Mr Devil retweeted
سپاس از دوستان ایرانی❤️
و حالا ایران از نگاه چینیها
(البته قورمهسبزی یادم رفت😁):
Mr Devil retweeted
ہمیں سعودی عرب کی قیادت میں اپنے سنی دوستوں کا اتحاد بنا کر ان ممالک کو شعیہ ایران سے لڑانا ہے۔ یہ ہمارا ہدف ہے۔ شعیہ ہمارے اصلی دشمن ہیں۔ اگر ہم یہ کر سکے تو اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
اسرائیلی انٹیلیجنس ایجنسی شن بیت کے سابق ڈائرکٹر کا اہم بیان
Mr Devil retweeted
One of the craziest records in cricket history. 😂🤯
Mohammad Yousuf bowled just ONE ball in his entire ODI career and somehow took a wicket with that very ball! 😂
The innings ended immediately, and even umpire Simon Taufel couldn’t control his laughter. 😂😭
And the craziest part? He never bowled again in his ODI career. 💀😂
He remains the only cricketer with such a bizarre ODI record. 🔥😂
Mr Devil retweeted
Prominent Sunni scholar Ali Mirza pays salute to the martyred leader Ali Khamenei, the current leader Imam Mojtaba Khamenei, and the brave people of Iran.💛
Mr Devil retweeted
Marco Rubio Crying:
If there were no SHIA CLERICS IN IRAN, and if Iran did not exist, none of these problems would exist. I would say that this issue would be easier to deal with if Iran did not exist.
Nation of Imam Hussain has become like bone strucked in their throat. 😂
Mr Devil retweeted
قدیم مصر کے رتھ: وہ شاہی سواری جس نے جنگوں کا نقشہ بدل دیا!
ذرا تصور کریں…!!
ہزاروں سال پہلے، جب نہ جدید گاڑیاں تھیں، نہ انجن اور نہ سڑکیں، تب مصر کے میدانوں میں دو گھوڑوں سے کھنچا جانے والا ایک تیز رفتار رتھ دشمن کی صفوں میں خوف پھیلا دیتا تھا!
یہ صرف ایک سواری نہیں تھی، بلکہ قدیم مصر کی فوجی طاقت، شاہی شان اور حیرت انگیز انجینئرنگ کی علامت تھی۔
تقریباً 1600 قبل مسیح، یعنی آج سے 3,600 سال پہلے گھوڑوں سے کھنچے جانے والے رتھ مصر میں متعارف ہوئے۔ ان کا تعلق ہائکسوس (Hyksos) سے جوڑا جاتا ہے، جو مغربی ایشیا سے آنے والے حکمران تھے اور مصر کے شمالی حصوں پر قابض ہوئے۔
جب فرعون احموس اول (Ahmose I) نے ہائکسوس کو شکست دے کر مصر کو دوبارہ متحد کیا، تو مصریوں نے بھی رتھوں کو اپنی فوجی طاقت کا اہم حصہ بنا لیا۔
لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مصریوں نے محض اس ٹیکنالوجی کو اپنایا نہیں، بلکہ وقت کے ساتھ اسے زیادہ ہلکا، تیز اور مؤثر بنانے میں مہارت حاصل کی۔
یہیں سے قدیم مصر کی جنگی تاریخ میں ایک نیا باب شروع ہوا۔
حوالہ: میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹ۔
مصری رتھ کی اصل طاقت اس کے ڈیزائن میں چھپی تھی۔
اس کا ڈھانچہ لکڑی سے بنایا جاتا تھا اور اسے چمڑے کی پٹیوں، رسّیوں اور دیگر مضبوط اجزا کی مدد سے جوڑا جاتا تھا۔
اس کے فرش پر چمڑے کی پٹیوں کا جال بُنا جاتا، جس پر چمڑا یا جانور کی کھال بچھائی جا سکتی تھی۔ یہ لچکدار فرش سفر کے دوران جھٹکوں کو کم کرنے میں مدد دیتا تھا۔
اور سب سے دلچسپ بات؟ اس کا ایکسل (Axle) یعنی پہیوں کا دھرا، رتھ کے پچھلے حصے کے قریب رکھا جاتا تھا۔ اس ترتیب سے لکڑی کے ڈنڈے اور ڈھانچے کی لچک کو استعمال کرتے ہوئے سواری کو نسبتاً ہموار بنایا جاتا تھا۔
یہ سب کچھ ایسے زمانے میں ہو رہا تھا جب جدید سسپنشن کا تصور بھی موجود نہیں تھا!
چھ تیلیوں والے پہیے کا کمال!
مصری رتھوں میں چھ تیلیوں والے پہیے (Six-spoked wheels) کی مثالیں ملتی ہیں۔ ان کے پہیوں کو ہلکا اور مضبوط بنانے کے لیے لکڑی اور مختلف حفاظتی و جوڑنے والے اجزا استعمال کیے جاتے تھے۔
یہ ڈیزائن تیز رفتار حرکت اور میدانِ جنگ میں سمت بدلنے کے لیے اہم تھا۔ رتھ عموماً دو گھوڑوں سے کھینچا جاتا تھا۔
اس کی رفتار نے فوجیوں کو دور سے تیر برسانے، دشمن کی صفوں کے قریب پہنچنے اور پھر تیزی سے اپنی جگہ بدلنے جیسے حربوں میں مدد دی۔
رتھ پر سوار دو افراد، دو مختلف ذمہ داریاں!
ایک عام جنگی رتھ پر عموماً دو افراد ہوتے تھے۔
ایک شخص گھوڑوں کو قابو میں رکھتا، جبکہ دوسرا تیرانداز ہوتا جو مرکب کمان (Composite Bow) سے تیر چلاتا یا ضرورت کے مطابق نیزہ استعمال کرتا تھا۔
سوچیے، گھوڑوں کی رفتار، رتھ کا توازن اور تیرانداز کی مہارت تینوں کا درست امتزاج ہی اسے میدانِ جنگ میں مؤثر بناتا تھا۔
4 نومبر 1922ء کو برطانوی ماہرِ آثارِ قدیمہ ہاورڈ کارٹر (Howard Carter) نے مصر کی وادیِ ملوک (Valley of the Kings) میں فرعون توتن خامون (Tutankhamun) کا مقبرہ دریافت کیا۔
اس مقبرے میں چھ رتھ کھول کر یا الگ الگ حصوں کی صورت میں رکھے ہوئے ملے۔ یہ دریافت قدیم مصری رتھوں کی ساخت، سجاوٹ اور شاہی استعمال کو سمجھنے کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
ان میں بعض رتھ سونے کی تہہ، شاہی نقش و نگار اور آرائشی تصاویر سے مزین تھے۔ ان کی سجاوٹ میں فرعون کو طاقتور فاتح کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔
آج سے تقریباً 3,600 سال پہلے کے ان رتھوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ انسانی ذہانت نے محدود وسائل کے باوجود کس قدر حیرت انگیز حل تلاش کیے۔
Mr Devil retweeted
مسلمانوں نے قرآن کے ساتھ کیا کیا؟
مُردوں کو بخشنے کے لیے پڑھتے رہے۔ بے سمجھے رٹا لگاتے رہے۔ غیر عربوں کی غالب اکثریت نے صدیوں تک ترجمہ ہی نہیں کیا۔ آج بھی ترجمہ کوئی کوئی اور کبھی کبھی ہی دیکھتا ہے۔
جب آپ کا ایمان ہو کہ کسی کتاب کا ہر لفظ سچا ہے تو پھر سیکھنے سمجھنے کو کیا رہ جاتا ہے؟
مسلمان کہتے ہیں کہ مغربی ملکوں کے لوگ قرآن پڑھ کر ترقی کر گئے۔ یہ ہے تو سفید جھوٹ لیکن کامیابی کا نسخہ واقعی یہ تھا۔
اگر مسلمان اپنے سوچنے والوں کو سوچنے دیتے، گالیاں اور دھمکیاں نہ دیتے، الزامات نہ لگاتے، توہین کے مقدمات قائم نہ کرتے، سر نہ کاٹتے تو مغرب سے پہلے اور بہت زیادہ ترقی کر سکتے تھے۔
میں گزشتہ کچھ عرصے میں قرآن کی کئی آیات پیش کرکے بتا چکا ہوں کہ وہ جدید سائنس سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ لوگ غور کرنے کے بجائے وہی کررہے ہیں جو چودہ سو سال سے کیا جارہا ہے۔
یہی بات ہزار سال پہلے، پانچ سو سال پہلے، ڈھائی سو سال پہلے بھی کچھ لوگوں نے ضرور کہی ہوگی۔ اگر اس وقت سن لی جاتی تو تحقیق شروع ہوجاتی۔
چلیں، اسے قرآن کو غلط ثابت کرنے کی کوشش ہی کہہ لیں۔ لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ رٹے مارنے والے کون سا رک جاتے۔ وہ رٹے لگاتے رہتے۔ آج بھی لگا رہے ہیں۔ لیکن اس کوشش میں بہت سی سائنسی دریافتوں، ایجادات، انسانی حقوق کی تشکیل اور سماجی اقدار کی بہتری میں مسلمانوں کا مرکزی کردار ہوتا۔
یہودیوں اور مسیحیوں کے ہاں یہی ہوا۔ ان میں بھی مذہبی کتابوں کی لکھی باتوں پر اندھا ایمان رکھنے والے موجود ہیں۔ لیکن تاریخ کے ایک موڑ پر ان میں برداشت پیدا ہوگئی۔ اس برداشت کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج وہ خلاوں کو تسخیر کررہے ہیں۔ سماجی، معاشی اور سائنسی ترقی میں ہزار گنا آگے ہیں۔
خدا کے نام پر لکھی گئی کتابیں انسانوں کے لیے چیلنج ہوتی ہیں کہ ہمیں غلط ثابت کرکے دکھاو۔ جو یہ چیلنج قبول کرلیتے ہیں، وہ ترقی کرجاتے ہیں۔ جو مُردوں کو بخشتے رہتے ہیں، وہ خود بھی نہیں بخشے جاتے۔
Mr Devil retweeted
قبل اكتشاف النفط، كانت السعودية غارقةً في الفقر والتخلّف؛ جماعاتٌ من الرعاع يأكلون الضبّ ويشربون بول البعير ..
هذا هو تاريخ السعودية بإختصار .
Mr Devil retweeted
لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ ہم معاویہ سے کتنی محبت کرتے ہیں
ہم اتنی کرتے ہیں جتنے مولا علی علیہ السلام کرتے تھے......
۔
انجینئر
Mr Devil retweeted
تاریخ دان لکھتے ہیں اگر چنگیز خان کا پوتا برکے خان مسلمان نہ ہوتا تو ہلاکوخان کے ہاتھوں نہ کوئی مسلمان بچتا اور نہ ہی کوئی اسلامی سلطنت بچتی بلکہ مکہ اور مدینہ سے بھی منگول سلطنت چند سو کلومیٹر کی دوری پر پہنچ چکی تھی لیکن قدرت نے منگولوں کی طاقت ان کو آپس میں لڑا کر ختم کیا اور مسلمان حکومتوں کو مٹنے سے بچالیا۔
منگول سلطنت کے پہلے شہنشاہ چنگیز خان کی فتوحات میں کل اموات کا تخمینہ 4 کروڑ لگایا گیا اور انکی کی پیدائش 1162 اور وفات 1227 تھی۔
چنگیز خان کا بیٹا جوچی خان جو اس کی زندگی میں ہی فوت ہوا اسکا بیٹا اور چنگیز خان کا پوتا جو 1208 میں پیدا ہوا تو باپ کی وفات کے بعد اسے منگول سلطنت کا " گولڈن ہارڈ " علاقہ دیا گیا جس میں آج کا روس اسکا دارالحکومت ماسکو، یوکرین، قازقستان اور قفقاز کا خطہ شامل تھا۔ یہ علاقہ یورپ اور ایشیا کی سرحد پر پھیلا ہوا اور منگول سلطنت کا سب سے مشرقی اور مغربی حصہ تھا۔
اسلامی دنیا پر 1250 میں منگول سلطنت اور خصوصاً ہلاکوخان کی گرفت بڑھتی جارہی تھی کہ ایک صوفی بزرگ سیف الدین باخارزی کی تعلیمات اور حکمت سے متاثر ہوتے ہوئے برکے خان نے اسلام قبول کیا تو ساتھ ہی ان کے ماتحت منگول فوج نے بھی مسلمان بننا پسند کیا تو منگول حکمرانوں میں مسلمانوں کی باقاعدہ شمولیت ہوگئی جس نے آگے چل کر مسلمانوں کو ختم ہونے سے بچایا۔
ہلاکوخان نے 1258 میں بغداد پہ خوفناک حملہ کیا اور شہر کو تہس نہس کرتے ہوئے عباسی خلیفہ کو بے دردی سے ختم کیا تو اپنے منگول خون اور روایات کو پس پشت ڈالتے ہوئے برکے خان کو بطور مسلمانوں اپنے چچا زاد بھائی ہلاکو خان پر شدید غصہ آیا اور اسے نے بدلہ لینے کا اعلان کردیا، اس دوران ہلاکو خان نے دمشق 1260 میں فتح کیا تو اب وہ قبلہ اول سے 200 کلومیٹر دور اور مکہ مدینہ سے لگ بھگ 800 کلومیٹر دور تھا۔
ہلاکوخان اب مشرق وسطی کے بعد دریائے نیل کے خطے پر نظریں گاڑنے لگا تو مملوک بادشاہ سلطان بیبرس نے برکے خان سے مدد کی درخواست تو اس نے فورا مان لی اور یوں تاریخ میں پہلی بار منگول فوج آپس میں ایران اور قفقاز میں 1262
میں لڑ پڑی اور یہی سے منگول خانہ جنگی کا آغاز ہوگیا۔
ایک طرف ہلاکو خان کو برق خان کی فوج نے سخت مقابلہ دیا تو پیچھے سے مملوک فوج بھی کود پڑی اور یوں 1263 میں دریائے تیرک میں برکے خان کی فوج ہلاکو خان کو پیچھے دھکیلنے میں کامیاب ہوئی اور اسی دوران دریا پر جمی برف دباؤ برداشت نہ کرسکی اور ٹوٹ گئی جس میں ہزاروں منگول سپاہی اور گھوڑے ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔
بظاہر دونوں اطراف کوئی بھی واضح اور بڑی جیت حاصل نہ کرسکے لیکن اس باہمی خانہ جنگی نے منگولوں کی افرادی قوت، مالی وسائل اور عسکری صلاحیت کو غیر معمولی نقصان پہنچایا کیونکہ پہلی بار دونوں اطراف منگول افواج ہی تھی۔ البتہ ہلاکوخان اس لڑائی کے بعد اسلامی دنیا کو فتح کرنے کا پہلے جیسا سفر جاری نہ رکھ سکا بلکہ ہلاکو خان اس خاندانی لڑائی کا اور منگول فوجوں کی خانہ جنگی کا صدمہ دل پر لیتے ہوئے 1265 میں تبریز میں فوت ہوا جبکہ اگلے ہی سال 1266 میں برکے خان اسلامی منگول سلطنت کی دفاعی مہم میں بوجہ بیماری فوت ہوگئے۔
ہلاکو خان کی سلطنت ایل خانی میں پہلا مسلمان حکمران اسکا پوتا سلطان احمد تکودار 1282 میں حکمران بنا لیکن اسلامی دنیا اور مسلمان کو مٹنے سے بچانے کے لیے قدرت نے برکے خان کو فرشتہ بناکر بھیجا۔
لیکن ایک بات تاریخ لکھتی ہے کہ ۔۔۔۔
" منگول کو صرف منگول ہی ہرا سکتے تھے کیونکہ دنیا میں تب کوئی بھی دنیاوی طاقت ان سے جیتنا تو دور لڑائی لڑنے کا حوصلہ دکھاتے ہوئے بھی ڈرتی تھی۔
Mr Devil retweeted
جو ناصبی پاگل کتوں کی طرح ایران اور شیعوں کے خلاف بھونکتے ہیں کہ ایران نے اسرائیل کو کچھ نہیں کہا اور پروپیگنڈہ کرتے ہیں انکے منہ پر طمانچہ ہے نجم شیٹھی کا یہ کلپ ضرور سنیں
Mr Devil retweeted
باز آفرینی سنگ نگاره اردوان پنجم (یا چهارم، بسته به اینکه از کدام سیستم نام گذاری استفاده کنید).
در این باز آفرینی از سرستون های اشکانی پیدا شده در شوش الگو گرفته شده است.
Mr Devil retweeted
ایک چھوٹا سا پتھر، جس نے ہزاروں سال پہلے انسان کی شناخت اور اس کے رازوں کی حفاظت کی!
ذرا تصور کریں…!!
آج ہم کسی دستاویز پر دستخط کرتے ہیں اور اپنی چیزوں پر نام لکھتے ہیں۔ لیکن تقریباً 5,500 سال پہلے میسوپوٹیمیا کے لوگوں نے ان کاموں کے لیے ایک ایسا طریقہ اختیار کیا تھا جو آج بھی حیران کر دیتا ہے!
یہ تھا قدیم سلنڈر مہر (Cylinder Seal)۔
یہ چھوٹے چھوٹے پتھر کے سلنڈر ہوتے تھے، جن پر انسانوں، جانوروں، مذہبی رسومات اور دیومالائی کرداروں کی باریک نقش نگاری کی جاتی تھی۔ انہیں گیلی مٹی پر گھمایا جاتا تو ایک مکمل، مسلسل نقش ابھر آتا تھا۔ گویا ایک چھوٹا سا پتھر اپنی الگ شناخت چھوڑ جاتا تھا!
میسوپوٹیمیا، جو آج زیادہ تر عراق کے علاقے میں واقع ہے، میں سلنڈر مہروں کے قدیم معروف نمونے تقریباً 3500 قبل مسیح کے ہیں۔ یہ عہد اُروک (Uruk Period) کہلاتا ہے، جب ابتدائی شہری زندگی، تجارت اور انتظامی نظام ترقی کر رہے تھے۔
یہ کسی ایک شخص کی دریافت نہیں تھی۔ آثارِ قدیمہ کی مختلف کھدائیوں میں میسوپوٹیمیا کے قدیم شہروں سے یہ مہریں سامنے آئیں۔ اُروک اور اُر جیسے مقامات نے ان کی تاریخ سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ برطانوی ماہرِ آثارِ قدیمہ سر لیونارڈ وولی (Sir Leonard Woolley) نے اُر کی کھدائیوں میں بھی سلنڈر مہریں دریافت کیں۔
تصور کریں کہ ایک تاجر اپنا سامان کسی دوسرے شہر بھیج رہا ہے۔ اسے کیسے یقین ہو کہ راستے میں کسی نے اس کا سامان نہیں کھولا؟
وہ مٹی سے بنے ڈھکن یا بندش پر اپنی مہر گھما دیتا۔ اگر مہر ٹوٹ جاتی یا نقش خراب ہوتا تو چھیڑ چھاڑ کا پتا چل سکتا تھا۔
یہ مہریں برتنوں، دروازوں، ٹوکریوں اور تجارتی یا قانونی ریکارڈ کی مٹی کی تختیوں پر بھی استعمال ہوتی تھیں۔ یوں یہ شناخت، ملکیت اور اختیار کی علامت بن گئیں۔
کچھ مہریں عام پتھروں سے بنائی جاتی تھیں، جبکہ قیمتی نمونے عقیق، کارنیلین، لاجورد اور دیگر معدنی پتھروں سے تیار ہوتے تھے۔ ان میں اکثر درمیان سے سوراخ ہوتا تھا تاکہ انہیں دھاگے میں پرو کر گلے یا کلائی پر پہنا جا سکے۔
وقت کے ساتھ ان پر بننے والے مناظر بھی زیادہ پیچیدہ ہوتے گئے۔ کہیں جانور آپس میں لڑتے دکھائی دیتے ہیں، کہیں عبادت کے مناظر، کہیں شاہی شخصیات اور کہیں مذہبی رسومات!
کچھ لوگ ان مہروں کو حفاظتی تعویذ بھی سمجھتے تھے، اگرچہ ہر مہر کے بارے میں یہ ثابت نہیں کہ اسے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
انہیں قدیم دنیا کی ذاتی شناخت اور تصدیق کے اہم ترین ذرائع میں شمار کیا جاتا ہے۔ بعد کے ادوار میں بعض مہروں پر مالک کا نام اور عہدہ بھی کندہ کیا جانے لگا۔ مگر یاد رہے کہ ہر مہر پر نام نہیں لکھا ہوتا تھا، اور یہ جدید دستخطوں جیسا نظام نہیں تھا۔
سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ ان ننھے پتھروں پر بنے نقش آج ہمیں ان لوگوں کی تجارت، عقائد، فن اور روزمرہ زندگی کے بارے میں بتاتے ہیں جن کی اپنی آوازیں ہزاروں سال پہلے خاموش ہو چکی ہیں۔
آپ کے خیال میں آج کے ڈیجیٹل دستخط اور شناختی نظام کو دیکھ کر قدیم میسوپوٹیمیا کے لوگ کتنے حیران ہوتے؟
Mr Devil retweeted
ڈائنوسارز نے زمین پر غیرمعمولی طویل عرصے تک حکمرانی کی- پہلے ڈائنوسار تقریباً 23 کروڑ سال پہلے ٹرائسک دور (Triassic Period) میں نمودار ہوئے جبکہ غیر پرندہ ڈائنوسار تقریباً 6 کروڑ 60 لاکھ سال پہلے ایک بڑے پیمانے کی معدومیت کے دوران ختم ہوئے یعنی زمین پر ان کا دور تقریباً 16 کروڑ 50 لاکھ سال پر محیط تھا جبکہ جدید انسان یعنی ہومو سیپینز (Homo sapiens) بہت بعد میں نمودار ہوئے چونکہ ہماری نوع تقریباً 3 لاکھ سال پہلے ارتقاء پذیر ہوئی، اس لیے ڈائنوسارز کے مقابلے میں انسان زمین پر انتہائی مختصر عرصے سے موجود ہیں- اس فرق کو یوں سمجھیں کہ اگر غیر پرندہ ڈائنوسارز کی پوری 16 کروڑ 50 لاکھ سالہ تاریخ کو صرف ایک سال میں سمیٹ دیا جائے تو ہومو سیپینز اس سال کے آخری چند گھنٹوں میں نمودار ہوں گے لیکن ڈائنوسار پھر بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے کیونکہ سائنسی اعتبار سے پرندے زندہ ڈائنوسار ہیں، وہ ڈائنوسارز کی اُسی ارتقائی شاخ کی موجودہ نسل ہیں جو بڑے پیمانے کی معدومیت یعنی ختم ہونے یا مکمل طور پر مٹ جانے سے بچ گئی، مطلب غیر پرندہ ڈائنوسار 6 کروڑ 60 لاکھ سال پہلے ختم ہو گئے لیکن ڈائنوسارز کی ایک شاخ آج بھی زمین پر پرندوں کی صورت میں موجود ہے-
Asma Gul
Mr Devil retweeted
نجد سے اٹھ کر حجاز پر قبضہ کرنے والے آل سعود نے اسلام کو اصل شکل میں برقرار رکھا ہے؟
تاریخ کا مطالعہ نہ کیا جائے اور آپ کے نزدیک اقتدار پر قابض قوتوں کی legitimacy کوئی اہم مسئلہ نہ ہو تو حقائق کے نام پر ایسے مغالطے اور مفروضے ہی بیچے جا سکتے ہیں۔ حجاز میں موجود مقدس مقامات کا انتظام و انصرام سنہ 1517ء تک عباسی، فاطمی، ایوبی اور مملوک ادوار میں مقامی شرفاء کے پاس رہا جنہیں اشرافِ مکّہ کہا جاتا تھا جو حضرت حسن بن علی علیہ السلام سے نسبت رکھنے والے ہاشمی خاندانوں میں سے تھے۔ وہ صدیوں تک مکہ مکرمہ کے مقامی حکمران رہے اور مختلف مسلم سلطنتوں کے ساتھ ان کے تعلقات کبھی تابعداری اور کبھی نسبتاً خود مختاری پر مبنی رہے۔ 1517ء کے بعد عثمانی سلطنت میں بھی مقامی انتظام میں اشرافِ مکّہ کی حیثیت برقرار رہی۔ اس تمام عرصہ میں اسلام اپنی اصل شکل میں ہی برقرار رہا یہاں تک کہ حجاز پر نجد کے حکمران عبدالعزیز آلِ سعود کی برطانوی حمایت یافتہ افواج نے قبضہ کر لیا۔
نوٹ: شرک و بدعت سے پاک ریاض میں ہونے والے جینیفر لوپیز کے کنسرٹ کی ویڈیو صرف دو برس پرانی ہے۔
آل سعود سے لاکھ اختلاف لیکن سب سے بڑا کارنامہ ہی اہل سعود کا یہ ہے کہ انہوں نے اسلام کی اصل شکل کو برقرار رکھا۔ کوئی شرک کوئی بدعت کوئی نذرانے اس پاک اور معطر سرزمین پر نہیں پیدا ہونے دیئے۔ ورنہ خدانخواستہ ہمارے برصغیری انڈیا پاکستان یا ایران کے زیر کنٹرول ہوتا تو ہم یہاں وہ وہ مناظر دیکھتے جو علی ہجویری کے دربار کے باہر ہوتا ہے ،جو بابا فرید کے دربار کے باہر ہوتا ہے۔ دروازے پر پنجاب پولیس لوگوں کو مار رہی ہوتی ۔ دھاگے بندھے ہوئے ، موتی لٹکے ہوئے دیگیں پکتی ہوئی، چادریں چڑھتی ہوئی، شاہ دولے باہر جھمگٹا لگائے ہوئے، منتیں مانگنے والے زمین پر رینگنتے ہوئے۔ غیر اللہ کے نام پر کھانے بٹتے ہوئے۔ میلے کچیلے لوگ باہر ریڑیاں لگائے ہوئے۔۔ نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ دور پرے باہر گندے بدبودار صدیوں سے نہ نہائے ہوئے ملنگ صوفیانہ کلام میوزیل انسٹرومنٹ کے ساتھ گا رہے ہوتے۔
یہ واقعی آل سعود کا بڑا کام ہے۔ اللہ اور ان کے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ان سے راضی ہوں۔ اور انہیں ہی ہمیشہ حرمین شریفین کا محافظ رکھے ۔ آمین ثم آمین
Mr Devil retweeted
آدم اور حوا کی مذبی کہانی اس قدر دلچسپ ہے کہ سائنس دانوں نے قدیم ترین مرد کا کوڈ نیم آدم اور قدیم ترین عورت کا کوڈ نیم حوا ہی رکھ دیا۔
ہم جانتے ہیں کہ دسیوں لاکھ سال پہلے انسانوں کی کئی نسلوں کا ارتقا ہوا۔ تین لاکھ سال قبل ہوموسیپئنر پیدا ہوئے۔
ڈی این اے سائنس سے پتا چلتا ہے کہ آج دنیا کی تمام آبادی ایک ہی مرد اور ایک ہی عورت کی اولاد ہے۔ یعنی جب کسی شخص کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا جائے تو ہزاروں پشتوں کے بعد وہ آخرکار ایک ہی مرد اور ایک ہی عورت تک پہنچتا ہے۔
لیکن ضروری نہیں کہ وہ مرد اور عورت ایک جوڑا ہوں یا ایک دورانیے میں موجود رہے ہوں۔
عام آدمی کے لیے یہ بات سمجھنا شاید دشوار ہو کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔ لیکن یہی حقیقت ہے۔
وائی کروموسوم ایڈم کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ دو لاکھ سے تین لاکھ سال پہلے موجود تھا۔
میٹوکونڈریل ایو کے بارے میں خیال ہے کہ وہ ڈیڑھ سے دو لاکھ سال کے درمیانی عرصے میں موجود تھی۔
ممکن ہے کہ اس خاص دورانیے سے پہلے اور بھی ہوموسیپئن مرد اور عورتیں ہوں لیکن ان کی اولاد آج کے زمانے تک نہیں پہنچی۔
Mr Devil retweeted
یہ تین بندے ایسے ھیں جو دعوت حق رسول اللہ ص نے بلند کی اس میں ریڑھ کی ہڈی ھیں۔ انکو نکال دیں باقی سب ختم ھوجاتاھے ۔
یہ غیر مسلموں نے کتابوں میں لکھاھے کہ محمد ص کی پاور یہ تین لوگ تھے ۔
نمبر ایک
خدیجہ بنت خویلد سلام اللہ علیہا ،
حمزہ بن عبد المطلب ع ،
علی ابن ابی طالب ع ۔
انجینئر علی مرزا



























