Pinned Tweet
سہیل آفریدی کی خیبر میں گفتگو کے بعد میں نے دوسری جانب کا ردعمل جاننے کی کوشش کی جو جواب ملا واضح ، سادہ اور کچھ یوں ہے
"دہشت گردی کے خلاف جنگ ڈالروں کے لئے نہیں بلکہ پاکستانیوں اور پاکستان کے لئے لڑ ی جا رہی ہے،پی ٹی آئی دہشت گردوں کی حامی ہے اور اسی لئے انکا بیانیہ ریاستی پالیسی کے خلاف ہے"۔
نوٹ : میری نظر میں سہیل آفریدی پر لگا کراس ❌اب آہنی ہو چکا ہے۔
ہر ہفتے نیفریٹ کا ایک ٹرک نکلتا ہے جس کی مالیت ایک ارب روپے تک ہے یہ ایک بیروکریٹ کی لیز ہے پی ٹی آئی کے لوگوں نے کسی نہ کسی کے نام پر مائنز کے ٹھیکے لے رکھے ہیں ۔ صحافی طارق آفاق کے انکشافات مجھے یقین ہے طارق صاحب جلد یہ نام بھی بتائیں گے۔
@tariqafaq
پشاور پھولوں کا شہر تھا گزشتہ تیرہ برسوں میں اسکا حسن گہنا گیا تھا آج کے دن پی ٹی آئی حکومت کو دورانیے میں برھتی تجاوزات کو کچھ اس انداز میں مٹایا گیا۔
ہمارا بیانیہ چل رہا ہے، ہم سب سے مقبول ہیں، ہمارا لیڈر سب سے مشہور ہے ، ہم ملک کی سب سے بڑی پارٹی ہیں ۔پی ٹی آئی کا موقف
ہماری حکومت جا چکی ہے، ہمارا لیڈر بھی باہر نہیں آرہا، ہمارے لیڈر کی بہنیں بھی اندر ہیں، ۹ مئی کے ملزم بھی مجرم بن چکے ہیں۔ پارٹی کے اندر لوگ لڑ بھی رہے ہیں۔ ہماری مزاحمت بھی ناکام ہو چکی ہے۔ ہمارے پارٹی کو اپوزیشن لیڈر بھی اپنے اور مخلص نہیں ملے۔ پی ٹی آئی کی حقیقت
Faisal Abbasi retweeted
پی ٹی آئی حکومت میں سرکاری وسائل کے ذاتی استعمال کا نیا سکینڈل بے نقاب۔۔
محکمہ مواصلات و تعمیرات میں غیر ملکی قرضوں سے چلنے والےپراجیکٹ KP-RRDP کی12 قیمتی گاڑیوں کی بندر بانٹ۔
عبدالہادی عرف پتنگ کا دو نئی گاڑیوں ایک فارچیونر اور ایک HAVAL پر قبضہ۔
سابق پراجیکٹ ڈائریکٹر عمیر احمد جان کوایک فارچیونر اورایک HAVAL گاڑی پر تسلط۔ایک گاڑی عمیر احمد جان کے والد کے زیرِ استعمال۔
سہیل آفریدی کے سابق پرنسپل سیکرٹری زبیر نیازی کو بھی نئی فارچیونر گاڑی کا تحفہ۔
انصاف یوتھ ونگ کے سابق مرکزی رہنما اور سہیل آفریدی کے دست راست انجینئر ہشتم خان پر دو گاڑیاں ایک فارچیونر اور ایک HAVAL نچھاور۔
پراجیکٹ کے فنانس منیجر محمد طلحہ کا ایک فارچیونر اوردوHAVAL گاڑیوں پر قبضہ۔
محمد طلحہ کا بھائی کوHAVALاور قریبی دوست کو فارچیونر گاڑی کا نذرانہ۔
پراجیکٹ کےڈپٹی ڈائریکٹر پروکیورمنٹ سید واثق زاہد شاہ کا بھی ایکHAVAL پر تسلط۔
Faisal Abbasi retweeted
سابقہ دور وزارت مواصلات میں 222 ارب 6کروڑ68لاکھ روپے کی مالی بے ضابطگیاں پر آڈٹ رپورٹ ‼️
یہ بے قاعدگیاں سال 2022-23ء کے دوران وزیر مواصلات و تعمیرات مولانا اسعد محمود کے دور میں ہوئیں
ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا فائدہ اٹھانے کیلئے مولانا فضل الرحمن نے اپنے انہی صاحبزادے کو گورنر خیبرپختونخوا بنانے کی شرط رکھی تھی
وزیر مواصلات و تعمیرات دور میں مولانا اسعد محمود کی کرپشن اور اقربا پروری نے ان کے کردار پر سوالات اٹھائے دیئے
آڈٹ رپورٹ کے مطابق دھوکہ دہی، چوری اور ڈکیتی کے40کیس میں 4کروڑ88لاکھ روپے کی بے ضابطگی رپورٹ ہوئی
ہیومن ریسورس یعنی بھرتیوں سے متعلق 4کیس میں مجموعی طورپر2ارب73کروڑ روپے کی بے قاعدگیاں ہوئیں
فنانس ڈویژن کی30ستمبر 2022کو ہدایت کے بعد اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے پاکستان پوسٹل سروسز ڈیپارٹمنٹ میں خالی 3ہزار938آسامیوں پر بھرتیوں کی اجازت دی تاہم نگران دور میں گریڈ1سے15 تک 4ہزار252بھرتیاں عمل میں لائی گئیں اور یوں 314افراد کو قواعد و ضوابط کے برعکس سیاسی بنیادوں پر بھرتی کیا گیا
خریداری کے 5مختلف کیس میں خزانے کو3ارب26کروڑ16لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا گیا
20مارچ 2018ء کو اس وقت کے وزیراعظم پاکستان نے ایک حکمنامے کے ذریعے پاکستان پوسٹ آفس اورتمام محکموں کو ہدایت کی کہ اندرونی اور بیرونی خط و کتابت کیلئے پاکستان پوسٹ سروس کو استعمال کیا جائے تاکہ اس کی آمدن میں اضافہ ہو تاہم پاکستان پوسٹ آفس نے2022-23ء کے دوران وزیر اعظم کے ان حکامات کو رد کرتے ہوئے 4پرائیویٹ کمپنی کی خدمات حاصل کیں اور اس عرصہ کے دوران انہیں 2ارب86کروڑ83لاکھ روپے کا فائدہ پہنچایا گیا
کمرشل بینک کیساتھ غیر مجاز طور پر انتظامی معاملات کی مد میں 20ارب85کروڑروپے کا نقصان پہنچایا گیا
25جون2021کو فنانس ڈویژن نے پاکستان پوسٹ آفس کو نیشنل بینک آف پاکستان میں 3اکاونٹس کھولنے کی منطوری دی تاہم فنانس ڈویژن کی واضح ہدایات کے باوجودپاکستان پوسٹ آفس نے نیشنل بینک آف پاکستان میں 5اکاونٹ کھولے غیر قانونی طور پر کھولے گئے اکاونٹ میں 20ارب روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی
ایک اور کیس میں 49کروڑ25لاکھ روپے کاخزانہ کو نقصان پہنچایا گیا
11مختلف کیس میں 3ارب74کروڑ39لاکھ روپے وصولی کی نشاندہی کی گئی
ان بے ضابطگیوں اور بے قاعدگیوں کے15دیگر مختلف کیس میں خزانہ کو 194 ارب54 کروڑ51لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا گیا
"میری زندگی میں والد کا کردار آپ نے ادا کیا ہے "
وزیراعظم شہباز شریف کو مخاطب کرتی ہوئی یہ لڑکی ڈاکٹر علینہ ہے جس نے دانش سکول سے بتدائی تعلیم حاصل کی اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی سے ڈاکٹر بنی۔
گورنر راج کے نفاذ کے بعد ایک ہفتے کے دوران خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی کی لہر کمزور ہوئی ہے۔مگراسی اثنا میں افغان طالبان ، ٹی ٹی پی اور پی ٹی آئی ٹرولز پرانی ویڈیوز کے ذریعے پروپیگنڈا جاری رکھے ہوے ہیں۔میری نظتر میں یہ صرف بیانیہ بنا کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش ہے۔
کیا یہ کفایت شعار۔۔۔اور کرپشن سے ہاک تبدیلی سرکار نہ تھی؟
تبدیلی سرکار میں حکومتی وسائل کی لوٹ مار کا اندازہ اس امر سے لگائیں کہ صرف ایک غیر فعال صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد علی سے محکمہ ہاؤسنگ کی 12گاڑیاں بازیاب کرائی گئیں۔۔۔جن میں ایک گاڑی اس کی مبینہ خاتون دوست کے زیر استعمال تھی۔۔۔اب ایک ایسے وزیر (جس کے بیوی بچے امریکہ میں مقیم ہیں) کو ایک درجن گاڑیاں کس مقصد کے لیے درکار تھیں۔۔۔۔
Faisal Abbasi retweeted
باجوڑ کی علاقائی نمائندگی و ترقیاتی کونسل کے لیے شہاب الدین خان صاحب کی نامزدگی اور ان کی جانب سے معذرت اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ یہ عمل کسی مخصوص فرد یا سیاسی گروہ کو نوازنے کے لیے نہیں، بلکہ باصلاحیت، باکردار اور عوام میں معتبر شخصیات کو آگے لانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ کسی نامزد شخص کا انکار کرنا بھی اس بات کی علامت ہے کہ یہاں فیصلے زبردستی مسلط نہیں کیے جا رہے اور ہر فرد کو اپنی رائے کے اظہار کا مکمل حق حاصل ہے۔
یہ کونسل کسی پہلے سے طے شدہ سیاسی منصوبے کا حصہ نہیں، بلکہ حالات کے پیش نظر عوامی نمائندگی اور ترقیاتی ضروریات کو مؤثر بنانے کی کوشش ہے۔ انتخاب میں سیاسی وفاداری کے بجائے قابلیت، اچھی شہرت، کردار اور عوامی اعتماد کو ترجیح دینا ہی شفاف طرزِ حکمرانی کی اصل روح ہے۔ باجوڑ کے عوام کو ایسے نمائندے ملنے چاہییں جو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر علاقے کی ترقی، امن اور خوشحالی کے لیے کام کریں۔
اصل کامیابی عہدے بانٹنے میں نہیں، بلکہ اہل اور قابلِ اعتماد لوگوں کو ذمہ داری سونپنے میں ہے۔ یہی میرٹ، شفافیت اور عوامی مفاد کا تقاضا ہے۔
@PashatKhan
سابق وزیراعلی جی بھی خالد خورشید کو پشاور سے گرفتار کر لیا گیا۔ مشعال یوسفزئی
خالد خورشید بھائی کو گورنر راج لگنے کے بعد پشاور سے دھاوا بول کر گرفتار کیا گیا، لیکن گرفتار ہونے سے پہلے انہوں نے حالات کے پیشِ نظر دوسری صف کی قیادت پہلے ہی مقرر کر دی تھی، کیونکہ جب مقابلہ کرنا ہو تو مکمل حکمت عملی سے کرنا پڑتا ہے۔
اس وقت ان کے ساتھ یوتھ وِنگ کے صدر احسان طور صاحب اور جنرل سیکرٹری مبشر صاحب بھی خالد خورشید صاحب کے بعد گرفتار کر لیے گئے تھے ۔
خالد خورشید بھائی کے لیے سب آواز اٹھائیں۔
اس حمام میں سب گنجے ہیں!!
سینیٹر کامران مرتضی کا تہلکہ خیز انکشاف !!!
محمود خان اچکزئی اپنی نشست JUIکے اُمیدوار صلاح الدین ایوبی سے ہار گئے تھے اور فارم 47 کے چمتکار سے جیتے۔
@KamranM69045926
👇👇👇
Faisal Abbasi retweeted
خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں مقامی نمائندگی اور ترقی کے نئے انتظامی نظام کی منظوری!
وفاقی کابینہ نے ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل (ARDC) کے قیام اور 48 مقامی عمائدین کی ابتدائی چھ ماہ کے لیے نامزدگی کی منظوری دے دی ہے۔
کونسل کی سربراہی شوکت اللہ خان کریں گے جبکہ ملک خان مرجان نائب چیئرمین ہوں گے۔ نامزدگیوں کے لیے ضلعی سطح پر جرگوں اور مقامی مشاورت کا طریقہ اختیار کیا گیا۔
اس اقدام کا مقصد امن و امان کی بحالی، شہریوں کا تحفظ، بہتر انتظامی امور اور ترقیاتی سرگرمیوں میں مقامی بزرگوں کی شمولیت کو یقینی بنانا ہے۔ متعلقہ علاقوں میں انتظامی ڈھانچے اور ترقیاتی امور کے لیے ایک علیحدہ سیکرٹریٹ کے قیام کا بھی حکم دیا گیا ہے۔
اس فیصلے کی کامیابی کا اندازہ عملی نتائج سے ہوگا: عوامی مسائل کا بروقت حل، بنیادی خدمات کی دستیابی، امن کی بحالی اور مقامی آبادی کا بڑھتا ہوا اعتماد۔
علاقے کے فیصلوں میں مقامی آواز، امن اور ترقی کی جانب اہم قدم!
وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی بھی مولانا کے خلاف کُھل کر آ گئے۔
مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ میرا ذاتی تعلق عزت و احترام پر مبنی ہے اور میں ان کی سیاسی بصیرت اور تجربے کا احترام کرتا ہوں۔ تاہم، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کا موازنہ کرتے ہوئے، خصوصاً دہشت گردی، قومی سلامتی اور قومی و عسکری قیادت کے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے وقت زمینی حقائق، ریاست کو درپیش چیلنجز اور دہشت گردی کے خلاف جاری جدوجہد کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ مسلمہ حقیقت ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن اور ان کی جماعت خود دہشت گردی کے واقعات کا نشانہ بنتے رہے ہیں، اس لیے توقع ہے کہ وہ اس حساس قومی مسئلے پر رائے قائم کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف ریاستی کوششوں اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو بھی ملحوظ رکھیں گے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے دونوں صوبوں میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات، سیاسی قیادت کے طرزِ عمل اور عملی عزم کو سامنے رکھنا چاہیے۔
بلوچستان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی اختلافات کے باوجود دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف قومی مفاد کو ترجیح دینے کی اہم مثال ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی، اہم فیصلوں اور متعلقہ معاملات پر اپوزیشن کو اعتماد میں لیا جاتا ہے اور حکومت تمام پارلیمانی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری مختلف مواقع پر اس طرزِ عمل کا اعتراف کر چکے ہیں، جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے پارلیمانی لیڈر میر جہانزیب مینگل کی اسمبلی میں حالیہ تقریر بھی اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ صوبے کی سیاسی قیادت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی ذمہ داری اور کردار کو تسلیم کرتی ہے۔
جمعیت علمائے اسلام، نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) اور دیگر پارلیمانی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف رکھتی ہیں۔ یہ سیاسی ہم آہنگی اس بات کا اظہار ہے کہ بلوچستان میں امن و امان اور قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھنے کی ضرورت تسلیم کی جاتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ محض بیانات یا سیاسی دعوؤں کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ریاست اور پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے سنگین خطرے کے خاتمے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہا ہے اور اس جنگ میں پاک فوج سمیت تمام سیکیورٹی اداروں کے افسران اور جوان بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں۔ ہر شہادت کے پیچھے ایک خاندان کا دکھ، والدین کی جدائی اور ادھورے خوابوں کی داستان ہوتی ہے۔ ان قربانیوں کا تقاضا ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے اور دہشت گردی کے خلاف قومی جدوجہد کو سیاسی اختلافات کی نذر نہ ہونے دیا جائے۔
مولانا فضل الرحمٰن سینئر سیاست دان ہیں اور ان کی جماعت دہشت گردی کے باعث خود بھی جانی و سیاسی نقصانات برداشت کر چکی ہے۔ ایسے میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کا موازنہ کرتے ہوئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ دونوں صوبوں میں دہشت گردی کے خلاف عملی اقدامات کیا ہیں، سیاسی قیادت کس حد تک مشترکہ حکمت عملی اختیار کر رہی ہے اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کی صورت حال کیا ہے۔ دہشت گردی کے معاملے پر غیر واضح مؤقف یا حقائق سے صرفِ نظر قومی مفاد کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ بلوچستان کی سیاسی قیادت اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ پائیدار امن کے بغیر ترقی، عوامی فلاح اور معاشی استحکام کے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ اسی لیے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافِ رائے کے باوجود دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف کو اہمیت دی جاتی ہے۔ یہ طرزِ عمل اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ سیاسی اختلافات جمہوری عمل کا حصہ ہیں، لیکن قومی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے معاملات پر اتفاقِ رائے اور تعاون ناگزیر ہیں۔ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے اور اس کے سیاسی و انتظامی نتائج پر بحث ہو یا بلوچستان کی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ، ہر معاملے میں حقائق، عملی اقدامات اور عوام کو فراہم کیے گئے نتائج کو معیار بنانا چاہیے۔
سیاسی جماعتوں اور حکومتوں پر تنقید جمہوری حق ہے، تاہم دہشت گردی جیسے حساس قومی مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے ریاست کو درپیش چیلنجز، سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کے دکھ کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ میرا مؤقف واضح ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی وابستگیوں اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھا جانا چاہیے۔ قومی یکجہتی، سیاسی قیادت کی ذمہ دارانہ گفتگو، ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون اور زمینی حقائق کی بنیاد پر مؤقف اختیار کرنا ہی وہ راستہ ہے جس سے ملک میں پائیدار امن کے قیام کی کوششوں کو تقویت دی جا سکتی ہے۔
قومی سلامتی سیاست سے بالاتر ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر خدارا ریاست کو سیاست کی نذر نہ کیجیے!
7سال پہلے مولانا فضل ارحمن کے خلاف شہداء کی زمینیں الاٹ کروانے کی خبر دی گئی لیکن مولانا نیب پیش نہ ہوے مگر دلچسپ بات یہ ہے جو صحافی اس وقت مولانا کے خلاف یہ خبر دے رہے تھے آج وہ مولانا کی وکالت میں آگے آگے ہیں۔ ویسے سات سالوں میں کچہ چٹھہ کھل چانا چاہئے تھاکہ مولانا پر لگے الزام درست ہیں یا غلط؟
youtu.be/AtbZ83Hjd1o?si=2YxC…
Faisal Abbasi retweeted
🚨🚨 بریکنگ نیوز | خیبرپختونخوا میں سیاسی قیادت کے ذاتی نجی اسکولوں کو قانونی تحفظ دینے کے لیے قانون میں ترمیم کا انکشاف!
اسد قیصر اور مشتاق غنی سمیت پی ٹی آئی کے اہم رہنماؤں کے نجی تعلیمی ادارے بھی سوالات کی زد میں آ گئے!
ذرائع کے مطابق، 2017 میں خیبرپختونخوا پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی ایکٹ میں ایسی ترمیم کی گئی جس کے ذریعے غیر رجسٹرڈ نجی اسکولوں کو بند یا سیل کرنے کی شق ختم کرکے اس کی جگہ جرمانے کی سزا متعارف کرائی گئی۔
📌 9 جون 2017: اصل قانون کی شق 22 کے تحت نجی اسکولوں کے لیے اتھارٹی کے ساتھ رجسٹریشن لازمی تھی، جبکہ شق 22(4) کے تحت خلاف ورزی پر اسکول بند یا سیل کرنے کی گنجائش موجود تھی۔
📌 23 جون 2017: صوبائی حکومت نے قانون میں ترمیم کرکے اسکول بند یا سیل کرنے کی سزا کی جگہ جرمانے کا طریقہ اختیار کیا۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ ترمیم اُس وقت کے اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی اسد قیصر اور دیگر رہنماؤں کی خواہش پر کی گئی، کیونکہ وہ خود نجی تعلیمی اداروں کے کاروبار سے وابستہ تھے۔
کیا قانون میں یہ تبدیلی نجی تعلیمی اداروں سے وابستہ بااثر سیاسی رہنماؤں کو فائدہ پہنچانے کے لیے کی گئی؟
قانون میں ترمیم کی اصل وجوہات، اس کے محرکات اور متعلقہ رہنماؤں کے ممکنہ مفادات کی آزادانہ تصدیق اہم سوالات ہیں۔
#BreakingNews #KPK #PTI #PrivateSchools
یہ وہ سوالات ہیں جو کہیں نہ کہیں تو اٹھتے ہیں انکے جواب تو مولانا کو دینے چاہیے؟
محسن نقوی آج لاہور میں نام لئے بغیر بہت کچھ کہہ گئے۔مگر ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ موجودہ حالات میں دہشت گردی سے متعلق اور افغان طالبان کے بارے پی ٹی آی اور جے یو آئی کی پالیسی میں کوئی واضح فرق نہیں۔ میڈیا پر یہ بات بھی رپورٹ ہوتی رہی کہ جنوری 2024 میں مولانا جب افغانستان گئے تو اس وقت طالبان قیادت نے مولانا کو کہا کہ ٹی ٹی پی پالستان کا اندرونی مسئلہ ہے حالانکہ یو این رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی آے ہی ٹی ٹی پی کی سرپرست ہے لیکن مولانا نے واپس آکر کہا ٹی ٹی پی سے بات کریں یہ ویسا ہی موقف تھا جب پی ٹی آئی نے کہا تھا ٹی ٹی پی کو یہاں دفتر کھول کر دیں۔

























