زبیر داد بلوچ retweeted
Zubair Baloch an MPhil scholar has been subjected to enforced disappearance for over seven months. His continued absence coupled with the authorities' failure to disclose his whereabouts raises grave concerns and demands immediate accountability.
#ReleaseZubairBaloch
زبیر داد بلوچ retweeted
*CALL FOR X (TWITTER) CAMPAIGN*
Baloch Students Council (BSC) Punjab launches a campaign on X (formerly Twitter) demanding the safe and immediate release of Saqlain Baloch, a student of Islamia university Bahawalpur and resident of peer adil District Dera Ghazi Khan.
Saqlain Baloch was forcibly disappeared on 29 October 2026 at 3:00 PM in Bahawalpur, and his whereabouts remain unknown.
We urge students, teachers, journalists, human rights defenders, civil society members, and all conscientious individuals to join the campaign and raise their voices for his safe and immediate release.
*Date andTiming:*
8 - Nov - 2026 | 6:00 PM - 12:00 AM
Hashtag’s to Use:
#ReleaseSaqlainBaloch
#EndEnforcedDisappearances
*BALOCH STUDENTS COUNCIL (Punjab)
زبیر داد بلوچ retweeted
ملپد ایوک ءَ یک کتابے نہ اِنت بلکیں بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل(اسلام آباد) ءِ یک سنگینیں کوشستے کہ وتی راج ءُ نودربراں میاں اُستمانی سیاست ءُ لبزانک ءَ گوں ھمگْرنچ کنگ ءَ کردے پیلو کنت۔ اِے کتاب ءِ تہ ءَ کساس شش مزن نامیں مُلکی ءُ ڈنّی ھستیانی گُلگدار ھوار اَنت۔ مُلکی گْرانبھائیں نام بابا ھیر بکش مری ءُ کماش گُلام مھمد بلوچ ءِ گُلگدار ءُ در مُلکی نامی ئیں ھستی جنرل گیاپ، یاسر عرفات، ہنری کسنجر ءُ گولڈا مئیر ءِ گُلگدار ھوار انت۔ بی ایس سی ءِ اے رھشونانی گُلگداراں ماں بلوچی زبان ءِ تہ ءَ رجانک کنگ ءِ مول ءُ مُراد نہ ایوک ءَ راج ءُ نودربراں ڈنّی ءُ مُلکی بلوچ بامردانی شاھزانتی ءُ سسّا ءُ لیکہ ءَ چہ سوھو کنگ اِنت بلکیں چہ آھانی زِند ءُ کِرد ءَ درونت زُورگ ءُ پہ بلوچ ءِ باندات ءَ نوک ءُ سَلّھیں کِشک ءِ شوھازگ اِنت۔
bscislamabad.org/2026/11/blo…
bscislamabad.org/2026/11/blo…
زبیر داد بلوچ retweeted
ثقلین بلوچ کی جبری گمشدگی ریاستی قانون، شہری آزادیوں اور تعلیمی ماحول پر ایک سنگین سوال ہے۔
ترجمان، بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل بہاولپور کے ممبر اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے طالب علم ثقلین بلوچ کی جبری گمشدگی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے، بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب۔
ثقلین بلوچ کی جبری گمشدگی کو ایک ہفتے سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن تاحال ان کے بارے میں کوئی مستند معلومات فراہم نہیں کی گئیں ۔ ایک طالب علم کو اس کی تعلیمی اور سماجی زندگی سے زبردستی محروم کرنا اور اسے نامعلوم مقام پر منتقل کرکے اس کے خاندان کو مسلسل بے خبری اور اذیت میں مبتلا رکھنا کسی بھی مہذب معاشرے اور بنیادی انسانی حقوق، آئینی ضمانتوں اور قانون کی حکمرانی کے سراسر منافی ہے۔
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب، سمجھتی ہے کہ جبری گمشدگیاں محض چند افراد کی گمشدگی کا معاملہ نہیں بلکہ شہری آزادیوں، بنیادی انسانی حقوق اور آئینی ضمانتوں کی سنگین پامالی ہیں۔ کسی بھی ریاستی ادارے کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ قانون اور عدالتی نگرانی سے بالاتر ہو کر کسی شہری کی آزادی سلب کرے۔ اگر کسی شخص کے خلاف کوئی الزام یا شواہد موجود ہیں تو اس کا فیصلہ عدالتوں میں ہونا چاہیے، نہ کہ اسے غیر معینہ مدت تک نامعلوم مقام پر رکھ کر اس کے خاندان کو کرب اور بے یقینی میں مبتلا کیا جائے۔
ثقلین بلوچ کی جبری گمشدگی ایک ایسے ماحول کی عکاسی کرتی ہے۔ جہاں بلوچ طلبہ اپنی تعلیم، مستقبل اور روزمرہ زندگی کے حوالے سے مسلسل عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کا بنیادی مقصد علم، شعور اور فکری آزادی کو فروغ دینا ہے۔ لیکن جب ایک طالب علم خود کو محفوظ محسوس نہ کرے تو اس کا اثر صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا۔ بلکہ پورے تعلیمی ماحول اور طلبہ برادری کو متاثر کرتا ہے۔ بلوچ طلبہ کو تعلیم حاصل کرنے، تنظیمی سرگرمیوں میں حصہ لینے اور اپنی رائے کے اظہار کا وہی حق حاصل ہے جو ملک کے دیگر شہریوں کو حاصل ہے۔
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب واضح کرتی ہے کہ بلوچستان اور بلوچ طلبہ کے خلاف جبری گمشدگیوں کا تسلسل ایک اجتماعی انسانی بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ طلبہ، نوجوانوں، سیاسی و سماجی کارکنان اور عام شہریوں کی گمشدگیاں پورے معاشرے میں خوف اور خاموشی مسلط کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔ کسی بھی معاشرے میں اختلافِ رائے، سیاسی شعور اور تنظیمی وابستگی کو جرم تصور نہیں کیا جا سکتا۔ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے، جبکہ ان حقوق کی خلاف ورزی پر خاموشی اختیار کرنا اس مسئلے کو مزید سنگین بناتا ہے۔
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب متعلقہ حکام سے دوٹوک مطالبہ کرتی ہے کہ ثقلین بلوچ کو فوری طور پر بحفاظت منظرِ عام پر لایا جائے، ان کے اہلِ خانہ کو ان کی خیریت اور موجودہ حیثیت سے آگاہ کیا جائے، اور اگر ان کے خلاف کوئی قانونی الزام موجود ہے تو انہیں بلا تاخیر عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔ مزید یہ کہ جبری گمشدگیوں کے تمام واقعات کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور اس غیر قانونی عمل کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جبری گمشدگی نہ کسی مسئلے کا قانونی حل ہے اور نہ مسئلے کا جواز ہے۔ ریاستی طاقت کی اصل بنیاد قانون کی بالادستی، آئینی ذمہ داریوں کی پاسداری اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہے۔ ثقلین بلوچ کی گمشدگی پر خاموشی اختیار کرنا نہ صرف ان کے خاندان کے دکھ اور کرب کو نظرانداز کرنا ہے بلکہ قانون اور انصاف کے بنیادی اصولوں سے بھی انحراف ہے۔
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب تمام طلبہ تنظیموں، وکلاء، انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافیوں، اساتذہ اور سول سوسائٹی سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ثقلین بلوچ کی بحفاظت بازیابی کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔ یہ محض ایک طالب علم کی بازیابی کا معاملہ نہیں بلکہ شہری آزادی، انسانی وقار اور قانون کی بالادستی کا سوال ہے۔
بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب
#ReleaseSaqlainBaloch
زبیر داد بلوچ retweeted
Baloch came to learn, to read, and to build their future.
They did not come to disappear.
#ReleaseKhalilBaloch
#KUMustFindItsStudent
زبیر داد بلوچ retweeted
دروت!
پہ شُما وشیں ھالے
عنقا پبلیکیشنز ءِ نیمگ ءَ امیلکار کیبرال ءِ کتاب " Our People Are Our Mountains" براہوئی ءَ "ننا بندغ آک ننا مشک ءُ" ءِ نام ءَ رجانک کنگ بوتگ ءُ عنقا پبلیکیشنز ءِ نیمگ ءَ چھاپ ءُ شِنگ کنگ بوتگ ءُ بلوچستان ءَ ھوار ایندگہ ھَند ءُ جاھاں سر انت۔
زبیر داد بلوچ retweeted
من ھما لوگ ءِ آس ءِ پُر باتاں
زِندگ اِنت مات ءُ نوجوان گار اِنت
#ReleaseSaqlainBaloch
#SaveBalochStudents
زبیر داد بلوچ retweeted
Saqlain Baloch, a member of the Baloch Students Council Bahawalpur and a B.Ed. student at The Islamia University of Bahawalpur, hailing from Peer Adil, District Dera Ghazi Khan, was allegedly subjected to enforced disappearance on Thursday, 29 October 2026, at approximately 3:00 PM.
According to the information received, Saqlain Baloch was forcibly taken from a rickshaw in front of Japan Town, Hasilpur Road, by individuals reportedly belonging to a security agency. Since the incident, his whereabouts have remained unknown, and his family has received no information regarding his location or legal status.
Despite repeated visits and appeals to various police stations, his family has neither been provided with any information about his whereabouts nor has an FIR been lodged concerning the incident.
The Baloch Students Council Punjab strongly urges the concerned authorities to immediately disclose Saqlain Baloch’s whereabouts, ensure his safe and unharmed recovery, and bring him before a competent court of law, if he is in lawful custody. The authorities must also ensure the registration of an FIR, conduct an impartial investigation into the incident, and guarantee due process of law and the fundamental rights guaranteed under the state law.
#ReleaseSaqlainBaloch
زبیر داد بلوچ retweeted
مستائی
عنقا پبلیکیشنز نا پارہ غان امیلکار کیبرال نا کتاب "Our People Are Our Mountains"
براہوئی ٹی ”ننا بندغ آک ننا مَشک ءُ“ نا پن ئٹ چھاپ و شینک کننگانے و بلوچستان آن بیدس ایلو جاگہ تسکان سر کننگانے۔
زبیر داد بلوچ retweeted
پاکستان کی ایک کینگرو کورٹ نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سیاسی رہنما گلزادی بلوچ کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ میں اس فیصلے کو صرف ایک سزا کے طور پر نہیں دیکھتی، بلکہ اسے بلوچستان میں انصاف کے ساتھ ہونے والے مسلسل مذاق اور پُرامن سیاسی آوازوں کو دبانے کے جاری عمل کی ایک اور مثال سمجھتی ہوں۔
جس مقدمے میں دفاع کے وکیل کی غیر موجودگی میں گواہ پر جرح کی جائے، جہاں دفاع کو اپنی بات مؤثر طور پر رکھنے کا مکمل موقع نہ دیا جائے، اور جہاں جج ملزم اور اس کے وکلاء کی عدم موجودگی میں طے شدہ احکامات کی تکمیل کرے، وہاں عدالت کے طرزِ عمل، دباؤ اور غیر جانب داری پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ ایسے حالات میں ہمیں یہ پوچھنے کا پورا حق ہے کہ یہ عدالتوں کا یہ طرز عمل انصاف کے زمرے میں آتا ہے ؟
گلزادی بلوچ کوئی نامعلوم چہرہ نہیں، وہ ہماری ساتھی اور ہماری جدوجہد کا ایک حصہ ہے۔ اسے خاموش کرنے کے لیے عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے، مگر اس کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف ہماری آواز کو قید نہیں کیا جا سکتا۔ گلزادی کی سزا اس بات کا ثبوت ہے کہ آج بلوچستان میں پُرامن سیاسی جدوجہد کو کس قدر دباؤ اور جبر کا سامنا ہے۔
ہمارے ساتھیوں پر جبر صرف قید اور مقدمات تک محدود نہیں۔ ہماری تنظیم کے سرگرم کارکن نذر مری بلوچ کو بھی گزشتہ ایک سال سے جبری طور پر لاپتہ رکھا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پُرامن سیاسی کارکنوں کو قید اور لاپتہ کرکے بلوچستان کے سیاسی مسئلے کو کیسے حل کیا جا سکتا ہے؟
ہمیں مذاکرات کا درس دینے والوں سے میرا سوال ہے: جب ایک طرف ہمارے ساتھی جیلوں میں قید ہوں، دوسری طرف ان کے دفاع اور قانونی حقوق محدود کیے جائیں، اور سیاسی جدوجہد سے دستبرداری کے لیے دباؤ ڈالا جائے، تو پھر مذاکرات کس بنیاد پر ہوں گے؟ گلے پر چھری رکھ کر مذاکرات نہیں ہوتے، یہ صرف جبری خاموشی مسلط کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔
آج بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ساتھ روا رکھا جانے والا یہ مجرمانہ طرزِ عمل بلوچستان میں پُرامن جدوجہد پر ریاستی اداروں کے جاری جبر کی ایک سفاک مثال ہے۔ نام نہاد مذاکراتی عمل کے دوران، بلوچستان میں جاری خونریزی اور مسلسل جبر کے باوجود، معاملہ فہمی، سنجیدگی اور نیک نیتی کے بجائے دباؤ، ہٹ دھرمی اور دھمکی آمیز رویہ اختیار کیا گیا۔
مذاکرات کے نام پر مسلسل ہم پر دباؤ ڈالا گیا کہ ہم اپنی پُرامن سیاسی جدوجہد سے دستبردار ہو جائیں۔ ہمیں کہا گیا کہ تمام ججز ہمارے ہاتھ میں ہیں اور آپ کی دی ہوئی کوئی بھی درخواست کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ہم نے ان تمام حالات کے باوجود دلیل اور سیاسی جرات کا راستہ اختیار کیا، جو ہماری بنیادی سیاسی تربیت کا حصہ ہے۔ ہم بلوچستان کے عوام کے بنیادی حقوق کی جدوجہد کرنے والی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنے عوام کے حقوق کے لیے ہم نے کبھی بھی مکالمے اور مذاکرات سے انکار نہیں کیا۔
اس جبر کے دورانیے میں بھی ہماری تنظیم لاپتہ افراد کی سالانہ رپورٹ محکمہ داخلہ بلوچستان میں جمع کرائی، جو ہمارے زمہدار تنظیم ہونے کا واضح ثبوت ہے۔
مگر ہم نے مذاکرات کے نام پر کسی بھی سیاسی انجینئرنگ کو نہ پہلے قبول کیا ہے اور نہ آئندہ کریں گے۔ بی وائی سی بلوچ عوام کی نمائندہ جماعت اور ان کی امانت ہے۔ ہماری جدوجہد کسی فرد یا عہدے کے لیے نہیں بلکہ اپنے عوام کے بنیادی حقوق اور انصاف کے لیے ہے۔
ہمارے انکار کے بعد چار رکنی عسکری مذاکراتی ٹیم نے ہمیں کہا کہ فیصلہ یہ ہے کہ جب تک آپ ہماری باتیں نہیں مانیں گے، آپ جیل میں رہیں گے۔ ہمیں یہ بھی کہا گیا کہ جج کو بھی یہی حکم دیا گیا ہے۔ ہمیں یہ پیشکش بھی کی گئی کہ اگر ہم ان کی بات مان لیتے ہیں تو ہم میں سے ایک شخص کو رہا کر دیا جائے گا؛ وہ باہر جا کر ان کی باتوں پر عمل کرے گا تو باقی لوگوں کو بھی رہا کر دیا جائے گا۔ہمیں دو، تین سال کے لیے یورپ میں آباد ہو جانے کی پیشکش بھی کی گئی۔ ہم نے ان سمیت تمام ایسی پیشکشوں کو مسترد کیا، کیونکہ ہماری جدوجہد کسی وقتی رعایت، مراعات یا ذاتی مفاد کے لیے نہیں ہے۔
ہم نے واضح کیا کہ ہم کسی سلیکٹڈ پارلیمنٹ کا حصہ نہیں بنیں گے، جو عوام کے بجائے عسکری قوتوں کے ترجمانی کریں نہ کبھی بلوچستان کو چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں پناہ لیں گے۔ ہمارا انتخاب بلوچستان کی عوام ہیں، اور ہمارا راستہ اپنے عوام کے بنیادی جمہوری حقوق کی جدوجہد ہے۔ اگر اس جدوجہد کی قیمت قید ہے تو ہم یہ قیمت ادا کریں گے، اور جیل سے بھی اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
ہم ان تمام اداروں کو یہ واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ طاقت کے بل پر آپ بلوچستان کے سیاسی مسئلے کو حل نہیں کرسکتے۔ آپ نے بی وائی سی کے رہنماؤں کو قید کرنے اور کارکنوں کو لاپتہ کرنے کے باوجود بلوچستان میں امن قائم نہیں کیا-
زبیر داد بلوچ retweeted
After Dr. Mahrang Baloch and Sibghatullah Shahji, a third life sentence for Gullzadi Baloch in three months exposes a pattern of using courts to silence BYC leadership.
#ReleaseBYCLeaders
زبیر داد بلوچ retweeted
My father Rafiq Oman was a honest teacher. He always guided his students to learn and succeed in their life. Is giving education and awareness is crime?????
#ReleaseRafiqOman
زبیر داد بلوچ retweeted
A mother is still waiting at the doorstep for her son to return home.
#ReleaseDadShahBaloch #EndEnforcedDisappearances
زبیر داد بلوچ retweeted
For a mother in Balochistan, the harshest reality is to believe her son would return. This hope encourages her to stay resisting till her last. Dad’s mother is resisting against the tyranny of state institutions, giving her everything for her son’s release.
#ReleaseDadShahBaloch
زبیر داد بلوچ retweeted
We knocked on every door that claims to uphold the law, yet justice remains out of reach.
What answer will the Sindh Government PPP and CTD give this mother? Under what law has my brother, Dad Shah Baloch , been kept missing for five months?
1/2
#ReleaseDadShahBaloch
زبیر داد بلوچ retweeted
Rafiq Oman, a teacher, was forcibly disappeared on 21 September 2014. Twelve years have passed without his return, without justice, and without his family receiving information about his whereabouts. His prolonged enforced disappearance is a devastating violation of his fundamental rights and a continuing source of suffering for his family.
For twelve years, his family has been condemned to uncertainty while those responsible remain shielded by impunity. A teacher was denied his freedom, his family was denied the truth, and a fundamental human right was denied without accountability. Enforced disappearance must never become a mechanism for silencing individuals or punishing families.
The question remains: what was Rafiq Oman’s crime? Was he punished for being a teacher, an educator, and for educating his people?
#ReleaseRafiqOman
زبیر داد بلوچ retweeted
My father Rafiq Oman was headmaster of govt boys secondary high school balnigwar.he was abducted on 21st September 2014 and he is still missing since 12 years.
#ReleaseRafiqOman
زبیر داد بلوچ retweeted
بیا کُجا ئے
منی
سچکانین
ھیال ءِ اوتَگ
#ReleaseDadShahBaloch
زبیر داد بلوچ retweeted
The state policy of enforced disappearances and collective punishment continues to inflict severe human rights violations on Baloch families. Dad Shah Baloch was forcibly disappeared on 21 April 2026, and five months later, his family still has no information about his whereabouts or safety. Their suffering continues with every passing day.
His enforced disappearance has left his family trapped in uncertainty, fear, and an unending wait for answers. Denying a family information about the fate and whereabouts of their loved one compounds the violation and exposes the human cost of impunity.
#ReleaseDadShahBaloch


































