Pinned Tweet
﷽
قل هو ﷲ أحدﷲ الصمدلم يلد ولم يولدولم يكن له كفوا أحد
قل أعوذ برب الفلقمن شر ما خلق ومن شر غاسق إذا وقبومن شر النفاثات في العقدومن شر حاسد إذا حسد
قل أعوذ برب الناسملك الناس إله الناسمن شر الوسواس الخناس الذي يوسوس في صدور الناسمن الجنة والناس
فرّخ علی ندیم retweeted
اسلام آباد میں جج کے بیٹے نے سکوٹی پر لڑکیوں کو ریڈ زون میں شاہراہ دستور پر کُچلا تھا، چاروں طرف کیمرے لگے ہوئے تھے۔
آپ (عوام) کو کہیں سے کوئی ویڈیو فوٹیج ملی؟ کچھ وائرل ہوا؟
اگلے دن جج کے بغیر لائسنس کروڑوں کی نان کسٹم پیڈ گاڑی چلانے والے کم عمر بیٹے کو عدالت میں خصوصی انتظامات کے ساتھ پیش کیا گیا۔ آپ نے کسی وکیل کو غُصے میں ”کھولتے/اُبلتے“ دیکھا، کسی وکیل نے ملزم پر ”حملہ آور“ ہونے کی کوشش کی؟
کوئٹہ سے لائے گئے اُس جج کو بیٹے کے کیس کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کا مستقل جج بنا دیا گیا، آپ (عوام) میں سے کسی کو کچھ سمجھ آیا؟
فرّخ علی ندیم retweeted
📍 چنار مارکیٹ، سوات میں غیر ملکی سیاح کیساتھ بدتمیزی کرنے کا معاملہ، خاتون سیاح نے اپنے سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کیساتھ پورا واقعہ بیان کر دیا۔
’’مجھ پر مت چلاؤ اور جھوٹ مت بولو!‘‘ 💔😭
’’میں اب کبھی سوات واپس نہیں آؤں گی…‘‘
میں چنار مارکیٹ میں ایک دکان سے کھانا پکانے کے لیے برتن خرید رہی تھی۔ میں نے دکان کے مالک، جنہیں سب چاچا کہتے ہیں، سے ویڈیو بنانے کی اجازت لی تھی۔
جب میں چاچا کی دکان پر اپنی سیلفی ویڈیو بنا رہی تھی تو ایک شخص دوسری گلی سے تین مرتبہ میرے پاس آیا۔ وہ بار بار میرے اردگرد چکر لگاتا، اونچی آواز میں چلاتا اور پوچھتا رہا کہ میں خواتین کی ویڈیو کیوں بنا رہی ہوں۔
خوش قسمتی سے میرے ساتھ سوات کا ایک طالب علم موجود تھا، جو مجھے مارکیٹ دکھا رہا تھا۔ اس نے اس شخص کی باتوں کا ترجمہ کرکے مجھے بتایا اور اسے بھی سمجھایا کہ میں نے کسی خاتون کی ویڈیو نہیں بنائی۔
اس شخص کے رویے سے میں اس قدر خوفزدہ اور پریشان ہوگئی کہ میں نے اپنی حفاظت اور مدد کے لیے پولیس کو بلانے کا فیصلہ کیا۔
دلچسپ بات یہ تھی کہ پولیس کے پہنچتے ہی اس شخص کا لہجہ یکسر بدل گیا۔
وہ اتنی بلند آواز میں چلا رہا تھا کہ آس پاس لوگ جمع ہونا شروع ہوگئے۔ مجھے ڈر تھا کہ کہیں لوگ میرا مؤقف سنے بغیر اس کے الزامات پر یقین نہ کرلیں، جس سے میری سلامتی کو خطرہ لاحق ہوسکتا تھا۔
بعد میں مجھے بتایا گیا کہ یہ شخص مارکیٹ میں دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی اکثر مسائل پیدا کرتا رہتا ہے۔
صورتحال واضح کرنے اور یہ ثابت کرنے کے لیے کہ اس شخص کے الزامات غلط تھے، ویڈیو کچھ لوگوں کو بھی دکھائی گئی۔
میں مارکیٹ کے ان تمام دکانداروں اور کارکنوں کی شکر گزار ہوں جنہوں نے اس مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا، میری مدد کی اور میرے ساتھ محبت اور اچھے اخلاق سے پیش آئے۔ ❤️
اس پریشان کن صورتحال میں ان لوگوں کا تعاون میرے لیے بہت اہم تھا۔
میں ایک بات بالکل واضح کرنا چاہتی ہوں کہ کسی ایک شخص کا رویہ پورے ملک کی نمائندگی نہیں کرتا۔
پاکستان میں بے شمار مہربان، خوش اخلاق اور مہمان نواز لوگ موجود ہیں۔ اسی مارکیٹ میں مجھے دوسرے لوگوں سے جو محبت، عزت اور تعاون ملا، وہ بھی یقیناً قابلِ ذکر ہے۔ 🇵🇰❤️
اس واقعے نے مجھے واقعی بہت دکھ پہنچایا۔ میں شدید خوفزدہ، دکھی اور مایوس تھی۔
اسی جذباتی کیفیت میں میں نے کہا تھا کہ ’’میں اب کبھی سوات واپس نہیں آؤں گی۔‘‘
یہ الفاظ میں نے خوف، دکھ اور مایوسی کی حالت میں کہے تھے۔
فرّخ علی ندیم retweeted
Hunn, be thankful that this country gave you an opportunity to shine and bright, just in case you are not aware, no one accepts Pakistani qualified Doctors in most of the rest of the world. I know Dr Munnawar Sahab from Services Hospital Lahore driving an 18 wheeler here in Canada, and Surgeon Dr Abdul Rasheed from Peshawar running a Dollar store in my town.
Sit down
فرّخ علی ندیم retweeted
سی ایم ایچ کے کسی ڈاکٹر کو کبھی میز پر ٹانگیں رکھے دیکھا ہے؟
سیاسی جماعتوں کے جلسے جلوسوں میں ایندھن بنتے دیکھا ہے؟
مریضوں سے کُٹ کٹاپہ کرتے دیکھا ہے؟
نرسوں سے فلرٹ کرتے دیکھا ہے؟
بی بی، سی ایم ایچ اور سوِل ڈاکٹرز کے پروفیشنلزم میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
تشریف رکھیں
میں آپ سب کو چیلنج کرتی ہوں کہ کسی ملٹری ہسپتال میں ویڈیو بنا کر دکھائیں یا کسی ڈاکٹر کو CMH / MH میں ہاتھ لگا کر دکھائیں۔
یا ذرا اڈیالہ جیل یا GHQ کے علاقے کے قریب جا کر ویڈیوز اور تصویریں بنا کر دکھا دیں۔ یا چلیں صرف ان ہسپتالوں کے اندر جا کر بستروں پر بیٹھ کر ہی دکھا دیں۔
وہ آپ کو ایسا سبق سکھائیں گے جو آپ کبھی نہیں بھولیں گے۔ موجودہ حکمران عوام کو اور ڈاکٹرز کو آپس میں لڑواتے رہتے ہیں۔
ہسپتالوں میں سہولیات ہونا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ آپ سب حکومت سے سوال کریں وہ آپ سے ووٹ مانگتے ہیں۔ یہ عوام آپس میں لڑتی رہتی ہے، گالیاں دیتی ہے ایک دوسرے کو
جو لوگ اصل ذمہ دار ہیں، وہ اپنے پرائیویٹ جہاز میں عیاشی کر رہے ہیں۔
فرّخ علی ندیم retweeted
Respected Doctors, by all means, leave Pakistan if that is what you wish. But before you go, repay the Rs. 30 million that taxpayers spent on your education at a public medical college. Put that money back into the hands of the people whose taxes paid for your training and let your conscience and integrity speak for themselves.
فرّخ علی ندیم retweeted
پچھلے ایک گھنٹے سے سینٹ اجلاس میں اس ملک اور لوگوں کو درپیش سب مسائل چھوڑ کر اس وقت سینٹرز اپنی ذاتی مراعات کے لیے لڑ رہے ہیں کہ انہیں خود، بیوی اور 28 سال تک بچوں کو تاحیات سرکاری پاسپورٹ/سفارتی جاری کیے جائیں جیسے گریڈ اکیس اور گریڈ بائیس کے سرکاری افسران کے بچوں کو تاحیات ملتا ہے چاہے ریٹائرمنٹ بھی ہو جائے۔
سینٹرز کہتے ہیں انہیں اور ان کے بیوی بچوں کو سبز پاکستانی پاسپورٹس کی بجائے نیلا اور سرخ پاسپورٹ دیا جائے۔
ان سرکاری/سفارتی پاسپورٹس کا مطلب ہے دنیا بھر کے ان ملکوں کے لیے ویزہ لینے کی ضرورت نہیں ہوتی جن سے معاہدہ ہے۔
اس وقت 45000 سرکاری/سفارتی پاسپورٹ سابق اور سرونگ پارلیمنٹنرز، ان کے بیوی بچوں، سرکاری افسران اور ان کے بچوں کے پاس تاحیات ہیں۔
فرّخ علی ندیم retweeted
ہر وہ سٹوڈنٹ جو سرکاری کالج سے ڈاکٹر بنتا اس پر اس غریب ملک کا تقریباً تین کروڑ لگتا ہے یہ ٹیکس دینے والے عام لوگوں کا پیسہ ہے کوئی ماچس خریدتا اس پر بھی سیلز ٹیکس دیتا جب آپ ڈاکٹر بنتے تو آپ کو پتہ ہوتا کہ ورک لوڈ کتنا ہو گا ڈیوٹی کتنے گھنٹے ہو گی اب جب آپ ڈاکٹر بن گے تو اپنی فرسٹیشن اس غریب عوام پر مے نکالیں جس کے پیسے سے آپ ڈاکٹر بنے ہیں ہسپتال میں ورکنگ کنڈیشنز درست نہی تو آپ جاب مت قبول کریں اس پر شکایت کریں مگر مریض پر غصہ مت نکالیں یہ غلط ہے
فرّخ علی ندیم retweeted
Replying to @WSJ
A Princeton doctorate in chemical engineering, and nobody will hire him. Remember that the next time a company swears it can't find technical talent. The shortage was never of degrees. It's a shortage of workers the law lets them buy at a discount.
فرّخ علی ندیم retweeted
Jack Weis has applied to more than 2,300 jobs since he graduated from Princeton in 2024 with his Ph.D. in chemical engineering. He still doesn’t have a job. on.wsj.com/4sfxSLc
فرّخ علی ندیم retweeted
یہ 2021 میں پنجشیر افغانستان میں اس وقت کی افغان فوج کے سپاہیوں کے سرنڈر کی ویڈیو ہے۔ تاہم خود کو پی ٹی آئی کا حامی ظاہر کرنے والے اکاؤنٹس اسے حالیہ واقعہ بنا کر پیش کر رہے ہیں اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کی جیسے اس طرح کا واقعہ حالیہ دنوں میں پیش آیا۔ گورنر راج لگنے کے بعد کے پی کی عوام کی پی ٹی آئی کے احتجاج سے لاتعلقی کے بعد فیک ویڈیوز اور فیک نیوز کے ذریعے باہر بیٹھے فسادی اشتعال پھیلانا چاہتے ہیں جس پر عوام کو آگاہ رہنا چاہیے۔
فرّخ علی ندیم retweeted
کہہ رہے ڈاکٹر کی ویڈیو کیوں بنائی گئی ہے وجہ یہ کہ اس میں ڈاکٹر کے کرتوت سامنے آ گئے ہیں جب کوئی لڑائی جھگڑا شروع ہو تو اس کی ویڈیو بنانے کی قانون میں بھی اجازت ہے تاکہ واقعہ ڈاکیومنٹ ہو سکے کل کو بطور گواہی پیش کیا جا سکے
ویڈیو نا ہوتی تو پتہ کیسے چلتا پہلا تھپڑ کس نے مارا ہے ؟
فرّخ علی ندیم retweeted
یہ حالت ہمارے ڈاکٹروں کی ہے شرم آ رہی ان کی سوچ دیکھ کر ان کو جب وزیر وغیرہ رج کے ذلیل کرتے تو ان کا وہی علاج درست ہے آپ یہ دیکھیں کہ ان کے دماغ میں مریض کے خلاف کتنی نفرت کتنی حقارت کس قدر بغض بھرا ہوا ہے یہ کیا علاج کریں گے ؟
اگر ہسپتال میں سہولیات نہی تو اپنے کسی پیارے کو مرتا دیکھ کر غریب لوگ کس کو شکایت کریں کہاں فرسٹیشن نکالیں ؟
مریض مر رہا ہوتا یہ آپس میں اٹھکیلیاں کر رہے ہوتے کوئی اٹینڈٹ چلا جا یہ اسے مارنا پیٹنا جائز سمجھتے ہیں یہی اس پوسٹ میں لکھا ہے
ایک سرکاری ہسپتال سے منسلک ڈاکٹر کو سوشل میڈیا پر مریضوں کا مذاق اڑانے کی اجازت پاکستان میں ہے یورپ ہوتا تو اس کا لائسنس کینسل تھا
ڈاکٹر میرے بچے کو بیڈ کیوں نہیں مل رہا ؟۔۔ انجیکشن تو میں باہر سے لینے جا رہا ہوں لیکن میرے آنے تک اگر بچے کو کچھ ہو گیا تو تیری خیر نہیں۔۔۔۔۔ اوئے ڈاکٹر وینٹلیٹر کہاں ہے کیوں نہیں مل رہا میرے مریض کو۔۔۔۔یہ اور اس طرح کے کئی جملے جب منہ سے جھاگ اڑاتے لوگوں سے سننے کو ملیں تو ایمرجنسی میں کھڑے مجھ جیسے ڈاکٹر یہ کہنے کی ہمت ہی نہیں کر پاتے کہ ڈاکٹر کا کام محض دوا تجویز کرنا ہے مہیا کرنا نہیں ۔۔۔ اس پر کتابوں کا بوجھ ہی کافی نہیں کہ وہ بیڈ اور وینٹلیٹر بھی کمر پر لادے پھرے۔۔۔۔ انجیکشن باہر سے آنے تک بچے کو کچھ ہوتا ہے یا نہیں اور کوئی ایک وینٹیلیٹر بھی کب فارغ ہو گا یہ تو خدا ہی جانتا ہے لیکن اتنا احساس ضرور ہو جاتا ہے کہ اب عزت کی امان نہیں ملنے والی۔۔۔۔۔۔۔۔ خود حکومت کے بنائے گئے ایس او پیز پر عمل کرنے کے جرم میں جب ڈاکٹر عوام کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنایا جائے تو سوشل میڈیا پر کھلیں باچھیں دیکھ کر دکھ میں ڈوبا ایک بے گناہ حسّاس انسان کیسے بتائے کہ ناکردہ جرم کی سزا کتنی اذیت ناک ہوتی ہے
فرّخ علی ندیم retweeted
لاہور، گلاب دیوی ہسپتال
ورثاء کا دعویٰ ہے کہ جھگڑے کے بعد انکے مریض کا علاج معالجہ چھوڑ دیا گیا تھا جس کے باعث مریض کی موت ہوئی۔
ہسپتال حکام کا کہنا ہے غفلت نہیں بھرتی گئی، مریض کو وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا تھا اسکا علاج جاری تھا مگر وہ جانبر نہ ہوسکا۔ واقعہ کے حوالے سے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے۔
فرّخ علی ندیم retweeted
They built private hospitals only to cash Sehat Sahulat cards. Once these scams start coming forward, even the most corrupt in the rest of the country will be amazed at the dumbness of it 😂
فرّخ علی ندیم retweeted
گورنر راج سے پہلے حکومت نے کہا آئیں مل کر بات کرتے ہیں۔اپوزیشن لیڈر اچکزائی نے انکار کر دیا کہ میں تو شہباز شریف کو وزیراعظم ہی نہیں مانتا۔ ملنے سے انکار کر دیا۔ بات چیت نہیں کی۔
دو دن کے بعد گورنر راج لگ گیا تو پرسوں اسمبلی میں وزیراعظم کو دیکھ کر کہا شہباز بھائی (جسے دو دن پہلے جعلی اور فراڈ وزیراعظم کہہ رہے تھے اچانک شہباز بھائی بن گیا) آئیں یہیں اسمبلی ہال میں کرسی ڈال کر مزاکرات کرتے ہیں۔ ادھر ہی۔ میں نے پریس گیلری سے سب کچھ دیکھا/ سنا ۔
جب گورنر راج نہیں لگا تھا اور بات چیت سے راہ نکل آتی تو اچکزائی نے نہ صرف وزیراعظم سے بات کرنے سے انکار کیا بلکہ پی ٹی آئی کی ریکوسٹ پر مزاکرات میں بھی شریک نہیں ہوئے۔ جونہی گورنر راج لگا تو فورا بات چیت کے لیے تیار ہوگئے۔ اس وقت انہیں شہباز شریف جینوئن وزیراعظم لگ رہا تھا۔
حیران ہوں اچکزائی صاحب پہلے گورنر راج لگوا کر پی ٹی آئی وزیراعلی گرفتار کرا کے chaos پیدا کرنے کے بعد پھر اس کا حل نکالنا چاہتے تھے؟ پی ٹی آئی کی حکومت ختم/گرفتاریاں ہونے کا انتظار کیا پھر ایکٹو ہوگئے۔
کیا ان کا ٹاسک پی ٹی آئی حکومت تڑوایا تھا۔۔ ایمرجنسی لگوانی تھی اس لیے چار اکتوبر تک مزاکرات بات چیت سے دور رہے حالانکہ حکومت اور پی ٹی آئی دونوں نے ریکوسٹ کی تھی۔
پی ٹی آئی نے تو ان سے فیس سیونگ مانگی کہ آپ لانگ مارچ ملتوی کرنے کا اعلان کر دیں تاکہ پی ٹی آئی ورکرز کا بوجھ ان پر نہ گرے۔۔ لیکن اچکزائی انکار کر دیا کہ نہیں اپنا فیصلہ ہے بوجھ خود اٹھائو۔ حالانکہ پی ٹی آئی ووٹوں کے بوجھ سے ہی اکیلی سیٹ والے اچکزائی اپوزیشن لیڈر بنے ہیں۔
کیا اچکزائی صاحب کو chaos اور افراتفری میں مزہ آتا ہے کہ اس سے انہیں دھواں دھار اور آگ اگلتی تقریریں کرنے کا موقع ملتا ہے، عام لوگوں کو پاکستان سے ناراض اور متنفر کرنے کا موقع ملتا ہے اور وہ سب کو اتنا رگڑتے ہیں کہ پاکستان برا لگنا شروع ہوجاتا ہے لیکن کامیاب مزاکرات، امن سکون کی صورت میں ان کی تقریر پاپولر نہیں ہوتی؟
انہیں گورنر راج سے افراتفری، گرفتاریاں ، لڑائی جھگڑے پھڈے سوٹ کرتے ہیں؟
Replying to @KlasraRauf
ہر جگہ ڈنڈی مارنا کوئی آپ سے سیکیھں
اپوزیشن لیڈر کا واضح موقف ہے کہ مل بیٹھ کر مسئلے حل کریں ، یہی موقف افغانستان میں کرزئی سے لیکر غنی تک تھا اور اسی موقف پر کھڑے ہیں
یہ انکو کیا سمجھ میں آتی جو ڈکٹیشن پر صبح وشام موقف بدلتے ہیں
فرّخ علی ندیم retweeted
پانچ ہزار معدنیات کے لائسنس خیبرپختونخوا کی حکومت نے ایشو کیے ہیں جی ایچ کیو یا فیڈرل حکومت نے ایشو نہیں کیے
کتنے پختونوں کتنے قبائلیوں کتنے افغانیوں کے نام ہیں سامنے لائیں ہمت کریں
فرّخ علی ندیم retweeted
پنجاب میں ایل پی جی پر ایمرجنسی لگائی جائے
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اکتوبر 2026 کے لیے ایل پی جی کی سرکاری فی کلو قیمت 279.34 روپے ہے (ستمبر میں یہ قیمت 258.65 روپے تھی) مگر یہ دھڑلے کے ساتھ 450 روپے فی کلو کے ارد گرد فروخت ہو رہی ہے۔ یہ عوام کا ایندھن ہے جن کے گھروں میں گیس نہیں آتی۔ یہ ناجائز منافع خوری بھی ایک دہشت گردی ہے اس پر بھی ایمرجنسی لگا کے آپریشن کیا جائے۔
فرّخ علی ندیم retweeted
ان لوگوں کا کھڑا احتساب ہونا چاہیئے کہ یہ لوگ چند سالوں میں کیسے ارب پتی بن گئے
فرّخ علی ندیم retweeted
تھوڑی سی محنت لگی مگر میں نے ولی خان کا خط بھی ڈھونڈ لیا ہے اور چودھری محمد علی کی لکھی دستاویز بھی۔
پہلے ذرا اصل دستاویز پڑھیں۔ چودھری محمد علی لکھ رہے ہیں کہ پورا مغربی پاکستان ایک معاشی وحدت ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
"سرحدی صوبے (فرنٹیئر) کے بجلی کے وسائل پنجاب کی صنعتوں کی ضروریات پوری کرتے ہیں، پنجاب میں جمع ہونے والے سرمائے کو بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں ترقی کے ذریعے خوش حالی کے فرق کو کم کرنا چاہیے"
محترم ولی خان نے ترجمہ کیا کہ:
پنجاب سرحد کی بجلی، بلوچستان کے کوئلے اور گیس اور سندھ کے وسائل کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اس لئے مغربی پاکستان پر حکمرانی پنجاب کی ہونی چاہیے"
ہمارے محبوب قائد ایمل ولی خان صاحب نے اصلی دستاویز پڑھنے کے بجائے ولی خان کے غلط ترجمے پر کیوں اکتفا کیا یہ سمجھنے سے میں بہرحال قاصر ہوں۔
"ون یونٹ کی خفیہ دستاویز میں چودھری محمد علی نے لکھا : پنجاب؛ سرحد کی بجلی، بلوچستان کے کوئلے و گیس اور سندھ کے وسائل کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اس لئے پاکستان پر حکمرانی پنجاب کی ہونی چاہیے ـ
اگر آپ نے یہ خفیہ دستاویز نہیں پڑھی تو مجھے بتا دیں میں اس کی ایک فوٹو اسٹیٹ کاپی آپ کو بھیج دوں گا ـ پاکستان ٹوٹنے کے باوجود پنجابیوں کی یہ ذہنیت آج بھی برقرار ہے اور وہ ابھی بھی پاکستان کے مامے بننے کی کوشش کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے"
ولی خان کا حنیف رامے کے نام کھلا خط
جولائی 1987 ـ روزنامہ جنگ لاہور۔






























