Raja Mohsin Janjua retweeted
چور مچائے شور
خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل پر یہ بے بنیاد شور مچانے والے یہ حقیقت بھول جاتے ہیں کہ آئین کی اٹھارویں ترمیم کے بعد سے معدنیات کا شعبہ مکمل طور پر صوبائی حکومت کے اختیار میں ہے اور مئی 2013 سے لے کر اب تک مسلسل پاکستان تحریک انصاف ہی اقتدار میں رہی ہے۔ قیامِ پاکستان سے لے کر 2013 تک یعنی 66 سال میں صوبے بھر میں صرف 482 لائسنس جاری ہوئے تھے، لیکن پی ٹی آئی کے اس 13 سالہ دور میں یہ تعداد چھلانگ لگا کر 4,917 تک پہنچا دی گئی۔ اس کھلی بندر بانٹ میں صوبے کے قیمتی وسائل کو سیاسی من پسند افراد اور اقارب کو نوازنے کے لیے استعمال کیا گیا، جہاں چترال کے قیمتی معدنی پرمٹس اور وسائل علیمہ خان کے بیٹے شاریز خان اور ان کی اہلیہ کو دیے گئے، جبکہ دیگر رہنماؤں اور مراد سعید کے قریبی رشتہ داروں، چچازاد بھائیوں اور دوستوں کو بھی اندھا دھند پرمٹس بانٹ کر صوبائی وسائل کو ذاتی جاگیر بنایا گیا۔ بدانتظامی کا عالم یہ ہے کہ مانسہرہ کے شنکیاری گرینائٹ پراجیکٹ کے لیے چینی کمپنی چائنا جیو انجینئرنگ کارپوریشن (CGC) کے ساتھ اربوں روپے کا اہم معاہدہ صوبائی محکمہ معدنیات کی ناقص پالیسیوں اور نااہلی کے باعث منسوخ ہوا، جس کے منفی اثرات سے صوبے میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور کوئی بھی غیر ملکی کمپنی آگے نہ آئی۔ دوسری طرف کوہاٹ، شکردرہ، نوشہرہ اور دریائے سندھ پر ہزاروں ایکسکیویٹرز کے ذریعے 12 ارب روپے کی غیر قانونی گولڈ مائننگ کی گئی اور سالانہ 7.2 ارب روپے کی رائلٹی ڈبو دی گئی، جبکہ آڈٹ جنرل آف پاکستان اور نیب کی رپورٹس کے مطابق محکمہ معدنیات میں 16.94 ارب روپے کے غبن اور 4.31 ارب روپے کے نادہندگان کو تحفظ دینے کے ہوشربا انکشافات سامنے آ چکے ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب تیرہ سال تک تمام انتظامی اختیارات، پالیسیاں اور لیزوں کا اجرا پی ٹی آئی کی حکومت کے کنٹرول میں رہا، تو اس کھلی لوٹ مار، اقربا پروری، چینی کمپنی کا معاہدہ ڈبونے اور 17 ارب روپے کی کرپشن کا ملبہ کس کے سر جاتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ پاک فوج کے پاس پورے صوبے میں کوئی لیز موجود ہی نہیں ہے، سوائے شمالی وزیرستان کے محمد خیل کاپر پروجیکٹ کے، جو کہ کوئی غیر قانونی الاٹمنٹ نہیں بلکہ فاٹا انضمام سے قبل 2016 میں فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے کھلی بولی اور شفاف قانونی مراحل کے تحت فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) کو دیا تھا اور جس کی آمدنی کا سب سے بڑا حصہ مقامی قبائل اور صوبائی خزانے کو ملتا ہے۔ الزام تراشی کرنے والے پہلے اپنی لوٹ مار کا حساب دیں اور پھر کسی پر انگلی اٹھائیں، کیونکہ پاک فوج نے اگر محمد خیل پراجیکٹ سنبھالا تو اس کے بدلے مقامی افراد کو حصہ دیا ، پہلے فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور بعد میں صوبائی حکومت کو حصہ دیا ، پاک فوج نے تو وزیر ستان کو امن دیا تاھ ، وزیرستان میں دو نئے کیڈٹ کالجز بنائے، تاریخی رزمک کیڈٹ کالج کو دوبارہ بحال کیا، متعدد آرمی پبلک اسکولز اور 683 عام اسکولز کی بنیاد رکھی اور علاقے کی تقدیر بدلنے کے لیے 700 کلومیٹر سے زائد جدید سڑکیں تعمیر کیں، جبکہ 13 سال اقتدار میں رہنے والوں نے فاٹا اور قبائلی عوام کو بربادی اور زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں دیا۔ – at Islamabad, Pakistan
Raja Mohsin Janjua retweeted
تھوڑی سی محنت لگی مگر میں نے ولی خان کا خط بھی ڈھونڈ لیا ہے اور چودھری محمد علی کی لکھی دستاویز بھی۔
پہلے ذرا اصل دستاویز پڑھیں۔ چودھری محمد علی لکھ رہے ہیں کہ پورا مغربی پاکستان ایک معاشی وحدت ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
"سرحدی صوبے (فرنٹیئر) کے بجلی کے وسائل پنجاب کی صنعتوں کی ضروریات پوری کرتے ہیں، پنجاب میں جمع ہونے والے سرمائے کو بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں ترقی کے ذریعے خوش حالی کے فرق کو کم کرنا چاہیے"
محترم ولی خان نے ترجمہ کیا کہ:
پنجاب سرحد کی بجلی، بلوچستان کے کوئلے اور گیس اور سندھ کے وسائل کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اس لئے مغربی پاکستان پر حکمرانی پنجاب کی ہونی چاہیے"
ہمارے محبوب قائد ایمل ولی خان صاحب نے اصلی دستاویز پڑھنے کے بجائے ولی خان کے غلط ترجمے پر کیوں اکتفا کیا یہ سمجھنے سے میں بہرحال قاصر ہوں۔
"ون یونٹ کی خفیہ دستاویز میں چودھری محمد علی نے لکھا : پنجاب؛ سرحد کی بجلی، بلوچستان کے کوئلے و گیس اور سندھ کے وسائل کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اس لئے پاکستان پر حکمرانی پنجاب کی ہونی چاہیے ـ
اگر آپ نے یہ خفیہ دستاویز نہیں پڑھی تو مجھے بتا دیں میں اس کی ایک فوٹو اسٹیٹ کاپی آپ کو بھیج دوں گا ـ پاکستان ٹوٹنے کے باوجود پنجابیوں کی یہ ذہنیت آج بھی برقرار ہے اور وہ ابھی بھی پاکستان کے مامے بننے کی کوشش کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے"
ولی خان کا حنیف رامے کے نام کھلا خط
جولائی 1987 ـ روزنامہ جنگ لاہور۔
Raja Mohsin Janjua retweeted
“AMERICA FOR ME, BUT NO AMERICA FOR YOU.”
Diaspora Muzlimz live in America, pay its taxes, and call Saudi Arabia evil for having good relations with America.
If America is so evil, why do you live there?
Most of you are just economic immigrants so go back to your country, it’s not even war torn.
Raja Mohsin Janjua retweeted
پاکستان میں یہ 16واں موقع ہے۔ بھارت میں 138 بار گورنر رول لگایا گیا ہے۔
Police detained protesters in Delhi as thousands of security forces locked down the city to stop a 'Cockroach' youth rally demanding the country's election chief resign over voter-list revisions favoring the BJP reut.rs/4AZY4gG
India detains scores at protest demanding election chief quit - News
Replying to @LoopandPixels
X India unit revenue is only about $2.5 million a year (mostly internal support, not ads). Global X ad revenue sits around $1.8-2.6 billion. India has roughly 22 million users but low monetization due to cheap CPMs. A ban would cause a tiny direct hit, far under 1% of overall value. No confirmed ban exists—only rumors.
Raja Mohsin Janjua retweeted
Mohsin Zanganeh is lying here. The message was prepared by joint team of Foreign Policy staff including Hakan Fidan too. Everyone agreed on the verbiage and it had to be consistent.
Ingrates
🚨پاکستان کی ثالثی پر ایرانی رکنِ پارلیمنٹ کا طنز
’’یہاں تک کہ ان کی ٹویٹ بھی امریکیوں نے لکھی تھی۔‘‘
ایرانی پارلیمنٹ کی اقتصادی کمیٹی کے سربراہ محسن زنگنہ نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ ختم کرانے کے لیے پاکستان کی ثالثی کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے اسپیکر کی ٹویٹ بھی وٹکوف نے لکھی تھی۔
Raja Mohsin Janjua retweeted
Afghan girl identifies as Persian and gets humiliated by Iranian girl. And these Afghans tell us that it's us who have an identity crisis 🤣🤣
Raja Mohsin Janjua retweeted
If the Government stops all incentives even then exports will remain in the same vicinity. But if the money saved from export incentive schemes and to be diverted to remittances, our brethren workers and professionals working overseas can soon make remittances cross $50 Billion compared to $31 b exports.
سابق نگراں وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے حکومت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر حکومت ایکسپورٹرز کو 8 فیصد ڈیوٹی ڈرا بیک دینا شروع کر دے تو اپٹما تین سال میں ایکسپورٹس میں 9 ارب ڈالرز کا اضافہ کر سکتا ہے ۔۔ جس سے پاکستان کی قرض ادائیگیوں کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔
وزارت خزانہ نے حال ہی میں 3 ارب ڈالرز کا قرضہ بانڈز کی صورت میں لیا ہے ۔ لیکن 8 فیصد شرح سود پر مقامی صنعتکاروں کو قرضہ دینے پر تیار نہیں ہے ۔
حکومت کی پالیسی ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے مختلف ہے ۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ہر قسم کی ٹیکس چھوٹ دی جاتی ہے ، شرح سود بھی کم رکھا جاتا ہے۔ لیکن مقامی سرمایہ کاروں کو یہ مراعات نہیں دی جاتی ۔
کاشتکاروں کے لیے بھی یہی پالیسی ہے درآمدی گندم 5 ہزار روپے میں خریدی جاتی ہے مقامی کاشتکار کی گندم 3 ہزار روپے میں کوئی نہیں خریدتا ۔۔
#Pakistan #IMF #Loan #Debt #Bonds #economy
Raja Mohsin Janjua retweeted
فہیم بھائی، ذرا یہ بتائیں کہ تیراہ میں آخر کون سا ملٹری آپریشن ہو رہا ہے؟
یہ ایک حقیقت ہے کہ تیراہ کے لوگ روایتی طور پر ہر سال سردیوں میں نیچے میدانی علاقوں کا رخ کرتے ہیں اور موسم تبدیل ہوتے ہی واپس اپنے گھروں کو جا چکے ہیں۔ وہاں کوئی بڑا ملٹری آپریشن نہیں ہو رہا، بلکہ صرف انٹیلی جنس کی بنیاد پر مخصوص اور ٹارگٹڈ کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
جہاں تک جنوری 2026 کے متاثرین کی بات ہے، تو ذرا بتائیں کہ انہیں بے گھر کس نے کیا تھا؟ اپنے گریبان میں جھانکیں اور اپنی صوبائی حکومت سے پوچھیں جس نے پی ڈی ایم اے (PDMA) کو 4 ارب روپے جاری کیے تھے۔ ذرا قوم کے سامنے حساب پیش کریں کہ وہ 4 ارب روپے کہاں غائب ہوئے؟ سچ تو یہ ہے کہ متاثرین کے نام پر آنے والا سارا فنڈ صوبائی حکومت اور اس کے حواری خود ہضم کر گئے۔ اور شرمناک حقیقت یہ ہے کہ جب ہماری سیکیورٹی فورسز انٹیلی جنس کی بنیاد پر خوارج اور دہشت گردوں کو جہنم واصل کرتی ہیں، تو آپ ہی کی پسندیدہ پارٹی کے لوگ ان ہلاک دہشت گردوں کی لاشیں اٹھا کر فوج کے خلاف زہریلا بیانیہ بنانے اور پوائنٹ اسکورنگ کرنے پہنچ جاتے ہیں۔
میرے بھائی! پولیس کے بجٹ کا آپ کو علم ہے؟ اس سال بھی 128 ارب روپے وفاق کی طرف سے آئے ہیں، لیکن آپ کی صوبائی حکومت کا اپنا عملی حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ نہ پولیس کے لیے جدید اسباب اور اعلیٰ اسلحہ خریدا جا رہا ہے، نہ جدید بکتر بند گاڑیاں (APCs) لی جا رہی ہیں، نہ نئے تھانے بن رہے ہیں اور نہ ہی سی ٹی ڈی کو جدید تکنیکی خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ پولیس کے بہادر جوانوں کو رات کے اندھیرے میں سیکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے نائٹ ویژن کیمرے تک فراہم نہیں کیے گئے۔ 2017 کے جس پولیس ایکٹ کی آپ بڑی تعریفیں کرتے تھے، اب عملاً اسی پولیس کو ایک سیاسی ٹائیگر فورس بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
آپ ڈرون کارروائیوں کا روگ روتے ہیں، لیکن سچ تو یہ ہے کہ دہشت گردانہ ڈرون حملے اور تشدد آمیز کارروائیاں تو خود آپ کے پارٹی کے مسلح ونگ کر رہے ہیں جو معصوم شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتے ہیں۔ جن سوالات کے جواب آپ دوسروں سے مانگ رہے ہیں، ان کا اصلی حساب تو پچھلے 13 سال سے اس صوبے پر مسلط آپ کی اپنی حکومت کے پاس ہے۔
آپ ذرا اپنی حکومت کو کہیں کہ ہر ضلع میں زبانی جمع خرچ کے بجائے فوری طور پر سیف سٹی پروجیکٹس کا آغاز کرے، پولیس کو روایتی بیانات دینے کے بجائے جدید ترین اسلحہ اور حفاظتی سامان فراہم کرے، فاٹا انضمام کے اصل مسودے کے تحت ہر ضلع میں 3,000 پولیس اہلکار بھرتی کرے، اور وزیر اعلیٰ کم از کم اپنے ضلع میں بنیادی تھانے قائم کر کے نئی شفاف بھرتیوں کا پروسیس شروع کریں۔ – at Rawalpindi, Pakistan
خیبر پختونخوا حکومت دہشتگردی کیخلاف جنگ میں اور کیا کردار ادا کرے؟
تیراہ میں آپریشن جاری ہے سوا لاکھ لوگ 8 ماہ سے گھر ہیں
کرم میں آپریشن جاری ہے ایک لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہیں
شمالی وزیرستان میں لوگوں نے متعدد علاقے خالی کردیے
بنوں میں آپریشن کرلیا گیا
پولیس کا بجٹ ہر سال مسلسل بڑھایا جا رہا ہے
کسی بھی جگہ جب ضرورت محسوس ہو کرفیو لگا دیا جاتا ہے
پولیس آج تک 2017 کے ایکٹ کے تحت آزاد ہے
ڈرون کی مکمل آزادی ہے
منتخب نمائندے شہداء کے جنازوں میں شریک ہیں
وفاق نے دفاعی مقاصد کیلئے صوبے کا فنڈ کاٹ لینا ہے
اور خیبر پختونخوا حکومت کیا کردار ادا کرے؟
Raja Mohsin Janjua retweeted
آپ سے ایسی بونگی مارنے کی توقع نہیں تھی، کیا ہم مری نہیں جاتے؟ اور یہ جو غیر ملکی سیاح یہاں سیر کیلئے آتے ہیں، ان کے اپنے ملکوں میں سیر و تفریح کا کوئی مقام نہیں؟
@MuzzammilAslam3
Raja Mohsin Janjua retweeted
لیفٹیننٹ جنرل واجد عزیز کی ترقی پر کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ آزاد کشمیر سے دوسرا فوجی افسر تھری اسٹار پروموٹ ہوگیا حالانکہ ماضی میں آزاد کشمیر سے بیشمار فوجی افسر لیفٹیننٹ جنرل بن چکے ہیں۔
ان میں لیفٹیننٹ جنرل شاہد امتیاز ،لیفٹیننٹ جنرل امداد حسین شاہ ،لیفٹیننٹ جنرل شیر افگن ،لیفٹیننٹ جنرل سردار محمد انور خان اور فور اسٹار جنرل عزیز خان نمایاں ہیں ۔سابق کور کمانڈر راولپنڈی ُلیفٹیننٹ جنرل شاہد امتیاز جو ملٹری سیکریٹری ہیں کچھ دن میں ریٹائر ہورہے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل امداد حسین شاہ کور کمانڈر گو جرانوالہ ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل شیر افگن بہاولپور کے کور کمانڈر رہے ۔ فرزند پلندری جنرل عزیز خان چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی رہے۔لیفٹیننٹ جنرل سردار انور خان کشمیر کے صدر منتخب ہوئے۔ جبکہ ممیجر جنرل کاشف آزاد،میجر جنرل امجد عزیز،میجر جنرل امتیاز گیلانی،میجر جنرل سردار طارق اور میجر جنرل آصف عزیز جیسے کشمیریوں کا شمار حاضر سروس فوجی افسروں میں ہوتا ہے
Raja Mohsin Janjua retweeted
Imran Khan pleading and justifying return of thousands of TTP terrorists from Afghanistan to Pakistan in an interview with BBC.
@ShireenMazari1
I was in the meeting when this idea of bringing them back was strongly opposed by all our MNAs from KP esp Murad Saeed & Nurul Haq Qadri plus many of us also. PM IK told the mly ldrs present to sit & talk to the elected reps from the affected area before taking any decision to “resettle” TTP! So absolutely no decision was taken to resettle them by PTI govt.
Raja Mohsin Janjua retweeted
The comments made by @TararAttaullah do an excellent job explaining the mental gymnastics @ShafiJanPTI is doing trying to avoid calling the TTP a terrorist organization.
پی ٹی آئی کو ٹی ٹی پی کی بی ٹیم کہنا، یا یہ کہنا کہ پارٹی فیصلہ کرے کہ اسے پاکستان کے ساتھ رہنا ہے یا افغانستان کے ساتھ جانا ہے، صرف پی ٹی آئی کی توہین نہیں بلکہ ان تقریباً دو کروڑ لوگوں کی بھی توہین ہے جنہوں نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا۔ دہشت گردی سے لڑنے کے لیے لازم ہے کہ وفاق خیبر پختون خواہ کی حکومت اور عوام کے ساتھ اعتماد کا رشتہ دوبارہ قائم کرے۔




























