Pinned Tweet
طالبان نے ہرات میں بحث کے بعد ایک شخص کو دن دیہاڑے قتل کر دیا
آزاد افغان میڈیا کے مطابق مقتول 30 سالہ عبدالقدیر پہلوانزادہ تھا، جو ویلڈر کا کام کرتا تھا۔
یہ کوئی عدالتی سزا نہیں تھی بلکہ افغان طالبان سے بحث و مباحثے و اختلاف کی بنیاد پر قتل ہے ۔
یہ ہرات میں پچھلے برسوں کے ایسے کئی واقعات میں سے ایک ہے جہاں چیک پوسٹ، جھگڑے یا پابندیوں پر لوگ مارے گئے اور شفاف تحقیقات نہیں ہوئیں۔
@Zabehulah_M33
#Herat #Afghanistan #HumanRights
‼️Manzoor Pashteen’s Anti-Pakistan Agenda Exposed!
Anti-Pakistan narrative fails at The Hague.
In his virtual speech at The Hague International Conference 2026, Manzoor Pashteen accused the Pakistan Army of systematically targeting Pashtuns and openly pushed his anti-Pakistan agenda.
Such narratives are against Pakistan’s integrity and peace. Once again, the world saw how far these false narratives go.
Watch this video and share it across all platforms so the truth reaches everyone.
#ManzoorPashteen_Gaddar_e_Pakistan
#PTM_Gaddar_e_Pakistan
Open Secrets retweeted
منافق بڈھے تم اس وقت بکواس کررہے تھے یا پھر اس وقت بکواس کررہے ہو ؟؟
@SenatorMushtaq
پاکستان تحریک انصاف کاعمران خان ایڈیشن سے اسٹیبلشمنٹ خوفزدہ ہے،یہی لوگ مزاحمت کا پرچم اٹھائے رکھے ہوئے ہیں یہ ایڈیشن اسٹیبلشمنٹ کو ناقابل قبول ہے اس لئے پاکستان تحریک انصاف کا اسٹیبلشمنٹ پسندیدہ ایڈیشن تیار کرنے کی کوشش میں ہیں،یہ مشرف دور کی ق لیگ کی طرح عسکری لیبارٹری میں تیار شدہ ٹیسٹ ٹیوب پارٹی ہوگی اسی لئے سہیل آفریدی نشانے پر ہیں،پاکستان تحریک انصاف کے مخلص،وفادار ممبران پارلیمنٹ، لیڈرشپ کی اغواء، گرفتاری اور جبری گمشدگی کا سلسلہ جاری ہے۔اس وقت پاکستان کا پورا سیاسی سپیکٹرم بوٹوں کے سامنے جھک چکا ہے۔۔مزاحمت کا چراغ جیل میں قید عمران خان اور اس کے خاندان نے جلائے رکھا ہے اور معاشر میں تحریک انصاف کے مخلص وفادا پارلیمنٹرینز اور لیڈرشب نے۔۔۔مجھے یقین ہے کی عمران خان کا مخلص اور قربانی دینے والا ورکر اسٹیبلشمنٹ کی اس جمہوریت دشمن کوشش کو ناکام بنا دے گا اور یہ ٹابت کردے گا کہ پاکستان تحریک انصاف مسلم لیگ ن نہیں ہے بلکہ یہ ایک حقیقی مزاحمتی پارٹی ہے اور جیل میں موجود اپنے قائد سے مخلص اور وفادار ہے۔
📌 نئے صوبے: بہتر حکمرانی، منصفانہ وسائل اور عوام تک سہولیات
نئے صوبوں کا قیام پاکستان بھر میں حکمرانی کو بہتر بنا سکتا ہے، وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنا سکتا ہے، اور ضروری عوامی خدمات کو لوگوں کے قریب لا سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان کے عوام کے لیے ترقیاتی ترجیحات پر زور دیا ہے، جن میں تعلیم، صحت کی سہولیات، بنیادی ڈھانچہ اور روزگار کے مواقع شامل ہیں۔
وزیراعلیٰ کا موقف ہے کہ وسیع جغرافیائی رقبے والے صوبے کو مؤثر طور پر چلانے کے لیے انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے تشکیل دیے جا سکتے ہیں۔
@PakSarfrazbugti
#Balochistan #NewProvinces #SarfrazBugti #Pakistan #Development #Governance
پشاور کے علاقے متنی کے قریب سکیورٹی فورسز نے فتنہ الخوارج کے خلاف بڑے پیمانے پر کامیاب کاروائی
فتنہ الخوارج کے 6 ساتھیوں کو ہلاک کردیا گیا ہلاک ہونے والوں میں ایک اہم کمانڈر بھی شامل ہیں کاروائی میں پاک فوج کے جوانوں کے علاؤہ ایف سی اور پولیس نے بھی حصہ لیا
پشاور:
شہر بھر میں سیکیورٹی کے مؤثر انتظامات، خصوصی پٹرولنگ اور مختلف مقامات پر ناکہ بندیاں جاری ہیں۔
پشاور پولیس امن و امان کے قیام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے الرٹ ہے۔
@DrMianSaeedPSP
Open Secrets retweeted
خیبرپختونخوا میں نئی صوبائی حکومت ان ایکشن
پشاور ، ڈی آئی خان، بنوں، ہزارہ، کوہاٹ اور مالاکنڈ ڈویژنز میں عوامی مقامات کی صفائی ستھرائی کے لیے متعلقہ ادارے متحرک
پشاور، بنوں، ڈی آئی خان، ، کوہاٹ ، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، دیر، بونیر اور درگئی سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں صفائی ستھرائی کے مؤثر اقدامات
تمام ڈویژنز کے مختلف علاقوں میں صفائی ستھرائی اور کوڑا کرکٹ کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
مالاکنڈ ڈویژن کے بونیر ، دیر، درگئی اور دیگر علاقوں میں بھی صفائی ستھرائی اور کوڑا کرکٹ اٹھانے کا عمل جاری ہے۔
اسی طرح پشاور، ڈی آئی خان، اور بنوں میں بھی مختلف علاقوں میں صفائی مہم بھرپور طریقے سے جاری ہے۔
بازاروں، تجارتی مراکز، اہم شاہراہوں اور عوامی مقامات کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے متعلقہ عملہ متحرک ہے۔
صفائی کے نظام کو بہتر بنانے اور شہریوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
شہریوں سے بھی اپیل ہے کہ کوڑا کرکٹ مقررہ مقامات پر پھینکیں اور اپنے علاقوں کو صاف رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
🚨Indian High Commission (RAW) allegedly orchestrating instability in AJK via UK-registered JKHRO.
Sources claim IHC official Pramod Khemchandani linked to efforts promoting unrest & anti-Pakistan narrative alongside banned JAAC elements.
#RAW_JKHRO #RAW_AJK
📌 JKHRO’s UK registration and the reported role of Indian High Commission official Pramod Khemchandani raise questions about the organisation’s origins and affiliations.
Registered on 30 July 2026, JKHRO lists Khemchandani as a Person with Significant Control (PSC). This corporate record is relevant to the wider allegations of Indian involvement in an initiative allegedly aimed at fuelling unrest in AJK. The claimed operational link, however, requires independent corroboration.
مولانا فضل الرحمٰن افغان کرنسی کی قدر کو افغانستان کی “معاشی کامیابی” اور “بہترین حکمرانی” کا ثبوت بنا رہے ہیں۔
واہ بھئی واہ! معاشی علم کو سلام!
تو کیا جاپان اور جنوبی کوریا کی کرنسی کی کم قدر انہیں افغانستان سے زیادہ غریب ثابت کرتی ہے؟ معیشت ایکسچینج ریٹ سے نہیں، بلکہ پیداوار، صنعت، روزگار، سرمایہ کاری اور عوام کے معیارِ زندگی سے جانچی جاتی ہے۔
افغانستان کی کرنسی کی قدر کو مضبوط معیشت سمجھنا حقائق سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔
کمال تو یہ ہے کہ پاکستان میں آئین، جمہوریت اور عوامی مینڈیٹ کے سب سے بڑے علمبردار بننے والے مولانا کو افغانستان کا وہ نظام مثالی نظر آتا ہے جہاں:
• منتخب پارلیمنٹ نہیں
• عوامی انتخابات نہیں
• بچیوں کو ثانوی اور اعلیٰ تعلیم کی آزادی نہیں
جس ملک کی معیشت بیرونی امداد پر چل رہی ہو، بینکاری نظام مشکلات کا شکار ہو اور لاکھوں شہری بیرونِ ملک پناہ لیے ہوئے ہوں، اسے ترقی کا ماڈل قرار دینا کہاں کی دانشمندی ہے؟
پاکستان کے نظام میں خامیاں ضرور ہیں، مگر اس کا موازنہ افغانستان کے غیر تسلیم شدہ نظام سے کر کے اسے کمتر ثابت کرنا کیسی منطق ہے؟
مولانا پہلے یہ تو فیصلہ کر لیں: انہیں جمہوریت چاہیے یا طالبان طرز کی حکمرانی؟
کچھ شرم ہوتی ہے، کچھ حیا ہوتی ہے!
@ziaurrehman76
پی ٹی سے تعلق ہوں اور انکا کام جھوٹ اور پراپیگنڈا کرنا نہ ہوں؟ نا ممکن
واضح رہے کہ شمالی وزیرستان سے کونسل میں ملک حاجی شیر خان شامل کیے گئے ہیں، نہ کہ ملک حاجی شیر محمد۔ (ملک حاجی شیر محمد فقیر ایپی کے نواسے تھے جنہیں جون 2023 میں عسکریت پسندوں نے شہید کر دیا تھا)
جبکہ کونسل کے ممبر حاجی شیر خان (طوری خیل) زندہ و سلامت ہیں۔
@PTIofficial
@fkkundi @SamarHBilour @TararAttaullah
جن کرنل صاحب کی ڈیوٹی تھی کہ ایک لسٹ بنائیں، اُس نے جلدی میں خیبر پختونخوا میں غیر آئینی مشاورتی کونسل میں ایک ایسے شخص کا نام شامل کیا جو کئی سال پہلے دہشت گردی کے واقعے میں شہید ہو گئے تھے۔ یہ ٹولہ بار بار عمران خان کو درست ثابت کر رہا ہے کہ یہ ڈاکو ڈفر الائنس ہے۔
پاکستان کے باشعور عوام جانتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت، جو ملک کی واحد جائز حکومت تھی، کا خاتمہ کبھی بھی دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے لیے نہیں تھا۔
#DakooDufferAlliance
Open Secrets retweeted
مولانا فضل الرحمان صاحب! جب ٹی ٹی پی کے ہاتھوں ہمارے جوان شہید ہو رہے ہوں، پاکستان کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوں اور ریاست دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرے، تو سوال اٹھتا ہے کہ آپ کی آواز کس کے لیے بلند ہوتی ہے؟افغان طالبان رجیم کے مؤقف کی حمایت اور پاکستان کے دفاعی اقدامات پر اعتراضات کا جواب قوم آپ سے مانگتی ہے۔ پاکستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں، دہشت گردی کے خلاف کوئی ابہام نہیں، اور شہداء کی قربانیوں پر کوئی سیاست نہیں ہونی چاہیے
Open Secrets retweeted
مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ میرا ذاتی تعلق عزت و احترام پر مبنی ہے اور میں ان کی سیاسی بصیرت اور تجربے کا احترام کرتا ہوں۔ تاہم، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کا موازنہ کرتے ہوئے، خصوصاً دہشت گردی، قومی سلامتی اور قومی و عسکری قیادت کے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے وقت زمینی حقائق، ریاست کو درپیش چیلنجز اور دہشت گردی کے خلاف جاری جدوجہد کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ مسلمہ حقیقت ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن اور ان کی جماعت خود دہشت گردی کے واقعات کا نشانہ بنتے رہے ہیں، اس لیے توقع ہے کہ وہ اس حساس قومی مسئلے پر رائے قائم کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف ریاستی کوششوں اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو بھی ملحوظ رکھیں گے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے دونوں صوبوں میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات، سیاسی قیادت کے طرزِ عمل اور عملی عزم کو سامنے رکھنا چاہیے۔
بلوچستان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی اختلافات کے باوجود دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف قومی مفاد کو ترجیح دینے کی اہم مثال ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی، اہم فیصلوں اور متعلقہ معاملات پر اپوزیشن کو اعتماد میں لیا جاتا ہے اور حکومت تمام پارلیمانی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری مختلف مواقع پر اس طرزِ عمل کا اعتراف کر چکے ہیں، جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے پارلیمانی لیڈر میر جہانزیب مینگل کی اسمبلی میں حالیہ تقریر بھی اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ صوبے کی سیاسی قیادت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی ذمہ داری اور کردار کو تسلیم کرتی ہے۔
جمعیت علمائے اسلام، نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) اور دیگر پارلیمانی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف رکھتی ہیں۔ یہ سیاسی ہم آہنگی اس بات کا اظہار ہے کہ بلوچستان میں امن و امان اور قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھنے کی ضرورت تسلیم کی جاتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ محض بیانات یا سیاسی دعوؤں کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ریاست اور پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے سنگین خطرے کے خاتمے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہا ہے اور اس جنگ میں پاک فوج سمیت تمام سیکیورٹی اداروں کے افسران اور جوان بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں۔ ہر شہادت کے پیچھے ایک خاندان کا دکھ، والدین کی جدائی اور ادھورے خوابوں کی داستان ہوتی ہے۔ ان قربانیوں کا تقاضا ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے اور دہشت گردی کے خلاف قومی جدوجہد کو سیاسی اختلافات کی نذر نہ ہونے دیا جائے۔
مولانا فضل الرحمٰن سینئر سیاست دان ہیں اور ان کی جماعت دہشت گردی کے باعث خود بھی جانی و سیاسی نقصانات برداشت کر چکی ہے۔ ایسے میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کا موازنہ کرتے ہوئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ دونوں صوبوں میں دہشت گردی کے خلاف عملی اقدامات کیا ہیں، سیاسی قیادت کس حد تک مشترکہ حکمت عملی اختیار کر رہی ہے اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کی صورت حال کیا ہے۔ دہشت گردی کے معاملے پر غیر واضح مؤقف یا حقائق سے صرفِ نظر قومی مفاد کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ بلوچستان کی سیاسی قیادت اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ پائیدار امن کے بغیر ترقی، عوامی فلاح اور معاشی استحکام کے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ اسی لیے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافِ رائے کے باوجود دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف کو اہمیت دی جاتی ہے۔ یہ طرزِ عمل اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ سیاسی اختلافات جمہوری عمل کا حصہ ہیں، لیکن قومی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے معاملات پر اتفاقِ رائے اور تعاون ناگزیر ہیں۔ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے اور اس کے سیاسی و انتظامی نتائج پر بحث ہو یا بلوچستان کی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ، ہر معاملے میں حقائق، عملی اقدامات اور عوام کو فراہم کیے گئے نتائج کو معیار بنانا چاہیے۔
سیاسی جماعتوں اور حکومتوں پر تنقید جمہوری حق ہے، تاہم دہشت گردی جیسے حساس قومی مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے ریاست کو درپیش چیلنجز، سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کے دکھ کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ میرا مؤقف واضح ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی وابستگیوں اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھا جانا چاہیے۔ قومی یکجہتی، سیاسی قیادت کی ذمہ دارانہ گفتگو، ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون اور زمینی حقائق کی بنیاد پر مؤقف اختیار کرنا ہی وہ راستہ ہے جس سے ملک میں پائیدار امن کے قیام کی کوششوں کو تقویت دی جا سکتی ہے۔
قومی سلامتی سیاست سے بالاتر ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر خدارا ریاست کو سیاست کی نذر نہ کیجیے!
Open Secrets retweeted
زیرنظرخبرکےحوالےسےمیری ابھی انتہائی اعلی حکومتی ذرائع سےبات ہوئی توان کا کہناتھا کہ پاکستان ایک خودمختار ایٹمی ملک ہےاس کےسیاسی فیصلے بیرونی دارالحکومتوں کی خواہشات پر نہیں ہوتے۔بانیPTIکامعاملہ عدالتوں میں ہےانکےمستقبل کافیصلہ عدالتیں ہی کریں گی۔
ایسی افواہیں فیک نیوز ہیں ۔👇👇
This quoted post is unavailable.
سینیٹر کامران مرتضی کا تہلکہ خیز انکشاف !!!
👇👇👇
سینیٹر کامران مرتضی کا تہلکہ خیز انکشاف !!!
محمود خان اچکزئی اپنی نشست JUIکے اُمیدوار صلاح الدین ایوبی سے ہار گئے تھے اور فارم 47 کے چمتکار سے جیتے۔
@KamranM69045926
👇👇👇
انجنئیر صاحب !
مولانا کو اللہ نے عمر کے آخری حصے میں ذلیل و رسوا کردیا۔ اقتدار کی حوس ۔ دھشت گردوں کی سہولت کاری نے مولانا کو پاگل کردیا ہے ۔۔
حلقے کے عوام نے پہلے اور اب پاکستان کے عوام نے اس بڈھے شیطان کے کو کرتوتوں کی وجہ سے مکمل مسترد کردیا ہے۔ اسکو اپنے والد مفتی محمود کی بددعا لگی ہے،
مولانا فضل الرحمان کو 1971 دوہزار چوبیس کے الیکشن کے بعد کیوں یاد آیا ہے ؟
ایسی تلخ باتیں آپ کے قد کے مطابق نہیں،
خیبرپختونخواہ کا سیٹ اپ کسی کو سیاسی حصہ دینے کے لئے نہیں ہے،
کسی کو سیاسی عہدہ نہیں دیا اور دیں گے بھی نہیں،
طلال چوہدری کی گفتگو
@TallalPMLN
اشرفی صاحب درست کہہ رہے ہیں۔
مدارس، مساجد اور ختمِ نبوت خطرے میں نہیں، لیکن مولانا فضل الرحمان مذہب کو سیاسی مفادات کا ہتھیار بنا رہے ہیں۔
جب عقیدہ سیاست کا سودا بن جائے تو اصولی سیاست کا دعویٰ خود سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ مولانا کی سیاست میں دین کی سربلندی مقدم ہے یا اقتدار میں اپنا حصہ؟
اسلام، مدارس اور ختمِ نبوت جیسے مقدس معاملات کو سیاسی سودے بازی کے لیے استعمال کرنا مذہبی جذبات کی سیاست کاری ہے۔
عقیدے کی حرمت مقدم ہے یا اقتدار کی سیاست؟
#MaulanaFazlurRehman #ختم_نبوت #مدارس #سیاست_اور_مذہب
مولانا کو مولانا کہتا مولانا کی توہین ہے۔
تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان کی اسمبلی ڈیزل کے بغیر چل رہی ہے۔ جب یہ اقتدار میں نہیں ہوتا تو جھتہ اکھٹا کرکے بلیک میلنگ شروع کرتا ہے کہ گورنمنٹ کو گرا دو ۔۔۔ عمران خان
فضل الرحمن پر اللہ کی طرف سے ذلت ہے جو اسکا نام بھی نہ لو مگر لوگ ڈیزل ڈیزل کی آوازیں شروع کردیتے ہیں۔
فضل الرحمن کی تاریخ میں اتنی بے عزتی کسی نے نہیں کی جتنی پی ٹی آئی اور عمران خان نے کی۔
مگر پھر بھی یہ بے شرم آدمی آج ان کے گود میں بیٹھ گیا ہے۔
مولانا کی حرکتوں کو دیکھ کر اب تو واضح ہوگیا ہے کہ مفاد کے لئے اس آدمی نے اپنی عزت کو قربان کردیا ہے
مولانا فضل الرحمان پاکستان کے سب سے بڑے منافق ہیں ۔ منافق اسلئے کہ اسلام کے نام پر سیاست کررہے ہیں۔ مگر پختونوں کے قتل عام پر خاموش رہتا ہے۔
مولانا کو ہمیشہ اقتدار کی پڑی ہوتی ہے۔ جب یہ اقتدار میں ہوتا ہے اسکو کچھ نظر نہیں آتا۔ او جب کرسی چلی جاتی ہے تو اسلام خطرے میں آجاتا ہے۔ عمران خان















