The official Twitter account of the Govt. of Balochistan.

Quetta, Pakistan
Joined January 2018
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے تحت تعلیمی شعبے میں انقلابی اقدامات جاری ہیں، جہاں ہزاروں بچوں کو دوبارہ اسکولوں میں داخل کیا جا رہا ہے اور بند اسکولوں کو فعال بنا کر نئی نسل کے لیے روشن اور باعلم مستقبل کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ #LiteracyForAll #Balochistan #CMVision
28
19
5
58
14,224
Govt. of Balochistan retweeted
مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ میرا ذاتی تعلق عزت و احترام پر مبنی ہے اور میں ان کی سیاسی بصیرت اور تجربے کا احترام کرتا ہوں۔ تاہم، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کا موازنہ کرتے ہوئے، خصوصاً دہشت گردی، قومی سلامتی اور قومی و عسکری قیادت کے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے وقت زمینی حقائق، ریاست کو درپیش چیلنجز اور دہشت گردی کے خلاف جاری جدوجہد کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ مسلمہ حقیقت ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن اور ان کی جماعت خود دہشت گردی کے واقعات کا نشانہ بنتے رہے ہیں، اس لیے توقع ہے کہ وہ اس حساس قومی مسئلے پر رائے قائم کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف ریاستی کوششوں اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو بھی ملحوظ رکھیں گے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے دونوں صوبوں میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات، سیاسی قیادت کے طرزِ عمل اور عملی عزم کو سامنے رکھنا چاہیے۔ بلوچستان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی اختلافات کے باوجود دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف قومی مفاد کو ترجیح دینے کی اہم مثال ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی، اہم فیصلوں اور متعلقہ معاملات پر اپوزیشن کو اعتماد میں لیا جاتا ہے اور حکومت تمام پارلیمانی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری مختلف مواقع پر اس طرزِ عمل کا اعتراف کر چکے ہیں، جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے پارلیمانی لیڈر میر جہانزیب مینگل کی اسمبلی میں حالیہ تقریر بھی اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ صوبے کی سیاسی قیادت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی ذمہ داری اور کردار کو تسلیم کرتی ہے۔ جمعیت علمائے اسلام، نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) اور دیگر پارلیمانی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف رکھتی ہیں۔ یہ سیاسی ہم آہنگی اس بات کا اظہار ہے کہ بلوچستان میں امن و امان اور قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھنے کی ضرورت تسلیم کی جاتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ محض بیانات یا سیاسی دعوؤں کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ریاست اور پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے سنگین خطرے کے خاتمے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہا ہے اور اس جنگ میں پاک فوج سمیت تمام سیکیورٹی اداروں کے افسران اور جوان بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں۔ ہر شہادت کے پیچھے ایک خاندان کا دکھ، والدین کی جدائی اور ادھورے خوابوں کی داستان ہوتی ہے۔ ان قربانیوں کا تقاضا ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے اور دہشت گردی کے خلاف قومی جدوجہد کو سیاسی اختلافات کی نذر نہ ہونے دیا جائے۔ مولانا فضل الرحمٰن سینئر سیاست دان ہیں اور ان کی جماعت دہشت گردی کے باعث خود بھی جانی و سیاسی نقصانات برداشت کر چکی ہے۔ ایسے میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کا موازنہ کرتے ہوئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ دونوں صوبوں میں دہشت گردی کے خلاف عملی اقدامات کیا ہیں، سیاسی قیادت کس حد تک مشترکہ حکمت عملی اختیار کر رہی ہے اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کی صورت حال کیا ہے۔ دہشت گردی کے معاملے پر غیر واضح مؤقف یا حقائق سے صرفِ نظر قومی مفاد کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ بلوچستان کی سیاسی قیادت اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ پائیدار امن کے بغیر ترقی، عوامی فلاح اور معاشی استحکام کے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ اسی لیے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافِ رائے کے باوجود دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف کو اہمیت دی جاتی ہے۔ یہ طرزِ عمل اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ سیاسی اختلافات جمہوری عمل کا حصہ ہیں، لیکن قومی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے معاملات پر اتفاقِ رائے اور تعاون ناگزیر ہیں۔ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے اور اس کے سیاسی و انتظامی نتائج پر بحث ہو یا بلوچستان کی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ، ہر معاملے میں حقائق، عملی اقدامات اور عوام کو فراہم کیے گئے نتائج کو معیار بنانا چاہیے۔ سیاسی جماعتوں اور حکومتوں پر تنقید جمہوری حق ہے، تاہم دہشت گردی جیسے حساس قومی مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے ریاست کو درپیش چیلنجز، سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کے دکھ کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ میرا مؤقف واضح ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی وابستگیوں اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھا جانا چاہیے۔ قومی یکجہتی، سیاسی قیادت کی ذمہ دارانہ گفتگو، ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون اور زمینی حقائق کی بنیاد پر مؤقف اختیار کرنا ہی وہ راستہ ہے جس سے ملک میں پائیدار امن کے قیام کی کوششوں کو تقویت دی جا سکتی ہے۔ قومی سلامتی سیاست سے بالاتر ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر خدارا ریاست کو سیاست کی نذر نہ کیجیے!
200
250
118
656
100,369
بلوچستان میں ہاکی کے فروغ کے لیے اہم اقدام؛ 25 سرکاری و نجی اسکولوں کے 200 سے زائد طلبہ کے لیے تربیتی کیمپ کا انعقاد۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن (PHF) اور پاکستان اسپورٹس بورڈ (PSB) کے تعاون سے ملک میں قومی کھیل ہاکی کو نچلی سطح سے فروغ دینے، نوجوانوں کو کھیلوں کے بہتر مواقع فراہم کرنے اور ہاکی کی بحالی کے لیے شروع کیے گئے اقدامات کے تسلسل میں بلوچستان ہاکی ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام کوئٹہ میں دو مقامات پر ہاکی تربیتی کیمپ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ یہ تربیتی کیمپ نواب غوث بخش رئیسانی ہاکی گراؤنڈ، ایوب اسٹیڈیم کوئٹہ اور صفدر علی بابل ہاکی گراؤنڈ، گلستان ٹاؤن کوئٹہ میں منعقد کیے جا رہے ہیں، جن میں کوئٹہ کے 25 سرکاری و نجی اسکولوں کے 200 سے زائد طلبہ حصہ لے رہے ہیں۔ ان کیمپوں کا بنیادی مقصد اسکول کی سطح پر ہاکی کے کھیل کو فروغ دینا، طلبہ کی جسمانی فٹنس بہتر بنانا، کھیل کی بنیادی تکنیکوں سے روشناس کرانا اور نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔ تربیتی سرگرمیوں کے دوران طلبہ کو ہاکی کے بنیادی اصولوں، اسٹک اور بال کے استعمال، کھیل کی مہارتوں اور جسمانی تربیت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن اور پاکستان اسپورٹس بورڈ کی جانب سے اسکولوں کو ہاکی کٹس اور کھیلوں کا سامان فراہم کرنے کا اقدام قومی کھیل کی بنیاد مضبوط بنانے اور تعلیمی اداروں میں ہاکی کی سرگرمیوں کو دوبارہ فعال کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ بلوچستان ہاکی ایسوسی ایشن اس اقدام کو مؤثر بنانے کے لیے اسکولوں کے طلبہ کو تربیتی سہولیات فراہم کرنے اور نوجوان ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ بلوچستان ہاکی ایسوسی ایشن کے مطابق اسکولوں کی سطح پر تربیتی سرگرمیوں کا فروغ مستقبل کے باصلاحیت کھلاڑیوں کی نشاندہی، ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور صوبے میں ہاکی کے مضبوط نظام کی تشکیل کے لیے نہایت اہم ہے۔ ان تربیتی کیمپوں کے ذریعے نوجوانوں میں کھیلوں کا رجحان بڑھانے، صحت مند سرگرمیوں کو فروغ دینے اور قومی کھیل کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے میں مدد ملے گی۔ بلوچستان ہاکی ایسوسی ایشن نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن، پاکستان اسپورٹس بورڈ، تعلیمی اداروں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے تعاون سے بلوچستان میں ہاکی کے فروغ، اسکول سطح پر ٹیلنٹ کی ترقی اور نوجوان کھلاڑیوں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
1
3
898
بلوچستان میں سرمایہ کاری کا نیا باب، ڈامب میں صوبے کا پہلا تجارتی جھینگا فارمنگ منصوبہ۔ روزگار، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کے نئے مواقع۔
1
1
1,421
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر بی بی او آئی ٹی کے زیر اہتمام عالمی یوم دیہی خواتین کی مناسبت سے بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ، ایم ڈی بی ٹیوٹا عبدالکبیر زرکون، سی ای او بی بی او آئی ٹی عبدالمنان و دیگر شرکاء آگاہی سیشن سے خطاب کر رہے ہیں۔
833
وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی کی موجودگی میں ڈامب میں صوبے کے پہلے تجارتی جھینگا فارم منصوبے کے معاہدے پر دستخط۔
1
1
916
بلوچستان میں سرمایہ کاری کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت، ڈامب میں صوبے کے پہلے تجارتی جھینگا فارمنگ منصوبے کے سمجھوتے پر دستخط ہوگئے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، چیف سیکرٹری شکیل قادر خان کی موجودگی میں ہاؤس آف کاسب کنسورشیم کے چیف ایگزیکٹو سعد زاہد اور سیکرٹری محکمہ ماہی گیری طارق قمر نے سمجھوتے پر دستخط کئے۔ ڈامب جھینگا فارمنگ منصوبے کے تحت نجی شعبہ ایک ارب 11 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرے گا، منصوبے سے 20 سالہ آپریشنل مدت کے دوران حکومت بلوچستان کو 86 کروڑ 60 لاکھ روپے منافع حاصل ہونے کی توقع ہے، ڈامب جھینگا فارمنگ منصوبے میں 100 فیصد ملازمتیں مقامی لوگوں کو فراہم کی جائیں گی، اعلامیہ۔ جھینگا فارمنگ منصوبہ صوبے میں سرمایہ کاری، برآمدات اور آبی زراعت کے شعبے کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا، بلوچستان کے ساحلی وسائل کو بروئے کار لا کر مقامی آبادی کے لیے روزگار اور معاشی ترقی کے نئے مواقع پیدا کررہے ہیں، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی۔ ڈامب جھینگا فارمنگ منصوبہ صوبے کی معیشت کے لیے اہم ثابت ہوگا، وائس چیئرمین بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ بلاول خان کاکڑ۔
1
3
8
1,130
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر دیہی خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے زیر اہتمام کاروباری خواتین کے لیے بزنس فیسیلیٹیشن سینٹر (BFC) سے متعلق آگاہی سیشن کا انعقاد کیا گیا، جس میں صوبے کے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین انٹرپرینیورز نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے اپنے خطاب میں صوبے کی عظیم ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا وژن ہے کہ خواتین اور نوجوانوں کو کاروبار اور ہنرمندی کی ترقی کی جانب راغب کیا جائے اور انہیں تمام ضروری سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے خود روزگار کے مواقع پیدا کر سکیں اور صوبے کی معاشی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے بزنس فیسیلیٹیشن سینٹر کے اغراض و مقاصد سے شرکاء کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بی ایف سی کے ذریعے خواتین کو کاروبار شروع کرنے کے لیے ضروری رہنمائی، سہولیات اور متعلقہ اداروں سے رابطے میں معاونت فراہم کی جائے گی، تاکہ انہیں کاروباری سرگرمیوں کے آغاز میں درپیش مشکلات کو کم کرنے میں مدد مل سکے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈی بی ٹیوٹا عبدالکبیر زرکون بی ٹیوٹا کی خدمات پر روشنی ڈالی جبکہ سی ای او بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ عبدالمنان نے بھی ادارے اور بزنس فیسیلیٹیشن سینٹر کے آپریشنز، خدمات اور کاروباری سہولیات کے حوالے سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ اس موقع پر ایک پینل ڈسکشن کا بھی اہتمام کیا گیا، جس میں سیکریٹری محکمہ ترقیِ نسواں حکومتِ بلوچستان شیر شاہ غلزئی، منیجر سمیڈا محمد اقبال، سبی ویمن یونیورسٹی کے شعبہ مینجمنٹ سائنسز کی سربراہ محترمہ نازنین درانی، ایس آئی اے کے شریک بانی نثار آغا اور ڈوچ پاکستان کی چیف ایگزیکٹو آفیسر محترمہ دیدار مینگل نے شرکت کی۔ پینل کے شرکاء نے خواتین کو کاروباری مواقع، ادارہ جاتی معاونت، ہنرمندی، کاروبار کے فروغ اور دستیاب سہولیات کے حوالے سے مفید معلومات فراہم کیں۔ تقریب کے دوران خواتین انٹرپرینیورز کی جانب سے مختلف مصنوعات اور کاروباری سرگرمیوں پر مشتمل اسٹالز بھی لگائے گئے، جن کے ذریعے خواتین کی تخلیقی صلاحیتوں، کاروباری مہارتوں اور مقامی مصنوعات کو اجاگر کیا گیا۔ یہ آگاہی سیشن صوبے کی خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے، ان میں کاروباری شعور اجاگر کرنے اور انہیں دستیاب سرکاری سہولیات سے مستفید ہونے کے مواقع فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
1
3
1,492
بلوچستان سرمایہ کاری بورڈ کے وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ ، اور ویمن انٹرپرینور ، عالمی یوم دیہی خواتین کے سلسلے میں بی بی او آئی ٹی کے زیر اہتمام آگاہی سیشن کے موقع پر خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔
1
3
13
3,557
صوبائی وزیر منصوبہ بندی وترقیات میر ظہور احمد بلیدی ورلڈفوڈایگزہبیشن کی افتتاحی تقریب کے شرکاء سےخطاب کررہے ہیں۔
1
1,739
بلوچستان میں زرعی ترقی، معیاری خوراک اور جدید ٹیکنالوجی کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے، میر ظہور احمد بلیدی۔ صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی نے کہا ہے کہ انسانی زندگی کے لیے خوراک بنیادی اہمیت رکھتی ہے، جبکہ خالص، محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی وقت کی اہمضرورت ہے۔ حکومت خوراک کے معیار اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور زرعی شعبے کی ترقی پر توجہ دے رہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یومِ خوراک کے موقع پر بلوچستان ایگریکلچر کالج، بلیلی روڈ کوئٹہ میں منعقدہ پہلی بلوچستان فوڈ ایگزیبیشن 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر نے فیتہ کاٹ کر دو روزہ نمائش کا افتتاح کیا اور مختلف زرعی مصنوعات کے اسٹالز کا دورہ بھی کیا۔میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کا بیشتر حصہ خشک اور کم بارشوں والے خطے پر مشتمل ہے، تاہم صوبے کے متعدد علاقے اپنی زرعی پیداوار کے باعث فوڈ باسکٹ کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔زراعت کے شعبے میں مزید پیش رفت کے لیے پانی کے وسائل کا مؤثر استعمال، آبی ذخائر کی تعمیر اور جدید زرعی طریقوں کو اپنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے مختلف علاقوں میں زرعی ترقی کے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے، جن کا مقصد پیداوار میں اضافہ اور زمینداروں کے لیے بہتر مواقع پیدا کرنا ہے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ بلوچستان میں لائیو اسٹاک اور ماہی گیری کے شعبوں میں بھی وسیع امکانات موجود ہیں۔ صوبے میں بھیڑ بکریوں سمیت مویشیوں کی بڑی تعداد پائی جاتی ہے، جبکہ طویل ساحلی پٹی اور وسیع سمندری حدود ماہی گیری کے شعبے کی ترقی کے لیے اہم مواقع فراہم کرتی ہیں۔ تاہم غیر قانونی ماہی گیری کی روک تھام اور سمندری وسائل کے پائیدار استعمال پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہےانہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کی ترقی کے لیے بین الاقوامی اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کے تعاون سے استفادہ کیا جانا چاہیے۔ زمینداروں اور کسانوں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی اور طریقوں سے آگاہ کرنا ضروری ہے تاکہ پانی کے ضیاع کو کم، زیرِ زمین پانی کے تیزی سے گرتے ہوئے ذخائر کو محفوظ اور زرعی پیداوار کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبے میں زرعی اور آبی وسائل کے تحفظ کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کیا جائے۔ اس موقع پر ایف او اے کے نمائندے ولید مہدی نے کہا کہ بلوچستان میں یہ پہلی فوڈ ایگزیبیشن 2026 کا اہتمام اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت FAOنے بلوچستان ریور بیسنز واٹرریسورسزپروگرامRBWRPکے تحت کیا ہے۔ اور یہ تقریب 15 اور 16 اکتوبر تک جاری رہے گئ انہوں نے کہا کہ اس نمائش کا مقصد زرعی شعبے سے وابستہ چھوٹے کاروباری اداروں، کسانوں اور کاروباری افراد کو اپنی مصنوعات متعارف کرانے، منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے اور کاروباری روابط کے فروغ کے مواقع فراہم کرنا ہے۔تقریب میں متعلقہ محکموں اور شعبہ زراعت سے وابستہ نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکا نے اس امر پر اتفاق کیا کہ اس نوعیت کی نمائشیں بلوچستان کی زرعی معیشت کو مستحکم کرنے، چھوٹے کاروباری اداروں کی حوصلہ افزائی اور مقامی زرعی مصنوعات کی مارکیٹ تک رسائی بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔
1
1
1
381
مؤثر گورننس، فعال سرکاری ادارے، بہتر عوامی خدمات، سرکاری محکموں کی کارگردگی بہتر بنانے اور انتظامی اصلاحات کیلیئے اقدامات۔
1
453
وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ جَھل مگسی کی جانب سے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا جائزہ لیا گیا۔
1
1
2
620
وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ اُستا محمد کی جانب سے سولر سسٹم کی فراہمی کا جائزہ لیا گیا۔
1
1
502
وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تجارتی فروغ کیلیئے اہم ملاقات۔
1
361
وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے انسدادِ پولیو مہم کے آغاز سے متعلق اجلاس۔
1
1
1
456
وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ موسٰی خیل کا طلبہ کی کارگردگی اور تدریسی سرگرمیوں کا جائزہ۔
1
330
وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ لورالائی کی غیرقانونی کنکشنز کے خلاف کاروائی۔
1
309
وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ جعفرآباد کا سرکاری اسکول کا دورہ۔
1
460
وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفرازبگٹی کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ کا ٹیچنگ ہسپتال میں طبی سہولیات بہتر بنانے پر زور۔
2
592