انسانی حقوق کی کمیٹی میں وہ شخص بیٹھے گا جو خود الزام لگانے والے کیمپ کا چہرہ ہے
جن خاندانوں کے بیٹے برسوں سے بند ہیں جن کے گھر اجڑ چکے ہیں، انہیں اس کمرے کا
راستہ نہیں ملا
15 اکتوبر کو سینیٹ کے اجلاس میں قیصر احمد راجہ کو بلاسفیمی مقدمات پر رائے دینے کے لیے بلایا گیا ہے
افسوس😭
🚨🚨🚨📍 انتہائی تشویشناک:
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں قیصر احمد راجہ بطور ’’ایکسپرٹ‘‘ مدعو؟
👈 جی آپ نے درست سنا "انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی میں"
مظلوم خاندانوں کے زخموں پر نمک پاشی!
📍قیصر احمد راجہ نامی یوٹیوبر کو 15 اکتوبر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں بلاسفیمی بزنس گروپ کے بنائے گئے کیسز پر بطور ’’ماہر‘‘ رائے دینے (Expert Opinion) کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔
کیا ہی شاندار انتخاب ہے ایک ماہر کا! آخر یہ کر کون رہا ہے ؟ سمجھ آرہا ہے آپ کو ؟؟؟؟؟
📍وہ شخص جس نے زیرِ سماعت مقدمات کے ملزمان کو بلاسفیمَر قرار دیا،
📍وہ شخص جس نے ان کے والدین کے خلاف نفرت انگیز مہم چلائی،
📍 وہ شخص جس نے ان مقدمات کی سماعت کرنے والے ججز کو نفرت کا نشانہ بنایا۔
📍 وہ شخص جس نے ہمارے وکیل جناب حافظ آصف علی تمبولی صاحب کو کافر قرار دے کر ان کے نکاح پر سوال اٹھائے۔
📍وہ شخص جس کے طرزِ عمل سے انجینئر محمد علی مرزا سمیت دیگر افراد کی زندگیاں خطرے میں پڑیں۔
📍 وہ شخص جس نے ایک نابینا زیرِ حراست ملزم کا میڈیا ٹرائل کیا،
📍 وہ شخص جس نے ہائی کورٹ میں سماعتوں سے ٹھیک ایک دو دن قبل کیسز کو سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی سے اچھالنے کی کوشش کی تاکہ ججز پر پریشر ڈالا جائے ۔
📍وہ شخص جس نے ہائی کورٹ کے بریت کے فیصلوں کو ’’تاریخ کے سیاہ ترین فیصلے‘‘ قرار دیا،
📍وہ شخص جس نے ججز کو قانون سکھانے کی بات کی،
📍وہ شخص جس نے عوام کو اشتعال دلانے کے لیے زیرِ سماعت مقدمات کی فائلیں شائع کیں،
📍وہ شخص جس نے ضمانت دینے والے ججز کو ہراساں کیا،
📍 وہ شخص جس نے وردی میں ملبوس ایک نوجوان کیڈٹ کی شناخت ظاہر کرکے اس کے خلاف فحش اور تضحیک آمیز الزامات پھیلائے۔
📍 وہ شخص جس نے وفات پا جانے والے مظلوموں کی بھی توہین کی۔
🔵اور دوسری طرف اصل متاثرین آج بھی انصاف کے منتظر ہیں!
🔵وہ خاندان جن کے بیٹے جیلوں میں بند ہیں۔
وہ پانچ خاندان جن کے بچے قتل ہوچکے ہیں۔ وہ جو زندگی سلامت صحنت مند حالت میں گھروں سے ہنی ٹریپ کرکے اغوا کئے گئے تھے جو قتل ہوچکے اور اب کبھی اپنے گھروں کو واپس نہیں آئیں گے۔
🔵وہ والدین جو اپنے نوجوان بیٹوں کی واپسی کا انتظار کرتے کرتے دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر ان کے بچے انہیں واپس نہ ملے۔
🔵وہ خاندان جو طویل حراست، تشدد اور سالہا سال سے انصاف کے لیے دربدر ہیں، لیکن انہیں کمیٹی کے اجلاس میں بلانا تو دور، ملنے تک کا موقع نہیں دیا گیا۔
🔵 یہ کیسی انسانی حقوق کی کمیٹی ہے؟
🔵 ایک ایسے شخص کو ماہر بنا کر بلایا جا رہا ہے جس پر زیرِ سماعت ملزمان، ان کے خاندانوں، وکلا اور ججز کے خلاف نفرت پھیلانے کے سنگین الزامات ہیں، جبکہ ان مقدمات سے تباہ ہونے والے خاندانوں کو سنا تک نہیں جا رہا!
🔵قیصر احمد راجہ نہ ان مقدمات کا مدعی ہے، نہ ان کا وکیل، نہ جج ، نہ کوئی سرکاری اہلکار نہ عہدیدار نہ پارٹی اور نہ ہی ان مقدمات میں کسی قانونی حیثیت سے فریق ہے۔ پھر اسے کس بنیاد پر یہ پلیٹ فارم دیا جا رہا ہے؟ اور یہ فیصلہ کون کر رہا ہے؟
🔵 اگر اسے اپنی رائے پیش کرنے کا حق دیا جا رہا ہے تو مظلوم خاندانوں کو بھی اپنی شہادتیں، ثبوت اور اپنی داستانِ الم پیش کرنے کا برابر موقع دیا جائے۔ اگر ہمیں سننے کے لیے نہیں بلایا جاتا تو پھر اسے بھی یہ خصوصی موقع نہ دیا جائے۔
🔵 اگر آپ انصاف اور برابری کا سلوک نہیں کرسکتے تو براہِ کرم اپنی کمیٹی کے نام سے ’’انسانی حقوق‘‘ کے الفاظ ہٹا دیں!
🔵انسانی حقوق کے تحفظ کا دعویٰ کرنے والے ادارے نفرت کے فروغ کے الزامات کا سامنا کرنے والوں کو بار بار پلیٹ فارم کیسے دے سکتے ہیں، جبکہ انصاف مانگنے والے خاندانوں کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے؟
🔵یہ انتہائی دکھ، تکلیف اور ناانصافی کا معاملہ ہے۔ اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے کہ اس کی مخلوق کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے۔ اور انسانی حقوق والے کیا کر رہے ہیں۔ کون اللہ کی بجائے اس کی مخلوق اور زومبیز کے جتھوں سے ڈر رہا ہے ۔
🔵🚨📍 ہمارا مطالبہ واضح ہے: مظلوم خاندانوں کو برابر نمائندگی، منصفانہ سماعت اور انصاف فراہم کیا جائے!
#JusticeFor450 #450LivesMatter
#JusticeForAbdullahShah
#WeAreNotInsects
#Blasphemy
@UNHumanRights
@nchrofficial
@HRCPakistan
@HRCP87
@SenatePakistan
@amnestysasia
@amnesty
Justice Seeker retweeted
ڈونکی راجا، اگر تمہیں قادیانیوں سے اتنی ہی نفرت تھی تو تمہارے والد بیلجیم میں ان کے پاس گئے ہی کیوں؟ اور پھر اسائلم ملی کیسے، آخر کس بنیاد پر ملی؟ تمہارے والد کے بارے میں تو قادیانیوں کی طرف سے بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ قادیانی تھے۔ پھر آج یہ سب کیا ہے؟ پہلے اسائلم لینے کی وجہ تو واضح کرو، پھر دوسروں کو صفائیاں دینا۔ یہاں آ کر مسلمانوں کو بےوقوف سمجھنا بند کرو، سوال سیدھا ہے تو جواب بھی سیدھا دو!
@qaiseraraja
Human rights defenders
@ImaanZHazir @AdvHadiali
سپریم کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کی سزا معطلی درخواستیں منظور کرلی، عدالت نے دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی، ٹرائل کورٹ کا فیصلہ معطل
دونوں وکیل ہیں انکی عزت رکھ رہے ہیں، انہیں بھی کہہ دیں عدالت کے ڈیکورم کا خیال رکھیں، جسٹس نعیم اختر
#Humanrights
سپریم کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کی سزا معطلی درخواستیں منظور کرلی، عدالت نے دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی، ٹرائل کورٹ کا فیصلہ معطل
دونوں وکیل ہیں انکی عزت رکھ رہے ہیں، انہیں بھی کہہ دیں عدالت کے ڈیکورم کا خیال رکھیں، جسٹس نعیم اختر
#Humanrights
انتہا پسندوں نے شور مچایا کہ 295-C پر حملہ ہو رہا ہے۔کمیشن بن رہا ہے۔کمیشن بنا تو ہنگامہ کر دیں گے۔حقیقت اس کے برعکس تھی۔
کمیشن نہیں بنا۔غریب کو انصاف نہیں ملا۔انتہا پسندی پروان چڑھی۔
بلاسفیمی بزنس گروپ جیت گیا۔
مظلوم جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔
شور کاروبار بچانے کے لیے تھا۔
بلاسفیمی بزنس گروپ کہاں کھڑا ہے
منافقت کو سر ماتھے لگائے
ان کے اپنے مولویوں کی بات آئی جس سے دوسروں پر تو توہین مذہب لگتا ہے، لیکن انہوں نے ان کے خلاف مقدمہ کیوں نہیں کروایا؟
مافی نامہ لکھوایا۔ توبہ کرائی۔ بات دبا دی۔
اپنے عالم کے لیے معافی کا کاغذ یہ شریعت نہیں_
Justice Seeker retweeted
🚨📍 دودھ کی رکھوالی دو بلیاں ۔۔۔۔ !
📍 گزشتہ روز ہوم ڈپارٹمنٹ آف پنجاب گورنمنٹ کے عہدیداران کے ساتھ ایک میٹنگ رکھوائی گئی جس میں دیگر چند افراد کے ساتھ قیصر احمد راجہ اور عبدالوارث گل نامی اشخاص نے بطور " علمائے کرام" شرکت کی۔
📍یہ اجلاس بین المذاہب ہم آہنگی ، انتہا پسندی کے خاتمے اور معاشرے میں امن و بھائی چارے کے فروغ کے کو فروغ دینے کے لئے منعقد ہوا جیسا کہ ہوم ڈپارٹمنٹ کی طرف سے جاری کی گئی آفیشل فیس بک پیج کی پوسٹ میں تحریر سے واضح ہے ۔
📍پجناب گورنمنٹ کے ہوم ڈپارٹمنٹ نے اس
مقصد کے لئے "دودھ کی رکھوالی بلیوں" کے مصداق غلط لوگوں سے امن و آشتی کی توقع وابستہ کی ہے ۔ اب ان دو شخصیات کی اصلیت ذیل میں دی گئی ویڈیو میں ان کے بیانات سے واضح ہے ۔
📍 عبدالوارث گل وہ شخص ہے جو ہمارے بچوں کو جیلوں سے باہر قتل کروانے کی دھمکیاں دے چکا ہے اور یہ خود غیر مسلموں کو اسلام میں داخل کرنے اور ان کو نیو مسلم کمپلیکس بنا کر دینے کی آڑ میں 25 کروڑ روپے چندے کی مد میں اکٹھے کر چکا ہے ۔ اتنی بڑی چندہ رقم کا کوئی سورس نہیں کہ اتنی خطیر رقم ان لوگوں کے پاس کہاں سے آتی ہے ۔۔ نہ کبھی کسی ادارے نے اس پر تحقیق کی ۔
📍جبکہ دوسری شخصیت قیصر احمد راجہ ہمارے وکیل جناب حافظ آصف علی تمبولی کو دائرہ اسلام سے خارج کرکے ان پر کفر کا فتویٰ صادر کرکے ان کی تکفیر کرچکا ہے۔ ، اس نے کہا کہ تمبولی صاحب آپ علمائے کرام کے سامنے پیش ہوں اور دوبارہ تجدید ایمان کریں اور نکاح بھی دوبارہ کریں۔
📍لوگوں کے بچوں کو قتل کی دھمکیاں دینے والے اور حافظ قرآن شخص کو کافر قرار دینے والے افراد جو نفرت کے پرچارک ہیں ان سے بین المذاہب ہم آہنگی ، انتہا پسندی کے خاتمے اور معاشرے میں بھائی چارے اور امن و آشتی کی توقع کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ کون ان لوگوں کی سہولت کاری کر رہا ہے کبھی یہ لوگ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پہنچے ہوتے ہیں اور کبھی پنجاب حکومت کے ہوم ڈپارٹمنٹ کے اجلاس میں ۔۔۔۔۔! کیا ایسے لوگ جو دوسروں کے ایمان کے ٹھیکے دار بنے ہوئے ہیں وہ معاشرے سے انتہا پسندی کا خاتمہ کریں گے ؟
🛑 🟡 سازش الرٹ 🟡🛑
ان موصوف سے ملئیے ۔ 👇
یہ ہیں سابقہ پادری جناب عبدالوارث گل ، جو عیسائیت چھوڑ کر (بظاہر) اسلام میں داخل ہوئے ہیں۔ اور بلاسفیمی بزنس گروپ کے نمائندہ خاص کے طور پر سامنے آئے ہیں اور فیملیز کو دھوکہ دے کر مناظرہ کروانے کے چکر میں ملوث پائے گئے ہیں
👈 اب زیر نظر ویڈیو دیکھیں اور شعلہ انگیز بیان سنیں ۔ ایسا بیان تو کوئی مسلمان لیڈر بھی نہیں دیتا ۔ کہ اجی اگر ان کو ضمانتوں پر رہا کیا گیا تو میرے جیسے لوگ جیل کے باہر پہنچیں گے اور انہیں نہیں چھوڑیں گے ( قتل کی دھمکیاں دے رہا) مطلب پھر عدالتیں اور ادارے بند کردیں یہ والا کھیل کھیلنے کا زیادہ شوق ہے وہ بھی دوسروں کو مشورہ دے رہا کہ میرے جیسے جذباتی لوگ انہیں نہیں چھوڑیں گے ۔ اس میں " میرے جیسے " پر غور کریں یہ ایک نفسیاتی حربہ ہوتا ہے جس میں آپ نے کچھ نہیں کرنا ہوتا اور صرف دوسروں کو اشتعال دلانا ہوتا ہے کہ " میرے جیسے جذباتی " لوگ یہ کام کریں گے مطلب اس نے خود نہیں کرنا ۔ اس کے جیسا کوئی دوسرا جذباتی آکر کرے گا
👈 یہ ہوتے ہیں وہ لوگ جو جہاد اور مختلف جذباتی نعروں کا استعمال کرکے لوگوں کے بچے مرواتے ہیں برین واش کرکے خودکش بمبار تیار کرتے ہیں اور ان کے اپنے بچے بیرون ممالک میں اعلی تعلیم حاصل کر رہے ہوتے ہیں ۔
👈ساتھ ہی ایک حوالہ بطور خاص اکثر یہ شخص لوگوں کے جذبات سے کھیلنے کے لئے خاص طور پر استعمال کرتا ہے کہ اجی دودھ تو میں نے عیسائی ماں کا پیا ہے ( وہ بھی کوکھ سے ) مگر ٹھیکیدار میں اسلام کا بن گیا ہوں ۔ یہ جملہ بول کامفیڈینس سے بول کر اپنی بات کو منوایا جاتا ہے دیگر جگہوں پر بھی اس ٹیکنیک کا استعمال کیا گیا ہے
(جاری ہے 👇)
Justice Seeker retweeted
🚨📍 اقوام متحدہ تک کالعدم دھشتگرد تنظیم لشکر جھنگوی جس کے لنکس افغان طالبان اور القاعدہ تک تھے ۔ اس کالعدم تنظیم کے سربراہ کا وکیل راؤ عبدالرحیم تھا کیوں کہ یہ شخص اس وقت بھی اور اب بھی ان تنظیموں کا ایکٹو رکن ہے ۔
📍اقوامِ متحدہ نے لشکرِ جھنگوی (Lashkar-i-Jhangvi) کو 3 فروری 2003 کو کالعدم قرار دیا تھا ۔
مذکورہ تنظیم کو نہ صرف اقوام متحدہ بلکہ 🇺🇸 امریکہ نے بھی 30 جنوری 2003 کو Foreign Terrorist Organization (FTO) قرار دیا۔
🇬🇧 برطانیہ میں بھی دہشت گرد تنظیم کے طور پر proscribed ہے۔
🇨🇦 کینیڈا میں بھی دہشت گرد تنظیم کے طور پر proscribed ہے۔
🇦🇺 آسٹریلیا نے بھی 11 اپریل 2003 کو دہشت گرد تنظیم کے طور پر درج کیا، بعد میں دوبارہ relist بھی کیا گیا۔
🇳🇿 نیوزی لینڈ نے بھی LeJ کو دھشت گرد تنظیم کے طور پر proscribed کیا۔
🇵🇰 حکومت پاکستان نے بھی اگست 2001 میں لشکرِ جھنگوی پر پابندی عائد کر دی تھی۔
📍اقوامِ متحدہ نے لشکرِ جھنگوی کو القاعدہ اور طالبان سے وابستگی کی بنیاد پر قرارداد 1390 (2002) کے تحت فہرست میں شامل کیا تھا۔
📍 UN کے ریکارڈ میں واضح طور پر درج ہے کہ لشکرِ جھنگوی کے القاعدہ اور طالبان سے روابط تھے، اس کے ارکان کو افغانستان میں طالبان کی جانب سے پناہ حاصل رہی،
📍 اس کے ارکان نے طالبان کے یونٹس کے ساتھ مل کر لڑائی میں حصہ لیا، جبکہ لشکر جھنگوی کے دھشتگرد القاعدہ کے ارکان سے دہشتگردی کی ٹریننگ لیتے رہے۔
👈 لہٰذا جب کوئی شخص یا گروہ لشکرِ جھنگوی جیسی کالعدم تنظیموں سے لنکس ہو اور وہ پاکستان کے وفاقی دارلحکومت میں ایک منظم گینگ بھی چلا رہا ہو ،
اور تو اور اسلام آباد کے مرکز میں ان تنظیموں کے جلسوں سے اشتعال انگیز تقاریر بھی کر رہا ہو تو بہت سارے سوال کھڑے ہوتے ہیں کہ اس شخص کو اتنی ڈھیل کیوں دی گئی ہے جس کی تنظیم نے پورے پاکستان میں دھشت گردی سے 2000 سے زائد لوگ قتل کئے اور جس کا بھائی اپنے ضلع وہاڑی کا لشکر جھنگوی کا صدر ہو تو ایسے اشخاص پر اداروں کو ایکشن لینا چاہئیے کیوں کہ ایسے افراد مسلسل پاکستان میں بدامنی ، معاشرے میں بے چینی اور لوگوں کی زندگیاں برباد کرنے سمیت پاکستان کا امیج پوری دنیا میں خراب کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔
#StopBlasphemyBusiness #JusticeFor450 #450LivesMatter
فیکٹ فوکس کی نئی تحقیقاتی رپورٹ (پارٹ#1)
👈تین دہائیاں، تین کردار، تین راستے، ایک سوال
31 اگست, 2026 by قندیل عظیم
📍 پانچ مئی 2025 کو حکومت پنجاب کے محکمہ داخلہ کے سکریٹری نورالامین مینگل نے ایک درخواست مسترد کر دی۔ درخواست ایک ایسے شخص کی تھی جس کا نام برسوں سے دہشت گردی سے متعلق ایک سرکاری فہرست، یعنی فورتھ شیڈول، میں شامل ہے۔ اس شخص نے مؤقف اختیار کیا کہ اب اس کا کالعدم تنظیم لشکرِ جھنگوی سے تعلق نہیں، اس لیے اس کا نام فہرست سے نکال دیا جائے۔
📍نورالامین مینگل، جنہوں نے خود اس شخص کا نام 24 جون 2024 کو فورتھ شیڈول میں ڈالا تھا، ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد یہ درخواست مسترد کر دی۔ سرکاری فیصلے میں انہوں نے قرار دیا کہ درج وجوہات اور موجود شواہد کے مطابق درخواست گزار کا نام فورتھ شیڈول سے نہیں نکالا جا سکتا۔
📍یہ فیصلہ صرف ایک انتظامی کارروائی نہیں تھا۔ اس نے تقریباً تین دہائیوں پر محیط ایک ایسے ریکارڈ کی طرف دوبارہ توجہ دلائی جس میں فرقہ وارانہ شدت پسندی، دہشت گردی کے مقدمات، کالعدم تنظیموں سے تعلق اور بعد کے برسوں میں سامنے آنے والی نئی سرگرمیاں ایک ہی سلسلے کی مختلف کڑیاں دکھائی دیتی ہیں۔
📍 اسی کہانی کے تین مرکزی کردار ہیں، جن میں دو سگے بھائی ہیں۔
📍لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس چودھری عبدالعزیز جنہوں نے عبداللہ شاہ قتل کیس پر اثر انداز ہونے کے حوالے سے فیکٹ فوکس کی فروری 2025 کی تحقیقاتی خبر شائع ہونے کے فوراً بعد استعفٰی دے دیا تھا، اس کہانی کے پہلے مرکزی کردار ہیں۔ وہ آج بھی بڑے زور و شور سے مختلف پلیٹ فارمز پر بلاسفیمی کے کاروبار کی سہولت کاری کر رہے ہیں۔
📍دوسرے کردار، راؤ حبیب الرحمان، جن کے خلاف 1990 کی دہائی سے لے کر اب تک مختلف اوقات میں دہشت گردی، قتل، اقدام قتل، اشتعال انگیزی اور دیگر سنگین نوعیت کے مقدمات درج ہوتے رہے۔ ان کا نام پاکستان کی تاریخ کے دہشت گردی کے سب سے بڑے کیسز میں آیا، سرکاری ریکارڈ کے مطابق ان کا نام آج بھی فورتھ شیڈول میں شامل ہے۔ اور حال ہی میں اسی فورتھ شیڈول سے نام نکلوانے کی ان کی درخواست پنجاب کی وزارت داخلہ نے مسترد کر دی۔
📍وہ بدنام زمانہ دہشت گرد تنظیم لشکر جھنگوی کے مرکزی رہنماؤں میں سے ہیں اور ایک لمبا عرصہ اسی دہشت گرد تنظیم کے ضلع وہاڑی کے صدر رہے۔
📍یاد رہے کہ پاکستان نے لشکر جھنگوی کو 14 اگست 2001 کو کالعدم قرار دیا تھا ، جبکہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے 2003 میں اسے القاعدہ اور طالبان سے تعلق کی بنیاد پر کالعدم قرار دیا۔ اس سب کے باوجود راؤ حبیب الرحمان اب آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں اور اپنے کاروبار وغیرہ کو دیکھ رہے ہیں۔
📍تیسرے کردار راؤ حبیب الرحمان کے چھوٹے بھائی ایڈووکیٹ راؤ عبدالرحیم، جوخود کو اسلام آباد میں قائم ایک تنظیم لیگل کمیشن آن بلاسفیمی کا سربراہ بتاتے ہیں مگر پچھلے دو سالوں میں فیکٹ فوکس نے مسلسل اپنی تحقیقاتی رپورٹنگ کے ذریعے انکی تنظیم کی اصلیت کو عیاں کیا اور ثابت کیا کہ راؤ عبدالرحیم در اصل " بلاسفیمی بزنس گروپ" کے سربراہ ہیں۔
📍فیکٹ فوکس نے پنجاب پولیس کی اسپیشل برانچ کی ایک ایسی کلاسیفائیڈ رپورٹ کو بھی جاری کیا جس میں راؤ عبدالرحیم کے بلاسفیمی سے متعلق اسی ایڈونچر کو " بلاسفیمی بزنس گروپ " کے نام سے ہی پکارا گیا تھا۔
📍میڈیا کے دیگر حلقے اور صحافی انکی تنظیم کو " بلاسفیمی گینگ " پکارتے ہیں۔ ان موصوف کاروبار بھی عروج پر ہے اور موجودہ حکومت کے اہم ترین وزرا سے انکا رابطہ رہتا ہے اور وہ باآسانی پارلیمنٹ کی ہر طرح کی کاروائی کا حصہ بھی بنتے ہیں۔
فیکٹ فوکس کی یہ رپورٹ سرکاری ریکارڈ، ایف آئی آرز، تحقیقاتی رپورٹس، عدالتی دستاویزات، محکمہ داخلہ کے احکامات، دیگر سرکاری دستاویزات اور ناقابل تردید ثبوتوں کی بنیاد پر گزشتہ تین دہائیوں کے دوران مختلف اوقات میں پیش آنے والے واقعات کو ایک ٹائم لائن کی صورت میں سامنے لاتی ہے۔
📍اس ٹائم لائن سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی جیسے جرائم میں ملوث افراد اور دہشت گرد تنظیموں سے وابستہ عناصر نہ صرف موجودہ نظام میں محفوظ رہتے ہیں بلکہ اپنے فرسودہ اور انتہاپسندانہ نظریات اور مقاصد کو جاری رکھنے کے لیے اپنی سابقہ تنظیموں کو نئے ناموں اور بدلے ہوئے طریقہ کار کے ساتھ دوبارہ منظم کر لیتے ہیں۔ حالات اور ماحول کے مطابق تنظیم کا نام اور کام کرنے کا انداز بدل جاتا ہے، مگر مقاصد وہی رہتے ہیں۔
📍یوں گزشتہ تین دہائیوں میں مذہبی انتہاپسند اور دہشت گرد تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد مزید طاقتور ہوئے، انہوں نے نئے محاذ کھولے اور نت نئے ایڈونچر شروع کیے، جبکہ عام اور غریب لوگوں، خصوصاً پڑھے لکھے نوجوانوں کی زندگیاں مزید اجیرن ہوتی گئیں۔
(جاری ہے 👇)
Justice Seeker retweeted
🚨📍 جب لشکر جھنگوی نے حاضر وزیراعظم نواز شریف اور وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو بم دھماکے (IED) سے اڑانے کے لیے حملہ کیا ۔۔۔۔۔ 👇
🔸 تاریخ: 3 جنوری 1999
🔸 مقام: رائیونڈ، لاہور کے قریب، نواز شریف کی نجی رہائش گاہ سے تقریباً دو میل دور ایک پل کے نیچے ایک بڑی IED نصب کی گئی تھی
👈جس کا مقصد وزیراعظم کے قافلے کے پل سے گزرتے وقت دھماکے میں اڑانا اور حاضر وزیراعظم کا قتل کرنا تھا ۔
📍نواز شریف اس وقت رائیونڈ سے لاہور کی طرف جانے والے تھے۔ ان کے معمول کے شیڈول کے مطابق ان کی گاڑی کو تقریباً اسی وقت اس پل سے گزرنا تھا۔ لیکن گھر سے روانگی میں غیر معمولی تاخیر ہوگئی۔ واشنگٹن پوسٹ کی 4 جنوری 1999 کی رپورٹ کے مطابق اسی تاخیر نے ان کی جان بچائی۔
📍دھماکا تقریباً صبح 4:50 بجے ہوا، پل بری طرح تباہ ہوگیا جس میں چار افراد جاں بحق جبکہ تین زخمی ہوئے تھے۔
📍بم اس وقت پھٹا جب نواز شریف اور ان کا خاندان ابھی وہاں نہیں پہنچا تھا۔ اگر ان کی روانگی معمول کے مطابق ہوتی تو ان کا قافلہ اسی پل سے گزرنے والا تھا۔
نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز نے اس وقت بتایا تھا کہ اس صبح گھر سے روانگی میں تاخیر ہوئی، جس کے باعث وہ مقررہ وقت پر پل تک نہیں پہنچ سکے اور جان بچ گئی۔
📍متعدد مستند ذرائع اور امریکی محکمۂ خارجہ کے دہشت گردی سے متعلق ریکارڈز نے جنوری 1999 میں نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کے قتل کی کوشش کو Lashkar-i-Jhangvi سے منسوب کیا۔
📍امریکی محکمۂ خارجہ کے Country Reports on Terrorism کے ریکارڈ میں صاف درج ہے کہ:
جنوری 1999 میں Lashkar-i-Jhangvi نے وزیراعظم نواز شریف اور پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کو قتل کرنے کی کوشش کی۔
📍اس معاملے میں ریاض بسرا کا نام خاص طور پر آتا ہے۔ وہ لشکرِ جھنگوی کے بانی اور اہم رہنماؤں میں شمار ہوتا تھا۔
📍انٹرنیشنل جریدے The Guardian نے 2001 میں رپورٹ کیا کہ پولیس ریاض بسرا کو نواز شریف کے خلاف جنوری 1999 کے قتل کے منصوبے میں ملوث سمجھتی تھی، اور بتایا کہ نواز شریف کے گھر کے قریب ایک پل اس وقت اڑا دیا گیا تھا جب وزیراعظم کو وہاں سے گزرنا تھا۔
📍متعدد پاکستانی ذرائع کے مطابق اس منصوبے میں ریاض بسرا، اکرم لاہوری اور ملک اسحاق جیسے لشکرِ جھنگوی عناصر شامل تھے۔
(جاری ہے)
🚨📍 اقوام متحدہ تک کالعدم دھشتگرد تنظیم لشکر جھنگوی جس کے لنکس افغان طالبان اور القاعدہ تک تھے ۔ اس کالعدم تنظیم کے سربراہ کا وکیل راؤ عبدالرحیم تھا کیوں کہ یہ شخص اس وقت بھی اور اب بھی ان تنظیموں کا ایکٹو رکن ہے ۔
📍اقوامِ متحدہ نے لشکرِ جھنگوی (Lashkar-i-Jhangvi) کو 3 فروری 2003 کو کالعدم قرار دیا تھا ۔
مذکورہ تنظیم کو نہ صرف اقوام متحدہ بلکہ 🇺🇸 امریکہ نے بھی 30 جنوری 2003 کو Foreign Terrorist Organization (FTO) قرار دیا۔
🇬🇧 برطانیہ میں بھی دہشت گرد تنظیم کے طور پر proscribed ہے۔
🇨🇦 کینیڈا میں بھی دہشت گرد تنظیم کے طور پر proscribed ہے۔
🇦🇺 آسٹریلیا نے بھی 11 اپریل 2003 کو دہشت گرد تنظیم کے طور پر درج کیا، بعد میں دوبارہ relist بھی کیا گیا۔
🇳🇿 نیوزی لینڈ نے بھی LeJ کو دھشت گرد تنظیم کے طور پر proscribed کیا۔
🇵🇰 حکومت پاکستان نے بھی اگست 2001 میں لشکرِ جھنگوی پر پابندی عائد کر دی تھی۔
📍اقوامِ متحدہ نے لشکرِ جھنگوی کو القاعدہ اور طالبان سے وابستگی کی بنیاد پر قرارداد 1390 (2002) کے تحت فہرست میں شامل کیا تھا۔
📍 UN کے ریکارڈ میں واضح طور پر درج ہے کہ لشکرِ جھنگوی کے القاعدہ اور طالبان سے روابط تھے، اس کے ارکان کو افغانستان میں طالبان کی جانب سے پناہ حاصل رہی،
📍 اس کے ارکان نے طالبان کے یونٹس کے ساتھ مل کر لڑائی میں حصہ لیا، جبکہ لشکر جھنگوی کے دھشتگرد القاعدہ کے ارکان سے دہشتگردی کی ٹریننگ لیتے رہے۔
👈 لہٰذا جب کوئی شخص یا گروہ لشکرِ جھنگوی جیسی کالعدم تنظیموں سے لنکس ہو اور وہ پاکستان کے وفاقی دارلحکومت میں ایک منظم گینگ بھی چلا رہا ہو ،
اور تو اور اسلام آباد کے مرکز میں ان تنظیموں کے جلسوں سے اشتعال انگیز تقاریر بھی کر رہا ہو تو بہت سارے سوال کھڑے ہوتے ہیں کہ اس شخص کو اتنی ڈھیل کیوں دی گئی ہے جس کی تنظیم نے پورے پاکستان میں دھشت گردی سے 2000 سے زائد لوگ قتل کئے اور جس کا بھائی اپنے ضلع وہاڑی کا لشکر جھنگوی کا صدر ہو تو ایسے اشخاص پر اداروں کو ایکشن لینا چاہئیے کیوں کہ ایسے افراد مسلسل پاکستان میں بدامنی ، معاشرے میں بے چینی اور لوگوں کی زندگیاں برباد کرنے سمیت پاکستان کا امیج پوری دنیا میں خراب کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔
#StopBlasphemyBusiness #JusticeFor450 #450LivesMatter
Justice Seeker retweeted
جسٹس (ر) چودھری عبدالعزیز نے 2012 میں اسلام آباد کی بارہ سالہ بچی رمشا مسیح پر توہین قرآن کے جھوٹے مقدمے سے شہرت پائی، جس میں وہ اپنے شاگرد راؤ عبدالرحیم کے ساتھ رمشا مسیح کے خلاف وکیل تھے۔
مارچ 2015 تک چودھری عبدالعزیز قاتل ممتاز قادری کو بچانے کیلیے اس کا کیس ہی نہیں لڑتے رہے ایک بلاسفیمی ایکٹیوسٹ کے طور پر بھی متحرک رہے۔
صرف چند ماہ بعد 2016 میں لاہور ہائیکورٹ میں بطور جج ان کی تعیناتی ہو گئی اور بہت سارے بلاسفیمی کے کیس ان کے پاس لگاۓ جاتے
یہ پاکستان کے عدالتی نظام کا حال ہے کہ اس طرح کا شخص اتنے اہم عہدے پر فائز کیا گیا اور بلاسفیمی کے بہت سارے کیس بھی اس کے پاس لگاۓ جاتے
storage.googleapis.com/quriu…
Justice Seeker retweeted
پچھلے دس برسوں میں پاکستان کی حالت یہ کر دی گئی کہ ممتاز قادری جیسے قاتل کا ہمدرد, اُسکا وکیل اور کھلم کھلا ایک بلاسفیمی ایکٹیوسٹ 'چودھری عبدالعزیز' ہائی کورٹ کا جج لگا دیا گیا۔
سینئر صحافی قندیل عظیم کا "حقائق" کیلیے آرٹیکل
"تین دہائیاں، تین کردار، تین راستے، ایک سوال"
لشکر جھنگوی نے صرف نقاب پہنا ہے۔ اب بھی ہر شعبے ہر ادارے میں موجود ہے۔
@QindeelAzeem
@HaqaiqDotCom
storage.googleapis.com/quriu…
۔
Justice Seeker retweeted
The EU Ambassador has expressed deep concern over blasphemy cases and Pakistan’s implementation of human rights commitments. The Ambassador stated:
*"We are concerned about the blasphemy cases and Pakistan’s implementation of human rights commitments."*
We urge Pakistan’s policymakers to take decisive action against “blasphemy business gangs” and those who exploit blasphemy allegations for personal or financial gain.
Curbing this abuse is essential to protect innocent citizens, safeguard Pakistan’s international reputation, and demonstrate genuine compliance with EU and UN human-rights conventions.
It is also critical that immediate relief be provided to victims in Punjab. While 100 people have been given relief in Sindh and the Islamabad Capital Territory, no relief has yet reached the people of Punjab. The government is requested to provide relief to the people of Punjab at the earliest to uphold justice.
Pakistan must ensure that blasphemy laws are not weaponised against innocent people. Justice, due process and accountability must prevail.
Pakistan’s GSP+ status after 2029 is “not certain” or “guaranteed”, EU Ambassador to Pakistan Raimundas Karoblis tells senior journalist Munizae Jahangir in an exclusive interview.
Karoblis says Pakistan’s future under the EU’s GSP+ trade scheme will depend on the country’s implementation of UN human rights conventions — not simply their ratification.
The ambassador discusses the EU’s concerns over enforced disappearances, extrajudicial killings, freedom of expression, journalists’ rights and minority rights, as well as PECA, defamation laws, military trials of civilians, judicial independence, internet shutdowns in AJK, blasphemy cases, Ahmadi rights and Afghan refugees.
Pakistan currently benefits from approximately €732 million in tariff exemptions under GSP+, with the textile sector among the major beneficiaries.
@KaroblisR @MunizaeJahangir @EUPakistan
Justice Seeker retweeted
🟢📍 اگلوں نے اس ایک من گھڑت روایت کو استعمال کرکے پوری ایک انتہا پسند جماعت بناڈالی اور پاکستان میں بلاسفیمی پالیٹکس کی بنیاد رکھی ،
📍توہین مذہب کے قوانین کو کمزور کے خلاف ہتھیار بنایا ، متعدد لوگ قتل ہوگئے جلادئیے گئے مار دیے گئے سر تن سے جدا کردئیے گئے ۔
📍کل کو بروز قیامت یہ کیا منہ دکھائیں گے کہ ایک محبت اور امن والے دین کا چہرہ ان زومبیز نے کیسے بگاڑ دیا
Justice Seeker retweeted
🟢📍 دعوت اسلامی کے امیر مولانا الیاس قادری عطاری صاحب تو بلاسفیمی قوانین کے بارے میں کچھ الگ بات کر رہے ہیں
📍ان کے بیان کی رو سے تو موجودہ قوانین اسلام کی اصل روح کے مطابق بنے ہی نہیں ہوئے ۔۔۔۔۔!
ذرا نہیں ہوتا سوچئیے ۔۔۔ 👇
Justice Seeker retweeted
🔵 کالعدم تحریک لبیک پاکستان سے وابسطہ یہی افراد آج اسلام آباد نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کر رہے ہیں ۔ تحریک لبیک کی چھتری تلے کام کرنے والے کارندوں کے کالے کرتوت ذیل میں دی گئی سٹوری میں پڑھیں ثبوتوں کے ساتھ کہ کیسے یہ ٹی ایل پی کے جلسوں میں عوام کو اشتعال دلایا کرتے تھے ۔
🔴🚨 فیکٹ فوکس کی نئی سٹوری:
👈ٹی ایل پی اور بلاسفیمی بزنس گروپ کا گٹھ جوڑ (LCBP & TLP Ties)
(ایک تھریڈ)
📍 ایمان، خوف اور سیاسی طاقت: ٹی ایل پی کس طرح توہینِ مذہب کے ریکٹ کی سرپرست بنی
اکتوبر 19, 2025
Report by قندیل عظیم
📍 ایک ایسے وقت میں جب حکومت دہشت گرد تنظیم تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی عائد کرنے کے منصوبے پر آگے بڑھ رہی ہے، اہم دستاویزات اور ڈیجیٹل فٹ پرنٹس کے تفصیلی معائنے سے پتا چلتا ہے کہ نہ صرف بدنام زمانہ "بلاسفیمی بزنس گروپ” (بی بی جی) کے زیادہ تر ارکان ٹی ایل پی سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ اس جماعت کے سربراہ سعد رضوی نے بھی بارہا اس گروہ کے انتہاپسند کارندوں کو تحفظ فراہم کرنے اور ان کی مدد کرنے کے لیے مداخلت کی ہے۔
📍 بی بی جی ایک گروہ ہے جس کا مرکزی دفتر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع ہے اور اس کا وسیع نیٹ ورک ملک کے کئی شہروں تک پھیلا ہوا ہے۔ اس گروہ نے سینکڑوں شہریوں — جن میں 400 سے زائد نوجوان لڑکے اور لڑکیاں شامل ہیں — کو جھوٹے توہینِ مذہب کے مقدمات میں پھنسایا، جن میں سے بیشتر طویل عرصے سے جیلوں میں قید ہیں۔ اگرچہ بی بی جی کو لاہور، کراچی، پشاور اور دیگر شہروں میں مختلف انتہاپسند عناصر کی حمایت حاصل ہے، لیکن توہینِ مذہب کے اس کاروباری نیٹ ورک کے ہر درجے پر ٹی ایل پی کے واضح نقوش دیکھے جا سکتے ہیں۔
👈 ٹی ایل پی بلاسفیمی بزنس گروپ اور اسکے بیانیے کو کیسے کنٹرول کرتی ہے؟
📍 بلاسفیمی بزنس گروپ ٹی ایل پی کی سرپرستی میں کام کرتا رہا ہے، جبکہ بی بی جی کے کئی اہم ارکان ٹی ایل پی میں فعال کردار بھی ادا کرتے رہے ہیں۔ راؤ عبد الرحیم کی نام نہاد تنظیم "لیگل کمیشن آن بلاسفیمی” (جسے عوامی سطح پر بلاسفیمی بزنس گروپ یا بی بی جی کے نام سے جانا جاتا ہے) اکثر ٹی ایل پی کے ساتھ اس کی قانونی ٹیم کے طور پر کام کرتی نظر آتی ہے۔ متعدد پلیٹ فارمز پر بی بی جی کے اراکین کو "سر تن سے جدا” تحریک کی تشہیر کرتے دیکھا گیا ہے، جو ٹی ایل پی کی انتہا پسندانہ سوچ کی نمایاں پہچان ہے۔
📍 اس تعاون کی ایک نمایاں مثال اس وقت سامنے آئی جب جسٹس اعجاز اسحاق نے شفافیت اور انصاف کے مقصد کے تحت ایف آئی اے سائبر کرائمز ونگ (اب این سی سی آئی اے) اور بلاسفیمی بزنس گروپ کی ملی بھگت اور سرگرمیوں کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد کمیشن کی تشکیل سے متعلق عدالتی کارروائیوں کو قوم کے سامنے براہِ راست نشر کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے جواب میں بلاسفیمی گینگ اور ٹی ایل پی کے ارکان نے عدالت کے باہر احتجاج کیے اور دھمکیاں دیں، جس سے ان دونوں کی عدلیہ کو خوفزدہ کرنے اور کمیشن کی تشکیل کو روکنے کی منظم کوششیں واضح ہو گئیں۔
جاری ہے 👇
#450LivesMatter #JusticeFor450
Justice Seeker retweeted
🚨📍 تحریک لبیک کی چھتری ختم ہونے کے بعد راؤ عبدالرحیم اپنی اصل چھتری کو استعمال میں لے آیا ۔
📍 "آج اسلام آباد نیشنل پریس کلب میں کچھ افراد ایسے بھی تھے جو پریس کلب کے پلیٹ فارم کو استعمال کرکے کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان کے نعرے " من سبا نبیا فاقتلوہ " سے دھمکیاں دیتے رہے ۔
📍اسلام آباد نیشنل پریس کلب میں مبینہ طور پر بلاسفیمی بزنس گروپ کی پریس کانفرنس میں مولانا عبدالرحمن معاویہ نام کے صاحب بھی شامل تھے جن کا تعلق سنی علماء کونسل سے ہے۔ سنی علماء کونسل کا تعلق دیوبندی مکتبِ فکر سے ہے اور اس کے تنظیمی و تاریخی پس منظر میں تعلق سپاہِ صحابہ کے دھارے سے ہے۔
📍اس سنی علماکونسل تنظیم کی قیادت میں رہنے والے بعض اہم افراد، بشمول محمد احمد لدھیانوی، کا سابقہ تعلق سپاہِ صحابہ سے رہا ہے۔ اسی طرح سنی علماء کونسل کے مرکزی رہنما مسعود الرحمن عثمانی جنوری 2024 میں اسلام آباد میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوکر قتل ہوئے تھے۔
📍 یاد رہے کہ سپاہ صحابہ کو جنرل پرویز مشرف کی حکومت میں 14 جنوری 2002 کو اینٹی ٹیررازم ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دیا گیا تھا ۔۔
اس سے قبل راؤ عبدالرحیم بریلوی تنظیم تحریک لبیک پاکستان کی جلوسوں میں تقاریر کرکے ان کی چھتری استعمال کرتا رہا ہے اور اب واپس اپنے مکتبہ فکر کی چھتری ہو استعمال میں لایا ہے ۔ یعنی بیک اپ چھتری (اصل میں بنیادی چھتری) کو استعمال میں لانا پڑ گیا ۔ اور وہ لوگ دھمکیاں دے کر چلتے بنے ۔
🚨📍 بلاسفیمی بزنس گروپ اسلام آباد نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کر رہا ہے مگر بزدل اور جھوٹے اتنے ہیں کہ لائیو سٹریمنگ تک نہیں کر رہے کیوں کہ بعد میں اپنے مطلب کے کلپس اپلوڈ کردیں گے۔
📍 بلاسفیمی بزنس گروپ سے گزارش ہے کہ اتنا ڈر کس چیز کا ہے لائیو سٹریمنگ ہی کردو جھوٹ کے دوکاندارو ۔۔
📍وہ پریس کانفرنس ہی کیا جو لائیو سٹریمنگ کرنے کا حوصلہ بھی نہ ہو ۔ کیوں کہ انہیں پتہ ہے کہ جھوٹ ناپ تول کر بولنا ہے لائیو سٹریمنگ میں منہ سے نکلا جھوٹ کانٹ چھانٹ نہیں ہوسکے گا ۔ 👇
کوئی بلاسفیمی بزنس گروپ کو میسج دے کہ بھئی کوئی لائیو سٹریمنگ ہی کردو اتنا ڈر کیوں ؟
#StopBlaspyemyBusiness
Justice Seeker retweeted
کسی نے بدبخت دیکھنا ہو تو نشہ کی لت میں مبتلا کالے حلقے اور سیاہیوں سے بھرے چہرے والے اس باجا کو دیکھ لیں۔ بحرحال۔۔۔۔
ایک غزوہ کے دوران حضرت اسامہ بن زیدؓ نے ایک کافر کو گھیر لیا۔ اس شخص نے جان بچانے کے لیے فوراً کلمہ پڑھ لیا، مگر حضرت اسامہؓ نے اسے تلوار کے ڈر سے کلمہ پڑھنے والا سمجھ کر قتل کر دیا۔
جب نبی کریم ﷺ کو علم ہوا تو آپ ﷺ نے شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:
"کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا کہ اس نے دل سے کلمہ پڑھا تھا یا نہیں؟"
آپ ﷺ بار بار فرماتے رہے کہ قیامت کے دن جب اس کا کلمہ سامنے آئے گا تو تم کیا جواب دو گے۔
اس واضح نبوی ہدایت کے باوجود، آج بھی کچھ خنزیر نما لوگ دوسروں کی نیتوں پر شک کرتے ہیں اور ان کا ایمان ناپنے کی کوشش کرتے ہیں۔
Justice Seeker retweeted
🟢💚 وائس آف وکٹمز کی جانب سے تمام اہلِ وطن کو
جشنِ عید میلاد النبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ مبارک ہو۔
📍 ربیع الاول صرف ایک بابرکت مہینے کا نام نہیں، یہ اُس عظیم ہستی ﷺ کی یاد تازہ کرنے کا مہینہ ہے جنہوں نے انسانیت کو محبت، رحم، عدل، اخوت، برداشت اور امن کا راستہ دکھایا۔
📍آئیے! جشنِ میلادِ مصطفیٰ ﷺ کو صرف چراغاں اور خوشیوں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ سیرتِ طیبہ ﷺ کو اپنی زندگیوں کا چراغ بنائیں۔ دلوں سے نفرت مٹائیں، مظلوم کا ساتھ دیں، کمزور کی آواز بنیں، ظلم کا شکار ہونے والوں کے ساتھ کھڑے ہوں اور معاشرے میں محبت، رواداری اور امن کو فروغ دیں۔
📍وہ نبی ﷺ جنہوں نے انسانیت کو جینا سکھایا، اُن کی سیرت ہی ہماری سب سے روشن رہنمائی ہے۔
عید میلاد النبی مبارک 💚
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ﷺ
Justice Seeker retweeted
💚 لب پر نعت پاک کا نغمہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
میرے نبی سے میرا رشتہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
اور کسی جانب کیوں جائیں اور کسی کو کیوں دیکھیں
اپنا سب کچھ گنبد خضریٰ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
پست وہ کیسے ہو سکتا ہے جس کو حق نے بلند کیا
دونوں جہاں میں اُن کا چرچہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
فکر نہیں ہے ہم کو کچھ بھی دکھ کی دھوپ کڑی تو کیا
ہم پر اُن کے فضل کا سایہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
بتلا دو گستاخ نبی کو غیرت مسلم زندہ ہے
اُن پر مر مٹنے کا جذبہ کل بھی تھا اور آج بھی ہے
جن آنکھوں سے طیبہ دیکھا وہ آنکھیں بے تاب ہیں پھر
ان آنکھوں میں ایک تقاضا کل بھی تھا اور آج بھی ہے
سب ہو آئے ان کے در سے جا نہ سکا تو ایک صبیح
یہ کہ اک تصویر تمنا کل بھی تھا اور آج بھی ہے
(سید صبیح الدین رحمانی)




























