Pinned Tweet
سپہ سالار اگر ریاست سے طاقتور ہوجائے تو یہ ریاست کیلئے خطرناک ہوتا ہے
خلیفہ دوئم سیدّنا حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ۔
@OfficialDGISPR
Obaid Ullah Virk 🇵🇰 retweeted
یہ خیبر پختون خوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد دہشتگردی کے خلاف جاری کارروائی کا منظر ہے تجاوزات کے نام پر معصوم دکانوں کو دہشتگرد قرار دیکر یہ حشر کردیا #ہری_پور
Obaid Ullah Virk 🇵🇰 retweeted
🚨 بھارت کے منی پور میں مودی حکومت کے خلاف بڑا احتجاج
منی پور میں ہزاروں افراد نے ریلی نکال کر وزیراعظم نریندر مودی سے مبینہ ’پراکسی جنگ‘ بند کرنے کا مطالبہ کیا
Obaid Ullah Virk 🇵🇰 retweeted
ہمارے والد اس کرسی پر بیٹھ کر میری نانی کے ساتھ بہت مزاق کیا کرتے تھے اور ہم سب اس پر بہت ہنستے تھے لیکن اب یہ ساری یادیں بہت غمزدہ کرتی ہیں۔
قاسم خان کے یہ الفاظ 💔
Obaid Ullah Virk 🇵🇰 retweeted
دونوں ایک ساتھ وہ پہلے بھی تھے پر کچھ پردہ تھا
اب تو نہیں رہا ہے وہ بھی کس کس کو ٹائم
دیتی ہے یہ چمچی
Obaid Ullah Virk 🇵🇰 retweeted
آزاد کشمیر میں اللہ کی فوج کا جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے شکدر خان کے گھر پر پہلا ڈرون حملہ، حملے میں ان کا پورا خاندان شہید ہوگیا۔
محبت گولیوں سے بو رہے ہو
وطن کا چہرہ خون سے دھو رہے ہو
گماں تم کو کہ راستہ کٹ رہا ہے
یقیں مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو
(حبیب جالب)
Obaid Ullah Virk 🇵🇰 retweeted
”کسی بھی ادارے میں کوئی غیرت والا نہیں بچا جو کہیں ہم غیر قانونی حکم نہیں مانتے یہ جو فوجی اور پولیس والے کہتے ہیں کہ ہمیں اوپر سے حکم آیا ہے یہ excuse آخرت میں نہیں چلے گی میں نے زندگی کے 20 سال Air Force میں گزارے ہیں مجھے پہلے دن ٹریننگ میں لوئر ٹوپہ کے مقام پر 1975 میں جو Air Force لاء پڑھایا گیا تھا تو پہلا لفظ یہ پڑھایا گیا تھا کہ آپ نے کوئی غیر قانونی حکم نہیں ماننا “
ڈاکٹر عظمیٰ خان کے شوہر احد خان صاحب کی پریس کانفرنس
Obaid Ullah Virk 🇵🇰 retweeted
بریکنگ نیوز 🚨: جب جج نے سزا سنائی تو ایمان مزاری اور بادی علی چٹھہ کے چہروں پر مسکراہٹ تھی۔ دونوں نے مسکراتے ہوئے خوش دلی سے جج صاحب کا شکریہ ادا کیا اور ثابت کر دیا کہ قید صرف جسم کو ہو سکتی ہے، وقار، حوصلے اور جرأت کو قید نہیں کیا جا سکتا۔۔۔!! شریں مزاری
Obaid Ullah Virk 🇵🇰 retweeted
عمران خان نے وفا کی آخیر کردی جس کے نیتجے میں قوم نے بزدلی کی آخیر کردی💔
Obaid Ullah Virk 🇵🇰 retweeted
تاریخ کے اوراق میں کسی لانگ مارچ کی کامیابی یا ناکامی کا سوال نہیں اٹھتا، بلکہ ہمیشہ درست یا غلط سمت میں کھڑے ہونے کا تعین کیا جاتا ہے۔ لہٰذا، چاہے لانگ مارچ ہو، مزاحمت ہو، یا کسی غیر آئینی اور غیر جمہوری نظام کے سامنے ڈٹ جانے کی بات ہو، دراصل یہ تاریخ کی درست سمت میں کھڑے ہونے کا فیصلہ ہوتا ہے۔ لانگ مارچ نے اپنے اہداف حاصل کیے یا نہیں، فی الوقت یہ اہمیت نہیں رکھتا، البتہ تاریخ میں یہ بات ضرور اہمیت کی حامل ہوگی کہ عمران خان، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور پاکستان تحریک انصاف نے اس غیر آئینی، غیر جمہوری اور غیر اخلاقی نظام کے خلاف بھرپور مزاحمت کی۔
ہم نے مزاحمت کر کے اپنے حصے کا فرض ادا کیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف، خیبر پختونخوا میں ہماری پارٹی تنظیم، عمران خان اور ان کا خاندان بشمول ان کی بہنیں، سب اپنے اپنے حصے کا فرض بخوبی نبھا رہے ہیں۔
وکیل قائد پاکستان تحریک انصاف، خالد یوسف چوہدری @KhalidYChaudry
Obaid Ullah Virk 🇵🇰 retweeted
اقرار الحسن کی ضمانت منظور ہو گئی : ایک بھونڈا ترین مقدمہ اور گھر میں گھس کر جس طرح گرفتاری کی گئی وہ قابل مذمت : ساتھ ہی دوسری طرف ہمارے بھائی حسنین رفیق ابھی تک لاپتہ ہیں اور نہیں معلوم کس کی حراست میں ہیں - اللہ رحم فرمائیں اور حسنین جلد واپس آئیں : آمین
Obaid Ullah Virk 🇵🇰 retweeted
عمران خان صاحب کی بہن نورین خانم کو واپس کوٹ لکھپت جیل شفٹ کردیا گیا ہے
گزشتہ دو تین روز سے نورین خانم ہسپتال میں زیرِ علاج تھی
Obaid Ullah Virk 🇵🇰 retweeted
عمران خان پر دباؤ ڈالنے کے لیے اب ان کی بہنوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کبھی گرفتاری، کبھی ہراسانی اور اب صحت کے مسائل کے باوجود اہلِ خانہ سے ملاقات سے محروم کیا۔ ایک سیاسی رہنما سے اختلاف کی سزا اس کے خاندان کو بھی دی جائے گی؟
بہنوں کو دباؤ کا ذریعہ بنا کر عمران خان کے عزم کو نہیں توڑا جا سکتا۔ ان کے بنیادی حقوق اور فوری طبی سہولیات یقینی بنائی جائیں۔
#قوم_کی_بیٹیوں_کو_رہا_کرو
#شوکت_خانم_کی_شیر_اولاد
Obaid Ullah Virk 🇵🇰 retweeted
پارلیمانی پارٹی اجلاس میں علی امین گنڈاپور اور بیرسٹر گوہر کے درمیان اہم مکالمہ
گزشتہ رات ہونے والے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں علی امین گنڈاپور نے بیرسٹر گوہر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ:
’’جب آرمی چیف کے ساتھ بانی چیئرمین عمران خان کے حوالے سے مذاکرات کی میٹنگ ہوئی تھی تو میں آپ کو بھی اپنے ساتھ لے کر گیا تھا، تاکہ آپ کی موجودگی میں تمام معاملات طے ہو سکیں۔ اس ملاقات میں آرمی چیف کی جانب سے عمران خان کے لیے جو پیشکش کی گئی تھی، اس میں خان صاحب کی رہائی کا معاملہ بھی شامل تھا۔ لیکن آج سوال یہ ہے کہ آپ اس ملاقات اور مذاکرات کی تفصیلات عوام اور پارٹی کے سامنے کیوں نہیں رکھتے؟‘‘
علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ صوبے میں گورنر راج نافذ ہونے کے باوجود تاحال ان کا مکمل کنٹرول قائم نہیں ہو سکا۔ اگر ہم مزید خاموش رہے تو خدشہ ہے کہ صوبہ مکمل طور پر ان کے کنٹرول میں چلا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں باہمی اختلافات سے نکل کر متحد ہو کر مشترکہ کوشش کرنی چاہیے۔ صوبے کے آئینی و جمہوری اختیار کے لیے جدوجہد کے ساتھ ہی ہم عمران خان کی رہائی کے لیے بھی مؤثر کردار ادا کر سکیں گے۔
انہوں نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ گورنر راج نافذ کرنے کی ایک وجہ لانگ مارچ میں کارکنوں کی تعداد کو صرف سو یا پانچ سو تک محدود سمجھنا بھی تھی
RT @JavedHashmiJH: نورین نیازی کے ساتھ ظلم کی انتہا!
ایمان مزاری کو سزا۔ عافیہ صدیقی کو بھی اسی طرز کی سزا ملی تھی۔تم تو اپنے مالک سے بھی…
Obaid Ullah Virk 🇵🇰 retweeted
پونے دو سال کی ناحق قید کے بعد دوبارہ گرفتاری! عالیہ حمزہ ملک کے انصاف کے انتظار میں 218 دن گزر گئے، مگر انصاف کی باری اب تک نہیں آئی!
ہر بار یہی جواب ملتا ہے کہ ’’آپ کے کیس کی باری نہیں آئی۔‘‘ چھ ماہ سے زیادہ گزر چکے ہیں، مگر انصاف آج بھی تاریخوں اور انتظار میں الجھا ہوا ہے۔
تمام تر آزمائشوں کے باوجود عالیہ حمزہ ملک اپنے قائد عمران خان اور اپنے نظریے کے ساتھ ڈٹ کر کھڑی ہیں۔ قید و بند کی صعوبتیں بھی ان کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکیں۔
عالیہ حمزہ ملک کو انصاف دو! ایڈمن
#ReleaseImranKhan
#ReleaseAliyaHamzaMalik
Obaid Ullah Virk 🇵🇰 retweeted
قومی اسمبلی کا اجلاس
مولانا فضل الرحمان
تہران میں مزاکرات ہورہے ہیں وزیر اعظم اور وزیر دفاع یہاں پر ہیں کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے
لڑنے کے لیے ہمارے ہاتھوں میں بھی اب خارش ہو رہی
اس وقت ملک میں کوئی حکومت نہیں ہے کوئی آئین نہیں ہے
آئیں مل کر بیٹھیں حکومت اور اپوزیشن نیا معاہدہ کریں
ہم آپ کے ہاتھوں مرنے کے لیے تیار ہیں مگر تاریخ میں مرنے کے لیے تیار نہیں ہیں
یہ ملک صرف فوج کا نہیں ہم سب کا ہے
مولانا فضل الرحمان کا خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر بڑا سوال، بلوچستان میں حالات زیادہ خراب ہیں تو وہاں گورنر راج کیوں نہیں؟ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک کو خون خرابے کی طرف نہیں جانا چاہیے، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات ہونے چاہئیں، عمران خان سے ملاقات اور ان کے علاج کے مطالبات پر مثبت ردعمل کے باوجود حکومت نے انکار کر دیا۔
مولانا فضل الرحمان، امیر جمعیت علمائے اسلام، نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم اپنے ساتھیوں کو احترام نہیں دیں گے تو عوام سے کیا توقع رکھیں گے۔ پارلیمنٹ عوامی ادارہ ہے اور اختلاف رائے ایک فطری عمل ہے۔ میں پانچ برس پہلے کے حالات سے موازنہ کرتا ہوں تو سب کچھ خواب کی طرح لگتا ہے۔ سیاست اور جمہوریت میں مذاکرات ہوتے ہیں اور معاملات افہام و تفہیم سے طے کیے جاتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک کو خون خرابے کی طرف نہیں جانا چاہیے۔ ملک کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے حکومت سے مذاکرات کیے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن لانگ مارچ مؤخر کرے، جس پر میں نے کہا کہ کوشش کرتا ہوں کہ مسئلے کا مناسب حل نکل آئے۔ اپوزیشن ارکان نے کہا کہ ان کی طرف سے ہاں ہے۔ اپوزیشن کے مطالبات میں خان صاحب سے ملاقات اور ان کا علاج کرانا شامل تھا۔ صبح وزیراعظم کے سامنے یہ معاملات رکے ہوئے تھے، تاہم وزیراعظم کی جانب سے مثبت ردعمل ظاہر کیا گیا۔ بعد ازاں اسحاق ڈار نے ساڑھے دس بجے مجھے بتایا کہ حکومت ان مطالبات کو نہیں مان رہی۔
انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کے بیان کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمارے مؤقف کی تائید کی۔ خیبرپختونخوا میں گورنر راج بھی لگا دیا گیا اور ایمرجنسی بھی نافذ کر دی گئی۔ حکومتی بینچز کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ آئینی طریقہ کار اختیار کیا گیا، لیکن خیبرپختونخوا کی منتخب حکومت کو ہٹایا گیا۔ دہشت گردی کی بنیاد پر صوبائی حکومت کو ہٹانے کا مؤقف اختیار کیا گیا ہے، جبکہ بلوچستان میں تو حالات اس سے بھی زیادہ خراب ہیں۔ اگر یہی اصول ہے تو بلوچستان میں بھی خراب حالات کی بنیاد پر گورنر راج لگایا جانا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہماری قربانیوں کا مذاق اڑایا گیا۔ بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑے واقعات ہوئے ہیں۔ ہم نے آپ کی رائے سے اختلاف کیا تو آپ ہمارے خلاف ہو گئے۔ انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ ایسی ماں پر تھو جو قوم پر ظلم کر رہی ہے۔ میری بھی ماں تھی، میری بھی بہنیں اور بیٹیاں ہیں۔ ریاست کو بھی ماں جیسا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں معدنیات کے معاملے پر دہشت گردی کے الزام کے پیچھے چھپا جا رہا ہے۔ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ ہو گئی ہے، اب وہاں معدنیات کی بات ہم نے نہیں بلکہ گورنر نے کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک اطمینان نہ ہو، میں تذبذب کی حالت میں کوئی مؤقف اختیار نہیں کرتا۔



























