیر آئینی و قانونی نہیں ہے۔ ہمیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جا رہا ہے۔ ہمارے ساتھ ریاست ہر قابض لوگ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ یہ ہمارے ڈیمانڈز تھے، ہیں اور رہیں گے۔ ملک میں سیاسی استحکام، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوری عمل کے تسلسل، قومی یکجہتی، امن و امان کے قیام اور تمام سیاسی و قومی معاملات کو باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے درج ذیل امور پر اتفاقِ رائے کیا جائے گا: 1۔وزیرِ اعظم پاکستان اور دونوں ایوانوں میں قائدینِ حزبِ اختلاف کے درمیان باقاعدہ ملاقات کا اہتمام کیا جائے گا، جس میں ملک کو درپیش تمام اہم سیاسی، قومی، آئینی، قانونی اور جمہوری معاملات، بالخصوص زیرِ التوا امور، پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ فریقین اس امر کے پابند ہوں گے کہ باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے مذکورہ امور کے حل کے لیے دو ماہ کے اندر مؤثر اور قابلِ عمل پیش رفت یقینی بنائی جائے۔ 2۔وزیرِ اعظم پاکستان حکومتی اتحاد، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندگان پر مشتمل ایک مشترکہ سیاسی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دیں گے۔ یہ کمیٹی اپوزیشن کے ساتھ قومی و سیاسی معاملات، باہمی اختلافات اور دیگر اہم امور پر مسلسل مذاکرات کرے گی اور باہمی اتفاقِ رائے سے قابلِ عمل حل تلاش کرے گی۔ جمہوریت، سیاست، عدالت اور صحافت کی مکمل آزادی ہوگی۔ کمیٹی اپنے قیام کے بعد ایک ماہ کے اندر مذاکرات اور حل کے حوالے سے قابلِ ذکر پیش رفت یقینی بنائے گی اور اپنی سفارشات متعلقہ قیادت کے سامنے پیش کرے گی۔ 3۔ جیل مینول، آئینِ پاکستان اور مروجہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو حاصل تمام قانونی، انسانی اور طبی حقوق بلاامتیاز فراہم کیے جائیں گے۔ ان کے علاج و معالجے کے سلسلے میں، جہاں قانوناً قابلِ اطلاق ہو، ان کے ذاتی/نامزد ڈاکٹروں کی طبی رائے، ہدایات اور مشوروں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ضروری طبی سہولیات اور علاج معالجے کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ 4۔جیل مینول اور متعلقہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اپنے اہلِ خانہ، نامزد وکلاء اور مجاز/نامزد رفقاء سے ملاقات کا حق فراہم کیا جائے گا۔ ملاقاتوں کا انعقاد قانون اور جیل قواعد و ضوابط کے مطابق ہوگا۔ تاہم ملاقات کی سہولت کو کسی بھی فریق کی جانب سے ایسے سیاسی یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا جو قانوناً ممنوع ہوں۔ 5۔عمران خان، بشریٰ بی بی، خواتین، معمر اور بیمار قیدیوں سمیت تمام زیرِ حراست افراد کی جانب سے سزاؤں کے خلاف دائر درخواستوں اور دیگر قانونی درخواستوں پر آئین و قانون کے مطابق دس دن کے اندر غور کا عمل شروع/مکمل کیا جائے گا، جہاں قانوناً ایسا ممکن ہو۔ تمام مقدمات کا فیصلہ متعلقہ عدالتیں اور قانونی فورمز آئین، قانون، شفاف عدالتی طریقۂ کار اور انصاف کے اصولوں کے مطابق، بلاجواز تاخیر کے بغیر، کریں گے۔ خواتین جو سیاسی قید کاٹ رہی ہیں جن میں بزرگ یاسمین راشد اور بشری بی بی سرفہرست ہے اُن کو انسانی ہمدردی دکھاتے ہوئے جلد رہا کیا جائے۔ 6۔خیبر پختونخوا میں جاری دہشت گردی کے خاتمے، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور مستقل و پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر، مسلسل اور بامعنی مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے موجودہ پالیسیوں اور اقدامات کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت کے مطابق ان میں مناسب ترامیم کی جائیں گی۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کے مجاز نمائندگان 72 گھنٹوں کے اندر باقاعدہ اجلاس منعقد کرکے باہمی مشاورت سے امن و امان کے قیام کے لیے ایک واضح، جامع اور قابلِ عمل حکمتِ عملی مرتب کریں گے۔ اس حکمتِ عملی پر آئین و قانون کے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے عمل درآمد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہوگی۔ 7۔ وفاقی حکومت کی جانب سے مذکورہ بالا یقین دہانیوں اور طے شدہ اقدامات پر مؤثر عمل درآمد کی تحریری یقین دہانی کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف موجودہ لانگ مارچ کو منسوخ کرنے کا اعلان کرے گی۔ تاہم اگر وفاقی حکومت طے شدہ یقین دہانیوں، مذاکراتی عمل یا آئینی و قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کرے یا مذاکراتی عمل کو بلاجواز تعطل کا شکار کرے تو پاکستان تحریکِ انصاف آئین و قانون کے مطابق اپنے پُرامن، جمہوری اور قانونی احتجاج کے حق کو محفوظ رکھے گی۔
1,179
497
172
2,208
650,272
Abdullah Sultan retweeted
ایرانی ٹی وی کی مصنوعی ذہانت کی مدد سے ویڈیو تیار
15
322
5
1,428
53,548