Sharafat Rana retweeted
آج بہت بڑے بڑے صحافیوں نے پاکستان سے پچھلے تین سال میں اٹھارہ لاکھ لوگوں کے اچھے مستقبل کی خاطر بیرون ملک منتقل ہونے کی خبر بڑے فخر سے شئیر کی ہے ۔
کاش وہ اس خبر کے ساتھ اپنی اپنی تنخواہ کی سلپ بھی شئیر کردیتے کہ تھرڈ کلاس بی اے پاس بھی ایک ایک کروڑ تنخواہ لے رہے ہیں جو کہ یورپ یوکے میں ایک خواب ہی ہوسکتا ہے۔
Sharafat Rana retweeted
سانحہ کار ساز 19برس بیت گئے
سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کا آغاز اگرچہ صدیوں پہلے ہوا لیکن ہمارے ہاں مخصوص انداز میں ٹارگٹ کلنگ دو دہائیاں پہلے شروع ہوئی جب محترمہ بینظیر بھٹو کو پاکستان واپسی پر کراچی میں قتل کرنے کی کوشش کی گئی۔ آخرکار دشمن کامیاب ہوئے اور لیاقت باغ میں بے نظیر کو شہید کردیا گیا۔ کیا ان 19برسوں میں ہمارے سیاستدانوں، طاقت ور فوجی جرنیلوں، بیوروکریسی اور عوام نے کچھ سیکھا ہے؟
Sharafat Rana retweeted
طریقہِ واردات بہت پرانا اور فرسودہ ہے، جنرل ضیاء دور میں پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ منور ایک تاریخی اور نادر مقدمے میں بطور ملزم پیروی کے لیے جایا کرتے تھے۔ مقدمہ یہ تھا کہ آپ سرکاری گاڑی پر ایک اداکارہ کے گھر گئے تھے، آپکی سرکاری گاڑی ہوٹل سے کھانا لینے بھی جاتی تھی۔ جس سے قومی خزانے کو شدید نقصان ہوا۔ اس طرح کے چار مقدمات میں دو سال قید بامشقت ہوئی۔ پھر وقت بدلا تو وہی جنرل ضیاء تھے اور وہی راجہ منور انکے الیکشن سیل کے سربراہ تھے۔
Sharafat Rana retweeted
اتنے تعلیم یافتہ افراد پاکستان چھوڑ رہے ہیں کہ کچھ عرصہ تک صرف فوجی، صحافی اور وکیل باقی رہ جائیں گے
Sharafat Rana retweeted
جب قائداعظم نے پاکستان کا پہلا وزیراعظم بننے کے بجاے گورنر جنرل بننے کا انتخاب کیا تو کسی اخبارنویس نے ان سے سوال کیا کہ جس گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کے تحت دونوں ڈومینین ریاستیں وجود میں آ رہی ہیں ان میں انتظامی اختیارات وزیراعظم کے پاس ہوں گے اور گورنر جنرل برطانیہ کے نمائندے کے طور پر صرف نمائشی عہدہ ہو گا، تو پھر انھوں نے یہ انتخاب کیوں کیا۔ ان کا جواب تھا: پاکستان میں انتظامی اختیارات گورنر جنرل کے پاس ہوں گے۔ اور ایسا ہی ہوا۔ نہ صرف صوبہ سرحد اور سندھ کی صوبائی حکومتوں کو برطرف کرنے، قلات، لسبیلہ اود دوسری ریاستوں کو برٹش بلوچستان کا حصہ بنانے، اور کشمیر کی آزادی کے لیے قبائلی جہادی بھیجنے کے فیصلے گورنر جنرل نے کیے بلکہ مرکزی کابینہ کے تمام اجلاسوں کی صدارت بھی کی اور ان اجلاسوں میں وزیراعظم کو دوسرے وزیروں کے ساتھ پہلو میں بیٹھنا پڑا۔ تمام اختیارات اس وقت تک گورنر جنرل کے عہدے میں مرکوز رہے جب تک انھیں دارالحکومت سے ہٹا کر خرابی صحت کی بنا پر زیارت نہ بھجوا دیا گیا۔ جب خدا خدا کر کے انھوں نے رحلت فرمائی تو وزیراعظم لیاقت علی خاں نے چار دن اتدار کے مزے لوٹنے کا ارادہ کیا اور مشرقی بنگال کے خواجہ ناظم الدین کو گورنر جنرل بنا دیا۔ اس کے بعد سہارنپور سے آئے ہوے مولانا شبیر احمد عثمانی کی بنائی ہوئی قراردادِ مقاصد کی منظوری، پبلک سیفٹی ایکٹ کے نفاذ، جنرل اکبر خاں (مجاہد کشمیر) کی سویلین حکومت کو ٹھکانے لگا کر فیض، سجاد ظہیر وغیرہ کی مدد سے فوجی انقلاب برپا کرنے کی سازش پکڑنے، کمیونسٹ پارٹی پر پابندی لگانے وغیرہ کے تمام فیصلے وزیراعظم نے کیے۔ کابینہ کے اجلاسوں کی صدارت کی حسرت بھی غالباً جی بھر کر پوری کی۔ لیکن فلکِ ستمگر کا کرنا کیا ہوا، اپنی بدقسمتی (اور اپنے مخالفوں کی خوش قسمتی) سے وہ کمپنی باغ کے ایک جلسے میں گولی کا نشانہ بن کر دنیا سے پردہ کر گئے۔ اس کے بعد جو سیاسی تبدیلیاں ہوئیں ان کے نتیجے میں اصل اقتدار ملک غلام محمد، چودھری محمد علی گروپ کے ہاتھ میں آ گیا اور ملک غلام محمد نے گورنر جنرل کا عہدہ سنبھال کر اس میں دوبارہ اقتدار کی روح پھونک دی۔ خواجہ ناظم الدین نے اپنی دانست میں چالاکی سے کام لیتے ہوے خود کو گورنر جنرل ہاؤس سے پرائم منسٹر ہاؤس میں منتقل کر لیا اور سوچا کہ شاید اب ان کا راج ہو گا۔ یہ ان کی خام خیالی تھی۔ تین برس بعد جب ملک غلام محمد نے ان کو کھڑے کھڑے ڈسمس کر دیا تو وہ حیران رہ گئے۔ بعد میں کسی نے ان سے پوچھا کہ بھارت نے تو اپنا آئین بنا کر واضح کر دیا ہے کہ جمہوریہ کے تحت اختیارات کی تقسیم کس طرح ہو گی، پاکستان میں یہ تقسیم کس طرح ہے؟ ان کا جواب تھا: جب میں گورنر جنرل تھا تو اختیارات وزیراعظم کے پاس تھے، اور جب وزیراعظم بنا تو گورنر جنرل کے پاس چلے گئے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔
اکستان کے تیسرے گورنر جنرل ملک غلام محمد کی ثنا، ان کے پرائیویٹ سیکرٹری محمد بشیر (م۔ ب۔) خالد کی کتاب "ایوان صدر میں سولہ سال" سے۔
Sharafat Rana retweeted
میں چاہتا ہوں کہ قابل احترام تجزیہ نگار ۔ وسیع تر تجربہ کے حامل صحافی اور ملک کی ہر اونچ نیچ سے واقف لوگوں کو کوئی ایک ایسا موقع تلاش کر کے بتائیں جب پیپلز پارٹی کی قیادت نے ریاستی مقتدرہ سے سہولت کاری کے حصول کے لیے اپنے نظریات پر کمپرومائز کیا ہو ۔ کوئی ایک ایسا موقع دکھائیں جب پیپلز پارٹی نے اقتدار کے حصول کو ٹارگٹ بنایا ہو ۔
کھلی انکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے کہ پیپلز پارٹی ایک ایسی سیاسی جماعت ہے جو پاکستان میں پارلیمانی جمہوریت کی ٹرین کی ڈرائیور ہے ۔ ایک یونیورسٹی ہے مخالفین کو اقتدار رشوت میں دے کر منزل کی جانب بھاگتی ہے ۔ پیپلز پارٹی لوگوں کو قربانی دینا اپنے مفادات کو ترک کرنا اور ملکی مفادات کے حصول کے لیے جدوجہد میں شریک ہونا سکھا رہی ہے ۔ نہ معلوم یہ بات ناقدین کی سمجھ میں کب آئے گی ۔
تحریر
شرافت رانا ۔
Sharafat Rana retweeted
پیپلز پارٹی کے ناقدین اور بالخصوص جن لوگوں کو گزشتہ 50 سال میں ریاستی مقتدرہ کی سرپرستی میں میڈیا میں نصب کر کے بڑا نام بنایا گیا ۔ ان کی تجزیہ کرنے کی صلاحیت تو ہمیشہ قابل سوال رہتی ہے ۔
معلوم نہیں یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں لیکن تاریخ سے تجزیہ کرنا کیوں نہیں سیکھتے ۔
معروف صحافی ذوالفقار علی بھٹو ، ایوب خان ، یحییٰ خان ، نواز شریف ، عمران خان ، آصف علی زرداری بلاول بھٹو زرداری اور بے نظیر بھٹو کو طاقت ، اقتدار اور حکومت کرنے کے جنون میں مبتلا شخص کی طرح دیکھتے ہیں ۔
معلوم نہیں کہ وہ یہ تجزیہ کرتے وقت سادہ سادہ باتوں کو کیوں نظر انداز کرتے ہیں ۔
ذوالفقار علی بھٹو 32 سال کی عمر میں طاقتور ترین وزیر تھا ۔ جب اس نے اقتدار کے نصف النہار پر چمکتے ہوئے روشنی کے منبع اور طاقت کے سورج ایوب خان کی مخالفت کا اعلان کیا اور طاقتور وزارت سے استعفیٰ دے دیا ۔ ایسی کوئی صورت پیپلز پارٹی کے مخالفین میں بھی دستیاب ہے کہ کسی کو بھی اقتدار حادثاتی طور پر واقعاتی طور پر مل گیا ہو اور اس نے اقتدار چھوڑ دیا ہو کوئی ایک ایسا واقعہ پیپلز پارٹی کے مخالفین میں سیب مثال دے کر بتایا جائے تاکہ ہم سب کے کردار کو یکساں مطالعہ کر سکیں ۔
پھر بھٹو نے الیکٹیبلز کی بجائے عوام میں بیٹھ کر ایک سیاسی جماعت بنائی مختصر کرتا ہوں بالاخر بھٹو اقتدار میں آگیا اور چیف مارشل ایڈمنسٹریٹر کا عہدہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ۔
تصور کیجئے لامحدود طاقت اختیارات اور فوجی سربراہ ہونے کی استعداد بھٹو نے تین مہینے میں ترک کر دی ۔
عبوری آئین بنایا اور سویلین صدر بننے پر فخر محسوس کیا ۔
پھر 1973 کا آئین بنایا اور اپنے اختیارات مزید کم کیے اور وزیراعظم بن گیا ۔
جس وقت امریکہ کی روس کے خلاف جنگ میں شرکت کے عوض اس کی کئی نسلوں کو اقتدار دینے کا وعدہ کیا جا رہا تھا تو اپوزیشن بن کر کھڑا ہو گیا ۔
جیل میں گیا تو اسے نواز شریف اور دیگران کی طرح بیرون ملک منتقل ہونے اور سیاست چھوڑنے کی پیشکش کی گئی انکار کر دیا ۔
جب بھی کبھی ملک میں اختلافات پیدا ہوئے تو ایسا ڈائیلاگ کیا جس میں ہمیشہ بھٹو نے اپوزیشن کے حق میں قربانی دی اور اپنے اختیارات اور اپنے نظریات پر کمپرومائز کیا اور اپوزیشن کی ھر بات مانتا چلا گیا ۔
بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری تو پوری عمر سراپا قربانی کی ایک داستان ہے ۔
بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری نے اپنے اقتدار کے دوران کبھی مخالفین پر نہ مقدمہ بنایا نہ انہیں جیل بھجوانے کی کوشش کی بلکہ انہیں انگیج کیا ۔
اپنی عادت سے مجبور نواز شریف جو دھوکہ دے کر بھاگتے ہوئے منہ کے بل گرتا تھا ۔ اسے بار بار بے نظیر بھٹو نے اور آصف علی زرداری نے بازو پکڑ کر اپنی سیاست میں کھڑا کیا ۔
2002 میں وردی سمیت صدر قبول کرنے پر پیپلز پارٹی کو حکومت ملتی تھی ۔ بنانے سے انکار کیا ۔ پارٹی تڑوا لی اور بے نظیر بھٹو کی جان کی قربانی دی۔ آصف علی زرداری مزید پانچ سال تک بلا کسی مقدمہ اور الزام کے جیل میں رہے ۔
2014 میں دھرنہ کی سرپرستی کے لیے سب سے پہلا رابطہ پیپلز پارٹی سے کیا گیا تھا ۔
2013 میں نواز شریف طالبان اور فوجی اسٹیبلشمنٹ نے مل کر پیپلز پارٹی کو قتل کیا تھا ۔ ابھی زخم ہرے تھے ۔ اور نواز شریف اور پیپلز پارٹی کی لیڈرشپ کے مابین وسیع کمیونیکیشن گیپ تھا ۔ بات چیت کے روادار نہیں تھے ۔ لیکن جب آئین اور پارلیمان کو دھرنہ کے سامنے کمزور ہوتے دیکھا تو میاں محمد نواز شریف کے گھر خود چل کر گئے ۔
2018 اور 2024 کے انتخابات سے قبل جس طرح دیگر فریق ریاستی مقتدرہ سے انگیج تھے اور مذاکرات کر رہے تھے کہ حکومت کس کی بنوائی جائے ۔
پیپلز پارٹی نے ہر دو مواقع پر شراکت اقتدار کی ہر پیشکش کو مسترد کیا ۔
2022 میں عدم اعتماد کے موقع پر بلاول بھٹو زرداری کے لیے وزیراعظم کی سلاٹ کو پیپلز پارٹی نے اپنے وسیع تر ٹارگٹس کے حصول کے لیے یعنی آئینی ترامیم کے پیکج کے حصول کے لیے قربانی دی اور شہباز شریف کو وزیراعظم بنوایا اور بالاخر آئینی ترمیم کی صورت میں ایک بڑا سنگ میل حاصل کیا ۔
Conclusion of Sharafat Rana’s post in the comments
@SystemExpertPk
Sharafat Rana retweeted
پاکستان بار کونسل کا میرا کیس عدالت میں ہے اور جادوئی طور پر تمام وکلاء غائب ہو چکے ہیں 😁
دو روز قبل اس کیس کی ہئرنگ تھی کوئی بھی وکیل پیش نا ہو سکا اور کیوں ، یہ شائد مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے ۔
پھر جج صاحب نے بھی کمال دکھایا فائل اٹھائ اور سائڈ پر رکھ دی یعنی اگلی کوئی تاریخ بھی نہیں دی گئ ابھی تک 🤣🤣
جئیے ششٹم
چند روز پہلے میں نے پاکستان انفارمیشن کمیشن سے رجوع کیا اور پاکستان بار کونسل کو ملنے والی حکومتی گرانٹس کی تفصیلات طلب کیں۔
سوال بہت سادہ تھا:
اگر کوئی ادارہ قانون کے تحت قائم ہو، عوامی نوعیت کے فرائض انجام دیتا ہو اور اسے سرکاری فنڈز یا گرانٹس ملتی ہوں، تو کیا عوام کو یہ جاننے کا حق نہیں کہ یہ ادارہ کیسے کام کر رہا ہے اور اسے کتنے سرکاری وسائل مل رہے ہیں؟
پاکستان انفارمیشن کمیشن نے میرے مؤقف سے اتفاق کیا۔
کمیشن نے پاکستان بار کونسل کو پبلک باڈی قرار دیا اور اسے ہدایت کی کہ میری جانب سے طلب کی گئی معلومات فراہم کی جائیں۔
مجھے لگا کہ شاید بات یہیں ختم ہو جائے گی۔
لیکن پھر ایک نیا موڑ آیا۔
4 ستمبر کو پاکستان بار کونسل کے ارکان میں ایک ایسی تجویز گردش کرنے لگی جس کے تحت ایک نیا رول متعارف کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس مجوزہ رول کے مطابق پاکستان بار کونسل اور اس کی مختلف کمیٹیوں کے تمام کام، کارروائیاں، اجلاسوں کی بحث اور دیگر معاملات عمومی طور پر "خفیہ" اور "کلاسیفائیڈ" قرار دیے جا سکیں گے۔
سادہ الفاظ میں کہیں تو:
پہلے معلومات کو خفیہ سمجھا جائے گا، اور ظاہر کرنے کے لیے اجازت لینا پڑے گی۔
لیکن پھر ایک اہم بات سامنے آئی۔
پاکستان بار کونسل کے آٹھ ارکان نے اس تجویز کی مخالفت کر دی۔
ان ارکان میں معروف وکیل سلمان اکرم راجہ بھی شامل ہیں۔
ان کے ساتھ عابد شاہد زبیری، محمد مقصود بٹر، ایم۔ شفقت محمود چوہان، منیر احمد کاکڑ، عبد الستار خان، صلاح الدین احمد اور قاضی محمد ارشد نے بھی اس تجویز پر اعتراض کیا۔
ان ارکان نے بنیادی طور پر دو اہم سوال اٹھائے۔
پہلا:
اتنی اہم ترمیم کو سرکولیشن کے ذریعے منظور کرنے کی کیا ضرورت ہے، جبکہ بظاہر کوئی ہنگامی صورتحال موجود نہیں؟
اور دوسرا، اس سے بھی زیادہ اہم سوال:
ایک منتخب اور قانونی حیثیت رکھنے والے ادارے کی کارروائیاں عمومی طور پر خفیہ کیوں ہونی چاہئیں؟
ان ارکان نے بالکل واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان بار کونسل کوئی نجی کلب نہیں بلکہ ایک منتخب ادارہ ہے جو پوری قانونی برادری کی نمائندگی کرتا ہے۔
ان کا مؤقف ہے کہ:
شفافیت اصول ہونی چاہیے اور رازداری صرف استثنا۔
انہوں نے آئین کے آرٹیکل 19 اور آرٹیکل 19-A کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ مجوزہ ترمیم آزادی اظہار اور عوام کے حقِ معلومات سے متصادم ہو سکتی ہے۔
میرے لیے یہ معاملہ صرف ایک RTI درخواست یا چند دستاویزات تک محدود نہیں رہا۔
یہ اب ایک بہت بنیادی سوال بن چکا ہے:
عوامی ادارے عوام کے سامنے کتنے جواب دہ ہیں؟
حقِ معلومات کسی ادارے یا کسی فرد کو نشانہ بنانے کا نام نہیں۔
یہ صرف ایک سادہ سا سوال پوچھنے کا حق ہے:
اگر کوئی کام عوامی اہمیت رکھتا ہے تو عوام کو اس کے بارے میں جاننے کا حق کیوں نہیں ہونا چاہیے؟
میری RTI درخواست کا آغاز سرکاری گرانٹس کی معلومات سے ہوا تھا۔
لیکن آج اس نے ایک بہت بڑی بحث کو جنم دیا ہے:
شفافیت، جوابدہی اور عوام کے جاننے کے حق کی بحث۔
اور شاید یہی Right to Information کی اصل طاقت ہے۔
ایک سوال ایک بحث شروع کر سکتا ہے۔
ایک فیصلہ ایک مثال قائم کر سکتا ہے۔
اور شفافیت کی طرف ایک چھوٹا قدم ایک بڑا دروازہ کھول سکتا ہے۔
Sharafat Rana retweeted
شہزاد اقبال اور شاہزیب خانزادہ صاحب!
اسیسمنٹ ایک اندازہ ہے، خبر ایک مصدقہ حقیقت۔ اندازے کو خبر بنا کر پیش کرنا صحافت نہیں! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جیو والے شاہ سے بڑھ کر شاہ کے وفادار بننے کی دوڑ میں صحافت کا دامن بھی چھوڑ بیٹھے ہیں!
شہزاد اقبال صاحب، جو خود کو سینئر صحافی لکھتے ہیں، ایک Assessment کو خبر بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ مسئلہ شریف خاندان اور بھٹو خاندان کا ہے، اور سندھ میں نئے صوبے بننے سے بھٹو خاندان کے علاوہ بھی کسی کے وزیراعلیٰ بننے کی راہ کھلے گی۔
جناب! یہی اصول صرف پنجاب میں شریف خاندان پر لاگو کرتے ہوئے آپ کی زبان کیوں لڑکھڑانے لگتی ہے؟ پیپلز پارٹی نے تو بھٹو خاندان سے باہر بھی وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم اور چیئرمین سینیٹ دیے ہیں۔ کیا صرف شریف خاندان کے حوالے سے ایسی مثالیں پیش کرنے سے آپ کے تجزیے کا توازن بگڑ جاتا ہے؟
گورنر راج کے مؤقف پر جب بھرپور جواب ملا, تو اب پھر سندھ کی تقسیم کا راگ الاپا جا رہا ہے۔
آخر جیو کے مالکان اور صحافی حضرات ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ آپ کو یاد ہوگا کہ جب صدرِ مملکت آصف علی زرداری صاحب چند دن کے لیے لندن میں قیام پذیر ہوئے تو جیو کے رپورٹرز اور اینکرز نے کیسے کیسے تبصرے کیے اور خبریں چلائیں۔ یہ صحافت تھی یا بھٹو خاندان اور پیپلز پارٹی کے خلاف بغض کی مسلسل تشہیر؟
آخر !! سینٹ پیٹرک ہائی اسکول کے زمانۂ طالب علمی کی یادوں سے کب باہر نکلیں گے؟ لگتا ہے کچھ سبق ایسے ہوتے ہیں جو عمر بھر دل و دماغ سے محو نہیں ہوتے!
👇👇
Sharafat Rana retweeted
جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے
ان شہزادوں کے اہل خانہ کے انٹرویوز کرو تو ہر کوئی یہی کہے گا ہمارے بیٹے یا بیٹی کے خلاف سازش ہوئی ہے۔ وجہ پوچھو تو یہی جواب آئے گا” وہ سچا مسلمان اور پاکستانی تھا، کافر گوروں کو اس کی وطن اور دین سے محبت اچھی نہیں لگتی تھی” حیران کن بات یہ ہے کہ وہ پاکستانی جو وہاں موجود ہیں اور جانتے ہیں کہ وہاں جرائم کی تحقیق اور عدالتی نظام ہمارے ہاں سے کہیں بہتر ہے، وہ بھی یہی کہیں گے، پاکستانی اور مسلمان، بس یہی دو جرم تھے، یہ کوئی نہیں کہے گا اپنی منجھی تھلے وی ڈانگ پھیرو۔
Sharafat Rana retweeted
عقیل یوسفزئی، سینئر صحافی:
میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ جنرل نگار کے آنے سے خیبر پختونخوا میں صحت کا سسٹم ہلنا شروع ہو گیا ہے۔۔ ڈاکٹر عامر عبداللہ کے وزیرتعلیم آنے سے کھلبلی مچی ہے۔ خیبر پختونخوا میں سیٹ اپ جس انداز سے بدلا ہے اس کی تیاری ایک ماہ پہلے سے کر لی گئی تھی، اس ایک ہفتے میں خیبر پختونخوا کے کسی علاقے میں کوئی بڑا حملہ نہیں ہوا۔۔ فیڈرل کانسٹیبلری کو اب فوج اور پولیس کے ساتھ انگیج کرنے کی پالیسی بنائی گئی ہے،، نئے نظام میں ایک مشران کی مشاورتی کونسل بنے گی۔۔ یہ کہنا کہ تیرہ ماہ میں مسائل حل ہو جائیں گے ایسا نہیں ہو گا مگر مسائل کم ضرور ہو سکتے ہیں۔
@iaqeelyousafzai
#FaislaAapKa TEAM | Hum News
Sharafat Rana retweeted
موبائل میموری سے ایک تصویر ملی ہے جو میں نے اپنی شادی پر رخصت کے لئے اپنے سنئیر کے نام درخواست لکھی تھی۔ اوپر سنئیر کے سائن کے ساتھ لکھا ہو اہے Not allowed.
شادی بھی ہوگئی۔ چار بچے بھی ہوگئے ۔
بھلا ایسی حرکتوں سے کام رکے کبھی ۔
یہ احباب بھی کہتے ہونگے کہ ہم کام کرتے رہے۔ ان صاحب سے یہ سیکھا تھا کہ جب بھی ملازم کی اپنی شادی کی درخواست آئی بغیر اس کا لیو اکاؤنٹ چیک کئے اس کو رخصت اتفاقیہ سے 15 چھٹیاں دی ہیں۔ہم نے عہد کر رکھا ہے جو زہر ہم میں inject کیا گیا وہ آگے ٹرانسفر نہیں کرنا ۔
Sharafat Rana retweeted
یونیورسٹی سسٹم سو فیصد ناکام ہو چکا ہے۔ شریف پروفیسرز ، ہمبلڈ کلاس ایسوسی ایٹ اور اسسٹنٹ پروفیسرز یا ہمبلڈ انتظامی افراد عزت کو بچا بچا کر نوکری کے دن پورے کرتے ہیں۔ بیگماتِ و صاحبان بیوروکریسی اور بیگمات و صاحبان سیاستکاران کی بدمعاشی ہے۔
کماؤ، کھاؤ، کھلاؤ یا آکڑ جاؤ جتنے دن اکڑ سکتے ہو۔ یہی یونیورسٹی سسٹم ۔ جو کام چل رہا ہے وہ اس لئے کہ کچھ درویش ، صابر ، شاکر اور عاشقان تعلیم موجود ہیں جو بیڑا پوری طرح غرق ہونے سے بچا ہوا۔ سب سے زیادہ کرائم سنڈیکیٹس کا مسئلہ ہے!!!
@MaryamNSharif @Marriyum_A @PunjabHed @hecpkofficial @PHEC_official
Sharafat Rana retweeted
9 مئی کو ’’فالس فلیگ آپریشن‘‘ کہنے والوں کا اعتراض تھا کہ ریاست نے فوجی تنصیبات اور جناح ہاؤس پر حملے کیوں نہیں روکے؟ آج اگر ایک اور مبینہ نو مئی، لانگ مارچ، کو آئین و قانون کے تحت روکا گیا تو جمہوری حق یاد آ گیا؛ ایمرجنسی، گورنر راج اور فوج کی طلبی پر سوال اٹھنے لگے۔
پی ٹی آئی نے 2014ء سے 2026ء تک 12 سال احتجاج، انتشار اور دباؤ کی سیاست سے ریاست کو مسلسل الجھائے رکھا۔ بالآخر ایمرجنسی اور گورنر راج کا راستہ اختیار کیا گیا۔ مگر فیصلہ ساز بھی اپنی اداؤں پر غور کریں کہ آخر ریاست کا چہرہ اسی "ایک چہرے" تک محدود کیوں ہے؟
12 سال تک انتشار برداشت کرنے کے بعد اگر حل ایمرجنسی اور گورنر راج ہی رہ گیا، تو پھر 9 مئی کے ماسٹر مائنڈز کا ٹرائل کیوں نہیں؟ اور اس جیل سے اُس جیل میں کیوں نہیں؟
مریم نواز ہماری انسپائریشن ہے مریم نواز سے سیاست سیکھتے ہیں پی ٹی ائی لیڈرشپ قومی اسمبلی اور سینٹ سے صوبائی اسمبلی سے استعفے دیں گے ۔
لگے رہو منا بھائی ۔
Sharafat Rana retweeted
جب ہم نئے نئے نوکر بنے تو ہماری باس کا کام ہمیں روزانہ شوکاز جاری کرنا ہوتا تھا ۔ جس میں آخری جملے یہ ہوتے تھے کہ آپ کی وجہ سے زیر دستخطی کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ لہذا اپنی پوزیشن واضح کریں ورنہ آپ کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا
اوپر ہم سب دوستوں کے نام ہوتے جن کے نام وہ لیٹر جاری ہوتا تھا۔
ایسی عادت ہوگئی کہ جونہی سٹاف کا لڑکا ہاتھ میں کاغذ پکڑے آفس کے دروازے پر آتا ہم پوچھتیں کہ کیا زیر دستخطی آج پھر شرمندہ ہوگئی ہیں?
وہ واقعی ہوتی بھی تھیں ۔ پھر ہم لیٹر پر وصولی دیتے اور ساتھ تہذیب سے پیزا آرڈر کرتے۔ساتھ براؤنیز ۔
غم غلط کھا کر ہی ہوتا پھر بڑے مگ چائے پی کر بیگ اٹھا کر ہم دفتر سے باہر ۔
اگلے دن پھر جا کر جواب دیتے۔
زندگی میں یہی سیکھا کہ زیردستخطی ہمیشہ شرمندہ رہتے ماتحتوں سے ۔
اس کی وجہ ان کی بھی کسی سے ہوتی تھی جو وہ نیچے ٹرانسفر کرتے تھے ۔
تاہم یہ بھی سیکھ لیا کہ ناکامی سب کی ناکامی ہوتی ہے اس طرح کامیابی بھی سانجھی ہوتی ہے۔
ناکامی ماتحتوں کے گلے اور کامیابی اپنے گلے ڈالنے والے آفیسر شرمندہ قسم کے زیردستخطی ہوتے ہیں اور ہمیشہ شرمندہ رہتے ورنہ ناکامیاں اور کامیابیاں اکٹھی سلیبریٹ کی جا سکتی ہیں۔ وہ پیزا جو ماتحت کھا کر سنئیر کو شرمندہ چھوڑ کر نکل جاتے ہیں وہ سنئیر کے ساتھ بھی کھایا جا سکتا ہے مل کر حالات سے نکلنے کا پلان بنایا جا سکتا ہے اور نکل بھی آتے ہیں۔
Sharafat Rana retweeted
تعلیمی نظام میں بڑا انقلابی قدم
سندھ نے ایک نیا سنگِ میل عبور کر لیا
سندھ، پاکستان کا پہلا صوبہ ہے جہاں تمام تعلیمی بورڈز کو نادرا (NADRA) کے مرکزی ڈیجیٹل ڈيٹا بیس کے ساتھ منسلک کر دیا ہے۔
جعلی اسناد کا خاتمہ
تعلیمی اسناد کی شفاف اور فوری تصدیق۔
بغیر کسی پریشانی کے داخلے
طلبہ کے ڈیٹا کی نادرا کے ذریعے خودکار تصدیق۔تمام تعلیمی بورڈز کے نظام میں جدیدیت اور بہتری۔
@NadraPak
@ReplyTariq
talabat.com/oman/talabat-mar…
Sharafat Rana retweeted
پی ٹی آئی کے تمام پارلیمنٹیرینز ایک طرف اور لانگ مارچ کا فیصلہ کرنے والا مفرور مراد سعید دوسری طرف! حکومت کو یہ تو پتہ چل گیا کہ مراد سعید نے آخری لمحات میں مذاکرات سبوتاژ کر دیے، مگر یہ پتہ نہیں چل سکا کہ مراد سعید خود کہاں ہے!
واہ رے نظامِ تفتیش! مذاکرات سبوتاژ کرنے والا تو معلوم ہے، مگر مفرور کا ٹھکانہ معلوم نہیں! ایسی کمال کی منطق تو صرف ہمارے ہاں ہی ممکن ہے!
Sharafat Rana retweeted
سعودی عرب نے مولویوں کو ناراض کردیا؟
سعودی حکومت نے ایک سری لنکن شہری جس نے فیس بک پر توہین آمیز مواد شئیر کیا تھا اس کو سزائے موت دینے کے بعد معاف کردیا۔ سری لنکن شہری نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے معافی طلب کی تھی۔ اس خبر سے پاکستان میں لاتعداد مولوی اور ہالینڈ سے پاکستان آیا ہوا اپنے آپ کو مستری قرار دینے والا شخص شدید غصے میں ہے اور امکان ہے کہ وہ آج سعودیوں کو شاید دائرہ اسلام سے خارج کردے۔ اس کے ویڈیو پیغام کا شدت سے انتظار ہے۔























