SHAKIL HAIDER retweeted
🚨 ✍️ مختصر ترین تبصرہ یہ ہے کہ تہران سمٹ جنگ رکوانے کے لئے نہيں تھا۔ نہ جنگ رکنی ہے۔ یہ جنگ کے دوران سعودی عرب کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک کاوش تھی جو قابل تحسین ہے۔
دوسرا سعودی عرب کی ایران سے درخواست ہے کہ انہيں یمنیوں سے بچایا جائے۔
یمن والا معاملہ پچیدہ ہے۔ یمنی ایران کے اتحادی ہیں۔ پراکسی نہیں ہیں۔ سعودی عرب کو خود انصار%اللہ سے معاملات درست کرنے ہوں گے۔ انکی حکومت تسلیم کرنی ہوگی۔ مخالفین کی سپورٹ ترک کرنی ہوگی۔ جارحیت روکنی ہوگی۔ ایران صرف مدد کر سکتا ہے۔ انصار%اللہ کو کنٹرول نہيں کر سکتا۔
جنگ کی صورت میں سعودی عرب کو امان فقط اس صورت میں ملے گی جب سعودی سرزمین سے ایران کے خلاف امریکی جارحیت نہیں ہوگی۔ اس لئے یہ فیصلہ بھی سعودی عرب نے خود ہی کرنا ہے۔ پاکستان اور ترکی سعودی عرب کی مدد کر سکتے ہیں۔ اس کے لئے فیصلے نہيں کر سکتے۔ اسے بچا نہیں سکتے۔ سعودی عرب خود اپنے آپ کو جنگ کے مضر اثرات سے بچا سکتا کے۔
SHAKIL HAIDER retweeted
عربی بدوؤں کے چاٹو اور مسلکی پھدو اس پوسٹ سے دور رہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ ایران نے ہمارے سپہ سالار کی بے عزتی کی، ان کی باڈی لینگوئج میں تکبر تھا حالانکہ ہم نے انہیں بچایا وغیرہ وغیرہ، اور یہ کہ ایران نے ہمیشہ انڈیا کا ساتھ دیا۔
اول تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایسی کیا وجہ ہے کہ ایرانی بھی ہم سے نفرت کرتے ہیں، افغانی بھی، بنگالی بھی، بلوچی بھی، پختون بھی اور کشمیری بھی۔ ایران شیعہ ہے، افغانی دیوبندی ہیں — پھر وہ ہماری کیوں نہیں سنتے؟ اگر امریکہ ان کے ساتھ ملا ہوا ہے تو ہم امریکہ کے ساتھ کیوں کھڑے ہیں؟ امریکہ ایران کے ساتھ مل کر تہران پر حملے کر رہا ہے تو ہمارے ساتھ مل کر اسلام آباد پر بمباری کیوں نہیں کرتا؟
کبھی اپنی منجی کے نیچے بھی ڈانگ پھیری ہے؟ یا بس یہی خودساختہ جوکس سنانے کو ہیں جن کا نہ سر ہے نہ پیر؟
ایرانی ایک قوم ہیں، ہم ایک ہجوم۔ ایرانیوں نے اپنے جرنیل مروا لیے، قیادت مروا لی، یہاں تک کہ اپنا رہبر بھی، مگر ایک انچ نہیں دیا۔ ہم تو نوے ہزار مسلح فوجی بھی دے چکے ہیں اور آدھا ملک بھی گنوا بیٹھے ہیں۔ بہادری اور ملک کی حفاظت میں وہ اب تک ہم سے بہتر ہی ثابت ہوئے ہیں۔
وہ ٹرمپ کے آگے ڈٹے بھی رہے اور کئی بار اسے رج کے بے عزت بھی کیا، جبکہ ہمارے والوں نے اس کے آگے منہ میں کچھ لینے کے لیے ایک ملی میٹر بھی نہیں چھوڑا — یہاں تک کہ اس کی چھوٹی آنت بھی شروع ہو گئی۔ کبھی نوبل پرائز کے مطالبے، کبھی اس کے لکھے ہوئے ٹویٹس کاپی پیسٹ۔ اور تو اور، جب جنگ شروع ہوئی تو صاحب بہادر سمجھے کہ ایران اگلے دن ڈھیر ہو جائے گا، اس لیے شیعہ علماء کو بلا کر دھمکی دے دی کہ جس نے ایران جانا ہے وہ دفع ہو جائے، اور کتنوں کے سر پھاڑ دیے۔
دنیا میں اتنا پھدو کوئی نہیں جو ہماری سفارتکاری کے نام پر کی جانے والی چالاکیوں سے واقف نہ ہو۔ جب آپ سفارتکاری کی بجائے ڈاکیے یا جاسوس کا کام کریں گے تو نتیجہ یہی ہوگا۔
دنیا اور قسمت ہمیشہ بہادروں کو سلام کرتی ہے۔ زیادہ پرانی بات نہیں کہ خان کے اردگان بوسے لے رہے تھے اور مہاتیر کی بیگم اس کے ساتھ کھڑے ہونے اور اس کا ہاتھ تھامنے کو اعزاز سمجھ رہی تھیں — اور اب؟ جو ریاست اپنے ہیروز کی ناقدری کرے، وہ ٹرمپ کے آگے تو جھک سکتی ہے، عزت نہیں کروا سکتی۔
حاکم خان
SHAKIL HAIDER retweeted
آلِ سعود نے اپنی مرضی کا اسلام گھڑا، اور ہم نے اسے دین سمجھ لیا
جب بھی سعودی حکومت پر بات ہوتی ہے، ہمارے ہاں لوگ اس طرح تڑپ اٹھتے ہیں جیسے دین پر حملہ ہو گیا ہو۔ تو دو چیزوں کو الگ کر لیتے ہیں۔
اسلام تقریباً چودہ سو سال پرانا دین ہے۔ آلِ سعود کا مکہ پر قبضہ تیرہ اکتوبر 1924 کو ہوا اور مدینہ اگلے برس، یعنی آج سے ٹھیک ایک سو دو سال پہلے۔ اس سے پہلے مکہ کا انتظام صدیوں تک شرفائے مکہ کے پاس رہا، جن کا سلسلہ دسویں صدی تک جاتا ہے۔ یعنی اسلامی تاریخ کے تقریباً نوے فیصد عرصے میں مکہ اس خاندان کے بغیر تھا۔
یہ خاندان آیا کہاں سے؟ 1744 میں درعیہ کے مقام پر محمد بن سعود اور محمد بن عبدالوہاب کے درمیان معاہدہ ہوا۔ ایک کے پاس تلوار تھی، دوسرے کے پاس منبر۔ طے یہ پایا کہ حکومت سعود کی ہو گی اور مذہبی تشریح دوسرے کی۔ یہ ایک سیاسی سودا تھا۔
پھر 1979 آیا۔ ایک ہی سال میں تین جھٹکے۔ ایران میں انقلاب، خود مکہ میں حرم پر مسلح قبضہ، اور افغانستان پر سوویت حملہ۔ سعودی حکومت نے ساکھ بچانے کے لیے تیل کی دولت مذہبی برآمد پر لگا دی۔
اس خرچ کا کوئی سرکاری حساب نہیں، کیونکہ سعودی عرب نے اعداد و شمار کبھی شائع نہیں کیے۔ مگر محقق جیمز ڈورسی کے مطابق اندازہ یہ ہے کہ 1973 کے تیل بحران کے بعد کی دہائیوں میں دنیا بھر کے مذہبی اور ثقافتی اداروں پر پچھتر سے سو ارب ڈالر خرچ ہوئے۔ رابطہ عالم اسلامی 1962 میں بنی اور ہر اس خطے میں دفتر کھولا جہاں مسلمان آباد تھے۔ 1975 سے 2000 کے درمیان سعودی سرکاری فنڈ سے دنیا بھر میں پندرہ سو سے زائد مساجد بنیں، اور ساتھ مدارس، جامعات، وظائف اور میڈیا۔
سب سے بڑا میدان پاکستان تھا۔ 1947 میں یہاں ایک سو نواسی مدارس تھے۔ 1971 میں تقریباً نو سو۔ 1988 میں، ضیا کے دور کے اختتام پر، آٹھ ہزار سے زائد رجسٹرڈ اور تقریباً پچیس ہزار غیر رجسٹرڈ۔ اور 2023 کی مردم شماری میں چھتیس ہزار تین سو اکتیس۔
یہ خود بخود نہیں ہوا۔ اسی کی دہائی میں سعودی عرب نے ایران کے اثر کو روکنے کے لیے مخصوص مسلک کے مدارس پر بھاری رقم خرچ کی۔ دو ملکوں کی لڑائی کا میدان ہمارے محلے بنا دیے گئے۔ 2008 کے ایک امریکی سفارتی مراسلے میں خبردار کیا گیا کہ سعودی مدد سے چلنے والے مدارس ان علاقوں میں بھی شدت پسندی پھیلا رہے ہیں جو پہلے معتدل تھے۔ پنجاب پولیس نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کہ صوبے کے دو تہائی سے زائد خود کش حملہ آور مدارس سے پڑھے تھے۔
اور اعتراف خود اسی خاندان نے کیا۔ 2018 میں محمد بن سلمان نے کہا کہ وہابیت کی اشاعت سرد جنگ کے دوران مغربی اتحادیوں کی خواہش پر کی گئی تھی۔ اگر وہ عقیدہ تھا، تو کسی اتحادی کی خواہش پر کیوں پھیلایا گیا؟ اور اگر آج وہی خاندان کنسرٹ، سینما اور ریزارٹ بنا رہا ہے، تو کیا بدلا؟ دین نہیں، پالیسی۔ جو چیز ضرورت کے ساتھ بدل جائے، وہ عقیدہ نہیں، حکمت عملی ہوتی ہے۔
اصل بات
ہم نے دین، حرمین اور ایک حکمران خاندان کو ایک ہی چیز سمجھ لیا ہے۔ حرمین دنیا بھر کے مسلمانوں کے ہیں، حکومت ایک خاندان کی ہے۔ اسی لیے جب وہ حکومت دو غیر ملکیوں کی گردن اتار دے اور جرم تک نہ بتائے، تو اس پر سوال کرنا دین پر سوال نہیں، ایک ریاست پر سوال ہے۔
اور آخری بات اپنے بارے میں۔ یہ پیسہ کسی نے زبردستی نہیں تھمایا تھا۔ ضیا الحق اور اس کے جرنیلوں نے یہ سودا خوشی سے کیا، دوسروں کی جنگ اپنی زمین پر لڑنے کے لیے۔ سعودی عرب نے پیسہ دیا، امریکہ نے فرمائش کی، اور لاشیں ہماری تھیں۔ آج وہ دونوں آگے بڑھ چکے ہیں۔ ہم اب بھی وہیں کھڑے ہیں، اپنے مسلکوں میں بٹے ہوئے، اور ہر بم دھماکے کے بعد پوچھتے ہیں کہ یہ سب شروع کہاں سے ہوا تھا۔
حوالہ: معید پیرزادہ کی تحقیق، جیمز ڈورسی، ژیل کیپل، ڈیوڈ کمنز، نیو یارک ٹائمز
تحریر: محمد فرخ
Muhammad Farrukh
#Democracy #Pakistan #Politics
SHAKIL HAIDER retweeted
கணவனும் மனைவியும் மெக்காவுக்குப் போன சந்தோஷத்தில் அன்பைப் பரிமாறிக்கொள்வதைத் தான்… பாகிஸ்தான்காரன் இந்த வீடியோவை எடுத்துக்கொடுத்து, ஒழுக்கக்கேடான செயல்னு சொல்லி, இந்த ரெண்டு பேரோட தலையையும் வாங்கியிருக்கு காட்டுமிராண்டி இஸ்லாமிய சவுதி அரசு.🤧
SHAKIL HAIDER retweeted
سعودی عرب میں ہزاروں لاکھوں گوروں ہیں۔ زیادہ تر گرل فرینڈز کے ساتھ رہتے ہیں۔ اور بغیر نکاح کے بچے پیدا کرتے ہیں۔
لیکن سعودی قانون ان پر لاگو نہيں ہوتا۔ یہ پاکستانی اور بنگالی مسکینوں پر ہی لاگو ہوتا ہے۔ لعنت ان منافقین پر!
SHAKIL HAIDER retweeted
ریاض میں ہونے والے دھماکوں کی ویڈیو بنانے کے الزام میں ایک پاکستانی مزدور کو سزائے موت دے دی گئی۔
یہ سعودی عرب کی جانب سے ایک ہفتے کے دوران دوسری ایسی کارروائی ہے۔ اس سے قبل دو مصری مزدوروں کو بھی سزائے موت دی گئی تھی۔
SHAKIL HAIDER retweeted
🚨 Hindistan'da Müslümanlara zulüm var.
Hindistan’da cami yıkımı kararına karşı sesini duyurmak için sokağa çıkan bir Müslüman, aşırı milliyetçi grupların saldırısına maruz kaldı. #Hindistan #India
SHAKIL HAIDER retweeted
Eight billion people have witnessed images and reports of abuses against Palestinian detainees, ranging from torture and mistreatment to deaths in custody.
Yet those accused of these acts continue to enjoy freedom of movement and political protection,
while institutions seeking accountability may themselves face pressure and sanctions.
SHAKIL HAIDER retweeted
"اے بی سی (ABC) کی ایک صحافی کو یہ رپورٹ کرنے پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا تھا کہ اسرائیل نے غزہ میں بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔ عدالت نے ان کی برطرفی کو غیر قانونی قرار دے دیا۔
اپنی فتح کے بعد کی تقریر میں، انہوں نے کہا: '2023 سے، اسرائیل نے شہریوں کے خلاف بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کیا ہے اور جان بوجھ کر لوگوں کو فاقہ کشی کا نشانہ بنایا ہے۔'"
SHAKIL HAIDER retweeted
الجزیرہ کے نیوز اینکر نے یمنی انصار اللہ کے سیاسی رکن سے سوال کیا کہ کیا آپ امریکی صدر ٹرمپ اور امریکہ سے نہیں ڈرتے ؟
محمد البخیتی نے جواب دیا کہ ہم صرف اللہ سے ڈرتے ہیں۔
مجھے خوشی ہے کہ اللہ نے ایسے دوست دیئے جو دنیا کی ظالم و جابر قوتوں سے نہیں ڈرتے۔
#Yemen
SHAKIL HAIDER retweeted
اگر آپ نسل کشی کو روک نہیں سکتے، تو اس کے بارے میں بات پھیلائیں اور دنیا کو سنائیں خاموش نہ رہیں خدارا 🙏!
SHAKIL HAIDER retweeted
نجد سے اٹھ کر حجاز پر قبضہ کرنے والے آل سعود نے اسلام کو اصل شکل میں برقرار رکھا ہے؟
تاریخ کا مطالعہ نہ کیا جائے اور آپ کے نزدیک اقتدار پر قابض قوتوں کی legitimacy کوئی اہم مسئلہ نہ ہو تو حقائق کے نام پر ایسے مغالطے اور مفروضے ہی بیچے جا سکتے ہیں۔ حجاز میں موجود مقدس مقامات کا انتظام و انصرام سنہ 1517ء تک عباسی، فاطمی، ایوبی اور مملوک ادوار میں مقامی شرفاء کے پاس رہا جنہیں اشرافِ مکّہ کہا جاتا تھا جو حضرت حسن بن علی علیہ السلام سے نسبت رکھنے والے ہاشمی خاندانوں میں سے تھے۔ وہ صدیوں تک مکہ مکرمہ کے مقامی حکمران رہے اور مختلف مسلم سلطنتوں کے ساتھ ان کے تعلقات کبھی تابعداری اور کبھی نسبتاً خود مختاری پر مبنی رہے۔ 1517ء کے بعد عثمانی سلطنت میں بھی مقامی انتظام میں اشرافِ مکّہ کی حیثیت برقرار رہی۔ اس تمام عرصہ میں اسلام اپنی اصل شکل میں ہی برقرار رہا یہاں تک کہ حجاز پر نجد کے حکمران عبدالعزیز آلِ سعود کی برطانوی حمایت یافتہ افواج نے قبضہ کر لیا۔
نوٹ: شرک و بدعت سے پاک ریاض میں ہونے والے جینیفر لوپیز کے کنسرٹ کی ویڈیو صرف دو برس پرانی ہے۔
آل سعود سے لاکھ اختلاف لیکن سب سے بڑا کارنامہ ہی اہل سعود کا یہ ہے کہ انہوں نے اسلام کی اصل شکل کو برقرار رکھا۔ کوئی شرک کوئی بدعت کوئی نذرانے اس پاک اور معطر سرزمین پر نہیں پیدا ہونے دیئے۔ ورنہ خدانخواستہ ہمارے برصغیری انڈیا پاکستان یا ایران کے زیر کنٹرول ہوتا تو ہم یہاں وہ وہ مناظر دیکھتے جو علی ہجویری کے دربار کے باہر ہوتا ہے ،جو بابا فرید کے دربار کے باہر ہوتا ہے۔ دروازے پر پنجاب پولیس لوگوں کو مار رہی ہوتی ۔ دھاگے بندھے ہوئے ، موتی لٹکے ہوئے دیگیں پکتی ہوئی، چادریں چڑھتی ہوئی، شاہ دولے باہر جھمگٹا لگائے ہوئے، منتیں مانگنے والے زمین پر رینگنتے ہوئے۔ غیر اللہ کے نام پر کھانے بٹتے ہوئے۔ میلے کچیلے لوگ باہر ریڑیاں لگائے ہوئے۔۔ نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ دور پرے باہر گندے بدبودار صدیوں سے نہ نہائے ہوئے ملنگ صوفیانہ کلام میوزیل انسٹرومنٹ کے ساتھ گا رہے ہوتے۔
یہ واقعی آل سعود کا بڑا کام ہے۔ اللہ اور ان کے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ان سے راضی ہوں۔ اور انہیں ہی ہمیشہ حرمین شریفین کا محافظ رکھے ۔ آمین ثم آمین
SHAKIL HAIDER retweeted
امریکہ سوچیں پے گیا۔ کہتے ہیں سوچیں پیا تے بندہ گیا۔
صورتحال یہ ہے کہ ایران نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اگر اس کی قیادت یا انفراسٹرکچر پر امریکی یا اسرائیلی حملے ہوئے تو دبئی سے ریاض تک امریکی فنڈنگ سے چلنے والے سب کنجر$خانے تباہ و برباد کر دے گا۔ امریکہ کا عرب پراجیکٹ عرب صحرا میں دفن کر دے گا۔
اور اسرائیل کے لئے خصوصی کھلونے تیار ہیں۔ انہيں استعمال کرے گا۔
اب امریکہ سوچیں پے گیا۔ کہتے ہیں سوچیں پیا تے بندہ گیا۔
SHAKIL HAIDER retweeted
یہ حقیقت ہے کہ سعودی عرب کی مدد کے بغیر اسرائیل بہت بڑی مصیبت میں پھنس جاتا۔ سعودی عرب نے اسرائیل کو بچا لییا۔ شکریہ سعودیہ!
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
@POTUS @realDonaldTrump
@SaudiMOH






















