ڈیرہ retweeted
چھوٹی پیرنی کو 10 سال سزا !!
مطیع اللہ جان بےہوش !
اسد طور کی نہر میں چھلانگ !
چاچا لتاں پھڑیں !!
ڈیرہ retweeted
ڈیزل کے مدرسے میں جو لڑکا ،
ایک دفعہ داخل ہو جاتا ہے ،
وہ مرنے تک وہاں رہتا ہے ،
اگر کوئی مدرسے سے فرار ہونے کی کوشش کرے ،
تو اسے ختم کر دیا جاتا ہے !
ڈیزل کے شٹوڈینٹس کی اوسط عمر 60 سال ہے !
اب وقت آ گیا ہے ان مدرسوں کو مسمار کر کے کالج اور یونیورسٹیز بنائیں جائیں
شکریہ سر
ڈیرہ retweeted
مُحسن پاکستان
مُحسن نقوی نے آج ڈیزل کی منجی ٹھوک دی ہے !
ڈیزل ایک بیماری ہے ! اس کا علاج صرف ہمارے پاس ہے !
پاکستان ہمیشہ زندہ باد 🇵🇰❤️💋
ڈیرہ retweeted
🚨ایمان مزاری اور ہادی چھٹہ کی ہمدردی میں آنسو بہانے والے جواب دیں۔۔۔
👈کیا مہمان سری لنکن ٹیم کی سیکیورٹی توڑنا اور کارِ سرکار میں مداخلت کرنا انسانی حقوق کہلاتا ہے؟
👈ہماری سیکیورٹی فورسز نے خون دے کر ملک میں عالمی کرکٹ بحال کروائی اور اس لاڈلے جوڑے نے اپنی اوچھی حرکت سے دشمن کو موقع دینے کی کوشش کی۔۔
ڈیرہ retweeted
جے یو آئی ف" والے ہمیں خود کہتے تھے آپ خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگائیں اور جب گورنر راج لگا تو پھر "جے یو آئی ف" والے گورنر راج پر تنقید کرنا شروع ہوگئے، محسن نقوی
ڈیرہ retweeted
ان ویڈیوز کو دیکھیں اور پھر یہ پڑھیں👇
عالمی منصوبہ یہ تھا(مگر آگے حافظ آ گیا)۔۔۔کہ
عمران کے ہاتھوں پاکستان کو ڈیفالٹ کروا کر"بیل آوٹ"کے بدلے نیوکلئیر پروگرام"سرنڈر"ہو۔۔۔
پھر طالبان/بلوچ علیحدگی پسندوں سے پاکستان کے 3 حصے کروا کر"پختونستان"(بشمول گلگت بلتستان اور بلوچستان کے پشتون علاقے) فضل الرحمن کے حوالے ہو۔
(پنجابی فوج کہہ کہہ کر لسانیت سے فوج میں پھوٹ پڑے اور خانہ جنگی ہو)
بلوچستان۔۔الگ ملک بن کر"پختونستان"اور لینڈ لاکڈ افغانستان کو سمندر تک رسائی دے۔۔
سندھ کے پاس"سمندر"ہو گا
جبکہ پنجاب کے پانی کا کنٹرول "پختونستان"(افغانستان) کے پاس ہو گا۔۔لہذا
پنجاب کی زراعت کی"گچی"ہر وقت پکڑی ہوئی ہو گی۔
پنجاب اور سندھ میں مادر پدر آزاد ماحول پیدا کیا جائے گا۔
جہاں نئی طرح کا عمرانی فرقہ متعارف ہو گا جس کا"روحانی پیشوا"۔۔۔عمران نیازی ہو گا۔
یہ"ماسٹرز"کا منصوبہ تھا۔مگر
اللہ کا منصوبہ چلا اور پھر"حافظ" آوٹ آف سلیبس فرشتہ بن کر(ن لیگ کے ہاتھوں) آ گیا۔
اور ان کے سارے منصوبے خاک میں مل گئے۔
اس لیے فضل الرحمن ٹولہ اور عمران نیازی بمعہ زومبیز
"حافظ" کے اتنے خلاف ہیں۔
اسد آر چوہدری)
youtu.be/xkteEov-_gk?si…
ڈیرہ retweeted
میں حلفاً کہہ رہا ہوں کہ اگر خیبر پختونخوا کی حکومت میں انہیں حصہ دے دیا جاتا، کوئی ( روٹی ٹکر ) ان کو بھی ڈال دیتے تو مولانا کل کی تقریر نہ کرتے!"—
خواجہ محمد آصف
ڈیرہ retweeted
پچاس سال 80 لاکھ افغان مہاجرین کو پاکستان نے رکھا، مولانا فرماتے ہیں کہ پاکستانیوں قصور ابھی بھی تمھارا ہی ہے
مدارس افغانی مہاجرین سے بھرے پڑے ہیں۔
یہ صرف افغان مہاجرین کو پاکستان میں رہنے دینا چاہتے تا کہ وہ سرمایہ دیں۔
کیاابھی بھی پاکستان نے حق ادا نہیں کیا؟ اورکتنے سال رکھنا
ڈیرہ retweeted
حریم شاہ پاکستان کی وہ طوائف ہے جس نے کم سے کم 500 سے زائد سیاستدان
بیوروکریٹس , کاروباری شخصیات اور مختلف شعبوں کے امیر زادوں کو اپنے جال میں
پھنسا کر انہیں بلیک میل کر کے ان سےاربوں روپے لوٹ چکی ہے یاد رہے کہ حریم شاہ عمران خان کے دور حکومت کی پیداوار ہے
ڈیرہ retweeted
وزیراعظم شہبازشریف نے آج چک شہزاد میں جس پاک چائنہ فرینڈشپ ہاسپٹل کا افتتاح کیا ہے وہ چین نے کووڈ کے دوران پاکستان کو گفٹ کیا تھا مگر کٹوں وچھوں اور لیٹرینوں پر نمبر لکھنے والوں کے ویژن والوں نے اس کی قدر نہ کی اور سابق دور میں ہی یہ عمارت کھنڈر بن گئی۔
جی ہاں ! یہ ہسپتال 2020 میں کورونا وبا کے دوران چین کے عوام کی جانب سے پاکستان کے عوام کے لیے ایک تحفہ تھا، جو 98 کروڑ روپے کی لاگت سے صرف 40 دن میں تعمیر ہوا۔ افسوس کہ وبا کے بعد دوستی کا یہ قیمتی تحفہ اس وقت کی حکومت نے بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔ تقریباً پانچ سال تک یہ عمارت ویران رہی اور خستہ حالی کا شکار ہوتی کھنڈرات میں تبدیل ہو گئی ۔۔
اب یہ فعال ہے ۔۔۔
ڈیرہ retweeted
ڈیزل کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے !
ریاست کے اندر یہ آخری فتنہ ہے
جسے ختم کرنا بہت ضروری ہو چکا ہے !
ڈیرہ retweeted
بریکنگ نیوز !!
میاں داؤد آج منڈی بہاولدین میں
عوامی سمندر دیکھ کر ، کُتے کی موت مر چکا ہے ! صابر شاکر کا بڑا تہلکہ
ڈیرہ retweeted
وزیراعلی پنجاب کا منڈی بہاؤدین پہنچنے پر شاندار استقبال 💚🤝
کیا آپ نے کبھی کسی اور صوبہ کے وزیراعلی کا ایسا استقبال دیکھا ہے
ڈیرہ retweeted
یہ ابھی تک زندہ کیسے ہے ؟؟؟
کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے فسادی لیڈر
عمر نذیر کی جانب سے مسلح افراد کو ’’اپنے رضاکار‘‘ قرار دینا کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اگر تحریک پرامن اور صرف حقوق کے لیے ہے تو اس کے ساتھ کلاشنکوف اور دستی بموں کا کیا تعلق؟ 5 ستمبر کو باغ کی کوپرا چوکی پر حملے میں کانسٹیبل رحیم گل کی شہادت، حملہ آور سے اسلحے کی برآمدگی اور مسلح نیٹ ورک سے متعلق سامنے آنے والے دعوے معاملے کی شفاف تحقیقات کا تقاضا کرتے ہیں۔
ایک طرف 38 میں سے 37 مطالبات تسلیم کیے جانے کا دعویٰ، دوسری طرف مذاکرات سے دوری اور سڑکوں پر تصادم؛ آخر اس تضاد کی وضاحت کون کرے گا؟ مزید یہ کہ کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستگی اور آر ایس ایس کے ترجمان جریدے آرگنائزر میں عمر نذیر کی پذیرائی بھی سوالات اٹھاتی ہے کہ اس تحریک کے سیاسی بیانیے سے فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے۔
حقوق کی جدوجہد کو مسلح سرگرمیوں سے الگ رکھنا ضروری ہے۔ آزاد کشمیر کے عوام کے جائز مطالبات اپنی جگہ، لیکن بندوق، تشدد اور سکیورٹی اہلکاروں کی شہادت پر جواب دہی بھی لازم ہے۔






















