#KRBT #KhanRehaiBenamiTehreek Click on this link https://xitter.cf/t.co/JW3B3aywVp to join this movement!

See Your Left
Joined December 2025
اس ویڈیو میں خان رہائی بے نامی تحریک (#KRBT) کو جائن کرنے کا آسان اور مکمل طریقہ بتایا گیا ہے اس ویڈیو کے شروع میں دیئے QR کوڈ کو سکین کریں یا اس لنک سے جائن کریں : discord.gg/SatFCkgXqT بے نامی بنیں، اور اس جدوجہد کا حصہ بنیں۔ @krbt804
30
257
21
322
33,103
KhanRehaiBenamiTehreek retweeted
🚨ہمارا لیڈر—عمران خان کہاں ہے؟ عمران خان کو قوم کے سامنے لایا جائے❗️ #عمران_خان_کہاں_ہیں @ImranKhanPTI @krbt804 #KRBT
10
7
172
KhanRehaiBenamiTehreek retweeted
🚨ہمارا لیڈر—عمران خان کہاں ہے؟ عمران خان کو قوم کے سامنے لایا جائے❗️ #عمران_خان_کہاں_ہیں @ImranKhanPTI @krbt804 #KRBT
1
32
1
33
618
KhanRehaiBenamiTehreek retweeted
🚨ہوشیار—میرے پشتون بھائیو، ناپاک فوج کے گندے ہتھکنڈوں کا حصہ نہیں بننا۔ کسی 9 مئی طرز کی فالس فلیگ کا حصہ نہیں بننا۔ ہمیں پرامن طور پر صوبہ بند کرنا ہے بس❗️ #خان_کا_حُکم_صوبہ_بند #نہ_دوائی_نہ_رسائی_صرف_رہائی #عمران_خان_کہاں_ہیں @krbt804 #KRBT
5
4
87
KhanRehaiBenamiTehreek retweeted
Imran Khan Supporters Take to Streets After Emergency Rule
23
611
3
2,057
19,229
KhanRehaiBenamiTehreek retweeted
Pakistan Zindabad!
🚨🇵🇰 Despite gunfires, Protestors are not backing off in KPK
188
6,010
55
19,824
155,754
KhanRehaiBenamiTehreek retweeted
سر ہم نے پھر سے گولی چلا دی اور شہری شہید کردیے۔ آئی ایس پی آر نے رپورٹ عاصم منیر کو پیش کردی
25
1,031
10
3,302
41,419
KhanRehaiBenamiTehreek retweeted
Horrifying footage appears to show police firing directly at PTI protesters, leaving civilians wounded. Why? Demanding the release of their elected political leader and standing by democracy. Those responsible for ordering and carrying out this brutality must be held accountable. Relentless bloodshed and fearmongering from Asim Munir’s petrified regime. Scared people often lash out with the most cruel brutality, and that’s what we’re seeing here. A man terrified to lose power, and terrified of his own people’s will. The world must watch and take action. We absolutely must take a united stand against tyranny and evil.
531
9,941
150
17,357
203,382
KhanRehaiBenamiTehreek retweeted
🚨 COMING UP — #KRBT LIVE X SPACE 🕰️ TIme: 5pm ET, 10pm CET, 2am PST (24th Sep) 🎙️ IN ENGLISH — FOR THE INTERNATIONAL COMMUNITY ⚠️ PAKISTAN’S RULE-OF-LAW CRISIS 🔴 Imran Khan’s solitary confinement 🔴 The detention of his sisters 🔴 Court orders and fundamental rights have been disregarded. 🔴 Shehbaz Sharif’s government and Asim Munir are at the centre of Pakistan’s escalating political and institutional crisis. 🔴 Pakistan’s justice system faces serious concerns over judicial independence and its failure to protect fundamental rights. When those accused of abusing power face no accountability, and the institutions meant to deliver justice are themselves accused of complicity — who protects the people of Pakistan? 🌍 WHAT IS THE INTERNATIONAL COMMUNITY DOING? @ImranKhanPTI @Kasim_Khan_1999 @krbt804 @hrw @UN @CNN @BBCWorld #KRBT #ReleaseImranKhan xitter.cf/i/spaces/1AGRnZV…

2
13
1
13
483
🚨 COMING UP — #KRBT LIVE X SPACE 🕰️ TIme: 5pm ET, 10pm CET, 2am PST (24th Sep) 🎙️ IN ENGLISH — FOR THE INTERNATIONAL COMMUNITY ⚠️ PAKISTAN’S RULE-OF-LAW CRISIS 🔴 Imran Khan’s solitary confinement 🔴 The detention of his sisters 🔴 Court orders and fundamental rights have been disregarded. 🔴 Shehbaz Sharif’s government and Asim Munir are at the centre of Pakistan’s escalating political and institutional crisis. 🔴 Pakistan’s justice system faces serious concerns over judicial independence and its failure to protect fundamental rights. When those accused of abusing power face no accountability, and the institutions meant to deliver justice are themselves accused of complicity — who protects the people of Pakistan? 🌍 WHAT IS THE INTERNATIONAL COMMUNITY DOING? @ImranKhanPTI @Kasim_Khan_1999 @krbt804 @hrw @UN @CNN @BBCWorld #KRBT #ReleaseImranKhan xitter.cf/i/spaces/1AGRnZV…

2
13
1
13
483
🚨 COMING UP — #KRBT LIVE X SPACE 🗓️ Date: 23rd September, Wednesday 🕰️ TIme: 5pm ET, 10pm CET, 2am PST (24th Sep) 🎙️ IN ENGLISH — FOR THE INTERNATIONAL COMMUNITY ⚠️ PAKISTAN’S RULE-OF-LAW CRISIS 🔴 Imran Khan’s solitary confinement 🔴 The detention of his sisters 🔴 Court orders and fundamental rights have been disregarded. 🔴 Shehbaz Sharif’s government and Asim Munir are at the centre of Pakistan’s escalating political and institutional crisis. 🔴 Pakistan’s justice system faces serious concerns over judicial independence and its failure to protect fundamental rights. When those accused of abusing power face no accountability, and the institutions meant to deliver justice are themselves accused of complicity — who protects the people of Pakistan? 🌍 WHAT IS THE INTERNATIONAL COMMUNITY DOING? @ImranKhanPTI @Kasim_Khan_1999 @krbt804 @hrw @UN @CNN @BBCWorld #KRBT #ReleaseImranKhan
17
1
17
524
🆘 KHAN’S LIFE IS IN GRAVE DANGER 🆘 💚 He devoted his entire life to Pakistan. 💔 He sacrificed his family life and gave everything for his country. 🥹 Today, he is enduring unimaginable suffering for the people he has always called “Mere Pakistanio.” ⚠️ He may have lost his one eye sight. ⛓️ Asim Munir’s inhumane incarceration and prolonged solitary confinement may ultimately cost Khan his life. Yet, despite his pain and suffering, he is still waiting for his people to rise, come forward and break the chains of slavery. ❓ What are we waiting for❓ ✊ Let us follow Khan’s instructions and honour his wisdom. Let us bring #KPK to a complete shutdown, for Khan, for justice and for Pakistan. 🥹🙏 “Either you surrender, or you fight for freedom till death. What will we do? My belief is; there is no God but one, and we will fight”, @ImranKhanPTI @Kasim_Khan_1999 #KRBT @krbt804 #خان_کا_حُکم_صوبہ_بند
3
53
5
76
2,969
پارٹ 3 : آخری حصہ فوجی اور عسکری PTI کے صحافیوں سے خان کی صحت کو لے کر غیر مستند اطلاعات پھیلائی جاتی ہیں۔ بے شک یہ اطلاعات غیر مستند تھیں، مگر ان اطلاعات کو لے کر عوام میں سخت قسم کا ری ایکشن آیا اور بات ہونے لگی کہ خدا نخواستہ خان کو کچھ ہوا تو عوام عسکری پی ٹی آئی سمیت کسی کو نہیں چھوڑے گی۔ اسی وجہ سے مارچ میں جمع کرائی گئی عظمیٰ آپا کی پٹیشن سپریم کورٹ میں اچانک لگ جاتی ہے اور ایک ہی دن میں ایک سخت قسم کا فیصلہ دے دیا جاتا ہے کہ خان کو شفا انٹرنیشنل ٹرانسفر کرو، ورنہ توہینِ عدالت کی کارروائی ہوگی، اور بہنوں کی ملاقات کو ان کی خاموشی سے مشروط کر کے ان سے حلف نامے پر دستخط کروائے گئے۔ یہ سب کچھ عسکری پی ٹی آئی کروا رہی تھی۔ اور پھر وہی ہوتا ہے جس کا KRBT# کو خدشہ تھا کہ خان شفا انٹرنیشنل جانے کی رضامندی تو ظاہر کرتے ہیں کہ وہ شفا ضرور جائیں گے، مگر وہاں قیام نہیں کریں گے۔ اس لیے خان صاحب کو شفا انٹرنیشنل لے جایا ہی نہیں گیا تھا، کیونکہ اس ساری سازش کے پیچھے عسکری PTI کا فوج اور سپریم کورٹ کے ساتھ مل کر خان کو ایک ڈیل کے تحت شفا انٹرنیشنل پہنچا کر وہاں سے بنی گالا پہنچانے کا پلان تھا، جو خان نے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا۔ مگر مقصد خان کو کسی بھی طرح سے ڈیل کے ذریعے، یا پھر مرسی کی طرح، مائنس کرنا تھا۔ لندن پلان ٹو کیا ہے؟ اب جبکہ ہم سب یہ سمجھ چُکے ہیں کہ قومی حکومت انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کا پلان ہے اور خان کے ہوتے ہوئے یا خان کی رضامندی کے بغیر قومی حکومت کا نفاذ عملاً ناممکن ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ فوج سے جڑی انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کو بھی پتا ہے کہ زرداری اور نواز فوج کی بات آسانی مان جائیں گے مگر عوام نہیں مانے گی۔ اس لیے فوج کے کہنے پر انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ نے ان سب سیاستدانوں کی لندن میں دوبارہ بیٹھک کروائی اور تمام معاملات طے کیے۔ اس میں ایک خاص بات یہ تھی کہ عسکری PTI کی طرف سے زلفی بخاری شامل ہوا۔ اگر آپ کو یاد ہو تو اس بیٹھک کے آس پاس کے دنوں میں زلفی بخاری نے خان کا نام استعمال کر کے اوپن فورم پر انٹرنیشنل میڈیا کو بتایا کہ خان عاصم منیر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کریں گے۔ اب ہو کیا رہا ہے؟ ● تمام سیاسی جماعتیں اور اسٹیبلشمنٹ ایک ہو چکی ہیں، کیونکہ انہیں یقین ہو گیا ہے کہ خان نہ جھکے گا اور نہ کسی قسم کی ڈیل کرے گا۔ ● اب فوج کا امیج بہتر بنانے اور عسکری PTI کو ایک بڑی سیاسی قوت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ● اسی منصوبے کے تحت سہیل خان اور شاہ محمود قریشی کو عمران خان کے متبادل کے طور پر سامنے لایا جا رہا ہے۔ ● ہم نے خان صاحب کی بہنوں کو بار بار خبردار کیا تھا کہ ان لوگوں کی حمایت نہ کریں، کیونکہ بالآخر انہوں نے (لیڈرشپ) وہی کرنا ہے جو فوج انہیں کہے گی۔ ● لاہور میں ہونے والا موجودہ سیاسی تماشا بھی اسی منصوبے کا حصہ ہے۔ پنجاب حکومت مکمل سہولت کاری کر رہی ہے تاکہ سہیل خان اور شاہ محمود قریشی کو PTI کا ایک بہت بڑا اور طاقت ور نام بنا کر پیش کیا جا سکے۔ ● حیرت کی بات یہ ہے کہ سہیل خان کے لیے جنید اکبر صوبہ بند کرنے کی دھمکی لگا دیتا ہے ، لیکن جب عمران خان نے کہا تھا کہ اگر انہیں چار ہفتے تنہائی میں رکھا جائے تو صوبہ بند کر دیا جائے، تب کسی نے عملی قدم نہیں اٹھایا۔ ● یہی نہیں KPK اسمبلی کے سینیئر سیاستدانوں نے رات گئے ایک بیٹھک بلائی اور اگلے ہی دن صوبائی اسمبلی کا اجلاس بلایا جو کہ آج تک خان کے لئے نہیں بلایا گیا۔ ● اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عسکری PTI کی جڑیں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کس قدر گہری ہو چکی ہیں۔ ● گزشتہ چند ہفتوں سے جاری یہ پورا سیاسی ڈراما فوج کی نگرانی میں چل رہا ہے، اور تمام متعلقہ سیاست دان اس منصوبے میں شریک ہیں۔ لندن پلان ٹو کا سیدھا اور واضح مطلب ہے: ● عمران خان کو مائنس کرو۔ ● عوام کو فیصلہ سازی سے باہر رکھو۔ ● تمام سیاسی اور فوجی قوتیں آپس میں اقتدار اور مفادات تقسیم کر لیں۔ ● مل جل کر پاکستان کو کھاؤ۔ ● اور پاکستان میں ہمیشہ کے لئے ایک سول مارشل لاء لگا دیا جائے ۔ جس کا پورا کنٹرول فوج کو مل جائے۔ اس پورے منصوبے میں نہ عمران خان کی جگہ ہے اور نہ ہی عوام کی۔ خان اور عوام دونوں کو مائنس کرکے یہ لوگ صرف خود کو پلس کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ @ImranKhanPTI #لندن_پلان_2
پارٹ 2: اب مسئلہ کیا ہوا ہے؟ مسئلہ یہ ہوا ہے کہ یہ نظام اب آگے نہیں چل رہا۔ قومی حکومت بنا کر اب فوج یہ سمجھتی ہے کہ گزشتہ اٹھہتر سال سے جس طرح سیاستدانوں کے ساتھ نورا کشتی کھیل کر، یا سیاستدانوں کی اپنی نورا کشتیوں کے ذریعے پورا نظام چلایا گیا، اب وہ طریقہ کامیاب نہیں ہو پا رہا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگ خان کے نظریے کو سمجھ چکے ہیں۔ لوگ اب اس نظام پر اعتبار ہی نہیں کرتے۔ یہ نظام بوسیدہ ہو چکا ہے۔ پاکستان کا نظام گل سڑ گیا ہے اور اسی لیے لوگوں نے اس نظام کے اندر سرمایہ کاری کرنا چھوڑ دی ہے۔ نہ صرف پاکستان کے اندر رہنے والے پاکستانی بلکہ بیرونِ ملک مقیم اوورسیز پاکستانی بھی اس نظام پر بالکل اعتبار نہیں کرتے۔ کیونکہ انہیں پتا ہے کہ اس نظام کے اندر آپ جو بھی سرمایہ کاری کریں گے، وہ کرپشن کی نذر ہو جائےگی۔ آپ جو بھی کاروبار کھولیں گے، یا تو فوج اسے اٹھا کر لے جائے گی، چوری کرکے لے جائے گی، یا پھر سیاستدان اسے چوری کرکے لے جائیں گے۔ اب ہو کیا رہا ہے؟ چونکہ اب فوج پوری طرح سے خود کو ایکسپوز کر چُکی ہے (بادشاہ ننگا ہو چُکا ہے)، یا اس طرح سے کہیں کہ خان صاحب کی حکمتِ عملی سے فوج اور سیاستدان 78 سال میں پہلی مرتبہ پوری طرح کھل کر سامنے آچُکے ہیں۔ اب نہ تو فوج 90 کی دہائی والے سیاستدانوں کی نورا کُشتی دکھا سکتی ہے اور نہ مارشل لا لگانا تو دور، اس کا چورن بھی بیچ سکتی ہے۔ کیونکہ ایک مردِ مومن اور مردِ حق، عمران احمد خان نیازی، کا شعور پاکستانیوں کی رگوں میں دوڑ رہا ہے اور پاکستانی اب فوج کے سر پر جوتے رکھ رکھ کر مار رہے ہیں۔ اس بار عوام نے 14 اگست کو جشن آزادی نہ منا کر اپنے جذبات کا اظہار کیا اور فوج کے تابوت میں ڈال کر دفنا دیا۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی، عوام نے 6 ستمبر کو فوج کے تابوت میں آخری کیل ٹھوک دی ہے۔ غرض یہ کہ فوج، پیپلز پارٹی، نون لیگ، فضل الرحمن ، جماعتِ اسلامی اور MQM سیٹیں پوری ہونے کے باوجود بھی مل کر قومی حکومت نہیں بنا سکتے۔ اس کی وجہ عوام کا ری ایکشن ہے، جو ان کو ڈرا رہا ہے، اور خان صاحب بھی اس پلان کے خلاف ہیں۔ خان صاحب کا نئے یونٹ بنانے کے لیے ایک ہی مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ عوام کے ووٹ سے آنے والی پارلیمنٹ ہی کر سکتی ہے، نہ کہ فارم 47 والی جعلی پارلیمنٹ۔ فوج کو پتا ہے کہ جب بھی یونٹ بنانے کی کوشش ہوگی تو عوام کا بہت ہی سخت ری ایکشن آئے گا اور لینے کے دینے پڑ جانے ہیں۔ فوج کو پتا ہے کہ قومی حکومت صرف اور صرف خان کی رضامندی سے بن سکتی ہے، کیونکہ عوام خان کے ساتھ ہے اور عوام کو خان ہی کنٹرول کر سکتا ہے۔ اس لیے اس پلان کو کامیاب بنانے کے لیے علامہ ناصر اور اچکزئی کو ساتھ ملایا گیا اور ان کے ذریعے یہ ڈیل جنوری میں عسکری PTI کے ساتھ فائنل کی گئی۔ اگرچہ قومی حکومت بنانے کے لیے جنوری میں سارے معاملات طے ہو چُکے تھے، مگر مسئلہ عوام کا وہیں کھڑا تھا کہ عوام تو خان کے ساتھ ہے، کیونکہ عوام عسکری پی ٹی آئی سمیت تمام جماعتوں کو مسترد کر چُکی ہے، جس کی زندہ مثال آٹھ فروری کی ہڑتال تھی، جو عوام کی ان عسکری نمائندوں پر عدم اعتمادی کی وجہ سے بری طرح سے ناکام ہوئی۔ مگر عوام کی خان سے محبت میں مزید شدت آئی، جس کی زندہ مثال 12 سے 18 فروری کا KRBT# لاک ڈاؤن ہے، جس میں کارکنان اور عوام نے لیڈر لیس ہو کر بھرپور شرکت کی اور چار دن KPK صوبہ بند رکھا اور حکومت کو گھٹنوں پر لے آئی۔ مگر عسکری PTI کی فوج سے ملی بھگت سے اس لاک ڈاؤن کو شفا انٹرنیشنل کا جھانسا دے کر ختم کروا دیا گیا۔ یہاں پر اس بات کا ذکر کرنا اور سوال اُٹھانا ضروری بنتا ہے کہ کیا خان کی آنکھ اور صحت واقعی خراب ہے؟ اگر ایسا ہے تو جب 19 فروری کو خان کو شفا منتقل نہیں کیا گیا تو پھر واپس صوبہ دوبارہ بند کیوں نہ کیا گیا؟ کیونکہ عوام جن کے کہنے پر گھر گئی، وہ اب KRBT# کے لیے تو واپس آنے سے رہی، اور ہمیں اس بات کا اندازہ 3 مارچ کے دوبارہ لاک ڈاؤن کرنے سے ہوا کہ کوئی تو اس کے پیچھے تھا جو یہ لاک ڈاؤن نہیں ہونے دے رہا تھا۔ اور پھر اس کے بعد خان کی آنکھ اور صحت کو لے کر ایک لمبی خاموشی ہے، جس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ مگر KRBT# کے پاس اس کا جواب ہے، اور وہ یہ ہے کہ جان بوجھ کر عسکری قیادت کی سہولت کاری سے خان کو توڑنے کے لیے خان کو مزید آئیسولیٹ رکھا گیا، تاکہ خان کوئی ڈیل کر کے گھر بیٹھ جائے۔ @ImranKhanPTI #لندن_پلان_2
3
17
4
15
1,282
پارٹ 2: اب مسئلہ کیا ہوا ہے؟ مسئلہ یہ ہوا ہے کہ یہ نظام اب آگے نہیں چل رہا۔ قومی حکومت بنا کر اب فوج یہ سمجھتی ہے کہ گزشتہ اٹھہتر سال سے جس طرح سیاستدانوں کے ساتھ نورا کشتی کھیل کر، یا سیاستدانوں کی اپنی نورا کشتیوں کے ذریعے پورا نظام چلایا گیا، اب وہ طریقہ کامیاب نہیں ہو پا رہا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگ خان کے نظریے کو سمجھ چکے ہیں۔ لوگ اب اس نظام پر اعتبار ہی نہیں کرتے۔ یہ نظام بوسیدہ ہو چکا ہے۔ پاکستان کا نظام گل سڑ گیا ہے اور اسی لیے لوگوں نے اس نظام کے اندر سرمایہ کاری کرنا چھوڑ دی ہے۔ نہ صرف پاکستان کے اندر رہنے والے پاکستانی بلکہ بیرونِ ملک مقیم اوورسیز پاکستانی بھی اس نظام پر بالکل اعتبار نہیں کرتے۔ کیونکہ انہیں پتا ہے کہ اس نظام کے اندر آپ جو بھی سرمایہ کاری کریں گے، وہ کرپشن کی نذر ہو جائےگی۔ آپ جو بھی کاروبار کھولیں گے، یا تو فوج اسے اٹھا کر لے جائے گی، چوری کرکے لے جائے گی، یا پھر سیاستدان اسے چوری کرکے لے جائیں گے۔ اب ہو کیا رہا ہے؟ چونکہ اب فوج پوری طرح سے خود کو ایکسپوز کر چُکی ہے (بادشاہ ننگا ہو چُکا ہے)، یا اس طرح سے کہیں کہ خان صاحب کی حکمتِ عملی سے فوج اور سیاستدان 78 سال میں پہلی مرتبہ پوری طرح کھل کر سامنے آچُکے ہیں۔ اب نہ تو فوج 90 کی دہائی والے سیاستدانوں کی نورا کُشتی دکھا سکتی ہے اور نہ مارشل لا لگانا تو دور، اس کا چورن بھی بیچ سکتی ہے۔ کیونکہ ایک مردِ مومن اور مردِ حق، عمران احمد خان نیازی، کا شعور پاکستانیوں کی رگوں میں دوڑ رہا ہے اور پاکستانی اب فوج کے سر پر جوتے رکھ رکھ کر مار رہے ہیں۔ اس بار عوام نے 14 اگست کو جشن آزادی نہ منا کر اپنے جذبات کا اظہار کیا اور فوج کے تابوت میں ڈال کر دفنا دیا۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی، عوام نے 6 ستمبر کو فوج کے تابوت میں آخری کیل ٹھوک دی ہے۔ غرض یہ کہ فوج، پیپلز پارٹی، نون لیگ، فضل الرحمن ، جماعتِ اسلامی اور MQM سیٹیں پوری ہونے کے باوجود بھی مل کر قومی حکومت نہیں بنا سکتے۔ اس کی وجہ عوام کا ری ایکشن ہے، جو ان کو ڈرا رہا ہے، اور خان صاحب بھی اس پلان کے خلاف ہیں۔ خان صاحب کا نئے یونٹ بنانے کے لیے ایک ہی مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ عوام کے ووٹ سے آنے والی پارلیمنٹ ہی کر سکتی ہے، نہ کہ فارم 47 والی جعلی پارلیمنٹ۔ فوج کو پتا ہے کہ جب بھی یونٹ بنانے کی کوشش ہوگی تو عوام کا بہت ہی سخت ری ایکشن آئے گا اور لینے کے دینے پڑ جانے ہیں۔ فوج کو پتا ہے کہ قومی حکومت صرف اور صرف خان کی رضامندی سے بن سکتی ہے، کیونکہ عوام خان کے ساتھ ہے اور عوام کو خان ہی کنٹرول کر سکتا ہے۔ اس لیے اس پلان کو کامیاب بنانے کے لیے علامہ ناصر اور اچکزئی کو ساتھ ملایا گیا اور ان کے ذریعے یہ ڈیل جنوری میں عسکری PTI کے ساتھ فائنل کی گئی۔ اگرچہ قومی حکومت بنانے کے لیے جنوری میں سارے معاملات طے ہو چُکے تھے، مگر مسئلہ عوام کا وہیں کھڑا تھا کہ عوام تو خان کے ساتھ ہے، کیونکہ عوام عسکری پی ٹی آئی سمیت تمام جماعتوں کو مسترد کر چُکی ہے، جس کی زندہ مثال آٹھ فروری کی ہڑتال تھی، جو عوام کی ان عسکری نمائندوں پر عدم اعتمادی کی وجہ سے بری طرح سے ناکام ہوئی۔ مگر عوام کی خان سے محبت میں مزید شدت آئی، جس کی زندہ مثال 12 سے 18 فروری کا KRBT# لاک ڈاؤن ہے، جس میں کارکنان اور عوام نے لیڈر لیس ہو کر بھرپور شرکت کی اور چار دن KPK صوبہ بند رکھا اور حکومت کو گھٹنوں پر لے آئی۔ مگر عسکری PTI کی فوج سے ملی بھگت سے اس لاک ڈاؤن کو شفا انٹرنیشنل کا جھانسا دے کر ختم کروا دیا گیا۔ یہاں پر اس بات کا ذکر کرنا اور سوال اُٹھانا ضروری بنتا ہے کہ کیا خان کی آنکھ اور صحت واقعی خراب ہے؟ اگر ایسا ہے تو جب 19 فروری کو خان کو شفا منتقل نہیں کیا گیا تو پھر واپس صوبہ دوبارہ بند کیوں نہ کیا گیا؟ کیونکہ عوام جن کے کہنے پر گھر گئی، وہ اب KRBT# کے لیے تو واپس آنے سے رہی، اور ہمیں اس بات کا اندازہ 3 مارچ کے دوبارہ لاک ڈاؤن کرنے سے ہوا کہ کوئی تو اس کے پیچھے تھا جو یہ لاک ڈاؤن نہیں ہونے دے رہا تھا۔ اور پھر اس کے بعد خان کی آنکھ اور صحت کو لے کر ایک لمبی خاموشی ہے، جس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ مگر KRBT# کے پاس اس کا جواب ہے، اور وہ یہ ہے کہ جان بوجھ کر عسکری قیادت کی سہولت کاری سے خان کو توڑنے کے لیے خان کو مزید آئیسولیٹ رکھا گیا، تاکہ خان کوئی ڈیل کر کے گھر بیٹھ جائے۔ @ImranKhanPTI #لندن_پلان_2
پارٹ 1: لندن پلان 2 کیا ہے؟ یہ سمجھنا ہر پاکستانی، ہر کارکن اور ہر اُس نظریاتی ورکر کے لیے بہت ضروری ہے جو خان سے محبت کرتا ہے، جو پاکستان سے محبت کرتا ہے اور جو خان کو جیل سے باہر آتے دیکھنا چاہتا ہے۔ لندن پلان ٹو بنیادی طور پر اُس قومی حکومت کی اگلی کڑی ہے، جس کے بارے میں ہم نے تقریباً آٹھ مہینے پہلے آپ سب کو بتایا تھا۔ قومی حکومت کیا ہے؟ 26ویں اور 27ویں ترامیم کے بعد فوج 28ویں ترمیم لا کر صوبائی خودمختاری ختم کر دے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ صوبوں کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ صوبے ختم کرکے چھوٹے چھوٹے انتظامی یونٹس بنا دیں۔ کسی صوبے کے تین یونٹس بنیں گے اور کسی کے پانچ، اور ان تمام یونٹس کا کنٹرول وفاق کے پاس چلا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فوج مکمل طور پر پاکستان پر آئینی انداز میں سول مارشل لا نافذ کر دے گی۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کے چپے چپے سے نکلنے والی معدنیات ہوں، زراعت ہو، پانی ہو یا دیگر قدرتی اور صنعتی وسائل، ان سب کا کنٹرول فوج کے پاس چلا جائے گا۔ پھر یہ وسائل، یا بالکل ایسے کہیے کہ ان یونٹس کو چند ٹکوں کے عوض اسرائیل کے حوالے کر دیا جائے گا۔ اسے مزید سمجھنے کے لیے آپ ویسٹ کا اسرائیلی ماڈل پڑھ لیں کہ کیسے انہوں نے فلسطین پر قبضہ جمایا اور آج فلسطینیوں کی نسل کشی جاری ہے، جیسے پاکستان میں کشمیر، بلوچستان اور قبائلی علاقہ جات میں جاری ہے۔ اس کے بعد آپ ان یونٹس کے قیام کے پیچھے اسرائیل اور ناپاک فوج کے ایجنڈے کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ قومی حکومت سے کون کون لاعلم ہے؟ قومی حکومت کے اس منصوبے سے خان صاحب، خان کے کارکنان اور عوام آج تک بالکل لاعلم ہیں۔ اس کی اصل وجہ عسکری PTI اور عسکری PTI کے دانستہ یا نادانستہ سہولت کار ہیں، جو اپنی سیاسی کم فہمی اور بصیرت کی کمی کی وجہ سے اس منصوبے کا حصہ بن رہے ہیں۔ یہ بات یاد رکھیے گا کہ اگر خان کو اس قومی حکومت کے منصوبے کی ذرا سی بھی بھنک پڑ گئی تو خان صاحب فوری طور پر عسکری قیادت کو اسمبلیوں سے استعفے دینے کا کہیں گے، کیونکہ خان عوام کے مینڈیٹ پر اتنا بڑا ڈاکا نہیں ڈالنے دیں گے۔ یہاں ایک بات کرنا بہت ضروری ہے۔ ہم KRB# والے سمجھتے ہیں کہ خان صاحب کو کہیں نہ کہیں اس بات کا ضرور اندیشہ تھا۔ اسی وجہ سے خان صاحب نے 26ویں ترمیم کے خلاف 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا، مگر گنڈاپور اور اس عسکری قیادت کے فریب کی وجہ سے 26ویں آئینی ترمیم منظور ہوگئی۔ اسی وجہ سے ہمارا خیال ہے کہ خان نے 26ویں ترمیم کے بعد قائمہ کمیٹیوں سے استعفے دینے کا بھی کہا تھا، لیکن اس ہدایت پر آج تک عمل نہیں ہو پایا۔ خان صاحب نے یہ بھی بھانپ لیا تھا کہ فوج انہیں عوام سے آئسولیٹ کرکے کچھ بڑا ضرور کرے گی۔ اسی لیے خان نے 16 اکتوبر کو اپنی پارٹی کو واضح ہدایات دی تھیں کہ اگر یہ مجھے چار ہفتوں سے زیادہ آئسولیٹ کریں تو صوبہ بند کر دینا۔ خان صاحب کا مقصد اب سمجھ میں آتا ہے۔ وہ عوام کے ساتھ جڑے رہنا چاہتے تھے تاکہ فوج اس طرح کا کوئی نیا سیٹ اَپ نہ لے آئے۔ آج آپ خان صاحب کی دوراندیشی دیکھیں کہ اس قومی حکومت کے منصوبے کے لیے فوج نے نہ صرف خان کو عوام سے جدا کر دیا ہے بلکہ خان کو سخت اذیت دے کر مرسی کی طرح شہید کرنے کا منصوبہ بھی بنا لیا ہے۔ اس منصوبے میں عسکری PTI مکمل طور پر فوج کی سہولت کاری کر رہی ہے۔ پاکستان میں کرپٹ مافیا کا نظام یہ ایک بہت اہم بات ہے جو آپ لوگوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یاد رکھیے گا کہ پاکستان میں جو نظام چل رہا ہے، وہ ایک بہت بڑے مافیا کا نظام ہے۔ اس کے اندر مختلف قسم کے مافیا کام کر رہے ہیں۔ ایک ملٹری مافیا ہے اور دوسرا سیاستدانوں کا مافیا بن چکا ہے۔ جب سیاستدان اور ملٹری دونوں مل جاتے ہیں اور ایک دوسرے کو سپورٹ کرتے ہیں تو ان کے لیے تمام راہیں ہموار ہو جاتی ہیں۔ وہ ایک دوسرے کے لیے آگے بڑھتے ہیں اور ایک دوسرے کے لیے سب کچھ کرتے ہیں۔ وہ اس کے لیے چوری کرتا ہے اور وہ اس کے لیے چوری کرتا ہے۔ سب مال بنا رہے ہوتے ہیں اور سب حرام کا پیسہ اکٹھا کر رہے ہوتے ہیں۔ #لندن_پلان_2 @ImranKhanPTI
2
18
6
18
3,914
پارٹ 1: لندن پلان 2 کیا ہے؟ یہ سمجھنا ہر پاکستانی، ہر کارکن اور ہر اُس نظریاتی ورکر کے لیے بہت ضروری ہے جو خان سے محبت کرتا ہے، جو پاکستان سے محبت کرتا ہے اور جو خان کو جیل سے باہر آتے دیکھنا چاہتا ہے۔ لندن پلان ٹو بنیادی طور پر اُس قومی حکومت کی اگلی کڑی ہے، جس کے بارے میں ہم نے تقریباً آٹھ مہینے پہلے آپ سب کو بتایا تھا۔ قومی حکومت کیا ہے؟ 26ویں اور 27ویں ترامیم کے بعد فوج 28ویں ترمیم لا کر صوبائی خودمختاری ختم کر دے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ صوبوں کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ صوبے ختم کرکے چھوٹے چھوٹے انتظامی یونٹس بنا دیں۔ کسی صوبے کے تین یونٹس بنیں گے اور کسی کے پانچ، اور ان تمام یونٹس کا کنٹرول وفاق کے پاس چلا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فوج مکمل طور پر پاکستان پر آئینی انداز میں سول مارشل لا نافذ کر دے گی۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کے چپے چپے سے نکلنے والی معدنیات ہوں، زراعت ہو، پانی ہو یا دیگر قدرتی اور صنعتی وسائل، ان سب کا کنٹرول فوج کے پاس چلا جائے گا۔ پھر یہ وسائل، یا بالکل ایسے کہیے کہ ان یونٹس کو چند ٹکوں کے عوض اسرائیل کے حوالے کر دیا جائے گا۔ اسے مزید سمجھنے کے لیے آپ ویسٹ کا اسرائیلی ماڈل پڑھ لیں کہ کیسے انہوں نے فلسطین پر قبضہ جمایا اور آج فلسطینیوں کی نسل کشی جاری ہے، جیسے پاکستان میں کشمیر، بلوچستان اور قبائلی علاقہ جات میں جاری ہے۔ اس کے بعد آپ ان یونٹس کے قیام کے پیچھے اسرائیل اور ناپاک فوج کے ایجنڈے کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ قومی حکومت سے کون کون لاعلم ہے؟ قومی حکومت کے اس منصوبے سے خان صاحب، خان کے کارکنان اور عوام آج تک بالکل لاعلم ہیں۔ اس کی اصل وجہ عسکری PTI اور عسکری PTI کے دانستہ یا نادانستہ سہولت کار ہیں، جو اپنی سیاسی کم فہمی اور بصیرت کی کمی کی وجہ سے اس منصوبے کا حصہ بن رہے ہیں۔ یہ بات یاد رکھیے گا کہ اگر خان کو اس قومی حکومت کے منصوبے کی ذرا سی بھی بھنک پڑ گئی تو خان صاحب فوری طور پر عسکری قیادت کو اسمبلیوں سے استعفے دینے کا کہیں گے، کیونکہ خان عوام کے مینڈیٹ پر اتنا بڑا ڈاکا نہیں ڈالنے دیں گے۔ یہاں ایک بات کرنا بہت ضروری ہے۔ ہم KRB# والے سمجھتے ہیں کہ خان صاحب کو کہیں نہ کہیں اس بات کا ضرور اندیشہ تھا۔ اسی وجہ سے خان صاحب نے 26ویں ترمیم کے خلاف 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا، مگر گنڈاپور اور اس عسکری قیادت کے فریب کی وجہ سے 26ویں آئینی ترمیم منظور ہوگئی۔ اسی وجہ سے ہمارا خیال ہے کہ خان نے 26ویں ترمیم کے بعد قائمہ کمیٹیوں سے استعفے دینے کا بھی کہا تھا، لیکن اس ہدایت پر آج تک عمل نہیں ہو پایا۔ خان صاحب نے یہ بھی بھانپ لیا تھا کہ فوج انہیں عوام سے آئسولیٹ کرکے کچھ بڑا ضرور کرے گی۔ اسی لیے خان نے 16 اکتوبر کو اپنی پارٹی کو واضح ہدایات دی تھیں کہ اگر یہ مجھے چار ہفتوں سے زیادہ آئسولیٹ کریں تو صوبہ بند کر دینا۔ خان صاحب کا مقصد اب سمجھ میں آتا ہے۔ وہ عوام کے ساتھ جڑے رہنا چاہتے تھے تاکہ فوج اس طرح کا کوئی نیا سیٹ اَپ نہ لے آئے۔ آج آپ خان صاحب کی دوراندیشی دیکھیں کہ اس قومی حکومت کے منصوبے کے لیے فوج نے نہ صرف خان کو عوام سے جدا کر دیا ہے بلکہ خان کو سخت اذیت دے کر مرسی کی طرح شہید کرنے کا منصوبہ بھی بنا لیا ہے۔ اس منصوبے میں عسکری PTI مکمل طور پر فوج کی سہولت کاری کر رہی ہے۔ پاکستان میں کرپٹ مافیا کا نظام یہ ایک بہت اہم بات ہے جو آپ لوگوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یاد رکھیے گا کہ پاکستان میں جو نظام چل رہا ہے، وہ ایک بہت بڑے مافیا کا نظام ہے۔ اس کے اندر مختلف قسم کے مافیا کام کر رہے ہیں۔ ایک ملٹری مافیا ہے اور دوسرا سیاستدانوں کا مافیا بن چکا ہے۔ جب سیاستدان اور ملٹری دونوں مل جاتے ہیں اور ایک دوسرے کو سپورٹ کرتے ہیں تو ان کے لیے تمام راہیں ہموار ہو جاتی ہیں۔ وہ ایک دوسرے کے لیے آگے بڑھتے ہیں اور ایک دوسرے کے لیے سب کچھ کرتے ہیں۔ وہ اس کے لیے چوری کرتا ہے اور وہ اس کے لیے چوری کرتا ہے۔ سب مال بنا رہے ہوتے ہیں اور سب حرام کا پیسہ اکٹھا کر رہے ہوتے ہیں۔ #لندن_پلان_2 @ImranKhanPTI
🤖 Made with AI
📌 خان کی رہائی — مختلف ممکنہ Scenarios کا تجزیہ Disclaimer: یہ چارٹ خان کی رہائی اور ان کی well-being سے متعلق مختلف ممکنہ Scenarios کی نشاندہی کرتا ہے کہ آگے تحریک کس سمت جا سکتی ہے۔ اس کا مقصد مختلف امکانات پر غور کرنا ہے، نہ کہ کسی ایک نتیجے کو یقینی یا حتمی قرار دینا ہے- 🟢 کامیاب Scenario نمبر 1 خیبر پختونخواہ سے خان کے حکم کے مطابق صوبہ بند کرنے کا آغاز ہو اور پھر پورے ملک میں لاک ڈاؤن ہو: خیبر پختونخوا مکمل طور پر بند ہو۔ پھر ملک گیر لاک ڈاؤن کی کال کامیاب ہو۔ نوجوان، کارکنان اور عوام بھرپور شرکت کریں۔ دباؤ مسلسل برقرار رہے۔ مطالبہ صرف اور صرف خان کی رہائی ہو۔ اس صورت میں خان کی رہائی ممکن ہے ۔ 🟢 کامیاب Scenario نمبر 2 ایک لیڈر لیس تحریک کی وجہ سے اگر کارکنان، KRBT، زمینی تنظیمیں اور عام عوام خان کے نظریے پر متحد ہو جائیں: تمام نظریاتی قوتیں ایک پلیٹ فارم پر آئیں۔ سوشل میڈیا اور گراؤنڈ، دونوں پر مکمل ہم آہنگی ہو۔ ایک مضبوط عوامی تحریک تشکیل پائے۔ عوامی دباؤ مسلسل بڑھتا رہے۔ لاک ڈاؤن کی کال دی جائے اور یہ اس وقت تک جاری رہے جب تک خان صاحب رہا نہ ہو جائیں۔ ✅ ان دونوں کامیاب Scenarios کے نتائج ۱: خان کی صحت سے متعلق حقائق سامنے آئیں گے۔ ۲: دورانِ قید پیش آنے والے واقعات سامنے آئیں گے۔ ۳: دیگر اہم حقائق بھی عوام کے سامنے آئیں گے ۔ 🔴 ناکام Scenario A اگر تحریک جاری رہے لیکن مرکزی مقصد (خان رہائی) سے توجہ ہٹ جائے: صرف خیبر پختونخواہ محدود سطح پر بند ہو۔ تحریک جاری رہے مگر مطلوبہ دباؤ پیدا نہ ہو۔ مقصد سے توجہ ہٹانے کے لئے کوئی نئی حکمت عملی اختیار کر کے ذہنی انتشار پیدا کیا جائے۔ خان جیل میں ہی رہیں۔ خان کی رہائی کا اصل مقصد پس منظر میں چلا جائے۔ 🔴 ناکام Scenario B (لانگ مارچ) اس Scenario میں لانگ مارچ کے تین ممکنہ نتائج بیان کیے گئے ہیں۔ ⚠️ لانگ مارچ B1 اگر پنجاب میں داخلے کی اجازت مل جائے: لانگ مارچ اڈیالہ تک پہنچ جائے۔ ایک fabricated قسم کی مزاحمت یا کشیدگی دکھائی جائے۔ چند قیمتی جانوں سے بھی کھیلا جائے۔ اس کی fake کامیابی کے بعد خان کی صحت کو پہنچنے والے نقصان سے متعلق مزید معلومات سامنے آئیں اور ہوشربا حقائق سے پردہ اٹھایا جائے۔ Damage control کے لیے عوام کو عدالتوں کے ذریعے بدلہ لینے کا بیانیہ دے کر واپس گھر بھیج دیا جائے۔ ⚠️ لانگ مارچ B2 اگر لانگ مارچ اڈیالہ کی طرف بڑھے اور داخلہ ملتے ہی 26 نومبر جیسا سانحہ پیش آ جائے: تشدد یا فائرنگ جیسے واقعات پیش آئیں۔ ملک میں افراتفری پیدا ہو۔ عوام میں دوبارہ خوف وہراس پھیل جائے۔ خان صاحب طویل عرصے تک جیل میں رہیں۔ خان سے متعلق معلومات طویل عرصے تک محدود رہیں۔ ⚠️ لانگ مارچ B3 اگر لانگ مارچ کو خیبر پختونخوا کے بارڈر پر روک دیا جائے: عوام بارڈر یا داخلی راستوں پر رک جائیں۔ دھرنے شروع ہو جائیں۔ کچھ دن یہی صورتحال برقرار رہے۔ پھر عدالتوں کے حوالے سے مختلف دعوے کیے جائیں۔ اندرونی اختلافات یا دیگر عوامل کے باعث روڈ بلاکس اور دھرنوں کو کمزور کرنے کی کوششیں شروع ہو جائیں۔ کبھی کہا جائے کہ خان کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا، کبھی کسی کی خان سے ملاقات کی خبر سامنے آئے۔ پھر جب عوام نہ مانیں تو چند بڑے نام ڈرامائی انداز میں گرفتار کر لیے جائیں۔ لوگ آہستہ آہستہ منتشر ہو جائیں۔ خان سے متعلق کوئی نئی معلومات سامنے نہ آئیں۔ 🔴 ناکام Scenario C اس Scenario کے مطابق یہ دکھایا جائے کہ MI کی حکمتِ عملی ناکام ہو گئی ہے اور اب ISI کی حکمتِ عملی سامنے لائی جا رہی ہے۔ اس Scenario سے پہلے B2، B1 یا B3 میں سے کوئی ایک Scenario سامنے آ چکا ہوگا۔ جیل سے چند لیڈرز سامنے لائے جائیں گے۔ وہ خان کی رہائی سے متعلق اپنا مؤقف دوبارہ پیش کرنا شروع کریں گے اور اس طرح سیاسی عمل کسی اور سمت چلا جائے گا، اور خان کی رہائی تحریک دب جائے گی۔ خان بدستور جیل میں رہیں گے اور ان کی صحت کے بارے میں واضح معلومات سامنے نہیں آئیں گی۔ 📊 آج تک کے حالات کا تجزیہ آج تک دستیاب معلومات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمارا تجزیہ یہ ہے: اس وقت Scenario B1 یا Scenario B3 وقوع پذیر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس تجزیے کے مطابق عوام میں خوف اور مایوسی پیدا ہو جائے گی جس سے خان رہائی تحریک کا دباؤ کم ہو جائے گا۔ اس کا سب سے زیادہ اثر عام عوام پر پڑے گا۔ جبکہ اصل مقصد، یعنی خان کی رہائی، مزید مؤخر ہو گی۔ ✍️ نتیجہ چارٹ میں مختلف ممکنہ Scenarios بیان کیے گئے ہیں۔ ہماری ریسرچ اور تجزیے کے مطابق کامیابی کے لیے: مقصد ایک ہونا چاہیے۔ عوامی اتحاد برقرار رہنا چاہیے۔ دباؤ مسلسل قائم رہنا چاہیے۔ توجہ صرف خان کی رہائی پر مرکوز رہنی چاہیے، نہ کہ عسکری اور ثانوی قیادت پر۔ #KRBT @ImranKhanPTI
4
30
8
27
3,165
#KRBT، #KhanRihaiBenamiTehreek محض ایک تحریک نہیں، بلکہ عمران خان کی رہائی کے لیے کھڑے ہونے والے لوگوں کی آواز، جذبہ اور عزم ہے۔ سڑکوں سے لے کر سوشل میڈیا تک، ٹیم عمران خان کے ٹائیگرز اور ٹائیگرسز متحد، منظم اور پُرعزم ہیں، اور پوری جرات و یقین کے ساتھ اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔ یہ تحریک خان کے لوگوں کے جذبے سے زندہ ہے۔ ہر آواز اہم ہے، ہر کوشش معنی رکھتی ہے، اور ہر قدم اس جدوجہد کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ یہ ویڈیو #KRBT کی زمینی جدوجہد کی چند جھلکیاں پیش کرتی ہے, مضبوطی سے کھڑے رہنے، متحد رہنے اور کبھی ہمت نہ ہارنے کی جھلکیاں✊ خان کی رہائی ہمارا مشن ہے، اور اس مشن کے لیے اتحاد ہی ہماری طاقت ہے✊ #KRBT @ImranKhanPTI #ReleaseImranKhan #KhanRihaiBenamiTehreek
14
3
18
1,282
#KRBT, #KhanRihaiBenamiTehreek, is more than a movement; it is the voice, passion, and determination of those standing for the release of Imran Khan. From the streets to social media, Team Imran Khan’s tigers and tigresses remain united, organised, and determined, raising their voices with courage and conviction. This movement lives through Khan’s people. Every voice matters. Every effort counts. Every step strengthens the struggle. This video brings back a few glimpses of #KRBT on the ground — standing strong, staying united, and refusing to give up. Khan’s release is our mission and for that unity is our strength. #KRBT @ImranKhanPTI #ReleaseImranKhan #KRBT
1
18
2
26
738
🆘 PART 3: KHAN HAS BEEN FORCIBLY ISOLATED FROM THE OUTSIDE WORLD UNDER ASIM MUNIR’S REGIME 🆘 KHAN’S SONS ARE CALLING ON THE WORLD TO ACT 🆘 CRICKET CAPTAINS ARE CALLING FOR ACTION Khan’s sons, friends and supporters worldwide are raising grave concerns about his health, safety and access to independent medical care while he remains imprisoned in Pakistan. Kasim Khan has condemned what he describes as the inhumane treatment of his father, Imran Khan, saying: “It’s very clear that they are blatantly trying to kill Imran Khan in prison.” These allegations and concerns demand serious international attention. 🆘 PAKISTAN NEEDS RULE OF LAW, FREE CAPTAIN KHAN. This is no longer simply a political issue. It is a matter of humanity, dignity and fundamental human rights. The international community must not remain silent. 🆘 SPEAK OUT 🆘 DEMAND ACTION 🆘 DEMAND KHAN’S RELEASE "It's been a long day without you, my friend And I'll tell you all about it when I see you again." 🥹 @ImranKhanPTI @Kasim_Khan_1999 @Jemima_Khan @Athersmike @therealkapildev @Javed__Miandad @patcummins30 @gradecricketer @AlexBlackwell2 @gilly381 @David215Gower @nassercricket @ArjunaRanatunga #SulaimanKhan @krbt804 #KRBT #عسکری_PTI_خان_کی_دشمن
🆘 PART 2: GRAVE CONCERN FOR KHAN 🆘 THE WORLD IS WORRIED 🆘 HIS SONS ARE WORRIED 🆘 POLITICAL LEADERS ARE WORRIED 🆘 CRICKET CAPTAINS AND LEGENDS ARE WORRIED Khan’s sons, friends and supporters around the world are deeply concerned about his health, well-being and the conditions in which he is being held under Asim Munir’s regime in Pakistan. Serious concerns are growing over his physical condition, his access to proper and independent medical care, and, above all, his overall safety. This is no longer just a political concern — it is a matter of humanity, dignity and basic human rights. The world must not remain silent when such grave concerns are being raised about the health and safety of a former prime minister. @Kasim_Khan_1999 @ImranKhanPTI @Athersmike @georgegalloway @jeremycorbyn @therealkapildev @Javed__Miandad @patcummins30 @gradecricketer #عسکری_PTI_خان_کی_دشمن
15
172
10
240
32,528
KhanRehaiBenamiTehreek retweeted
تخت بھی دیکھا، فتح بھی دیکھی، قید بھی دیکھی مگر زمانے نے اسے جھکتے نہیں دیکھا #عسکری_PTI_خان_کی_دشمن
4
38
4
53
1,238