سفارتکاری ۱۰۱۔
دو جمع دو چار، ہم تم سے نہیں بولتے، چین کا ایران کو جواب۔
چین نے ایران کے ساتھ تیل خریدنے کا معاہدہ ختم کردیا ہے کیوں کہ چین نے کہا تھا کہ اگر میرے ہتھیار حوثیوں حرامیوں کے ہاتھ لگے تو ہماری آپ سے ختم۔ سعودیوں نے چینی میزائلوں کو ثبوت چین کے حوالے کئے جو حوثیوں نے ان پر برسائے تھے اور یوں ایران کے تمام منت ترلے کے باوجود تلا گیا۔ چین اب عراق اور سعودیہ سے تیل خریدے گا۔
سپہ سالار تو پھر سے گردن میں سریہ رکھنے والے سے ملنے چلے گئے۔ اب اُن پٹواریوں کا کیا بنےگا جنہوں نے ازخود پابندی لگا دی تھی کہ أئندہ ان لوگوں سے پکی والی کُٹؔی۔
Sarfraz Ahmed retweeted
جیدی پروڈکشنز کی فلم انصاف ہوگا، ضرووووور ہوگا کہ تحت ماورائے عدالت قتل کے بعد پیش خدمت ہے ماورائے عدالت چپیڑیں۔
کوئی چھے مہینے سال قیدِ با مشقت وغیرہ کا وقت ضائع کرنے والا سلسلہ نہیں۔ دستی ایک چپیڑ کھائیں دوسری پولیس والا روکے گا، گھر جا کر موج کریں۔
نوٹ: صرف پنجاب میں دستیاب۔
Sarfraz Ahmed retweeted
اب سمجھ آئی کہ میاں صاحب کو ان کے ساتھی ایئرپورٹ سے چھڑانے کیوں نہیں آئے تھے؟
اشارہ توڑنے جیسے جُرم کا دانستہ یا نادانستہ ارتکاب کرنے سے پہلے سو دفعہ سوچ لیا کریں، کیونکہ ریاست اعتزاز احسن والی ماں کے جیسی نہیں بلکہ “سب کی ماں” جیسی ہے۔
Sarfraz Ahmed retweeted
پنجاب اور اسلام آباد میں ملزمان کے ساتھی جب بھی چھڑانے آتے ہیں اپنا بندہ مارے بغیر واپس نہیں جاتے۔
بلیو ٹک لگوا کر ازخود ہیلوسینیشن شروع ہوجاتی یا کُچھ پینا پڑتا ہے؟
وسیم عباس کے ساتھ جنسی زیادتی ہوتی تھی- وہ اسلئے خوفزدہ ہو کر بھاگ رہا تھا- یتیم خانہ باقائدہ سپلائی کا کام کرتا تھا- بجلی کا کام سکھایا جانا ایک جھوٹ ہے- ملزمان نے اپنی غلاظت کھلنے کے ڈر سے اسے کچل کر مارا ورنہ کام سے بھاگنے پر بھلا کون قتل کرتا ہے-
نہ صرف مفرور ملزمان کو پکڑا جانا ضروری ہے بلکہ یتیم خانے پر بھی پکّا اور بھرپور ہاتھ ڈالنا چاہیئے-
Sarfraz Ahmed retweeted
ملک میں کبھی بھی مارشل لا لگانا کوئی بری بات ہے، ہر جمہوریت پسند کع برا لگتا ہے تاہم ملکی سالمیت اور پاکستانیوں کی جانوں سے کچھ بھی افضل نہیں۔
Sarfraz Ahmed retweeted
As an adult, one of the hardest decisions you’ll ever make, is when to throw away the box after buying a new electrical appliance.
Sarfraz Ahmed retweeted
مجھے ان لوگوں کی منافقت پہ سخت حیرت ہوتی جنکے دسترخوان اور میزیں دوست احباب، تعلق داروں اور کولیگز کے لیے تو نعنتوں سے بھری ہوتیں۔ یہ تک پتہ ہوتا کہ فلاں فلاں کو ہمارے ہاتھ کی پکی کیا چیز پسند لیکن سگے بہن بھائیوں کے گھر کھانا بنا بھی یا نہیں، یا وہ کس حال میں ہیں اسکی کوئی خبر نہیں ہوتی۔











