Pinned Tweet
Dear @DubaiPoliceHQ @moiuae @UAE_PP @MOHRE_UAE @tdrauae
I seek guidance regarding two persons , using Dubai/UAE as a base for organised cyber harassment, intimidation and threats.
The individuals are alleged to:
• Openly express views that appear to disregard UAE local customs and social values, including repeated derogatory and demeaning remarks about women and respectable personalities.
• Issue threats to life through X/Twitter Spaces and other online platforms.
• Threaten and harass victims' family members, including women and children
• Publish private and personal information including phone numbers, addresses and live locations, without consent.
• Use false, defamatory and vulgar allegations to intimidate or blackmail victims.
• Have a history of allegedly using complaints/cases as a means of blackmail or extortion
• Incite individuals in other countries to commit violence against others, including kidnapping.
If verified, these allegations appear to raise serious concerns involving cybercrime, threats, harassment, extortion, privacy violations, blackmail and incitement to violence.
I respectfully request
@DubaiPoliceHQ @moiuae @UAE_PP @MOHRE_UAE
@tdrauae
and the relevant UAE/Dubai authorities to advise about the appropriate procedure for filing a formal complaint and securely submitting evidence.
Recordings, screenshots, communications, links and other relevant material can be provided to the appropriate authorities.
I suspect that they intend to leave the DUBAI/UAE imminently; therefore, we respectfully request that urgent measures be taken to prevent them from leaving the country.
Azmat Afroz Khan retweeted
ایک دفعہ میرے ایک پرانے دوست نے مجھے اپنے فارم ہاؤس پر بلایا‘ جو اس نے نیا نیا خریدا تھا۔ اس کے فارم کے باہر اتنی زیادہ قیمتی گاڑیاں کھڑی تھیں کہ مجھے پارکنگ کیلئے جگہ نہیں مل رہی تھی۔
میں بہت دور گاڑی پارک کر کے دس منٹ پیدل چلتا ہوا فارم تک گیا تو راستے میں پارک شدہ گاڑیوں کے ماڈلز دیکھ کر حیران ہوتا گیا کہ اتنی مہنگی اور نئے ماڈلز کی گاڑیاں بھی اس ملک میں لوگوں کے پاس ہیں۔ لوگوں کے پاس کتنی دولت ہے!
خیر‘ جب اندر گیا تو وہاں ایک اور دنیا آباد تھی۔ وہاں چند لوگ‘ جو مجھے جانتے تھے‘ میرے پاس آ کر بیٹھ گئے اور ملکی معیشت اور حالات پر بات کرنے لگے۔
میں اکثر اس طرح کے ہجوم میں خاموشی سے باتیں سنتا رہتا ہوں اور اپنی دانشوری کو قابو میں رکھتا ہوں۔ کبھی کوئی مجھے کہتا تھا کہ سنائیں جی! ملک کے کیا حالات ہیں‘ ملک کدھر جا رہا ہے‘ ہمارا کیا بنے گا‘ تو میں پوری ایمانداری اور سنجیدگی سے اپنی دانشوری شروع کر دیتا۔ ایک آدھ منٹ کے بعد وہ مجھے ٹوک کر کہتے کہ آپ رکیں‘ ہم بتاتے ہیں۔ پھر مجھے احساس ہوا کہ وہ میری بات نہیں سننا چاہتے تھے بلکہ مجھے متوجہ کرنے کیلئے ویسے ہی سرسری طور پر پوچھ لیتے کہ بتائیں کیا چل رہا ہے۔ مجھے دیر سے سمجھ آئی کہ دراصل وہ اپنی سنانا چاہتے ہیں۔ اب میں خاموش ہو کر ان کی سنتا ہوں۔
اُس محفل میں بھی یہی ہوا۔ جب انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا چل رہا ہے تو میں نے اُلٹا ان سے کہا کہ آپ بتائیں‘ آپ سب کاروباری لوگ ہیں۔
پھر انہوں نے ملک اور معیشت کی وہ تصویر پیش کی کہ بندے کا دل کرے کہ بس دنیا ابھی ختم ہو جائے۔ کتنی بری زندگی یہ سب گزار رہے ہیں!
میں نے کچھ دیر تک ان کا یہ منظرنامہ برداشت کیا اور پھر کہا کہ اگر پاکستان اتنا ہی برا ہے یا اکانومی تباہ ہو گئی ہے تو یہ سب پیسہ آپ نے کہاں سے کمایا ہے؟
میرے اس دوست نے‘ جس کے فارم ہاؤس پر ہم بیٹھے ہیں اور جس کی قیمت کم از کم ایک ارب روپے ہو گی‘ یہ پیسہ کہاں سے کمایا ہے؟ آپ لوگوں کی سینکڑوں لگژری گاڑیاں جو باہر پارک ہیں‘ آپ نے کہاں سے خریدی ہیں؟ پاکستانیوں نے دبئی میں دس ارب ڈالرز کی جائیدادیں خریدیں‘ یہ سب پیسہ کہاں سے آیا؟
خواجہ آصف کے بقول‘ آج کل پاکستانی افسر پرتگال میں جائیدادیں خرید رہے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر اچکزئی نے تو اسمبلی میں کہا ہے کہ تیس ہزار افسروں نے بیرونِ ملک شہریت لے رکھی ہے۔ کینیڈا پاکستانی افسران اور ان کے بچوں سے بھرا پڑا ہے۔ یہ سب پیسہ کہاں سے آیا جو انہوں نے باہر منتقل کیا؟
میں آپ سب کو جانتا ہوں۔ آپ ارب پتی نہیں تو کروڑ پتی ضرور ہیں۔ دس کروڑ سے کم قیمت کی گاڑی باہر نہیں کھڑی۔ آپ سب کی گاڑیوں میں سب سے پرانی گاڑی میری ہے‘ وہ بھی دفتر کی دی ہوئی ہے۔ اس کے باوجود آپ سب لوگ اس ملک اور اس کی معیشت سے مایوس ہیں؟ حیرت ہے! اور ناشکری کسے کہتے ہیں‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کہا ہے کہ انسان ناشکرا ہے۔ جو گفتگو آپ کر رہے ہیں یہ ناشکری ہے۔
تھوڑی دیر کیلئے وہاں خاموشی سی چھا گئی اور وہ سب مجھے اکیلا چھوڑ گئے۔ پھر کسی نے نہ پوچھا کہ اس ملک کا کیا بنے گا۔
یہ تین سال پہلے کی بات ہے۔ تین سالوں میں وہ سب دوست مزید اربوں کما کر بھی یہی گفتگو کرتے ہوں گے کہ ملک تباہ ہو گیا‘ رہنے کے قابل نہیں رہا۔
مکمل کالم لنک
dunya.com.pk/index.php/autho…
@DunyaNews @roznamadunya
Azmat Afroz Khan retweeted
اندازہ لگائیں
انصاف ڈاکٹرز فورم کے صدر ڈاکٹر سجاد داوڑ خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں بیک وقت ہاسپٹل ڈائریکٹر، ایسوسی ایٹ ہاسپٹل ڈائریکٹر چیئرمین پرچیز کمیٹی چیئرمین اپوائنمٹ کمیٹی اور منیجمنٹ کمیٹی ممبر جیسے پانچ اہم عہدوں کے علاوہ غیر قانونی طور پر اسسٹنٹ فروفیسر بھی تعینات ہیں۔
@ydakp_official
@ydakp1
@Cardio_Hafeez
@AsfandBhittani
Amazing!
❤️❤️❤️
Today, I want to introduce many of you to Umbreen and Arif Amin, the couple behind The 2 Magpies in Hunza.
Both spent decades working in the development sector, particularly in education and public policy. Then, at some point in their lives, they decided to follow their passion and established a beautiful place to stay in Hunza.
But The 2 Magpies is not just another hotel. It is an experience. From its woodwork, much of which Arif has done himself, to the smallest details of its interiors, food and hospitality, where Umbreen brings her own sense of aesthetics and care. You can see how much they enjoy doing things with their own hands.
They continue to support local communities, employ and train local people, and contribute to discussions on sustainable tourism and education in Gilgit Baltistan. Arif is also a passionate birdwatcher and nature photographer who has documented the birds and natural beauty of Pakistan.
What fascinates me most is how they have brought together their passions, their work and their way of life. Their love for nature, birds, people and each other is visible in almost everything they do. They take pride in hard work, whether it is a small piece of woodwork, preparing a menu or personally looking after a guest.
I have also mentioned The 2 Magpies in my novel Hold On, so visiting them again was special.
We spend so much of our lives chasing goals, managing stress and thinking about what comes next. Very few people seem to discover how to enjoy the work they do and the life they have built around it.
I think Umbreen and Arif have discovered something about that.
Azmat Afroz Khan retweeted
گورنر راج سے پہلے حکومت نے کہا آئیں مل کر بات کرتے ہیں۔اپوزیشن لیڈر اچکزائی نے انکار کر دیا کہ میں تو شہباز شریف کو وزیراعظم ہی نہیں مانتا۔ ملنے سے انکار کر دیا۔ بات چیت نہیں کی۔
دو دن کے بعد گورنر راج لگ گیا تو پرسوں اسمبلی میں وزیراعظم کو دیکھ کر کہا شہباز بھائی (جسے دو دن پہلے جعلی اور فراڈ وزیراعظم کہہ رہے تھے اچانک شہباز بھائی بن گیا) آئیں یہیں اسمبلی ہال میں کرسی ڈال کر مزاکرات کرتے ہیں۔ ادھر ہی۔ میں نے پریس گیلری سے سب کچھ دیکھا/ سنا ۔
جب گورنر راج نہیں لگا تھا اور بات چیت سے راہ نکل آتی تو اچکزائی نے نہ صرف وزیراعظم سے بات کرنے سے انکار کیا بلکہ پی ٹی آئی کی ریکوسٹ پر مزاکرات میں بھی شریک نہیں ہوئے۔ جونہی گورنر راج لگا تو فورا بات چیت کے لیے تیار ہوگئے۔ اس وقت انہیں شہباز شریف جینوئن وزیراعظم لگ رہا تھا۔
حیران ہوں اچکزائی صاحب پہلے گورنر راج لگوا کر پی ٹی آئی وزیراعلی گرفتار کرا کے chaos پیدا کرنے کے بعد پھر اس کا حل نکالنا چاہتے تھے؟ پی ٹی آئی کی حکومت ختم/گرفتاریاں ہونے کا انتظار کیا پھر ایکٹو ہوگئے۔
کیا ان کا ٹاسک پی ٹی آئی حکومت تڑوایا تھا۔۔ ایمرجنسی لگوانی تھی اس لیے چار اکتوبر تک مزاکرات بات چیت سے دور رہے حالانکہ حکومت اور پی ٹی آئی دونوں نے ریکوسٹ کی تھی۔
پی ٹی آئی نے تو ان سے فیس سیونگ مانگی کہ آپ لانگ مارچ ملتوی کرنے کا اعلان کر دیں تاکہ پی ٹی آئی ورکرز کا بوجھ ان پر نہ گرے۔۔ لیکن اچکزائی انکار کر دیا کہ نہیں اپنا فیصلہ ہے بوجھ خود اٹھائو۔ حالانکہ پی ٹی آئی ووٹوں کے بوجھ سے ہی اکیلی سیٹ والے اچکزائی اپوزیشن لیڈر بنے ہیں۔
کیا اچکزائی صاحب کو chaos اور افراتفری میں مزہ آتا ہے کہ اس سے انہیں دھواں دھار اور آگ اگلتی تقریریں کرنے کا موقع ملتا ہے، عام لوگوں کو پاکستان سے ناراض اور متنفر کرنے کا موقع ملتا ہے اور وہ سب کو اتنا رگڑتے ہیں کہ پاکستان برا لگنا شروع ہوجاتا ہے لیکن کامیاب مزاکرات، امن سکون کی صورت میں ان کی تقریر پاپولر نہیں ہوتی؟
انہیں گورنر راج سے افراتفری، گرفتاریاں ، لڑائی جھگڑے پھڈے سوٹ کرتے ہیں؟
Replying to @KlasraRauf
ہر جگہ ڈنڈی مارنا کوئی آپ سے سیکیھں
اپوزیشن لیڈر کا واضح موقف ہے کہ مل بیٹھ کر مسئلے حل کریں ، یہی موقف افغانستان میں کرزئی سے لیکر غنی تک تھا اور اسی موقف پر کھڑے ہیں
یہ انکو کیا سمجھ میں آتی جو ڈکٹیشن پر صبح وشام موقف بدلتے ہیں
Azmat Afroz Khan retweeted
جب برسوں تک پاکستانی جنرل/فوج طالبان کی سپورٹ کررہی تھی ( جو کہ غلط کر رہی تھی) تو یہ صاحب ان پر گرجتے برستے تھے۔ لمبی لمبی مذمتی تقریریں کرتے تھے اور ہم سب متاثر ہوتے تھے کہ ٹھیک بات کرتے تھے اور ان کے حلقہ بڑے فین تھے۔
اب جب سے فوج طالبان کے خلاف ہوئی ہے تو یہ اچانک جمپ لگا کر طالبان کے ترجمان بن گئے ہیں۔ اچکزائی صاحب کو افغانستان میں خواتین لڑکیوں پر تعلیم کے دروازے بند/عورتوں کو کوڑے مارنے پر کبھی کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ وہ اسے ان کا کلچر مانتے ہیں۔ کبھی مذمت نہیں کی بلکہ ان کی بہادری جرات کے قصے سنا کر ہمارے دلوں کو گرماتے ہیں۔
عمران خان سے لے کر نواز شریف/شہباز شریف،ایاز صادق کو داد دیں جنہوں نے اس ملک کا انہیں اپوزیشن لیڈر بنا دیا ہے جو ملک کی سرحدوں (ڈیورنڈ لائن) کو نہیں مانتا بلکہ اپنی فوج بنانے کا اعلان کرتا ہے۔ اس سے زیادہ جمہوریت اور بولنے کی آزادی کس ملک میں ہے۔ کیا راہول گاندھی بھارت میں کہہ سکتا ہے میں بھارت کی موجودہ سرحدوں کو نہیں مانتا یا کہے اپنی فوج بنائوں گا؟
بُری بات!
سینیٹر طلحہ محمود اور دو افراد کی مولانا سے ملاقات کا احوال بیان کروں۔۔۔؟
تقریباً چھہ سات سال پرانی بات ہے ۔۔۔
اتنی نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت۔۔۔🙏🏻
سر ایسے نہ کہیں۔ آپ لوگوں کا ایک ایک گھر پچاس پچاس کڑوڑ ہے۔ تفصیل بتاؤں؟؟
@MoulanaOfficial
NCA ….
Thursday 15 October
Today’s Daily Picture Theme is ‘Museum’ #Taxila
Share your own photo
اس لڑکے کا مجھ سمیت بے شمار لوگوں نے مزاق اُڑایا ۔۔۔ مگر آج اعتراف کرنا پڑ رہا ہے کہ یہ لڑکا عمران خان کے اُن “اربوں کھربوں” اندرون و بیرون” ملک پیروکاروں سے زیادہ دلیر ہے جو آج اپنے گھروں میں دبکے ہوئے ہیں ۔۔۔ یہ لڑکا اُن اشتُونوں کشتُونوں پشتُونوں سے بھی زیادہ دلیر ہے جن کی “دلیری” صوبائ حکومت کی چھتر چھایہ ہٹتے ہی جون جولائ کی برف کی طرح پگھل گئی۔۔یہ لڑکا اس وقت سڑک پر موجود ہے پولیس کا سامنا بھی کر رہا ہے اور ایمانداری سے اپنے جذبات بھی بیان کر رہا ہے ۔۔۔
شاباش ۔۔✌️❤️
Azmat Afroz Khan retweeted
دل خون کے آنسو رو رہا ہے ان معصوم جانوں کیلیۓ جو گئے تو تھے علم کے اولین سبق لینے لیکن وہاں سے انہیں اُن کے رب نے واپس بُلا لیا - رب سے بہتر کون جانتا ہے کہ یہ ملک اب غریبوں کے لیۓ رہ ہی کہاں گیا ہے ۔
وہ ملک جہاں حکمران ہر حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے ماتم کرتے اقربا کو کچھ لاکھ روپے دے کر سمجھتے ہوں کہ انہوں نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی، اپنا فرض نبھا دیا، کیا واقعی وہ رہنے کے قابل ہے؟
جہاں سکول کاغذوں میں چل رہے ہوں، جہاں مدرسے عصمت دری کے اڈے بن چُکے ہوں، جہاں تھانے عقوبت خانے ہوں، جہاں عدالتیں انصاف نہیں فیصلے بیچتی ہوں، جہاں ہسپتالوں میں نو مولود بچوں تک کو اغوا کر لیا جاۓ، جہاں آدھی آبادی دوسری آدھی آبادی کے خوف میں گھر سے نکلنے سے ڈرتی ہو، وہاں رہنے میں کتنے نفلوں کا ثواب ہے؟
Azmat Afroz Khan retweeted
Students from Tharparkar and Umerkot set up a Cultural stall at the University of Lahore's Mega Festival showcasing Handmade Crafts, Local Foods, Traditional clothes and Folk Music from Sindh
Sharing cultural heritage promotes Inter-Provincial Harmony and helps prevent Extremism
خان صاحب کی ان تھک محنت سے اُس کنویں سے شعور نکلنا شروع ہوگیا تھا۔۔۔
اس کنویں کی پائپ لائن پورے ملک اور بیرون ملک بھی جاتی ہے ۔۔۔✌️😎
Azmat Afroz Khan retweeted
سائیں لوگوں کو تصویریں دکھاؤ اور وہ جلسہ کردیں گے🤣
پختونخواہ میں پانی کے کنوں سے گیس نکلتی ہے، اور لوگ پائپ ڈال کر گھروں میں استعمال کرتے ہیں۔
وفاق مین چار سال اور صوبے میں 14 سال حکومت کی، اس دوران وہ گیس کے کنوں کی تصویروں والا غائب رہا🤦🏽
Azmat Afroz Khan retweeted
یہ دو معصوم بچے کس کے ہیں ؟
7 اکتوبر ، 2026 کو مل بازار ، ہربنس پورہ سے لاوارث ملے تھے
اگر آپ ان کو جانتے ہیں تو میرا پیارا کو 03090000015 پر رابطہ کریں
case ID 407957141
#MissingChild #merapyara
اگلے دن اسنے کہنا تھا کہ میں پنکھے سے لٹک کر وڈیو ریکارڈ کرواؤں گا ۔۔۔🤣🤣🤣
Azmat Afroz Khan retweeted
ذاتی طور پر پشاور کے ایسے 3 لوگو کو جانتا ہو جنہے 2013 میں لوگ خود پی ٹی آئ کے ٹکٹس کی افر کر رہے تھے کہ پی ٹی آئ کا ٹکٹ اپکا اپ پی ٹی آئ میں آجائے باقاعدہ جرگے ھوے ان پر دھمکیاں بھی ملی کہ اس طرف آجاے اگلی حکومت پی ٹی آئ کی ہے پر وہ نا مانے الیکشن لڑے اور بری طرح ہار گئے اس کے بعد وہ سائیڈ پر ہو گئے 2013 کے بعد 2018 2024 کے الیکشن میں کھڑے بھی نہیں ھوے سائیڈ پر ہو گے بلکل سیاست سے
پر آج بھی جب جنازہ شادی غمی کے موقع پر جاتے ہے وہاں کسی ایم این اے ایم پی اے وزیر کے گرد اتنے لوگ جمع نہیں ہوتے جتنے انکے گرد جمع ہو جاتے ہے سلام دوا کے لیے اور مجبورن شرم کے مارے ایم این اے ایم پی اے وزیر بھی انکے پاس سلام دوا کرنے آجاتے ہے
یہ سین اپنی آنکھوں سے کئی بار دیکھ چکا ہو
سیاست اب عزت دار بندے کی بات نہیں ہے اور اس کو گندا صرف ایک شخص نے کیا عمران خان نے
Azmat Afroz Khan retweeted
ننھی سی بچی وردہ کامران سے ملیے ۔۔!
21 فروری 2026 کو عوامی کالونی ، کراچی سے لاوارث ملی تھی
اگر آپ اس کو جانتے ہیں تو میرا پیارا کو 03090000015پر اطلاع دیں
Case ID 411010986


























