Pinned Tweet
"رفوگر" 😂
کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ نے ایک رفوگر رکھا ہوا تھا۔ وہ کپڑا نہیں باتیں رفو کرنے کا ماہر تھا۔ وہ بادشاہ سلامت کی ہر بات کی کچھ ایسی وضاحت کر دیتا کہ سننے والے سر دھننے لگتے کہ واقعی بادشاہ سلامت نے صحیح فرمایا۔
ایک دن بادشاہ سلامت دربار لگا کر اپنی جوانی کے شکار کی
1/5
Nisar Awan Official retweeted
معاف کرنا یہ نہیں کہ
آپ نے جو ہوا اسے بھلا دیا۔
معاف کرنا کبھی کبھی صرف یہ فیصلہ ہوتا ہے
کہ میں اپنے دل کو اُس واقعے کی سزا
مزید نہیں دوں گا۔
کچھ لوگ معافی کے مستحق ہوں یا نہ ہوں،
آپ کے سکون کو پھر بھی آزادی کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہر زخم کو ساتھ لے کر چلنا
وفاداری نہیں، خود پر ظلم بھی ہو سکتا ہے۔
Nisar Awan Official retweeted
کبھی کبھی کسی شخص سے
بات ختم نہیں ہوتی،
صرف موضوع ختم ہو جاتے ہیں۔
پھر دونوں جانتے ہیں
کہ پہلے جیسا کچھ باقی نہیں رہا۔
Nisar Awan Official retweeted
السلام علیکم
بے شک انسان فانی ہے اور ہم سب کو اپنے اپنے وقت پر جانا ہے اور جس جہان جانا ہے وہاں دعائیں منزلیں آسان کرتی ہیں۔
آپ سب کی دعاؤں اور نیک خواہشات کا بے حد شکریہ۔
Nisar Awan Official retweeted
قبرستان خواتین سے بھرے پڑے ہیں جن سے کہا گیا تھا، صبر رکھو، وہ بدل جائے گا
ہمارے معاشرے میں خواتین کو دی جانے والی سب سے عام نصیحتوں میں سے ایک یہ ہے: "صبر کرو، وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔"، "شادی بچانے کے لیے برداشت کرنا پڑتا ہے۔"، "وہ ابھی ایسا ہے، بعد میں بدل جائے گا۔"
یہ جملے بظاہر ہمدردی اور خیرخواہی کے لگتے ہیں، لیکن بہت سی عورتوں کی زندگیاں انہی جملوں کے انتظار میں گزر جاتی ہیں۔ وہ برسوں اس امید سے رہتی ہیں کہ شاید ایک دن شوہر کا غصہ کم ہو جائے گا، شاید اس کی بے رخی محبت میں بدل جائے گی، شاید اس کی بے عزتی عزت میں بدل جائے گی، شاید وہ ذمہ دار بن جائے گا، شاید وہ سمجھنے لگے گا۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ صرف وقت گزرنے سے لوگ نہیں بدلتے۔ لوگ تب بدلتے ہیں جب وہ خود بدلنا چاہیں، اپنی غلطیوں کو تسلیم کریں اور انہیں درست کرنے کی کوشش کریں۔ اگر کسی شخص کو اپنے رویے میں مسئلہ ہی نظر نہ آئے تو دوسروں کا صبر اس کی شخصیت کو نہیں بدل سکتا۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ اکثر عورتوں کو ہر مسئلے کا حل صرف صبر بتایا جاتا ہے۔ اگر شوہر بدتمیز ہو تو صبر، اگر وہ غیر ذمہ دار ہو تو صبر، اگر وہ عزت نہ دے تو صبر، اگر وہ مسلسل ذہنی اذیت دے تو بھی صبر۔ یوں آہستہ آہستہ عورت اپنی خواہشات، اپنے خواب، اپنی خوشی اور کبھی کبھی اپنی شناخت تک قربان کر دیتی ہے۔
صبر یقیناً ایک بہت بڑی خوبی ہے، لیکن صبر اور خود کو مٹا دینے میں فرق ہوتا ہے۔ دین بھی کسی انسان کو ظلم برداشت کرنے کا حکم نہیں دیتا۔ اسلام نے عزت، انصاف اور حقوق کی بات کی ہے۔ اگر ایک رشتہ انسان کی ذہنی، جذباتی یا جسمانی صحت کو مسلسل نقصان پہنچا رہا ہو تو اس پر بات کرنا، مدد لینا یا مناسب فیصلہ کرنا کمزوری نہیں ہے۔
بہت سی خواتین اپنی پوری جوانی اس امید میں گزار دیتی ہیں کہ ایک دن سب بدل جائے گا، لیکن جب وہ پیچھے مڑ کر دیکھتی ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ سال تو گزر گئے مگر حالات وہیں کے وہیں ہیں۔ زندگی انتظار کرتے کرتے ختم ہو جاتی ہے اور ان کی اپنی خواہشات، خواب اور خوشیاں کہیں راستے میں دفن ہو جاتی ہیں۔
اس لیے صبر کی تلقین کرنے سے پہلے یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ جس شخص کو صبر کا مشورہ دیا جا رہا ہے وہ کس چیز کو برداشت کر رہا ہے۔ ہر مسئلے کا حل صبر نہیں ہوتا۔ بعض اوقات حل حدود مقرر کرنا ہوتا ہے، بعض اوقات آواز اٹھانا ہوتا ہے، اور بعض اوقات حقیقت کو تسلیم کرکے اپنی زندگی کے بارے میں بہتر فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔
کیونکہ قبرستان واقعی ایسی خواتین سے بھرے پڑے ہیں جن سے کہا گیا تھا، "صبر رکھو، وہ بدل جائے گا"، لیکن وہ دن کبھی نہیں آیا۔
Nisar Awan Official retweeted
شادی شدہ حضرات سے اپیل
اگر بیوی کوئ پھل فروٹ یا پکوڑے وغیرہ پلیٹ میں لاکر دے اور کہے کہ اٹھیں کھالیں تو چپ چاپ اٹھ کر کھالیں یہ والا ڈرامہ نہ کریں کہ دل نہیں کررہا میں نہیں کھانے،
میں نے یہ ڈرامہ کیا تھا وہ اگلی سارے کھاگئ۔۔۔۔۔💔
ایک دکھی بھائی کی دہائی
Nisar Awan Official retweeted
گالیاں دینے کے نقصانات
کہتے ہیں کہ ایک لوہار کی بند دکان میں ایک سانپ گھس گیا ، اُس کا جسم وہاں پڑی ایک آری سے ٹکرا کر ہلکا سا زخمی ہو گیا ، اس سانپ نے پلٹ کر پوری قُوت سے آری کو ڈسا جس کے سبب اس کا مُنہ بھی زخمی ہوگیا ، اس نے غصے میں آ کر خود کو آری کے اِرد گِرد لپیٹ لیا اور اپنا دشمن سمجھ کر اسے دبانے لگا ، جس کی وجہ سے وہ خود ہی مرگیا۔ اے عاشقانِ رسول! اس بے وقوف سانپ کی طرح غُصیلے (یعنی غصے والے) افراد بھی بےوقوفانہ انداز اپناتے ، دوسروں کو تکلیف دیتے اور نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ذرا ذرا سی بات پر گالی پر گالی دے رہے ہوتے ہیں ، کئی لوگ تو اس قدر گالیوں کی دَلدَل میں دھنسے ہوتے ہیں کہ ہر چیز مثلاً گدھے ، گھوڑے ، بکرے وغیرہ جانوروں کو بھی گالیاں دے رہے ہوتے ہیں ، دیوار سے ٹکرا گئے تو اسے گالی ، دروازہ نہ کھلے تو اسے گالی ، گاڑی اسٹارٹ نہ ہو تو اسے گالی ، کال نہ لگے تو نیٹ ورک کو گالی ، الغرض ہر چیز ہی کو اپنی گالیوں کا نشانہ بنا رہے ہوتے ہیں۔ بات بات پر غُصے ہوکر گالیاں دینے والا شخص اس بے وقوف سانپ کی طرح عزت کے حوالے سے اپنی موت آپ ہی مرجاتا ہے۔ یاد رکھئے! کسی مسلمان کو گالی دینا ، اُس کی عزّت اچھالنا گناہ کا کام ہے۔
Nisar Awan Official retweeted
اکاؤنٹ کو مرگی ہو گئ ہے ٹائم لائن بلینک ہے کوئ نوٹیفکیشن نہیں کھل رہا کوئ ٹوئٹ اوپن نہیں ہو رہی۔
ٹیسٹنگ کہ ٹوئٹ ہوتی ہے یا نہیں۔
کوئ ذرا اکاؤنٹ کا شیڈو بین ٹیسٹ کر کے بتائے کی موت پئ اے اینوں
Nisar Awan Official retweeted
بلاعنوان۔۔۔
صرف شیر افضل بکا ہے یا سارے مروت بک گئے ہیں۔؟
ایران جنگ کے شور میں کمپنی صرف بندوقوں کو ٹاکی شاکی مار رہی ہے یا اپنا اصلی کام یعنی عمران خان مٹاؤ پروگرام بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔۔؟
بات ایک کال سے شروع ہوئ جو ہماری ایک رشتہ دار کی جانب سے موصول ہوئ۔ وہ بحریہ کراچی
Nisar Awan Official retweeted
جو بے بنیاد خبریں شائع ہوئیں ان میں سے ایک یہ ہےکہ" رہبر انقلاب "روس جانے کی تیاری کر رہے ہیں، حالانکہ وہ تہران میں موجود ہیں۔لندن ٹائمز جیسا اخبار اس کا مرتکب ہوا اور اس پہ اعتبار کر لیا۔گیا۔کوئی بات نہیں لیکن جب خبر جھوٹی نکلی تو ان معززین کو وضاحت کرنی چاہیے تھی۔
Nisar Awan Official retweeted
بالکل مستند نہیں اور جلد آپ کو اس کا اندازہ ہو جائے گا۔
Replying to @haroon_natamam
جناب والا پھر پردہ داری کس کی ہے، مظاہرے بڑے پیمانے پر ہو رہے ہیں یہ تو مستند خبر ہے
Nisar Awan Official retweeted
برطانیہ میں ٹیپو سلطان کی تاریخی تلوار کو نیلامی کے لیے پیش کیا گیا، 14 ملین پاؤنڈز میں فروخت ہونے والی یہ تلوار 18 ویں صدی میں میسور کے حکمراں ٹیپو سلطان کے نجی کوارٹر سے ملی تھی۔ نیلامی کی یہ قیمت تقریبًا پانچ ارب روپے پاکستانی بنتی ہے۔
بون ہیمس میں اسلامی اور بھارتی فنون کے شعبے کے سربراہ اولیور وائٹ کا کہنا تھا کہ یہ شاندار تلوار ٹیپو سلطان سے منسوب تمام ہتھیاروں میں سب سے اہم تصور کی جاتی ہے کیونکہ اس تلوار سے ان کی ذاتی وابستگی بہت زیادہ تھی۔
مغل تلوار سازی اور جرمن بلیڈ ڈیزائن کے تحت بنائی ہوئی ٹیپو سلطان کی تاریخی تلوار کے دستے پر انتہائی نفاست سے سنہرے حروف میں دعائیں تحریر ہیں جبکہ اس پر "حاکم کی تلوار" کے حروف بھی لکھے ہوئے ہیں۔
نیلام گھر کے مطابق ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد ان کی یہ تلوار برطانوی میجر جنرل ڈیوڈ بیرڈ کو ان کی ہمت کے نشان کے طور پر پیش کی گئی تھی۔
ٹیپو سلطان کو ان کی بہادری اور شجاعت کی بدولت شیر میسور کا لقب دیا گیا۔
ٹیپو سلطان کا یہ قول کسی "فن پارے" سے کم نہیں کہ:
"شیر کی ایک دن کی زندگی ، گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے"۔
شاعر مشرق علامہ اقبال کو ٹیپو سلطان شہید سے خصوصی محبت تھی۔ 1929ء میں آپ نے شہید سلطان کے مزار پر حاضری دی اور تین گھنٹے بعد باہر نکلے تو شدّت جذبات سے آنکھیں سرخ تھیں۔ انہوں نے فرمایا:
”ٹیپو کی عظمت کو تاریخ کبھی فراموش نہ کرسکے گی وہ مذہب ملّت اور آزادی کے لیے آخری دم تک لڑتا رہا یہاں تک کہ اس مقصد کی راہ میں شہید ہو گیا۔“
اللہ پاک اپنے پیارے محبوبﷺ کے صدقے ان کے درجات بلند فرمائے۔
Nisar Awan Official retweeted
شاہ ذیب خانزادہ کی بیوی سے بدتمیزی نہیں ہوئی تھی ،صرف شاہ ذیب خانزادہ سے سوال ہوا تھا لیکن بیانیہ بنایا گیا کہ اس کی بیوی کو ہراساں کیا گیا
آج عمران خان کی بہنوں کے ساتھ ظلم ہورہا ہے ،
اس بربریت اور یزیدیت پر وہ سارے بیغرت خاموش ہیں جن کے دو دن تک پٹے کھلے ہوئے تھے
Nisar Awan Official retweeted
اللہ کی لعنت ہو مجھ پر اگر مجھے اسٹیبلشمنٹ نے لانچ کیا ہوُ- اقرار الحسن صاحب
Nisar Awan Official retweeted
رسول اللّٰهﷺ نے فرمایا
میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی اور اس کی مدد کی جاتی رہے گی ،
ان کی مخالفت کرنے والے انہیں نقصان نہیں پہنچا سکیں گے،
حتی کہ اللہ تعالی کا حکم (قیامت) آ جائے۔
*•|[سنن ابن ماجہ، 10]|•*
Nisar Awan Official retweeted
ریاستی تشدد اور فاشزم کا سب سے پہلا نشانہ ڈاکٹر شہباز گل تھے مگر وہ ایک انچ ادھر ادھر نہیں ہوئے
عین اس وقت PTI کی اکثر لیڈرشپ کمپرومائزڈ ہونا شروع ہوئی شہباز گل ہی تھے جو سیاسی کمیٹی کو راہ راست پر رکھنے کیلئے اپنی سفارشات پیش کرتے رہے
آج بھی وہ واحد سیاسی رہنما ہیں جو میڈیا کے حملوں کا جارحانہ دفاع کر رہے ہیں۔
ہمیں انکے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہونا ہو گا
Nisar Awan Official retweeted
اگر عمران خان کی حکومت بشری بی بی چلاتی تھیں تو وہ جرنل عاصم،شہباز،اسحق ڈار سے قابل ہویں
6.2فیصد اکانومی سمیت ملک ترقی کر رہا تھا 😂
Nisar Awan Official retweeted
اگر اسلام آباد میں خودکش حملہ کرنے والا جلال آباد افغانستان کا رہنے والا تھا تو اسے جلال آںاد سے اسلام آباد پہنچنے تک کیوں نہیں روکا گیا ؟کیا یہ سیکیورٹی کی ناکامی نہیں ؟
جب بندے شہید ہو جائیں تو بعد میں کہہ دو کہ حملہ آور کابل یا دلی سے آیا تھا ،
ایسے نہیں چلے گا ،
محمود خان اچکزئی
Nisar Awan Official retweeted
یہ سُنیں۔
اسی لیئے پاکستانی صحافت سے نفرت ہوچکی ہے بُشمول چند پاکستانی صحافیوں کے۔
@TheEconomist کی پوری کہانی کی بُنیاد سے ہی ختم۔ بُشری تسکیں صاحبہ جو بھی ہیں جنھوں نے یہ کالم لکھا وہ سراسر جھوٹ پر مبنی نکلا۔
جس قصائ کا سہارا لیکر آرٹیکل لکھا گیا اس نے راز فاش کردیا۔
ویسے قصائ کا سہارا لیکر جھوٹی کہانیاں گڑھیں گے تو بوٹیاں ہی بنیں گی بعد میں۔
And @TheEconomist you have lost all credibility. I used to hold your articles on n the highest of esteem as an Investment Banker but now you have reduced yourself to writing articles about meat shops and butchers aa fake witnesses. Pathetic














