Baloch Students Council Bahawalpur (@BSCBWP) header
Baloch Students Council Bahawalpur (@BSCBWP) profile picture

Official X (formerly Twitter) account of Baloch Students Council Bahawalpur

Bahawalpur, Pakistan
Joined March 2025
Photo by Baloch Students Council Bahawalpur (@BSCBWP)Photo by Baloch Students Council Bahawalpur (@BSCBWP)Photo by Baloch Students Council Bahawalpur (@BSCBWP)Photo by Baloch Students Council Bahawalpur (@BSCBWP)Photo by Baloch Students Council Bahawalpur (@BSCBWP)Photo by Baloch Students Council Bahawalpur (@BSCBWP)Photo by Baloch Students Council Bahawalpur (@BSCBWP)Photo by Baloch Students Council Bahawalpur (@BSCBWP)Photo by Baloch Students Council Bahawalpur (@BSCBWP)Photo by Baloch Students Council Bahawalpur (@BSCBWP)
*CALL FOR X (TWITTER) CAMPAIGN* *Date andTiming:* 8 - Nov - 2026 | 6:00 PM - 12:00 AM Hashtag’s to Use: #ReleaseSaqlainBaloch #EndEnforcedDisappearances *BALOCH STUDENTS COUNCIL (Punjab)
*CALL FOR X (TWITTER) CAMPAIGN* Baloch Students Council (BSC) Punjab launches a campaign on X (formerly Twitter) demanding the safe and immediate release of Saqlain Baloch, a student of Islamia university Bahawalpur and resident of peer adil District Dera Ghazi Khan. Saqlain Baloch was forcibly disappeared on 29 October 2026 at 3:00 PM in Bahawalpur, and his whereabouts remain unknown. We urge students, teachers, journalists, human rights defenders, civil society members, and all conscientious individuals to join the campaign and raise their voices for his safe and immediate release. *Date andTiming:* 8 - Nov - 2026 | 6:00 PM - 12:00 AM Hashtag’s to Use: #ReleaseSaqlainBaloch #EndEnforcedDisappearances *BALOCH STUDENTS COUNCIL (Punjab)
5
8
157
ثقلین بلوچ کی جبری گمشدگی ریاستی قانون، شہری آزادیوں اور تعلیمی ماحول پر ایک سنگین سوال ہے۔ ترجمان، بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب #ReleaseSaqlainBaloch
ثقلین بلوچ کی جبری گمشدگی ریاستی قانون، شہری آزادیوں اور تعلیمی ماحول پر ایک سنگین سوال ہے۔ ترجمان، بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل بہاولپور کے ممبر اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے طالب علم ثقلین بلوچ کی جبری گمشدگی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے، بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب۔ ثقلین بلوچ کی جبری گمشدگی کو ایک ہفتے سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن تاحال ان کے بارے میں کوئی مستند معلومات فراہم نہیں کی گئیں ۔ ایک طالب علم کو اس کی تعلیمی اور سماجی زندگی سے زبردستی محروم کرنا اور اسے نامعلوم مقام پر منتقل کرکے اس کے خاندان کو مسلسل بے خبری اور اذیت میں مبتلا رکھنا کسی بھی مہذب معاشرے اور بنیادی انسانی حقوق، آئینی ضمانتوں اور قانون کی حکمرانی کے سراسر منافی ہے۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب، سمجھتی ہے کہ جبری گمشدگیاں محض چند افراد کی گمشدگی کا معاملہ نہیں بلکہ شہری آزادیوں، بنیادی انسانی حقوق اور آئینی ضمانتوں کی سنگین پامالی ہیں۔ کسی بھی ریاستی ادارے کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ قانون اور عدالتی نگرانی سے بالاتر ہو کر کسی شہری کی آزادی سلب کرے۔ اگر کسی شخص کے خلاف کوئی الزام یا شواہد موجود ہیں تو اس کا فیصلہ عدالتوں میں ہونا چاہیے، نہ کہ اسے غیر معینہ مدت تک نامعلوم مقام پر رکھ کر اس کے خاندان کو کرب اور بے یقینی میں مبتلا کیا جائے۔ ثقلین بلوچ کی جبری گمشدگی ایک ایسے ماحول کی عکاسی کرتی ہے۔ جہاں بلوچ طلبہ اپنی تعلیم، مستقبل اور روزمرہ زندگی کے حوالے سے مسلسل عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کا بنیادی مقصد علم، شعور اور فکری آزادی کو فروغ دینا ہے۔ لیکن جب ایک طالب علم خود کو محفوظ محسوس نہ کرے تو اس کا اثر صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا۔ بلکہ پورے تعلیمی ماحول اور طلبہ برادری کو متاثر کرتا ہے۔ بلوچ طلبہ کو تعلیم حاصل کرنے، تنظیمی سرگرمیوں میں حصہ لینے اور اپنی رائے کے اظہار کا وہی حق حاصل ہے جو ملک کے دیگر شہریوں کو حاصل ہے۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب واضح کرتی ہے کہ بلوچستان اور بلوچ طلبہ کے خلاف جبری گمشدگیوں کا تسلسل ایک اجتماعی انسانی بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ طلبہ، نوجوانوں، سیاسی و سماجی کارکنان اور عام شہریوں کی گمشدگیاں پورے معاشرے میں خوف اور خاموشی مسلط کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔ کسی بھی معاشرے میں اختلافِ رائے، سیاسی شعور اور تنظیمی وابستگی کو جرم تصور نہیں کیا جا سکتا۔ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے، جبکہ ان حقوق کی خلاف ورزی پر خاموشی اختیار کرنا اس مسئلے کو مزید سنگین بناتا ہے۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب متعلقہ حکام سے دوٹوک مطالبہ کرتی ہے کہ ثقلین بلوچ کو فوری طور پر بحفاظت منظرِ عام پر لایا جائے، ان کے اہلِ خانہ کو ان کی خیریت اور موجودہ حیثیت سے آگاہ کیا جائے، اور اگر ان کے خلاف کوئی قانونی الزام موجود ہے تو انہیں بلا تاخیر عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔ مزید یہ کہ جبری گمشدگیوں کے تمام واقعات کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور اس غیر قانونی عمل کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جبری گمشدگی نہ کسی مسئلے کا قانونی حل ہے اور نہ مسئلے کا جواز ہے۔ ریاستی طاقت کی اصل بنیاد قانون کی بالادستی، آئینی ذمہ داریوں کی پاسداری اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہے۔ ثقلین بلوچ کی گمشدگی پر خاموشی اختیار کرنا نہ صرف ان کے خاندان کے دکھ اور کرب کو نظرانداز کرنا ہے بلکہ قانون اور انصاف کے بنیادی اصولوں سے بھی انحراف ہے۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب تمام طلبہ تنظیموں، وکلاء، انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافیوں، اساتذہ اور سول سوسائٹی سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ثقلین بلوچ کی بحفاظت بازیابی کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔ یہ محض ایک طالب علم کی بازیابی کا معاملہ نہیں بلکہ شہری آزادی، انسانی وقار اور قانون کی بالادستی کا سوال ہے۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب #ReleaseSaqlainBaloch
2
14
5
26
587
Baloch Students Council Bahawalpur retweeted
ثقلین بلوچ کی جبری گمشدگی ریاستی قانون، شہری آزادیوں اور تعلیمی ماحول پر ایک سنگین سوال ہے۔ ترجمان، بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل بہاولپور کے ممبر اور اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے طالب علم ثقلین بلوچ کی جبری گمشدگی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے، بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب۔ ثقلین بلوچ کی جبری گمشدگی کو ایک ہفتے سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن تاحال ان کے بارے میں کوئی مستند معلومات فراہم نہیں کی گئیں ۔ ایک طالب علم کو اس کی تعلیمی اور سماجی زندگی سے زبردستی محروم کرنا اور اسے نامعلوم مقام پر منتقل کرکے اس کے خاندان کو مسلسل بے خبری اور اذیت میں مبتلا رکھنا کسی بھی مہذب معاشرے اور بنیادی انسانی حقوق، آئینی ضمانتوں اور قانون کی حکمرانی کے سراسر منافی ہے۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب، سمجھتی ہے کہ جبری گمشدگیاں محض چند افراد کی گمشدگی کا معاملہ نہیں بلکہ شہری آزادیوں، بنیادی انسانی حقوق اور آئینی ضمانتوں کی سنگین پامالی ہیں۔ کسی بھی ریاستی ادارے کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ قانون اور عدالتی نگرانی سے بالاتر ہو کر کسی شہری کی آزادی سلب کرے۔ اگر کسی شخص کے خلاف کوئی الزام یا شواہد موجود ہیں تو اس کا فیصلہ عدالتوں میں ہونا چاہیے، نہ کہ اسے غیر معینہ مدت تک نامعلوم مقام پر رکھ کر اس کے خاندان کو کرب اور بے یقینی میں مبتلا کیا جائے۔ ثقلین بلوچ کی جبری گمشدگی ایک ایسے ماحول کی عکاسی کرتی ہے۔ جہاں بلوچ طلبہ اپنی تعلیم، مستقبل اور روزمرہ زندگی کے حوالے سے مسلسل عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کا بنیادی مقصد علم، شعور اور فکری آزادی کو فروغ دینا ہے۔ لیکن جب ایک طالب علم خود کو محفوظ محسوس نہ کرے تو اس کا اثر صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا۔ بلکہ پورے تعلیمی ماحول اور طلبہ برادری کو متاثر کرتا ہے۔ بلوچ طلبہ کو تعلیم حاصل کرنے، تنظیمی سرگرمیوں میں حصہ لینے اور اپنی رائے کے اظہار کا وہی حق حاصل ہے جو ملک کے دیگر شہریوں کو حاصل ہے۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب واضح کرتی ہے کہ بلوچستان اور بلوچ طلبہ کے خلاف جبری گمشدگیوں کا تسلسل ایک اجتماعی انسانی بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ طلبہ، نوجوانوں، سیاسی و سماجی کارکنان اور عام شہریوں کی گمشدگیاں پورے معاشرے میں خوف اور خاموشی مسلط کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔ کسی بھی معاشرے میں اختلافِ رائے، سیاسی شعور اور تنظیمی وابستگی کو جرم تصور نہیں کیا جا سکتا۔ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے، جبکہ ان حقوق کی خلاف ورزی پر خاموشی اختیار کرنا اس مسئلے کو مزید سنگین بناتا ہے۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب متعلقہ حکام سے دوٹوک مطالبہ کرتی ہے کہ ثقلین بلوچ کو فوری طور پر بحفاظت منظرِ عام پر لایا جائے، ان کے اہلِ خانہ کو ان کی خیریت اور موجودہ حیثیت سے آگاہ کیا جائے، اور اگر ان کے خلاف کوئی قانونی الزام موجود ہے تو انہیں بلا تاخیر عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔ مزید یہ کہ جبری گمشدگیوں کے تمام واقعات کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور اس غیر قانونی عمل کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جبری گمشدگی نہ کسی مسئلے کا قانونی حل ہے اور نہ مسئلے کا جواز ہے۔ ریاستی طاقت کی اصل بنیاد قانون کی بالادستی، آئینی ذمہ داریوں کی پاسداری اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہے۔ ثقلین بلوچ کی گمشدگی پر خاموشی اختیار کرنا نہ صرف ان کے خاندان کے دکھ اور کرب کو نظرانداز کرنا ہے بلکہ قانون اور انصاف کے بنیادی اصولوں سے بھی انحراف ہے۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب تمام طلبہ تنظیموں، وکلاء، انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافیوں، اساتذہ اور سول سوسائٹی سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ثقلین بلوچ کی بحفاظت بازیابی کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔ یہ محض ایک طالب علم کی بازیابی کا معاملہ نہیں بلکہ شہری آزادی، انسانی وقار اور قانون کی بالادستی کا سوال ہے۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب #ReleaseSaqlainBaloch
4
62
30
78
3,306
من ھما لوگ ءِ آس ءِ پُر باتاں زِندگ اِنت مات ءُ نوجوان گار اِنت #ReleaseSaqlainBaloch #SaveBalochStudents
7
80
38
103
3,883
Saqlain Baloch, a member of the Baloch Students Council Bahawalpur and a B.Ed. student at The Islamia University of Bahawalpur, hailing from Peer Adil, District Dera Ghazi Khan, was allegedly subjected to enforced disappearance on Thursday, 29 October 2026, at approximately 3:00 PM. According to the information received, Saqlain Baloch was forcibly taken from a rickshaw in front of Japan Town, Hasilpur Road, by individuals reportedly belonging to a security agency. Since the incident, his whereabouts have remained unknown, and his family has received no information regarding his location or legal status. Despite repeated visits and appeals to various police stations, his family has neither been provided with any information about his whereabouts nor has an FIR been lodged concerning the incident. The Baloch Students Council Punjab strongly urges the concerned authorities to immediately disclose Saqlain Baloch’s whereabouts, ensure his safe and unharmed recovery, and bring him before a competent court of law, if he is in lawful custody. The authorities must also ensure the registration of an FIR, conduct an impartial investigation into the incident, and guarantee due process of law and the fundamental rights guaranteed under the state law. #ReleaseSaqlainBaloch
10
15
337
Baloch Students Council Bahawalpur retweeted
Saqlain Baloch, a member of the Baloch Students Council Bahawalpur and a B.Ed. student at The Islamia University of Bahawalpur, hailing from Peer Adil, District Dera Ghazi Khan, was allegedly subjected to enforced disappearance on Thursday, 29 October 2026, at approximately 3:00 PM. According to the information received, Saqlain Baloch was forcibly taken from a rickshaw in front of Japan Town, Hasilpur Road, by individuals reportedly belonging to a security agency. Since the incident, his whereabouts have remained unknown, and his family has received no information regarding his location or legal status. Despite repeated visits and appeals to various police stations, his family has neither been provided with any information about his whereabouts nor has an FIR been lodged concerning the incident. The Baloch Students Council Punjab strongly urges the concerned authorities to immediately disclose Saqlain Baloch’s whereabouts, ensure his safe and unharmed recovery, and bring him before a competent court of law, if he is in lawful custody. The authorities must also ensure the registration of an FIR, conduct an impartial investigation into the incident, and guarantee due process of law and the fundamental rights guaranteed under the state law. #ReleaseSaqlainBaloch
27
150
57
183
9,571
چاگردی رسانکدر  ءِ بزانت ءُ ارزشت نبشتہ کار؛ شاھان بلوچ bscpunjab.org/2026/10/blog-p…
4
1
11
200
Baloch Students Council Bahawalpur retweeted
چاگردی رسانکدر  ءِ بزانت ءُ ارزشت چاگردی رسانکدر انٹرنیٹ ءَ جتائیں  پتر ءُ تندجاھانی نام اِنت کہ آئی ءِ تہ ءَ جتائیں چیز ءِ بنائینگ ءُ ھیالانی شنگ ءُ تالانی ءَ ھوار جتائیں مُلک ءِ جتائیں مَردماں گوں گپ ءُ تران کنگ ءِ وسیلہ یے۔ چاگردی رسانکدر ءِ تہ ءَ بازیں کِساسے ءَ جتائیں  پتر  ساڑی اَنت ، چوشکہ فیس بُک، انسٹاگرام، ایکس (ٹویٹر)، ٹک ٹاک  ءُ یوٹیوب ءَ ھوار دِگہ ھم مزنیں رسانکدری پتر  ھست اَنت۔ چرے وسیلگاں چہ ما وتی جِند ءِ ھیال ءُ لیکھاں ھوار وتی راج ءِ توار ءَ دنیا ءِ دیم ءَ آؤرت ءُ ایر کُت کن ایں۔   نبشتہ کار؛ شاھان بلوچ bscpunjab.org/2026/10/blog-p…
18
12
31
1,720
Baloch Students Council Bahawalpur retweeted
دنیا ءِ ھمک راج ءِ گوْرءَ وتی گیدی کسہ، myth ءُ بامرد ھست اَنت۔ بالاچ گورگیج بلوچانی یک بامردے کہ آئی ءِ کسہ شائری ءِ دروشم ءَ بلوچ راج ءِ گوْرءَ انگت ءَ ھست ءُ سلامت اَنت۔ بُندر ءَ بلوچی زبان ءِ سے گالوار اَنت۔سئے ئیں گالواراں بالاچ ءِ کسہ شئیرانی تہ ءَ گِندگ بنت۔ بلے سئے ئیں گالوارانی شئیراں ھمے یکیں کسہ ءِ تہ ءَ بازیں تپاوت ءُ پرکے سما کنگ بیت۔ یک گالوارے ءِ شئیرانی تہءَ جاہ ، ھند، کُٹم ءُ وھد ءُ زمانگ دِگر اَنت ءُ دومی گالوار ءِ شئیراں پرک ءُ تپاوت ھست اَنت۔ اے نبشتانک ءَ ما جہد کن ایں کہ ھما تپاوت کہ بالاچ ءِ کسہ ءِ درگت ءَ بلوچی زُبان ءِ سئے ئیں گالواراں ھست اَنت، شئیرانی ھمدپی ءَ کسہ ءِ پرک ءَ گیشوار کنگ ءِ ھمرائی ءَ شئیرانی سرشونی ءَ بالاچ گورگیج ء ِبیرگیری ءُ بامردی ءِ کسہ ءَ دیم ءَ کار ایں ۔ bscpunjab.org/2026/09/blog-p…
17
6
25
1,098
پنجاب یونیورسٹی کے طالب علم عمار بلوچ کی جبری گمشدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ ترجمان: بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب
پنجاب یونیورسٹی کے طالب علم عمار بلوچ کی جبری گمشدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ ترجمان: بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب، پنجاب یونیورسٹی لاہور کے شعبہ سوشل ورک کے پانچویں سمسٹر کے طالب علم عمار بلوچ کی جبری گمشدگی پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کرتی ہے۔ 3 ستمبر کو رات تقریباً 11:20 بجے عمار بلوچ کو مون مارکیٹ، اقبال ٹاؤن لاہور سے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مبینہ طور پر حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔ ان کی گرفتاری کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی واضح معلومات ان کے اہلِ خانہ یا ساتھی طلبہ کو فراہم نہیں کی گئی، جس کے باعث ان کے خاندان اور یونیورسٹی کے طلبہ میں شدید تشویش اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ عمار بلوچ اپنے آبائی علاقے سے دور لاہور میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والا ایک طالب علم ہے۔ ایک نوجوان کا اس طرح اچانک اپنے خاندان، دوستوں اور تعلیمی سرگرمیوں سے دور ہو جانا نہ صرف اس کے تعلیمی مستقبل کو متاثر کرتا ہے بلکہ اس کے خاندان کو شدید ذہنی اذیت اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار کرتا ہے۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب کا کہنا ہے کہ عمار بلوچ کا معاملہ بلوچستان اور بلوچ طلبہ سے متعلق اجتماعی جبری گمشدگیوں کے وسیع تر مسئلے سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔ بلوچستان میں طلبہ، سیاسی و سماجی کارکنان، نوجوانوں اور عام شہریوں کی جبری گمشدگیوں کے واقعات نے بلوچ معاشرے میں خوف، بے یقینی اور اضطراب کو جنم دیا ہے۔ یہ مسئلہ صرف چند خاندانوں کا نہیں بلکہ ایک اجتماعی انسانی اور سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔ ہر لاپتہ شخص کے پیچھے ایک خاندان، ایک ماں کی امید، بہن بھائیوں کی بے چینی اور ایک گھر کی پوری زندگی وابستہ ہوتی ہے۔ کسی بھی شہری کو قانونی کارروائی اور عدالتی نگرانی کے بغیر نامعلوم مقام پر منتقل کرنا قانون کی حکمرانی اور بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے سنگین تشویش پیدا کرتا ہے۔ اگر کسی شخص کے خلاف کوئی الزام موجود ہے تو اسے آئین و قانون کے مطابق عدالت کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ اسے اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہو۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب کا مؤقف ہے کہ تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم بلوچ طلبہ کو خوف اور عدم تحفظ کے ماحول کے بجائے ایک محفوظ، پُرامن اور آزاد تعلیمی ماحول ملنا چاہیے۔ کسی بھی بلوچ طالب علم کے خلاف اگر کوئی قانونی الزام موجود ہے تو اسے قانون کے مطابق متعلقہ عدالت کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے تاکہ معاملہ شفاف قانونی طریقۂ کار کے تحت آگے بڑھ سکے۔ آخر میں بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب کے ترجمان نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ عمار بلوچ کو فوری طور پر منظرِ عام پر لایا جائے، ان کے اہلِ خانہ کو ان کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کی جائیں اور اگر ان کے خلاف کوئی الزام موجود ہے تو انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے۔ مزید برآں، ملک بھر میں جاری جبری گمشدگیوں کے واقعات کا خاتمہ کیا جائے اور تمام لاپتہ بلوچوں کو بحفاظت ان کے خاندانوں تک پہنچایا جائے۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب تمام طلبہ تنظیموں، وکلاء، انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافیوں اور سول سوسائٹی سے اپیل کرتی ہے کہ عمار بلوچ کی بحفاظت بازیابی کے لیے اپنی آواز بلند کریں اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب
2
2
93
Baloch Students Council Bahawalpur retweeted
پنجاب یونیورسٹی کے طالب علم عمار بلوچ کی جبری گمشدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ ترجمان: بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب، پنجاب یونیورسٹی لاہور کے شعبہ سوشل ورک کے پانچویں سمسٹر کے طالب علم عمار بلوچ کی جبری گمشدگی پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کرتی ہے۔ 3 ستمبر کو رات تقریباً 11:20 بجے عمار بلوچ کو مون مارکیٹ، اقبال ٹاؤن لاہور سے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مبینہ طور پر حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔ ان کی گرفتاری کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی واضح معلومات ان کے اہلِ خانہ یا ساتھی طلبہ کو فراہم نہیں کی گئی، جس کے باعث ان کے خاندان اور یونیورسٹی کے طلبہ میں شدید تشویش اور بے چینی پائی جاتی ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ عمار بلوچ اپنے آبائی علاقے سے دور لاہور میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والا ایک طالب علم ہے۔ ایک نوجوان کا اس طرح اچانک اپنے خاندان، دوستوں اور تعلیمی سرگرمیوں سے دور ہو جانا نہ صرف اس کے تعلیمی مستقبل کو متاثر کرتا ہے بلکہ اس کے خاندان کو شدید ذہنی اذیت اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار کرتا ہے۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب کا کہنا ہے کہ عمار بلوچ کا معاملہ بلوچستان اور بلوچ طلبہ سے متعلق اجتماعی جبری گمشدگیوں کے وسیع تر مسئلے سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔ بلوچستان میں طلبہ، سیاسی و سماجی کارکنان، نوجوانوں اور عام شہریوں کی جبری گمشدگیوں کے واقعات نے بلوچ معاشرے میں خوف، بے یقینی اور اضطراب کو جنم دیا ہے۔ یہ مسئلہ صرف چند خاندانوں کا نہیں بلکہ ایک اجتماعی انسانی اور سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔ ہر لاپتہ شخص کے پیچھے ایک خاندان، ایک ماں کی امید، بہن بھائیوں کی بے چینی اور ایک گھر کی پوری زندگی وابستہ ہوتی ہے۔ کسی بھی شہری کو قانونی کارروائی اور عدالتی نگرانی کے بغیر نامعلوم مقام پر منتقل کرنا قانون کی حکمرانی اور بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے سنگین تشویش پیدا کرتا ہے۔ اگر کسی شخص کے خلاف کوئی الزام موجود ہے تو اسے آئین و قانون کے مطابق عدالت کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ اسے اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہو۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب کا مؤقف ہے کہ تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم بلوچ طلبہ کو خوف اور عدم تحفظ کے ماحول کے بجائے ایک محفوظ، پُرامن اور آزاد تعلیمی ماحول ملنا چاہیے۔ کسی بھی بلوچ طالب علم کے خلاف اگر کوئی قانونی الزام موجود ہے تو اسے قانون کے مطابق متعلقہ عدالت کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے تاکہ معاملہ شفاف قانونی طریقۂ کار کے تحت آگے بڑھ سکے۔ آخر میں بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب کے ترجمان نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ عمار بلوچ کو فوری طور پر منظرِ عام پر لایا جائے، ان کے اہلِ خانہ کو ان کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کی جائیں اور اگر ان کے خلاف کوئی الزام موجود ہے تو انہیں قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے۔ مزید برآں، ملک بھر میں جاری جبری گمشدگیوں کے واقعات کا خاتمہ کیا جائے اور تمام لاپتہ بلوچوں کو بحفاظت ان کے خاندانوں تک پہنچایا جائے۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب تمام طلبہ تنظیموں، وکلاء، انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافیوں اور سول سوسائٹی سے اپیل کرتی ہے کہ عمار بلوچ کی بحفاظت بازیابی کے لیے اپنی آواز بلند کریں اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب
21
4
29
897
گدر سوراب میں عام بلوچ آبادی پر لڑاکا تیاروں سے بمباری کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہیں۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل وفاق و پنجاب
گدر سوراب میں عام بلوچ آبادی پر لڑاکا تیاروں سے بمباری کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہیں۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل وفاق و پنجاب
2
83
Selected Students for Reserve Seats of Balochistan in Islamia University of Bahawalpur. Selected Students are advised to contact the Following representative of BSC Bahawalpur. Faisal Baloch 03315261887 Wadood Baloch 03362706664 Hammas Baloch 03158725503
4
10
337
کراچی سے بلوچ طلباء کی جبری گمشدگی اور ہراسانی پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب
کراچی سے بلوچ طلباء کی جبری گمشدگی اور ہراسانی پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ ہم جامعہ کراچی کے پانچ بلوچ طلباء کی جبری گمشدگی کے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہے۔ گزشتہ روز قانون نافذ کرنے والے اداروں اور رینجرز نے گلشن اقبال، کراچی میں ایک فلیٹ پر چھاپہ مار کر جامعہ کراچی کے پانچ بلوچ طلباء اظہر بلوچ ولد حیات، غوث بخش بلوچ ولد حیات، شہزاد بلوچ ولد شاہد، انیس بلوچ ولد عظیم اور وسیم بلوچ ولد محمد امین کو ان کے سامان سمیت حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ اس اقدام کے بعد سے ان کی رہائش اور سلامتی کے حوالے سے کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ اظہر بلوچ رہائش گوادر ڈیپارٹمنٹ جنرل ہسٹری، ان کے بھائی غوث بخش بلوچ رہائش گوادر ڈیپارٹمنٹ بی ایس اکنامکس، شہزاد بلوچ رہائش گوادر ڈیپارٹمنٹ انوائرمنٹل سائنس، انیس بلوچ رہائش نوشکی بی ایس فلاسفی، اور وسیم بلوچ رہائش قلات ڈیپارٹمنٹ پولیٹیکل سائنس، جامعہ کراچی کے باقاعدہ طالب علم ہیں۔ یہ تمام طلباء اپنے آبائی علاقوں سے دور اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے مقیم تھے۔ اس سے قبل بھی جامعہ کراچی کے ایم فل کے طالب علم خلیل بلوچ ولد جان محمد کو جامعہ کے احاطے سے لاپتہ کیا گیا تھا، تعلیمی اداروں اور ان کے اطراف سے طلباء کو اس طریقہ کار سے حراست میں لینا نہ صرف ان کے تعلیمی کیریئر کے لیے شدید نقصان دہ ہے بلکہ یہ عمل تمام بلوچ طلباء کو شدید ذہنی و نفسیاتی اذیت اور عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا کر رہا ہے۔ آخر میں بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب کے ترجمان نے کہا کہ ہم متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتے ہے کہ بلوچ طلباء کو ہراساں کرنے کے سلسلے کو فوری طور پر روکا جائے۔ ہم بلوچ طلباء کی فوری اور بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کرتے ہیں، اور ہم تمام طلباء تنظیموں، وکلاء، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ لاپتہ بلوچ طلباء کی بحفاظت بازیابی میں اپنا کردار ادا کریں۔ مزید یہ کہ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب کراچی یونیورسٹی کے طلباء سمیت زبیر بلوچ بلوچ کی جبری گمشدگی اور ملک بھر میں بلوچ طلباء کی حراسانی کے خلاف اسٹوڈنٹس آف کراچی کے جاری مہم کی مکمل حمایت کرتی ہے اور تمام انسان دوست، سماجی کارکنان اور سول سوسائٹی سے بلوچ طلباء کی جبری گمشدگیوں کے خلاف اس مہم کو کامیاب بنانے کی اپیل کرتی ہے۔
1
1
65
Baloch Students Council Bahawalpur retweeted
کراچی سے بلوچ طلباء کی جبری گمشدگی اور ہراسانی پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ ہم جامعہ کراچی کے پانچ بلوچ طلباء کی جبری گمشدگی کے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہے۔ گزشتہ روز قانون نافذ کرنے والے اداروں اور رینجرز نے گلشن اقبال، کراچی میں ایک فلیٹ پر چھاپہ مار کر جامعہ کراچی کے پانچ بلوچ طلباء اظہر بلوچ ولد حیات، غوث بخش بلوچ ولد حیات، شہزاد بلوچ ولد شاہد، انیس بلوچ ولد عظیم اور وسیم بلوچ ولد محمد امین کو ان کے سامان سمیت حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔ اس اقدام کے بعد سے ان کی رہائش اور سلامتی کے حوالے سے کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ اظہر بلوچ رہائش گوادر ڈیپارٹمنٹ جنرل ہسٹری، ان کے بھائی غوث بخش بلوچ رہائش گوادر ڈیپارٹمنٹ بی ایس اکنامکس، شہزاد بلوچ رہائش گوادر ڈیپارٹمنٹ انوائرمنٹل سائنس، انیس بلوچ رہائش نوشکی بی ایس فلاسفی، اور وسیم بلوچ رہائش قلات ڈیپارٹمنٹ پولیٹیکل سائنس، جامعہ کراچی کے باقاعدہ طالب علم ہیں۔ یہ تمام طلباء اپنے آبائی علاقوں سے دور اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے مقیم تھے۔ اس سے قبل بھی جامعہ کراچی کے ایم فل کے طالب علم خلیل بلوچ ولد جان محمد کو جامعہ کے احاطے سے لاپتہ کیا گیا تھا، تعلیمی اداروں اور ان کے اطراف سے طلباء کو اس طریقہ کار سے حراست میں لینا نہ صرف ان کے تعلیمی کیریئر کے لیے شدید نقصان دہ ہے بلکہ یہ عمل تمام بلوچ طلباء کو شدید ذہنی و نفسیاتی اذیت اور عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا کر رہا ہے۔ آخر میں بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب کے ترجمان نے کہا کہ ہم متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتے ہے کہ بلوچ طلباء کو ہراساں کرنے کے سلسلے کو فوری طور پر روکا جائے۔ ہم بلوچ طلباء کی فوری اور بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کرتے ہیں، اور ہم تمام طلباء تنظیموں، وکلاء، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ لاپتہ بلوچ طلباء کی بحفاظت بازیابی میں اپنا کردار ادا کریں۔ مزید یہ کہ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل پنجاب کراچی یونیورسٹی کے طلباء سمیت زبیر بلوچ بلوچ کی جبری گمشدگی اور ملک بھر میں بلوچ طلباء کی حراسانی کے خلاف اسٹوڈنٹس آف کراچی کے جاری مہم کی مکمل حمایت کرتی ہے اور تمام انسان دوست، سماجی کارکنان اور سول سوسائٹی سے بلوچ طلباء کی جبری گمشدگیوں کے خلاف اس مہم کو کامیاب بنانے کی اپیل کرتی ہے۔
12
5
14
741
Baloch Students Council Bahawalpur retweeted
دگنیا ءِ گوستانک  ھزاراں سال کُہن اِنت ءُ اے میان ءَ دگنیا ءِ تہ ءَ بازیں چیز دیم ءَ اتکگ اَنت، سنگانی  زمانگ ءَ بگرداں روچء مروچی اے آئی ءُ ٹیکنالوجی ءِ زمانگ ءَ، لہتیں انچیں چیز ھست اَنت کہ  ھما پیم ءَ جُنزان اَنت۔ ما گُشت کن اِیں کہ اے انچیں ابرمی راستی اَنت کہ ھچبر مٹ نہ بنت، جنگ ءُ جدل، نپ ءُ تاوان، زر ءُ مال ءُ ایدگہ جیڑہ کہ گوں وھد ءَ گیش ءُ نوکیں دروشمے ءَ ودی بوتگ اَنت سمو بلوچ bscpunjab.org/2026/07/blog-p…
11
4
14
837
بلوچ طالبعلم جیئند بلوچ کی تیسری مرتبہ جبری گمشدگی کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ان کی فوری بازیابی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل، پنجاب
بلوچ طالبعلم جیئند بلوچ کی تیسری مرتبہ جبری گمشدگی کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ان کی فوری بازیابی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل، پنجاب بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل، پنجاب جیئند بلوچ کی تیسری مرتبہ جبری گمشدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتی ہے اور اسے بلوچ طالبعلموں کو مسلسل خوف، عدم تحفظ اور ذہنی اذیت میں مبتلا رکھنے کی ایک منظم پالیسی کا تسلسل قرار دیتی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ریاست کی جانب سے بلوچ طالبعلموں کو مسلسل جبری گمشدگی کا نشانہ بنانا انہیں تعلیم سے دور رکھنے اور ان کے تعلیمی و مستقبل کے حقوق سلب کرنے کی ایک ناکام مگر سنگین کوشش ہے۔ جیئند بلوچ سمیت متعدد بلوچ طلباء کو بارہا جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ان کی تعلیم اور مستقبل شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ریاستی اداروں کے اس غیر قانونی اور غیر انسانی طرزعمل نے بلوچ طلباء میں خوف و ہراس اور عدم تحفظ کی فضا پیدا کر دی ہے۔ متعدد طلباء ذہنی اذیت اور مسلسل خوف کے باعث اپنی تعلیم معمول کے مطابق جاری رکھنے سے قاصر ہیں جبکہ کئی طلباء اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف انتہائی تشویشناک ہے بلکہ تعلیم کے بنیادی حق پر ایک سنگین حملہ بھی ہے۔ بلوچ طالبعلموں کو جبری گمشدگیوں کا نشانہ بنانا ریاستی جبر اور بلوچ نوجوانوں کو تعلیم و ترقی کے مواقع سے محروم رکھنے کی پالیسی کا واضح تسلسل ہے۔ یہ مسئلہ نہ جیئند بلوچ سے شروع ہوا ہے اور نہ ہی ان پر ختم ہوگا۔ بلوچ طالبعلموں کی جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور آئے روز اس میں مزید شدت آ رہی ہے۔ متعدد بلوچ طلباء و طالبات کو مسلسل جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ ان کے اہلِ خانہ اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ یہ صورتحال کسی بھی صورت قابل قبول نہیں اور اس پر مزید خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل، پنجاب واضح کرتی ہے کہ بلوچ طالبعلموں کو جبری طور پر لاپتہ کرنا اور انہیں خوف و ہراس میں مبتلا رکھنا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہم جیئند بلوچ سمیت تمام جبری طور پر لاپتہ بلوچ طالبعلموں کی فوری اور بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ترجمان نے آخر میں تمام طلباء تنظیموں، وکلاء، انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافیوں اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد سے اپیل کی کہ وہ جیئند بلوچ سمیت تمام جبری طور پر لاپتہ بلوچ طالبعلموں کے لیے بھرپور آواز بلند کریں اور ان کی بازیابی کے لیے اپنا کردار ادا کریں تاکہ جبری گمشدگیوں کا یہ سلسلہ ختم ہو اور متاثرہ طلباء اور ان کے خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔
1
1
65
Baloch Students Council Bahawalpur retweeted
بلوچ طالبعلم جیئند بلوچ کی تیسری مرتبہ جبری گمشدگی کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ان کی فوری بازیابی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل، پنجاب بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل، پنجاب جیئند بلوچ کی تیسری مرتبہ جبری گمشدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتی ہے اور اسے بلوچ طالبعلموں کو مسلسل خوف، عدم تحفظ اور ذہنی اذیت میں مبتلا رکھنے کی ایک منظم پالیسی کا تسلسل قرار دیتی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ریاست کی جانب سے بلوچ طالبعلموں کو مسلسل جبری گمشدگی کا نشانہ بنانا انہیں تعلیم سے دور رکھنے اور ان کے تعلیمی و مستقبل کے حقوق سلب کرنے کی ایک ناکام مگر سنگین کوشش ہے۔ جیئند بلوچ سمیت متعدد بلوچ طلباء کو بارہا جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں ان کی تعلیم اور مستقبل شدید متاثر ہوئے ہیں۔ ریاستی اداروں کے اس غیر قانونی اور غیر انسانی طرزعمل نے بلوچ طلباء میں خوف و ہراس اور عدم تحفظ کی فضا پیدا کر دی ہے۔ متعدد طلباء ذہنی اذیت اور مسلسل خوف کے باعث اپنی تعلیم معمول کے مطابق جاری رکھنے سے قاصر ہیں جبکہ کئی طلباء اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف انتہائی تشویشناک ہے بلکہ تعلیم کے بنیادی حق پر ایک سنگین حملہ بھی ہے۔ بلوچ طالبعلموں کو جبری گمشدگیوں کا نشانہ بنانا ریاستی جبر اور بلوچ نوجوانوں کو تعلیم و ترقی کے مواقع سے محروم رکھنے کی پالیسی کا واضح تسلسل ہے۔ یہ مسئلہ نہ جیئند بلوچ سے شروع ہوا ہے اور نہ ہی ان پر ختم ہوگا۔ بلوچ طالبعلموں کی جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور آئے روز اس میں مزید شدت آ رہی ہے۔ متعدد بلوچ طلباء و طالبات کو مسلسل جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ ان کے اہلِ خانہ اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ یہ صورتحال کسی بھی صورت قابل قبول نہیں اور اس پر مزید خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل، پنجاب واضح کرتی ہے کہ بلوچ طالبعلموں کو جبری طور پر لاپتہ کرنا اور انہیں خوف و ہراس میں مبتلا رکھنا کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہم جیئند بلوچ سمیت تمام جبری طور پر لاپتہ بلوچ طالبعلموں کی فوری اور بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ترجمان نے آخر میں تمام طلباء تنظیموں، وکلاء، انسانی حقوق کی تنظیموں، صحافیوں اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد سے اپیل کی کہ وہ جیئند بلوچ سمیت تمام جبری طور پر لاپتہ بلوچ طالبعلموں کے لیے بھرپور آواز بلند کریں اور ان کی بازیابی کے لیے اپنا کردار ادا کریں تاکہ جبری گمشدگیوں کا یہ سلسلہ ختم ہو اور متاثرہ طلباء اور ان کے خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔
10
4
10
630
Admission Announcement! The Islamia University of Bahawalpur has announced admissions for the LL.B. (4-Year) program under the Semester System for Fall 2026. Applicants can apply online through the admission portal: eportal.iub.edu.pk For further information, contact:
44
2020ءَ چہ پد اے آئی ءَ دنیا ءِ تہ ءَ بلائیں مٹی ءُ بدلی یے آؤرتگ ۔ھمے میان ءَ اے آئی زانتکار ءُ سافٹ وئیر ڈیویلپر ءُ کمپیوٹر زانتکاراں جُھد کُتگ کہ اے آئی سافٹ وئیر بزاں اپلیکیشن جوڑ کنگ بہ بنت کہ مھلوک آیاناں کارمرز کُت بہ کنت ءُ پہ وت ءَ آسانی یے ودی بہ کنت۔۔۔ سمو بلوچ
2020ءَ چہ پد اے آئی ءَ دنیا ءِ تہ ءَ بلائیں مٹی ءُ بدلی یے آؤرتگ ۔ھمے میان ءَ اے آئی زانتکار ءُ سافٹ وئیر ڈیویلپر ءُ کمپیوٹر زانتکاراں جُھد کُتگ کہ اے آئی سافٹ وئیر بزاں اپلیکیشن جوڑ کنگ بہ بنت کہ مھلوک آیاناں کارمرز کُت بہ کنت ءُ پہ وت ءَ آسانی یے ودی بہ کنت۔اے ٹولز بیست ءُ یکمی کرن ءِ مُھکم تریں ٹولز اَنت ءُ ھمُک انسان ءَ پہ ایشانی کارمرز ءُ ھیل کنگ ءَ بلائیں مانایے داراَنت۔ سمو بلوچ bscpunjab.org/2026/06/blog-p…
1
3
130