Pinned Tweet
وہ بلوچ ہے تو ہم بھی بلوچ ہیں، اگر وہ گلے میں فٹ ہونا چاہ رہے ہیں تو مجبوراً ہم بھی دفاع کریں گے۔ اگر آپ جھل مگسی آئیں گے تو ہم لڑیں گے، نواب زادہ میر زرین مگسی نے بلوچ عوام دشمن تنظیموں کو واضح پیغام دے دیا۔
وہ دن دور نہیں جب پاکستان کرکٹ ٹیم کے میچز کوئٹہ کے گراؤنڈ میں ہونگے اور میزبان بلوچستان ہوگا۔
#PAKvsSL
کوئی بی وائے سی کو بتائے ایسے ہوتے ہیں ہیومن رائٹ ایکٹیویسٹ،،
جس کوئٹہ پریس کلب میں آج تک ہمارے بلوچ خاندانوں کو مسنگ پرسنز کے نام پر پریس کانفرنس کرنے بٹھایا جاتا تھا آج اسی پریس کلب میں بلوچ نوجوانوں کو حق معلومات کے قانون سے متعلق شعور اجاگر کرنے کے لیے سیمینار کروائے جا رہے ہیں، اپنے حق کے لیے سوال کرنا سکھایا جا رہا ہے۔
Mahpara Magsi retweeted
From Skills to Success🔥
The daughters of Balochistan are not just dreaming, they are building their future. At the Job Fair for Skilled Women, talented women from Noshki to Jaffarabad showcased IT skills, electrical work, graphic designing, and traditional crafts.
This is NOT the old narrative. This is the new, empowered, self-reliant Balochistan!
When you give a Baloch woman a skill, she builds a nation.
#EmpoweredBalochistan #BalochWomen #WomenEmpowerment
ہمارے بلوچ بیٹیاں صرف تعلیم ہی نہیں بلکہ فن اور تخلیقی صلاحیتوں کے میدان میں بھی اپنی پہچان بنا رہی ہیں۔ کوئٹہ کی نمرہ یونس اس کی ایک خوبصورت مثال ہیں جنہوں نے اپنی خطاطی اور پینٹنگز کے ذریعے Contemporary Art Exhibition میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
2018 سے آرٹ کے سفر پر گامزن نمرہ یونیسیف کی خطاطی نمائش میں پہلی پوزیشن بھی حاصل کر چکی ہیں۔ ہمارے نوجوانوں میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، ضرورت صرف انہیں مواقع اور درست سمت دینے کی ہے۔
Mahpara Magsi retweeted
نہ سراوان کے سردار کام آئے،نہ جھالاوان کے سرداروں نے کچھ کیا،لیکن سیکیورٹی فورسز نے خان آف قلات کے فرزند کو بی ایل اے سے بازیاب کرالیا۔
قلات کے شاہی دربار کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ خان آف قالات کے فرزند آغا محمد خان احمد زئی بحفاظت محل پہنچ چکے ہیں۔
کچھ روز قبل ولی عہد کو بی ایل اے نے اغواء کرلیا تھا،کل ہی ولی عہد کی اہلیہ نے سراوان اور جھالاوان کے سرداروں کو جھنجھوڑا تھا۔
Mahpara Magsi retweeted
بلوچستان میں ٹیلی ہیلتھ پروگرام کے تحت صوبے بھر کے مریضوں کو یہ سہولت میسر ہے کہ وہ گھر بیٹھے قابل ڈاکٹرز تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں،اپنے پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل پر مشورہ لے سکتے ہیں۔
اس پروگرام کا بلوچستان کے سینیر ڈاکٹر عبدالرحمان نے دورہ کیا اور اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرے لئے آج بالکل نیا دن تھا،یہ متاثر کن پروگرام ہے۔
Mahpara Magsi retweeted
ہم بلوچوں کا غیرت پہاڑوں پر غیر مرد سے اپنا بال سیدھے کروا رہی ہے اور ہم فخر سے بتا رہے دیکھو الماس کتنی پیاری لگ رہی ہے۔
گوادر حملے میں ماری جانیوالی الماس جسے بہادری کا مینار بنا کر پیش کیا گیا اور بلوچوں میں تاثر دیا گیا کہ دیکھو الماس کتنا بہادر ہے لڑکی ہو کر اپنی قوم کیلئے لڑ رہی ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ ہاتھ میں بندوق تھامے فوج سے لڑنے مرنے کی کہانیاں اور ویڈیوز تو بہت بعد کی ہیں۔ یہ قومیت اور علیحدہ وطن کا خواب دکھانے والی تنظیمیں ہم بلوچوں کی غیرت کا جنازہ تو پہلے ہی پہاڑوں پر نکال چکی ہوتی ہیں۔
ہماری بلوچ روایات میں عورت کا مقام ہمیشہ سے اس قدر بلند اور احترام کا رہا کہ اگر دشمن کی عورت بھی ہم سے امان مانگ کر آ جائے تو اس کی عزت کی حفاظت بھی ہم بلوچ کی اپنی غیرت اور انا کا معاملہ بن جاتی ہے۔
مگر افسوس کہ پچھلے تین چار سالوں میں ہمارے بلوچستان جیسی غیرت مند سرزمین پر آج ہماری بلوچ عورت جو کبھی حیا، پردے اور عزت کا نام تھی آج ہماری بے حسی کیوجہ سے حالات کی کٹھ پتلی بن کر غیر مردوں کی صحبت میں پہاڑوں پر پہنچائی جا رہا ہے۔
ایک وہ وقت تھا جب ہم بلوچوں کی غیرت یہ تک برداشت نہ کرتی تھی کہ ہماری پناہ میں آئی غیر عورت بھی خود کو محفوظ سمجھتی تھی اور آج ہماری اپنی گھر کی عورت غیر مردوں کے درمیان پہاڑوں پر پہنچ چکی اور ہم قومیت کے نام پر اپنی عورت اور نسل دونوں کو برباد کر رہے ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ ہم نے اپنی گھر کی عورت کو اسکی خوشی یا مرضی سے اس نام نہاد وطنیت و قومیت کی بھینٹ نہیں چڑھایا بلکہ ان لوگوں کے سپرد کیا جنہوں نے انہیں کہیں قومیت تو کہیں بلیک میلنگ اور کہیں گمراہ کن پروپیگنڈے کے ذریعے انہیں بہکایا اور ہم نے بطور بلوچ اس سب کے بدلے اپنی عورت کی قیمت وصول کی۔
بطور بلوچ ہمارا سر تو شرم سے جھک جاتا ہے کہ وہ غیرت مند بلوچ آج کہاں مر گیا جو کبھی دشمن کی عورت کی بھی ڈھال بن جاتا تھا اور آج اپنے ہی گھر کی عورتوں کی قومیت کے نام پر قیمت وصول کر کے غیر مردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے۔
پتہ نہیں وہ دن بھی اب کبھی آئے گا جب ہم بلوچ مرد اپنے گریبان میں جھانک کر اس ذلت کو محسوس کریں کہ ہماری عورت جو ہماری نسلوں کو پروان چڑھاتی ہے، جس کی امیدوں میں قلم اور خوشحال مستقبل ہونا چاہئے وہ آج بارود کا ڈھیر بن رہی ہے۔
Mahpara Magsi retweeted
کچھی کینال منصوبے سے قبل ہم برسوں بارشوں کا انتظار کیا کرتے تھے،گدھوں پر پانی لایا کرتے تھے،پینے کے لئے پانی نہیں تھا،ہمارے لوگ سندھ ہجرت کررہے تھے کچھی کینال کے بعد وہ واپس آرہے ہیں،کچھی کینال منصوبے پر عوام کی رائے
ہمارے دور دراز علاقوں میں ایسی بنیادی سہولیات کی اشد ضرورت تھی۔ جھل مگسی میں اب مریضوں کو ویڈیو کال کے ذریعے ماہر ڈاکٹرز کی رہنمائی مل رہی ہے۔ امید ہے کہ اس سہولت سے ہمارے علاقے کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو بھی اپنے ہی علاقے میں رہ کر لوگوں کی خدمت کرنے کے مواقع ملیں گے، جو روزگار کی تلاش میں اپنا گھر اپنا علاقہ چھوڑ کر بڑے شہروں کا رخ کرتے تھے۔
بلوچستان کے ضلع جھل مگسی میں بنیادی مرکزِ صحت پر مریضوں کو جدید طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ اب دور دراز علاقوں کے عوام بھی ان طبی خدمات سے مستفید ہورہے ہیں جو کوئٹہ جیسے بڑے شہروں میں دستیاب ہیں۔ آن لائن ویڈیو کال کے ذریعے ماہر ڈاکٹرز مریضوں کا معائنہ کرتے ہیں، ان کی بیماریوں کی تشخیص اور علاج کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
بلوچستان کے عوام کی اصل ضرورت یہی ہے کہ صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات ان کی دہلیز تک پہنچیں، تاکہ علاج کے لیے طویل سفر اور اضافی اخراجات کی مشکلات سے نجات مل سکے۔
Mahpara Magsi retweeted
بلوچستان کے ضلع جھل مگسی میں بنیادی مرکزِ صحت پر مریضوں کو جدید طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ اب دور دراز علاقوں کے عوام بھی ان طبی خدمات سے مستفید ہورہے ہیں جو کوئٹہ جیسے بڑے شہروں میں دستیاب ہیں۔ آن لائن ویڈیو کال کے ذریعے ماہر ڈاکٹرز مریضوں کا معائنہ کرتے ہیں، ان کی بیماریوں کی تشخیص اور علاج کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
بلوچستان کے عوام کی اصل ضرورت یہی ہے کہ صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات ان کی دہلیز تک پہنچیں، تاکہ علاج کے لیے طویل سفر اور اضافی اخراجات کی مشکلات سے نجات مل سکے۔
بلوچستان کی زمینیں سردار کی
معدنی وسائل سردار کے
عوام کچھ کاشت کرلے تو سردار کو حصہ دو
سڑک بنے گی تو سردار کو حصہ دو
اسکول بنے تو بھی جرمانہ سردار کو دو
ہم بلوچ آج اگر اتنے وسائل ہونے کے باوجود محروم ہیں تو اس کی وجہ یہ سرداری نظام ہے۔
Mahpara Magsi retweeted
قلات میں صحت کی بہتر سہولیات کی جانب اہم قدم،
پرنس عبدالکریم خان ہسپتال قلات 50 بستروں پر مشتمل ہے، جس کے منصوبے میں آرتھوپیڈکس، گائنی، سرجری، میڈیسن اور لیبارٹری کی سہولیات شامل ہیں۔
#Balochistan #Pakistan #Health #Kalat
Mahpara Magsi retweeted
نوشکی گرلز ہائی اسکول کی باہمت ٹیچر زرینہ بلوچ نے مسلح افراد کی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے اسکول کھلا رکھنے اور تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے بلوچ بچوں کا روشن مستقبل خوف اور تشدد کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیا جائے گا۔
ایک طرف بلوچ بچیوں کے ہاتھوں میں قلم تھمانے کی جدوجہد ہے، تو دوسری طرف تعلیم کے راستے میں دھمکیوں کی دیوار کھڑی کرنے کی کوششیںزرینہ نے مزید کہا کہ بلوچ بچوں کو تعلیم سے دور رکھ کر آخر کس کا مستقبل سنوارا جا رہا ہے؟
مولانا ہدایت الرحمان نے شاید ان سرداروں کی بنائی نجی جیلیں نہیں دیکھیں، جہاں آج بھی اسماء جتک جیسی کتنی ہی بلوچ بیٹیاں قید ہونگی، سردار صاحبان کی خدمت کے لیے کتنی ہی بیٹیاں آج بھی ان کے گھروں میں موجود ہونگی
کیونکہ ہمارے سرداروں کے نزدیک اگر کوئی عزت دار ہے تو وہ صرف ان کے گھر کی بہن بیٹی ہے۔ کسی سردار/ نواب نے آج تک بلوچ حقوق و جہدوجہد کے نام پر اپنی بہن بیٹی کو احتجاج میں لا کر نہیں بٹھایا، لیکن ہماری بیٹیوں کو کہا جاتا پہاڑوں پر جاؤ اپنا حق لو۔
Mahpara Magsi retweeted
ہمارا سردار اختر مینگل کے فرزند ارجمند اور ہمارا چھوٹا سردار گورگین مینگل نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے گھر منگل کوٹ کے سامنے ایک نہتے منظور احمد نامی پولیس والے کو نہایت جانفشانی سے قتل کر دیا۔
ہمارے چھوٹے سردار نے اس گاڑی پر گولیوں کا بوچھاڑ کر دیا جس میں منظور احمد تھا لیکن منظور کے لواحقین ہمارے چھوٹے سردار کا احسان سمجھیں کہ انہوں نے فوج سے ٹینک لیکر اسکا گولہ نہیں مارا۔
پھر ہمارے سردار اختر مینگل کے بھائی سردار جاوید مینگل (جو لشکر بلوچستان نامی علیحدگی پسند تنظیم چلاتے ہیں) کے صاحبزادے بھی بہادری میں کسی سے کم نہیں جنہوں نے مقتول منظور احمد کے اہل خانہ کو دھمکانا شروع کر دیا۔
ہم وڈھ کے رہنے والے کمی کمین، غریب لوگ جن کی جان، مال، اولاد تک ہمارے سرداروں کی دی ہوئی ہیں۔ ہمارے سردار جب چاہیں ہمیں مار دیں، ہمارے گھر کی عورتیں اٹھا جائیں ہماری کیا جرات ہم ذرا سی چوں بھی کر سکیں۔
بلوچستان میں سرکاری نوکریوں کے نام پر کرپشن اور فراڈ کس طرح غریب عوام کو نقصان پہنچا رہا ہے، اس کا اندازہ کوہلو کے اس کیس سے لگائیں؛
کوہلو کے رہائشی محمد علی مری کا کہنا ہے کہ محکمہ تعلیم میں جے وی ٹی کی نوکری دلانے کے نام پر ان سے 15 لاکھ روپے لیے گئے، محکمہ تعلیم کے ملازم میر حاجی قلندرانی بھی اس لین دین میں ملوث تھے جبکہ ایجوکیشن آفس کوہلو کے ایک اہلکار نے 30 ہزار روپے لے کر محمد علی کو بلوچستان یونیورسٹی کی جعلی بی اے ڈگری بھی فراہم کی۔ اُس وقت کے ڈویژنل ڈائریکٹر سبی نے بھی 2 لاکھ روپے لے کر نوکری دلانے کی یقین دہانی کرائی، جبکہ متعلقہ ایجوکیشن آفیسر دو سال تک بھرتی کے وعدے کرتے رہے۔
محمد علی کے مطابق انہوں نے اپنی زمین اور جائیداد بیچ کر یہ رقم دی تھی، مگر آج وہ انصاف کے لیے دربدر ہیں اور تقریباً 50 لاکھ روپے کے مقروض ہو چکے ہیں۔
محمد علی کے پاس اس لین دین کے ثبوت، دستاویزات اور آڈیو ریکارڈنگ موجود ہیں۔ وزیراعلیٰ وزیراعلیٰ بلوچستان، چیف سیکرٹری، محکمہ تعلیم اور اینٹی کرپشن حکام سے اپیل ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کرکے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
@CMOBalochistan
@PakSarfrazbugti
Mahpara Magsi retweeted
PKR 2.8 billion for better emergency care in #Balochistan,the #Quetta Trauma Center brings critical medical care closer to the people, helping save lives when every second counts.
#Balochistan #CM #Healthcare #TraumaCenter
Mahpara Magsi retweeted
''شرزیب، رحمان گل، اللہ نذر جیسے دہشت گردوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ تم لوگوں کو پہاڑوں سے نکال کر کیفرکردار تک پہنچائیں گے''
نوشکی میں طالبات کے کالج پر بی ایل اے کے حملے پر وزیر اعلیٰ نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ،بی ایل اے آخر چاہتی کیا ہے، معصوم بچیوں پر حملہ کرنا کہاں کی بلوچیت اور روایات ہیں،بلوچستان کے لوگوں اور نشانہ بننے والی طالبات کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم کسی صورت قاتلوں اور دہشت گردوں کو نہیں چھوڑیں گے،نوشکی کالج میں زخمی ہونے والی بہادر طالبات کے نام پر اسپورٹس فیسٹیول کرایا جائے گا۔
Mahpara Magsi retweeted
لیں جی ہم بلوچوں کے ہمدرد امریکہ میں بیٹھ کر ٹوئٹر پر ہمیں خبردار کر رہے ہیں کہ ہم بلوچوں کے ہمدردوں نے اپنے اور ہمارے بلوچستان میں پل اڑا دیا لہذا ہم بلوچ اپنے بلوچستان میں سفر کرتے ہوئے احتیاط کریں۔
کتنی مزے کی بات ہے نا کہ بلوچستان میں بلوچوں کی سہولت کیلئے کبھی پل، کبھی سڑک تو کبھی ٹرک اڑا دیا جاتا ہے تاکہ بلوچستان کے بلوچ پاکستان کی سہولت لینے کی بجائے ذلیل ہوں کیونکہ قومیت کی عزت کا ٹھیکہ تو بلوچستان میں رہنے والے بلوچ نے اٹھا رکھا ہے۔
لیکن یہ بلوچستان سے باہر امریکہ، ناروے، کینیڈا، سوئیزرلینڈ میں بیٹھے بلوچ نے قومیت کی عزت کا ٹھیکہ نہیں اٹھا رکھا کیونکہ اسے تو اپنا اور اپنے بچوں کا مستقبل بنانا ہے اور ہم نے یہاں بلوچستان میں بیٹھ کر قومیت کے نام پر اپنے بچوں کا مستقبل برباد کرنا ہے۔ @zehrijournalist
















