Saba Satti retweeted
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو ہارٹ اٹیک نہ ہو فالج نہ ہو ہائی بلڈ پریشر نہ ہو تو اپنے دل و دماغ کو حسد اور انتقامی جذبے سے خالی کر دیں
انتقامی جذبہ ہر وقت آپ کے خون میں stress hormones کی مقدار زیادہ رکھتا ہے، جسکی وجہ سے دل کی دھڑکن بہت تیز ہو جاتی ہے، وہ خلیے جو لوتھڑے بناتے ہیں، وہ ایکٹیو ہو جاتے ہیں
انتقامی جذبے کو اپنے دل سے نکال دیں، اگر آپ کے دل میں کسی رشتے دار، بہن بھائی کے حوالے سے کوئی بھی انتقامی جذبہ ہے کوئی خاندانی دشمنی ہے تو اسے نکال دیں
ہم نے ہسپتالوں میں دیکھا ہے کہ جن افراد نے دل میں دشمنی پال کہ رکھی اس کا انجام اچھا نہیں ہوا
وہ ذہنی طور پر جسمانی طور پر معذور ہو گئے
اسلیئے اپنے دل کو انتقامی جذبے سے خالی کریں،
آپ دیکھیئے گا کہ آپ کا دل کتنے بہترین طریقے سے دھڑکے گا اور آپ صحتمند زندگی گزاریں گے
#WorldStrokeDay
Saba Satti retweeted
Never skip breakfast.
It is a slow killer.
And it puts you at high risk of death from a heart disease.
People who skip breakfast have a high risk of gaining weight, getting diabetes, high blood pressure, high fat stores, sudden heart attack, stroke and death.
Saba Satti retweeted
اسلام آباد میں 2026 کے دوران اغوا ، جنسی زیادتی، ڈاکہ ، گاڑی چوری اور قتل کے واقعات کی تفصیلات
اسلام آباد میں 74 قتل کے کیسز رجسٹر ہوئے
اسلام آباد میں اغوا کے 491 کیسز رجسٹر ہوئے،
جنسی زیادتی کے 177 کیسز رجسٹر ہوئے
ڈکیتی کے 723 کیسز ، گاڑی چوری کے 70 کیسز رجسٹر ہوئے،
Saba Satti retweeted
ستمبر کا بجلی کا بل عوام کو جو موصول ہوا ٹیکسز اور چارجز ملا کر 52. 90 روپے فی یونٹ پڑا ۔ حکمرانوں کے خرچے غریب عوام سےکیسے وصول کئے جا رہے ہیں۔
کتنا مشکل ہے اذیت یہ گوارا کرنا
دل سے اترے ہوئے لوگوں میں گزارا کرنا
زندگی ہم پہ یہ آسان بھی ہو سکتی تھی
سیکھ لیتے جو کسی درد کا چارہ کرنا
کتنا مشکل ہے جلانا کسی رستے میں چراغ
کتنا آساں ہے ہواؤں کو اشارہ کرنا
Saba Satti retweeted
نوشہرہ میں ایک غریب رکشہ ڈرائیور کی بیٹی کو لاپتہ ہوئے 45 دن گزر گئے، مگر باپ آج بھی اپنی بیٹی کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق خاندان پولیس سے مدد کا مطالبہ کر رہا ہے اور پولیس کے کردار سے متعلق بھی سنگین الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
سوال صرف ایک بچی کا نہیں، ریاست کی ذمہ داری کا ہے۔ اگر ایک غریب باپ کی بیٹی 45 دن تک لاپتہ رہے اور اسے انصاف کے لیے بھی دروازے کھٹکھٹانے پڑیں، تو پھر عام شہری آخر کس کے پاس جائے؟
حکام فوری نوٹس لیں، شفاف تحقیقات کریں اور بچی کو بحفاظت بازیاب کرائیں ۔۔۔۔۔۔





















