A.D retweeted
ستر کے الیکشن سے پہلے اس کی باتیں سنیں اور پھر جب الیکشن کا ریزلٹ آیا یہ مردود بھٹو نے جیتنے والے شیخ مجیب کو اقتدار دئیے جانے میں رکاوٹ بن گیا۔
سیاست میں جاگیردارانہ سسٹم کو طاقتور بنانا ہی اس مردود کی دماغی لعین سوچ کی اختراع ہے آج اس کی پارٹی میں بوے فیصد جاگیردار ہیں
A.D retweeted
میں 34 سال سے لندن میں ہوں، 11 سال سے میڈیا پر میری تحریر وتقریرحتیٰ کہ نام تک لینے پر پابندی ہے لیکن اس کے باوجود آج بھی صرف سندھ ہی میں نہیں بلکہ پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیرمیں بھی الطاف حسین کے چاہنے والے موجود ہیں..
الطاف حسین
16 اکتوبر 2026
A.D retweeted
سہیل آفریدی کہاں ہیں؟ انہیں عدالت میں پیش کیوں نہیں کیا گیا؟ پی ٹی آئی کی لیڈر شپ کہاں ہے؟
A.D retweeted
کراچی میں سندھو دیشی وکلا کی دہشت گردی بام عروج پر، اندرون سندھ سے جعلی ڈگری حاصل کر کے سندھ اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی چھتری تلے ہر طرح کے جرائم ہو رہے ہیں ، حکومت سندھ کے طاقتور حلقوں کی سر پرستی سنیں ایک نئی پیپلز امن کمیٹی کی طرز پر منشیات، جوا، اغوا اور قبضے کے کاروبار چلائے جا رہے ہیں۔
ادارے نوٹس لے کر بھی خاموش تماشائی بنے ہوے ہیں یا پھر مفلوج بیٹھے ہیں۔
@OfficialDGISPR @PakPMO @MIshaqDar50 @MohsinnaqviC42
A.D retweeted
نکتے سے میں متفق ہوں مگر میرا ایک سوال ہے۔جن جرنیلوں پر تب الزام لگا۔۔بیبی باقاعدہ وصیت کرکے گئی کے میں اگر شہید ہوئی تو ان لوگوں کو پکڑنا۔۔کیا بیبی کے خانوادے نے حکمران بنکر انہی افراد کو عزت و منصب نہیں دیا؟ وہ دو ہزار چھبیس میں بھی کچھ مختلف نہ کرتے۔ نونیوں سے شکوہ فروعی ہے۔
A.D retweeted
Replying to @OfficialMQM
@OfficialMQM کے رابط کمیٹی کے رکن عمیر خسرو بھائی کا قائد محترم جناب الطاف حسین بھائی کا پی ٹی وی کو دئیے گئے انٹرویو کے بارے میں اگہائی دے رہے 1990 میں دئیے گئیے انٹرویو نے پاکستان کے مقتدرہ حلقوں میں بے چینی پیدا کر دی تھی بغیر زمین کے مہاجر قوم کو شناخت دلوا دی تھی
A.D retweeted
پاکستان میں مارشل لائی جمہوریت نافذ ہے
—————
میں نے کل بھی یہ سوال کیاتھاکہ ملک کی فوج ہوتی ہے یا فوج کا ملک ہوتا ہے؟ اگر کسی ملک میں آمریت، بادشاہت یا مارشل لاء ہوتو وہاں ہم کہہ سکتے ہیں کہ فوج کا ملک ہے، بادشاہ کا ملک ہے، وہاں بادشاہ کی فوج کی حکمرانی چلتی ہے اور بادشاہ کی اپنی عدالت ہوتی ہے۔دنیا میں لگ بھگ 200ممالک ہیں، ماسوائے چند ممالک کے ہرملک میں جمہوری حکومتیں قائم ہیں، جہاں جمہوری حکومت ہوتی ہے وہاں جمہوریعنی عوام اپنی پسند کی جماعت کے نامزد امیدواروں کو ووٹ دیکر قومی اسمبلی اورصوبائی اسمبلی میں بھیجتے ہیں جو پارلیمنٹ ہاؤس میں ووٹ دیکر وزیراعظم، وزیراعلیٰ، اسپیکروڈپٹی اسپیکرکومنتخب کرتے ہیں۔
جب ہم اپنے ملک کی سیاسی تاریخ دیکھتے ہیں تو ہمیں صرف اورصرف دو جماعتیں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) حکومتوں میں نظرآتی ہیں، ان جماعتوں کے خاندان نسل درنسل ملک پر حکمرانی کرتے چلے آرہے ہیں ، انہیں حکومت میں لانے میں فوجی اسٹیبلشمنٹ معاون ومددگار بنتی ہے، اسٹیبلشمنٹ پہلے سے ہی طے کرلیتی ہے کہ کس جماعت کے نمائندے کو وزیراعظم بنانا ہے۔
پاکستان میں اسکندرمرزا نے آئین توڑا اور جنرل ایوب خان کو چیف آف آرمی اسٹاف بناکر ملک میں پہلا مارشل لاء نافذ لگایا، اس کےبعد جتنے بھی مارشل لا لگے انہیں سپریم کورٹ نے جائز قراردیا۔قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھاکہ پاکستان جمہوری ملک ہوگا، لیکن اگرایک جمہوری ملک میں فوجی مارشل لاء لگتے رہے تو اس ملک کوجمہوری ملک کہیں یا مارشل لائی جمہوریت کہیں یا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بجائے اسلامی فوجیائی پاکستان کہیں؟
دنیا میں کسی بھی جمہوری ملک میں مارشل لاء لگانے والے جرنیلوں پر غداری کا مقدمہ چلایا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں جتنی بھی جمہوری حکومتیں بنیں وہ جی ایچ کیو اورآبپارہ کی حمایت سے بنیں تو ان حکومتوں کو آپ نوازشریف کی مارشل لائی حکومت اورپیپلزپارٹی کی مارشل لائی حکومت کہہ سکتے ہیں۔ موجودہ حکومت میں مسلم لیگ (ن) کے پاس وزارت عظمیٰ کامنصب ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے پاس صدارت کا منصب ہے تواب یہ بھی کہا جاسکتا ہےکہ مارشل لائی وزیراعظم میاں شہباز شریف اور مارشل لائی صدر آصف علی زرداری۔ ملک میں فرسودہ جاگیردارانہ نظام قائم ہے اور سیاست میں فوجی جرنیلوں کی مداخلت کا عمل بھی جاری ہے۔
ہمیں طعنے دیئے جاتے ہیں کہ آپ جنرل پرویز مشرف کی حکومت میں شامل تھے لیکن کوئی بھی ذی شعوراس حقیقت سے انکارنہیں کرسکتا کہ پاکستان میں فرسودہ جاگیردارانہ اوروڈیرانہ نظام اور جرنیلوں کی سیاست میں مداخلت کے خلاف اگر سب سے پہلے کسی نے آواز اٹھائی ہے تو وہ الطاف حسین نے ہی اٹھائی ہے۔ میں نے فوج کی سیاست میں مداخلت پرتنقید کی تومجھ پر ملک دشمنی، فوج مخالف، دہشت گرد اورطرح طرح کے الزامات لگائے گئے، جب یہی باتیں عمران خان نے کیں تو ان پر بھی یہی الزامات لگائے گئے۔
عمران خان کوکرکٹ کے تو تمام قوانین معلوم تھے لیکن انہیں یہ نہیں معلوم تھا کہ فوج کے جرنیل دنیا کودکھانے کے لئے وزیراعظم کوسیلوٹ کرتے ہیں لیکن جب سازشوں کے ذریعے وزیراعظم کو کرسی سے اتار دیں توکیا سلوک کرتے ہیں۔جب عمران خان کومعلوم ہوا کہ ان کے خلاف سازشیں شروع کردی گئی ہیں تو انہوں نے اپنے تمام ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹرز کااجلاس بلاکران سے قرآن مجید پر حلف لیا کہ اگرانہیں غیرآئینی وغیرجمہوری طریقے سےہٹانے کی کوشش کی جائے تو آپ میں سے کوئی بے وفائی نہیں کرے گا۔ جنہوں نے حلف لیاان میں سے بہت سے تو جیل میں ہیں، کچھ ملک سے باہر اورکچھ روپوش ہیں، کچھ ساتھ چھوڑ گئے۔عمران خان نے معلوم کیاکہ آخرفوج ان کے خلاف کیوں ہوگئی ہے توانہیں بتایاگیاکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اقوام متحدہ میں اسلامو فوبیامیں کھل کرتقریر کی ہے اور فلسطین کی بات کی ہے۔ اسی طرح عمران خان نے ایک امریکی صحافی کو انٹرویو میں پاکستان میں امریکہ کوڈرون حملوں کے لئے اڈے دینے کے سوال کے جواب میں جب Absolutely not کہا توامریکہ میں زلزلہ آگیا، جس کی لہریں اسلام آباد اور راولپنڈی تک گئیں۔اس کے بعد امریکہ سے ایک سائفر آگیااورعمران خان کی حکومت ختم کردی گئی اور عمران خان کو گرفتارکرکے قید کردیاگیا۔ پی ٹی آئی نے احتجاج کیاتو26نومبر کو ان پر گولیاں چلائی گئیں اورپی ٹی آئی کے لیڈرآدھے راستے سے بھاگ گئے۔ اب جب منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں لانگ مارچ نکلا توپیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کے رہنما بشمول بلاول زرداری،سب نے دھمکیاں دیں کہ اگرلانگ مارچ ختم نہیں کیا گیا توہم گورنرراج نافذ کردیں گے اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔صوبے کی منتخب حکومت ختم کردی گئی، گورنر راج نافذ کردیاگیا، سہیل آفریدی اورخیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکرکوگرفتارکرکے غائب کردیا گیا، اگروہ گرفتارہیں توحکومت کو بتانا چاہیے کہ وہ کس تھانے یاجیل میں ہیں ۔ 1/2
A.D retweeted
In 2009, when the state chose appeasement in Swat and signed a deal with Sufi Muhammad, Altaf Hussain stood firmly against it, warning of Talibanisation. Today, as Pakistan fights extremism again, such principled anti-Taliban voices should be part of a united national front.
A.D retweeted
اس کا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں۔۔۔
کیا رفتار نے سب ویسا ہی بتانے کے بعد بتایا کے اطراف میں کونسا قبضہ گروپ موجود ہے؟
جس نے نارتھ ناظم آباد بلاک A، اس کے مقابل سڑک، بلاک S، تعلیمی اداروں پر کس کا قبضہ ہے جو پہلے موجود نہیں تھا؟
کس کی سرپرستی میں اب وہاں محفوظ منشیات فروشی ہوتی ہے؟
جو سہرا CTD کے سر باندھا جا رہا ہے وہ کس نے انجام دیکر اپنے قبثے محفوظ بنائے؟
کیا جیسمین منظور، شاہی سید نے سچ بتا دیا؟
کیا کسی نے چیک کیا ایدھی ایمبولینس سے اسلحہ کی ترسیل کس کے کہنے پر ہوتی تھیں؟
A.D retweeted
جب تک کراچی کے تھانے بکتے رہیں گے عوام کے ساتھ اس سے بدتر سلوک کرتے رہیں گے..
ماڈل کالونی تھانہ کے باہر احتجاج گھریلوں تنازعہ کی شکایت تھانہ لیکر آنے والوں پر پولیس کی بدتمیزی اور خاتون کو دھکے مارنے کا الزام عوام سراپا احتجاج..
#HaseebElahi #Karachi
A.D retweeted
کہا تھا نا چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں ☺️
یہ تحریک انتشار اپنی تمام تر قوت لگا کر الطاف بھائ پر پابندی کے حق میں مظاہرے کرتی تھی ۔۔
یوتھیوں یہ مکافات عمل ہے اس میں سود سمیت لوٹانا پڑتا ہے ۔۔۔
@PTIofficial
حالت ابھی بھی ایسے ہی ہیں کراچی میں یہ سارے کرائیمز روز ہورہے ہیں رینجرز اس کی سرپرست ہے
فرق یہ ہے اگر ناپاک رینجرز کی واپسی کی بات کی جاۓ تو یہ سارے کرائیمز میڈیا پر دکھاۓ جانا شروع ہو جاتے ہیں
ناپاک میڈیا بھی اسی غلاظت کا حصہ ہے
Replying to @Adofstone
آج کراچی سے رینجرز کی واپسی کی بات شروع کریں ٗ کل سے ہی ٰ نا معلوم ٰ افراد شہر میں اغوا ء ٗ فائرنگ کرتے نظر آجائیں گے ۔ روزانہ بوری میں بند لاشیں ملنا شروع ہو جائیں گی ۔
A.D retweeted
اکہتر کے بعد دوسرا سرنڈر ہو چکا تھا زرداری ملعون نے اپنے خسر بھٹو مردود کے نقش قدم پر چلتے ہوے اس بل پر دستخط بھی کر دئیے تگڑے لیکن مرد آہن الطاف حسین اپنی تمام تر قوت اور آواز کے ساتھ پاک فوج کے قاتلوں اور شہیدوں کے سروں سے فٹ بال کھیلنے والے دہشت گردوں کے خلاف پاکستانی فوج کا بازو بن کر ساتھ کھڑا ہو گیا۔
جس کی پاداش میں آج زرداری جیسے بزدل اور مکار لوگوں نے طالبان اور طالبان نواز ریاستی ایلیمنٹ ( جنرل فیض) کے ساتھ مل کر الطاف حسین پر غیر آئینی پابندی لگوا رکھی ہے جس کا اب ریورس ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
@AwazEHaq90 @OfficialDGISPR @PakPMO @MIshaqDar50 @MohsinnaqviC42
A.D retweeted
خیرپور یونیورسٹی سے جاری شدہ 1225 وکالت کی ڈگریوں میں سے 1184 ڈگریاں جعلی نکلیں یہ انکشاف اس قدر ہولناک ہے کہ آپ اس کا اندازاہ اس سے لگائیں کے اس کی اوسط 96 فیصد بنتی ہے۔
یعنی 100 ڈگریوں میں سے صرف 4 ڈگریاں اصلی ہیں۔
اب اگر یہی کلیہ لے کر سندھ کے دیگر تعلیمی اداروں میں چلے جائیں تو آپ کو اس کی ہولناکی کا اندازاہ لگانا چنداں مشکل نا ہو گا دیگر تعلیمی اداروں میں شائننگ تھر کا میرپورخاص بورڈ، سکھر آئی بی اے ٹیسٹنگ، سندھ یونیورسٹی وغیرہ سب شامل ہیں۔
@OfficialDGISPR @PakPMO @MIshaqDar50 @Dr_KMSOfficial
A.D retweeted
ایم کیو ایم کا یہ اقدام پاکستان سیاسی تاریخ میں ایک منفرد اور انقلابی مثال ہے کہ جماعت نے اپنے ارکانِ اسمبلی کو منتخب کروانے کے لیے انتخابی اخراجات خود برداشت کیے، ارکان پر مالی بوجھ نہیں ڈالا۔ یہ فیصلہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک انقلابی قدم تھا،
A.D retweeted
📌 اگر آپ کی نظر میں کوئی مجرم ہے بھی تو دنیا کے کس قانون میں لکھا ہے کہ آپ اُس کے معصوم بہن، بھائیوں یا والدین کو اٹھا کر جیل میں ڈال دیں یا پھرقتل کروادیں؟
📌نیوٹرل ججز پر مشتمل ایک انٹرنیشنل کمیشن بنا دیجیے۔میں اُس کمیشن کے سامنے پیش ہونے کو تیار ہوں۔اگر مجرم ثابت ہوجاؤں تو سزا دیجیے۔
📌اور اگر مجرم ثابت نہ ہوں تو جنہوں نےایم کیو ایم پر مختلف الزامات لگا کر ہزاروں مہاجر نوجوانوں کو ماوارئے عدالت قتل کیا ہے،اُنہیں”وار کرمنلز “ ڈیکلیئر کرکے اُن سب کو پھر پھانسی پر چڑھایا جائے۔!!
بانی و قائدِتحریک جناب الطاف حسین
🟥🟩⬜🇧🇬
محد سے لحد تک
قائد صرف الطاف
@AltafHussain_90
@OfficialMQM
A.D retweeted
مطالعہ پاکستان اورپاکستان کی اصل تاریخ
(الطاف حسین)
—————-
پاکستان کے عوام کو اب تک مطالعہ پاکستان کے ذریعے جوتاریخ پڑھائی گئی ہے وہ حقائق پر مبنی نہیں ہے۔
کیاپاکستان اسلام کے لئے بناتھا؟
———
پاکستان کے طلبہ کوآج تک یہ پڑھایاجاتا ہےکہ پاکستان اسلام کےلئے بناتھا، اگر واقعی ایسا تھا توکیا قیام پاکستان سے قبل ہندوستان میں آبادمسلمان کافرتھے؟ یا جو کروڑوں مسلمان آج بھی ہندوستان میں رہتے ہیں، کیا وہ مسلمان نہیں ہیں؟
برصغیرپر سلطنت برطانیہ کاقبضہ:
—————
ہمیں اصل تاریخ کوجاننےکےلئے مطالعہ کرناچاہیے۔برصغیرکی تاریخ یہ ہے کہ سلطنت برطانیہ نے دنیامیں مختلف ممالک کواپنی کالونی بنایا تھا وہاں کی قوموں کی تاریخ، ان کی ثقافت، تہذیب، مذہب، روایات اوراقدارکابھی تجزیہ کیا اوران کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاکر اور اپنی طاقت کے ذریعے انہیں اپنا غلام بنایا۔ انگریزوں نے برصغیرپرقبضہ کرنے کے لئے پہلے ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج بنائی،وہاں کی ریاستوں پر قبضہ کیا اس کےلئے انگریزوں نے نوابوں اورراجاؤں کے قریبی لوگوں کوبھی خریدا،جنہوں نے مزاحمت کی، انہیں طاقت کےذریعے شکست دی، جن نوابین اور راجاؤں نے سلطنت برطانیہ کی اطاعت قبول کرلی انہیں جاگیریں عطا کیں،ان کواپنی ریاستوں پرحکمرانی کی اجازت دی،ان سےکہا کہ وہ سلطنت برطانیہ کے وفاداربن کررہیں،انگریزوں نے تمام وارلارڈز سے دوستیاں کیں، انہیں اپنے قریب کیا۔ہندوستان کےلوگوں کواپنی فوج میں بھرتی کیا، آہستہ آہستہ انگریز ہندوستان کے علاقوں پر قبضے کرتے رہے۔ اس وقت ہندوستان پر آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی حکمرانی تھی۔انگریزوں کے قبضے کےخلاف 1857ء میں جنگ آزادی ہوئی جس میں ہندوؤں، مسلمانوں، سکھوں اوردیگر مذاہب کے ماننے والے ہندوستانیوں نے حصہ لیا۔
1857کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد ہندوستان پر انگریزوں کامکمل قبضہ ہوگیا۔انگریزوں نے ہندوستان پرقبضہ کے لئے اپنی فوج میں ہندوستان کے لوگوں کوبڑی تعدادمیں بھرتی کیا،ان میں سب سے بڑی تعداد موجودہ پاکستان کے صوبہ پنجاب سے تھی۔جہاں کے جاگیرداروں، وڈیروں اورمزارات کےگدی نشینوں نے انگریزوں کی فوجوں میں اپنے علاقوں کے لوگوں کوبھیجاجس کےانعام میں انہیں جاگیریں عطاکی گئیں اور”سر“ کے خطابات دیےگئے۔جن میں سندھ کے وڈیرے اورذوالفقارعلی بھٹوکےوالد شاہنواز بھٹوبھی شامل ہیں جنہیں انگریزوں سے وفاداری اورخدمت کے صلے میں جاگیریں اورسر کاخطاب ملا۔
انگریزوں کے منصوبے کے تحت 1906ء میں آل انڈیامسلم لیگ بنائی گئی، اس کے بنانے والوں میں تمام کےتمام نوابین شامل تھے۔انگریزوں نے برصغیرپراپنے قبضے کو جاری رکھنے کےلئے ہندوستان کے عوام کو تقسیم کرنے کےلئے مذہب کا ہتھیار استعمال کیا،مسلمانوں کو تقسیم کرنے کے لئے انہیں مسلک کی بنیادپرآپس میں تقسیم کیا گیا،اس مقصد کےلئے دیوبند اوربریلوی مسلک کے مدرسے قائم کئے گئے۔
انگریزہندوستان سے جانا نہیں چاہتے تھے لیکن جنگ عظیم اول(1914-1919) اور جنگ عظیم دوم (1939-1945) کے بعد انگریزوں کی حالت بہت نازک ہوگئی تھی اورانہیں اپنی کالونیوں پرقبضہ برقرار رکھنا مشکل ہوگیا تھا لہٰذا انہوں نے جن جن کالونیوں پر سے قبضےختم کئے وہاں کے ٹکڑے کئے، انگریزوں نے ہندوستان پرقبضہ ختم کرتے ہوئے یہ منصوبہ بنایا کہ اس خطے میں ایک ایسا ٹکڑاہوناچاہیے جس کے ذریعے وہ خطے میں اپنااثرورسوخ برقراررکھ سکیں اوراپنے مفادات کاتحفظ کرسکیں۔
قائداعظم جوایک بڑے تاجرکے بیٹے تھے جنہوں نے برطانیہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی اوروہ انگریزوں کے قریب تھے۔ وہ پہلے آل انڈین نیشنل کانگریس میں شامل تھے لیکن کچھ سال بعدوہ آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔ ہندوستان کی تقسیم کے مقصد کے لئے دوقومی نظریہ پیش کیا گیا کہ ہندواورمسلمان الگ الگ ہیں اوراب وہ ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن ہونا چاہیے جہاں وہ آزادی کے ساتھ زندگی گزارسکیں۔سازش کے تحت ہندو مسلم فسادات کرائے گئے۔ قائداعظم کو استعمال کیاگیا اورکہاگیا کہ وہ مسلمانوں کی قیادت کریں۔
کیا علامہ اقبال نے پاکستان کاخواب دیکھا؟
———
قوم کویہ بتایاجاتاہے کہ علامہ اقبال نے پاکستان کاخواب دیکھاتھا، اس کے لئے علامہ اقبال کے 1930ء کےخطبہ الہ آباد کا حوالہ دیا جاتا ہےجبکہ علامہ اقبال نے خطبہ الہ آباد میں پاکستان کے بجائے ہندوستان کے وفاق کےجغرافیہ میں رہتے ہوئے مسلم اکثریتی علاقوں پرمشتمل ریاستوں کی خودمختاری کی بات کی تھی۔ جب بعض لوگوں نے اسے پاکستان اسکیم قرار دیا توعلامہ اقبال نے اپنے خطوط کے ذریعے اس بات کی سختی سے تردید کی۔ علامہ اقبال کے صاحبزادے جسٹس جاوید اقبال نے بھی اپنے انٹرویوز میں کئی بار واضح الفاظ میں کہاکہ علامہ اقبال نے پاکستان کی کوئی تجویزپیش نہیں کی تھی اورنہ ہی علامہ اقبال نے پاکستان کا خواب دیکھا تھا۔
1/2





















