عمران دور میں صابر شاپر صاحب فرماتے تھے کہ صحافی کا کام "قومی مفاد" کا تحفظ کرنا ہوتا ہے بھلے اسکو جھوٹا پروپیگینڈا کرنا پڑے۔ اسی سنت پر ایک تو اب بڑے بڑے صحافی عمل کررہے ہیں اور مزید ارتقا یہ ہوا ہے کہ ان بڑے بڑے صحافیوں کا ذاتی مفاد بھی "قومی مفاد" سے جڑ گیا ہے







