Kaptan92 retweeted
کچھ چیزوں سے اختلاف ہے۔ پنجاب کے دیہات میں مولوی ، امام مسجد کوئی طاقتور یا اہم شخصیت نہیں ہے۔ یہ بالعموم غیر کاشتکار برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد ہیں جنہوں نے مدرسہ تعلیم اس لیے حاصل کی کہ گھر میں وسائل نہیں تھے یا پھر روایتی تعلیم میں کند ذہن تھے۔ ابھی پنجاب حکومت نے ان کا کچھ وظیفہ لگایا ہے اس سے ہٹ کر انکی آمدن نہایت تضحیک آمیز طریقے سے دیے جانے والے سالانہ دانے ہوتے ہیں۔
اسکے ساتھ انکو ختم قل جنازہ نکاح غسل وغیرہ کا لاگ یا اضافی بونس ٹائپ ملتا ہے۔ان میں سے کچھ مولوی طبقات جو قدرے شاطر تھے وہ مذہب مدرسے اور اشتعال کی طاقت کو بروئے کار لاکر وقتا فوقتا اور محدود پیمانے پر کچھ اہمیت حاصل کرتے ہیں۔ بعینہہ یہی کام پختونخواہ میں ہوا۔ روایتی ملکان خوانین مشران اور بڑے لوگوں کے سامنے ٹی ٹی پی میں وہ لوگ کھڑے ہوئے جن کا سوشل سٹیٹس کمتر کا تھا۔ انہیں ٹی ٹی پی کے ڈھانچے نے طاقت اور سوشل سٹیٹس دیا۔
دوسری فوج کا ریٹائرڈ افسر تو شاید کسی نا کسی اہمیت کا حامل ہوتا ہے حوالدار صوبیدار کسی کا ہیرو نہیں۔ اب یہاں ساری وسائل اور ششکے کی گیم ہے۔ ڈالا ، پراڈو ، فارچیونر گن مین بڑے لوگوں کے ساتھ تعلقات اور سوشل میڈیا پر شوکا شاکی اب طاقت کا پاور ہاوس ہیں۔ اچھا اب انکی ذہنیت ، یہاں تحریر کا رواج بہت پرانا نہیں ہے۔ فوک داستانیں ، گلستان و بوستان سعدی و دیگر فرضی قصے بنیادی تعلیم کا ماخذ ہیں۔ میرے دادا کی جنریشن نے فارسی پڑھی ، والد نے اردو اور میری جنریشن نے انگریزی ہمارا جو ماضی سے کنکشن تھا وہ بوجہ دو دفعہ ٹوٹا۔ یعنی شعوری گراونڈز مضبوط نہیں بن پائیں کہ تسلسل نہیں رہا۔ پھر یہاں ہندوانہ عقائد اور وہی والی عقیدت بھی رچ بس گئی۔ ان دیکھے خدا اور اسکی طاقتوں پر یقین کرنا مختلف تخیل ہے اور کسی بابے لیر مزار ملنگ کو بھی الوہیت کا نمائندہ ماننے کے لیے الگ سطح کا دماغ درکار ہے۔ یہ عقیدت پھر اندھے اعتقاد پر مجبور کرتی ہے۔ ہاں یہ بات آپکی درست کہ ساتھ ساتھ پھر سعودی و ایرانی و غیر ملکی وسائل نے اس جلتی پر تیل ضرور ڈالا۔
تیسری چیز ، محض چار سال میں حالت یہ ہوچکی ہے کہ فوج کے خلاف نفرت ابل رہی ہے۔ ابوبکر کو تو آپ نےایکس پر دیکھا ہوگا۔ جٹ فرانس ، جٹ اٹلی ، جٹ پیرس ، جٹ 804 ، رانجھا 804 ، گوندل 804 ، آپ نے نہیں دیکھے ہوں ( یہ نام آپ کو عجیب لگیں گے لیکن یہ لوگ معاشرے کو جڑوں سے پکڑ کر ہلا رہے ہیں کسی دن وقت نکال کر انکو سنیے ) یہ سب پنجاب سے ہیں نوجوان ہیں اور آگ ہیں۔
چوتھی چیز پھر درست ہے کہ ایک روزہ لانگ مارچ یا کچھ ریلیاں سیاسی دباؤ تو ڈال سکتی ہیں انقلاب یا تبدیلی نہیں لاسکتیں۔ اسکے لیے قوم کو شعوری جدوجہد کرنا ہے۔ لیکن اسکو ابھی وقت لگے گا۔ اگرچہ چار سال میں اس جدوجہد کا سفر تحریک انصاف نے بہت تیزی سے طے کیا ہے بالکل درست سمت میں طے کیا ہے۔ سب سے پہلے خرابی کی نشاندہی کی۔ پھر خرابی کی طرف اشارہ کرنا شروع کردیا۔ پھر خرابی درست کرنے کا ارادہ کرلیا ، ایک آخری مرحلہ اسکو عملا درست کرنے کا ہے وہ بھی آجائے گا۔ بنگالیوں پر پہلی مرتبہ گولی 1952 میں چلی۔ آزادی 71 میں ملی۔ یہاں اگر انیس سال یہ فوج ایسے ہی انہی پالیسیز کیساتھ مسلط رہ گئی توجو انقلاب آئے گا وہ دنیا کی تاریخ میں اس سے پہلے کسی نے تصور نہ کیا ہوگا۔ ضرورت ایجاد کی ماں ہے اور ہر گزرتے دن کی تباہی و بربادی ایجاد کی ضرورت پیدا کررہی ہے۔
ایک آخری پوائنٹ ہے کہ خدشہ بہرحال موجود ہے کہ شاید کہیں یہاں لوگ اسے قسمت سمجھ کر قبول کرلیں اور خاموش نہ ہوجائیں اور ہم افریقی ممالک کی طرح ہوجائیں کہ کچی آبادیاں عام ہوجائیں اور غربت کا بحر بے کراں ٹھاٹھیں مارتا پھرے۔ لیکن پچھلے چار سال کی رفتار دیکھ کر لگتا تو نہیں کہ یہ سفر تھم جائے گا۔ باقی پھر اللہ ہی جانے کون بشر ہے۔
youtu.be/A6EwP7UeU0Y?is=XO_C…
کیا ملیٹری ملا اتحاد کو لانگ مارچ سے شکست دی جا سکتی ہے یا ایک ذہنی انقلاب سے؟ کیا کرنا ہو گا؟
Kaptan92 retweeted
#خان_اور_فیملی_کو_رہا_کرو
خاندان کو قید میں رکھنا سیدھی سیدھی غنڈہ غردی ہے۔
Kaptan92 retweeted
ایمل ولی کس طرح پشتونوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، ذرا یہ ویڈیو دیکھیں۔۔ اتنی جلدی تو گرگٹ بھی رنگ نہیں بدلتا ہوگا۔ 🚨
Kaptan92 retweeted
“پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا!
غلاموں کی کوئی زندگی نہیں ہوتی، غلام قوم کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔
تمام پاکستانیوں کو ملک پر مسلط ظلم کے نظام کے خلاف حقیقی آزادی کی تحریک کا حصہ بننا چاہیے تاکہ ہم حقیقی معنوں میں ایک آزاد قوم بن سکیں۔ ہم یکجا ہو کر مقابلہ کریں گے تو یہ ظلمت کا نظام ضرور زمین بوس ہو گا!
جب ایک قوم اپنے حق کے لیے خود کھڑی ہو جاتی ہے پھر اس کو کوئی طاقت جھکا نہیں سکتی۔ میں جیل میں بھی آزاد ہوں مگر میری قوم باہر ایک ایسی قید میں ہے جہاں نہ آزاد عدلیہ ہے نہ آزاد جمہوریت نہ ہی آزاد میڈیا۔ تمام پاکستانیوں کو اب اپنی حقیقی آزادی کے لیے باہر نکلنا ہو گا!
یہ لوگ فرعون بنے بیٹھے ہیں، جنہوں نے آپ کو غلام بنا رکھا ہے۔ پاکستانیو سن لو میری بات، آپ دنیا کے سب سے عظیم لیڈر محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت ہیں۔ آپ کا کلمہ ہے "لا إله إلا الله" نہیں ہے کوئی خدا سوائے اللّہ کے۔ یاد رکھیں، آپ پچیس کروڑ ہیں! اگر آپ خوف کے سامنے جھُک گئے تو آپ کا کوئی مستقبل نہیں ہے، غلامی سے بہتر موت ہے، پرواز صرف آزاد لوگوں کی ہے۔ قرآن کی آیت ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اللّہ ان کے خوف دور کر دیتا ہے، میں ایمان والوں سے کہہ رہا ہوں آپ نے کھڑا ہونا ہے! آزادی کے لیے قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔
میں غلامی قبول کرنے پر موت کو ترجیح دیتا ہوں۔ یہ چاہے کچھ بھی کر لیں میں نہ ہی جھکوں گا اور نہ ہی ان کی بیعت کروں گا۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی، اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے!
میرا قوم کے نام پیغام ہے کہ جو قومیں “یا موت یا آزادی” جیسا دو ٹوک اور بے باک نظریہ اپناتی ہیں انہیں حقیقی آزادی کے حصول اور ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا، ایسی اصول پسند قومیں ہی سرخرو ہوتی ہیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ “کفر کا نظام چل سکتا ہے مگر ظلم کا نہیں”۔ ہمیں اس ظلم کے خلاف اپنے اور اپنے ملک کے بہتر مستقبل کے لیے خود کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس لیے پوری قوم کو پیغام دیتا ہوں کہ تیاری پکڑیں!
میرا اپنی پوری قوم، اپنے کارکنان اور پارٹی قیادت کو پیغام ہے کہ آپ کا کپتان آج بھی سینہ تان کر کھڑا ہے، آپ نے گھبرانا نہیں ہے! میں قید و بند کی صعوبتیں اس لیے برداشت کر رہا ہوں تاکہ میری قوم کو آزادی مل سکے۔ ہم نے کسی بھی صورت ظلم اور جبر کے سامنے سر نہیں جھکانا۔ یاد رکھیں اندھیری رات جتنی بھی طویل ہو، اس کی صبح ضرور طلوع ہوتی ہے۔ اس ظلمت کی رات کا خاتمہ قریب ہے، انشاءاللّہ انصاف اور آزادی کا سورج جلد طلوع ہو گا!”
- پاکستان کے کپتان، حقیقی وزیراعظم عمران خان
#مزاحمت_سے_ملے_گی_آزادی
#حق_كى_جيت_ہو_گى
Kaptan92 retweeted
دہشت گردی کا بہانہ بنا کر نافذ کیے گئے گورنر راج کے فوری بعد ترقیاتی منصوبوں کے بورڈز ہٹانے کا سلسلہ شروع!
خیبرپختونخوا کے تمام اضلاع اور تحصیلوں میں سرکاری انتظامیہ کی جانب سے تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں مکمل اور جاری ترقیاتی منصوبوں کے پوسٹرز، بورڈز اور بل بورڈز ہٹائے جا رہے ہیں۔
ایک طرف 1000 سے زائد ترقیاتی منصوبوں کی تختیاں ہٹائی جا رہی ہیں، تو دوسری جانب یہ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ گزشتہ 13 سالوں میں صوبے میں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا۔
ترقیاتی منصوبوں کی تختیاں ہٹانے سے ان منصوبوں کی حقیقت ختم نہیں ہو سکتی!
Kaptan92 retweeted
Lest we forget, Imran Khan continues to be held in a 6x8 prison cell for 3+ years now.
Most of us here wouldn't survive 3 months in a seven-star resort, disconnected and isolated from the world, family, and human contact. And yet, just because he is braving prison with grace, his suffering and pain have been normalized.
And those who raised their voices for his release, his sisters, and cousins have also been abducted and imprisoned.
Our future generations will look back in history and wonder in horror how any of this was even allowed.
Kaptan92 retweeted
How long can a state hold citizens without trial and still call itself a democracy?
It is not democracy. It is Asim law.
#خان_اور_فیملی_کو_رہا_کرو
For one full month, Aleema, Noreen, and Uzma Khan have been detained under a colonial-era law that allows the executive to bypass the courts. No formal charges. No opportunity to defend themselves. No transparent justification beyond vague claims of “public order.”
This is not law and order. This is the weaponisation of law against dissent.
Every day they remain behind bars is another day the Constitution is violated. Every day of their detention chips away at the rights of every citizen.
Justice delayed is justice denied. Their freedom is not a favour; it is their fundamental right.
Release them now!
We’re now told Afghan front companies have been looting KP’s mines. That would be in a province that has been through 22 major military operations and more than 14,000 intelligence-based operations since 2002, where soldiers man the checkposts from Bajaur to Waziristan, and where nothing moves without the Army’s say-so.
Somehow the Afghans slipped past all of it. Nobody making this claim has named a single company, and they don’t need to guess, because KP’s mining register is public. Every title in it names its holder, and there is no Afghan company in it. What it shows is the Army, under names that don’t say Army. FWO holds KP’s only working large-scale mine, 30 sq km of copper in North Waziristan, through a company called Degan Exploration Works. It pays the province 10% of the profits (some argue its actually 5%).
The Army Welfare Trust has held limestone and shale leases in Nowshera since the early 1990s. Its Askari Cement held more Nowshera titles before it was folded into Fauji Cement, a Fauji Foundation company, in 2021.
The army-run NLC applied for a lease in Swabi last month. The elite aligned civilians took their cut too. In 2024 the provincial titles committee approved a consortium with a firm called Sky Link Communication for 51 sq km of metals and stone, and another with BM General Order Suppliers for 30 sq km of river gold.
In July, KP’s elected assembly ordered a review of every lease in the province. On October 11, Islamabad shut that assembly down and called it a fight against terrorism. Within a week the governor was inviting foreign companies to extract and sell KP’s minerals, and PEMRA had banned TV channels from showing terror attacks. Islamabad’s minerals investment forum opens on November 12.
Terrorism and bad governance are the cover story. Governor’s rule is the theft of KP’s copper, gold, lithium, etc, plain and simple.
Kaptan92 retweeted
بلوچستان کے حالات بدترین ہیں، سکیورٹی فورسز اور عام شہری روزانہ دہشت گردی کا شکار ہو رہے ہیں، مگر حکومت کی جانب سے ایمرجنسی کا نفاذ خیبر پختونخوا میں کیوں کیا جا رہا ہے؟
مستونگ، ماشکیل اور زیارت کے دلخراش واقعات اور لواحقین کی گواہیاں عام انسانوں اور محنت کشوں پر ہونے والی درندگی کی تصدیق کرتی ہیں۔
اس کے باوجود صوبائی ایمرجنسی اور سیاسی کریک ڈاؤن کا رخ خیبر پختونخوا کی منتخب حکومت اور قیادت کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔
کیا بلوچستان کے تمام مسائل، معدنیات اور سکیورٹی حالات کو نظر انداز کر کے اصل ہدف خیبر پختونخوا اور اس کے عوام ہیں؟
#PakistanUnderCrisis
Kaptan92 retweeted
Three Frontiers, Trade Disrupted. One pressing question: WHERE IS THE STRATEGY?
With trade disrupted across borders with India, Afghanistan and now Iran, Pakistan’s regional isolation is deepening—with serious consequences for trade, livelihoods and economic stability.
A regime’s record is measured not by the power it concentrates, but by the crises it fails to resolve. When economic lifelines are cut, slogans cannot substitute for strategy.
Dawn News, October 18, 2026
dawn.com/news/2037865
Kaptan92 retweeted
“We had a feeling that it could be the last call for a while.” - Sulaiman Khan
“We are desperate to know the condition of our father.” -@Kasim_Khan_1999
#FreeImranKhan
Kaptan92 retweeted
Political persecution disguised as counter-terrorism in Khyber Pakhtunkhwa!
In Khyber Pakhtunkhwa, the “war on terror” seems to target everything but terrorists: elected representatives, defence lawyers, political banners, public buses, streetlights—and even the internet.
When political dissent is treated as terrorism, public infrastructure becomes a target, and the media is silenced, the real objective is impossible to ignore.
Terrorism is just the excuse; PTI is the target of abuse.
#PakistanUnderCrisis
Kaptan92 retweeted
آمریت کی واحد طاقت ظلم ہے۔
اس کے بغیر فسطائی طاقتیں راکھ کا ڈھیر ہیں۔
جبکہ عوام کے پاس ظلم کا مقابلہ کرنے کا عزم، اپنی نسلوں کو غلامی سے بچانے کا حوصلہ اور اپنے لیڈر کا نظریہ ہے۔
فتح صرف حق کی ہو گی۔
#فوکس_صرف_خان_کی_رہائی
Kaptan92 retweeted
ویسے تو بہت سے وفادار ساتھی جیلوں میں ہیں، لیکن ہم جانتے ہیں کہ اصل اہمیت عمران خان کی رہائی ہے، وہ ممکن ہو جائے تو باقیوں کی رہائی بھی ممکن ہو پائے گی
#فوکس_صرف_خان_کی_رہائی
Kaptan92 retweeted
پاک فوج جس دن تسلیم کرلے گی کہ قوم کو اس سے نفرت ہوگئی ہے اس دن پاک فوج اس نفرت کو ختم کرنے کی کوشش کرے گی۔ اس نفرت ختم کرنے کا ایک ہی رستہ ہے جو سیدھا بیرکوں اور مورچوں کو جاتا ہے اور اس سڑک کا پہلا سٹاپ اڈیالہ ہے۔
جب تک فوج خود کو دھوکہ دیتی رہے گی ، خود سے جھوٹ بولتی رہے گی فوج کی ذلت بڑھتی چلی جائے گی۔ آج ہزاروں لاکھوں لوگ فوج پر ہنس رہے ہیں۔ جنازوں کو بھی نہیں چھوڑ رہے۔ نہ فائر وال کام آئی ہے نہ چالیس نیوز چینلز کام آئے ہیں نہ آئی ایس پی آر کی اربوں روپے کی مہمات۔
یہ نفرت آسمان سے نہیں اتری ، کسی بھارتی، کسی جمائما ، کسی اوورسیز کسی یوٹیوبر کے کہنے سے نہیں آئی۔ یہ ذلت فوج نے بہت محنت سے کمائی ہے۔ فوج کے ساتھ جو ہورہا ہے اسکی ذمہ دار فوج ہے۔
Kaptan92 retweeted
Video for International Media & Observers on Pakistan’s Governor’s Rule in KP and imposing of Emergency in the province.
The mandate snatching and killing of democracy series in Pakistan continues.
Kaptan92 retweeted
خواجہ آصف آپ نے بات چھیڑ دی، تو پھر لو جی کچھ ریکارڈ درست کردیں۔
یہ سوال بھی جناب احمد کنڈی صاحب نے جمع کیا تھا، جس کا جواب محمکہ معدنیات نے کمیٹی میں پیش کیا۔۔۔۔ FWO شمالی وزیرستان کاپر مائننگ!!!!
پچھلے دو سال سے میں رکن صوبائی اسمبلی کے حثیت سے صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی ماینز اینڈ منرل کا ممبر ہو، اور محکمہ معدنیات پختونخوا کا ریکارڈ ھمارے ساتھ کمیٹی میں ڈسکس کیا جاتا رہا، اور تقریباً یہ سب مندرجہ ذیل باتیں ھمارے ریکارڈ کا حصہ ہیں،
محکمہ معدنیات پختونخوا نے لارج اسکیل لائسنس 4 چار جاری کی ہیں، جس میں ایک لارج اسکیل لائسنس ایف ڈبلیو او کے پاس ہے، وزیرستان میں کاپر کی کان کنی ہورہی ہیں، 2016 میں یہ لاسینس ایف ڈی ایم اے کے پاس تھا جس کیساتھ ایف ڈبلیو او نے جائنٹ وینچر کرکے حاصل کیا ہے، 2017 میں پختونخوا ماینز اینڈ منرل ایکٹ بنا، اب ایک ہی لارج اسکیل لائسنس فنکشنل ہے اور وہ وزیرستان میں کاپر کی ہے ایف ڈبلیو او کے پاس ہے،
اس کا رقبہ 30 مربع کلومیٹر یعنی 7,410 ایکڑ ہے، جو 37 عام لیزوں کے برابر ہے۔ مقامی عوام کو صرف 50 سے 500 ایکڑ دیا جاتا ھے
محکمہ معدنیات کے ریکارڈ کے مطابق وہاں سے 2016 سے 2024 تک 987,000 ٹن کاپر نکالا گیا، جس میں پچھلے دو سال کا ریکارڈ شامل نہیں 2025,26 کا، اسکے باوجود ایف ڈبلیو او نے 10 لاکھ ٹن کاپر اوپن بولی کے ذریعے فروخت اور ایکسپورٹ کیا۔
اب اسکے پراسیسنگ کرکے 25٪ سے لیکر 30 فی صد کاپر تیار کرکے مارکیٹ میں بیچھتے ھیں، اج انٹرنیشنل مارکیٹ میں 25٪ کاپر کا ریٹ 9500 ڈالر جبکہ 30٪ کاپر کا ریٹ 11500 ڈالر فی ٹن ھے،
اب اس کاپر کی مالیت صحافی حامد میر کے بیان کردہ 7 لاکھ روپے فی ٹن نرخ کے حساب کے مطابق اس نکالی گئی کاپر کی مجموعی مالیت تقریباً 6.9 کھرب روپے بنتی ہے۔
اب پختونخوا کی محکمہ معدنیات ایکٹ 2017 کے معدنی قانون کے مطابق 5٪ رائلٹی کے حساب لگا کر تقریباً 34.5 ارب روپے بنتے ہیں، جبکہ محکمہ معدنیات کی ریکارڈ کے مطابق محکمہ معدنیات کو صرف 16.9 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔
جب مجھ سمیت دیگر ممبران اسمبلی احمد کریم کنڈی، ایم پی اے عدنان خان سمیت دیگر سیکٹری معدنیات، ڈی جی معدنیات سے اس حوالے سوال اٹھائے کہ کیوں پورا حساب کتاب نہیں دیا جارہا ہیں، تو بچارے خاموش ہو جاتے اور اکثر کہتے ہیں کہ سر ھم کچھ نہیں کرسکتے۔ یہ سب باتیں کمیٹی ریکارڈ کا حصہ ہیں، اور ھمارے پاس ڈاکومنٹس کی شکل میں بھی موجود ہیں،
بشرط یہ کہ اگر اب اس گورنر راج اور ایمرجنسی کی مارشلائئ دور میں محمکہ معدنیات کی ریکارڈ میں ردوبدل نا کریں۔۔
اب آتے ہیں احتساب کے طرف، کہ سب سے پہلے کس کا؟ جب صوبے کی 4000 زیادہ چھوٹے لیز ہولڈرز کی مجموعی سالانہ آمدن تقریباً 14 ارب روپے تک پہنچ چکا ہیں، تو دوسری طرف صرف ل اس ایک لیز ( وزیرستان کاپر ) کی مبینہ رائلٹی 33 ارب روپے بنتی ہے اور ادائیگی صرف 16.9 کروڑ دیکر باقی رقم نہیں دیتے،تو ائیں سب سے پہلے اس کا شفاف آڈٹ اور احتساب تو کریں۔؟
ہاں میں مانتا ہوں کہ پی ٹی آئی کی ناقص حکمرانی کے ساتھ ھمارا اختلاف تھا اور رہے گا، کیونکہ اسکے دور حکومت میں اقربا پروری، کرپشن سب کچھ ہو رہا تھا، ھم بھی اسکے ساتھ اختلاف رکھتے ہیں،
لیکن ریکارڈ کو دروست رکھنے کیلے یہ لمبی تحریر لکھنا پڑھ رہا ہیں، تاکہ پنجاب کی سول ملٹری اشرافیہ نے جس طرح پچھلے دو دنوں سے عوام کو گمراہ کرنے کی مذموم کوشش شروع کر رکھے ہیں، اسکے آڑ میں پختونخوا کی موجودہ تمام چھوٹے لیز ہولڈرز کی لایسینز مشکوک کرکے ختم کرنے کی سازش ہورہی تاکہ اسے ختم کرکے کمپنی سرکار اپنے لیے لارج اسکیل لائسنس کا اجراء کرکے ھمارے وسائل پر قبضہ جمانے کی کوشش ہورہی ہیں،
اب آتے موجود چھوٹے لائسنس کی اجراء کے بارے میں بات کرکے ہیں،
محمکہ معدنیات پختونخوا نے آن لائن پورٹل 2017 میں رسالپور میں سیکیورٹی ادارے نے محکمہ معدنیات کو تربیت دے کر شفاف آن لائن پورٹل نظام تیار کروایا، جس سے شہری گھر بیٹھے لائسنس کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
2024 میں مائن اونرز ایسوسی ایشن نے میڈیا اور اداروں کو بتایا کہ فیسیں اور کاغذات مکمل ہونے کے باوجود 7000 درخواستوں پر لائسنس جاری نہیں ہوئے۔
اس ایشو کو کمپنی سرکار کی حکم پر نیب نے نوٹس لیا، اور اکتوبر 2024 میں نیب نے مشترکہ پریوینشن کمیٹی کے ذریعے جانچ پڑتال کی اور زیرِ التوا لائسنسوں کا معاملہ فوری حل کرنے پر زور دیا۔
نیب اعلامیے کے بعد محکمہ معدنیات کی اس وقت کی ڈائریکٹر جنید خان نے درخواستوں کی پراسیسنگ شروع کی اور قانونی تقاضے پورے کرنے والوں کو لائسنس جاری کیے۔ اور کمیٹی میں باقاعدہ رپورٹ پیش کیا،
ان 4000 سے زیادہ لیز ہولڈرز میں مختلف سیاسی جماعتوں کے افراد، ریٹائرڈ فوجی افسران اور پاکستان بھر کے شہری شامل ہیں۔ اور یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہیں،
اس حوالے سے ھمارا موقف بڑا واضح ہیں کہ ان لیزوں میں بے ضابطگیاں اور بی قاعدگیاں ہوئیں ہیں تو ان کی تحقیقات ضرور ہونا چاہیے، اور ـــــــ 1/2


























