Pinned Tweet
شاہین کو پنجرےمیں بند کرکےفاختہ کو گود میں بٹھا دیا لیکن جب شاہین کو آزاد کیا جائےگا تو آسمان ان کا ہوگا یہ فضائیں ان کی ہوگی۔ اِس توپ پر یا تو عوام کا قبضہ ہوگا یا پھر 75 سالوں کے تجربہ کار شکاری اس کا ٹرگر دبائیں گے۔
#PTI_Followers
آپ کے خیال میں موجودہ سیاست میں یہ فاختہ کون ہے
𝐒𝐚𝐟𝐢 retweeted
وزیر اعظم عمران خان کے سامنے آرمی چیف اور ان کی ٹیم طالبان کی آبادکاری کا پلان لے کر آئے تو ان کی شرائط میں فاٹا مرجر کی واپسی کے ساتھ ساتھ یہ توہین آمیز شرط بھی شامل تھی کہ ریاست ان کے لیے مکانات تعمیر کرے گی اور یا تو ان کو سیکیوریٹی فراہم کی جائیگی یا ان کو اسلحہ سمیت آنے دیا جائیگا۔ میں نے سوال پوچھا کہ اول تو اس آبادکاری کا اُن ۷۰۰۰ سیکیوریٹی فورسز کے شہدا کے لواحقین کو کیا جواز فراہم کیا جائیگا جن کے عیال کے سروں سے فٹ بال کھیلے گئے، جن کے گلے کاٹے گئے؟ اے پی ایس کے معصوم بچوں کے لواحقین کو کیا جواب دیں گے جنہیں بے دردی سے شہید کیا گیا؟ اُن کے ٹیکس کے پیسوں سے آپ اب اُن کے قاتلوں کی آبادکاری کریں گے؟ جن کے گھروں کو آپ نے باقاعدہ مسجدوں میں یہ اعلانات کر کرکے مسمار کیا کہ یہ وطن دشمن اور قوم کے بیٹوں کے قاتل ہیں ان کے گھر آپ کس منہ سے خود تعمیر کریں گے؟ آرمی چیف اور اُن کی ٹیم کے پاس لفظوں میں ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا مگر اُن کی شکست خوردہ باڈی لینگیوج اُن کا وہ جواب تھا جس سے میں نے بہت عرصہ نظریں کترائیں۔ میرے ملک کی فوج کے سربراہ ایک ملیشیا کے ہاتھوں اتنے بے بس تھے یا ہمیشہ کی طرح ڈالری جنگ کی خواہش کے نشے میں اتنے مست تھے کہ اپنے جوانوں کے سر کاٹنے والوں کو ناصرف بنا کسی اکاونٹبلٹی واپسی کا راستہ دینے کی منصوبہ بندی کررہے تھے بلکہ ان کی لاشوں پر ان قاتلوں کے مسکن تعمیر کررہے تھے۔
میرے حوالے سے ان کے اقدامات نئے نہیں۔ گذشتہ کئی سالوں میں میرے خاندان دوستوں اور ساتھیوں کو اغوا، لاپتہ، تشدد کرنے سے گرفتار کرنے، گھر توڑنے کے متعدد واقعات ہوچکے ہیں۔ کل رات ان جرنیلوں کے مسلط کردہ ٹٹو کا بیان سُنا کے ایک ”مفرور” کے گھر کی خواتین سے دست درازی کرنا جائز ہے۔ میں اس تفصیل میں تو جاتا ہی نہیں کہ اِس ”مفرور“ کا اصل جرم کیا ہے مگر کل پہلی مرتبہ اپنی قوم کی زندگیوں کا سوال کرنے والوں سے ”آہنی ہاتھوں سے نبٹنے والی“ فوج کے آرمی چیف اور ان کی ٹیم کا شکست خوردہ انداز یاد کرکے ہنسی آئی۔ سیاسی مخالفین کے گھر توڑنے والوں، نہتی عورتوں پر ہاتھ ڈالنے والوں کا سامنا بندوقوں والوں سے ہوتا ہے تو اپنے اُن جوانوں کے خون کا بھی سودا کر آتے ہیں جن کی قربانیاں قوم کو ازبر کرا کرا کر اپنے ناجائز قبضے کا جواز ڈھونڈتے ہیں۔ خُدا کسی کو بے غیرت دشمن نہ دے۔
𝐒𝐚𝐟𝐢 retweeted
🇵🇰 Imran Khan’s 3 sisters have already spent OVER A MONTH behind bars, and Pakistan just found a way to keep them there until at least November 26.
Punjab’s government has EXTENDED the detention of Aleema Khan, Uzma Khan and Noreen Niazi by ANOTHER 30 days, under a public order law normally aimed at people seen as threats to public peace.
Their family asked a court to free them, but the judge threw the case out over a paperwork issue.
Meanwhile, a terrorism court has pushed back its verdict against Aleema yet again, to November 26, the same day her detention ends.
Whether that timing is a coincidence is anyone’s guess, but there are fears Aleema could be arrested again in the terrorism case as soon as her detention ends.
3 sisters with no political roles, held under one law until another can take over. Is this how justice works in Pakistan now?
Sources: @WaqasAwan666, @writetofahim / Writer: Julie
𝐒𝐚𝐟𝐢 retweeted
سپریم کورٹ کے حکم پر بھی عمران خان کی ہسپتال منتقلی نہیں کیسسز کی سنوائی نہیں، ملاقاتیں بند،گزشتہ دو ہفتوں سے وزیراعلی اغوا، سپیکر لاپتہ، صوبائی صدر، وزراء، اراکین اسمبلی لاپتہ۔ سینکڑوں کارکنان (یوتھ، آئی ایس ایف سے لے کر ویلیج کونسل لیول تک) لاپتہ، پی ٹی آئی کے ترقیاتی منصوبوں کی تختیوں سے لے کر کارکنان و قیادت کے گھروں، ہجروں تک توڑے جا چکے ہیں۔ اب اگلے مورچوں تک پیش قدمی کرتے ہوئے عوام کو کچلنے کا سلسلہ جاری ہے۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشن مارکیٹوں بازاروں سے رکشوں، اور رکشوں سے ہوتا ہوا ریڑھی بانوں تک جا پہنچا ہے۔
ماضی میں جب ہم ”جہاں وسائل ہیں وہاں مسائل ہیں“ کا زکر کرتے تھے تب ڈی جے آئی ایس پی آر فرماتے تھے کہ کیا پختونخواہ کو معدنیات جہیز میں ملے تھے؟ اب قبضہ مافیہ معدنیات نکالنے اور صوبہ لوٹنے کے خفیہ منصوبوں کا کھلے عام اظہار کررہا ہے۔ اپنی ایس آئی ایف سی کی ناکامی کے بعد اب پختونخواہ کے وسائل کو جہیز سمجھ کر جھولیاں بھری جارہی ہیں۔ جہاں بریف کیس بھر کر معدنیات آفر ہوئی تھیں ان کی کمپنیز بلوانے کے ساتھ ساتھ اپنی نئی کمپنیز بنانے کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔
پی ٹی آئی کو کچلنے کے ساتھ عوام کے مسترد کردہ سیاسی یتیموں کو کونسل کے نام پر اختیارات دے کر اگلے الیکشن کے لیے تیاری کی امیدیں دلائ جا رہی ہیں۔ ساتھ ہی انگریز دور کے مَلک نظام کے ریوائیل اور آج کی نسل کو کالے قوانین کے ماتحت کرنے پر کام ہو رہا ہے۔
بے شرمی اور ڈھٹائی کی انتہا دیکھیں کہ جس دہشت گردی کا بہانہ بنا کر ایمرجنسی لگائ، گورنر راج لگایا گیا آج اسی ایمرجنسی کے تحت بنائ، فوج کی خاص الخاص کونسل کا سربراہ فرما رہا ہے کہ ”فتنتہ الہندوستان۔ فتنتہ الخوارج“ محبت کی زبان سمجھتے ہیں۔ پی ڈی ایم حکومت کے بعد افغانستان بھیجے گئے جس وفد کے متعلق ہم سوال کر رہے تھے کہ عوامی نمائندے تو ہم ہیں تو بات چیت کے لیے بھیجا کس کو، شرائط کیا طے ہوئیں اور کس اتھارٹی کی بنیاد پر ہوئیں تو وہ انکشاف بھی بلآخر ہوگیا کہ فوج کے لوگ تھے۔
فاٹا کو وفاق کے ماتحت کرکے ”فتنتہ ال ہندوستان و خوارج“ کی آبادکاری کے وقت کا ایک اور مطالبہ بھی پورا کر دیا گیا۔ فاٹا کو وفاق کے ماتحت کرنے کا مطالبہ انہی کے لائے ہوں کا تھا۔ ڈھٹائی و بے شرمی سے پختونخواہ کو بھی بلوچستان بنایا جارہا ہے اور نام نہاد میڈیا ڈھول بجا رہا ہے۔
ہمارے لوگوں کو بھی سمجھنا چاہئے کہ جس پیمانے پر آپ کا نام مٹانے کی کاروائیاں ہوئیں اور ہو رہی ہیں آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ کو واپس آنے دیا جائے گا؟ حکومت بحال ہوگی؟ نہیں
آپ کو جس بحث میں الجھایا گیا ہے یا جس میں آپ الجھ گئے ہیں یہ آپشن ٹو ہے۔ یعنی جیسے آپ نے اپنے مینڈیٹ کا تحفظ کیا تھا ویسا اگر ابھی بھی کر سکے تو زیر بحث پلان لاگو ہوگا ورنہ کوئی واپسی نہیں۔ ایک بار انہیں آپ کی جانب سے یہ اطمینان ہوجائے تو اگلا اقدام ہمیں، آپ کو اور عمران خان کو دہشت گردی سے جوڑ کر پارٹی پر پابندی لگانے کا ہے۔ آپ خود کو مزید کسی مغالطے میں رکھنا چاہتے ہیں، آپ کی مرضی ہے لیکن وہ اپنے اہداف میں کلئیر ہیں۔ عمران خان کو جیل رکھنا اور ان کی جماعت کو کرش کرنا اور بیرونی آقاؤں کی خوشنودی سے اپنی طاقت کو دوام دیتے چلے جانا چاہے۔ اس کے بدلے پورا ملک برباد ہو جیسے ہماری نظروں کے سامنے ہو رہا ہے۔ وہ کلئیر ہیں، ہم کتنے کلئیر ہیں؟
میرا کام ایک مخلص دوست کی طرح آپ کو بروقت آگاہ کرنا تھا، جیسے پہلے بھی کیا تھا، بارہا کیا تھا۔ آج بھی کردیا۔
𝐒𝐚𝐟𝐢 retweeted
I wish I could do more to support Imran Khan and his family. I won’t stop trying, but this Iran war is making everything harder 😔
I really hope Asim Munir strikes a deal with Imran Khan and PTI and stops this persecution
I have no horse in this race, it’s just heartbreaking to see such good people be treated so badly
I fkn hate politics
𝐒𝐚𝐟𝐢 retweeted
پختونخواہ کو بلوچستان بنا رہے ہیں ، بلوچستان کو مشرقی پاکستان بنا دیا۔ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنا چکے۔
واہ جرنیلو بے پرواہ جرنیلو
𝐒𝐚𝐟𝐢 retweeted
لمبے لمبے سانس لیں ایک گلاس پانی پئیں اور غیر جانبدار ہونے کی کوشش کریں۔
سہیل آفریدی کیا کرتا؟ لانگ مارچ اٹک تک لے آتا پھر ؟ یہ لانگ مارچ کیسے ڈی چوک ، مریدکے یا راولا کوٹ سے مختلف ثابت ہوتا؟ ساٹھ ہزار اہلکار اسے روکنے کو تیار تھے۔ بیس تیس چالیس لوگ مارے جاتے اور ہوتا پھر بھی یہی سب۔
سات آٹھ دن لانگ مارچ چلتا رہا کیا کسی ایک بھی دن پنجاب میں کراچی میں سندھ میں کوئی ریلی کوئی احتجاج ہوا؟ کیا پنجاب کو بھی سہیل آفریدی نے روک رکھا تھا؟
جب سہیل آفریدی لانگ مارچ کررہا تھا تو تب سب خاموش کیوں تھے؟ اسکی گرفتاری کے بعد یہ سب کیں ہورہا ہے؟ تب جب کہ وہ جواب بھی نہیں دے سکتا۔
پلان اے بی سی ڈی کی ذمہ داری اس شخص کی کیسے ہے جو گرفتار ہوکر معلوم نہیں کن حالات میں ہے۔ جو باہر موجود ہیں سوال ان سے کیوں نہیں ہوتا؟ کیا یہ بھی اغواء کیے جانے کے بعد ایکسپوز کیے جائیں گے؟
کشمیر میں نوے ہزار مسلمان شہید ہوئے۔ درجنوں لوگ آج بھی جیلوں میں ہیں۔ اس کے باوجود کشمیر آزاد نہیں ہوسکا۔ پاکستان کو ایک لانگ مارچ اٹک سے اسلام آباد پہنچ کر آزاد کروا دیتا؟
اگلی احتجاجی تحریک کی کیا کیا شرائط ہوں گی اور اسے کون کون کیسے کیسے لیڈ کرے گا کہ آپ لوگ اسے شک کی نگاہ سے نہیں دیکھیں گے؟
سہیل آفریدی نے بہت وقت ضائع کیا۔ کسی کی دلائی ہوئی آس پر بیٹھا رہا۔ تحریک انصاف کے اندر لے لوگ اسے حالات بہتر ہونے کی نوید سناتے رہے۔ اسے روکتے رہے۔ درست ہے۔ اڈیالہ نہیں جاتا رہا غلط کرتا رہا۔ درست ہے۔
میری رائے غلط ہوسکتی ہے۔ سہیل آفریدی کل کو غلط سائیڈ پر کھڑا ہوسکتا ہے۔ میں کل کو کسی غلط سائیڈ پر ہوسکتا ہوں۔ لیکن فوج کی طاقت کو آپ بغیر طاقت دکھائے فوج کے خوف کو خوف دکھائے بغیر آپ سرنگوں نہیں کرسکتے۔ پاکستان کے عوام کے اندر نفرت بہت ہے۔ فوج نااہل بہت ہے۔ لیکن عوام ابھی تک کسی منظم احتجاجی تحریک کے لیے تیار نہیں۔
حوصلہ بھی رکھیں اور ہاتھ ہولا بھی رکھیں۔ خود کو طویل جدوجہد کے لیے تیار کریں۔ اگر آپ معاشرے میں انفلوئنسر کا درجہ پا گئے ہیں تو اسے تعلیم و تربیت پر نیٹ ورکنگ پر اور آئیڈیاز پر صرف کریں ۔ اپنے دماغ پر اتنا بوجھ نا ڈالیں کہ وہ پچکا ہوا دکھائی دے۔
𝐒𝐚𝐟𝐢 retweeted
عمران خان کی حکومت گرانے میں امریکہ سے زیادہ سعودی عرب کا ہاتھ تھا۔ آج سعودی عرب کی اپنی حالت یہ ہوچکی ہے کہ امریکی سفارتخانے کو اپنے شہریوں کے نام وارننگ جاری کرنا پڑ گئی۔
بائیڈن پہلے ہی اپنے انجام کو پہنچ چکا، محمد بن سلمان اور اماراتی محمد بن زائد کو ایران نے " غریب دا بال " سمجھ کر کُٹاپا لگانا شروع کردیا ہے۔
آخر میں ہمارے والوں کی باری آنی ہے اور جو انجام ان کا ہوگا، انشا اللہ، دنیا دیکھے گی!!!
𝐒𝐚𝐟𝐢 retweeted
خیبر پختونخواہ کی پولیس کو غیر سیاسی رکھنا ہمارا فخر تھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں ہماری پولیس نے دیں۔ پختونخواہ کے عوام آج بھی اپنی پولیس کی سر کٹی لاشیں، خودکش دھماکوں کے بعد بجلی کے کھمبوں سے ان کے یونیفارم کے ٹکڑے اور اپنی سڑکوں سے ان کے گوشت کے لوتھڑے جمع کرنے کے مناظر بھولے نہیں۔ قابض مافیہ نے جب خیبر پختونخواہ کو دوبارہ آگ میں جھونکنے کا فیصلہ کیا تو ہماری قوم نے اپنی ملک سعد اور صفوت غیور کی وارث پولیس کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ان کے اس ناپاک منصوبے کو خاک میں ملایا تھا۔ آج عاصم منیر اور اس کی کٹ پتلیوں نے دہشت گردی کا بہانہ استعمال کرکے اپنے ناجائز استعمار کو تقویت دینے کے لیے پولیس کو اپنی عوام کے مقابل کھڑا کر تو دیا ہے۔ مگر اس کا خمیازہ اسی پولیس کو بھگتنا پڑیگا جو ذاتی فوائد، ترقیوں اور تنخواہ کے لیے ان غیر آئینی قوتوں کی آلہ کار بن رہی ہیں۔ کل کو جب ان کے لائے ہوئے دہشت گرد آپ کو اپنی کاروائیوں کا نشانہ بنائیں گے اور عاصم منیر کی فوج ہمیشہ کیطرح آپ کو canon fodder بنائے گی، ایسے میں جب آپ کی پشت پر یہ قوم نہیں ہوگی تو آپ کو احساس ہوگا کہ آپ کی تنخواہیں اور ترقیوں کی کوئ وقعت نہیں۔ باڑہ میں نہتے مظاہرین کس بات پر احتجاج کررہے ہیں جو وہ واجب القتل ہوگئے؟ ان کا منتخب نمائندہ، تمام عمر سے محروم علاقے کا پہلا وزیر اعلی گذشتہ تین دن سے غاصبوں کے ہاتھوں لاپتہ ہے۔ اُس کا جرم اپنی قوم کا سودا کرنے سے انکار۔۔
آپ میں رتی برابر غیرت ہوتی تو سوال پوچھتے، کسی کی ہمت کیسے ہوئ آپ کی عملدآری میں آ کے آپ کے چار کروڑ عوام کے چیف ایگزیکٹو کو اغوا کرنے کی؟ آپ کی آنکھوں کے سامنے اور آپ سمیت جن کو ایک نئی آگ میں جھونکنے کی سبیل کردی گئی ہے وہ اپنی زندگی کا سوال بھی نا کریں؟ خاموشی سے بے گھری، بے بسی کی موت قبول کرلیں؟
افسوس صد افسوس۔ عاصم منیر اور اس کے حواری تو اپنی طاقت کے لیے ملک کو بیچ چکے۔ آپ کا ہمارا تو جینا مرنا اس ملک کے ساتھ ہے آپ کی اس بے ضمیری کا انجام ہم نے اکیلے نہیں بھگتنا۔ مریں گے آپ بھی ہمارے ساتھ۔ جنازے آپ کے گھروں سے بھی اٹھیں گے۔ یتیم آپ کی اولادیں بھی ہونگی۔ تب اپنے افسران کا گریبان مت پکڑنا۔ خود سے سوال کرنا کہ جن پر آج بندوقیں تھامے کھڑے ہو وہ کس کے حق کا سوال کررہے تھے۔
𝐒𝐚𝐟𝐢 retweeted
Pakistan's PM just nominated Trump for the Nobel PEACE Prize
Sucking up just reached a new peak
𝐒𝐚𝐟𝐢 retweeted
پاک فوج کیونکہ حلف کی پاسداری نہیں کرتی ، کسی اسلامی ، آئینی یا اخلاقی حد کو نہیں مانتی لہذا پاک فوج سے آنے والی تنخواہ حرام ، پنشن حرام ، انکے بچوں کے منہ میں اترنے والا ایک ایک نوالہ حرام۔
𝐒𝐚𝐟𝐢 retweeted
کیسی عجیب بات ہے۔
سہیل آفریدی کھلے عام کہتا ہے کہ وہ کرسی پر لعنت بھیجتا ہے اور اقتدار کو اصولوں پر قربان کرنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہے۔ اس مقصد کیلئے وہ براہ راست ملٹری کو للکار رہا ہے۔
دوسری طرف عاصم منیر سے لے کر جنرل ایوب خان تک، تمام جرنیلوں کا کردار ملاحظہ کریں۔ ان میں سے جو کوئی بھی آرمی چیف بنا، اس نے سب سے پہلے اپنے عہدے کی توسیع کیلئے جدوجہد کی، اس مقصد کیلئے اسے سیاستدانوں کے گھروں آدھی رات کو کرنل، بریگیڈئیر بھی بھیجنا پڑے تو اس نے بھیجے۔
نوکری میں توسیع کے بعد اگلا مرحلہ اقتدار یعنی آئینی عہدہ حاصل کرنے کی ہوس رہی۔ کوئی زبردستی صدر بن بیٹھا، کسی نے جعلی ریفرینڈم کے ذریعے خود کو چیف ایگزیکٹو کا درجہ دے دیا، ضیا اور مشرف نے تو حد ہی مُکا دی۔ ضیا نے بطور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اپنے آپ کو صدر مقرر کیا، پھر صدر کا عہدہ سنبھال کر آرمی چیف یعنی خود کو توسعی دے دی۔ یہی کام مشرف نے بھی کیا۔
آخر کیا وجہ ہے کہ ایک تیس سالہ نوجوان سہیل آفریدی کو اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ اس کی کرسی ہاتھ سے جاتی ہے یا نہیں، دوسری طرف خود کو پروفیشنل کہنے والے جرنیل جب کرسی پر بیٹھتے ہیں تو اپنے پچھواڑے پر ایلفی لگا لیتے ہیں تاکہ چمڑی کرسی سے چمٹی رہے، چاہے کھال اتر جائے۔
کیا یہ لالچ ہے، طمع ہے، بددیانتی ہے، بہتات کی حرص ہے، ملک دشمنی ہے، یا یہ سب برائیاں باکمال و جمال ہر ایک جرنیل کے خون میں شامل ہوتی ہیں؟
ان سب کا خون گندہ کیوں ہوتا ہے؟
𝐒𝐚𝐟𝐢 retweeted
ہم نو مئی کے خوف اور وحشت سے نکل کر یہاں تک آئے ہیں۔ ہم نے وہ سناٹا توڑا ہے۔ اب تو شور ہی بہت ہے۔
وہ ہماری بقاء کی جنگ تھی جو ہم جیت گئے تھے۔ اب تمہاری فناء کی جنگ ہے جو ہم جیت جائیں گے۔
𝐒𝐚𝐟𝐢 retweeted
محسن نقوی صاحب آج بلوچستان آپ کے ہاتھ سے نکل چکا ہے اس کا ذمہ دار سہیل آفریدی نہیں ہے
کشمیر میں پاک فوج مردہ باد کے نعرے لگ رہے ہیں اس کا ذمہ دار سہیل آفریدی نہیں ہے
سندھ طاس معاہدہ معطل ہے سہیل آفریدی ذمہ دار نہیں
کرکٹ تباہ ذمہ دار سہیل آفریدی نہیں
اگر سرحد پار کر کے دہشتگرد پاکستان میں دہشتگردی کر رہے ہیں تو سرحدوں کی حفاظت بھی سہیل آفریدی کی ذمہ داری نہیں
یہ سب تب ہوا جب امیچور اور نا سمجھ لوگ بڑے عہدوں پر بیٹھ گئے
𝐒𝐚𝐟𝐢 retweeted
عاصم منیر، بات سیدھی ہے، سرنڈر کرنا پڑے گا، ہر حال میں۔
سرنڈر کیسا؟ جیسے ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں کیا تھا۔
تم کہتے ہو 9 مئی سے زیادہ خطرناک انجام ہوگا۔ عاصم منیر، تمہارے پلے کیا ہے؟ جو فیصلہ ایک گھنٹے میں ہو سکتا ہے، تمہاری کور کمانڈرز کی میٹنگ پندرہ گھنٹے سے چل رہی ہے۔
یہ عمران خان کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگیں گے۔
مذاکرات رات بھی ڈیڈلاک پر پہنچ گئے، یہ اپنی جان نہیں بچا سکے۔
میرا ستر سال کا تجربہ ہے؛ جو کچھ کہہ رہا ہوں، ایسے ہی ہوگا اور عنقریب ہوگا!
قوم خود اگر نہیں دیکھ سکتی، میں قوم کی آنکھوں سے سب دیکھ سکتا ہوں۔
عاصم منیر، نوکری چھوڑنی پڑے گی؛ سرنڈر کرنا پڑے گا۔
دوبارہ الیکشن ہوگا، جس میں فوج کا کوئی لینا دینا نہیں ہوگا۔
پاکستان کے ہر مسئلے کی وجہ تم ہو، اور اب!
تمہارا وقت قریب ہے، اس سے پہلے سنبھل جاؤ۔
اس سے پہلے کہ تمہارے پیروں کے نیچے زمین گرم تانبہ ہو جائے، توبہ کر لو۔
ابھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے، قوم کے سامنے سرنڈر کر دو۔
𝐒𝐚𝐟𝐢 retweeted
چونکہ آج ایکس پر رش لگا ہوا ہے لہذا یہ والا سبق بھی پڑھتے جائیں
عاصم منیر کی ایس آئی ایف سی ناکام ہوچکی ہے
عاصم منیر کا زرعی انقلاب ناکام ہوچکا ہے
عاصم منیر کی بلوچستان پالیسی ناکام ہوچکی ہے
عاصم منیر کی کٹھ پتلی حکومتیں ناکام ہوچکی ہیں
عاصم منیر کا وزیر خزانہ و وزیر داخلہ ناکام ہوچکا ہے
عاصم منیر مقبولیت حاصل کرنے میں ناکام ہوچکا ہے
عاصم منیر کی سفارتی پالیسیاں ناکام ہوچکی ہیں
عاصم منیر کی افغانستان و ٹی ٹی پی پالیسی ناکام ہوچکی ہے
عاصم منیر کے اسلحہ و معدنیات بیچنے جیسے منصوبے جھوٹ نکلے
عاصم منیر سیاسی استحکام کا سب سے برا دشمن ثابت ہوا ہے
𝐒𝐚𝐟𝐢 retweeted
ساٹھ ہزار زندہ لاشیں ٹرکوں میں جانوروں کی طرح لاد کر اسلام آباد و گرد و نواح میں پہنچائی گئی ہیں۔ ان کو جانوروں کی طرح مختلف باڑوں میں رکھا گیا ہے۔ ان کو گندہ بدبودار کھانا دیا جارہا ہے۔ یہ فرشوں پر سو رہے ہیں۔ انکی ویسے بھی کوئی زندگیاں نہیں۔ کوئی عزت نہیں۔ یہ کسی ملزم سے ، کسی مافیا سے حرام پکڑتے ہیں۔ یہ کسی اپنے سے زیادہ گھٹیا سیاستدان کے سامنے یئیں یئیں کرکے کسی تھانے میں بدلی کرواتے ہیں کہیں محرر لگ جاتے ہیں۔ یہ زندہ لاشیں اگر حرکت کرتی ہوتیں تو کوئی انہیں یوں نا جانوروں کا طرح لاد کر لاتا نا رکھتا نا بدبودار کھانا کھلاتا۔ مجھے ان تھڑے ہوئے لوگوں سے ہمدردی ہے۔
𝐒𝐚𝐟𝐢 retweeted
حرامی تاریخ کا یہ لازوال ہیرا خود اپنی نشست کرنل جاوید کاہلوں سے ہارا ہوا ہے۔ پھر یہ جس حکومت کی کابینہ میں ہے وہ حکومت جعلی ووٹوں پر کھڑی ہے۔ یہ وہاں سے جو مراعات ، تنخواہیں اور سہولیات لے رہا ہے وہ حرام ہیں۔
اسلامی تاریخ کے لازوال ہیرے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ خلافت کی ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے بنو امیہ کے ایک خوش حال اور لاڈلے شہزادے اور مدینہ کے گورنر تھے۔ نفیس لباس، عمدہ خوشبو، بہترین سواری اور پُرتکلف طرزِ زندگی ان کی شخصیت کی پہچان تھے۔ ان کے لباس، وضع قطع اور چال ڈھال کی نفاست کا پورے مدینہ میں چرچا تھا۔
لیکن جب خلافت کی امانت ان کے کندھوں پر آئی تو ان کی زندگی یکسر بدل گئی۔
جس شخص کو کبھی شاہانہ لباس اور خوشبوؤں سے پہچانا جاتا تھا، اس نے خلافت سنبھالتے ہی شاہی سواریاں، قیمتی سامان اور آسائشیں بیت المال کے حوالے کر دیں۔ لباس سادہ ہوگیا، خوراک معمولی ہوگئی اور ذاتی زندگی سے تکلف رخصت ہوگیا۔ انہوں نے اپنے گھر سے بھی قیمتی زیورات بیت المال میں جمع کرائے اور اپنے اہلِ خانہ کو سمجھایا کہ امت کی ذمہ داری اٹھانے کے بعد حکمران کا معیارِ زندگی رعایا کے حالات سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔
یہ تبدیلی محرومی یا مجبوری کا نتیجہ نہیں تھی؛ یہ اقتدار کے اخلاقی تقاضوں کا شعوری انتخاب تھا۔ وہ جانتے تھے کہ جو آسائش ایک عام شہری کے لیے محض ذاتی معاملہ ہوسکتی ہے، وہی اہلِ اقتدار کے لیے عوامی اعتماد، احساس اور جواب دہی کا سوال بن جاتی ہے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کی زندگی آج کے ہر صاحبِ اختیار کے لیے ایک آئینہ ہے۔ جب قوم مہنگائی، بے روزگاری اور ضروریاتِ زندگی کے بوجھ تلے دبی ہو تو قومی قیادت کے لئے سادگی، اعتدال اور عوامی احساسات کا لحاظ محض پسندیدہ رویہ نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری بن جاتا ہے۔
نجی خوشیاں ہر انسان کا حق ہیں، مگر اقتدار سے وابستہ زندگی کبھی مکمل طور پر نجی نہیں رہتی۔ قیادت کی اصل شان نمائش میں نہیں، عوام کے حالات کے ساتھ ہم آہنگی میں ہے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ نے ثابت کیا کہ اقتدار انسان کے معیارِ زندگی کو بلند کرنے کا نہیں، اس کے معیارِ ذمہ داری کو بلند کرنے کا نام ہے!
اللہ تعالیٰ ہمیں ان روایات کو زندہ کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین!
𝐒𝐚𝐟𝐢 retweeted
یہ سب میرے حلقے میں ہوا ہے
ایک سازش کے تحت مصنوعی جنگ میں سیکیورٹی فورسز عام عوام مزدور تاجر سب مارے جا رہے ہیں
اور تمام دہشت گردوں کے ٹھکانے واضح ہونے کے باوجود ختم نہیں کیئے جا رہے
𝐒𝐚𝐟𝐢 retweeted
عاصم منیر کو آرمی چیف بنے قریب قریب ہوئے چار سال ہوگئے ہیں۔ عاصم منیر نے اس دوران ائیر چیف نہیں بدلا ، ڈی جی آئی ایس پی آر نہیں بدلا ، وزیراعظم نہیں بدلا ، وزیر دفاع نہیں بدلا ، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کا منسٹر نہیں بدلا ، وزیر خارجہ نہیں بدلا ، وزیر قانون نہیں بدلا۔ یعنی مینڈیٹ چھیننے سے پہلے ،اور بعد جو جہاں جہاں تھا وہیں وہیں رہنے دیا۔ کچھ کور کمانڈرز دسمبر 2022 سے اپنے عہدوں پر ہیں جی ہاں آرمی چیف بننے کے وقت جنہیں لگایا۔ دو لوگ کورکمانڈر لاہور اور منگلہ ناپسندیدہ تھے وہ ہٹائے ، ایک کی ریٹائرمنٹ آگئی تو ہٹایا۔ ندیم انجم کو ہٹایا وہ بھی ایکسپائری کے ایک برس بعد۔ بعد میں اسکی مریم سے قربت کی خبر ہی آئی اس کو گھر بیٹھے بٹھائے معلوم نہیں کیا جھٹکا کروایا اسکی کبھی خبر بھی نہیں آئی۔ فیصل نصیر چار سال سے زیادہ وقت سے اسی عہدے پر ہے۔ اب یقینا اسکی ریٹائرمنٹ آگئی ہوگی۔ اس پر احسان کرتے ہوئے اسے تحفتا ایک تین سالہ تعیناتی دے دی گئی ہے۔
پوائنٹ یہ ہے کہ باہر کا سارا ملک اکھاڑ پچھاڑ دیا ، آئین ، جمہوریت ، امن ، استحکام ، ترقی ، سب لپیٹ دیا۔ جو عاصم منیر پر انحصار کرتے ہیں یا جن پر عاصم منیر انحصار کرتا ان کو نہیں بدلا۔ ہر ممکن کوشش کی یہ والے چہرے یہیں رہیں اسکے اردگرد آگے پیچھے رہیں۔ اسکی وجہ بہت سادہ ہے۔ عاصم منیر خود جرنیلی سازشوں ، گٹھ جوڑ اور خفیہ ملاقاتوں کی بدولت یہاں تک پہنچا ہے۔ جو چہرے اسکے ساتھ موجود ہیں وہ اس سسٹم کے کانڑے ہیں اور اپنی اپنی ایکسپائری گزارنے کے باوجود اس سسٹم سے کچھ نا کچھ حاصل کررہے ہیں۔ یعنی یہ وہ لوگ ہیں جو پر عاصم منیر کو اعتماد ہے۔ ڈی جی آئی ایس آئی آرمی چیف کے بعد سب سے طاقتور عہدہ ہوتا ہے۔ وہاں بھی وہ شخص بٹھا رکھا ہے جسکی ایکسپائری گزر چکی اور ایکسٹینشن پر ہے۔ یعنی زیر بار ہے احسان مند ہے۔
نئے لوگ آئیں گے ، وہاں آئیں گے جہاں ناگزیر ہوں گے۔ لیکن اکھاڑ پچھاڑ نہیں ہوگی۔ ہرگز نہیں ہوگی۔ یہی وجوہات ہیں کہ ادارہ ہذا عاصم منیر کو تمام تر وحشت طاقت اور بربریت کے باوجود ایک کھسی ، کمزور اور پھس پھس ڈکٹیٹر سمجھتا اور کہتا ہے کہ یہ ڈرا ہوا ہے ، یہ خوفزدہ ہے۔ یہی ڈر اور خوف اسے تاحیات استثنی لینے والی قانون سازیوں ، چیف آف ڈیفینس سٹاف جیسے عہدوں کی تخلیق ، فیلڈ مارشل جیسی بودی ترقیوں ، سبھی فورسز کو ہاتھ میں کرنے جیسی حرکتیں کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
چچا صابر شاکر ، ہمارے کچھ دیگر مہربان تجزیہ کار ، کچھ عقل بند تبصرہ پاڑ بھی اپنی جگہ سچے ہیں۔ فوج کے اندر کی ہلچل جب ہوئی عاصم منیر کو کھا جائے گی۔ یہ لوگ بچپن سے یہی دیکھتے آئے ہیں۔ لیکن ہم ہر ایسے امکان کو رد کرتے ہیں ۔ کیونکہ ہم لوگ مفاہمت ، اقتدار یا باری کے انتظار میں نہیں ہیں۔ ہم حقیقی آزادی کے لیے لڑرہے ہیں۔ نجم سیٹھی کے الفاظ میں یوتھیوں نے یہ ایک نظریہ سا خود پر طاری کرلیا ہے۔ ہاں کرلیا ہے۔
ڈر بے غیرتا ڈر















