🆎ྀ࿐✿D✧🅰️☘ྀ࿐✿♑ retweeted
اس انٹرویو میں امریکی عہدیدار پاکستان سے منرلز نکالنے کی بات کر رہی ہے۔ انکی پوری سٹڈی اور تیاری ہے۔
اب یہ کونسے منرلز نکالنا چاہتے ہیں یہ سمجھنے کے لیے آپ اس انٹرویو کا 40 سیکنڈ بعد والا حصہ سنیے۔
یہاں یہ خاتون ایک نیا ایکو سسٹم ڈویلپ اور تربیت یافتہ ورکرز اور ٹریننگ کی بات کر رہی ہیں۔ یہ چیزیں صاف بتاتی ہیں کہ اب امریکی کمپنیاں پاکستان سے ریئر ارتھ منرلز نکالنا چاہتی ہیں جن کو نکالنے سے بدترین تابکاری پیدا ہوتی ہے اور پورا ایکو سسٹم حتیٰ کہ پورا ماحول اور نسلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ امریکہ نے دنیا کے کئی ملکوں سے یہ منرلز نکالنے کو کوشش کی مگر وہاں کی عوام اور عالمی تنظیمیں راستے میں آگئیں۔ اب انکی نظر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود منرلز پر ہے۔ ایک بات یاد رہے کہ امریکہ کو سپر پاور برقرار رہنے کے لیے یہ منرلز ہر حال میں چاہئیں اور یہی منرلز امریکہ میں وافر مقدار میں موجود ہونے کے باوجود وہاں سے تابکاری خطرات کی وجہ سے نہیں نکالے جا رہے۔ امریکی عوام اسکی شدید مخالف ہے۔ مگر پاکستان میں اب یہ بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے باقی تفصیلات وی لاگ میں۔۔۔
🆎ྀ࿐✿D✧🅰️☘ྀ࿐✿♑ retweeted
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی آئینی حقوق کے تحفظ، قانون کی حکمرانی اور سرکاری امور میں غیرجانبداری یقینی بنانے کے لیے اہم ہدایات جاری!
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے تمام متعلقہ سرکاری افسران کو ہدایت کی ہے کہ آئینِ پاکستان 1973 کے تحت شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ شہریوں کو پُرامن اجتماع، آزادیٔ اظہار اور نقل و حرکت کے آئینی حقوق کے استعمال میں کسی غیرقانونی یا غیرآئینی رکاوٹ کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ تمام سرکاری افسران اپنے فرائض آئین، قانون اور مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق مکمل غیرجانبداری اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ انجام دیں۔ کسی بھی افسر کو کسی بیرونی دباؤ، اثرورسوخ یا غیرمتعلقہ ہدایات کے تحت کام نہیں کرنا چاہیے۔
امن و امان اور عوامی تحفظ کے لیے ضروری اقدامات قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے، بلاامتیاز اور کسی سیاسی وابستگی یا مصلحت سے بالاتر ہو کر کیے جائیں۔ متعلقہ افسران کو ان ہدایات پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے اور اپنے ماتحت اداروں تک پہنچانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
🆎ྀ࿐✿D✧🅰️☘ྀ࿐✿♑ retweeted
یہ سفید بالوں کو کالا کرنے کاایک ازمودہ نسخہ ہے ضرور ازمائیں فائدہ پاؤ گے۔
👇👇
🆎ྀ࿐✿D✧🅰️☘ྀ࿐✿♑ retweeted
”جس نے CCTV فوٹیج چرائی،
اِسی نے 9 مئی کروائی ہے“
عمران خان
نوٹ: یہ ٹویٹ اپریل ۲، ۲۰۲۴ کو کی گئی ٹویٹ پر مبنی ہے۔
🆎ྀ࿐✿D✧🅰️☘ྀ࿐✿♑ retweeted
انشأللہ آج گنڈی چوک لکی مروت سے ہم لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ شروع کریں گے-
آج بروز اتوار، 4 اکتوبر، دوپہر ایک بجے گنڈی چوک لکی مروت سے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، ساؤتھ وزیرستان، نارتھ وزیرستان، بنوں اور لکی مروت کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے غیور پاکستانی لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے۔ رات کو یہ قافلہ کرک کے قریب پہنچ کر پڑاؤ کرے گا۔
5 اکتوبر دن 12 بجے کرک کے غیور عوام ہمیں جوائن کرینگے۔ وہاں سے روانگی 12:30 بجے ہوگی اور رات کو کوہاٹ کے قریب پڑاؤ کریں گے-
6 اکتوبر کو 12 بجے کوہاٹ، ہنگو، کُرم اور اورکزئی اضلاع کے پاکستانی ہمیں جوائن کریں گے۔ کوہاٹ سے پشاور کی طرف روانگی ہوگی اور پشاور متنی کے قریب رات گزاریں گے۔
7 اکتوبر کو پشاور بڈھ بیر کے مقام سے دن 12:30 بجے روانگی ہوگی۔ بڈھ بیر کے مقام پر ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے پاکستانی ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔ پشاور کے باقی حلقے کوہاٹ روڈ پل اور موٹروے ٹول پلازا پر ہمیں جوائن کریں گے۔ اور رات ہم چارسدہ انٹرچینج کے قریب گزاریں گے۔
8 اکتوبر کو 12:30 بجے چارسدہ انٹرچینج سے روانگی ہوگی۔ وہاں ضلع چارسدہ اور مہمند ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔
پورے خیبر پختونخوا کے لوگ 8 اکتوبر کو خیر آباد کے مقام پر اکٹھے ہونگے اور وہاں رات گزاریں گے۔ انشأللہ آگے کا لائحہ عمل وہاں پر دیا جائیگا۔
یہ آواز حضرت علامہ اقبال رحمة اللہ علیہ کی اصل آواز ھ
جو کہ ریڈیو پاکستان کی لاٸبریری میں محفوظ تھی
اور حال ہی میں BBC نے آن اٸیر کی۔ علامہ صاحب ایک محفل میں اپنا کلام اپنی زبان سے سناتے ہوۓ🌺
اقبال کی شاعری کو اقبال ہی پڑھے تو سننے کا مزہ آتا ھے❤️
🆎ྀ࿐✿D✧🅰️☘ྀ࿐✿♑ retweeted
عمران خان کی محبت میں بنایا گیا زبردست عربی ترانہ۔
پاکستان اور عرب دنیا میں یہ ترانہ بہت مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔
🆎ྀ࿐✿D✧🅰️☘ྀ࿐✿♑ retweeted
27 ستمبر کے حوالے سے ایک اور انتہائی اہم اور زبردست ویڈیو، اسے ہر جگہ پھیلا دیں 🔥
#ستمبر27_عوام_تو_نکلے_گی
🆎ྀ࿐✿D✧🅰️☘ྀ࿐✿♑ retweeted
ہر دور میں یزید ہوتے ہیں جو لوگوں کو ڈرا دھمکا کے، خوف طاری کر کے اور دہشت پھیلا کر کنٹرول کرتے ہیں۔ میرے پاکستانیو، یاد رکھو "لا الہ الا اللہ" - کوئی نہیں ہے خدا اللہ کے سوا۔"
عمران خان
🆎ྀ࿐✿D✧🅰️☘ྀ࿐✿♑ retweeted
حمید گل کا یہ پیغام عاصم منیر تک پہنچا دیں 🚨
اگر اس نے ڈالروں کی خاطر یمن کے ساتھ الجھنے کی کوشش کی تو پاکستان کی بقا خطرے میں پڑ جائے گی
کیونکہ یمنیوں کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے اور وہ ان سے بہت محبت کرتے تھے
کچھ تو ہے اس سرزمین میں اس لیے یمنیوں کے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش اؤ
🆎ྀ࿐✿D✧🅰️☘ྀ࿐✿♑ retweeted
حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے جب انہیں قتل کرنے کا مشورہ کیا تو انہی میں سے ایک نے کہا :
لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ
یوسف کو قتل نہ کرو۔ (سورت یوسف: 10)
پھر ساتھ ہی ایک متبادل طریقہ بھی بتایا جس سے حضرت یوسف علیہ السلام کی جان بھی بچ گئی اور بظاہر ان کا مقصد بھی پورا ہوگیا کہ وہ والد سے دور چلے گئے۔
اس ایک جملے میں کئی اسباق ہیں لیکن ایک سبق بہت اہم ہے.
وہ یہ ہے کہ جب بھی ہماری جماعت، تحریک، حلقے ، طبقے ، گھر یا ادارے میں کوئی غلطی ہو رہی ہو تو اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ ہم اپنے لوگوں کی بہت ساری غلطیوں کو پی جاتے ہیں اور چپ سادھ کر بیٹھے رہتے ہیں جس سے نقصان ہوتا ہے۔ باہر کا کوئی شخص اگر ہمارے اصول، پالیسی یا رویے پراصلاح کی بات کرے تو وہ تنقید محسوس ہوتی ہے لیکن اگر وہی بات کوئی اپنا آدمی کہے تو ہم اسے خیر خواہی سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں۔
حضرت یوسف علیہ السلام کے قتل والے مشورہ کو رد کرنے والا باہر کا نہیں تھا، بلکہ انہی میں سے ایک تھا، اسی خاندان کا فرد تھا اور اسی میٹنگ کا حصہ تھا۔ اب جب اصلاح اندر سے آئی تو سب بھائیوں نے اسے قبول کر لیا۔
گروپ سائیکالوجی کے مطابق انسان اپنے گروہ کے ساتھ ایک ایموشنل اور نفسیاتی وابستگی رکھتا ہے۔ جب کوئی اپنا اصلاح کی بات کرتا ہے تو لوگ اس کی بات کو سنتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ یہ شخص ہمارا ہے، ہمارا خیر خواہ ہے، ہماری بہتری چاہتا ہے۔ اور باہر کے حملوں سے بچنے کےلیے جو ڈیفنس میکانزم قائم کیا جاتا ہے، وہ اپنوں کے سامنے خود بخود ڈھیر ہو جاتا ہے۔
اس لیے اللہ تعالی نے ہر نبی کو اس کی قوم میں بھیجا ، انہی کی زبان میں بھیجا اور ان کا بھائی کہا۔ تاکہ جب وہ بات کرے تو لوگ اس کی بات کو اہمیت دیں۔ اگر دوسری زبان کا کوئی بندہ ہدایت کی بات کرتا تو لوگ جھٹلا دیتے کیونکہ دوسروں کو جھٹلانا آسان ہوتا ہے، اپنوں کو مشکل۔
غلط اور صحیح کا پیمانہ یہ نہ بنائیں کہ اپنا آدمی غلطی کرے تو اس کے لیے عذر تلاشیں، اور مخالف وہی غلطی کرے تو اسے جرم قرار دیں۔ اپنے شخص کی زیادتی کو مجبوری کہیں اور مخالف کی اسی حرکت کو ظلم۔ اپنے ادارے میں بد انتظامی یا غلط حرکت ہو تو کہیں کہ کوئی بات نہیں، ہم سب انسان ہیں اور انسانوں سے غلطی ہو جاتی ہے لیکن دوسرے ادارے میں معمولی غلطی دیکھ کر پورے ادارے کو بدنام کردیں۔ یہ ناانصافی کی بات ہے۔
آج ہمیں سیاست، عدلیہ، بیوروکریسی ، فوج اور تعلیمی اداروں سے لے کر گھر کی چار دیواری تک ایسے افراد چاہیں جو اپنے ماحول میں اصلاح کی فکر کریں، غلط رویوں کو ٹھیک کریں، اپنی جماعت کے غلط فیصلوں پر سوال اٹھائیں، ادارے کی کمزوری کو دیانت کے ساتھ انتظامیہ کے سامنے رکھیں، اپنے بچوں کی کسی غلطی کو صرف اس وجہ سے درست نہ قرار دیں کہ وہ ہمارے بچے ہیں۔
اگر دس لوگوں میں سے کوئی ایک بھی " لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ " والا مشورہ دینے والا نہ ہو، سب اپنی موج مستی میں مست ہوں، ہر بات پر آمنا و صدقنا کہنے والے ہوں اور کسی ایک میں بھی سوال اٹھانے کی جرات نہ ہو تو تو پھر پورا سسٹم ہی کولیپس کر جاتا ہے۔ کیونکہ ایسے سسٹم میں ذہنی صلاحیتیں ماند پڑ جاتی ہیں، زرخیزی ختم ہو جاتی ہے اور لوگوں کی آراء تعصب پر مبنی ہو جاتی ہیں۔
آپ جس ماحول میں بھی ہیں، لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ کہنے والا کردار اپنائیں اور برائی کی شرح کو کم سے کم کریں۔
محمد اکبر
#موناسکندر
🆎ྀ࿐✿D✧🅰️☘ྀ࿐✿♑ retweeted
یہ سمجھنے کیلئے کہ ”حقیقی آزادی“ سے میری مراد کیا ہے، اہم ہے کہ آپ ان صاحبِ علم کی گفتگو ملاحظہ کیجئے!
🆎ྀ࿐✿D✧🅰️☘ྀ࿐✿♑ retweeted
رات ہے گہری پر
صبح کا یقین
اندھیرا کتنا ہو
ہار نا ممکن
#زنجیریں_توڑو_خان_کو_چھوڑو
🆎ྀ࿐✿D✧🅰️☘ྀ࿐✿♑ retweeted
کوئی بھی دنیا کا نظام لے آئیں اس کے اوپر شریف اور زرداری بیٹھا دیں وہ سارے نظام کرپٹ ہو جائیں گے، آج نواز شریف کو کسی طرح انگلینڈ کا وزیرِ اعظم بنا دیں میں آپ کو گارنٹی کرتا ہوں کہ دس سال میں وہ ملک مقروض ہو جائے گا اور پاکستان سے کہے گا کہ ہمیں قرضہ دو۔ عمران خان
🆎ྀ࿐✿D✧🅰️☘ྀ࿐✿♑ retweeted
میں نے سورۂ یوسف نہ جانے کتنی بار پڑھی ہوگی
ہر بار یہی لگا کہ میں حضرت یوسفؑ کی پوری کہانی جانتی ہوں۔
کنواں
غلامی
قید اور پھر بادشاہت۔
لیکن آج میری نظر ایک ایسی چیز پر جا کر ٹھہر گئی جسے میں ہر بار پڑھ کر بھی نظر انداز کرتی رہی تھی
وہ تھیں... تین قمیضیں۔
اللہ چاہتے تو صرف واقعات بیان کر دیتے، مگر انہوں نے تین مختلف مقامات پر تین مختلف قمیضوں کا ذکر کیا
جیسے وہ ہمیں سکھا رہے ہوں کہ:
کبھی کبھی ایک انسان کی پوری روحانی اور جذباتی زندگی صرف تین قمیضوں میں سمٹ جاتی ہے۔
اور شاید ہم سب بھی انہی تین قمیضوں سے گزرتے ہیں
پہلی قمیض
وہ قمیض جس پر جھوٹا خون لگا دیا گیا۔
حضرت یوسفؑ کے بھائی جب اسے حضرت یعقوبؑ کے پاس لائے...
تو وہ صرف ایک قمیض نہیں تھی
وہ حسد کا اعلان تھی
جھوٹ کی گواہی تھی
ایک باپ کے دل پر چلنے والی تلوار تھی
لیکن حضرت یعقوبؑ نے قمیض دیکھی اور بات سمجھ گئے
اور فرمایا:
"پس صبر ہی بہتر ہے، اور جو تم بیان کر رہے ہو اس پر اللہ ہی سے مدد چاہتا ہوں"
تب مجھے احساس ہوا کہ ہر انسان کی زندگی میں ایک پہلی قمیض ضرور آتی ہے
ایک دھوکہ
ایک جھوٹا الزام
ایک ایسی جدائی جس کا اس نے انتخاب نہیں کیا ہوتا
اور سب سے زیادہ درد اس بات کا نہیں ہوتا کہ لوگ بدل گئے
بلکہ اس بات کا ہوتا ہے
کہ جنہیں ہم نے اپنا سمجھا
وہی ہمیں تنہا چھوڑ گئے۔
بعض اوقات
اللہ ہمیں دشمنوں کے ذریعے نہیں آزماتے
وہ ہمیں اپنوں کے ذریعے آزماتے ہیں۔
شاید تم بھی ابھی پہلی قمیض میں ہو۔
کسی کی بے وفائی ابھی تک دل میں زندہ ہے۔
کسی کی باتیں ابھی تک راتوں کو جگاتی ہیں۔
کسی کی جدائی نے تم سے تمہاری ہنسی چھین لی ہے۔
اگر ایسا ہے
تو یاد رکھو
پہلی قمیض کہانی کا اختتام نہیں ہوتی۔
یہ صرف آغاز ہوتی ہے۔
پھر دوسری قمیض آتی ہے۔
اس بار وہ خون آلود نہیں بلکہ پیچھے سے پھٹی ہوئی ہے۔ جب حضرت یوسفؑ گناہ سے بچنے کے لیے بھاگے تو یہی پھٹی ہوئی قمیض ان کی پاکدامنی کی دلیل بن گئی۔
لیکن عجیب بات یہ ہے...
پہلی قمیض پر لگا خون جھوٹ تھا،
دوسری قمیض کا پھٹنا سچ کی گواہی بن گیا۔
گویا اللہ ہمیں یہ سکھا رہے ہیں:
کہ جھوٹ وقتی طور پر جیت سکتا ہے
لیکن ہمیشہ نہیں۔
اگر تم سچے ہو
تو تمہیں ہر ایک کو اپنی صفائی دینے کی ضرورت نہیں۔
کبھی کبھی
اللہ تمہارے لیے ایسے ثبوت پیدا کر دیتے ہیں
جن کے بعد دنیا خاموش ہو جاتی ہے۔
لوگ تمہارا نام خراب کر سکتے ہیں
لوگ تمہاری عزت چھیننے کی کوشش کر سکتے ہیں
لیکن اگر اللہ عزت دینے والا ہو
تو پوری دنیا بھی اسے چھین نہیں سکتی۔
پھر سال گزرتے ہیں۔
آزمائشیں ختم نہیں ہوتیں۔
کنواں ختم ہوتا ہے
تو غلامی شروع ہو جاتی ہے۔
غلامی ختم ہوتی ہے
تو قید شروع ہو جاتی ہے۔
میں نے یہاں رک کر سوچا
حضرت یوسفؑ نے آخر کبھی شکایت کیوں نہیں کی؟
شاید اس لیے
کیونکہ انہیں منزل پر یقین تھا
اگرچہ راستہ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
اور یہی ایمان ہے
جب راستہ دھندلا ہو
لیکن دل کو منزل پر یقین ہو۔
پھر آخرکار
تیسری قمیض آتی ہے۔
اب نہ اس پر خون ہے
نہ دھوکہ
نہ الزام
صرف شفا
حضرت یوسفؑ نے فرمایا:
میری یہ قمیض لے جاؤ اور میرے والد کے چہرے پر ڈال دو، ان کی بینائی واپس آ جائے گی۔
یہ صرف آنکھوں کی روشنی کی واپسی نہیں تھی
یہ امید کی واپسی تھی
صبر کا صلہ تھا
اور برسوں کی دعاؤں کا جواب تھا
اللہ دیر کرتے ہیں، مگر بھولتے نہیں
وہ خاموش رہتے ہیں، مگر غافل کبھی نہیں ہوتے
تب مجھے احساس ہوا کہ یہ تین قمیضیں صرف حضرت یوسفؑ کی نہیں
ہم سب کی بھی ہیں
کبھی ہم پہلی قمیض میں ہوتے ہیں
ٹوٹے ہوئے
کبھی دوسری میں
اپنی سچائی ثابت کرتے ہوئے
لیکن مسئلہ یہ ہے
ہم تیسری قمیض بہت جلدی چاہتے ہیں
ہم چاہتے ہیں اللہ ہمیں فورا شفا دے دیں
لیکن ہم ابھی تک پہلی قمیض پر لگے خون کو دھونے میں لگے ہوتے ہیں
ہم اب بھی ماضی کو بدلنا چاہتے ہیں
ہم کہتے ہیں:
کاش وہ دھوکہ نہ ملا ہوتا
کاش وہ شخص نہ ملا ہوتا
کاش وہ جدائی نہ ہوئی ہوتی
کاش وہ الزام نہ لگتا
مگر شاید اللہ فرما رہے ہوتے ہیں:
اگر پہلی قمیض نہ ہوتی تو صبر نہ سیکھتے
اگر دوسری نہ پھٹتی تو تمہارا کردار ظاہر نہ ہوتا
اور اگر یہ دونوں نہ ہوتیں تو تیسری قمیض کی قدر بھی نہ ہوتی
شاید اسی لیے سورۂ یوسف کو بہترین قصہ کہا گیا
کیونکہ یہ صرف ایک نبی کی داستان نہیں
ہر اس دل کی کہانی ہے
جو آج رو رہا ہے
لیکن کل مسکرائے گا
اگر آج تم پہلی قمیض میں ہو تو مایوس نہ ہونا
اگر دوسری میں ہو تو ثابت قدم رہنا
اور اگر ابھی تک تیسری قمیض نہیں ملی تو جلدی نہ کرنا
جس رب نے خون آلود قمیض سے کہانی شروع کی
اسی رب نے شفا دینے والی قمیض پر اسے مکمل کیا
اس لیے اگر آج تمہاری زندگی میں صرف پہلی یا دوسری قمیض ہے
تو یاد رکھنا
کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔
وہی الحکیم…
آج تمہاری کہانی بھی لکھ رہا ہے
اور جب اللہ کہانی لکھتے ہیں۔
تو کوئی داغ ہمیشہ نہیں رہتا
کوئی الزام ہمیشہ نہیں رہتا
کوئی آنسو ہمیشہ نہیں رہتا
آخرکار
ہر صبر کرنے والے کے لیے
اللہ ایک تیسری قمیض ضرور رکھتے ہیں۔





















