® Muhammad Kamran retweeted
بہترین بیٹھک جس کی میزبانی @SMRehmaan بھائی نے کی،
اور ہم سب مہمان بنے @s_faisalhussain @Saim_Riz @cadetarsalan @kamranAX
دعا ہے خداوند متعال شعیب بھائی کے دسترخوان میں مزید برکت رزق کی فراوانی جاری رکھے۔ – at Karachi, Pakistan
® Muhammad Kamran retweeted
اسلام آباد کے سیکٹر جی 10 اور جی 11 کے درمیان گرین بیلٹ پر وہ مقام جہاں طالبہ لائبہ کی پھندہ لگی لاش ملی، یہی وہ درخت ہے جس سے ہونہار طالبہ کی لاش جھول رہی تھی، یہ ٹریفک پولیس کی چوکی ہے، میں یہاں گیا تو ایک وحشت کا ماحول تھا، ٹریفک پولیس کے ایک اہلکار سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا وہ دن 1 بجے ڈیوٹی پر چلے گئے تھے، اہلخانہ کے مطابق لڑکی دن 2 بجے گھر سے نکلی، 4 بجے کے قریب انہیں افسوسناک واقعے کی اطلاع ملی، یہ جگہ ویران نہیں، واکنگ ٹریک بھی یہاں موجود ہے، لوگوں کا گزر ہوتا رہتا ہے، ایسے مقام پر طالبہ کا دن کی روشنی میں آنا ، پھر درخت سے اپنا ہی دوپٹہ باندھ کر جھول جانا، یہ حیران کن ہے، اب ہونا تو یہ چاہئے کہ جو بھی اس طالبہ کی موت کا ذمے دار ہے، اسے بھی یہیں لا کر لٹکایا جائے۔۔!!
® Muhammad Kamran retweeted
صبح سے پوری پیپلز پارٹی اور ان کے گماشتے ایک جھوٹ کو ڈیفینڈ کرنے میں لگے ہیں۔ شرجیل میمن کی گاڑی کے لیے بچھایا گیا ریڈ کارپٹ اُٹھا کر، ایریل فوٹیج بنا کر یہ سمجھتے ہیں کہ لوگ بے وقوف ہیں۔۔۔ انہی کی جاری کردہ فوٹیج اور انہی کے سوشل میڈیا سرخیلوں کی پرانی ٹوئیٹس میں وہ ریڈ کارپٹ صاف نظر آ رہی ہے جسے ڈرون فوٹیج میں اُٹھا دیا گیا ہے۔۔۔ ایک تو چور اوپر سے چتر۔
® Muhammad Kamran retweeted
انتہائی مزیدار یخنی پلاؤ بمہ شیرخورمہ ❣
بشکریہ @SMRehmaan بھائی بہترین دعوت کیلئے❣
مولا رزق میں اضافہ کریں کوئی غم نہ دیں سوائے غم حسین ؑ کے۔
@kamranAX @FaiziJee98 – at Karachi, Pakistan
® Muhammad Kamran retweeted
امتیازچانڈیومیرےبھائی!
میرادکھ تم تب سمجھو گےجب امریکہ میں تمھاری تیسری نسل کواپنےساتھ ہونےوالی کسی نا انصافی
پرآوازاٹھانے پر
یانوکری یااس جیساکوئی حق مانگنے پرکوئی پہلے سے آباد امریکی یہ کہے گا تم پناہ گیر ہو۔۔
تم تمھیں مجھے دیا ئوا طعنہ یاد آئے گا
🙏
@imtiazchandyo
آپ تو برا مان گئے۔۔
تارگٹ کلر وہاں ہو یہاں ہو لعنت۔
آپ نے اس وقت تک سرکاری پرائیویٹ نوکری نہیں لینی جب تک امریکہ کا ایک بھئ اصلی باشندہ بے روگار ہے۔
امریکیوں کے ٹیکس کے پیسے سے نہ علاج کروانا ہے نہ کوئی اور سہولت لینی ہے۔
آپ کو کوئی امریکی گالیاں دے تو کہنا بھائی تیرا حق ہے میں پناہ گیر ہوں۔
اپنے بتائے سنہری اصولوں پر چلنا ہے۔
یہاں ہم اپنے ساتھ رہنے والے سندھی بھائیوں سے معاملات خوش اسلوبی سے حل کرلیں گی۔
آپ اپنا دیکھیں۔
® Muhammad Kamran retweeted
دیکھیں کسی بھی چیز کو دیکھنے کے دنیا میں صرف دو ہی نظریے ہیں
حق اور باطل (صحیح یا غلط)
چھوٹے انتظامی یونٹس سے گورنینس کے معاملات بہتر ہونگے، حکمران عام آدمی سے زیادہ قریب ہونگے۔ حکمرانوں کیلئے بھی کام کم اور آسان ہوجائے گا۔ اختیارات کی عوام تک منتقلی اور رسائی ہوگی۔
یہ حق ہے
اگر کوئی اسکی مخالفت کرے تو سمجھ لیں باطل ہے یا غلط ہے۔
باقی سب جذباتی باتیں ہیں۔
® Muhammad Kamran retweeted
فیصل آباد ایئرپورٹ پر گزشتہ رات عقل و شعور کا وہ جنازہ اٹھا کہ فرشتے بھی سر پکڑ کر بیٹھ گئے ہوں گے۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ ایک بائیس سالہ طالب علم اعلی تعلیم کے لیے بیرون ملک جانا چاہ رہا تھا۔
نوجوان طالب علم جب امیگریشن کاؤنٹر پہنچا تو سب کچھ ٹھیک تھا۔ کاغذات دیکھے گئے، کمپیوٹر میں انٹری ہوئی اور پاسپورٹ پر ایگزٹ کی مہر ثبت کر دی گئی۔ یہ مہر اس بات کی سند تھی کہ ریاست کو اس نوجوان کے باہر جانے پر کوئی اعتراض نہیں۔ مگر ابھی یہ سیاہی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ اچانک ایئرپورٹ کے ایک ارسطو اہلکار کو نجانے کیا سوجھی کہ اس نے طالب علم کو بازو سے پکڑ کر ایک طرف کر لیا اور تفتیش شروع کر دی۔
اس طالب علم کی سب سے بڑی خطا یہ تھی کہ اس نے ایک ایسے ملک کا نام لے لیا جس کا نقشہ شاید ہمارے ان جاہلِ اعظم اہلکار صاحب نے کبھی خواب میں بھی نہ دیکھا تھا۔ "لیتھوینیا!" نام سنتے ہی اہلکار صاحب کے ماتھے پر یوں بل پڑے جیسے کسی نے ان سے کوانٹم فزکس کا فارمولا پوچھ لیا ہو۔ ان کے نزدیک دنیا صرف دبئی، سعودی عرب اور لندن تک ختم ہو جاتی ہے، یہ "لیتھوینیا" بیچ میں کہاں سے ٹپک پڑا؟
اہلکار صاحب کی منطق کا عالم دیکھیے، انہیں یہ بات ہضم ہی نہیں ہو رہی تھی کہ اگر لیتھوینیا کوئی ملک ہے، تو اس کا سفارت خانہ فیصل آباد کی کچہری یا کم از کم اسلام آباد کی کسی گلی میں کیوں نہیں؟ طالب علم نے بیچارگی سے دہائی دی کہ "جناب! یہ ملک براعظم یورپ میں ہے، اور چونکہ پاکستان میں ان کا دفتر نہیں، اس لیے مجھے ویزے کے لیے پہلے باکو (آذربائیجان) جانا پڑے گا"۔
مگر صاحب! وردی کی اکڑ اور معلومات کی کمی جب آپس میں گٹھ جوڑ کر لیں تو منطق خودکشی کر لیتی ہے۔ اہلکار کے دل میں شک کا وہ ناگ بیٹھا کہ ہلنے کا نام نہ لیا۔ چونکہ اہلکار صاحب نے خود تو کبھی میٹرک سے آگے تعلیم حاصل کرنا ضروری نہیں سمجھا تھا، اس کی نظر میں وہ یونیورسٹی کا ایڈمیشن لیٹر اور 30 لاکھ روپے کی فیس کی رسیدیں محض ردی کے ٹکڑے تھے۔ اسے لگا شاید یہ لڑکا لیتھوینیا کے بہانے مریخ پر جا کر وہاں کی شہریت لینے کا ارادہ رکھتا ہے۔
طالب علم نے ایڑیاں رگڑیں، فیس کی رسیدیں لہرائیں، واسطے دیے، مگر اہلکار صاحب اپنی دانشورانہ ضد پر قائم رہے۔ نتیجہ؟ ڈھائی لاکھ کا ٹکٹ آف لوڈ کی نذر ہو گیا اور 30 لاکھ کی فیس اب لیتھوینیا کی یونیورسٹی میں پڑی ہے۔
واہ رے نظام! جہاں پہلے مہر لگائی جاتی ہے اور پھر پوچھا جاتا ہے کہ "میاں، تم ہو کون؟" ایئرپورٹ پر بیٹھے شخص کو یہ تو پتہ ہے کہ رشوت کیسے لینی ہے یا رعب کیسے جھاڑنا ہے، مگر یہ نہیں پتہ کہ دنیا کے نقشے پر کون سا ملک کہاں واقع ہے۔
حکومتِ پاکستان اور ایف آئی اے (FIA) کو چاہیے کہ ایسے ارسطوؤں کو ایئرپورٹ کے بجائے کسی پرائمری سکول کے جغرافیے کی کلاس میں بٹھائیں، تاکہ آئندہ کسی اور طالب علم کا مستقبل اس جہالت کی بھینٹ نہ چڑھے۔
Her MQM position came through her brothers, not her own achievements; her claim is baseless.
Other Shia leaders were and are part of MQM like Haider Abbas, Ali Raza Abidi & more
جب لارڈ ماونٹ بیٹن تقسیم ہند کے کیک پر چھری چلا رہا تو تو اس کو پکا یقین تھا کہ جو پچھم ہندوستان ہے وہ ہمارے لئے مستقبل میں سازگار رہے گا اور یہاں کے لوگ بھی کچھ نہیں بولیں گے جو چاہیں گے وہ ہوگا جسے چاہیں گے حکمران بناءیں گے جتنا زیادہ بجلی، ایندھن مہنگا کردیں لوگ کچھ نہیں بولیں
گے ۔
کیا بندے کی دور اندیشی تھی کہ ایک ایک ںات اسی سال ںعد بھی درست ثابت ہورہی ہے اور اس کے مقابلے میں آزاد نے جو بولا تھا وہ ںھی ایک ہزار فیصد درست ثابت ہورہا ہے ۔ پروردگار آزاد کی کامل مغفرت فرمائے آمین۔
#randomthoughts
® Muhammad Kamran retweeted
یہ خاندان تھا یا فرشتے
رات کے اندھیرے میں ایک زوردار دھماکا ہوا… لوگ سمجھے شاید کوئی قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ مگر جب علی نواز گھر سے باہر نکلے تو سامنے کا منظر ایسا تھا جسے دیکھ کر ۔۔۔۔۔
وہاں ٹرینیں نہیں، خاندان بکھرے پڑے تھے۔
ریسکیو ٹیمیں ابھی دور تھیں… مگر ایک عام پاکستانی خاندان پہلے ہی ریسکیو آپریشن شروع کرچکا تھا!
وہ رات جب ایک پورا خاندان انسانیت کی ڈھال بن گیا
تاریخ تھی 7 جون 2021۔
سندھ کے ضلع گھوٹکی میں ڈہرکی کے قریب رات کے سناٹے میں اچانک ایک ایسی خوفناک آواز گونجی کہ آس پاس کے گھروں کے دروازے کھل گئے۔
یہ عام شور نہیں تھا۔
یہ ملت ایکسپریس اور سر سید ایکسپریس کے خوفناک تصادم کی آواز تھی۔
ریلوے لائن سے تقریباً 500 میٹر دور رہنے والے 63 سالہ علی نواز اور ان کا خاندان بھی اس دھماکے جیسی آواز سے جاگ اٹھا۔
کسی کو معلوم نہیں تھا کہ چند لمحے پہلے درجنوں خاندانوں کی دنیا اجڑ چکی ہے۔
علی نواز اپنے گھر والوں کے ساتھ باہر نکلے اور حادثے کی سمت دوڑے۔
جوں جوں وہ قریب پہنچتے گئے، چیخوں کی آوازیں تیز ہوتی گئیں۔
"بچاؤ…!"
"مجھے نکالو…!"
"میرے بچوں کو دیکھو…!"
اندھیرے میں تباہ شدہ بوگیاں نظر آرہی تھیں۔
لوہے کا ملبہ، ٹوٹے ہوئے شیشے، زخمی مسافر، چیخیں اور ہر طرف افراتفری…
اور پھر علی نواز نے وہ فیصلہ کیا جو شاید ان کی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ تھا:
انتظار نہیں کرنا۔
جب امداد کا انتظار موت بن سکتا تھا
حادثہ ایک نسبتاً دور دراز مقام پر ہوا تھا۔
سڑکیں خراب تھیں، موبائل سگنل کمزور تھے اور جدید ریسکیو آلات فوراً دستیاب نہیں تھے۔
لیکن زخمیوں کے پاس انتظار کرنے کا وقت نہیں تھا۔
علی نواز کے خاندان کے تقریباً ایک درجن افراد نے فوراً کام شروع کردیا۔
کوئی بوگیوں میں گھس رہا تھا۔
کوئی زخمیوں کو باہر نکال رہا تھا۔
کوئی گاڑی لے کر ہسپتال کی طرف بھاگ رہا تھا۔
کوئی ٹریکٹر ٹرالی لا رہا تھا۔
اور کوئی پانی لے کر زخمیوں تک پہنچ رہا تھا۔
اس وقت یہ گھر نہیں رہا تھا… ایک غیر سرکاری ریسکیو سینٹر بن چکا تھا۔
شدید زخمیوں کو گاڑیوں میں لاد کر ہسپتال پہنچایا گیا، جبکہ دوسرے زخمیوں کو ٹریکٹر ٹرالیوں کے ذریعے منتقل کیا جاتا رہا۔
مگر اس امدادی دوڑ کا ایک انتہائی افسوسناک لمحہ بھی آیا۔
علی نواز کے کزن کی گاڑی میں ہسپتال لے جائی جانے والی پہلی زخمی خاتون راستے ہی میں دم توڑ گئی۔
یہ منظر مدد کرنے والوں کے حوصلے توڑ سکتا تھا…
لیکن انہوں نے کام نہیں روکا۔
تباہ شدہ بوگیوں میں زندگی تلاش کی جا رہی تھی
حادثے میں کئی بوگیاں پٹری سے اتر گئیں اور بعض بری طرح تباہ ہوگئیں۔
اندر لوگ پھنسے ہوئے تھے۔
کچھ زخمی تھے۔
کچھ بے ہوش تھے۔
اور کچھ اپنے پیاروں کو آوازیں دے رہے تھے۔
مقامی لوگ اور علی نواز کے خاندان کے افراد تباہ شدہ بوگیوں پر چڑھ گئے۔
وہ ہاتھوں سے، دستیاب وسائل سے اور کبھی اپنی طاقت کے آخری حصے سے لوگوں کو ملبے سے نکالتے رہے۔
ٹرین کی نشستیں اور بنچ تک عارضی اسٹریچر بن گئے۔
زخمیوں کو ان پر لٹایا جاتا اور محفوظ مقام تک منتقل کیا جاتا۔
اور جو لوگ جان کی بازی ہار چکے تھے، ان کی لاشوں کو بھی بے حرمتی سے بچانے کے لیے چادروں اور کپڑوں سے ڈھانپ کر احترام سے رکھا جاتا رہا۔
یہ کوئی فلم کا منظر نہیں تھا۔
یہ پاکستان کی ایک حقیقی رات تھی۔
👩🦱 مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی…
اب تک مرد حادثے کی جگہ پر امدادی کام میں مصروف تھے۔
مگر علی نواز کے گھر میں بھی ایک خاموش ریسکیو آپریشن جاری تھا۔
خواتین نے پانی پہنچانے کی ذمہ داری سنبھال لی۔
شدید گرمی میں گھر سے پانی بھرا جاتا اور انسانی زنجیر کے ذریعے حادثے کی جگہ تک پہنچایا جاتا۔
زخمی پیاس سے بے حال تھے۔
کسی کو پانی چاہیے تھا۔
کسی کو چائے۔
کسی کو کھانا۔
اور کسی کو صرف یہ یقین دلانے والا انسان چاہیے تھا کہ:
"آپ اکیلے نہیں ہیں۔"
حبیبہ مائی کا چولہا پوری رات جلتا رہا
علی نواز کی اہلیہ حبیبہ مائی نے گھر کا چولہا سنبھال لیا۔
روٹیاں بننے لگیں۔
کھانا تیار ہونے لگا۔
چائے بنتی رہی۔
زخمیوں کے لیے…
ان کے رشتہ داروں کے لیے…
اور بعد میں وہاں پہنچنے والے امدادی اہلکاروں کے لیے بھی۔
چولہے کے سامنے مسلسل کام کرتے کرتے ان کی انگلیاں تک متاثر ہوئیں، مگر انہوں نے ہاتھ نہیں روکے۔
شاید انہیں معلوم تھا کہ باہر لوگ موت سے لڑ رہے ہیں…
تو گھر میں انہیں زندہ رہنے کی طاقت دینا بھی ضروری ہے۔
🥺 پھر ایک عورت تین بچوں کے ساتھ اس گھر تک پہنچی…
صبح کے وقت ایک زخمی خاتون اپنے تین بچوں کے ساتھ علی نواز کے گھر پہنچی۔
چہرہ گرد و غبار سے بھرا ہوا تھا۔
لباس مٹی سے اٹا ہوا تھا۔
بچے خوفزدہ تھے۔
اور خاتون کے پاؤں میں جوتے تک نہیں تھے۔
حبیبہ مائی نے اس اجنبی عورت کو دیکھا
1/2
سب اپنی پہلی ٹوئیٹ ڈھونڈ رہے ہیں۔ میری بھی پہلی ٹوئیٹ ڈھونڈ کر نکال۔@grok
® Muhammad Kamran retweeted
یہ وہ ڈکیٹ ہے جس نے نارتھ کراچی میں اپنے بیٹے کے ہمراہ کھڑی خاتون کو لوٹا
اگر آپ میں سے کوئی اس کو جانتا ہے تو ان باکس میں تفصیل دے دیں 🙏🏽
اگر آپ نہیں جانتے تو کراچی میں رہنے والے اپنے دوستوں سے یہ پوسٹ شیئر کریں
N-League say Chay league ka Safar
Hareem Shah's pimp is full of crap👇
حافظ صاحب۔۔۔شہاب الدین غوری،احمد شاہ ابدالی،محمود غزنوی اور شیر شاہ سوری کے وقت میں اُن کا ڈی این اے مسلمانوں سے ملتا تھا۔۔لیکن اب پچھلی کچھ دہائیوں سے “ڈالرز مائی سین” کے ٹیکے لگوا لگوا کر یہ افغانی اپنا ڈی این اے “سومنات کے مندر” اور “رام رام ستے ہے” والوں کے ساتھ جوڑنے میں فخر محسوس کرنا شروع ہو گئے ہیں۔۔۔ویسے میری رپورٹ کے مطابق آپ بھی افغانی ہیں اور اب آپ پاکستانی بن چکے ہیں۔۔۔ماشاءاللہ آپ کا بیٹا پاک فوج میں بھی ہے۔۔۔حافظ صاحب اللہ نہ کرے اگر وہ اپنا فرض کی ادائیگی میں اپنے وطن پر قربان ہوجائے تو کیا مولانا فضل الرحمن کے شہداء کے حوالے سے غیر اخلاقی،غیر انسانی اور غیر شرعی بیانیے کے مطابق مطابق اُس کی قربانی تنخواہ اور پیٹی کے لیے ہوگی اور پاکستان اور پاکستان کی عوام پر تو اُس کا کوئی احسان نہیں ہوگا۔۔۔۔؟؟؟
حافظ صاحب۔۔۔میں آپ کے جواب کا منتظر ہوں۔۔!!
Let’s start healthy debate
#ہمارے_شہداء_ہمارا_فخر
® Muhammad Kamran retweeted
آپ مولانا کو وطن دوستی کا درس دے رہے ہیں یہ جو دہشتگردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے یہ نعرے کس نے لگائے ؟ یہ مجھے بھاشن نہیں دے سکتے یہ مجھے حب الوطنی کا درس نہیں دے سکتے !
حافظ حمداللہ صاحب
#شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ۔۔
® Muhammad Kamran retweeted
اب اِن چہروں کو وائرل کرنا ضروری ہے یہ مشکوک افراد کراچی کے مختلف علاقوں میں واردات کر کے فرار ہو جاتے ہیں۔
اس واقعے کی مکمل ویڈیو ہمارے فیس بک پیج CCTV VIEWS پر دیکھی جا سکتی ہے۔
#karachi #cctvviews #karachinews #KarachiUpdates #trending #trendingpost #viralpost
® Muhammad Kamran retweeted
یہ ہم بے بسوں کی بد دعا ہے کہ نسلہ ٹاور کراچی گرانے کا غیرقانونی حکم دینے والے اور عوام کی زندگی بھر کی جمع پونجی برباد کرنے والے جسٹس گلزار احمد سمیت تمام جج صاحبان، انکے ماں باپ اور انکی آئندہ ایک دو نسلوں کی دنیا اور آخرت تباہ و برباد ہو، جو مر گئے اللہ کرے کہ ان کی قبروں میں تا قیامت کیڑے پڑتے رہیں اور جو زندہ ہیں، اللہ کرے کہ وہ اسی تکلیف سے گزریں جس تکلیف سے نسلہ ٹاور کے سفید پوش متاثرین آج تک گزر رہے ہیں۔
آمین یا رب العالمین – at Punjab, Pakistan


























