Abdullah Choudhry retweeted
بریکنگ نیوز🚨
برطانوی صحافی یلدا حکیم نے عمران خان پر قیدِ تنہائی میں ہونے والے مظالم پر پورے دنیا کے سامنے آواز اٹھا دی۔
خان پر ہونے والے مظالم پاکستانی اسٹبلیشمنٹ کروا رہی ہے۔یہ اب انٹرنیشنل مسئلہ بن چکا ہے
Abdullah Choudhry retweeted
دہشت گردی خیبرپختونخوا پر مسلط کی گئی ہے۔ وفاق کی ناکام پالیسیز سے ہمیشہ خیبرپختونخواہ گولہ بارود اور آگ کے لپیٹ میں رہی ہے۔ ملٹری آپریشن اور ڈرون حملوں سے میرے صوبے کے معصوم لوگ شہید ہوتے ہیں جس کو کولیٹرل ڈیمج کا نام دے دیا جاتا ہے اور ایک سوری سے بات ختم کردی جاتی ہے۔ پالیسی یہاں صرف عمران خان کی چلے گی۔ اُسی پالیسی میں ملک اور قوم کی بھلائی ہے۔
Abdullah Choudhry retweeted
Today, my aunt, Aleema Khan, has been abducted by police in Lahore. Our family has been told nothing about where she has been taken. Her family and lawyers cannot reach her.
This is the behaviour of a fascist government - abducting people, terrorising families and trampling human rights, due process and the rule of law while pretending to stand for democracy.
First they imprisoned my father. Now they are coming after his family.
We demand immediate access to her for her family and lawyers, full disclosure of where she is being held, and her immediate release.
The world cannot keep looking away from what is happening in Pakistan.
Abdullah Choudhry retweeted
My mother, Aleema Khan, was abducted after leaving home this morning. Our family has had no contact or news of her whereabouts. She is on bail in all cases against her in Lahore. We demand the government immediately disclose her whereabouts and ensure her safe return.
@Aleema_KhanPK
Abdullah Choudhry retweeted
Cricket legend Imran Khan is rotting to death in a tiny jail cell in Pakistan. It's time Britain used its influence to help free him
mol.im/a/16142731
Abdullah Choudhry retweeted
Replying to @KhawajaMAsif
The Defence Minister is right. It’s why I have never been considered Jewish by the Jewish community. My mother was a Church of England Protestant. And by this logic, my father was not Jewish either. His mother was a French Catholic. As ever, in attempting to undermine my sons, Pakistan’s Defence Minister has scored an embarrassing own goal.
Abdullah Choudhry retweeted
Former Prime Minister Imran Khan in conversation at Adiala Jail - 24 July 2025
Note: This is a repost of the tweet from 24th July 2025
“We have knocked on every door, but no one has listened. I had asked for dialogue only once, and that too was conditional upon commissions to investigate the events of November 26th (2024) and May 9th (2023) being formed. It was Asim Munir who ordered the shooting of unarmed civilians on November 26th. I reiterate there is no longer any room for dialogue because this group has completely hijacked the entire system.
I have instructed Barrister Gohar, Salman Akram Raja, Ali Amin Gandapur, and Junaid Akbar to ensure the protest movement runs with full force. The objective of this movement must be the restoration of justice, the supremacy of law, and the protection of the Constitution. If we fail to raise our voices in the streets, this group of oppressors will gradually finish off our parliamentary party as well. I am standing firm; all of you must also stand firm.
Eighty percent of the people of Pakistan stand with me and we are entitled to fight for our rights. I am aware that 90% of the electoral fraud took place between polling and the compilation of results. I campaigned for the implementation of Electronic Voting Machines (EVMs) for two years. If EVMs had been used on February 8th (2024), the game would have ended there and then. I still say today: if transparent elections are desired, EVMs must be introduced, and rigging will end once and for all.”
Abdullah Choudhry retweeted
ایک دفعہ کا زکر ہے، تب کا جب بادشاہ بھلے ظالم ہوں کم از کم خود کو عقلِ کل نہیں سمجھتے تھے، ایک بادشاہ نے اپنے عہد کے ایک ذی عقل سے سوال کیا کہ مجھے طویل مدت تک اقتدار کا گُر بتائیں۔
عقل والے نے کہا لوگوں کے دلوں میں اپنی محبت جگاؤ۔ بادشاہ نے کہا لوگ تو مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔
کہا پھر اپنا خوف پھیلاؤ۔ کہا اتنے عرصے سے اسی کی بنیاد پر تو حکومت کررہا ہوں، اب مگر لوگوں نے ڈرنا چھوڑ دیا ہے۔
کہا گر لوگ ڈر نہیں رہے، تو اقتدار کو بھول جاؤ، اپنا سر بچاؤ۔
۲۰۰۹ کے سوات آپریشن کے وقت کراچی سے چند متاثرین آپریشن کو رینجرز نے ناکے پر سے اٹھایا اور انہیں لاپتہ کردیا گیا۔ سپریم کورٹ میں ان کی برآمدگی کی اپیل ہوئی وہاں سے آرڈر بھی جاری ہوا۔ درگئی فورٹ میں ان کی موجودگی کی تصدیق بھی ہوگئی۔ کچھ عرصہ بعد سوات اور دیر کی سرحد پر فوج اور طالبان کی جھڑپ ہوئ، ہلاک ہونے والے افراد لی فہرست میں وہ افراد بھی تھے جو پہلے ہی فوجی تحویل میں تھے، یہاں تک کہ ان کے حوالے سے سپریم کورٹ کا حکم بھی موجود تھا۔ بلوچستان کی سڑکوں پر پڑی مسخ شدہ لاشیں دیکھیں تو اس واقعہ کی یاد آگئی، عمران خان صاحب نے اس وقت کے آرمی چیف کو ان لوگوں کے حوالے سے خط بھی لکھا تھا۔
سالوں کی غلط پالیسیوں کے باعث بلوچستان میں حالات کو اس نہج پر لے آیا گیا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر درجنوں کے حساب سے فوجی جوانوں کے جنازے اٹھ رہے ہیں اور جوابی سٹریٹجی اور مورال بلند رکھنے کے لیے ان قبیح حرکات کا سہارہ لیا جارہا ہے۔ اب نیا پلان یہ ہے کہ پرائیوٹ ملیشیا بنایا جائے گا۔ فوج سڑکوں سے لے کر مائننگ تک کے ٹھیکے لے گی، اور سیکیوریٹی کا کام پرائیوٹ ملیشیا کو سونپ دیا جائیگا۔
خیبر پختونخواہ میں بُھجی ہوئ آگ کو ایندھن برآمد کر کر کے بھڑکایا گیا۔ ہم چیختے رہے، دہائیاں دیتے رہے ہمیں غدار، ملک دشمن، پراپگنڈسٹ قرار دیے دیا۔ اب امن کمیٹیز کے بعد عوام پر مسلح لشکر بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ کل کو پالیسی بدل جائے گی تو اس لشکر کو فتنتہ ال فلاں نام دے کر ایک اور لشکر کشی کا جواز تراشا جائیگا۔ جیسے کل تک کشمیری مجاہد مُحبِ وطن تھے آج آئین و قانون کے دائرے میں اپنا جائز حق مانگ رہے ہیں تو ہندوستانی ایجنٹ ہیں۔ ان پر ایمپورٹڈ حکومت مسلط کرو انہیں گولیوں سے بھون دو۔
نہروں سے لیکر صوبوں تک کے منصوبوں پر سندھ کی نبض بھی آپ دیکھ چکے ہیں۔ “مرسوں مرسوں سندھ نا دیسوں” کا نعرہ لگانے والا خود مرے گا تو اکیلے تو نہیں مرے گا ناں۔۔
پہلے بھی نہیں مرا تھا۔۔
باقی بچا پنجاب تو گذشتہ چار سال کا جبر ایک جانب اور اس ایک ہفتے کا پاور پلے دوسری جانب۔ کون کون سی بے شرمی کی حدیں نہیں پاٹی گئیں۔ انتظامیہ سے لے کر قانون نافذ کرنے والے اداروں تک کے (بلاتفریق مرد و زن) افسران کی جانب سے جس درجے کی سفاکیت کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ کھولتے تیل میں گر کر جھلس کر مرنے والے شہید کارکن، بے عزتی کی تاب نہ لا کر دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہونے والے شہید عہدیدار، زمیں پر پڑی بزرگ پردہ دار ماں، اپنا ٹوٹا لُٹا پھٹا گھر دکھاتی ہوئی معصوم بچی۔ چہرے پہ کالا کپڑا ڈلا، ہتکھڑیوں میں بندھے ہاتھوں میں اپنی شناختی تختی لیے صحافی، کانپتے حرفوں میں اپنی لُٹی جمع پونجھی کی دہائی دیتا محنت کش مزدور حسنین جس کا جرم دوسرے صوبے سے آئے مہمان وزیراعلی کی مہمان داری کرنا تھا۔ لاہور سے لے کر راولپنڈی کی سڑکوں پر پٹتے نوجوان۔۔ بلوچستان کے لوگوں کے ہاتھوں میں بندوقیں آپ کی نفرت نے تھمائیں۔ پختونخواہ کے لوگوں کو آپ اپنی غلط پالیسی کا کفارہ ادا کرنے کے لیے بندوق اٹھانے پر اکسا رہے ہو۔ کشمیر میں نفرت کی کھیتی بو دی ہے، تو کاٹنی بھی پڑیگی۔ سندھ بھرا بیٹھا ہے۔ کل اسی پنجاب کی ایک ماں کہ جن کے خون کا ایندھن بھر کر جہاز اڑا رہے ہو تاکہ اپنے بچوں کی خوشیاں ہیروں میں لدھ سکو، اسی پنجاب کی ایک ماں نے غربت سے تنگ آکر اپنے بچوں کی گردنوں پر چھری پھیر دی۔ وہ ہاتھ جو پہلے ہی اپنی اولاد کی گردن پا چھری رکھ چکا ہو وہ آپ کی اولاد کی گردن پر ڈلتے کتنا ہی کوئی جھجھکے گا؟ اور آپ کے گریباں سے کتنا ہی عرصہ دور ہوگا؟ سیانے کہہ گئے ہیں جبر کی معیاد پوری ہوجائے تو اپنا سر بچانے کا سوچنا چاہئے کیونکہ اقتدار تو اب بچنا نہیں۔
Abdullah Choudhry retweeted
آئینِ پاکستان کو محض کاغذ کا ٹکڑا نہیں، بلکہ ایک مضبوط ریاست، قومی یکجہتی، انصاف، قانون کی حکمرانی اور تمام شہریوں کے مساوی حقوق کی ضمانت سمجھا جانا چاہیے۔ اگر آئین پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے تو یہ ملک اور تمام شہریوں کے مفاد میں ہوگا۔
جہاں تک لانگ مارچ اور پُرامن احتجاج کا تعلق ہے، شہریوں کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے جائز مطالبات کے لیے آواز اٹھانے کا حق حاصل ہے۔ عمران خان صاحب کی حقیقی آزادی کے خواب کے مطابق ہماری جدوجہد کسی عہدے یا کرسی کے لیے نہیں، بلکہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور انصاف کے حصول کے لیے ہے۔
ہم تشدد یا قانون شکنی کے حامی نہیں۔ ہمارا مطالبہ صرف یہ ہے کہ عدالتیں اور متعلقہ ادارے آئین و قانون کے مطابق غیر جانب دارانہ اور منصفانہ فیصلہ کریں۔ جب تک ہمارے جائز مطالبات پر قانون کے مطابق انصاف نہیں ہوتا، ہم اپنے پُرامن اور آئینی حقِ احتجاج سے دستبردار نہیں ہوں گے۔
27 ستمبر انشاء اللّٰہ ✌🏻
Abdullah Choudhry retweeted
شیر افضل صاحب صرف اتنا بتا دیں کہ “وہ کون تھے” جنہوں نے اس پٹیشن کی پلاننگ کروائی؟ آپ کہاں بیٹھے تھے اور اس وقت ساتھ کون کون بیٹھا ہوا تھا؟
اگر آپ اتنا ہی سچ بول دیں تو عمران خان کے ووٹرز کو پتہ چل جائے گا کہ اس سب کے پیچھے “وہ کون تھے”؟
ویسے یہ پٹیشن کروانے والوں نے آپ کو یہ نہیں بتایا تھا کہ آپ لوگ تو خود اسمبلی اور عہدوں میں عمران خان کے دئیے ہوئے ٹکٹ کی بدولت پہنچے ہیں جسے اب آپ سزا یافتہ اور نااہل قرار دے رہے ہیں؟
پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکنوں اور عمران خان کے تمام چاہنے والوں کے لیے میرا واضح اور حتمی مؤقف:
میں نے تقریباً چھ ماہ قبل سہیل آفریدی صاحب کے بطور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا انتخاب اور حلف برداری کے معاملے کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ میری آئینی درخواست اب 14 ستمبر 2026 کو سماعت کے لیے مقرر ہے۔ چونکہ سہیل آفریدی صاحب نے 27 ستمبر کے ملک گیر احتجاج اور لانگ مارچ کی قیادت کرنے کا اعلان کیا ہے، اس لیے میں معزز عدالت سے مختصر التوا کی درخواست کر رہا ہوں۔
درخواست میں بنیادی وجوہات یہ بیان کی گئی ہیں:
1۔ میری آئینی درخواست مارچ کے اعلان سے تقریباً چھ ماہ پہلے دائر ہوئی تھی؛ تاہم اب ایسے غیر معمولی سیاسی حالات پیدا ہوچکے ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
2۔ میں سپریم کورٹ کا وکیل اور منتخب رکنِ قومی اسمبلی ہونے کی حیثیت سے اس امر کا خاص طور پر پابند ہوں کہ عدالتی کارروائی کو کسی سیاسی مقابلے میں فائدہ حاصل کرنے کے لیے استعمال نہ کیا جائے اور نہ ہی ایسا کوئی تاثر پیدا ہونے دیا جائے۔
3۔ اگر 27 ستمبر سے فوراً پہلے اس مقدمے کی سماعت ہوتی ہے اور کوئی نتیجہ خیز حکم صادر ہوتا ہے تو یہ غیرمطلوب تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ عدالتی کارروائی سہیل آفریدی صاحب کی مارچ میں شرکت یا قیادت کو متاثر، محدود یا نقصان پہنچانے کے لیے آگے بڑھائی گئی۔
4۔ میرے اور فریقِ مخالف کے مابین قانونی یا سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن میں نہیں چاہتا کہ مارچ کی کامیابی یا ناکامی کو میرے حاصل کردہ کسی عدالتی حکم سے منسوب کیا جائے۔
5۔ عدالتی کارروائی کو سیاسی سرگرمی کے اثرات اور تنازعات سے مکمل طور پر الگ رکھنا، عدالت کے وقار، غیرجانب داری اور منصفانہ نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد کے لیے ضروری ہے۔
6۔ اسی لیے میں 27 ستمبر سے پہلے نہ اپنی درخواست کی سماعت پر اصرار کروں گا اور نہ کسی عبوری یا فوری ریلیف کی استدعا کروں گا۔ میری گزارش صرف یہ ہے کہ مقدمہ 27 ستمبر کے بعد کسی مناسب تاریخ پر مقرر کردیا جائے۔
یہ درخواست میں 14 ستمبر کو معزز وفاقی آئینی عدالت کے روبرو پیش کروں گا۔ اسے منظور یا مسترد کرنا مکمل طور پر معزز عدالت کا اختیار ہے اور عدالت کا ہر حکم میرے لیے واجب الاحترام ہوگا۔
میں تحریکِ انصاف کے کارکنوں اور عمران خان کے چاہنے والوں پر واضح کردینا چاہتا ہوں کہ مارچ کی کامیابی یا ناکامی کے لیے کسی مرحلے پر یہ عذر پیش نہ کیا جائے کہ میری قانونی کارروائی 27 ستمبر کے مارچ میں کسی خلل یا رکاوٹ کا سبب بنی۔ اگر اس سیاسی سرگرمی سے عمران خان کو کوئی سیاسی فائدہ پہنچ سکتا ہے تو میں اپنے قانونی، ذاتی یا سیاسی اختلافات کی خاطر اسے داؤ پر نہیں لگاؤں گا۔
میں نے اس موقع پر اپنے مقدمے کی فوری سماعت پر اصرار نہ کرکے مارچ کے منتظمین کے لیے میدان کھلا چھوڑ دیا ہے۔ اب یہ مارچ کر پاتے ہیں یا نہیں کر پاتے، اس کی حقیقت قوم کے سامنے آجائے گی۔
یہی میرا واضح، دوٹوک اور حتمی مؤقف ہے؛ اسے ہی میرا مستند بیان سمجھا جائے۔
Abdullah Choudhry retweeted
🔴 #BREAKING Shameful to see Harvard Biz School @HarvardHBS students hobnobbing with Pakistan's de facto dictator, a human rights abuser involved in atrocities & war crimes against the #Baloch, the #Afghans & others. To b part of such @OfficialDGISPR propaganda is deplorable! 🤮
Abdullah Choudhry retweeted
Prime Minister @andyburnham and Foreign Secretary @Ed_Miliband : how much longer will Britain remain silent?
For three years the father of my two sons, and Pakistan’s former Prime Minister, Imran Khan, has been brutally penalised by his political opponents, in a personal vendetta by Army Chief, Asim Munir, which according to the UN, amounts to torture and which is now taking a potentially fatal toll on his physical and mental health.
He has endured 3 years of solitary confinement. For nearly ten months now his family has been denied contact with him. He has been deprived of the most basic human contact, denied access to books, lawyers and doctors.
The international human-rights standards are unequivocal. Under the UN’s Nelson Mandela Rules, solitary confinement lasting more than 15 consecutive days is prohibited and amounts to torture.
He has endured this treatment not for 15 days, but for three years.
Pakistan’s own Supreme Court has now intervened: ordering comprehensive medical treatment, access to his personal doctor, regular family visits and twice-weekly calls with his sons.
Yet those orders are being defied.
This is no longer simply a Pakistani political matter. It is a human-rights emergency.
He has deep and lifelong ties to Britain. He studied at Oxford University, captained Oxford University cricket and spent years playing county cricket in England. His relationship with this country stretches back more than half a century. His charitable activities were internationally recognised, and include building the only free cancer hospital in Pakistan as well as a university.
His sons, my two boys, Sulaiman and Kasim, are British citizens. They have been forced to watch their father’s health decline from thousands of miles away, prevented from visiting him, denied visas, publicly threatened by government officials with arrest themselves, and even denied court-mandated regular phone calls.
I have repeatedly appealed to the UK government to intervene. Purported attempts at back channelling have evidently failed. The previous Foreign Secretary @DavidLammy informed me in writing that Britain would not intervene if my sons, British citizens, are arrested when they travel to Pakistan to visit their father.
@FCDOGovUK: Britain must now speak out publicly and unequivocally. Demand that Pakistan comply with its own Supreme Court; restore Imran Khan’s medical access, his right to see his family, end his prolonged isolation and uphold his fundamental human rights.
Pakistan is a Commonwealth country. Britain has a long and proud tradition of standing against arbitrary detention, inhumane treatment and the denial of fundamental rights. Those principles mean very little if we invoke them only selectively and neglect them when inconvenient.
This an appeal to the new Burnham government to please now do the right thing.
Abdullah Choudhry retweeted
محسن نقوی کہتا ہے سسٹم ناکام ہو چکا ہے جبکہ مرد مجاہد نے تین سال پہلے کہا تھا۔ جیل میں تو میں چلا جاؤں گا لیکن کیا یہ پاکستان کی معیشت کے حالات کو برداشت کر لیں گے۔
یہ ویڈیو آج ہر کسی کے ٹائم لائن پر ہونی چاہیئے 🔥
Abdullah Choudhry retweeted
“2021 میں اس وقت کی فوجی قیادت نے ہتھیار پھینکنے والے دہشتگردوں کو واپس بسانے کا منصوبہ پیش کیا تھا، مگر اس منصوبے کو خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کے ہمارے منتخب نمائندوں نے مسترد کر دیا تھا- اس منصوبے پر ہمارے دور میں عمل نہیں ہوا۔
لیکن اب حقائق کے برعکس تحریک انصاف کی حکومت پر یہ سراسر جھوٹا الزام لگایا جا رہا ہے کہ ملک میں دہشتگردی اس دور میں بسائے گئے دہشتگردوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ قوم کو بتایا جائے کہ کون سے دہشتگرد کب، کہاں اور کیسے بسائے گئے؟”
ناحق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کا جیل سے پیغام
(9 اکتوبر، 2025)
Abdullah Choudhry retweeted
اگرچہ چند حلقوں کو اس تحریر کی طوالت سے تکلیف ہوگی مگر چونکہ ایک لایعنی بحث چھڑ ہی گئی ہے تو اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چند حقائق سامنے لے آؤں۔ آپ کو پڑھنے میں دقت پیش آتی ہے تو معذرت کے ساتھ میں اپنے کارکنان سے مخاطب ہوں، آپ آگے گزر سکتے ہیں ۔
۲۰۱۸ انتخابی مہم کا آغاز عمران خان نے سوات سے کیا اور کل جہاں ہیلی کاپٹر لینڈ ہوا اسی جگہ میرے گاؤں عمران خان کا ہیلی کاپٹر لینڈ ہوا تھا۔ خان صاحب نے جگہ کی تعریف کی، میں نے بتایا یہاں سوات آپریشن کے دور سے فوج قابض ہے انشاءاللہ اب آپ وزیراعظم ہوں گے تو یہ قبضہ چھڑوانا ہے، ایک بوڑھی خاتون جن کے پانچ بچوں کو دس سال سے فوج اٹھا کر لے گئی تھی اور جو کئی مہینوں سے میرے پاس آرہی تھے ان کی درخواست بھی تھما دی۔ جلسے میں خان صاحب سے یہ بھی گزارش کی کہ پچھلے مہینےایک نوٹیفیکشن کے زریعے فاٹا اور پاٹا پر ٹیکس لاگو کیا گیا ہے آج ہم سے اسے ختم کرنے کا وعدہ کریں۔
عمران خان کی حکومت بنی، بطور رُکن کابینہ پہلی میٹنگ میں یاد دلایا کسٹم ایکٹ تو اسی دن ختم ہوگیا لیکن فوج سے زمین خالی کرانے اور بوڑھی ماں کے بچوں کو بازیاب کرانے کی جدوجہد جاری رہی۔
جب وزیراعظم سے حیلے بہانے کیے گئے تو میں نے اپنے حلقے کے لیے نئے منظور شدہ دو منصوبوں؛ یونیورسٹی اور ہسپتال کے لیے اسی جگہ کا انتخاب کیا۔ فوج نے ہماری ہی حکومت میں ہمیں دھمکیاں لگائیں، ہر ممکن کوشش کی لیکن ہم نے افتتاح کی تاریخ دے دی۔ نتیجتاً سول سوسائٹی کو ڈھال بنا کر عدالت سے رجوع کیا گیا۔ کیس لگنے سے قبل ہم نے اصل سول سوسائٹی کے مظاہرے کروا کر مطالبہ کیا کہ عوام کی جگہ خالی کرائیں اور یہ غیر قانونی قبضہ چھڑوائیں۔
فوج نے ہماری ہی حکومت میں مجھے غدار بنا کر پیش کرتے ہوئے وزیراعظم تک شکایت لگائی۔ خان صاحب نے بلایا نئے تنازعے کی وجہ پوچھی، انہیں یاد دلایا کہ یہ وہی جگہ ہے۔ خان صاحب نے ایم ایس کو بلا کر کہا کہ ان کو پیغام دو کہ یہ تو قبضہ چھڑوا رہا ہے اور آپ میرے پاس آکر کہتے ہیں کہ قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ خان صاحب نے پوچھا عوام کی زمین تو چھڑوا لیں گے یہ منصوبے کہیں اور نہیں لے جاسکتے تاکہ تاخیر کا شکار نہ ہوں؟ میں نے کہا سر اتنے عرصے میں میں فوج کا قبضہ نہیں چھڑوا سکا یہ منصوبے اتنے بڑے ہیں کہ عوام خود قبضہ چھڑوا لے گی، لیٹ می ہینڈل دس۔ خان صاحب نے کہا پہلے ہی سستی سڑکوں اور احتساب کے عمل پر حالات ٹھیک نہیں، شہزاد اکبر کو کہا ہے کہ وہ آپ کے بھیجے کیسسز پرسیو کرے لیکن ”چوز یور بیٹلز کیرفلی، یو ہیو مینی فائٹس“۔
بلآخر ہم تمام کیسز جیت گئے اور افتتاح کااعلان ہوا۔ ڈی جی سی نے پیغام دیا کہ کرسکتے ہو تو کرلو یہ افتتاح تب افتتاح سے قبل اسی جگہ عوام کو مجتمع کیا۔ منصوبہ روکنا ممکن نہیں تھا تو نیا پینترہ اختیار کیا گیا، ایف ڈبلیو او نے بغیر ٹینڈر کے منصوبے کا ٹھیکہ اٹھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ کور کمانڈر سے لے کر اعلی حکام تک نے سی ایم اور متعلقہ محکموں سے رابطے کیے، مجھ سے ڈی جی ایف ڈبلیو او نے ملاقات کا وقت مانگا۔ ملے تو کہنے لگے مبارک ہو بہت بڑے منصوبے ہیں ”مل کر اچھا سا پی سی ون بناتے ہیں اور بسم اللہ کرتے ہیں“۔ میں نے جواب دیا پی سی ون سے آپ کا یا میرا کیا لینا دینا؟ متعلقہ محکمے ہیں، افسران ہیں، پھر پلاننگ ہے، پی ڈی ڈبلیو پی ہے، پھر اشتہار، ٹینڈر، بڈنگ کا پراسس۔۔ کہنے لگا نہیں معیاری اور جلدی کام کے لیے ضروری ہے کہ ہم بیٹھ جائیں۔ ہم نے ان کی آفر مسترد کر دی اور بڈنگ کے بعد ۲۰۲۱ میں منصوبے کا آغاز ہوا۔کل اس منصوبے کا افتتاح ہوا۔ جو کہ ایک لمبی جدوجہد کی تاریخ رکھتی ہے۔
بات چھڑی تھی تختیوں سے، تختیاں اتارنے اور تختیوں پر عمران خان کا نام لکھنے نا لکھنے سے عمران خان مائنس نہیں ہوتا۔ عمران خان مائنس ہوتا ہے یہ ماننے سے کہ عمران خان ایک فرد ہے جس سے رابطے کے زرائع ختم کرکے اس کے دیے گئے نظریے اور سوچ کو مفلوج کیا جاسکتا ہے، اس تاثر کو تقویت دینے میں ہم اپنے قول و فعل سے کس قدر سہولت کاری کررہے ہیں اس پر غور کریں۔
باقی نہ عمران خان کا نام تختیوں کا محتاج ہے نہ عمران خان کے بغیر کسی تختی پر اپنا نام لکھوا کر میں امر ہوسکتا ہوں۔ نہ مجھ اس تختی معاملے کا علم تھا نہ میرا وزیر اعلی سے کوئی رابطہ باقی ہے۔ مذکورہ پراجیکٹ عمران خان کے دور کا ایک ایسا پراجیکٹ تھا جس کو ممکن بنانے کے لیے ہم نے ملٹری مافیہ سے ایک طویل جنگ لڑی تھی مجھے خوشی ہوتی اگر اس منصوبے کا افتتاح بھی اس جدوجہد کے شایان شان ہوتا؛ عمران خان کی رہائی کے لیے عملی اور مثالی جدوجہد ہورہی ہوتی، ڈرون حملوں کے خلاف بڑے قلعوں کے سامنے پولیس گرفتاری کے آرڈرز کے ساتھ موجود ہوتی، آپریشن روکنے کے لیے ہم ہر آئینی، قانونی اور عوامی محاذ پر کوشاں ہوتے۔ مگر افسوس۔
Abdullah Choudhry retweeted
🚨BREAKING: For the first time, the original Pakistani cypher — cable I-0678, the document that triggered the removal of former Pakistani Prime Minister Imran Khan — is being released in full by Drop Site.
⚡️NEW from Drop Site News | From Mutual Suspicion to Political Embrace: How the U.S. Learned to Stop Worrying and Love Pakistan
From @worqas, @MazMHussain, and @ryangrim
dropsitenews.com/p/pakistan-…
Abdullah Choudhry retweeted
قید تنہائی میں ڈالنے سے قبل وکلاء، اراکین اسمبلی اور پارٹی قیادت کے لیے احکامات تھے عدالتوں کے باہردھرنا دیں جب تک انصاف نہیں ملتا۔ ان سب کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر یاد کراچکا ہوں۔ وکلاء کے نام بھی سخت پیغام تھا اور کیوں نہ ہوتا پارٹی عہدوں سے لیکر اسمبلی ٹکٹ اور بار الیکشن تک عمران خان کے نام پر لڑے جاتے ہیں لیکن خان صاحب کے احکامات کے باوجود عدالت کے باہر مستقل، بمع اراکین اسمبلی دھرنا نہیں دیا جا سکتا؟ پہلے بارش تھی، پھر رمضان تھا اب گرمی ہے۔۔
خان صاحب کی بیماری، ڈرون حملے،آپریشن، بدلتے ہوئی بین الاقوامی حالات،پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے،بے جا ٹیکسسسز، مہنگائی کے تناظر میں تحریک چلانے کی صلاح۔ صرف صوبہ نہیں ملک بند کرنے کا پلان،عمران خان کی صحت کے معاملے پر متحرک ہونے کی درخواست، ایوانوں سے استعفوں کے زریعے حکومت سے legitimacy واپس لینے کے لیے سب سے پہلے اپنے استعفیٰ کی پیشکش۔۔۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران خان کی اسیری کا زمہ دار ان میں سے کوئی فرد نہیں بلکہ بین الاقوامی اسٹیبلیشمنٹ کی ایماء پر برسرپیکار عاصم منیر، قانونی و غیر قانونی طور پر اس کے ماتحت آنے والے ادارے اور اسکے اشاروں پر ناچنے والی سیاسی قوتیں ہیں۔ مگر کیا عمران خان اپنی ذات کے لیے مقید ہے کہ اس کی رہائی کے لیے اپنی پوری قوت سے کوشش کرنا بھی کسی کا فرض نہیں ہے؟ قیادت سے لیکر قوم تک کسی کا بھی نہیں؟
تحفظ آئین پاکستان مہینوں بعد ایک بیٹھک منعقد کرنے کا فیصلہ خود کر سکتی ہے،سی ایم جلسے کا اعلان اور پھر ملتوی خود کر سکتا ہے، اراکین اسمبلی شادیوں اور دعوتوں میں مخالفین کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں، مارکوپولو بن کر دنیا کے چکر لگانے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں،سیاسی کمیٹی خود کو “محب وطن” ثابت کرنے کے لیے ایمرجنسی اجلاس بلا سکتی ہے،تنظیمیں عہدوں کے نئے نئے نوٹیفیکشن کرسکتی ہیں،صوبائی حکومت فارم ۴۷ وزیراعظم اور صدر کے ساتھ بیٹھ سکتی ہے، کور کمانڈر ہاؤس کا رخ کر سکتی ہے لیکن جب عمران خان کا سوال ہو تو سیاسی کمیٹی کا جواب ہوتا ہے تحفظ آئین پاکستان، ان کا جواب ہوتا ہے پی ٹی آئی قیادت، قیادت فیملی کا نام لیتی ہے اور پھر سی ایم پر بات آجاتی ہے اور یہی سلیم اللہ سے کلیم اللہ اور کلیم اللہ سے سلیم اللہ چلتا رہتا ہے۔تو جب سارے فیصلے اپنے طور پر کیے جا سکتے ہیں تو تحریک کا فیصلہ کیوں نہیں؟ محض اس کے لیے عمران خان کی ہدایت درکار ہے اور جہاں عمران خان کی ہدایات میسر ہیں وہاں حیلے بے شمار ہیں۔ مان لیتے ہیں کہ منزل ایک ہے لیکن طریقہ کار مختلف ہے تو ایک دن کے نوٹس پر آپ سب ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر مشترکہ اجلاس بلا کر عملی جدوجہد کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور ادھر ہی مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد بھی ہوسکتا ہے۔ چلو یہ بھی مان لیتے ہیں کہ زیادہ تر تحریک کے حق میں ہیں تو کچے دھاگے توڑنے کے لیے اجلاس کو لائیو نشر کیجئے ویسے بھی کونسا ایٹم بم کا فارمولہ ڈسکس ہونا ہے تو جو بھی رکاوٹ ہوگی قوم خود اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ان کا بھی احتساب کر لے گی۔
ہمیں تو گراونڈ ریلئٹی نہیں معلوم ناں تو بس پبلکی مشورہ دے دیا کیونکہ خان صاحب کی بیماری کے وقت میں نے ایک وائس نوٹ میں وہ تمام تجاویز دہرائے جو میں قیادت کو بارہا بھیج چکا تھا، نا ہی کوئی کال دی نا ہی کوئی فیصلہ کیا لیکن خان صاحب کے لیے کچھ کرنے کے بجائے مجھے قیادت و صوبائی حکومت نے پیغام بھجوایا کہ آپ کے ایک وائیس نوٹ سے تحریک کو Irreversible نقصان ہوا ہے۔ سیریسلی؟ اور یہ میرے ساتھ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔۔
تین سال بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے وہ بھی ناحق اسیری اور عمران خان جیسا لیڈر۔ چار سال مجھے ہوگئے پہلے دربدر اور پھر مستقل اور پھر روپوشی بھی ایسی کہ کوئی ایک ہفتہ بھی نہ گزار سکے۔ آج صرف مل بیٹھ کر ایک جہد مسلسل کی گزارش کر رہا ہوں اگر نہیں ہو رہا آپ سے تو جیسا آپ ہمارے بیانیہ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے ہم آپ کی غفلت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ اور یہ جو کرنل سے مل کر ایک دوسرے کو مشورے دیتے ہو کہ خان تو جیل میں ہی رہے گا مراد سعید تو پاگل ہے نہ اپنی پرواہ نہ کسی اور کی وہ تو جب بھی نظر آیا مارا جائے گا اپنی زندگی کیوں خراب کرتے ہو تو اتنا کہوں گا اللہ آپ کو مزید آسانیاں دے لیکن ہمارے مقصد ہماری جدوجہد اور ہماری زندگیوں کی قیمت پر نہیں بالکل بھی نہیں۔ کوئی فیصلہ کیجیے-
Abdullah Choudhry retweeted
PTI Leadership, NOW is the time when Imran Khan Needs You!
The impact of hundreds of elected members (Senators, MNAs and MPAs) of KP and Punjab assemblies at Adiala will be huge.
It WILL create the necessary pressure on this Govt (who is in power by stealing Imran Khan’s mandate) to get Imran Khan treated at Shifa International Hospital in Islamabad.
It is an urgent and necessary pressure for Dogar court to take up Imran Khan and Bushra Bibi’s bail applications and set them FREE.
Police usually arrests Imran Khan’s supporters; not the family or elected members. We appeal to Imran Khan’s supporters (who are not office holders) NOT to come to Adiala today.
Abdullah Choudhry retweeted
Former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan is in solitary confinement since October 16, 2025.
He has spoken to his sons only twice in 2025 and once in February 2026 after Supreme Court orders. He has been denied books to read. He has received only 3 of the dozen books that we managed to get to adiala through a judge.
Then, a perfectly health and fit Imran Khan suddenly develops a clot in his eye. He was not provided medical assistance. For two weeks, he repeatedly told the jail superintendent that he CANNOT SEE.
The Adiala Jail superintendent Ghafoor Anjum DELAYED calling in a specialist for three months.
By the time the eye doctor came, the delay caused permanent damage to Imran Khan’s eye. We are extremely worried that his other eye could also develop a clot.
Imran khan has repeatedly sent messages over past few months that he is not satisfied with the treatment and there is only marginal improvement after the first injection in the eye. No improvement since then.
Over the past month, Bushra Bibi, his wife has also developed an eye condition and was operated upon last week.
Imran khan and his wife are being tortured through solitary confinement. We have repeatedly protested, demanding Imran Khan to be examined and treated at Shifa International Islamabad. There is an urgent need to identify the cause of the blood clot. Our worry is that his other eye could also develop a clot unless proper diagnosis is done and it’s treated accordingly
This is inhumane and a violation of all fundemental and human rights of a prisoner under Pakistan and International laws.


















