ثمرمحمّد retweeted
Replying to @MonaAlamm
wow
ڈاکٹر یاسمین بھی کینسر کی مریض ہیں
نورین نیازی بغیر کس جرم کے قید ہیں اور بیمار ھوئی ھسپتال میں شفٹ کی گئی لیکن فیملی کو نہیں ملنے دیا گیا
اپ بھی ان کے ڈراموں میں اگئی یہ دونوں ایک جیسے ہیں یہ صرف ڈیمج کنٹرول کرنے کی ایک ایک ڈرامہ بازی ہے
ثمرمحمّد retweeted
جس وقت عمران خان کی بہن کو دل کے دورے کی وجہ سے جیل سے ہسپتال شفٹ کیا جا رہا تھا۔ اس وقت عاصمہ شیرازی نامی ڈائین جیو ٹی وی پر بیٹھ کر خان کی بہنوں کے جیل میں رکھنے کو جستیفائی کر رہی تھی۔
لعنت ہے ان تمام کرداروں پر جو اس کو صحافی کہتے ہیں یا اس ڈائین کی سپورٹ کرتے ہیں
ثمرمحمّد retweeted
اسحاق ڈار وزیر اعظم کے جہاز میں فرار ہو جائے تو موصوف کالم لکھتے ہیں یاد تو آتی ہوگی اور یہاں وکٹم بلیمنگ جاری ہے ۔ پہلے میں ان کے بارے میں سوچتا تھا شرم تو آتی ہوگی اب یقین ہے کہ ان کو نہیں آتی۔
عشقِ عمران میں ڈوبا “دیوانہ” کہاں ہے؟
jang.com.pk/news/1627734
ثمرمحمّد retweeted
میں نے سنا یہاں کسی نے کہا کہ کلٹ آ گیا ہے کلٹ پورے ملک میں نہیں پھیلے ہوتے کلٹ کسی رائیونڈ میں خیمہ لگا کر بیٹھے ہوتے ہیں کوئی گڑھی خدا بخش میں قبروں پہ بیٹھے ہوتے ہیں آپ اپنے گھروں میں جا کر دیکھیں وہاں سارے کلٹ گھسے ہوئے ہیں ، کسی نے لقمہ دیا ساری بیویاں ، دن کو جس کلٹ کو برا بھلا کہتے ہو رات کو اسی کلٹ کے ساتھ سوتے ہو ( اپنے بچوں کے ساتھ ) ! مطیع اللہ جان ۔۔
ثمرمحمّد retweeted
Hypocrisy at its best not " opinionated women" argument. Your words are mirror to your self in essence.
ثمرمحمّد retweeted
🚨🚨
بیٹھے بیٹھے عمران خان کی بہادری اور استقامت کا ایک قصہ یاد آگیا!!!
تحریکِ عدم اعتماد کی رات کا واقعہ ہے۔ رمضان کی وہ رات تھی جب تحریکِ عدم اعتماد مکمل ہوئی اور عمران خان وزارتِ اعظمی سے ہٹا دیئے گئے۔
میں اس وقت پارلیمنٹ کی پریس گیلیری میں بیٹھ کر عمران خان کے زوال کو اپنی آنکھوں میں نقش کر رہا تھا۔
کارروائی کے اختتام پر میں گھر لوٹ گیا اور تنہائی میں بیٹھے سوچ رہا تھا کہ عمران خان کا باب ختم ہوا، سوچ رہا تھا یا عمران خان بیرونِ ملک چلے جائینگے یا گمنامی کی زندگی گزارینگے۔
سحری کا وقت ہوا تو پی ایم پروٹوکول سے مجھے فون آیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے صبح ۹ بجے کور کمیٹی کی میٹنگ رکھی ہے تو فواد چوہدری صاحب کو مطلع کردیجیئے۔
میں حیران رہ گیا کہ یہ شخص ابھی کچھ گھنٹے پہلے ایک محاز پر شکست سے دوچار ہوا ہے اور اب دوسرے محاز کے لیئے تیار ہے۔
یہ پہلا موقع تھا جب عمران خان نے مجھے بےحد متاثر کیا۔
دوسرے دن عمران خان بنی گالہ کے کمیٹی روم میں کالے چشمے لگائے تشریف لائے۔ لہجے میں سختی مگر چہرے پر اطمنان صاف ظاہر تھا گویا عمران خان کو یقین تھا کہ وہ اب پاکستان کے سیاسی منظرنامے کو ہمیشہ کے لیئے بدل دینگے۔
پھر عمران خان نے اسی میٹنگ میں ایک مزاحمت سے بھرپور سیاسی لاحۂ عمل دیا اور اس کے بعد جو ہوا وہ میں نے بھی دیکھا، آپ نے بھی دیکھا اور پوری دنیا نے دیکھا۔
عمران خان اب رہا ہو یا نہ ہو، برسرِاقتدار آئے یا نہ آئے، لیکن اس نے پاکستان کی سیاسی بساط پر وہ نقش چھوڑ دیئے ہیں جو شاید تاریخ میں اب کبھی مٹائے نہ جاسکیں۔
کچھ لوگ طویل عرصہ اقتدار میں رہ کر تاریخ میں فراموش کر دیئے جاتے ہیں مگر عمران خان جیسے کچھ لوگ قلیل عرصہ اقتدار میں رہ کر تاریخ میں ہمیشہ کے لیئے زندہ و جاوید ہوجاتے ہیں۔
عمران خان تاریخ نہیں تاریخ ساز ہے۔
عمران خان کا سیاسی منظرنامے سے غائب رہنا عمران خان کی نہیں پاکستان کی سیاست کی بدقسمتی ہے۔
ثمرمحمّد retweeted
خدا کی قسم اتنی تکلیفوں کے باوجود ضمیر نہیں مانتا
اس شخص کو چھوڑ کر بیوفائی کی جائے
جناب آپ کے پلے ککھ بھی نہیں
اور آپ مقابلہ کرتے ہیں عمران خان سے ؟؟؟
ثمرمحمّد retweeted
Yes my English comprehension is as good as that of a sub inspector or his superiors who take inspirations from a TikToking chief executive of a province. When the CM is angry the SHOs like me will be lost in translation and the accused may not live to correct it.
ثمرمحمّد retweeted
They thought locking him in illegal captivity and trying to erase him would make people forget. But hope cannot be imprisoned.
While those in power serve only themselves, his vision lives on through acts of giving and donations to the hospital he built—now multiple branches of Shaukat Khanum Memorial Hospital—healing those in need.
Even from behind bars, he remains with the people in spirit. True service for one's country can never be locked away.
#ReleaseImranKhan
ثمرمحمّد retweeted
سپہ سالار کے بارے میں مولانا صاحب کے الفاظ نے ہر پاکستانی کا دل دکھا دیا،،(مریم نواز ٹویٹ)
مریم صاحبہ : یاد کیجئیے، کل جنرل باجوہ اور جنرل فیض پر نام لے کر آپ کے پاپا نوازشریف کی تنقید سے آپ محظوظ ہوتی تھیں،بلکہ لطف اندوز ہوتی تھیں،،
ثمرمحمّد retweeted
Replying to @TTAP_OFFICIAL
بدقسمتی سیے ملک پُگ چکا ہے۔
جنرل فیصل نصیر! ہمارا قومی ہیرو چھپا رہا مگر رُستم نکلا، ایک ادمی نے 8 فروری کی رات کو فیصلہ کیا کہ 25کروڑ لوگوں پر کونسا نظام ٹھوسنا ہے۔ ایک شخص فیصلہ کرتا ہے کہ کس کو جیتنا ہے اور کس کو ہارنا ہے۔ ایک بندہ جس نے پاکستان کی سیاست کو درست کرنے اپنے زیرنگین رکھنے کے لئیے آئین پاکستان کی دھجیاں اڑائیں اور اپنے حلف کو توڑا کہ نوکری ترجیح تھی۔ اب باقی زندگی وضاحتیں دیتے گذرے گی۔
انا للہ و انا الیہ راجعون
ثمرمحمّد retweeted
گورنر جنرل پاکستان محسن نقوی صاحب اور گورنر خیبر پختون خواہ فیصل کریم کنڈی صاحب نے سوموار کو پشاور گورنر ہاوس سے ایک دھواں دار پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ کہخیبر پختون خواہ سے پاکستان تحریک انصاف کا خاتمہ کر دیا گیا ہےاور ہمارے اس اقدام پر PTI کی حمائت میں چندلوگ بھی نہیں نکلے کوئی احتجاج نہیں ہوا؛ کہیں جوں تک نہ رینگی اور نہ ہی چڑیا نے پر مارا۔
قطع نظر اس کے کہ چند ہفتہ پہلے لاہور میں گورنر فیصل کریم کندی کی آمد پر ان کے ساتھ ایک بے تکلف بیٹھک ہوئی تو وہاں پر گورنر صاحب سمیتحاضرین میں اتفاق رائے تھا کہ
"خیبر پختون خواہ کی بھاری اکثریت عمران خان کے نام کی دیوانی ہے اور مخالفت میں ایک لفظ سننے پر تیار نہیں"۔
میری دونوں صاحبان سے گزارش ہے عمران خان کی مقبولیت کا اٹر زائل کرنے کے لئیے گوری طور پر ایک کام کریزن ، چند دن بعد جمعہ آ رہا ہے۔ اللہ کے فضل سے پشاور میں ہر مسلک کی درجنوں مساجد موجود ہیں جہاں ہر طبقہ ہر عمر کے متفرق لوگ موجود ہوں گے۔ آپ دونوں بھائی اپنی مرضی کی کسی مسجد میں جمعہ پڑھنے جائیں چونکہ اب KPK حکومت بعذریہ آئین اور طاقت دونوں اپ کے رحم و کرم پر ہے اپ پر لازم ہے کہ چلو بھیس بدل کر ہی سہی جمعہ کے مبارک دن نماز میں شامل ہونے کے بعد مسجد میں موجود ہر طبقہ کے عوام سے گھل مل جائیں اور ان سے نعمتیں،رحمتیں، عنایتیں، نوازشیں،دعائیں، نیک تمنائیں سمیٹیں بلکہ نقد وصول کریں۔ اگر دونوں بھائی کے پی کے گلی بازاروں مسجدوں عوامی جگہوں پر جانے کی ہمت نہیں رکھتے اور نہ رکھ سکتے ہیں اور نہ رکھیں گے تو پھر معاملہ عام فہم ہے کہ حکومت اونچی اونچی فصیلوں کے اندر مقید اور مورچوں میں بیٹھ کر اپ اپنے جان مال آبرو کی حفاظت تو کر پائیں گے ریڈ زون میں اپنے اپ کومحفوظ کر لیں گے مگر عوام الناس میں جانا ناممکن اور خطرہ جان رہنا ہے، ساڑھے چار کروڑ عوام پر حق حکمرانی ذرا دور کی کوڑی ، تھوڑا ناممکن کام رہنا ہے
کاش دونوں بھائی ہمت کرتے اور اپنی سکیورٹی کے ساتھ ہی سہی کسی بھی بڑی مسجد میں پہلا جمعہ ادا کر تے تو اپ پر عوام کا اعتماد اور عوام پر اپ کا اعتماد بڑھتا، عوام میں گھل مل جاتے خبریں لگتیں پورا ملک مستفید ہوتا اور کراچی تا GBملک جھوم اٹھتا۔
خیبر پختون خواہ کے لئیے مقرر کی گئی نئی نویلی
پریوی کونسل(Privy Council)
یعنی کہ شاہی مشاورتی کونسل یعنی کہ بادشاہ کی نجی رازدارانہ مجلسِ مشاورت😊کے اہم نمائندے اگر عوامی اجتماعات اور مقامات پر جاتے جیسا کہ سہیل آفریدی چند دن پہلے جلوس لے شہر بہ شہر جا رہا تھا عوام میں گھل مل جاتے توعوام کا اعتماد دوچند آسمان پر ہوتا اور دہشت گرد بھی لرزہ بر اندام رہتے
دہشت گرد کے پی سے دور بھاگتے۔
ثمرمحمّد retweeted
تحریک انصاف کے ورکرز سے بڑا اثاثہ کسی سیاسی جماعت میں نہیں۔ بے لوث ملک کی بہتری کے لئے جدوجہد کرنے والے۔ ہزاروں جھوٹے مقدمات میں صرف سیاسی وابستگی کی وجہ سے نامزد۔ آنسو گیس، لاٹھیاں، گولیاں، قید، گھروں سے دور رہنے پر مجبور، گھروں پر چھاپے، تور پھوڑ۔ ان کی وطن سے محبت کو سلام
ثمرمحمّد retweeted
حامد میر صاحب کے پروگرام میں فیصل واڈا نے سیاستدانوں کو گدھا کہا ہے، بلکہ یہاں تک کہا کہ انہیں گدھے کہنا گدھوں کی بھی توہین ہے، اب کل کسی میں غیرت ہو تو فیصل واڈا کیخلاف تحریک استحقاق پیش کریں، یار ن۔لیگ اور پیپلز پارٹی اقتدار کے دنوں میں بھی اتنی ذلیل و خوار ہو گی کسی نے سوچا بھی نہیں تھا، بیچارے، افسوس، صد افسوس
ثمرمحمّد retweeted
سوشل میڈیا پر باڑہ اور خیبر سے افسوسناک اطلاعات سننے کو مل رہی ہیں۔ اللہ خیر کرے۔ گورنرراج کے حق میں لمبی پریس کانفرنسیں کرنے والے وزراء آج غائب کیوں ہیں؟ کون حقائق سامنے لانے کی زحمت کرے گا؟
کوئی ہے جو میرے پاکستان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے بجائے مرہم رکھے۔۔۔
ثمرمحمّد retweeted
کل 2009 میں زرداری کا پنجاب میں گورنر راج لگانا یوم سیاہ،،تو آج خیبر پشتونخوا میں ایمر جنسی اور گورنر راج یوم سیاہ کیوں نہیں؟
کل جو عمل شہباز شریف آپ کے نزدیک جمہوریت پر شب خون تھا،آج وہی عمل آپ کے ہاتھوں کیسے جمہوریت بن گیا؟اسی کو منافقت کہا جاتا ہے،
ثمرمحمّد retweeted
12 اکتوبر ہے۔ آج ہی کے دن 1999 میں پرویز مشرف نے مارشل لا لگایا۔ اس کا انجام کیا ہوا، وہ دنیا نے دیکھا۔ لیکن اُس وقت میری پارٹی کا سربراہ مجھے تنہا چھوڑ کر بھاگ گیا۔ وہ نہ بھاگتا تو شاید وہ مارشل لا زیادہ دیر نہ چلتا۔ تمام اپوزیشن، خصوصاً بینظیر بھٹو، نے اس مارشل لا کا خیرمقدم کیا۔ تقریباً سب نے مٹھائیاں بانٹیں۔
میں نے تنہا اس مارشل لا کا مقابلہ کیا۔ آج کے نام نہاد وزیر نے سعودی عرب اور دبئی میں نوکریاں لے لیں۔ مجھے 23 سال کی سزا ہوئی۔ مجھ پر تشدد بھی ہوا۔ میرے ساتھ سیل میں موجود لوگ جان کی بازی ہار گئے۔
ہم نے مقابلہ کیا، لڑ گئے، اور پھر وہ ڈکٹیٹر مرتے دم تک ملک میں قدم نہ رکھ سکا۔
آج اُس سے کئی گنا برا مارشل لا ہے۔ لیکن آج کے دن بھی، 27 سال بعد، اسلام آباد میں 111 بریگیڈ نافذ ہے۔
فرق اتنا ہے کہ آپ کا لیڈر ڈٹ کر ایک ڈکٹیٹر کا مقابلہ کر رہا ہے۔ وہ اس ڈکٹیٹر کو ہرا رہا ہے، اسے خوف زدہ کیے ہوئے ہے۔ اس کا کارکن بھی آج قربانیاں دے رہا ہے۔
میرے پاکستانیوں! اس کی اس قربانی کو رائیگاں نہ جانے دینا۔ اور مجھے یقین ہے کہ آپ ایسا نہیں کریں گے۔
ثمرمحمّد retweeted
جو جو خیبر پختونخواہ میں ایمرجنسی کی حمایت کر رہا ہے سمجھ لیجئیے یا تو وہ آئین کے غداروں اور مینڈیٹ چوروں کا سہولتکار ہے، مددگار ہے، بینیفیشری ہے یا ایمرجنسی کے نفاذ سے اُس کے مفادات جڑے ہیں۔





















