Pinned Tweet
🚨برے انجام کی شروعات ہمیشہ برے اعمال سے ہوتی ہے۔‼️
فتنہ الہندوستان (FAH) کے اس کرائے کے دہش-تگرد کا انجام دیکھ لیں۔ آج نہ کوئی نعرہ ہے، نہ کوئی جھنڈا، نہ کوئی ساتھی۔ صرف ایک بے جان لاش، جو ویرانے میں پڑی ہے اور جنگلی جانوروں کی خوراک بن چکی ہے۔
دہش-ت گردی کا راستہ ہمیشہ ایسے ہی عبرتناک انجام پر ختم ہوتا ہے۔
#Balochistan
داڑھی اور پگڑی عزت کی علامت ہیں، مگر اصل عزت انسان کے کردار اور زبان سے پہچانی جاتی ہے۔ حافظ حمداللہ کو اپنے الفاظ اور رویے پر غور کرنا چاہیے۔ جو شخص دوسروں کو اخلاقیات کا درس دیتا ہے، اسے سب سے پہلے اپنی زبان اور رویے کا محاسبہ کرنا چاہیے۔
جس ماں کا حافظ حمد اللہ جیسا بیٹا ہو تو وہ صرف ماں نہیں بلکہ پورے خاندان اور معاشرے کے لئے شرمندگی کا باغث بنتا ہے۔
اپنے داڑھی اور پگڑی کو دیکھ کر ہی شرم کرلو بے شرم انسان۔ سولہ سالہ لڑکی تمہاری بیٹی نہیں بلکہ نواسی کی جگہ ہوگی۔ بے غیرت تم پر آکر رکھ جاتی !
@iHafizHamdullah
داڑھی اور پگڑی عزت کی علامت ہیں، مگر اصل عزت انسان کے کردار اور زبان سے پہچانی جاتی ہے۔ حافظ حمداللہ کو اپنے الفاظ اور رویے پر غور کرنا چاہیے۔
جس ماں کا حافظ حمد اللہ جیسا بیٹا ہو تو وہ صرف ماں نہیں بلکہ پورے خاندان اور معاشرے کے لئے شرمندگی کا باغث بنتا ہے۔
اپنے داڑھی اور پگڑی کو دیکھ کر ہی شرم کرلو بے شرم انسان۔ سولہ سالہ لڑکی تمہاری بیٹی نہیں بلکہ نواسی کی جگہ ہوگی۔ بے غیرت تم پر آکر رکھ جاتی !
@iHafizHamdullah
Prof Sher Muhammad Chauhan retweeted
جس ماں کا حافظ حمد اللہ جیسا بیٹا ہو تو وہ صرف ماں نہیں بلکہ پورے خاندان اور معاشرے کے لئے شرمندگی کا باغث بنتا ہے۔
اپنے داڑھی اور پگڑی کو دیکھ کر ہی شرم کرلو بے شرم انسان۔ سولہ سالہ لڑکی تمہاری بیٹی نہیں بلکہ نواسی کی جگہ ہوگی۔ بے غیرت تم پر آکر رکھ جاتی !
@iHafizHamdullah
"ساتھ دو یا جان دو" فتنہ الہندوستان کا بلوچ نوجوانوں کے خلاف خونی کھیل!
بلوچ نوجوانوں کے سامنے دو راستے رکھے جاتے ہیں: دہشت گردی کا حصہ بنو یا موت کے لیے تیار ہو جاؤ! فتنہ الہندوستان اور اس کے سہولت کاروں نے خوف، لالچ اور برین واشنگ کو اپنا ہتھیار بنا کر بلوچ نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلنا شروع کر رکھا ہے۔ غریب گھرانوں کے نوجوانوں کو پہاڑوں میں عیش و عشرت کے خواب دکھا کر ریاست کے خلاف کھڑا کیا جاتا ہے، انکار کرنے والوں کو اغوا اور قتل کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
یہ کون سی آزادی ہے جس میں اپنے ہی نوجوانوں کو جینے کا حق نہیں؟ کون سی قوم پرستی ہے جس میں بلوچ ماؤں کی گودیں اجاڑی جائیں، باپوں کے بڑھاپے کے سہارے چھینے جائیں اور کتابوں کی جگہ نوجوانوں کے ہاتھوں میں بندوق تھما دی جائے؟
ایک طرف نوجوانوں کو دہشت گردی کی آگ میں دھکیلا جاتا ہے، دوسری طرف اسی خون پر مسنگ پرسنز کا بیانیہ کھڑا کرکے پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ بلوچ نوجوانوں کو اب سمجھنا ہوگا کہ ان کا مستقبل پہاڑوں، بندوقوں اور لاشوں میں نہیں، تعلیم، شعور اور ترقی میں ہے۔ بلوچ نسل کو بچانا ہے تو اس خونی کاروبار کو مسترد کرنا ہوگا۔
#BLAForcingWomenForTerrorAttacks #Balochistan #Baloch
Prof Sher Muhammad Chauhan retweeted
تین نسلوں سے شیخ عبداللہ خاندان خود کو کشمیری مسلمانوں کی شناخت کے محافظ کے طور پر بیچ رہا ہے، جبکہ اس خاندان کی اپنی ذاتی زندگی کا اس شناخت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ شیخ عبداللہ سے فاروق عبداللہ اور اب عمر عبداللہ تک، نعرہ ہمیشہ اسلام، کشمیریت اور خودمختاری کا لگایا، ووٹ لینے کے لیے، لیکن اپنے گھر کے اندر فیصلے ہمیشہ دوسری دنیا کے کیے۔ انگریز بیوی، بیٹی کی شادی کانگریس خاندان میں، اور اب دوسری شادی ایک کشمیری پنڈت صحافی سے۔
کسی کے ذاتی فیصلے پر اعتراض نہیں، اعتراض سیاسی منافقت پر ہے۔ جو خاندان اپنے گھر میں ایک کشمیری مسلمان بہو نہیں لا سکا وہ پوری وادی کی مسلمان شناخت کی حفاظت کا دعویٰ کیسے کرتا ہے!!
اصل المیہ یہ ہے کہ جب عمر عبداللہ دہلی سے مسکراتی تصویریں پوسٹ کر رہے ہیں کہ "ایک نیا سفر شروع"، عام کشمیری مسلمان وہیں پرانے سفر میں پھنسا ہوا ہے، روزانہ تلاشیاں، آپریشن، بے روزگاری، ریاستی تشخص کا کوئی نام و نشان نہیں، الیکشن کے وعدے ہوا میں، اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کا ذکر تک اب ان کی تقریروں سے غائب ہے۔ ان کے لیے اب لڑائی کیبنٹ میں ردوبدل کی ہے، جبکہ کشمیریوں کے لیے اب بھی بقا کی۔
یہ شادی نہیں، اس خاندان کی اس پرانی عادت کی آخری کڑی ہے جس نے اقتدار میں رہنے کے لیے ہمیشہ دہلی کے ہندو اکثریتی نظام سے منظوری لی۔ ووٹ مسلمان شناخت کے نام پر لینا ہے اور داد وصول کرنی ہے دہلی کے سیکولر کلب میں۔ یہی وہ سودا ہے جس نے کشمیری مسلمان کی اصل شناخت کو آہستہ آہستہ بیچ دیا ہے۔
کشمیریت اور مسلم شناخت کے نام پر عوام سے ووٹ لینا، مگر عملی سیاست میں دہلی کی خوشنودی کو ترجیح دینا، دوہرا معیار ہے۔
تین نسلوں سے شیخ عبداللہ خاندان خود کو کشمیری مسلمانوں کی شناخت کے محافظ کے طور پر بیچ رہا ہے، جبکہ اس خاندان کی اپنی ذاتی زندگی کا اس شناخت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ شیخ عبداللہ سے فاروق عبداللہ اور اب عمر عبداللہ تک، نعرہ ہمیشہ اسلام، کشمیریت اور خودمختاری کا لگایا، ووٹ لینے کے لیے، لیکن اپنے گھر کے اندر فیصلے ہمیشہ دوسری دنیا کے کیے۔ انگریز بیوی، بیٹی کی شادی کانگریس خاندان میں، اور اب دوسری شادی ایک کشمیری پنڈت صحافی سے۔
کسی کے ذاتی فیصلے پر اعتراض نہیں، اعتراض سیاسی منافقت پر ہے۔ جو خاندان اپنے گھر میں ایک کشمیری مسلمان بہو نہیں لا سکا وہ پوری وادی کی مسلمان شناخت کی حفاظت کا دعویٰ کیسے کرتا ہے!!
اصل المیہ یہ ہے کہ جب عمر عبداللہ دہلی سے مسکراتی تصویریں پوسٹ کر رہے ہیں کہ "ایک نیا سفر شروع"، عام کشمیری مسلمان وہیں پرانے سفر میں پھنسا ہوا ہے، روزانہ تلاشیاں، آپریشن، بے روزگاری، ریاستی تشخص کا کوئی نام و نشان نہیں، الیکشن کے وعدے ہوا میں، اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کا ذکر تک اب ان کی تقریروں سے غائب ہے۔ ان کے لیے اب لڑائی کیبنٹ میں ردوبدل کی ہے، جبکہ کشمیریوں کے لیے اب بھی بقا کی۔
یہ شادی نہیں، اس خاندان کی اس پرانی عادت کی آخری کڑی ہے جس نے اقتدار میں رہنے کے لیے ہمیشہ دہلی کے ہندو اکثریتی نظام سے منظوری لی۔ ووٹ مسلمان شناخت کے نام پر لینا ہے اور داد وصول کرنی ہے دہلی کے سیکولر کلب میں۔ یہی وہ سودا ہے جس نے کشمیری مسلمان کی اصل شناخت کو آہستہ آہستہ بیچ دیا ہے۔
🚨 سنی میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 3 دہشت گرد ہلاک
مارخور کی مصدقہ معلومات کی بنیاد پر سیکیورٹی فورسز نے سنی میں کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، جس کے دوران تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانے سے کینسٹرز، تاریں اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا۔
دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز پوری طرح متحرک ہیں۔ ملک کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور دہشت گردوں کو ان کے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
#Balochistan #PakistanArmy #Markhor
🚨 ضلع خاران میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، 5 دہ-ش-ت-گ-رد ہلاک!
سیکیورٹی فورسز نے خاران میں مصدقہ انٹیلیجنس اطلاعات کی بنیاد پر کامیاب کارروائی کرتے ہوئے پانچ دہ-ش-ت-گ-ردوں کو ہلاک کر دیا۔ یہ کارروائی بلوچستان میں دہ-ش-ت-گرد نیٹ ورکس کے خلاف ایک اہم کامیابی ہے۔
دہ-ش-ت-گردی کے خاتمے، امن و استحکام کے قیام اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی فورسز پوری عزم و ثابت قدمی کے ساتھ مصروفِ عمل ہیں۔ ریاست پاکستان کا امن دشمن عناصر کے خلاف عزم غیر متزلزل ہے۔
#Kharan #Balochistan
بی ایل اے کے پروپیگنڈے اور خوف کے جال سے نکل کر ایک کمسن بچی کا واپس آنا اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں اب معصوم بچوں کو بھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے گریز نہیں کر رہیں۔
جس عمر میں بچوں کے ہاتھوں میں قلم، بستہ اور کھلونے ہونے چاہئیں، اس عمر میں انہیں بارود اور موت کے راستے پر دھکیلا جا رہا ہے۔ ایک طرف بچی کے والدین کی آنکھوں میں جدائی کا درد ہے، دوسری طرف ان کی فریاد ہے کہ بلوچستان کے کسی اور گھر کا چراغ اس آگ کی نذر نہ ہو۔
**بی ایل اے کو اگر اپنی جنگ لڑنی ہے تو اپنے بچوں کو اس میں کیوں جھونک رہی ہے؟ بلوچ ماؤں کے لختِ جگر کسی تنظیم کی جنگ کے سپاہی نہیں، اس قوم کا مستقبل ہیں۔ بچوں کو بندوق نہیں، کتاب دو؛ نفرت نہیں، زندگی کا راستہ دو!**
#Balochistan
جس بلوچ معاشرے میں عورت کو عزت دینے کے لیے مرد راستہ چھوڑ دیتے تھے، جہاں عورت کی حرمت کو غیرت اور وقار کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج اسی بلوچ عورت کو کبھی خودکش بمبار بنایا جا رہا ہے، کبھی مسلح سرگرمیوں کا ایندھن اور کبھی استحصال کا نشانہ۔
یہ بلوچ روایات کا تحفظ نہیں، ان روایات کی کھلی توہین ہے۔ عورت کے نام پر نعرے لگانے والوں نے اسی عورت کی عزت، شناخت اور مستقبل کو اپنے مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ چند عناصر کے گھناؤنے کردار کا بوجھ بلوچستان کی ہر بیٹی کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ **عورت کو نعرہ، ہتھیار اور ڈھال بنانے والے اس کے خیرخواہ نہیں ہو سکتے۔ بلوچ عورت کو استحصال نہیں، عزت، تحفظ اور باوقار مستقبل چاہیے۔**
#Balochistan
بی ایل اے کی نئی وائرل ویڈیو نے اس تنظیم کے نام نہاد آزادی کے دعوؤں اور اصل چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بی ایل اے کے مسلح کارندے ایک بزرگ شہری کو پاکستان مردہ باد، بشیر زیب زندہ باد اور ماہ رنگ لانگو زندہ باد کے نعرے لگانے پر مجبور کرتے ہیں، لیکن جیسے ہی بزرگ شہری پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتا ہے، اسے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
جو تنظیم ایک بزرگ شہری کی زبان سے پاکستان زندہ باد کا نعرہ بھی برداشت نہیں کر سکتی، وہ عوام کی نمائندگی اور حقوق کی بات کیسے کر سکتی ہے؟ نہتے بزرگ پر تشدد ان کی بزدلی، عدم برداشت اور انسانیت دشمن سوچ کا واضح ثبوت ہے۔
یہ آزادی کی جدوجہد نہیں، خوف، جبر اور تشدد کے ذریعے لوگوں کی آواز دبانے کی کوشش ہے۔
#Balochistan #BLA
بی ایل اے کی نئی وائرل ویڈیو نے اس تنظیم کے نام نہاد آزادی کے دعوؤں اور اصل چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بی ایل اے کے مسلح کارندے ایک بزرگ شہری کو پاکستان مردہ باد، بشیر زیب زندہ باد اور ماہ رنگ لانگو زندہ باد کے نعرے لگانے پر مجبور کرتے ہیں، لیکن جیسے ہی بزرگ شہری پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتا ہے، اسے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
جو تنظیم ایک بزرگ شہری کی زبان سے پاکستان زندہ باد کا نعرہ بھی برداشت نہیں کر سکتی، وہ عوام کی نمائندگی اور حقوق کی بات کیسے کر سکتی ہے؟ نہتے بزرگ پر تشدد ان کی بزدلی، عدم برداشت اور انسانیت دشمن سوچ کا واضح ثبوت ہے۔
یہ آزادی کی جدوجہد نہیں، خوف، جبر اور تشدد کے ذریعے لوگوں کی آواز دبانے کی کوشش ہے۔
#Balochistan #BLA
Prof Sher Muhammad Chauhan retweeted
معروف صحافی و اینکر کامران خان اور اے آر وائی چینل کا رشتہ ختم۔ سیاست گھر ذرائع
@ARYNEWSOFFICIAL
@Salman_ARY
@AmmadYousaf
@AajKamranKhan
بشیر زیب دہشت گردی کی علامت ہے۔ رانا ثناءاللہ کے مطابق، اس کے زیرِ اثر دہشت گرد معصوم مسافروں کو بسوں سے اتار کر، خصوصاً پنجابی مسافروں کو، ان کے اہلِ خانہ کے سامنے گولیوں کا نشانہ بناتے ہیں۔ زندگی کی بھیک مانگتے نہتے شہریوں کو بے دردی سے قتل کرنا کسی جدوجہد کا نام نہیں بلکہ کھلی دہشت گردی ہے۔
#Balochistan
بلوچ شناخت کے دشمن بی ایل اے کے کارندوں نے مقامی ڈرائیور کا واحد ذریعہ معاش ٹرک نذر آتش کردیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق بی ایل اے کے کارندے ٹرک ڈرائیورز سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اُن کے لئے سہولت کاری کی جائے،ان کا سامان،اسلحہ یا دیگر تخریب کاری کا سازوسامان ترسیل کیا جائے،انکار پر ٹرک کو جلادیا جاتا ہے۔
#Balochistan
سرفراز بگٹی نے درست نشاندہی کی ہے۔ دہشت گردی کا مقابلہ صرف بندوق سے نہیں، قومی یکجہتی، عوامی حمایت اور مضبوط ریاستی عزم سے بھی کیا جاتا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ محض مسلح افواج اور دہشت گردوں کے درمیان نہیں، یہ پوری ریاست اور معاشرے کی مشترکہ جنگ ہے۔
میر سرفراز بگٹی،
وزیراعلیٰ بلوچستان
@PakSarfrazbugti
Prof Sher Muhammad Chauhan retweeted
دہشت گردی کے خلاف جنگ محض مسلح افواج اور دہشت گردوں کے درمیان نہیں، یہ پوری ریاست اور معاشرے کی مشترکہ جنگ ہے۔
میر سرفراز بگٹی،
وزیراعلیٰ بلوچستان
@PakSarfrazbugti
Transparency should apply to NGOs as well. Funding sources, foreign affiliations and institutional activities deserve public scrutiny.
SiasatGhar's Foreign Funding Watch has identified malicious foreign funding 👇⚠️⛔️⚠️
Media Matters for Democracy (MMfD), led by Asad Baig and co-founded by Sadaf Khan (Husband and Wife), is an Islamabad-based digital-rights and media-development NGO. Its strategic orientation is highly liberal, aligned with international networks advocating so called freedom of expression, and constrained state regulation.
Financial support comes from NED, Open Society Foundations and EU-backed initiatives. It pursues EU priorities on record.
Its agenda seeks to influence Pakistan’s information landscape targeting alleged censorship and PECA etc
The policy and posture of Media Matters conflict with national security priorities.
@asadbeyg (Asad Baig)
@nuqsh (Sadaf Khan)
Prof Sher Muhammad Chauhan retweeted
SiasatGhar's Foreign Funding Watch has identified malicious foreign funding 👇⚠️⛔️⚠️
Media Matters for Democracy (MMfD), led by Asad Baig and co-founded by Sadaf Khan (Husband and Wife), is an Islamabad-based digital-rights and media-development NGO. Its strategic orientation is highly liberal, aligned with international networks advocating so called freedom of expression, and constrained state regulation.
Financial support comes from NED, Open Society Foundations and EU-backed initiatives. It pursues EU priorities on record.
Its agenda seeks to influence Pakistan’s information landscape targeting alleged censorship and PECA etc
The policy and posture of Media Matters conflict with national security priorities.
@asadbeyg (Asad Baig)
@nuqsh (Sadaf Khan)
مولانا فضل الرحمان نے تو ایک ہی شخصیت میں تاریخ کے تمام بدترین کرداروں کو جمع کر دیا ہے۔ اقتدار کی ہوس، منافقت، دوغلا پن اور اصولوں کی سیاست کے نام پر ذاتی مفادات کا کھیل اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ مذہب کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنے والوں کا اصل چہرہ عوام پہچان چکے ہیں۔
دنیا میں فرعون بھی آیا،
دنیا میں قارون بھی آیا،
دنیا نے ابو جہل بھی دیکھا،
یزید بھی دیکھا،
حجاج بن یوسف بھی برداشت کر لیا،
اور دنیا نے ایک پوری بدبخت قوم، قومِ لوط بھی دیکھی؛
مگر یہ سب الگ الگ وقت میں موجود تھے مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ یہ ساری بے حیائی اور بے غیرتی اس دور میں۔ ایک ہی انسان میں کیسے آسکتی ہے؟












