loud creativity Designing visuals that leave a mark❤

Balochistan, Pakistan
Joined May 2026
Zimal chakar retweeted
بیسمہ کے علاقے ناؤڈوک نالے میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران مسلح تنظیم کا اہم کمانڈر عبید دودا اور اس کا بھتیجا حکمت ہلاک ہوئےکارروائی کے بعد بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد ہوا، جبکہ کلیئرنس آپریشن جاری ہے مسلح تنظیموں کی بلوچستان کے امن کو اسلحے کے زور پر یرغمال بنانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی بلوچستان کی عوام پائیدار امن کے لیے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر مسلح نیٹ ورکس کا خاتمہ کرنے کے لیے پُرعزم ہیں
6
20
42
911
Zimal chakar retweeted
بلوچستان کی اصل پہچان ماہرنگ بلوچ نہیں بلکہ مناہل حمید جیسی بیٹیاں ہیں ۔ جو ناصرف اپنی قوم بلکہ ملک کا نام بھی روشن کررہی ہیں اور خواتین کو روزگار بھی فراہم کررہی ہیں ۔ مناہل حمید بلوچستان کے ایک چھوٹے سے قصبے میں پلی بڑھیں، جہاں روایتی طور پر خواتین کے لیے تکنیکی شعبے (جیسے الیکٹریشن) میں داخل ہونا تقریباً ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ سماجی توقعات، محدود مواقع اور مردوں کے غلبے والے پیشوں کی وجہ سے زیادہ تر لڑکیاں اس راستے پر نہیں چلتیں، مگر مناہل نے اس سوچ کو اپنے لیے حد نہیں بننے دیا۔ انہوں نے Schneider Electric کے Youth Education & Entrepreneurship Program میں حصہ لیا (جسے Schneider Electric Foundation سپورٹ کرتا ہے)۔ اس پروگرام کے ذریعے انہیں انرجی مینجمنٹ میں تکنیکی مہارتوں کے ساتھ ساتھ کاروباری اور انٹرپرینیورشپ کی تربیت بھی ملی۔ یہ پروگرام نوجوانوں کو صرف تربیت نہیں دیتا بلکہ ان میں خود اعتمادی اور اپنے کیریئر خود بنانے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ تربیت مکمل کرنے کے بعد مناہل نے اپنا خواتین کی قیادت والا الیکٹریکل کمپنیشروع کیا اور بلوچستان کی پہلی خاتون الیکٹریشن بن گئیں۔ وہ اب خود کام کرتی ہیں، سائٹ پر الیکٹریکل ورک کرتی ہیں، اور اپنا کاروبار چلاتی ہیں۔ وائس آف بلوچستان کی خصوصی ویڈیو میں انہیں تعمیراتی سائٹ پر کام کرتے ہوئے اور انٹرویو دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جہاں وہ نقاب میں بیٹھی خواتین کے لیے تکنیکی تعلیم کی اہمیت اور رکاوٹوں کو توڑنے کی بات کرتی ہیں۔ انہیں تعلیم، روزگار اور سماجی دباؤ کی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، مگر صحیح سپورٹ اور اپنی محنت سے انہوں نے نہ صرف اپنی پہچان بنائی بلکہ بلوچستان کی دیگر خواتین کے لیے بھی ایک مثال قائم کر دی۔ ان کی کہانی یہ بتاتی ہے کہ اگر خواتین کو مہارت، اعتماد اور موقع ملے تو وہ روایتی حدوں کو توڑ کر خود روزگار پیدا کر سکتی ہیں اور دوسری لڑکیوں کے لیے راستہ کھول سکتی ہیں۔
8
14
44
896
Zimal chakar retweeted
اختر مینگل کی 'سیاسی ناراضگی' اور استعفے کا اصل سچ سامنے آ گیا، وزارتِ اعلیٰ کا خواب، غیر قانونی مائنز کی منسوخی اور 'آپریشن ہیروف' کی ناکامی کی سنسنی خیز اندرونی کہانی! بلوچستان کی سیاست کے گرداب میں بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل کی مبینہ ناراضگی، اسلام آباد میں احتجاج اور اسمبلی سے استعفے کے ڈرامے کے پیچھے چھپی وہ اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے جس نے قوم پرست سیاست کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ انتہائی باثوق سیاسی اور سیکیورٹی ذرائع سے ملنے والے انکشافات کے مطابق، اختر مینگل کی یہ نام نہاد ناراضگی 'بلوچ حقوق' کے لیے نہیں بلکہ ذاتی مفادات، وزارتِ اعلیٰ کی کرسی چھیننے اور اربوں روپے کے غیر قانونی ٹھیکے منسوخ ہونے کا نتیجہ ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ اس پورے قضیے کا آغاز سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کے دوران ہوا تھا۔ اس وقت اختر مینگل کی بی این پی کے 4 ووٹ انتہائی فیصلہ کن تھے اور پی ڈی ایم (PDM) کو ان کی سخت ضرورت تھی۔ اندرونی کہانی یہ ہے کہ اختر مینگل کو آصف علی زرداری اور شہباز شریف سے امید تھی کہ عمران خان کے جاتے ہی آئندہ سیٹ اپ میں انہیں وزیراعلیٰ بلوچستان بنا دیا جائے گا۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے عدم اعتماد کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اپنی اس ذاتی ڈیل کو 'بلوچستان کی بہتری' کا نام دے کر عوام کو گمراہ کیا۔ تاہم، بعد میں جب ان کی یہ توقعات پوری نہ ہوئیں اور کرسی کسی اور کو مل گئی، تو وہ آصف زرداری اور شہباز شریف سے شدید ناراض ہو کر الگ تھلگ ہو گئے۔ سردار اختر مینگل کی فرسٹریشن میں اس وقت اضافہ ہوا جب بلوچستان کی موجودہ صوبائی حکومت نے صوبے بھر میں کرپشن مافیا کے خلاف گھیرا تنگ کرتے ہوئے غیر قانونی مائنز کی لیز اور سرکاری زمینوں کے ٹھیکوں کی ہائی پاور جانچ پڑتال شروع کی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس تحقیقات کے دوران یہ چونکا دینے والا انکشاف ہوا کہ سردار اختر مینگل اور ان کے قریبی عزیز و اقارب کے ناموں پر درجن سے زائد غیر قانونی مائننگ لائسنس موجود تھے، جن کے ذریعے وہ سالوں سے بلوچستان کے وسائل لوٹ کر اربوں روپے بنا رہے تھے۔ موجودہ حکومت نے بغیر کسی دباؤ کے یہ تمام غیر قانونی ٹھیکے اور لیزز منسوخ کر دیں، جس نے اختر مینگل کی معاشی سلطنت کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس پر مستزاد یہ کہ جب اختر مینگل بیرونِ ملک (دبئی) فرار ہونا چاہتے تھے، تو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انہیں ایئرپورٹ پر روک دیا، جسے انہوں نے اپنی سرداری انا کی توہین جانا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اختر مینگل اور ان کے ہم نوا حلقوں کو یہ توقعات تھیں کہ اگر بی ایل اے اپنے ہیروف دو آپریشن میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو موجودہ صوبائی حکومت کی رٹ پر سنگین سوالیہ نشان لگ جائے گا، جس کا فائدہ اٹھا کر قوم پرست اپوزیشن جماعتیں صوبے میں بلیک میلنگ اور اقتدار کے حصول کی سیاست چمکا سکیں گی۔ لیکن سیکیورٹی فورسز نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر بی ایل اے کے دہشت گردوں کو چن چن کر مار بھگایا، اور یوں اختر مینگل کے ہاتھ سے حکومت گرانے کا یہ آخری سنہری موقع بھی جاتا رہا۔ سیاسی مبصرین اور باثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ سردار اختر مینگل اس وقت شدید 'فرسٹریشن پلس ڈپریشن' کا شکار ہیں، کیونکہ ان کا سیاسی قد کاٹھ اور معاشی فنڈنگ دونوں ختم ہو چکے ہیں، اس لیے اب ان کے کسی بھی بیان یا استعفے کو عوام اور ریاست سنجیدگی سے نہیں لے رہی۔ ذرائع نے طنزیہ طور پر دعویٰ کیا ہے کہ اگر آج رات ہی اختر مینگل کو دوبارہ بلوچستان کی وزارتِ اعلیٰ کی کرسی پیش کر دی جائے، تو وہ کل صبح خود پریس کانفرنس کر کے اپنی ہی زبان سے عوام کو بتائیں گے کہ بلوچستان میں اب کوئی مسئلہ نہیں اور یہاں "دودھ اور شہد کی نہریں" بہہ رہی ہیں۔
8
36
101
6,068
بلوچستان کی پہلی خاتون الیکٹریشن مناہل حمید نے روایتی سوچ سے ہٹ کر الیکٹریشن کے شعبے میں قدم رکھتے ہوئے ایک منفرد مثال قائم کی ہے۔ اپنے عزم، محنت اور ہنر کے ذریعے وہ نہ صرف اپنی پہچان بنا رہی ہیں بلکہ بلوچستان کی دیگر خواتین کے لیے بھی نئی راہیں کھول رہی ہیں۔ ہمت، خودمختاری اور کامیابی کے اس منفرد سفر کی کہانی دیکھیے وائس آف بلوچستان کی خصوصی ویڈیو میں۔
11
21
57
12,945
Zimal chakar retweeted
بلوچستان کی سیاسی فضا میں اس وقت ایک زبردست بھونچال آ گیا ہے جب حق دو تحریک کے قائد مولانا ہدایت الرحمن نے ایک بیباک انکشاف کرتے ہوئے صوبے کے روایتی قوم پرستوں کے بیانیے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے۔ نوابوں اور سرداروں کی فرعونیت پر مسلسل وار کرنے کے بعد، اب مولانا نے بلوچستان کی قوم پرست سیاست کے سب سے بڑے سیاسی کارڈ پر ایسا حملہ کیا ہے جس نے قوم پرست حلقوں کی نیندیں اڑا دی ہیں اور وہ عوامی سطح پر شدید دفاعی پوزیشن میں آ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، مولانا ہدایت الرحمن کا ایک تازہ ترین بیان بلوچستان بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہا ہے جس میں انہوں نے پنجاب کے عوام کے حوالے سے انتہائی مثبت اور سچ پر مبنی حقائق کا اعتراف کیا ہے۔ مولانا نے کھلے عام اعلان کیا ہے کہ: "پنجاب کے لوگ ہمارے ساتھ دل کھول کر تعاون کر رہے ہیں۔ انہی کے مالی تعاون کی بدولت اس وقت میں بلوچستان کے 1,300 یتیم اور بے سہارا بچوں کی مکمل کفالت کر رہا ہوں، جبکہ 1,000 سے زائد بچوں کے تمام تعلیمی اخراجات اٹھائے جا رہے ہیں۔ میں اس عظیم ہمدردی اور مدد پر پنجاب کے تمام اہل خیر کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔" قوم پرستوں کے چہرے بے نقاب، عوام میں مولانا کے چرچے سیاسی مبصرین کے مطابق، مولانا کے اس کھرے اور سچے اعتراف نے بلوچستان کے ان قوم پرست حلقوں کے لیے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے جو ہمیشہ اپنے سیاسی مقاصد اور دکان چمکانے کے لیے پنجاب کے خلاف نفرت انگیز مہم چلاتے نظر آتے تھے۔ عام عوام میں مولانا ہدایت الرحمن کے اس بیان کی غیر معمولی پذیرائی کی جا رہی ہے اور لوگ کہہ رہے ہیں کہ مولانا نے وہ سچ بول دیا ہے جسے بولنے کی ہمت آج تک کسی روایتی سیاستدان میں نہیں تھی۔ اس سنسنی خیز انکشاف کے بعد اب بلوچستان کی غیور عوام اپنے ہی نوابوں، سرداروں اور نام نہاد قوم پرست لیڈروں کا گریبان پکڑ کر سوال کر رہی ہے کہ: "جب پنجاب کے اہل خیر ہمارے ہزاروں بچوں کا مستقبل سنوار رہے ہیں، تو تمہاری دہائیوں پرانی نفرت انگیز قوم پرست سیاست سے ہمیں پسماندگی اور لاشوں کے علاوہ کیا ملا؟" عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جو سردار خود اربوں پتی ہیں، انہوں نے کبھی کسی غریب بلوچ بچے کی کفالت نہیں کی، جبکہ دوسری طرف سے آنے والی مدد نے یہاں کے مظلوموں کو آسرا دیا۔ مولانا کے اس انقلابی اور حقیقت پسندانہ بیانیے نے بلوچستان کی سیاست کا رخ یکسر تبدیل کر دیا ہے، جس کے بعد قوم پرستوں کا پسماندگی اور نفرت پر مبنی چورن اب مزید بکتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا۔
28
146
2
449
14,027
The Kachhi Canal project aims to transform agriculture and livelihoods in Balochistan by expanding irrigation, improving soil fertility, and creating new economic opportunities. Watch our exclusive video to learn more about the project and its potential impact on the province.
8
20
47
10,609
Zimal chakar retweeted
پاکستان اور ایران کے درمیان پھیلی 909 کلومیٹر طویل سرحد پر اچانک لگائی جانے والی عارضی انتظامی بندش کے پیچھے چھپی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے، جس نے کچھ حلقوں میں کھچاؤ پیدا کر دیا ہے۔ انتہائی معتبر انٹیلیجنس اور سیکیورٹی ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق، یہ عارضی بندش کسی عام سفارتی وجہ سے نہیں بلکہ سرحد پار سے آنے والے موت کے اس سامان کو روکنے کے لیے کی گئی ہے جس نے حالیہ دنوں میں بلوچستان کو خون آلود کیا۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ بلوچستان میں ہونے والی حالیہ ہولناک دہشت گردی کی کارروائیوں کی جب جیو فینسنگ اور فارنزک تحقیقات کی گئیں، تو یہ ہلا دینے والی حقیقت سامنے آئی کہ ان حملوں میں 1,500 سے 2,000 کلوگرام (2 ٹن) تک کا انتہائی تباہ کن دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔ حساس اداروں کی تحقیقات میں یہ سنسنی خیز انکشاف ہوا کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے نے یہ ہزاروں کلو گرام بارود کسی خفیہ راستے سے نہیں، بلکہ پاک-ایران سرحد پر قانونی طور پر چلنے والی مال بردار تجارتی گاڑیوں اور ٹرکوں کے ذریعے ہی پاکستان منتقل کیا تھا۔ اندرونی کہانی کے مطابق، دہشت گردوں کے سہولت کاروں نے تجارتی سامان اور پیاز، ٹماٹر یا ایل پی جی (LPG) لے جانے والے بڑے ٹرکوں کے خفیہ خانوں میں یہ مہلک بارود چھپا کر کسٹمز اور سیکیورٹی حکام کی آنکھوں میں دھول جھونکی۔ یہ معلومات سامنے آتے ہی اعلیٰ سطح پر ہنگامی فیصلہ کیا گیا کہ جب تک سرحد پر مال بردار گاڑیوں کی 100 فیصد فول پروف اسکیننگ، سامان کی جدید ترین آلات سے جانچ پڑتال اور سخت ترین سیکیورٹی ایس او پیز (SOPs) کا نفاذ عمل میں نہیں لایا جاتا، تب تک سرحد پر تجارتی سرگرمیاں معطل رہیں گی۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس عارضی انتظامی بندش کا واحد مقصد نئے اور انتہائی سخت اسکریننگ قوانین کا نفاذ ہے تاکہ تجارتی گاڑیوں کے روپ میں آنے والے 'موت کے سوداگروں' کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند کیا جا سکے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ سرحد پر اسکینرز کی تعداد بڑھائی جا رہی ہے اور اب ہر مال بردار گاڑی کو سخت ترین تلاشی کے عمل سے گزرنا ہوگا، جس کے بعد بی ایل اے اور اس کے بیرونی آقاؤں کا یہ سب سے بڑا لاجسٹک نیٹ ورک ہمیشہ کے لیے تباہ ہو جائے گا۔
64
167
7
690
70,016
مولانا ہدایت الرحمان بتارہے ہیں کہ میں 1300 بلوچ بچوں کی کفالت کرتا ہوں جن میں سے 1000 ہزار بچوں کے تعلیمی اخراجات میرے پنجاب کے بھائی ادا کرتے ہیں۔ لیکن مولانا ہدایت الرحمان نے خیربخش مری،سردار عطاءاللہ مینگل،اکبر بگٹی کی اولاد سے سوال کیا کہ آپ نے اپنے باپ دادا کے نام پر کوئی ایک ہسپتال یا تعلیمی اداروں کیوں نہیں بنایا ؟ اِس ایک سوال پر مولانا ہدایت الرحمان پر مخصوص ایجنڈے پر تعینات سوشل میڈیا ٹرولز نے انہیں گالیاں دیں۔
12
195
2
490
9,344
ب ی آر ا ے مسلح تنظیم کا اعتراف، لاپتہ افراد کے بیانیے پر بڑا سوالیہ نشان! جن افراد کو بی وائی سی کے لاپتہ ظاہر کیا گیا وہ مسلح تنظیم کے ارکان تھے انسانی حقوق ایک سنجیدہ معاملہ ہے، اسے بی وائی سی کے سیاسی پروپیگنڈے کی ڈھال بنانے کے بجائے حقائق اور شواہد کی بنیاد پر بات ہونی چاہیے کہ یہ گمراہ بیانیہ کی تنظیم بلوچ عوام کو کس طرف لے جارہی ہے ؟
8
18
1
24
553
چاغی کے دشوار گزار اور سنگلاخ پہاڑی علاقے دُگّانہ میں سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران مسلح افراد کے خفیہ ٹھکانوں اور غاروں تک رسائی حاصل کی کارروائی میں 3 مسلح افراد ہ لاک جبکہ متعدد ٹھکانے اور پناہ گاہیں تباہ کر دی گئیں بلوچستان کے دور دراز اور دشوار گزار علاقے مسلح افراد کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بننے دیے جائیں گے اور نہ ہی مسلح گردی کے لیے محفوظ ٹھکانہ ہے، نہ کوئی رعایت!
5
12
21
244
آپریشن ردالفتنہ III کے تحت نوشکی، بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے ان ٹ یلی جنس کی بنیاد پر درست نشانہ لگاتے ہوئے ب ھارتی حمایت یافتہ مسلح تنظیم کے ٹھکانوں کو ڈرون اسٹرائیکس کے ذریعے مؤثر انداز میں نشانہ بنایا کارروائی کے نتیجے میں 5 مالی افراد ہلاک ہوگئے جبکہ تنظیم کے فعال نیٹ ورک کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات یہ کارروائی بلوچستان میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والے مسلح نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی
6
10
18
252
بلوچستان حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو مؤثر بنانے کے لیے قانون سازی، جدید سیکیورٹی نظام اور ادارہ جاتی اصلاحات پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات کے مطابق، گزشتہ دو سال میں 18 نئے قوانین، 17 نئے محکموں کا قیام، 14 ارب روپے کی سرمایہ کاری اور 60 ہزار سے زائد مختلف نوعیت کے آپریشنز کیے گئے ہیں سیف سٹی منصوبے، فرانزک ایجنسی، کوئٹہ سیکیورٹی بورڈ اور شاہراہوں کے تحفظ کے اقدامات بھی اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔ حکومت کے مطابق، آئندہ 3 سے 4 ماہ میں کوئٹہ کراچی اور کوئٹہ تفتان شاہراہوں کو مزید محفوظ بنانے کا ہدف ہے صوبائی وزیر داخلہ ضیا لانگو نے دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر سیاسی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امن کے قیام کے لیے قانون سازی اور سیکیورٹی اداروں کو مضبوط بنانا ضروری ہے معاونِ اطلاعات شاہد رند کے مطابق، متعلقہ قوانین صوبائی کابینہ اور اسمبلی سے منظور کرائے گئے۔
6
21
2
33
714
اللہ نذر بلوچ اور بشیر زیب بلوچ جیسے مسلح جدوجہد کے راستے کو اپنانے کے بجائے دانش اسکول میں مفت تعلیم حاصل کرکے CSS افسر بننا اور ملک و قوم کی خدمت کرنا کہیں زیادہ بہتر اور باوقار انتخاب ہے بولان میڈیکل کالج (BMC) اور جامعہ بلوچستان جیسے اداروں سے تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں سے قوم کو امیدیں وابستہ ہوتی ہیں کہ وہ ڈاکٹر، محقق، افسر اور رہنما بن کر اپنے لوگوں کی تقدیر بدلیں گے، نہ کہ تشدد کے راستے پر چل کر اپنی صلاحیتیں ضائع کریں گے۔ بلوچستان کو اسلحہ اٹھانے والوں سے زیادہ قلم اٹھانے والے، نفرت پھیلانے والوں سے زیادہ علم بانٹنے والے، اور تباہی کے بجائے تعمیر کا راستہ اختیار کرنے والے نوجوانوں کی ضرورت ہے یہی حقیقی کامیابی ہے اور یہی بلوچستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔
8
14
23
782
پاک ایران سرحد عارضی طور پر انتظامی بندش کا شکار کیوں ہے؟ پاکستان اور ایران کے درمیان تقریباً 909 کلومیٹر طویل سرحد ہے حالیہ سیکیورٹی اطلاعات کے مطابق بلوچستان میں دہشت گردی کی بعض کارروائیوں کے دوران 1,500 سے 2,000 کلوگرام تک دھماکا خیز مواد استعمال ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔بی ایل اے نے جو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا وہ پاک ایران سرحد کے ذریعے مال بردار تجارتی گاڑیوں سے ہی پہنچایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ دھماکا خیز مواد تجارتی سامان اور مال بردار ٹرکوں کے ذریعے پاک ایران سرحد سے پاکستان پہنچایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ سرحد پر مال بردار گاڑیوں کی مؤثر اسکیننگ، سامان کی جانچ پڑتال اور نئے سیکیورٹی ایس او پیز کے نفاذ پر توجہ دی جا رہی ہے اور اسی مقصد کے لئے سرحد کو عارضی طور پر بند کیا گیا ہے،تاکہ موثرایس او پیز کا نفاذ ہوسکے
6
14
31
1,823
بلوچستان میں سرداروں کے خلاف بغاوت،سرکاری سرپرستی ختم کرنے اور احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کا مطالبہ۔ وہ صوبائی اسمبلی جہاں کبھی سرداروں کا راج ہوتا تھا،وہاں اب انہی سرداروں کے خلاف علمِ بغاوت بلند ہوچکا ہے۔ اختر مینگل اور اُس کے بیٹے کے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی گئی،اب ایک قرار داد جمع ہوئی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سرداری نطام ختم کیا جائے،سرداروں کی سرکاری سرپرستی بھی ختم کریں،یہ انقلاب اسماء جتک کیس کے بعد آیا ہے،قرارداد میں خضدار میں اسما جتک کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے سرداری نظام کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
10
17
35
1,335
افغانستان ہلمند کے علاقے لشکر گاہ میں کالعدم تنظیم کے مبینہ تربیتی کیمپ کی ڈرون فوٹیج سامنےآنا ایک سنگین معاملے کی نشاندہی ہے افغان سرزمین اگر پاکستان میں مسلح گردی کی منصوبہ بندی اور تربیت کے لیے استعمال ہو رہی ہے تو یہ امن دشمن عناصر کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی کا تقاضا کرتا ہے نیشنل ایکشن پلان کے تحت مسلح گردی کے لیے کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں نہ مسلح گردوں کے لیے کوئی رعایت پاکستان کے امن پر حملہ کرنے والوں کا سخت احتساب ہوگا
5
12
18
281
گوادر اب محض ایک بندرگاہ نہیں، بلکہ پاکستان کی معاشی ترقی اور علاقائی تجارت کا اہم مرکز بننے کی جانب گامزن ہے۔ گوادر فری زون میں پاک چین مشترکہ سرمایہ کاری کے تحت شہزاد اینڈ شاؤ فارم (Shehzada and Shao Farm) کا سنگِ بنیاد رکھ دیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت پاک چین اقتصادی تعاون کو مزید مستحکم کرنے اور گوادر میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ایسے منصوبے بلوچستان میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ، مقامی سطح پر روزگار کے امکانات اور مستقبل کی ترقی کی نئی راہیں کھولنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ گوادر کی ترقی، بلوچستان کی خوشحالی اور پاکستان کے معاشی مستقبل کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔
7
34
40
613
نصیرآباد میں ترقیاتی کاموں کی بڑی کامیابی! 74 کروڑ روپے کے 78 منصوبے وقت سے پہلے مکمل، ترقی اب زمین پر نظر آنے لگی! بلوچستان اسپیشل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو (BSDI) کے تحت نصیرآباد میں ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل محض اعداد و شمار نہیں، بلکہ عوامی ضروریات پوری کرنے کی جانب ایک عملی قدم ہے۔ تعلیم، صحت، صاف پانی، سڑکوں اور بنیادی سہولیات کے شعبوں میں مکمل ہونے والے یہ 78 منصوبے علاقے میں بہتر معیارِ زندگی کی امید کو مضبوط بناتے ہیں۔ بلوچستان کی ترقی صرف وعدوں سے نہیں، عملی اقدامات اور عوام تک سہولیات کی فراہمی سے ممکن ہے۔
6
25
33
792
چاغی میں 2 مسلح افراد ہلاک! بلوچستان میں بدامنی پھیلانے اور عوام کے امن و مستقبل کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں چاغی میں آپریشن کے دوران 2 مسلح افراد ہلاک بلوچ عوام کے نام پر اسلحہ بر داری کرنے والوں کو سمجھنا ہوگا کہ بلوچ عوام ایک روشن اور خوشحال مستقبل کے خواہاں ہیں مسلح گردی کے نہیں
6
61
1
72
608
گوادر فری زون میں پاکستانی اور چینی سرمایہ کاروں کے مشترکہ منصوبے کا افتتاح،زرعی و غذائی شعبے کو فروغ دیا جائے گا،سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ گوادر کے مقامی افراد کو ملازمت کےلئے ترجیح دی جائے گی balochistaninsight.com/880-e…
6
9
36
935